نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 48 of 55

1334Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ الْفَجْرِ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray ten rakahs during the night, and would observe the witr with one rakah, he then prayed two rakahs of the dawn prayer. Thus he prayed thirteen rakahs in all.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٠ (١١٤٠)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٨) سنن النسائی/قیام اللیل ٣٣ (١٦٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٤٨)، مسند احمد (٤/١٥١، ١٥٨، ٢٠١) (صحیح )
1335Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، جب آپ اس سے فارغ ہوجاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔

Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ used to pray eleven rakahs (at night, observing the witr with one rakahs). When he finished it (the prayer), he would lie down on his right side.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧(٧٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٣ (٤٤٠، ٤٤١)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر والتھجد ٣ (١١٢٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٥ (١٦٩٧)، ٤٤ (١٧٢٧)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٥٨)، حم (٦/ ٣٤، ٣٥، ٨٣، ١٤٣، ١٦٧، ١٦٨، ١٨٢، ٢١٥، ٢٢٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٥(١٥١٤) (صحیح) ( اضطجاع یعنی دائیں کروٹ پر صلاة وتر سے فارغ ہو کر لیٹنے کا ٹکڑا شاذ ہے )۔
1336Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَنَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَقَالَ نَصْرٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن (بلانے کے لے) آتا۔

Narrated Aisha (RA) : Between the time when the Messenger of Allah ﷺ finished the night prayer till the dawn broke, he used to pray eleven rakahs, uttering the salutation at the end of every two and observing the witr with a single one, and during that he would make a prostration about as long a one of you would take to recite fifty verses before raising his head. When the muadhdhin finished making the call for the dawn prayer, he stood up and prayed two short rakahs, then he lay down on his right side till the muadhdhin came to him

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ الأذان ٤١ (٦٨٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨١ (١٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٥١٥، ١٦٦١٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٢٦)، والوتر ٩٩٤)، والتہجد ٣ (١١٢٣)، و ٢٣ (١١٦٠)، والدعوات ٥ (٦٣١٠)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة ١٢٦ (١١٩٨)، مسند احمد (٦/٣٤، ٧٤، ٨٣، ١٤٣، ١٦٧، ٢١٥، ٢٤٨، ٢٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٧ (١٤٨٦)، ١٦٥ (١٥١٤، ١٥١٥) (صحیح )
1337Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، وَسَاقَ مَعْنَاهُقَالَ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ.

اس طریق سے بھی ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں (رکوع سے) سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے، پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہوجاتی، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے۔

This tradition has been transmitted by Ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: He would observe witr with a single rakah and make a prostration as long as you would take to recite fifty verses before raising his head. When the muadhdhin finished his call for the dawn prayer and the dawn became clear to him. . . . Then the narrator transmitted the rest of the tradition to the same effect. Some narrators added something more in their version.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٦)، سنن النسائی/الأذان ٤١ (٦٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٧٣، ١٦٧٠٤، ١٦٦١٨) (صحیح )
1338Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ فَيُسَلِّمُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night, observing a witr out of that with five, he did not sit during the five except the last and then gave the salutation. Abu Dawud said: Ibn Numair reported it from Hisham recently.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٩٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/لمسافرین ١٧ (٧٣٨)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٩ (١٧١٨)، مسند احمد (٦/ ١٢٣، ١٦١، ٢٠٥) (صحیح )
1339Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night ; he then offered two light rakahs of prayer when he heard the call to the dawn prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٧ (١١٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٧١٥٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل ٤ (١٦٠٥)، مسند احمد (٦/ ١٧٧) (صحیح )
1340Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً كَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي، قَالَ مُسْلِمٌ: بَعْدَ الْوِتْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَالْإِقَامَةِ رَكْعَتَيْنِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے (پہلے) آٹھ رکعتیں پڑھتے (پھر) ایک رکعت سے وتر کرتے، مسلم بن ابراہیم کی روایت میں بعد الوتر وتر کے بعد کے الفاظ بھی ہیں (پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ) دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہوجاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night. He would offer eight rakahs observing the witr with one rakah. Then he prayed (the narrator Muslim said) two rakahs after witr prayer in sitting position. When he wished to bow, he stood up and bowed. He used to pray two rakahs between the call to the dawn prayer and the iqamah.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٨)، وانظر ایضا رقم: (١٣٣٨، ١٣٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٧٨١) (صحیح )
1341Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَعَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا. قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ قَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ١ ؎، آپ چار رکعتیں پڑھتے، ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ٢ ؎۔

Abu Salamah bin Abdur-Rahman asked Aisha (RA) , the wife of the Prophet ﷺ : How did the Messenger of Allah ﷺ pray during Ramadhan ? She said: The Messenger of Allah ﷺ did not pray more than eleven rakahs during Ramadhan and other than Ramadhan. He would pray four rakahs. Do not ask about their elegance and length. He then would pray for rakahs. Do not ask about their alegance and length. Then he would pray three rakahs. Aisha (RA) said: I asked: Messenger of Allah, do you sleep before observing witr ? He replied: Aisha (RA) , my eyes sleep, but my heart does not sleep.

