ابو خراش سلمی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے ۔
Narrated AbuKhirash as-Sulami (RA) : AbuKhirash heard the Messenger of Allah ﷺ say: If one keeps apart from his brother for a year, it is like shedding his blood.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں (کی مغفرت) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کرلیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور ابن عمر ؓ نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مرگیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لیے ہو ١ ؎ تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: The gates of Paradise are opened on Mondays and Thursdays, and forgiveness is granted to every man who does not associate anything with Allah, except for a man between whom and his brother there is rancor. Command will be given that they should be given respite till they conciliate. Abu Dawud said: The Prophet ﷺ kept apart from some of his wives for forty days, and Ibn Umar kept apart from his son till he died. Abu Dawud said: If keeping apart is meant for the sake of Allah, then it has no concern with it. Umar bin Abd al-Aziz covered his face from a man.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کے حقوق میں کسی سے کسی حق کی پاسداری کے لئے ہو تو یہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٧٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ١١ (٢٥٦٥)، سنن الترمذی/البر والصلة ٧٦ (٢٠٢٤)، مسند احمد (٢/٤٦٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ظن و گمان کے پیچھے پڑنے سے بچو یا بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Avoid suspicion for suspicion is the most lying form of talk. Do not be inquisitive about one another, or spy on one another.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: The believer is the believers mirror, and the believer is the believers brother who guards him against loss and protects him when he is absent.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٨٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة ١٨ (١٩٢٩) (حسن )
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: آپس میں میل جول کرا دینا، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے ۔
Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: Shall I not inform you of something more excellent in degree than fasting, prayer and almsgiving (sadaqah)? The people replied: Yes, Prophet of Allah! He said: It is putting things right between people, spoiling them is the shaver (destructive).
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٦ (٢٥٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٤٤) (صحیح )
ام حمید بن عبدالرحمٰن (ام کلثوم) ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی بات خود سے بنا کر کہی۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے: جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی ۔
Humaid bin Abdur-Rahman quoted his mother as saying: The Prophet ﷺ said: He who forged in order to put things right between two persons did not lie. The version by Ahmad ibn Muhammad and Musaddad has: The liar is not the one who puts things right between people, saying what is good and increasing good.
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً یوں کہے کہ آپ کو تو فلاں نے سلام کہا ہے یا فلاں آپ سے محبت رکھتا ہے یا فلاں آپ کی تعریف کرتا ہے۔
ام کلثوم بنت عقبہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔
Umm Kulthum, daughter of Uqbah, said: I did not hear the Messenger of Allah ﷺ giving licence for anything people say falsely except in three matters. The Messenger of Allah ﷺ would say: I do not count liar a man who puts things right between people, saying a word by which he intends only putting things right, and a man who says something in war, and a man who says something to his wife says something to his husband.
ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس اس صبح آئے، جس رات میرا شب زفاف ہوا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم (خالد بن ذکوان) بیٹھے ہو، پھر (انصار کی) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں ۔
Al-Ruhayyi, daughter of Muawwidh bin Afra, said: The Messenger of Allah ﷺ came and visited me in the morning when I had been conducted to my husband, and sat on my bedding as you are sitting beside me. Some little girls of ours began to play the tambourine and eulogise those of my ancestors who were killed in the battle of Badr, and then one of them said: And among us is a Prophet who knows what will happen tomorrow. He said: Stop this and say what you were saying.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٢ (٤٠٠١)، سنن الترمذی/النکاح ٦ (١٠٩٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢١ (١٨٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح )
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہوگئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Nafi said: Ibn Umar heard a pipe, put his fingers in his ears and went away from the road. He said to me: Are you hearing anything? I said: No. He said: He then took his fingers out of his ears and said: I was with the Prophet ﷺ , and he heard like this and he did like this. Abu Ali al-Lulu said: I heard Abu Dawud say: This is a rejected tradition.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٦٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨، ٣٨) (صحیح )
سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں جو ابو وائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے، تو ابو وائل نے اپنا حبوہ ١ ؎ کھولا اور بولے: میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔
Salam ibn Miskin, quoting an old man who witnessed Abu Wail in a wedding feast, said: They began to play, amuse and sing. He united the support of his hand round his knees that were drawn up, and said: I heard Abdullah (ibn Masud) say: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Singing produces hypocrisy in the heart.
Notes · وضاحت
١ ؎: بیٹھنے کی ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے جس میں آدمی سرین کے بل پاؤں کھڑا کر کے بیٹھتا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنے باندھ لیتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں جیسا بنتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کردیں؟، آپ نے فرمایا: مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع (مدینہ کا قبرستان) نہیں ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : A hermaphrodite (mukhannath) who had dyed his hands and feet with henna was brought to the Prophet ﷺ . He asked: What is the matter with this man? He was told: Messenger of Allah! he affects womens get-up. So he ordered regarding him and he was banished to an-Naqi. The people said: Messenger of Allah! should we not kill him? He said: I have been prohibited from killing people who pray. Abu Usamah said: Naqi is a region near Madina and not a Baqi.
