ادب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 38 · 493 hadiths · Page 9 of 26

4938Sunan Abu Dawood

چوسر کھیلنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے چوسر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔

Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: He who plays backgammon disobeys Allah and His Messenger.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٣ (٣٧٦٢)، موطا امام مالک/الرؤیا ٢ (٦)، (تحفة الأشراف: ٨٩٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٤، ٣٩٧، ٤٠٠) (حسن )
4939Sunan Abu Dawood

چوسر کھیلنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے نردشیر (چوسر) کھیلا گویا اس نے اپنا ہاتھ سور کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا۔

Buraidah reported the Prophet ﷺ as saying: If anyone plays backgammon, he sinks his hand in the flesh of swine and its blood.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الشعر ١ (٢٢٦٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٣ (٣٧٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٩٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )
4940Sunan Abu Dawood

کبوتر بازی کرنا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً، فَقَالَ: شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا (اپنی نظروں سے) پیچھا کر رہا ہے (یعنی اڑا رہا ہے) تو آپ نے فرمایا: ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ saw a man pursuing a pigeon. He said: A devil is pursuing a female devil.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دونوں شیطان ہیں، کبوتر اڑانے والا اس لئے شیطان ہے کہ وہ اللہ سے غافل اور بےپرواہ ہے، اور کبوتر اس لئے شیطان ہے کہ وہ اڑانے والے کی غفلت کا سبب بنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٤٤ (٣٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٠١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٥) (حسن صحیح )
4941Sunan Abu Dawood

رحمت وہمدردی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي قَابُوسَ مَوْلَى لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، لَمْ يَقُلْ مُسَدَّدٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: The Compassionate One has mercy on those who are merciful. If you show mercy to those who are on the earth, He Who is in the heaven will show mercy to you. Musaddad did not say: The client of Adb Allah bin Amr. He said: The Prophet (saw) said.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ١٦ ( ١٩٢٤)، ( تحفة الأشراف: ٨٩٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٢/١٦٠) ( صحیح )
4942Sunan Abu Dawood

رحمت وہمدردی کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قال حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ، قال ابْنُ كَثِيرٍفِي حَدِيثِهِ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ: أَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، فَقَالَ: إِذَا قَرَأْتَهُ عَلَيَّ فَقَدْ حَدَّثْتُكَ بِهِ، ثُمَّ اتَّفَقَا، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ، يَقُولُ: لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم ﷺ کو جو اس کمرے میں رہتے تھے ١ ؎ فرماتے سنا ہے: رحمت (مہربانی و شفقت) صرف بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے ٢ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : I heard Abul Qasim ﷺ who spoke the truth and whose word was verified say: Mercy is taken away only from him who is miserable.

Notes · وضاحت
١ ؎: اشارہ ہے عائشہ ؓ کے حجرہ کی جانب جس میں نبی اکرم ﷺ رہتے تھے۔ ٢ ؎: یعنی بدبخت اپنی سخت دلی کے باعث دوسروں پر شفقت و مہربانی نہیں کرتا جب کہ نیک بخت کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے یعنی وہ بےرحم نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ١٦ (١٩٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠١، ٤٤٢، ٤٦١، ٥٣٩) (حسن )
4943Sunan Abu Dawood

رحمت وہمدردی کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ ابْنِ عَامِرٍ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْوِيهِ،قال ابْنُ السَّرْحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ حَقَّ كَبِيرِنَا، فَلَيْسَ مِنَّا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہنچانے (اس کا ادب و احترام نہ کرے) تو وہ ہم میں سے نہیں ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Those who do not show mercy to our young ones and do not realise the right of our elders are not from us.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٨٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٢) (صحیح )
4944Sunan Abu Dawood

نصیحت کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ إِنَّ الدِّينَ النَّصِيحَةُ، قَالُوا: لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لِلَّهِ وَكِتَابِهِ وَرَسُولِهِ وَأَئِمَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَامَّتِهِمْ، أَوْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ.

تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً دین خیر خواہی کا نام ہے، یقیناً، دین خیر خواہی کا نام ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کن کے لیے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مومنوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے یا کہا مسلمانوں کے حاکموں کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے ١ ؎۔

Tamim al-Dari reported the Prophet ﷺ as saying; Religion conduct; religion consists in sincere conduct. The people asked; to whom should it be directed, Messenger of Allah? He replied: To Allah, his book, his Messenger, the leaders (public authorities) of the believers and all the believers, and the leaders (public authorities) of Muslim and the Muslims and the Muslims in general.

Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کے لئے خیر خواہی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور اس کی ہر عبادت خالص اللہ کے لئے ہو، کتاب اللہ کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے اور عمل کرے، رسول کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ رسول کی نبوت کی تصدیق کرنے کے ساتھ وہ جن چیزوں کا حکم دیں اسے بجا لائے اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہے، مسلمانوں کے حاکموں کے لئے خیر خواہی یہ ہے کہ حق بات میں ان کی تابعداری کی جائے اور حقیقی شرعی وجہ کے بغیر ان کے خلاف بغاوت کا راستہ نہ اپنایا جائے، اور عام مسلمانوں کے لئے خیرخواہی یہ ہے کہ ان میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٥)، سنن النسائی/البیعة ٣١ (٤٢٠٢)، (تحفة الأشراف: ٢٠٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠٢، ١٠٣) (صحیح )
4945Sunan Abu Dawood

نصیحت کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْجَرِيرٍ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَاعَ الشَّيْءَ أَوِ اشْتَرَاهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّ الَّذِي أَخَذْنَا مِنْكَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِمَّا أَعْطَيْنَاكَ فَاخْتَرْ.

جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت پر بیعت کی، اور یہ کہ میں ہر مسلمان کا خیرخواہ ہوں گا، راوی کہتے ہیں: وہ (یعنی جریر) جب کوئی چیز بیچتے یا خریدتے تو فرما دیتے: ہم جو چیز تم سے لے رہے ہیں، وہ ہمیں زیادہ محبوب و پسند ہے اس چیز کے مقابلے میں جو ہم تمہیں دے رہے ہیں، اب تم چاہو بیچو یا نہ بیچو، خریدو یا نہ خریدو۔

Narrated Jarir: I swore allegiance to the Messenger of Allah ﷺ promising to hear and obey, and behave sincerely towards every Muslim. Abu Zurah said: Whenever he sold and bought anything, he would say: What we took from you is dearer to us than what we gave you. So choose (as you like).

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/ البیعة ٦ (٤١٦٢)، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان ٤٢(٥٧)، مواقیت الصلاة ٣ (٥٢٤)، الزکاة ٢ (١٤٠١)، البیوع ٦٨ (٢١٥٧)، الشروط ١ (٢٧٠٥)، الأحکام ٤٣ (٧٢٠٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٤٣ (٥٦)، سنن الترمذی/البر ١٧ (١٩٢٥)، مسند احمد (٤/ ٣٥٨، ٣٦١، ٣٦٤، ٣٦٥) (صحیح الإسناد )
4946Sunan Abu Dawood

مسلمان کی مدد کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال عُثْمَانُ، وَجَرِيرٌ الرَّازِيُّ. ح وحَدَّثَنَاوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَقَالَ وَاصِلٌ قَالَ: حُدِّثْتُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ثُمَّ اتَّفَقُوا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ عَلَى مُسْلِمٍ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ: وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: If anyone removes his brother’s anxiety of this world, Allah will remove for him one of the anxieties of the Day of resurrection; if anyone makes easy for an impoverished man, Allah will make easy for him in this world and on the day of resurrection; if anyone conceals a Muslim’s secrets, Allah will conceal his secrets in this world and on the Day of resurrection; Allah will remain in the aid of a servant so long as the servant remains in the aid of his brother. Abu Dawud said: Uthman did not transmit the following words from Abu Muawiyah: “if anyone makes easy for an impoverished man”.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحدود ٣ (١٤٢٥)، البر والصلة ١٩ (١٩٣٠)، القراء ات ١٢ (٢٩٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٣٥٩، ١٢٥١٠، ١٢٨٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١١ (٢٦٩٩)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٧ (٢٢٥)، مسند احمد (٢/٢٥٢، ٣٢٥، ٥٠٠، ٥٢٢)، سنن الدارمی/المقدمة ٣٢ (٣٦٠) (صحیح )
4947Sunan Abu Dawood

مسلمان کی مدد کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قال نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ تمہارے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر بھلی بات صدقہ ہے ١ ؎۔

Hudhaifah said: Your prophet ﷺ said: Every good act is a SADAQAH (almsgiving).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر اچھی بات میں ایک صدقہ کا ثواب ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ١٦ (١٠٠٥)، (تحفة الأشراف: ٣٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٣، ٣٩٧، ٣٩٨، ٤٠٥) (صحیح )
4948Sunan Abu Dawood

ناموں کو بدلنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَأَحْسِنُوا أَسْمَاءَكُمْ، قَالَ أبو داود: ابْنُ أَبِى زَكَرِيَّا لَمْ يُدْرِكْ أَبَا الدَّرْدَاءِ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپ دادا کے ناموں کے ساتھ پکارے جاؤ گے، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی زکریا نے ابودرداء کا زمانہ نہیں پایا ہے۔

Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: On the Day of Resurrection you will be called by your names and by your fathers names, so give yourselves good names.