Notes · وضاحت
١ ؎: آٹھ رکعتیں تہجد یا تراویح کی اور تین وتر کی۔ ٢ ؎: یعنی میرا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے، اس وجہ سے سونے سے مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچتا، میرا وضو اس سے نہیں ٹوٹتا، یہ بات آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٦(١١٤٧)، والتراویح ١ (٢٠١٣)، والمناقب ٢٤ (٣٥٦٩)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٣٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٩ (٤٣٩)، موطا امام مالک/صلاٰة اللیل ٢(٩)، مسند احمد (٦/٣٦، ٧٣، ١٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٩) (صحیح )
1342Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِأَبِيعَ عَقَارًا كَانَ لِي بِهَا فَأَشْتَرِيَ بِهِ السِّلَاحَ وَأَغْزُو، فَلَقِيتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: قَدْ أَرَادَ نَفَرٌ مِنَّا سِتَّةٌ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَتَيْتُهَا، فَاسْتَتْبَعْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ، فَأَبَى، فَنَاشَدْتُهُ، فَانْطَلَقَ مَعِي، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا ؟ قَالَ: حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ، قَالَتْ: وَمَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الَّذِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ السُّورَةِ نَزَلَتْ فَقَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَحُبِسَ خَاتِمَتُهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ نَزَلَ آخِرُهَا فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَةً أُخْرَى لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَالتَّاسِعَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَجْلِسْ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ، وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي السَّابِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ هِيَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَيَّ، وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا إِلَى الصَّبَاحِ، وَلَمْ يَقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَطُّ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ مِنَ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةًقَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: هَذَا وَاللَّهِ هُوَ الْحَدِيثُ، وَلَوْ كُنْتُ أُكَلِّمُهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى أُشَافِهَهَا بِهِ مُشَافَهَةً، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تُكَلِّمُهَا مَا حَدَّثْتُكَ.

سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں، تو میری ملاقات نبی اکرم ﷺ کے چند صحابہ سے ہوئی، ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ، تو میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے، تم ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس جاؤ۔ چناچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی، چناچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے (پھر ہم دونوں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے گھر پہنچے) ، ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح، انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام، پوچھا: عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، وہ کہنے لگیں: عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے، میں نے عرض کیا: ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کا حال بیان کیجئے، انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا، میں نے عرض کیا: آپ کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورة يا أيها المزمل نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: جب اس سورة کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آگیا اور سورة کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہوگئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: نبی اکرم ﷺ کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے، اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، میرے بیٹے! پھر جب آپ ﷺ سن رسیدہ ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے، اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں، میرے بیٹے! اور رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی رات کو (لگاتار) صبح تک قیام ١ ؎ نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے، اور جب بھی آپ ﷺ کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے، اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آجاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حدیث یہی ہے، اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا، میں نے ان سے کہا: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔

Narrated Saad bin Hisham (RA) : I divorced my wife. I then came to Madina to sell my land that was there so that I could buy arms and fight in battle. I met a group of the Companions of the Prophet ﷺ . They said: Six persons of us intended to do so (i. e. divorce their wives and purchase weapons), but the Prophet ﷺ prohibited them. He said: For you in the Messenger of Allah there is an excellent model. I then came to Ibn Abbas and asked him about the witr observed by the Prophet ﷺ . He said: I point to you a person who is most familiar with the witr observed by the Messenger of Allah ﷺ . Go to Aisha (RA) . While going to her I asked Hakim bin Aflah to accompany me. He refused, but I adjured him. He, therefore, went along with me. We sought permission to enter upon Aisha (RA) . She said: Who is this ? He said: Hakim bin Aflah. She asked: Who is with you ? He replied: Saad bin Hisham. She said: Hisham son of Amir who was killed in the Battle of Uhud. I said: Yes. She said: What a good man Amir was! I said: Mother of faithful, tell me about the character of the Messenger of Allah ﷺ . She asked: Do you not recite the Quran ? The character of Messenger of Allah ﷺ was the Quran. I asked: Tell me about his vigil and prayer at night. She replied: Do you not recite: O thou folded in garments (73: 1). I said: Why not ? When the opening of this Surah was revealed, the Companions stood praying (most of the night) until their fett swelled, and the concluding verses were not revealed for twelve months from heaven. At last the concluding verses were revealed and the prayer at night became voluntary after it was obligatory. I said: Tell me about the witr of the Prophet ﷺ . She replied: He used to pray eight rakahs, sitting only during the eighth of them. Then he would stand up and pray another rakahs. He would sit only after the eighth and the ninth rakahs. He would utter salutation only after the ninth rakah. He would then pray two rakahs sitting and that made eleven rakahs, O my son. But when he grew old and became fleshy he observed a witr of seven, sitting only in sixth and seventh rakahs, and would utter salutation only after the seventh rakah. He would then pray two rakahs sitting, and that made nine rakahs, O my son. The Messenger of Allah ﷺ would not pray through a whole night, or recite the whole Quran in a night or fast a complete month except in Ramadan. When he offered prayer, he would do that regularly. When he was overtaken by sleep at night, he would pray twelve rakahs. The narrator said: I came to Ibn Abbas and narrated all this to him. By Allah, this is really a tradition. Has I been on speaking terms with her, I would have come to her and heard it from her mouth. I said: If I knew that you were not on speaking terms with her, I would have never narrated it to you.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رات بھر عبادت نہیں کی بلکہ درمیان میں آرام بھی فرماتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٦)، سنن النسائی/ قیام اللیل ٢ (١٦٠٢)، ١٧ (١٦٤٢)، ١٨ (١٦٥٢)، ٤٢ (١٧٢١)، ٤٣ (١٧٢٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (٤٤٥ مختصراً )، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٢٣ (١١٩١)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٣، ٩٤، ١٠٩، ١٦٣، ١٦٨، ٢٣٨، ٢٥٨) (صحیح )
1343Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ: يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، بِمَعْنَاهُ إِلَى مُشَافَهَةً.

اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے، اے میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ بوڑھے ہوگئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے ، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ مشافهة تک ذکر کی۔

The above mentioned tradition has also been narrated by Qatadah through a different chain of narrators. This version adds: He (the Prophet ( used to pray eight rakahs during which he did not sit except the eight rakahs. He would sit, make mention of Allah, supplicate Him and then utter the salutation so loudly that we could hear it. He would then pray two rakahs sitting after he had uttered the salutation. Then he would pray one rakah, and that made eleven rakahs, O my son. When the Messenger of Allah ﷺ grew old and became fleshy, he offered seven rakahs of witr, and then he would pray two rakahs sitting after he had uttered the salutation. The narrator narrated the tradition to the same effect till the end.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٤) (صحیح )
1344Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَاكَمَا قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ.

اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: آپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔

The above tradition has also been transmitted by Yahya bin Saeed to the same effect. The version adds the words: He uttered the salutation so loudly that we could hear it.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٤) (صحیح )
1345Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: بِنَحْوِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا.

اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں ويسلم تسليمة يسمعنا کے الفاظ ہیں۔

