سعید بن جبیر نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے (اور وہ نہ اٹھ سکے) تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا، اس کی نیند اس پر صدقہ ہوگی ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: Any person who offers prayer at night regularly but (on a certain night) he is dominated by sleep will be given the reward of praying. His sleep will be almsgiving.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥٢ (١٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٠٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ صلاة اللیل ١ (١)، مسند احمد (٦/٦٣، ٧٢، ١٨٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے ١ ؎، پھر فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟ ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Our Lord who is blessed and exalted descends every night to the lowest heaven when the last one-third of the night remains, and says: Who supplicated Me so that I may answer him ? Who asks of Me so that I may give to him ? Who asks My forgiveness so that I may forgive him ?
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اللہ رب العزت کے لئے نزول کی صفت ثابت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے بارے میں صحیح عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ اور اس کے رسول سے اس سلسلے میں ثابت ہے اس پر ہم صدق دل سے ایمان لے آئیں اور ان صفات کا نہ تو انکار کریں، اور نہ ان کے حقیقی معانی کو معطل کریں، اور نہ ہی کسی صفت کو کسی مخلوق کی صفت کے مشابہ قرار دیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ليس کمثله شيئ وهو السميع البصير۔ بعض لوگوں نے اس حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ اللہ کی رحمت اترتی ہے یا اس کا حکم اترتا ہے، لیکن یہ سراسر غلط ہے، یہ تاویل کسی طور سے بھی حدیث کے الفاظ کے ساتھ میل نہیں کھاتی، کیوں کہ اگر رحمت اترتی یا حکم اترتا تو وہ یہ کیسے کہتا کہ ” جو مجھ سے دعا کرے گا میں اسے قبول کروں گا، جو مانگے گا میں دوں گا، جو استغفار کرے گا میں اس کی مغفرت کروں گا “، یہ تو خاص شان کبریائی ہے، دوسرے یہ کہ اللہ کی رحمت ہر جگہ موجود ہے ورحمتي وسعت کل شيئ تو خاص تہائی رات میں نزول (اترنے) کے کیا معنیٰ؟! تیسرے یہ کہ رحمت اتر کر آسمان دنیا ہی پر رہ گئی تو ہمیں اس سے کیا فائدہ ہوا! اگر ہم تک آتی تو ہمیں فائدہ پہنچتا، اس لئے بہتر طریقہ وہی ہے جو محققین اہل سنت و اہل حدیث کا ہے کہ اس قسم کی حدیثیں یا آیتیں جن میں اللہ جل جلالہ کی صفات مذکور ہیں جیسے: اترنا، چڑھنا، ہنسنا، تعجب کرنا، دیکھنا، سننا، عرش کے اوپر ہونا، وغیرہ وغیرہ، ان سب صفات و افعال باری تعالیٰ کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے، لیکن یہ مخلوقات کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات مخلوقات کی ذات کے مشابہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٤ (١١٤٥)، والدعوات ١٤ (٦٣٢١)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٤ (٧٥٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٢ (٤٤٦)، والدعوات ٧٩ (٣٤٩٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٢ (١٣٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦٣، (صحیح) ١٥٢٤١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن ٨ (٣٠)، مسند احمد (٢/٢٦٤، ٢٦٧، ٢٨٣، ٤١٩، ٤٨٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٨ (١٥١٩)، ویأتي برقم (٤٧٣٣ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ ﷺ اپنے معمول سے فارغ ہوجاتے۔
Narrated Aisha (RA) : Allah, the Exalted, would awaken the Messenger of Allah ﷺ at night. When the dawn came, he would his finish daily round of recital.
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا: میں نے ان سے کہا: آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہوجاتے اور نماز شروع کردیتے۔
Masruq said: I asked Aisha (RA) about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ , and I said to her: At what time he prayed at night ? She said: When he heard the cock crow, he got up and prayed.
ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ کہتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کردیتا، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مانگو مجھ سے ، میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟ ، میں نے کہا: بس یہی، آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے (یعنی نماز پڑھ کر) میری مدد کرو ۔
Narrated Rabiah bin Kab al-Aslami (RA) : I used to live with the Messenger of Allah ﷺ at night. I would bring water for his ablution and his need. He asked: Ask me. I said: Your company in Paradise. He said: Is there anything other than that ? I said: It is only that. He said: Help me for yourself by making prostrations abundantly.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٣ (٤٨٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٢٦ (٣٤١٦)، سنن النسائی/التطبیق ٧٩ (١١٣٩)، و قیام اللیل ٩ (١٦١٩)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٧٩)، (تحفة الأشراف: ٣٤١٦، ٣٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٥٧) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں (سورۃ السجدۃ: ١٦) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں: اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔
Anas bin Malik (RA) said (explaining the meaning of the Quranic verse Who forsake their beds to cry unto their Lord in fear and hope, and spend of what We have bestowed on them (32: 16). The people used to remain awake between the sunset and the night prayers and would pray. Al-Hasan used to say: (This verse means) the prayer and vigil at night.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٢١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣٣ (٣١٩٦) (صحیح )
انس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کانوا قليلا من الليل ما يهجعون وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے (سورۃ الذاریات: ١٧) کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ تتجافى جنوبهم سے بھی یہی مراد ہے۔
Anas said (explaining the meaning) of the following Quranic verse They used to sleep but little of the night (51: 17): They (the people) used to pray between the Maghrib and Isha. The version of Yahya adds: The verse tatajafa junubuhum also means so.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you gets up at night, he should begin the prayer with two short rakahs.
Notes · وضاحت
١ ؎: غالبا ً اس سے تحیۃ الوضو مراد ہے، یعنی پہلے یہ دونوں رکعتیں پڑھ لے، پھر تہجد شروع کرے، یا یہ تہجد ہی کی نماز ہے، مگر ابتداء ہلکی سے شروع کرے، دوسری روایت میں ہے ثم ليطول بعد ما شاء یعنی پھر اس کے بعد جتنی چاہے لمبی کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٥٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٨)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٧٩، ٣٩٩) (صحیح) (آگے کے ابوداود کے تبصرہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرفوع قولی کی جگہ ابوہریرہ ؓ پر وقف زیادہ صحیح ہے، نیز صحیح مسلم وغیرہ میں رسول ﷺ کے فعل سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٢ ؍ ٥٩- ٦٠ )
اس طریق سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر اس کے بعد جتنا چاہے طویل کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ، زہیر بن معاویہ اور ایک جماعت نے ہشام سے انہوں نے محمد سے روایت کیا ہے اور اسے لوگوں نے ابوہریرہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے، اور اسی طرح اسے ایوب اور ابن عون نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ ؓ پر موقوف قرار دیا ہے، نیز اسے ابن عون نے محمد سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ان دونوں رکعتوں میں تخفیف کرے ۔
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: He should then prolong it afterwards as much as he likes. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Hammad bin Salamah, Zuhair bin Muawiyah and a group of narrators from Hisham. They transmitted it as a statement of Abu Hurairah himself (mauquf). This tradition has also been transmitted by Ibn Awn from Muhammad (b. Sirin). This version has the wordings: These two rakahs were short.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٥٧٦) (صحیح) (ابوہریرہ ؓ کا موقوف قول صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہوجائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے، یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق (وتر) کر دے گی ١ ؎۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) : A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the prayer at night. The Messenger of Allah ﷺ said: Prayer during the night should consist of pairs of rakahs, but if one of you fears the morning is near he should pray one rakah which will make his prayer an odd number for him.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ نفل نماز کیسے پڑھی جائے، امام شافعی کی رائے صحیح ہے کہ نفل نماز دو دو کر کے پڑھنا افضل ہے، خواہ دن کی نماز ہو یا رات کی، ان کی دلیل صلا ۃ اللیل والنہار مثنی مثنی والی حدیث ہے جو صحیح ہے، دو دو رکعت کرکے پڑھنے میں بہت سے فوائد ہیں، اس میں دعا، درود وسلام کی زیادتی ہے، نیز جماعت میں شامل ہونے کے لئے نماز درمیان سے چھوڑنی نہیں پڑتی وغیرہ وغیرہ، ایسے چار چار کرکے پڑھنا بھی جائز ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں (نماز پڑھ رہے) ہوتے۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophets ﷺ recitation was loud enough for one who was in the inner chamber to hear it when he was in the house.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رات میں نبی اکرم ﷺ کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophets ﷺ recitation at night was partly in a loud voice and partly in a low voice. Abu Dawud said: The name of Abu Khalid al-Walibi is Hurmuz.
