رات کی نماز جہراً قرأت کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنِ بْنُ يَحْيَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، لَمْ يَذْكُرْ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا، وَلِعُمَرَ: اخْفِضْ شَيْئًا، زَادَ: وَقَدْ سَمِعْتُكَ يَا بِلَالُ وَأَنْتَ تَقْرَأُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ، وَمِنْ هَذِهِ السُّورَةِقَالَ: كَلَامٌ طَيِّبٌ يَجْمَعُ اللَّهُ تَعَالَى بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّكُمْ قَدْ أَصَابَ.
ابوہریرہ ؓ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں فقال لأبي بكر: ارفع من صوتک شيئًا ولعمر اخفض شيئًا کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے: اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورة سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورة سے ، بلال ؓ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سب نے ٹھیک کیا ۔
This tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version dies not mention that the Prophet ﷺ said to Abu Bakr (RA) : Raise your voice a litte ; or he said to Umar (RA) : Lower your voice a little. But this version adds: (The Prophet said:) I heard you, Bilal, (reciting) ; you were reciting partly from this surah and partly from that surah. He said: This is all good speech ; Allah has combined one part with the other; The Prophet ﷺ said: All of you were correct.