This tradition has also been transmitted by Saeed through a different chain of narrators to the same effect. Ibn Bashshar narrated the tradition like that of Yahya bin Saeed. His version has: He uttered the salutation in a way that we could hear it.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٤) (صحیح )
1346Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ وَيَنَامُ وَطَهُورُهُ مُغَطًّى عِنْدَ رَأْسِهِ وَسِوَاكُهُ مَوْضُوعٌ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ سَاعَتَهُ الَّتِي يَبْعَثُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى مُصَلَّاهُ فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ وَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى يَقْعُدَ فِي الثَّامِنَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ وَيَقْرَأُ فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَدْعُو بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ وَيَسْأَلَهُ وَيَرْغَبَ إِلَيْهِ وَيُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً شَدِيدَةً يَكَادُ يُوقِظُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْ شِدَّةِ تَسْلِيمِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ بِأُمِّ الْكِتَابِ وَيَرْكَعُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَقْرَأُ الثَّانِيَةَ فَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ وَيَنْصَرِفُ، فَلَمْ تَزَلْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَّنَ فَنَقَّصَ مِنَ التِّسْعِ ثِنْتَيْنِ فَجَعَلَهَا إِلَى السِّتِّ وَالسَّبْعِ وَرَكْعَتَيْهِ وَهُوَ قَاعِدٌ حَتَّى قُبِضَ عَلَى ذَلِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز (تہجد) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے، آپ ﷺ کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ (اٹھ کر) مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے، پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ان میں سے ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورة اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہوجاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے، اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں، پھر بیٹھ کر سورة فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے، پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہوجاتے، رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ موٹے ہوگئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کردیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کرلیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Zurarah ibn Awfa said that Aisha (RA) was asked about the midnight prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to offer his night prayer in congregation and then return to his family (in his house) and pray four rakahs. Then he would go to his bed and sleep, but the water for his ablution was placed covered near his head and his tooth-stick was also kept there until Allah awakened him at night. He then used the tooth-stick, performed ablution perfectly then came to the place of prayer and would pray eight rakahs, in which he would recite Surah al-Fatihah, and a surah from the Quran as Allah willed. He would not sit during any of them but sit after the eighth rakah, and would not utter the salutation, but recite (the Quran) during the ninth rakah. Then he would sit and supplicate as long as Allah willed, and beg Him and devote his attention to Him; He would utter the salutation once in such a loud voice that the inmates of the house were almost awakened by his loud salutation. He would then recite Surah al-Fatihah while sitting, bow while sitting, and then recite the Quran during the second rakah, and would bow and prostrate while sitting. He would supplicate Allah as long as He willed, then utter the salutation and turn away. This amount of prayer of the Messenger of Allah ﷺ continued till he put a weight. During that period he retrenched two rakahs from nine and began to pray six and seven rakahs standing and two rakahs sitting. This continued till he died.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣٦) (صحیح) (پچھلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بظاہر زرارہ اور عائشہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، دراصل دونوں کے درمیان سعد بن ہشام کے ذریعہ یہ سند بھی متصل ہے )
1347Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: يُصَلِّي الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، لَمْ يَذْكُرِ الْأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَإِنَّهُ كَانَ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ فِيهِ فَيُصَلِّي رَكْعَةً يُوتِرُ بِهَا، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا، ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ.

یزید بن ہارون کہتے ہیں: ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہے پھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی، اس میں ہے : آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا ، آگے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت، رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے، اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہوجاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کردیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کردیتے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔

The above-mentioned tradition has also been narrated by Banu al-Hakim through a different chain of narrators. This version adds: He (the Prophet) would offer the night prayer and go to his bed. In this version there is no mention of praying four rakahs. The narrator then transmitted the rest of the tradition. This version further says: He would pray eight rakahs during which his recitation of the Quran, bowing and prostration were all equal. He would sit only after the eight rakah, and then stand up without uttering the salutation, and pray one rakah observing witr prayer and then give the salutation raising his voice so much so that we were about to awake. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦) (صحیح )
1348Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَهْزٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي التَّسْلِيمِ حَتَّى يُوقِظَنَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہوجاتے۔

Zurarah bin Awfa said that Aisha (RA) was asked about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to lead the people in the Isha prayer and return to his family and pray four rakahs and go to his bed. The narrator then transmitted the tradition in full. This version does not mention the words: During them (the rakahs) he equated all the recitation of the Quran, bowing and recitation. This also does not mention the words about the salutation: Till he almost awakened us.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٣٤٦، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦) (صحیح )
1349Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمْ.

