ادب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 38 · 493 hadiths · Page 6 of 26

4874Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُ ؟ قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ، قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا ۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ was asked: Messenger of Allah! What is back-biting? He replied: it is saying something about your brother which he would dislike. He was asked again: Tell me how the matter stands if what I say about my brother is true? He replied: if what you say of him is true, you have slandered him is true you have slandered him, and if what you say of him is not true, you have reviled him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٢٣ (١٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ٢٠ (٢٥٨٩)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٤٥٨)، سنن الدارمی/الرقاق ٦ (٢٧٥٦) (صحیح )
4875Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: غَيْرُ مُسَدَّدٍ تَعْنِي قَصِيرَةً، فَقَالَ لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ لَمَزَجَتْهُ، قَالَتْ: وَحَكَيْتُ لَهُ إِنْسَانًا، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ إِنْسَانًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: آپ کے لیے تو صفیہ ؓ کا یہ اور یہ عیب ہی کافی ہے، یعنی پستہ قد ہونا تو آپ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس پر بھی غالب آجائے اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا (مال) ہو ۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : I said to the Prophet ﷺ : It is enough for you in Safiyyah that she is such and such (the other version than Musaddads has:) meaning that she was short-statured. He replied; You have said a word which would change the sea if it were mixed in it. She said: I imitated a man before him (out of disgrace). He said: I do not like that I imitate anyone even if I should get such and such.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٥١ (٢٥٠٢، ٢٥٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٢٨، ١٣٦، ١٨٩، ٢٠٦) (صحیح )
4876Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنَا نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنْ أَرْبَى الرِّبَا الِاسْتِطَالَةَ فِي عِرْضِ الْمُسْلِمِ بِغَيْرِ حَقٍّ.

سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بےعزتی کرے ۔

Narrated Saeed ibn Zayd: The Prophet ﷺ said: The most prevalent kind of usury is going to lengths in talking unjustly against a Muslims honour.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٤٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٠) (صحیح )
4877Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ اسْتِطَالَةَ الْمَرْءِ فِي عِرْضِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ وَمِنَ الْكَبَائِرِ السَّبَّتَانِ بِالسَّبَّةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بےعزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The gravest sin is going to lengths in talking unjustly against a Muslims honour, and it is a major sin to abuse twice for abusing once.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٠٢٠) (ضعیف )
4878Sunan Abu Dawood(4879)

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا عُرِجَ بِي مَرَرْتُ بِقَوْمٍ لَهُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ يَخْمُشُونَ وُجُوهَهُمْ وَصُدُورَهُمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَيَقَعُونَ فِي أَعْرَاضِهِمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ لَيْسَ فِيهِ أَنَسٌ. حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) اور ان کی بےعزتی کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں انس موجود نہیں ہیں۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: When I was taken up to heaven I passed by people who had nails of copper and were scratching their faces and their breasts. I said: Who are these people, Gabriel? He replied: They are those who were given to back biting and who aspersed peoples honour. Abu Dawud said: Yahya bin Uthman has also transmitted it from Baqiyyah, there is no mention of Anas in it. This tradition has also been transmitted by ‘Isa bin Abi ‘Isa al-sailahini from Abu al-Mughirah, as Ibn al-musaffa said.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٢٤) (صحیح ) ابومغیرہ سے بھی اسی طرح مروی ہے جیسا کہ ابن مصفیٰ نے روایت کیا ہے۔ انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ٨٢٨ )
4880Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ.

ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی زبان سے اور حال یہ ہے کہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا ۔

Narrated Abu Barzah al-Aslami (RA) : The Prophet ﷺ said: O community of people, who believed by their tongue, and belief did not enter their hearts, do not back-bite Muslims, and do not search for their faults, for if anyone searches for their faults, Allah will search for his fault, and if Allah searches for the fault of anyone, He disgraces him in his house.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٠، ٤٢١) (حسن صحیح )
4881Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَقَّاصِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْالْمُسْتَوْرِدِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ كُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

مستورد ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک نوالا کھائے گا تو اس کو اللہ اتنا ہی جہنم سے کھلائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک کپڑا پہنے گا تو اللہ اسے اسی جیسا لباس جہنم میں پہنائے گا، اور جو شخص کسی شخص کو شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچائے گا تو قیامت کے دن اللہ اسے خوب شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچا دے گا (یعنی اس کی ایسی رسوائی ہوگی کہ سارے لوگوں میں اس کا چرچا ہوگا) ۔

Narrated Al-Mustawrid: The Prophet ﷺ said: If anyone eats once at the cost of a Muslims honour, Allah will give him a like amount of Jahannam to eat; if anyone clothes himself with a garment at the cost of a Muslims honour, Allah will clothe him with like amount of Jahannam; and if anyone puts himself in a position of reputation and show Allah will disgrace him with a place of reputation and show on the Day of Resurrection.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٢٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٩) (صحیح )
4882Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ مَالُهُ وَعِرْضُهُ وَدَمُهُ حَسْبُ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Everything of a Muslim is sacred to a Muslim: his property, honour and blood. It is enough evil for any man to despise his brother Muslim.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ١٨ (١٩٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٣١٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ١٠ (٢٥٦٤)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٣ (٤٢١٣) (صحیح )
4883Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ يَحْيَى الْمُعَافِرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ أُرَاهُ، قَالَ: بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ.

معاذ بن انس جہنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے۔

Narrated Muadh ibn Anas (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone guards a believer from a hypocrite, Allah will send an angel who will guard his flesh on the Day of Resurrection from the fire of Jahannam; but if anyone attacks a Muslim saying something by which he wishes to disgrace him, he will be restrained by Allah on the bridge over Jahannam till he is acquitted of what he said.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٢٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤١) (حسن )
4884Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ إِسْمَاعِيل بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبَا طَلْحَةَ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنَ امْرِئٍ يَخْذُلُ امْرَأً مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ تُنْتَهَكُ فِيهِ حُرْمَتُهُ وَيُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ إِلَّا خَذَلَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ فِيهِ نُصْرَتَهُ، وَمَا مِنَ امْرِئٍ يَنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ يُنْتَقَصُ فِيهِ مِنْ عِرْضِهِ وَيُنْتَهَكُ فِيهِ مِنْ حُرْمَتِهِ إِلَّا نَصَرَهُ اللَّهُ فِي مَوْطِنٍ يُحِبُّ نُصْرَتَهُقَالَ يَحْيَى: وَحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَعُقْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا هُوَ ابْنُ زَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِسْمَاعِيل بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قِيلَ عُتْبَةُ بْنُ شَدَّادٍ مَوْضِعَ عُقْبَةَ.

جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بےعزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آرہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہوگی ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah ; Abu Talhah ibn Sahl al-Ansari (RA) : The Prophet ﷺ said: No (Muslim) man will desert a man who is a Muslim in a place where his respect may be violated and his honour aspersed without Allah deserting him in a place here he wishes his help; and no (Muslim) man who will help a Muslim in a place where his honour may be aspersed and his respect violated without Allah helping him in a place where he wishes his help. Yahya said: Ubaid Allah bin Abdullah bin Umar (RA) and Uqbah bin Shaddad transmitted it to me. Abu Dawud said: This Yahya bin Sulaim is the son of Zaid, the freed slave of the Prophet ﷺ , and Ismail bin Bashir is the freed slave of Banu Maghalah. Sometimes the name of Utbah bin Shaddad is mentioned instead of Uqbah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٢١٤، ٣٧٦٩، ١٩١٠١، ١٨٩٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٠) (ضعیف) ( آخری ٹکڑا فقال رسول+اللہ+صلی+اللہ+علیہ+وسلم سے آخر تک ضعیف ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے، ابوہریرہ رضی+اللہ+عنہ کی اس معنی کی ( ٣٨٠) نمبر کی حدیث گزر چکی ہے )۔
4885Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى مَا قَالَ، قَالُوا: بَلَى.

ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے جندب ؓ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر (یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے ۔

Narrated Jundub (RA) : A desert Arab came and making his camel kneel and tethering it, entered the mosque and prayed behind the Messenger of Allah ﷺ . When The Messenger of Allah ﷺ had given the salutation, he went to his riding beast and, after untethering and riding it, he called out: O Allah, show mercy to me and to Muhammad and associate no one else in Thy mercy to us. The Messenger of Allah ﷺ then said: Do you think that he or his camel is farther astray? Did you not listen to what he said? They replied: Certainly.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٢٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٢) (ضعیف )
4886Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَيْغَمٍ أَوْ ضَمْضَمٍ شَكَّ ابْنُ عُبَيْدٍ كَانَ إِذَا أَصْبَحَ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِعِرْضِي عَلَى عِبَادِكَ.

قتادہ کہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص ابوضیغم یا ضمضم کی طرح ہونے سے عاجز ہے، وہ جب صبح کرتے تو کہتے: اے اللہ میں نے اپنی عزت و آبرو کو تیرے بندوں پر صدقہ کردیا ہے۔

Narrated Qatadah (RA) : Is one of you helpless to be like AbuDaygham or Damdam (Ibn Ubayd is doubtful) who would say when morning came: O Allah, I gave my honour as alms to Thy servants?

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٧) (صحیح )
4887Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَمْضَمٍ، قَالُوا: وَمَنْ أَبُو ضَمْضَمٍ، قَالَ: رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: عِرْضِي لِمَنْ شَتَمَنِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيِّ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ.

عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( عرضي على عبادک ) کے بجائے ( عرضي لمن شتمني ) (میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔

Abdur-Rahman bin ‘Ajlan reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Is one of you unable to be like Abu Damdam? The people asked: who is Abu Damdam? He replied: A man of old before you. He then mentioned the rest of tradition to the tradition to the same effect. This version has: who would say (in the morning): My honors is for the one who reviles me. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hashim bin al-Qasim from Muhammad bin Adb Allah al-Ammi from Thabit on the authority of Anas from Prophet ﷺ to the same effect. Abu Dawud said: The tradition of Hammad (i. e. Abdur-Rahmans version) is sounder.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٧، ١٩٢١٥) (ضعیف) (اس کے ضعیف ہونے کی وجہ ارسال ہے، تابعی یعنی ابن عجلان نے واسطہ ذکر نہیں کیا، اور وہ خود مجہول الحال ہیں )
4888Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ أَوْ كِدْتَ أَنْ تُفْسِدَهُمْ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعَهَا مُعَاوِيَةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَفَعَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا.

معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ١ ؎۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔

Narrated Muawiyah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If you search for the faults of the people, you will corrupt them, or will nearly corrupt them. Abud Darda said: These are the words which Muawiyah himself from the Messenger of Allah ﷺ , and Allah benefited him by them.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ راز فاش ہوجانے کی صورت میں ان کی جھجھک ختم ہوجائے گی، اور وہ کھلم کھلا گناہ کرنے لگیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٤١٣) (صحیح )
4889Sunan Abu Dawood

ابن صیاد کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، وَعَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ، وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، وأبي أمامة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ.

جبیر بن نفیر، کثیر بن مرہ، عمرو بن اسود، مقدام بن معد یکرب اور ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حاکم جب لوگوں کے معاملات میں بدگمانی اور تہمت پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا ۔

Narrated Miqdam ibn Madikarib ; Abu Umamah (RA) : The Prophet ﷺ said: When a ruler seeks to make imputations against the people, he corrupts them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٦، ١٨٤٧٢، ١٩١٥٨، ١٩٢٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤) (صحیح لغیرہ) (اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے )
4890Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقِيلَ: هَذَا فُلَانٌ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنِ التَّجَسُّسِ وَلَكِنْ إِنْ يَظْهَرْ لَنَا شَيْءٌ نَأْخُذْ بِهِ.

