علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے ١ ؎۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ would offer two rakahs after every obligatory prayer except the dawn and the Asr prayer.
Notes · وضاحت
١ ؎ : رسول اللہ ﷺ نے فجر اور عصر کے بعد مسجد میں کوئی نماز سد باب کے لئے نہیں پڑھی، البتہ ظہر کے بعد کی سنت کی قضا آپ نے گھر میں کی ہے جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے، علی ؓ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنا ثابت ہے، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد نماز سے منع کیا ہے، الا یہ کہ سورج اونچا ہو (یعنی زرد نہ ہوا ہو)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٢٤) (ضعیف) (ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب ؓ بھی تھے اور میرے نزدیک عمران میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Some reliable people testified before me, and among them was Umar ibn al-Khattab, and most reliable in my eyes was Umar (RA) : The Prophet of Allah ﷺ said: There is no prayer after the dawn prayer until the sun rises; and there is no prayer after the Asr prayer until the sun sets.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المواقیت ٣٠ (٥٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٢٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠ (١٨٣)، سنن النسائی/المواقیت ٣٢ (٥٦٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٤٧ (١٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/ ١٨، ٢٠، ٢١، ٣٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٢ (١٤٧٣) (صحیح )
عمرو بن عبسہ سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک (ثواب) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہوجائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر (سورج کے پجاری) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور (ثواب) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہوجائے تو ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔ عباس کہتے ہیں: ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہوگئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔
Narrated Amr ibn Anbasah as-Sulami (RA) : I asked: Messenger of Allah, in which part of night the supplication is more likely to be accepted? He replied: In the last part: Pray as much as you like, for the prayer is attended by the angels and it is recorded till you offer the dawn prayer; then stop praying when the sun is rising till it has reached the height of one or two lances, for it rises between the two horns of the Devil, and the infidels offer prayer for it (at that time). Then pray as much as you like, because the prayer is witnessed and recorded till the shadow of a lance be- comes equal to it. Then cease prayer, for at that time the Hell-fire is heated up and doors of Hell are opened. When the sun declines, pray as much as you like, for the prayer is witnessed till you pray the afternoon prayer; then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of the Devil, and (at that time) the infidels offer prayer for it. He narrated a lengthy tradition. Abbas said: Abu Salam narrated this tradition in a similar manner from Abu Umamah. If I have made a mistake unintentionally, I beg pardon of Allah and repent to Him.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١١٩ (٣٥٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٥٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٥٢ (٨٣٢)، سنن النسائی/المواقیت ٣٩ (٥٨٥)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٢ (١٣٦٤)، مسند احمد (٤/١١١، ١١٤) (صحیح) دون قوله: ” جوف الليل “ ( جوف اللیل کا لفظ ثابت نہیں ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر ؓ نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ ﷺ باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتادیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Yasar, the client of Ibn Umar, said: Ibn Umar saw me praying after the break of dawn. He said: O Yasar, the Messenger of Allah ﷺ came to us while we were offering this prayer. He (the Prophet) said: Those who are present should inform those who are absent: Do not offer any prayer after (the break of) dawn except two rakahs.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٤ (٤١٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٨(٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ٨٥٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣، ٥٧، ١٠٤) (صحیح )
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم ﷺ عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ١ ؎۔
Al-Aswad and Masruq said: We bear witness that Aisha (RA) said: Not a day passed but the Prophet ﷺ prayed two rakahs after the Asr prayer
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہی دو رکعتیں ہیں جن کا بیان حدیث نمبر (١٢٧٣) میں گزرا، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان کا پڑھنا اپنا معمول بنا لیا تھا، یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (خود تو) عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور (دوسروں کو) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور (دوسروں کو) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Dhakwan, the client of Aisha (RA) , reported on the authority of Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to pray after the afternoon prayer but prohibited others from it; and he would fast continuously but forbid others to do so.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٧٩) (ضعیف) (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں عنعنہ سے روایت ہے )
عبداللہ مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے ، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو (راتب) سنت نہ بنالیں ١ ؎۔
Narrated Abdullah al-Muzani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Pray two rakahs before the Maghrib prayer. He then said (again): Pray two rakahs before the Maghrib prayer, it applies to those who wish to do so. That was because he feared that the people might treat it as sunnah.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنا مسنون ہے، یہی راجح اور قوی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٣٥ (١١٨٣)، والاعتصام ٢٧ (٧٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٥٥) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔
Narrated Anas bin Malik (RA) : I offered two rakahs of prayer before the Maghrib prayer (i. e. obligatory) during the time of the Messenger of Allah ﷺ . I (narrator al-Mukhtar bin Fulful) asked Anas (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ se you ? He replied: Yes, but he neither commanded us nor forbade us (to do so).
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں ١ ؎ کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے ۔
Narrated Abdullah bin Mughaffal (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: Between the two adhans there is a prayer, between the two adhans there is prayer for one who desires (to offer).