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر ؓ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ ﷺ عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں (ابوبکر و عمر) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو ، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ ﷺ نے عمر ؓ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کرلو ، اور عمر ؓ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلو ١ ؎۔
Narrated Abu Qatadah (RA) : The Prophet ﷺ went out at night and found Abu Bakr praying in a low voice, and he passed Umar ibn al-Khattab who was raising his voice while praying. When they both met the Prophet ﷺ together, the Prophet ﷺ said: I passed by you, Abu Bakr, when you were praying in a low voice. He replied: I made Him hear with Whom I was holding intimate converse, Messenger of Allah. He (the Prophet) said to Umar (RA) : I passed by you when you were praying in a loud voice. He replied: Messenger of Allah, I was awakening the drowsy and driving away the Devil. Al-Hasan added in his version: The Prophet ﷺ said: Raise your voice a little, Abu Bakr, and he said to Umar (RA) : Lower your voice a little.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ولا تجهر بصلاتک ولا تخافت بها وابتغ بين ذلک سبيلا (سورۃ الاسراء: ١١٠) ” نہ بلند آواز سے اور نہ ہی چپکے چپکے پڑھ بلکہ بیچ کی راہ تلاش کر “۔
ابوہریرہ ؓ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں فقال لأبي بكر: ارفع من صوتک شيئًا ولعمر اخفض شيئًا کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے: اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورة سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورة سے ، بلال ؓ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سب نے ٹھیک کیا ۔
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version dies not mention that the Prophet ﷺ said to Abu Bakr (RA) : Raise your voice a litte ; or he said to Umar (RA) : Lower your voice a little. But this version adds: (The Prophet said:) I heard you, Bilal, (reciting) ; you were reciting partly from this surah and partly from that surah. He said: This is all good speech ; Allah has combined one part with the other; The Prophet ﷺ said: All of you were correct.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رات کی نماز (تہجد) کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی، قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے، کتنی ایسی آیتیں تھیں جنہیں میں بھول چلا تھا، اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورة آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورة کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جنہیں میں بھول چکا تھا اور وہ وكأين من نبي (آل عمران: ١٤٦) والی آیت ہے۔
Narrated Aisha (RA) : A man got up at night and recited the Quran in a loud voice. When the dawn came, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah have mercy on so-and-so who reminded me many verses that I had nearly forgotten. Abu Dawud said: Harun al-Nahwi transmitted from Hammad bin Salamah the Quranic verse of Surah Al-Imran: How many of the prophet fought (in Allahs way) (3: 146)
ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا: لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں (یا کہا نماز) میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Messenger of Allah ﷺ retired to the mosque. He heard them (the people) reciting the Quran in a loud voice. He removed the curtain and said: Lo! every one of you is calling his Lord quietly. One should not trouble the other and one should not raise the voice in recitation or in prayer over the voice of the other.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٩٤) (صحیح )
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا ۔
Narrated Uqbah ibn Amir al-Juhani (RA) : The Prophet ﷺ said: One who recites the Quran in a loud voice is like one who gives alms openly; and one who recites the Quran quietly is one who gives alms secretly.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٠ (٢٩١٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٢ (١٦٦٢)، والزکاة ٦٨ (٢٥٦٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥١، ١٥٨، ٢٠١) (صحیح )