زید بن وہب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس کسی آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے جس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے تو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) نے کہا: ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے، ہاں البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آئے تو ہم اسے پکڑیں گے۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Zayd ibn Wahb said: A man was brought to Ibn Masud. He was told: This is so and so, and wine was dropping from his beard. Abdullah thereupon said: We have been prohibited to seek out (faults). If anything becomes manifest to us, we shall seize it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٢٣٠) (صحیح الإسناد )
4891Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet ﷺ said: He who sees something which should be kept hidden and conceals it will be like one who has brought to life a girl buried alive.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٧) (ضعیف )
4892Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْهَيْثَمِ يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ دُخَيْنًا كَاتِبَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ لَنَا جِيرَانٌ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَنَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا، فَقُلْتُ لِعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: إِنَّ جِيرَانَنَا هَؤُلَاءِ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَإِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا فَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ، فَقَالَ: دَعْهُمْ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى عُقْبَةَ مَرَّةً أُخْرَى، فَقُلْتُ: إِنَّ جِيرَانَنَا قَدْ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ، قَالَ: وَيْحَكَ دَعْهُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسْلِمٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ: عَنْ لَيْثٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ.

عقبہ بن عامر ؓ کے منشی (سکریٹری) دخین کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے تھے، میں نے انہیں منع کیا تو وہ باز نہیں آئے، چناچہ میں نے عقبہ بن عامر سے کہا کہ ہمارے یہ پڑوسی شراب پیتے ہیں، ہم نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آئے، لہٰذا اب میں ان کے لیے پولیس کو بلاؤں گا، تو انہوں نے کہا: انہیں چھوڑ دو، پھر میں دوبارہ عقبہ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے ان سے کہا: میرے پڑوسیوں نے شراب پینے سے باز آنے سے انکار کردیا ہے، اور اب میں ان کے لیے پولیس بلانے والا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، انہیں چھوڑ دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے ... پھر انہوں نے مسلم جیسی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہاشم بن قاسم نے کہا کہ اس حدیث میں لیث سے اس طرح روایت ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ کہا: ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت کرو اور انہیں دھمکاؤ ۔

Narrated Uqbah ibn Amir: AbulHaytham quoted Dukhayn, the scribe of Uqbah ibn Amir, saying: We had some neighbours who used to drink wine. I for them, but they did not stop. I then said to Uqbah ibn Amir: These neighbours of ours drink wine, and I tried to prevent them but they did not stop, and I am going to call the police about them. He said: Leave them. I again came to Uqbah ibn Amir and said: Our neighbours have refused to refrain from drinking wine, and I am going to call the police for them. He said: Woe to thee! Leave them alone. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: he then mentioned the tradition to the same effect as recorded above on the authority of the narrator Muslim. Abu Dawud said: In this version Hashim bin al-Qasim said on the authority of Laith: Do not do it, but preach them and threaten them.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (٤/١٥٣، ١٥٨)، (تحفة الأشراف: ٩٩٢٤) (ضعیف )
4893Sunan Abu Dawood

بھائی چارہ اور اخوت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ فَإِنَّ اللَّهَ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔

Abdullah bin Umar (RA) reported the prophet ﷺ as saying: A Muslim is a Muslim’s brother: he does not wrong him or abandon him. If anyone cares for his brother’s need, Allah will care for his need ; if anyone removes a Muslim’s anxiety, Allah will remove from him, on account of it, one of the anxieties of the Day of resurrection ; and if anyone conceals a Muslim’s fault, Allah will conceal his fault on the Day of resurrection.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٣ (٢٤٤٢)، الإکراہ ٧ (٦٩٥١)، صحیح مسلم/البر والصلة ١٥(٢٥٨٠)، سنن الترمذی/الحدود ٣ (١٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ٦٨٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩١) (صحیح )
4894Sunan Abu Dawood

گالم گلوچ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُسْتَبَّانِ: مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہوگا جس نے ابتداء کی ہوگی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے (اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہوگا) ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when two men abuse one another, what they say is laid to the charge of the one who began it, so long as the one who is wronged does not go over the score.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٥١ (١٩٨١)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ١٨ (٢٥٨٧) (صحیح )