عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے ۔
Narrated Iyad ibn Himar (al-Mujashii): The Prophet ﷺ said: Allah has revealed to me that you must be humble, so that no one oppresses another and boasts over another.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٦ (٤١٧٩)، (تحفة الأشراف: ١١٠١٦) (صحیح )
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر ؓ سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، ابوبکر ؓ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابوبکر ؓ نے اس سے بدلہ لے، جب ابوبکر ؓ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے، ابوبکر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہوگئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آپڑا پھر جب شیطان آپڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔
Narrated Saeed ibn al-Musayyab (RA) : While the Messenger of Allah ﷺ was sitting with some of his companions, a man reviled Abu Bakr and insulted him. But Abu Bakr remained silent. He insulted him twice, but Abu Bakr controlled himself. He insulted him thrice and Abu Bakr took revenge on him. Then the Messenger of Allah ﷺ got up when Abu Bakr took revenge. Abu Bakr said: Were you angry with me, Messenger of Allah? The Messenger of Allah ﷺ replied: An angel came down from Heaven and he was rejecting what he had said to you. When you took revenge, a devil came down. I was not going to sit when the devil came down.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٥٩٧، ١٣٠٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٦) (حسن لغیرہ) (سعید بن المسیب تابعی ہیں، اس لئے یہ سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن یہ حدیث آنے والی حدیث سے تقویت پاکر حسن ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر ؓ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version has: A man was reviling Abu Bakr. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner. Abu Dawud said: Similarly, it has been transmitted by Safwan bin ‘Isa, from Ibn Affan, as Sufyan said.
Takhrij · تخریج
تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٤٢) (ضعیف )
ابن عون کہتے ہیں آیت کریمہ ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں (سورۃ الشوریٰ: ٤١) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے، (ابن عون کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ وہ (ام محمد) ام المؤمنین ١ ؎ کے پاس جایا کرتی تھیں) ام محمد کہتی ہیں: ام المؤمنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے، ہمارے پاس زینب بنت حجش ؓ تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے (جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتادیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ ؓ سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا: تم بھی انہیں کہو ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آگئیں، تو ام المؤمنین زینب ؓ، علی ؓ کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں (کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں) پھر فاطمہ ؓ (نبی اکرم ﷺ کے پاس ام المؤمنین عائشہ ؓ کی شکایت کرنے) آئیں تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ (یعنی عائشہ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی ؓ بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Ibn Awn said: I asked about the meaning of intisar (revenge) in the Quranic verse: But indeed if any do help and defend themselves (intasara) after a wrong (done) to them, against them there is no cause of blame. Then Ali ibn Zayd ibn Jadan told me on the authority of Umm Muhammad, the wife of his father. Ibn Awn said: It was believed that she used to go to the Mother of the Faithful (i. e. Aisha (RA) ). She said: The Mother of the Faithful said: The Messenger of Allah ﷺ came upon me while Zaynab, daughter of Jahsh, was with us. He began to do something with his hand. I signalled to him until I made him understand about her. So he stopped. Zaynab came on and began to abuse Aisha (RA) . She tried to prevent her but she did not stop. So he (the Prophet) said to Aisha (RA) : Abuse her. So she abused her and dominated her. Zaynab then went to Ali and said: Aisha (RA) abused you and did (such and such). Then Fatimah came (to the Prophet) and he said to her: She is the favourite of your father, by the Lord of the Kabah! She then returned and said to them: I said to him such and such, and he said to me such and such. Then Ali came to the Prophet ﷺ and spoke to him about that.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد ام المومنین عائشہ ؓ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٠) (ضعیف الإسناد )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تمہارا ساتھی (یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو) مرجائے تو اسے چھوڑ دو ١ ؎ اس کے عیوب نہ بیان کرو۔
Aishah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When your companion dies, leave him and do not revile him.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے سلسلہ میں کوئی ایسی بات نہ کہو جس سے اگر وہ زندہ ہوتا تو اسے تکلیف ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٢٨٢)، وقد أخرجہ: الرقاق ٤٢ (٦٥١٦)، سنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٣٨)، مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: Make a mention of the virtues of your dead, and refrain from (mentioning) their evils.