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اگر کسی کا نام اچھا نہ ہو تو وہ بدل کر اپنا اچھا نام رکھ لے، اور سب سے بہتر نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٤)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٩ (٢٧٣٦) (ضعیف )
4949Sunan Abu Dawood

ناموں کو بدلنے کا بیان

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى: عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔

Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Your names which are dearest to Allah are Abdullah and Abdur-Rahman.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأداب ١ (٢١٣٢)، (تحفة الأشراف: ٧٩٢٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٦٤ (٢٨٣٦)، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٠ (٢٧٣٧) (صحیح )
4950Sunan Abu Dawood

ناموں کو بدلنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّالْقَانِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَقِيلُ بْنُ شَبِيبٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَصْدَقُهَا: حَارِثٌ، وَهَمَّامٌ، وَأَقْبَحُهَا: حَرْبٌ، وَمُرَّةُ.

ابو وہب جشمی ؓ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، اور سب سے سچے نام حارث و ہمام ہیں ١ ؎، اور سب سے ناپسندیدہ و قبیح نام حرب و مرہ ہیں ٢ ؎۔

Narrated Abu Wahb al-Jushami (RA) : The Prophet ﷺ said: Call yourselves by the names of the Prophets. The names dearest to Allah are Abdullah and Abdur Rahman, the truest are Harith and Hammam, and the worst are Harb and Murrah.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ دونوں اپنے مشتق منہ سے معنوی طور پر مطابقت رکھتے ہیں چناچہ حارث کے معنی ہیں کمانے والا، اور ہمام کے معنی قصد و ارادہ رکھنے والے کے ہیں، اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو قصد و ارادہ سے خالی ہو، یہی وجہ ہے کہ یہ دونوں نام سچے ہیں۔ ٢ ؎: ان دونوں ناموں میں ان کے ذاتی وصف کے اعتبار سے جو قباحت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الخیل ٢ (٣٥٩٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٥) (صحیح) (اس میں تسموا باسماء الأنبیاء کا ٹکڑاصحیح نہیں ہے) (الصحیحة ١٠٤٠، ٩٠٤، والارواء ١١٧٨ وتراجع الالبانی ٤٦ )
4951Sunan Abu Dawood

ناموں کو بدلنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے آپ ﷺ کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے اور آپ نے اس لڑکے کا نام عبداللہ رکھا۔

Anas said; I took Abdullah bin Abi Talhah, when he was born, to the Prophet ﷺ , and the prophet ﷺ was wearing a wool;en cloak and rubbing tar on his camel. He asked: Have you some dates? I said: Yes. I then gave him some dates which he put in his mouth, chewed them, opened his mouth and them in it. The baby began to lick them. The prophet ﷺ said: ANSAR’s favourite (fruit) is dates. And he gave him the name of Abdur-Rahman.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٥ (٢١٤٤)، انظر حدیث رقم: (٢٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ٣٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧٥، ٢١٢، ٢٨٧، ٢٨٨) (صحیح )
4952Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عاصیہ کا نام بدل دیا ١ ؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ٢ ؎۔

Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ changed the name of ‘Asiyah and called her Jamilah.

Notes · وضاحت
١ ؎: عاصیہ عمر کی بیٹی تھی جس کے معنی گنہگارو نافرمان کے ہیں۔ ٢ ؎: یعنی آج سے تیرا نام جمیلہ (خوبصورت اچھے اخلاق و کردار والی) ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٣ (٢١٣٩)، سنن الترمذی/الأدب ٦٦ (٢٨٣٨)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٥، ٧٨٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٢ (٣٧٣٣)، مسند احمد (٢/١٨)، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٢ (٢٧٣٩) (صحیح )
4953Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ سَأَلَتْهُ مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ ؟ قَالَ: سَمَّيْتُهَا مُرَّةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ، سُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ، اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ، فَقَالَ: مَا نُسَمِّيهَا ؟ قَالَ: سَمُّوهَا زَيْنَبَ.

محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر (میرے گھر والوں میں سے) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: زینب رکھ دو۔

Muhammad bin Amr bin Ata said: Zainab daughter of Abu Salamah asked him: Which name did you give to your daughter? He replied: Barrah. She said: The Messenger of Allah ﷺ forbade giving this name. I was called Barrah but the Prophet ﷺ said: Do not declare yourselves pure, for Allah knows best those of you who are obedient. He said: we asked; which name should we give her? He replied: Call her Zainab.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأداب ٣ (٢١٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٨٤) (حسن صحیح )
4954Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ: أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اسْمُكَ، قال: أَنَا أَصْرَمُ، قَالَ: بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ.

