نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 46 of 55

1294Sunan Abu Dawood

چاشت کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًافَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ ؓ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجالست (ہم نشینی) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر (آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا) ، آپ ﷺ جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ (نماز اشراق کے لیے) کھڑے ہوتے۔

Narrated Simak (RA) : I asked Jabir bin Samurah (RA) : Did you sit in the company of the Messenger of Allah ﷺ ? He replied: Yes, very often. He would not stand from the place he prayed the dawn prayer till the sunrise. When the sun rose, he would stand (to pray Duha).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٢ (٦٧٠)، والفضائل ١٧ (٢٣٢٢)، سنن النسائی/السھو ٩٩ (١٣٥٩، ١٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٥٥)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٥ (٥٨٥)، مسند احمد (٥/٩١، ٩٧، ١٠٠، ٠١ ١، ١٠٥، ١٠٧) (صحیح )
1295Sunan Abu Dawood

دن کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Prayer by night and day should consist of pairs of rakahs.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣٠١ (٥٩٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٤ (١٦٦٧)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٢)، (تحفة الأشراف: ٧٣٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦، ٥١)، سنن الدارمی/ الصلاة ١٥٥(١٥٠٠) (صحیح )
1296Sunan Abu Dawood

دن کی نماز کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى أَنْ تَشَهَّدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَنْ تَبَاءَسَ وَتَمَسْكَنَ وَتُقْنِعَ بِيَدَيْكَ، وَتَقُولَ: اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ. سُئِلَ أَبُو دَاوُدَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ مَثْنَى، قَالَ: إِنْ شِئْتَ مَثْنَى وَإِنْ شِئْتَ أَرْبَعًا.

مطلب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔

Narrated Muttalib: The Prophet ﷺ said: Prayer is to be offered in two rakahs; and you should recite the tashahhud at the end of two rakahs, and express your distress and humility and raise your hands and say praying: O Allah, O Allah. He who does not do so does not offer a perfect prayer. Abu Dawud was asked about offering prayer at night in two rakahs. He said: They may be two if you like and four if you like.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٥)، (تحفة الأشراف: ١١٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٧) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن نافع مجہول ہیں )
1297Sunan Abu Dawood

صلوٰةالتسبیح کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرَ خِصَالٍ أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ، قُلْتَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبدالمطلب ؓ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی ایک سورة پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کرلیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر (دوسرا) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب (دوسرے) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کرسکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں ۔

Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said to al-Abbas ibn Abdul Muttalib: Abbas, my uncle, shall I not give you, shall I not present to you, shall I not donate to you, shall I not produce for you ten things? If you act upon them, Allah will forgive you your sins, first and last, old and new, involuntary and voluntary, small and great, secret and open. These are the ten things: you should pray four rakahs, reciting in each one Fatihat al-Kitab and a surah. When you finish the recitation of the first rakah you should say fifteen times while standing: Glory be to Allah, Praise be to Allah, There is no god but Allah, Allah is most great. Then you should bow and say it ten times while bowing. Then you should raise your head after bowing and say it ten times. Then you should kneel down in prostration and say it ten times while prostrating yourself. Then you should raise your head after prostration and say it ten times. Then you should prostrate yourself and say it ten times. Then you should raise your head after prostrating and say it ten times in every rakah. You should do that in four rakahs. If you can observe it once daily, do so; if not, then once weekly; if not, then once a month; if not, then once a year; if not, then once in your lifetime.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٠ (١٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ٦٠٣٨) (صحیح )
1298Sunan Abu Dawood

صلوٰةالتسبیح کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَحَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً، قَالَ: إِذَا زَالَ النَّهَارُ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا، وَتَحْمَدَ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتِ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ ؟ قَالَ: صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ،وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ: فَقَالَ: حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو ؓ تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے (جب میں کل پہنچا تو) آپ ﷺ نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہوجاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کرلو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہوجائے گی ، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کرسکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کرلو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس ؓ سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں فقال حديث عن النبي ﷺ (تو ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کی) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Amr (RA) : AbulJawza said: A man who attended the company of the Prophet ﷺ narrated to me (it is thought that he was Abdullah ibn Amr): The Prophet ﷺ said to me: Come to me tomorrow; I shall give you something, I shall give you something, I shall reward you something, I shall donate something to you. I thought that he would give me some present. He said (to me when I came to him): When the day declines, stand up and pray four rakahs. He then narrated something similar. This version adds: Do not stand until you glorify Allah ten times, and praise Him ten times, and exalt Him ten times, and say, There is no god but Allah ten times. Then you should do that in four rakahs. If you are the greatest sinner on earth, you will be forgiven (by Allah) on account of this (prayer). I asked: If I cannot pray this the appointed hour, (what should I do)? He replied: Pray that by night or by day (at any time). Abu Dawud said: Habban bin Hilal is the maternal uncle of Hilal al-Rai. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by al-MustAmir bin al-Riyyan from Ibn al-Jawza from Abdullah bin Amr without referring to the Prophet ﷺ , - narrated as a statement of Abdullah bin Amr himself (mauquf). This has also been narrated by Rawh bin al-Musayyab, and Jafar bin Sulaiman from Amr bin Malik al-Nakri from Abu al-Jauza from Ibn Abbas as his own statement (and not the statement of the Prophet). But the version of Rawh has the words: The tradition of the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٠٦) (حسن صحیح )
1299Sunan Abu Dawood

