کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقِيلَ: هَذَا فُلَانٌ تَقْطُرُ لِحْيَتُهُ خَمْرًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنِ التَّجَسُّسِ وَلَكِنْ إِنْ يَظْهَرْ لَنَا شَيْءٌ نَأْخُذْ بِهِ.
زید بن وہب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس کسی آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے جس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے تو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) نے کہا: ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے، ہاں البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آئے تو ہم اسے پکڑیں گے۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : Zayd ibn Wahb said: A man was brought to Ibn Masud. He was told: This is so and so, and wine was dropping from his beard. Abdullah thereupon said: We have been prohibited to seek out (faults). If anything becomes manifest to us, we shall seize it.