کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ رَأَى عَوْرَةً فَسَتَرَهَا كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً.
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو ۔
Narrated Uqbah ibn Amir: The Prophet ﷺ said: He who sees something which should be kept hidden and conceals it will be like one who has brought to life a girl buried alive.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٩٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٧) (ضعیف )