Sunan Abu Dawood 1326

نماز کا بیان

1326Sunan Abu Dawood

رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہوجائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے، یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق (وتر) کر دے گی ١ ؎۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : A man asked the Messenger of Allah ﷺ about the prayer at night. The Messenger of Allah ﷺ said: Prayer during the night should consist of pairs of rakahs, but if one of you fears the morning is near he should pray one rakah which will make his prayer an odd number for him.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ نفل نماز کیسے پڑھی جائے، امام شافعی کی رائے صحیح ہے کہ نفل نماز دو دو کر کے پڑھنا افضل ہے، خواہ دن کی نماز ہو یا رات کی، ان کی دلیل صلا ۃ اللیل والنہار مثنی مثنی والی حدیث ہے جو صحیح ہے، دو دو رکعت کرکے پڑھنے میں بہت سے فوائد ہیں، اس میں دعا، درود وسلام کی زیادتی ہے، نیز جماعت میں شامل ہونے کے لئے نماز درمیان سے چھوڑنی نہیں پڑتی وغیرہ وغیرہ، ایسے چار چار کرکے پڑھنا بھی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٤ (٤٧٣)، والوتر ١ (٩٩٠)، والتہجد ١٠ (١١٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠(٧٤٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٠ (٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧١ (١٣٢٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٦ (١٦٦٨)، ٣٥ (١٦٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥، ٩، ١٠، ٤٩، ٥٤، ٦٦)، وانظر ایضًا رقم: (١٢٩٥) (صحیح )