Notes · وضاحت
١ ؎: مرے ہوئے کافروں اور فاسقوں کی برائیوں کا ذکر اگر اس لیے کیا جائے تاکہ لوگ اس سے بچیں اور عبرت حاصل کریں تو جائز ہے، اسی طرح سے ضعیف اور مجروح رواۃ حدیث پر جرح و تنفید بھی باتفاق علماء جائز ہے، خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ، اس لیے کہ اس کا مقصد عقیدہ، علم، اور حدیث کی خدمت و حفاظت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٣٤ (١٠١٩)، (تحفة الأشراف: ٧٣٢٨) (ضعیف) (عمران بن انس ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا: باز رہ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا: باز رہ اس نے کہا: قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے (اپنا کام کرو) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا، پھر ان کی روحیں قبض کرلی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا: تو مجھے جانتا تھا، یا تو اس پر قادر تھا، جو میرے دست قدرت میں ہے؟ اور گنہگار سے کہا: جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہوجا، اور دوسرے کے متعلق کہا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کردی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There were two men among Banu Israil, who were striving for the same goal. One of them would commit sin and the other would strive to do his best in the world. The man who exerted himself in worship continued to see the other in sin. He would say: Refrain from it. One day he found him in sin and said to him: Refrain from it. He said: Leave me alone with my Lord. Have you been sent as a watchman over me? He said: I swear by Allah, Allah will not forgive you, nor will he admit you to Paradise. Then their souls were taken back (by Allah), and they met together with the Lord of the worlds. He (Allah) said to this man who had striven hard in worship; Had you knowledge about Me or had you power over that which I had in My hand? He said to the man who sinned: Go and enter Paradise by My mercy. He said about the other: Take him to Hell. Abu Hurairah said: By Him in Whose hand my soul is, he spoke a word by which this world and the next world of his were destroyed.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢٣) (صحیح )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظلم و بغاوت اور قطع رحمی (رشتہ ناتا توڑنے) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ١ ؎۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : The Prophet ﷺ said: There is no sin more fitted to have punishment meted out by Allah to its perpetrator in advance in this world along with what He stores up for him in the next world than oppression and severing ties of relationship.
Notes · وضاحت
١ ؎: بغی سے مراد باغی کا ظلم یا سلطان کے خلاف بغاوت یا کبر و غرور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٧ (١٥١١)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٣ (٤٢١١)، (تحفة الأشراف: ١١٦٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو (کھا لیتی ہے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Avoid envy, for envy devours good deeds just as fire devours fuel or (he said) grass.
سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والد عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں انس ؓ کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کرلیتا ہوں، پھر کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ٢ ؎ کہ تم پر سختی کی جائے ٣ ؎ اس لیے کہ کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کردی تو ایسے ہی لوگوں کے باقی ماندہ لوگ گرجا گھروں میں ہیں انہوں نے رہبانیت کی شروعات کی جو کہ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا: کیا تم سواری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا: ہاں (کرتے ہیں) پھر وہ سب سوار ہوئے تو جب وہ اچانک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے، جہاں کے لوگ ہلاک اور فنا ہو کر ختم ہوچکے تھے، اور گھر چھتوں کے بل گرے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان گھروں کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتایا؟ (یعنی میں نہیں جانتا) تو انس نے کہا: یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلاک کردیا، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو گل کردیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی، قدم جسم اور زبان بھی اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: Sahl ibn Abu Umamah said that he and his father (Abu Umamah) visited Anas ibn Malik at Madina during the time (rule) of Umar ibn Abdul Aziz when he (Anas ibn Malik) was the governor of Madina. He was praying a very short prayer as if it were the prayer of a traveller or near it. When he gave a greeting, my father said: May Allah have mercy on you! Tell me about this prayer: Is it obligatory or supererogatory? He said: It is obligatory; it is the prayer performed by the Messenger of Allah ﷺ . I did not make a mistake except in one thing that I forgot. He said: The Messenger of Allah ﷺ used to say: Do not impose austerities on yourselves so that austerities will be imposed on you, for people have imposed austerities on themselves and Allah imposed austerities on them. Their survivors are to be found in cells and monasteries. (Then he quoted:) Monasticism, they invented it; we did not prescribe it for them. Next day he went out in the morning and said: will you not go out for a ride, so that you may see something and take a lesson from it? He said: Yes. Then all of them rode away and reached a land whose inhabitants had perished, passed away and died. The roofs of the town had fallen in. He asked: Do you know this land? I said: Who acquainted me with it and its inhabitants? (Anas said:) This is the land of the people whom oppression and envy destroyed. Envy extinguishes the light of good deeds, and oppression confirms or falsifies it. The eye commits fornication, and the palm of the hand, the foot, body, tongue and private part of the body confirm it or deny it.
Notes · وضاحت
١ ؎: دشوار اور شاق عمل کر کے جیسے صوم دہر، پوری پوری رات شب بیداری اور عورتوں سے مکمل علیحدگی وغیرہ اعمال۔ ٢ ؎: یعنی یہ اعمال تم پر فرض قرار دے دئیے جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٩٩) (حسن) (اس میں سعید بن عبدالرحمن لین الحدیث ہیں، شواہد وطرق کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٣١٢٤ وتراجع الألباني ١٣ )
ام الدرداء ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہوجاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے، تو اس کے دروازے بھی بند ہوجاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔
Abu al-Darda reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when a man cures anything, the curse goes up to heaven and the gates of heaven are locked against it. Then it comes down to the earth and its gates are locked against it. Then it goes right and left, and if it finds no place of entrance it returns to the thing which was cursed, and if it finds no place of entrance it returns to the thing which was cursed, and if it deserves what was said (it enters it), otherwise it returns to the one who uttered it. Abu Dawud said: Marwan bin Muhammad said: He is Rabah bin al-Walid who heard from him (nimran). He (Marwan bin Muhammad) said: Yahya bin Hussain was confused in it.