صلوٰةالتسبیح کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِجَعْفَرٍ: بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ، قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.

عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔

Narrated Urwah bin Ruwaim: That an al-Ansari narrated to him: The Messenger of Allah ﷺ said to Jafar. He then narrated the tradition in like manner. This version has the words: In the second prostration of the first rakah in addition to the words transmitted by Mahdi bin Maimun (in the previous tradition).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٣٩٤، ١٥٦٣٦) (صحیح )
1300Sunan Abu Dawood

مغرب کے بعد دو رکعت کہاں پڑھنا چاہیے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي أَبُو مُطَرِّفٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مَسْجِدَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى فِيهِ الْمَغْرِبَ، فَلَمَّا قَضَوْا صَلَاتَهُمْ رَآهُمْ يُسَبِّحُونَ بَعْدَهَا، فَقَالَ: هَذِهِ صَلَاةُ الْبُيُوتِ.

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے ۔

Narrated Kab ibn Ujrah (RA) : The Prophet ﷺ came to the mosque of Banu AbdulAshhal. He prayed the sunset prayer there. When they finished the prayer, he saw them praying the supererogatory prayer after it. He said: This is the prayer to be offered in the houses.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٧ (الجمعة ٧١) (٦٠٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٦٠١)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٧) (حسن )
1301Sunan Abu Dawood

مغرب کے بعد دو رکعت کہاں پڑھنا چاہیے

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَتَفَرَّقَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ وَأَسْنَدَهُ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا نَصْرٌ الْمُجَدَّرُ، عَنْ يَعْقُوبَ مِثْلَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہوجاتے (یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسیٰ بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to prolong the recitation of the Quran in the two rakahs after the sunset prayer until the people praying in the mosque dispersed. Abu Dawud said: This has been reported by Nasr al-Mujaddir from Yaqub al-Qummi with the same chain of narrators. Abu Dawud said: Muhammad bin Isa bin al-tabba transmitted from Nasr al-Mujaddir from Yaqub in like manner.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٤٦٨، ١٨٦٧٧) (ضعیف) (اس کے راوی یعقوب بن عبد اللہ قمی اور جعفر دونوں میں کلام ہے، نیز ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے )
1302Sunan Abu Dawood

مغرب کے بعد دو رکعت کہاں پڑھنا چاہیے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ بِمَعْنَاهُ مُرْسَلًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَعْقُوبَ، يَقُولُ: كُلُّ شَيْءٍ حَدَّثْتُكُمْ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ مُسْنَدٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس طریق سے بھی سعید بن جبیر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي ﷺ کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس ؓ سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہیں۔

Narrated Saeed bin Jubair: This tradition from the Prophet ﷺ without mentioning the name of the Companion in the chain (in the mursal form). Abu dawud said: I heard Muhammad bin Humaid say: I heard Yaqub say: Anything I narrated to you from Jafar on the authority of Saeed bin Jubair from the Prophet ﷺ is directly coming from Ibn Abbas from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٦٨، ١٨٦٧٧) (ضعیف )
1303Sunan Abu Dawood

عشاء کی سنتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنِي مُقَاتِلُ بْنُ بَشِيرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ: سَأَلْتُهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَيَّ إِلَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَوْ سِتَّ رَكَعَاتٍ، وَلَقَدْ مُطِرْنَا مَرَّةً بِاللَّيْلِ فَطَرَحْنَا لَهُ نِطَعًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ثُقْبٍ فِيهِ يَنْبُعُ الْمَاءُ مِنْهُ، وَمَا رَأَيْتُهُ مُتَّقِيًا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ مِنْ ثِيَابِهِ قَطُّ.

شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں (اب بھی) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Shurayh ibn Hani said: I asked Aisha (RA) about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . She said: The Messenger of Allah ﷺ never offered the night prayer and thereafter came to me but he offered four or six rakahs of prayer. One night the rain fell, so we spread a piece of leather (for his prayer), and now I see as if there is a hole in it from which the water is flowing. I never saw him protecting his clothes from the earth (as he did on that occasion).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٨) (ضعیف) (اس کے راوی مقاتل لین الحدیث ہیں )
1304Sunan Abu Dawood

تہجد کی فرضیت کا منسوخ ہونا اور اس میں سہولت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ابْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ فِي الْمُزَّمِّلِ: قُمِ اللَّيْلَ إِلا قَلِيلا 2 نِصْفَهُ سورة المزمل آية 1-2 نَسَخَتْهَا الْآيَةُ الَّتِي فِيهَا عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ سورة المزمل آية 20 وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ: أَوَّلُهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُهُمْ لِأَوَّلِ اللَّيْلِ، يَقُولُ: هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، وَذَلِكَ أَنَّ الْإِنْسَانَ إِذَا نَامَ لَمْ يَدْرِ مَتَى يَسْتَيْقِظُ، وَقَوْلُهُ: وَأَقْوَمُ قِيلا سورة المزمل آية 6 هُوَ أَجْدَرُ أَنْ يَفْقَهَ فِي الْقُرْآنِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلا سورة المزمل آية 7، يَقُولُ: فَرَاغًا طَوِيلًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں سورة مزمل کی آیت قم الليل إلا قليلا، نصفه ١ ؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرء وا ما تيسر من القرآن ٢ ؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کرسکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو (نماز میں) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کردیا ہے،ناشئة الليل کے معنی شروع رات کے ہیں، چناچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور أقوم قيلا سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول إن لک في النهار سبحا طويلا ٣ ؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے (لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو) ۔

Narrated Abdullah Ibn Abbas (RA) : In Surat al-Muzzammil (73), the verse: Keep vigil at night but a little, a half thereof (2-3) has been abrogated by the following verse: He knoweth that ye count it not, and turneth unto you in mercy. Recite then of the Quran that which is easy for you (v. 20). The phrase the vigil of the night (nashiat al-layl) means the early hours of the night. They (the companions) would pray (the tahajjud prayer) in the early hours of the night. He (Ibn Abbas) says: It is advisable to offer the prayer at night (tahajjud), prescribed by Allah for you (in the early hours of the night). This is because when a person sleeps, he does not know when he will awake. The words speech more certain (aqwamu qilan) means that this time is more suitable for the understanding of the Quran. He says: The verse: Lo, thou hast by day a chain of business (v. 7) means engagement for long periods (in the days work).

Notes · وضاحت
١ ؎: سورة المزمل: (٢، ٣) ٢ ؎: سورة المزمل: (٢٠) ٣ ؎: سورة المزمل: ( ٧ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٥٤) (حسن )
1305Sunan Abu Dawood

تہجد کی فرضیت کا منسوخ ہونا اور اس میں سہولت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمَرْوَزِيَّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ أَوَّلُ الْمُزَّمِّلِ كَانُوا يَقُومُونَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى نَزَلَ آخِرُهَا، وَكَانَ بَيْنَ أَوَّلِهَا وَآخِرِهَا سَنَةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب سورة مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو (نماز میں) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورة کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : When the opening verses of Surah Al-muzammil was revealed, the Companions would pray as long as they would pray during Ramadan until its last verses were revealed. The period between the revelation of its opening and the last verses was one year.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٦٧٨) (صحیح )
1306Sunan Abu Dawood

تہجد کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ إِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ، عُقَدٍ يَضْرِبُ مَكَانَ كُلِّ عُقْدَةٍ عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ فَارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کرلے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بددلی کے ساتھ صبح کرتا ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one you sleeps, the devil ties three knots at the back of his neck, sealing every knot with, You have a long night, so sleep. So if one awakes and mentions Allah, a knot will be loosened; if he performs ablution another knot will be loosened; and if he prays, the third knot will be loosened; and in the morning he will be active and in good spirits; otherwise he will be in bad spirits and sluggish.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٢ (١١٤٢)، وبدء الخلق ١١ (٣٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٢٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٨ (٧٧٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥ (١٦٠٨)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٤ (١٣٢٩)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٥ (٩٥)، مسند احمد (٢/٢٤٣، ٢٥٣، ٢٥٩) (صحیح )
1307Sunan Abu Dawood

تہجد کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ لَا يَدَعُهُ، وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ صَلَّى قَاعِدًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں تہجد (قیام اللیل) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ ﷺ اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Do not give up prayer at night, for the Messenger of Allah ﷺ would not leave it. Whenever he fell ill or lethargic, he would offer it sitting.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٢٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٦، ٢٤٩) (صحیح )
1308Sunan Abu Dawood