اس طریق سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے ١ ؎۔

This tradition has also been transmitted by Aisha (RA) through a different chain of narrators. But the tradition narrated by Hammad bin Salamah is not equal to the tradition narrated by others.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ابن ابی عدی، یزید بن ہارون اور مروان بن معاویہ سبھی نے اسے بہز بن حکیم سے، انہوں نے زرارہ سے زرارۃ نے عائشہ ؓ سے بغیر سعد کے واسطہ کے روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ ہی نے زرارہ اور عائشہ ؓ کے درمیان سعد بن ہشام کا واسطہ بڑھایا ہے، اور یہ واسطہ ہی صحیح ہے کیوں کہ زرارہ کے عائشہ ؓ سے سماع میں اختلاف ہے، صحیح بات یہی ہے کہ سماع ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٦، ١٦١١٠) (صحیح )
1350Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِتِسْعٍ، أَوْ كَمَا قَالَتْ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray thirteen rakahs during the night, observing the witr prayer with nine (or as she said). He used to pray two rakahs while sitting and pray two rakahs of the dawn prayer between the adhan and the iqamah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦١١٠، ١٦١١١، ١٧٧٥٥) (حسن صحیح )
1351Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ الْوِتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذينِ الْحَدِيثَيْنِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ: يَا أُمَّتَاهُ، كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ ؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نو رکعتیں وتر کی پڑھتے، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ ان میں قرآت کرتے، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہوجاتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے: کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اماں جان! آپ ﷺ دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to observe the witr prayer with nine rakahs. Then he used to pray seven rakahs (of witr prayer). He would pray two rakahs sitting after the witr in which he would recite the Quran (sitting). When he wished to bow, he stood up and bowed and prostrated. Abu Dawud said: These two traditions have been transmitted by Khalid bin Abdullah al-Wasiti. In his version he said: Alqamah bin Waqqas said: O mother, how did he pray the two rakahs ? He narrated the rest of the tradition to the same effect.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤١١)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٨) (حسن صحیح )
1352Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ،عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ، فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُغْفِي، وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَا، حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ حَتَّى أَسَنَّ لَحُمَ، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گیا اور کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کے بارے میں بتائیے، وہ بولیں: رسول اللہ ﷺ لوگوں کو عشاء پڑھاتے، پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہوجاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، میرے خیال میں آپ ﷺ ہر رکعت میں قرآت، رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے، پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو (زمین پر) رکھتے، کبھی ایسا ہوتا کہ بلال ؓ آ کر نماز کی خبر دیتے پھر آپ ﷺ ہلکی نیند سوتے، بسا اوقات میں شبہ میں پڑجاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، یہی آپ کی نماز (تہجد) ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہوگئے، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Saad ibn Hisham said: I came to Madina and called upon Aisha (RA) , and said to her: Tell me about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: The Messenger of Allah ﷺ used to lead the people in the night prayer, and then go to his bed and sleep. When midnight came he got up, went to answer the call of nature and to perform ablution with water. Having performed ablution, he entered the mosque and prayed eight rakahs. To my mind he performed the recitation of the Quran, bowing and prostrating equally. He then observed witr with one rakah and prayed two rakahs sitting. Then he lay down on the ground. Sometimes Bilal came to him and called him for prayer. He then dozed, and sometimes I doubted whether he dozed or not, till he (Bilal) called him for prayer. This is the prayer he offered till he grew old or put on weight. She then mentioned how he put on weight as Allah wished.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٩١، ٩٧، ١٦٨، ٢١٦، ٢٢٧، ٢٣٥) ( صحیح )
1353Sunan Abu Dawood

تہجد کی رکعتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ سورة البقرة آية 164 حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِسِتِّ رَكَعَاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ، ثُمَّ أَوْتَرَ. قَالَ عُثْمَانُ: بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَقَالَ ابْنُ عِيسَى: ثُمَّ أَوْتَرَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ وَأَعْظِمْ لِي نُورًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے، تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ إن في خلق السموات والأرض ١ ؎ اخیر سورة تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں قیام، رکوع اور سجدہ لمبا کیا، پھر آپ ﷺ فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر آپ ﷺ نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر آپ ﷺ نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے: پھر آپ نے وتر پڑھی، پھر آپ کے پاس بلال ؓ آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں۔ اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔ آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔ آپ (اس وقت) فرما رہے تھے: اللهم اجعل في قلبي نورا، واجعل في لساني نورا، واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل خلفي نورا، وأمامي نورا، واجعل من فوقي نورا، ومن تحتي نورا، اللهم وأعظم لي نورا اے اللہ! تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں، میرے کان میں، میری نگاہ میں، میرے پیچھے، میرے آگے، میرے اوپر اور میرے نیچے۔ اور اے اللہ! میرے لیے نور کو بڑا بنا دے ۔

Abdullah bin Abbas said that he slept with the Prophet ﷺ . He saw that he (the Prophet) awoke, used tooth-stick, performed ablution, and recited: In the creation of the heavens and earth [3: 190] to the end of the surah. Then he stood up and prayed two rakahs in which he prolonged the standing, bowing, and prostrations. He then uttered turned away and slept till he bagan to snore. This he did three times. This made six rakahs in all. He would use tooth-stick, then perform ablution, and recite those verses. He then observed the witr prayer. The version of Uthman has: with three rakahs. The muadhdhin then came to him and he went out for prayer. The version of Ibn Isa adds: He then observed witr prayer ; then Bilal came to him and called him for prayer when the dawn broke. He then prayed the two rakahs of the dawn prayer. He then went out for prayer. Then both the narrators were agreed: He beagan to supplicate saying: O Allah, place light in my heart, light in my tongue, light in my hearing, light in my eyesight, light on my right hand, light on my left hand, light in front of me, light behing me, light below me, O Allah, give me abundant light.

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة آل عمران: (١٩٠)۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٥٨، (تحفة الأشراف: ٦٢٨٧) ( صحیح )