سمرہ بن جندب ؓ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ١ ؎۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: Do not invoke Allahs curse, Allahs anger, or Hell.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یوں نہ کہو: تجھ پر اللہ کی لعنت ہو، یا اللہ کا غضب ہو، یا اللہ تجھے جہنم میں داخل کرے، یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے کہ آدمی کسی معین شخص پر لعنت بھیجے، اور اگر کسی وصف عام یا وصف خاص کے ساتھ لعنت بھیج رہا ہو مثلاً یوں کہے لعنة الله على الکافرين، یا لعنة الله على اليهود، یا کسی ایسے متعین کافر پر لعنت بھیج رہا ہو جس کا کفر کی حالت میں مرنا معلوم ہو تو یہ جائز ہے جیسے لعنة الله على الکافرين، یا لعنة الله على أبي جهل کہنا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٤٨ (١٩٧٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥) (حسن )
ام الدرداء ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہوسکتے ہیں اور نہ گواہ ١ ؎۔
Abu al-Darda said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Men given to cursing will not be witnesses or intercessors.
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی امت کے فرد نہیں ہوسکتے، کیونکہ آپ کی امت قیامت کے روز دوسری امتوں پر سفارشی اور گواہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البروالصلة ٢٤ (٢٥٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی (مسلم کی روایت میں اس طرح ہے) نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man cursed the wind. The narrator Muslims version has: The wind snatched away a mans cloak during the time of the Prophet ﷺ and he cursed it. The Prophet ﷺ said: Do not curse it, for it is under command, and if anyone curses a thing undeservedly, the curse returns upon him.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ان کی کوئی چیز چوری ہوگئی، تو وہ اس پر بد دعا کرنے لگیں، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس (چور) سے عذاب کو ہلکا نہ کر ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Something of her was stolen, and she began to curse him (i. e. the thief). The Messenger of Allah ﷺ said to her: Do not lessen his sin.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (٦/٤٥، ١٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٧٧) (ضعیف) نوٹ: یہی حدیث ١٤٩٧ میں گزری ہے اس پر حسن کا حکم ہے
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ (یعنی ملاقات ترک نہ کرو) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ١ ؎۔
Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not hate each other ; do not envy each other; do not desert each other; and be the servants of Allah as brethren. It is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم ایسی ناراضگی سے متعلق ہے جو مسلمانوں کے درمیان باہمی معاشرتی حقوق میں کوتاہی کی وجہ سے ہوئی ہو، اور اگر دینی امور میں کوتاہی کی وجہ سے ہو تو یہ جائز ہے، بلکہ بدعتیوں اور ہوا پرستوں سے میل جول نہ رکھنا واجب ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں، اور حق کی طرف پلٹ نہ آئیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٥٧ (٦٠٦٥)، ٦٢ (٦٠٧٦)، صحیح مسلم/البر والصلة ٧ (٢٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة ٢٤ (١٩٣٥)، مسند احمد (٣/١٩٩)، موطا امام مالک/ حسن الخلق ٤ (١٤) (صحیح )
ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے، اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ١ ؎۔
Abu Ayyub al-Ansari reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: it is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days. When they meet, this turns away from him, and that turns away from him. The better of the two is the one who initiates in salutation.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس کا پہل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تواضع اور خاکساری زیادہ ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: It is not allowable for a believer to keep from a believer for more than three days. If three days pass, he should meet him and give him a salutation, and if he replies to it they will both have shared in the reward; but if he does not reply he will bear his sin (according to Ahmads version) and the one who gives the salutation will have come forth from the sin of keeping apart.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٣)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ٨ (٢٥٦١)، مسند احمد (٢/٣٩٢، ٤٥٦) (ضعیف )
q
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے تو جب وہ (تین دن کے بعد) اس سے ملے اسے تین مرتبہ سلام کرے، اور وہ ایک بار بھی سلام کا جواب نہ دے تو وہ اپنا گناہ لے کر لوٹے گا ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: It is not right for a Muslim to keep apart from another Muslim for more than three days. Then when he meets him and gives three salutations, receiving during that time no response, the other bears his sin.
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر إثمه کی ضمیر سلام کا جواب نہ دینے والے لا يرد عليه کی طرف لوٹتی ہو تو مفہوم یہ ہوگا کہ سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے بری ہوگیا، اور سلام کا جواب نہ دینے والا اپنے قطع تعلق کا گناہ لے کر لوٹا، اور اگر إثمه کی ضمیر سلام کرنے والے کی طرف لوٹتی ہو تو مفہوم یہ ہوگا کہ وہ اپنا اور سلام کرنے والے دونوں کا گناہ لے کر لوٹے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٩٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٦٢ (٦٠٧٧)، مسند احمد (٤/٣٢٧) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، لہٰذا جو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے پھر وہ (بغیر توبہ کے اسی حال میں) مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: It is not allowable for a Muslim to keep apart from his brother for more than three days, for one who does so and dies will enter Hell.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٣٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٩٢، ٤٥٦) (صحیح )