تہجد کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: May Allah have mercy on a man who gets up at night and prays, and awakens his wife; if she refuses, he should sprinkle water on her face. May Allah have mercy on a woman who gets up at night and prays, and awakens her husband; if he refuses, she would sprinkle water on his face.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ پانی چھڑکنے سے وہ جاگ جائے گا اور نماز ادا کرے گا تو وہ بھی ثواب کی مستحق ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥ (١٦١١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٥ (١٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦) (حسن صحیح) ویأتی ہذا الحدیث برقم (١٤٥٠ )
1309Sunan Abu Dawood

تہجد کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ الْمَعْنَى، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَيْقَظَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا أَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيعًا كُتِبَا فِي الذَّاكِرِينَ وَالذَّاكِرَاتِوَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ كَثِيرٍ، وَلَا ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، جَعَلَهُ كَلَامَ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: وَأُرَاهُ ذَكَرَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ مَوْقُوفٌ.

ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں ۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ ؓ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید ؓ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ ؓ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔

Narrated Abu Saeed and Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If a man awakens his wife at night, and then both pray or both offer two rakahs together, the (name of the )man will be recorded among those who mention the name of Allah, and the (name of the) woman will be recorded among those who mention the name of Allah. Ibn Kathir did not narrate this tradition as a statement of the Prophet ﷺ , but he reported it as a statement of Abu Saeed. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Ibn Mahdi from Sufyan and I think he mentioned the name of Sufyan. He also said: The tradition transmitted by Sufyan is a statement of the Companion (and not that of the Prophet).

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٥ (١٣٣٥) ویأتی ہذا الحدیث برقم (١٥٥١)، (تحفة الأشراف: ٣٩٦٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری / التفسیر (١١٤٠٦) (صحیح )
1310Sunan Abu Dawood

نماز میں نیند آنے کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : When one of you dozes in prayer he should sleep till his sleep is gone, for when one of you prays while he is dozing, perhaps he might curse himself if he begs pardon of Allah.

Notes · وضاحت
١ ؎: مثلا اللهم اغفر کے بجائے اس کی زبان سے اللهم اعفر نکلے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٣ (٢١٢)، صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٧١٤٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٤٦ (٣٥٥)، سنن النسائی/الطھارة ١١٧ (١٦٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧٠)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١ (٣)، مسند احمد (٦/٥٦، ٢٠٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٧(١٤٢٣) (صحیح )
1311Sunan Abu Dawood

نماز میں نیند آنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you gets up by night (to pray), and falters in reciting the Quran (due to sleep), and he does not understand what he utters, he should sleep.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٣١ (٧٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٧٢١)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧٢)، مسند احمد (٢/٢١٨) (صحیح )
1312Sunan Abu Dawood

نماز میں نیند آنے کا بیان

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُصَلِّي، فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ، فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ. قَالَ زِيَادٌ: فَقَالَ: مَا هَذَا ؟فَقَالُوا: لِزَيْنَبَ تُصَلِّي، فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ، فَقَالَ: حُلُّوهُفَقَالَ: لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، پوچھا: یہ رسی کیسی بندھی ہے؟ ، عرض کیا گیا: یہ حمنہ بنت حجش ؓ کی ہے، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں ۔ زیاد کی روایت میں یوں ہے: آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب ؓ کی ہے، وہ نماز پڑھا کرتی ہیں، جب سست ہوجاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں، آپ نے فرمایا: اسے کھول دو، تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک نشاط رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔

Narrated Anas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ entered the mosque (and saw that) a rope tied between two pillars. He asked: What is this rope (for) ? The people told him: This is (for) Hamnah bin Jahsh who prays (here). When she is tired, she reclines on it. The Messenger of Allah ﷺ said: She should pray as much as she has strength. When she is tired, she should sit down. This version of Ziyad has: He said: What is this ? The people told him: This is for Zainab who prays. When she becomes lazy, or is tired, she holds it. He said: Undo it. One of you should pray in good spirits. When he is lazy or tired, he should sit down.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٣٢ (٧٨٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد ١٨ (١١٥٠)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٤ (١٣٧١)، مسند احمد (٣/١٠١، ١٨٤، ٢٠٤، ٢٠٥) (صحیح) دون ذکر حمنة
1313Sunan Abu Dawood

جس شخص کا وظیفہ ناغہ ہوجائے تو وہ کیا کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ الْمَعْنَى، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ، قَالَ: عَنْ ابْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ مَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ.

عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے ۔

Narrated Umar bin Al-Khattab (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: He who misses him daily round of recital or part of it due to sleep and he recites it between the dawn and the noon prayers, will be reckoned as if he recited it at night.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩١ (الجمعة ٥٦) (٥٨١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥٦ (١٧٩١، ١٧٩٢، ١٧٩٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٧ (١٣٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ٣ (٣)، مسند احمد (١/٣٢، ٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٧ (١٥١٨) (صحیح )