نماز کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 2 · 1,086 hadiths · Page 44 of 55

1254Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔

Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was more particular about observing the supererogatory rakahs before the dawn prayer than about observing any of the other supererogatory prayers.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/صلاة اللیل ٢٧ (١١٦٩)، صحیح مسلم/السافرین ١٤(٧٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٥٤، ١٧٠) (صحیح )
1255Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ: هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ؟.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورة فاتحہ پڑھی ہے؟

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ would pray two rakahs before the dawn prayer lightly so much so that I would say: Did he recite Surah al-Fatihah in them.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٨ (١١٧١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٠ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٧٩١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٠، ٤٩، ١٠٠، ١٦٥، ١٨٣، ١٨٦، ٢٣٥) (صحیح )
1256Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ would recite in both rakahs of the dawn prayer: Say, O unbelievers and Say: He is Allah, the one

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٩ (٩٤٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٢ (١١٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٣٨) (صحیح )
1257Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا.

عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال ؓ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے انہیں کسی بات میں مشغول کرلیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہوگئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہوگئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا ، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کردی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہوجاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا ۔

Narrated Bilal (RA) : Ziyadah al-Kindi reported on the authority of Bilal that he (Bilal) came to the Messenger of Allah ﷺ to inform him about the dawn prayer. Aisha (RA) kept Bilal engaged in a matter which she asked him till the day was bright and it became fairly light. Bilal then stood up and called him to prayer and called him repeatedly. The Messenger of Allah ﷺ did not yet come out. When he came out, he led the people in prayer and he (Bilal) informed him that Aisha (RA) had kept him engaged in a matter which she asked him till it became fairly light; hence he became late in reaching him (in time). He (Bilal) said: Messenger of Allah, the dawn became fairly bright. He said: If the dawn became brighter than it is now, I would pray them (the two rakahs of the sunnah prayer), offer them well and in a more beautiful manner.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٤) (صحیح )
1258Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ ابْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سَيْلَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not omit them (the two rakahs before the dawn prayer) even if you are driven away by the horses.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٥) (ضعیف) (اس کے راوی ابن سیلان لین الحدیث ہیں )
1259Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا سورة البقرة آية 136 هَذِهِ الْآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 52.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ ﷺ اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ آمنا بالله وما أنزل إلينا ١ ؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون ٢ ؎ پڑھتے۔

Narrated Abdullah bin Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite in both rakahs of the dawn prayer: Say: We believe in Allah and in the revelation given to us (3: 84). This is in the first rakah and in the second rakah (he recited): We believe in Allah and bear witness that we submit ourself (to Him). (3: 52).

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة البقرة: (١٣٦) وضاحت: سورة آل عمران: (٥٢ )
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٤(٧٢٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٨ (٩٤٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٠، ٢٣١) (صحیح )
1260Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا سورة آل عمران آية 84 فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى بِهَذِهِ الْآيَةِ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ سورة آل عمران آية 53 أَوْ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ سورة البقرة آية 119. شَكَّ الدَّارَوَرْدِيُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ قل آمنا بالله وما أنزل علينا ١ ؎ اور دوسری رکعت میں ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاکتبنا مع الشاهدين ٢ ؎ یا إنا أرسلناک بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم ٣ ؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : That he heard the Prophet ﷺ recite in both rakahs of the dawn: Say: We believe in Allah, and in the revelation given to us (3: 84). This is in the first rakah. In the second rakah he recited this verse: Our Lord, we have believed in what You have sent down, and we follow the Messenger, so write us down among those who bear witness. or he recited: Surely, we have sent you with the truth as a bringer of glad tidings, and a warner. And you will not be asked about the inhabitants of the Blazing Fire (2: 119). Al-Darawardi doubted (which of the verse he recited).

Notes · وضاحت
وضاحت: سورة آل عمران: (٨٤) وضاحت: سورة آل عمران: (٥٣) وضاحت: سورة البقرة: (١١٩ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٩٢٦) (حسن )
1261Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا ؟.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے ، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے جواب دیا: نہیں، تو پھر یہ خبر ابن عمر ؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے (کثرت سے روایت کر کے) خود پر زیادتی کی ہے (اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہوگا) ، وہ کہتے ہیں: ابن عمر سے پوچھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ ؓ (روایت کثرت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If any of you prays two rakahs before the dawn prayer, he should lie at his right side. Marwan ibn al-Hakam said to him: Is it not enough that one of us walks to the mosque until he lies at his right side? According to the version of Ubaydullah, he (Abu Hurairah) replied: No. This statement (of Abu Hurairah) reached Ibn Umar. He said: Abu Hurairah exceed limits on himself. He was asked: Do you look askance at what he says? He replied: No, but he dared and we showed cowardice. This (criticism of Ibn Umar) reached Abu Hurairah. He said: What is my sin if I remembered and they forgot?

Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی، ابن حبان (٢٤٥٩) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم ﷺ کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ ؓ نے رسول اکرم ﷺ کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابوہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ ؓ سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہوجائے گی، ابوہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، و صحیح ابی داود للألبانی ٤ ؍ ٤٢٩ )
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٥ (٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤١٥) (صحیح )
1262Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔

Narrated Aisha (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer late in the night, he would see. If I was awake, he would talk to me. If I was sleeping, he would awaken me, and pray two rakahs, then he would lie down as long as the muadhdhin came to him and call him for the dawn prayer. Then he would pray two rakahs lightly and come out for prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ٢٤ (١١٦١)، ٢٥ (١١٦٢)، ٢٦ (١١٦٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٧ (٤١٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٧١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٥)، وانظر ما یأتي برقم (١٣٣٥) (صحیح) (فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیسا کہ صحیحین کی روایتوں میں ہے )
1263Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَه ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَو، غَيْرُهُ، عَن أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْعَائِشَةُكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي.

ابوسلمہ ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Prophet ﷺ prayed the two rakahs of the dawn prayer, he would lie down if I was asleep; in case I was awake, he would talk to me.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٣)، وفیہ ” زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب “ بلا شک (تحفة الأشراف: ١٧٧٠٧، ١٧٧٣٢) (صحیح لغیرہ) ( حدیث نمبر ١٣٣٦ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے )
1264Sunan Abu Dawood

فجر کی سنتوں کے بعد لیٹنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِفَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ. قَالَ زِيَادٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر کے لیے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔ زیاد کی روایت میں حدثنا أبو الفضل کے بجائے حدثنا أبو الفضيل ہے۔

Narrated Abu Bakrah (RA) : I came out with the Prophet ﷺ to offer the dawn prayer. When he passed by a sleeping man he called him for prayer or moved him with his foot. The narrator Ziyad said: This tradition has been reported to us by AbulFadl.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی ابو الفضل انصاری مجہول ہیں )
1265Sunan Abu Dawood

اگر فجر کی جماعت ہو رہی ہو تو اس وقت سنتیں نہ پڑھے

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا فُلَانُ، أَيَّتُهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا ؟.

عبداللہ بن سرجس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم ﷺ فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: اے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ١ ؎؟ ۔

Narrated Abdullah bin Sarjas (RA) : A man came while the Prophet ﷺ was leading the people in the dawn prayer. He prayed the two rakahs and then joined the congregational prayer led by the Prophet ﷺ . When he finished the prayer, the Prophet ﷺ said: So-and-so, which was your real prayer, the one you prayed alone or the one offered with us ?

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ امام کو جس حالت میں بھی پائے اس کے ساتھ جماعت میں شریک ہوجائے اور اس وقت سنت نہ پڑھے خواہ وہ فجر ہی کی سنت کیوں نہ ہو، اور سنت کی دو رکعت فرض کی نماز کے بعد پڑھ لے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٢)، سنن النسائی/الإمامة ٦١ (٨٦٩)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٣ (١١٥٢)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٢) (صحیح )
1266Sunan Abu Dawood

اگر فجر کی جماعت ہو رہی ہو تو اس وقت سنتیں نہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ. ح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ. ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَكُلُّهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہوجائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: When the iqamah is pronounced for prayer, no prayer is valid except the obligatory prayer.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٦ (٤٢١)، سنن النسائی/الإمامة ٦٠ (٨٦٦)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٣ (١١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣١، ٣٥٢، ٤٥٥، ٥١٧، ٥٣١)، دي /الصلاة ١٤٩ (١٤٨٨، ١٤٩١) (صحیح )
1267Sunan Abu Dawood

اگر فجر کی سنتیں فوت ہوجائیں تو ان کو کب ادا کیا جائے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

قیس بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہوجانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: فجر دو ہی رکعت ہے ، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔

Narrated Qays ibn Amr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a person praying after the congregational prayer at dawn was over. The Messenger of Allah ﷺ said: There are two rakahs of the dawn prayer (i. e. the prescribed rakahs). The man replied: I did not pray the two rakahs before the dawn prayer. Hence I offered them now. The Messenger of Allah kept silent.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٧ (٤٢٢)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٤(١١٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤٧) (صحیح )
1268Sunan Abu Dawood

اگر فجر کی سنتیں فوت ہوجائیں تو ان کو کب ادا کیا جائے

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا، أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ.

اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔

This tradition has also been transmitted by Ata bin Abi Rabah on the authority of Saad bin Saeed through a different chain of narrators. Abu Dawud said: Abd Rabbihi and Yahya bin Saeed also narrated this tradition from the Prophet ﷺ omitting the name of the Companion (mursal). Their grandfather Zaid prayed along with the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١١٠٢) (صحیح) (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے )
1269Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد چار رکعت نفل پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرُمَ عَلَى النَّارِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْعَلَاءُ بْنُ الْحَارِثِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.

ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے علاء بن حارث اور سلیمان بن موسیٰ نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

Narrated Umm Habibah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone keeps on praying regularly four rakahs before and four after the noon prayer, he will not enter the Hell-fire. Abu Dawud said: Al-Ala bin Al-Harith and Sulaiman bin Musa reported it from Makhul with his chain, similarly.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٥٧ (١٨١٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٦٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١ ٢٠ (٤٢٧)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٨ (١١٦٠)، مسند احمد (٦/٣٢٦) (صحیح )
1270Sunan Abu Dawood

ظہر کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد چار رکعت نفل پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ مِنْجَابَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ: لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْءٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: ابْنُ مِنْجَابٍ هُوَ سَهْمٌ.

ابوایوب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔

Narrated Abu Ayyub (RA) : The Prophet ﷺ said: The gates of heaven are opened for four rakahs containing no taslim (salutation) before the noon prayer. Abu Dawud said: Yahya bin Saeed al-Qattan said: If I were to narrate any tradition from Ubaidah, I would narrate this tradition. Abu Dawud said: Ubaidah is weak. Abu Dawud said: The name of the narrator Ibn Minjab is Sahm.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٠٥ (١١٥٧)، سنن الترمذی/ الشمائل (٢٩٣، ٢٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١٦، ٤١٧، ٤٢٠) (ضعیف) (اس کے راوی عبیدہ بن متعب ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألباني 125 ).
1271Sunan Abu Dawood

عصر سے پہلے نفل پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ١ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: May Allah show mercy to a man who prays four rakahs before the afternoon prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عام نفل نماز میں سے ہے، اس کا شمار سنن رواتب میں نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢ ٢٠ (٤٣٠)، (تحفة الأشراف: ٧٤٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٧) (حسن )
1272Sunan Abu Dawood

عصر سے پہلے نفل پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔

Narrated Ali (RA) : That the Prophet ﷺ used to pray two rakahs before the Asr prayer.

Notes · وضاحت
١ ؎: ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے چار رکعتیں نفل پڑھتے تھے، لیکن تشہد کے ذریعہ فصل کرتے تھے اور سلام ایک ہی ہوتا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠١٤٠) (حسن) (لكن بلفظ: ” أربع رکعات “ كما عند الترمذي في الصلاة 202 )
1273Sunan Abu Dawood

عصر کے بعد نفل پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍمَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْهُمَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْأُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ، فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر ؓ اور مسور بن مخرمہ ؓ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے منع فرمایا ہے، چناچہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتادی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہوجا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا: اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کرلیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں ۔

Narrated Kuraib, the client of Ibn Abbas (RA) : That Abdullah bin Abbas, Abdur-Rahman bin Azhar and al-Miswar bin Makhramah sent him to Aisha (RA) , wife of the Prophet ﷺ . They said: Convey our regards to her from all of us and ask her about the two rakahs after the Asr prayer, and tell her that we have been informed that she prays them, and we are told that the Messenger of Allah ﷺ prohibited them. I entered upon her and told her that for which they had sent me to her. She said: Ask Umm Salamah. I returned to them (Ibn Abbas and others) and informed them about her opinion. They sent me back to Umm Salamah with the same mission for which they had sent me to Aisha (RA) . Umm Salamah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting them, but later on I saw him praying them. When he prayed them, he had offered the Asr prayer. He then came to me while a number of women from Banu Haram from the Ansar were sitting with me. He prayed these two rakahs. I sent a slave girl to him and I told her: Stand beside him and tell him that Umm Salamah has asked: Messenger of Allah ﷺ , I heard you prohibiting these two rakahs (after the afternoon prayer) but I see you praying them yourself. If he makes a sign with his hand, step backward from him. The slave girl did so. When he finished prayer, he said: O daughter of Abu Umayyah, you asked about the praying of two rakahs after the Asr prayer, in fact, some people of Abd al-Qais has come to me with the news that their people had embraced Islam. They hindered me from praying the two rakahs after Zuhr prayer. It is those two rakahs (which I offered after the Asr prayer)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السھو ٨ (١٢٣٣)، المغازي ٦٩ (٤٣٧٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٤ (٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧١، ١٨٢٠٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت ٣٥ (٥٨٠)، مسند احمد (٦/٣٠٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٣ (١٤٧٦) (صحیح )