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤ (٦٢٤)، ١٦ (٦٢٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٦ (٨٣٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢ (١٨٥)، سنن النسائی/الأذان ٣٩ (٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١١٠ (١١٦٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٥٤، ٥٦، ٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥(١٤٨٠) (صحیح )
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ (ابوشعیب کے بجائے) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہوگیا ہے۔
Narrated Tawus (RA) : Ibn Umar was asked about praying two rakahs before the Maghrib prayer. He replied: I did not see anyone praying them during the time of the Messenger of Allah ﷺ . He (Ibn Umar) permitted to pray two rakahs after the Asr prayer. Abu Dawud said: I heard Yahya bin Main say: The correct name of the narrator Abu Shuaib is the Shuaib. Shubah made a mistake in narrating his name.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧١٠٤) (ضعیف) (صحیحین میں وارد پچھلی حدیث کا معارضہ شعیب یا ابو شعیب جیسے مختلف فیہ راوی کی حدیث سے نہیں کیا جاسکتا )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی (بطور شکرانے کے) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی (بیوی سے) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: (کیوں نہیں) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا ٢ ؎؟ ۔
Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ as saying: In the morning alms are due for every bone in mans body. His salutation to everyone he meets is alms, his enjoining good is alms, his forbidding what is evil is alms, the removal of harmful thing from the way is alms, to have sexual intercourse with ones wife if alms, and two rakahs which one prays in the Duha serve instead of that. Abu Dawud said: The tradition narrated by Abbad is more perfect (than the version narrated by Musaddad). Musaddad did not mention in his version the command (of good) and the prohibition (of evil). Instead, he added in his version saying: Such and such. Ibn Mana added in his version: They (the people) said: Messenger of Allah, how is that one of us fulfills his desire and still there are alms for him (i. e. is rewarded)? He replied: What do you think if you had unlawful sexual intercourse, would he not have been a sinner ?
Notes · وضاحت
١ ؎: نماز الضحیٰ کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ تک کا ذکر ہے اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے، اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے، لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ ٢/٤٠٥) اکثر علما کے نزدیک چاشت اور اشراق کی نماز ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ چاشت کی نماز اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی جب حرام جگہ سے شہوت پوری کرنے پر گنہگار ہوگا تو حلال جگہ سے پوری کرنے پر اجر و ثواب کا مستحق کیوں نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧٢٠)، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٦٧، ١٦٨) (صحیح )
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر ؓ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ (کا ثواب) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ ﷺ نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں ۔
Abu al-Aswad al-Dailani said: While we were present with Abu Dharr, he said: In the morning, alms are due for him, ever fast is alms, every pilgrimage is alms, every utterance of Glory to be Allah is alms, every utterance of Allah is most great is alms, every utterance of Praise be to Allah is alms. The Messenger of Allah ﷺ recounted all such good works. He then said: Two rakahs which one prays in the Duha serve instead of that.
معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کردی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں ۔
Narrated Muadh ibn Anas al-Juhani (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone sits in his place of prayer when he finishes the dawn prayer till he prays the two rakahs of the forenoon, saying nothing but what is good, his sins will be forgiven even if they are more than the foam of the sea.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٩) (ضعیف) (اس کے راوی زبَّان ضعیف ہیں )
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے ۔
Narrated Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: Prayer followed by a prayer with no idle talk between the two is recorded in Illiyyun.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٩٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٦٣) (حسن )
نعیم بن ہمار ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ١ ؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا ۔
Narrated Nuaym ibn Hammar (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah, the Exalted, says: Son of Adam, do not be helpless in performing four rakahs for Me at the beginning of the day: I will supply what you need till the end of it.
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء نے ان رکعتوں کو نماز الضحیٰ پر محمول کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، سنن النسائی/ الکبری الصلاة ٦٠ (٤٦٦، ٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٦، ٢٨٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٠ (١٤٩٢) (صحیح )
ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔
Narrated Umm Hani ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ prayed on the day of the Conquest (of Makkah) eight rakahs saluting after every two rakahs. Abu Dawud said: Ahmad bin Salih said that the Messenger of Allah offered prayer in the forenoon on the day of the Conquest of Makkah, and he narrated something similar. Ibn al-Sarh reported that Umm Hani said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon me. This version does not mention the prayer in the forenoon.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٧٢ (١٣٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٠) (ضعیف) (اس کے راوی عیاض ضعیف ہیں، لیکن دوسری سندوں سے ام ہانی کی صلاة الضحیٰ کی حدیث صحیح ہے، دیکھئے اگلی حدیث )
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی ؓ کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
Narrated Ibn Abi Laila (RA) : No one told us that the Prophet ﷺ had offered Duha prayer except Umm Hani. She said that the Prophet ﷺ had taken bath in her house on the day of the Conquest of Makkah and prayed eight rakahs. But no one saw him afterwards praying these rakahs.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٢ (١١٠٣)، والتھجد ٣١ (١١٧٦)، والجزیة ٩ (٣١٧١)، والغازي ٥٠ (٤٢٩٢)، والآدب ٩٤ (٦١٥١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٣٣٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥ (٤٧٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٠٧)، وقد أخرجہ: الحیض ١٦ (٣٣٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٨٧ (١٣٢٣)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٨)، مسند احمد (٦/٣٤١، ٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) (صحیح )
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ ﷺ دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ١ ؎۔
Narrated Abdullah bin Shaqiq: I asked Aisha (RA) : Did the Messenger of Allah ﷺ pray in the Duha? She replied: No, except when he returned from his journey. I then asked: Did the Messenger of Allah ﷺ recite the surahs combining each other? She said: He would do so in the mufassal surahs.
Notes · وضاحت
١ ؎: ” سورة الحجرات “ سے ” سورة الناس “ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٧)، سنن النسائی/الصیام ١٩ (٢١٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧١، ٢٠٤، ٢١٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ ﷺ بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : The Messenger of Allah ﷺ never offered prayer in the forenoon, but I offer it. The Messenger of Allah ﷺ would give up an action, though he liked it to do, lest the people should continue it and it is prescribed for them.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٥ (١١٢٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٧١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٩)، مسند احمد (٦/٨٥، ٨٦، ١٦٧، ١٦٩، ٢٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٢ (١٤٩) (صحیح )