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تقبل بأربع کا مطلب ہے عورت کے پیٹ میں چار سلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھا جانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔
Umm Salamah said that the Prophet ﷺ came upon her when there was with her a hermaohrodite (mukhannath) who said to her brother Abdullah (b. Abi Umayyah): if Allah conquers al-Ta’if for you tomorrow, I shall lead you to a woman who has four folds of fats in front and eight behind. Thereupon the Prophet ﷺ said: Put them out of your houses. Abu Dawud said: The woman had four folds of fat on her belly.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ وہ عورتوں کی خوبی و خرابی کا شعور رکھتے ہیں گو جماع پر قادر نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٦ (٤٣٢٤)، اللباس ٦٢ (٥٨٧)، النکاح ١١٣ (٥٢٣٥)، صحیح مسلم/السلام ١٣ (٢١٨٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٢ (١٩٠٢)، الحدود ٣٨ (٢٦١٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٨) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے زنانے مردوں اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو اور فلاں فلاں کو نکال دو یعنی ہجڑوں کو۔
Ibn Abbas said: The Prophet ﷺ cursed the hermaphrodites (mukhannathan) among men and women who imitated men, saying: Put them out of your houses, and put so and so out, that is to say, the hermaphrodites.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ اللباس ٦١ (٥٨٨٦)، الحدود ٣٣ (٦٨٣٤)، سنن الترمذی/ الأدب ٣٤ (٢٧٨٥)، (تحفة الأشراف: ٦٢٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ میرے پاس آتے، میرے پاس لڑکیاں ہوتیں، تو جب آپ اندر آتے تو وہ باہر نکل جاتیں اور جب آپ باہر نکل جاتے تو وہ اندر آ جاتیں۔
Aishah said: I used to play with dolls. Sometimes the Messenger of Allah ﷺ entered upon me when the girls were with me. When he came in, they went out, and when he went out, they came in.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٨٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ٨١ (٦١٣٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٠ (١٩٨٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ ؓ کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ arrived after the expedition to Tabuk or Khaybar (the narrator is doubtful), the draught raised an end of a curtain which was hung in front of her store-room, revealing some dolls which belonged to her. He asked: What is this? She replied: My dolls. Among them he saw a horse with wings made of rags, and asked: What is this I see among them? She replied: A horse. He asked: What is this that it has on it? She replied: Two wings. He asked: A horse with two wings? She replied: Have you not heard that Solomon had horses with wings? She said: Thereupon the Messenger of Allah ﷺ laughed so heartily that I could see his molar teeth.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی، میں سات سال کی تھی، پھر جب ہم مدینہ آئے، تو کچھ عورتیں آئیں، بشر کی روایت میں ہے: پھر میرے پاس (میری والدہ) ام رومان آئیں، اس وقت میں ایک جھولہ پر تھی، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے سنوارا سجایا پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئیں، تو آپ نے میرے ساتھ رات گزاری، اس وقت میں نو سال کی تھی وہ مجھے لے کر دروازے پر کھڑی ہوئیں، میں نے کہا: هيه هيه۔ (ابوداؤد کہتے ہیں: هيه هيه کا مطلب ہے کہ انہوں نے زور زور سے سانس کھینچی) ، عائشہ کہتی ہیں: پھر میں ایک کمرے میں لائی گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں (پہلے سے بیٹھی ہوئی) ہیں، انہوں نے على الخير والبرکة کہہ کر مجھے دعا دی۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ married me when I was seven or six. When we came to Madina, some women came. according to Bishrs version: Umm Ruman came to me when I was swinging. They took me, made me prepared and decorated me. I was then brought to the Messenger of Allah ﷺ , and he took up cohabitation with me when I was nine. She halted me at the door, and I burst into laughter. Abu Dawud said: That is to say: I menstruated, and I was brought in a house, and there were some women of the Ansari in it. They said: With good luck and blessing. The tradition of one of them has been included in the other.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٢١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٥٥، ١٦٨٨١) (صحیح )
ابواسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے اس میں ہے (ان عورتوں نے کہا) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کردیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا (میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کردیا۔
انظر حدیث رقم: (٢١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٥٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے، تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں، اس وقت میں جھولے پر کھیل رہی تھی، اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے، وہ مجھے لے گئیں، مجھے بنایا سنوارا اور مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں، آپ نے میرے ساتھ رات گزاری کی، اس وقت میں نو سال کی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٢١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٨١) (صحیح الإسناد )
ہشام بن عروہ سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: میں جھولے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، وہ مجھے ایک کوٹھری میں لے گئیں تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں ہیں انہوں نے مجھے خیر و برکت کی دعائیں دیں۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Hisham bin Urwah through different chain of narrators. This version adds: I was swinging and I had my friends. They brought me to a house ; there were some women of the Ansar (Helpers). They said: With good luck and blessing.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٦٨٥٥) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج میں اترے، قسم اللہ کی میں دو شاخوں کے درمیان ڈلے ہوئے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں آئیں اور مجھے جھولے سے اتارا، میرے سر پر چھوٹے چھوٹے بال تھے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
Aishah said: We came to Madina and stayed with Banu al-Harith bin al-Khazraj. She said: I swear by Allah, I was swinging between two date-palms. Then my mother came down; and I had my hair up to the ears. The transmitter then rest of the tradition.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (٢١٢١)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢١٠) (حسن صحیح )