کعب الایادی کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء کے پاس آتا جاتا تھا تو ابو الدرداء نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے تو آپ (کسی کام سے جانے کے لیے) کھڑے ہوتے اور لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی جوتیاں اتار کر رکھ جاتے یا اور کوئی چیز رکھ جاتے جو آپ کے پاس ہوتی، اس سے آپ کے اصحاب سمجھ لیتے تو وہ ٹھہرے رہتے۔
Narrated Abud Darda: The Messenger of Allah ﷺ would sit and we would also sit around him. If he got up intending to return, he would take off his sandals or something he was wearing, and his Companions recognising his purpose (that he would return) would stay where they were.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لوگ بھی بغیر اللہ کو یاد کئے کسی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے ہوں تو وہ ایسی مجلس سے اٹھے ہوتے ہیں جو بدبو میں مرے ہوئے گدھے کی لاش کی طرح ہوتی ہے، اور وہ مجلس ان کے لیے (قیامت کے روز) باعث حسرت ہوگی ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: People who get up from an assembly in which they did not remember Allah will be just as if they had got up from an asss corpse, and it will be a cause of grief to them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٢٥٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥١٥، ٥٢٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہوگا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone sits at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah; and if he lies at a place where he does not remember Allah, deprivation will descend on him from Allah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٨ (٣٣٨٠)، مسند احمد (٢/٤٣٢، ٤٥٢، ٤٨١، ٤٨٤) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے (ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں سبحانک اللهم وبحمدک لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك اے اللہ! تو پاک ہے، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: There are some expressions which a man utters three times when he gets up from an assembly he will be forgiven for what happened in the assembly; and no one utters them in an assembly held for a noble cause or for remembrance of Allah but that is stamped with them just as a document is stamped with a signet-ring. These expressions are: Glory be to Thee, O Allah, and I begin with praise of Thee, there is no god but thou; I ask Thy pardon, and return to Thee in repentance.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٩٨١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٣٩ (٣٤٢٩)، مسند احمد (٢/٤٩٤) (صحیح) دون قولہ: ثلاث مرات
ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہوجاتی ہیں ۔
Narrated Abu Barzah al-Aslami (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ intended to get up from the assembly he used to say in the last. Glory be to Thee. O Allah, and I begin with praise of Thee, I testify that there is no god but Thou; I ask Thy pardon, and return to Thee in repentance. The man asked: Messenger of Allah! you utter the words now which you did not do in the past? He replied: (This is an) atonement for what takes place in the assembly.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٦٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٥)، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٩ (٢٧٠٠) (حسن صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کوئی کسی کے بارے میں کوئی شکایت مجھ تک نہ پہنچائے، اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں (گھر سے) نکل کر تمہاری طرف آؤں، تو میرا سینہ صاف ہو (یعنی کسی کی طرف سے میرے دل کوئی میں کدورت نہ ہو) ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: None of my Companions must tell me anything about anyone, for I like to come out to you with no ill-feelings.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المناقب ٦٤ (٣٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ٩٢٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٩٦) (ضعیف) (زید بن زائد یا زائدہ لین الحدیث ہیں )
عمرو بن فغواء خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: کوئی اور ساتھی تلاش کرلو ، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا: جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ تمہارا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو اس سے مامون نہ رہو ، چناچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا: میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا: جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کردیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا: ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔
Narrated Amr ibn al-Faghwa al-Khuzai (RA) : The Messenger of Allah ﷺ called me. He intended to send me with some goods to Abu Sufyan to distribute among the Quraysh at Makkah after the conquest. He said: Search for a companion. Then Amr ibn Umayyah ad-Damri came to me and said: I have been told that you are intending to make a journey and are seeking a companion. I said: Yes. He said: I am your companion. I then went to the Messenger of Allah ﷺ and said: I have found a companion. He asked: Who is he? I replied: Amr ibn Umayyah ad-Damri. He said: When you come down to the territory of his people, be careful of him, for a maxim says: If one is your real brother, do not feel safe with him. So we proceeded, and when I reached al-Abwa, he said to me: I have some work with my people at Waddan, so stay here till I come back. I said: Do not lose your way. When he turned his back, I recalled the words of the Prophet ﷺ . So I rode my camel and galloped without stopping. When I reached al-Asafir, he was pursuing me with a group of men. So I galloped and forged ahead of him. When he saw me that I had outstripped him, they returned and he came to me. He said to me: I had some work with my people. I said: Yes. We then went on until we reached Makkah, and I gave the goods to Abu Sufyan.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٩) (ضعیف )
سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کو کیسا دیکھا؟ وہ کہا: آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔
Saeed al-Jariri quoted Abu al-Tufail as saying: I saw the Messenger of Allah ﷺ . I asked: How did you see him? He said: He was white, good-looking, and when he walked, it looked as if he was descending to a low ground.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٨ (٢٣٤٠)، سنن الترمذی/الشمائل (١٤)، (تحفة الأشراف: ٥٠٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٥٤) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں أن يضع کے بجائے أن يرفع کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو ۔
Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ forbade that a man should lie placing (and according to Qutaibah’s version: “should raise”) one of his legs over the other. Qutaibah’s version adds: When he was lying on his back.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٠ (٢٠٩٩)، سنن الترمذی/الأدب ٢٠ (٢٧٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٦٩٢، ٢٩٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٦٢، ٣٦٧) (صحیح )
عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا ١ ؎۔
Abbad bin Tamim quoted his paternal uncle as saying that he had seen the Messenger of Allah ﷺ lying on his back in the mosque according to Qanabi’s version) placing one foot over the other.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں بظاہر تعارض ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب لنگی ( ازار) تنگ ہو، اور ایسا کرنے سے ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، اور اگر ازار کشادہ ہو، اور ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہو تو درست ہے، یا دونوں پیر پھیلا کر ایسا کرنا درست ہے، کیونکہ اس صورت میں ستر کھلنے کا اندیشہ نہیں رہتا، البتہ ایک پیر کو کھڑا کر کے دوسرے کو کھڑے پر رکھنا درست نہیں کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے (اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے) ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: When a man tells something and then departs, it is a trust.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٣٩ (١٩٥٩)، (تحفة الأشراف: ٢٣٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٤، ٣٥٢، ٣٧٩، ٣٩٤) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں (یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے) سوائے تین مجلسوں کے، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ١ ؎۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: Meetings are confidential except three: those for the purpose of shedding blood unlawfully, or committing fornication, or acquiring property unjustly.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان تینوں صورتوں میں سننے والے کے لئے اس کا چھپانا جائز نہیں، بلکہ اس کا افشاء برائی کے دفعیہ کے لیے ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٢) (ضعیف )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ (بیوی) اس سے ملے پھر وہ (مرد) اس کا راز فاش کرے ۔
Abu Saeed Al-khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The most serious breach of trust in Allah’s sight is that a man who has intercourse with his wife, and she with him, spreads her secret.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٢١ (١٤٣٧)، (تحفة الأشراف: ٤١١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٦٩) (ضعیف )
ابوہریرہ ؓ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں برا وہ شخص ہے جو دورخا ہو، ان کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہو اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کرجاتا ہو ۔
Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: The worst of the people is a man who is double-faced; he present one face to some and another to others.