اسامہ بن اخدری تمیمی ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا: نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے) ۔

Narrated Usamah ibn Akhdari (RA) : A man called Asram was among those who came to the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said: What is your name? He replied: Asram. He said: No, you are Zurah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٣) (صحیح )
4955Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ، أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يَكْنُونَهُ بابي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكْنَىبابا الْحَكَمِ، فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا، فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ ؟، قَالَ: لِي شُرَيْحٌ، وَمُسْلِمٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ ؟ قُلْتُ: شُرَيْحٌ، قَالَ: فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ، قَالَ أبو داود: شُرَيْحٌ هَذَا: هُوَ الَّذِي كَسَرَ السِّلْسِلَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ دَخَلَ تُسْتَرَ، قَالَ أبو داود: وَبَلَغَنِي أَنَّ شُرَيْحًا كَسَرَ باب تُسْتَرَ، وَذَلِك أَنْهُ دَخَلَ مِنْ سِرْبٍ.

ابوشریح ہانی کندی ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہوجاتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: شریح آپ نے فرمایا: تو تم ابوشریح ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔

Narrated Hani ibn Yazid: When Hani went with his people in a deputation to the Messenger of Allah ﷺ , he heard them calling him by his kunyah (surname), AbulHakam. So the Messenger of Allah ﷺ called him and said: Allah is the judge (al-Hakam), and to Him judgment belongs. Why are you given the kunyah AbulHakam? He replied: When my people disagree about a matter, they come to me, and I decide between them, and both parties are satisfied with my decision. He said: How good this is! What children have you? He replied: I have Shurayh, Muslim and Abdullah. He asked; Who is the oldest of them? I replied: Shurayh. He said: Then you are Abu Shurayh. Abu Dawud said: This is Shuraib who broke the chain, and who entered Tustar. Abu Dawud said: I have been told that Shuraib broke the gate of Tustar, and he entered it through tunnel.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/آداب القضاة ٧ (٥٣٨٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٢٥) (صحیح )
4956Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: مَا اسْمُكَ، قَالَ: حَزْنٌ، قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ، قَالَ: لَا، السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ، قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ، قَالَ أبو داود: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْعَاصِ، وَعَزِيزٍ، وَعَتَلَةَ، وَشَيْطَانٍ، وَالْحَكَمِ، وَغُرَابٍ، وَحُباب، وَشِهَابٍ، فَسَمَّاهُ: هِشَامًا، وَسَمَّى حَرْبًا: سَلْمًا، وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ: الْمُنْبَعِثَ، وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا: خَضِرَةَ، وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ: شَعْبَ الْهُدَى، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ: بَنِي الرِّشْدَةِ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ: بَنِي رِشْدَةَ، قَالَ أبو داود: تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ.

سعید بن مسیب کے دادا (حزن ؓ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ کہا: حزن ١ ؎ آپ نے فرمایا: تم سہل ہو، انہوں نے کہا: نہیں، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے، سعید کہتے ہیں: تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے عاص (گنہگار) عزیز (اللہ کا نام ہے) ، عتلہ (سختی) شیطان، حکم (اللہ کی صفت ہے) ، غراب (کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں) ، حباب (شیطان کا نام) اور شہاب (شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔

Saeed bin Musayyab told that his father said on the authority of his grandfather (Hazn): The Prophet ﷺ asked: What is your name? He replied: Hazn (rugged). He said: You are Sahl (smooth). He said: No, smooth is trodden upon and disgraced. Saeed said: I then thought that ruggedness would remain among us after it. Abu Dawud said: The Prophet ﷺ changed the names al-As, Aziz, Atalah, Shaytan, al-Hakam, Ghurab, Hubab, and Shihab and called him Hisham. He changed the name Harb (war) and called him Silm (peace). He changed the name al-Munbaith (one who lies) and called him al-Mudtaji (one who stands up). He changed the name of a land Afrah (barren) and called it Khadrah (green). He changed the name Shib ad-Dalalah (the mountain path of a stray), the name of a mountain path and called it Shib al-Huda (mountain path of guidance). He changed the name Banu az-Zinyah (children of fornication) and called them Banu ar-Rushdah (children of those who are on the right path), and changed the name Banu Mughwiyah (children of a woman who allures and goes astray), and called them Banu Rushdah (children of a woman who is on the right path). Abu Dawud said: I omitted the chains of these for the sake of brevity.

Notes · وضاحت
١ ؎: حزن کے معنی سخت اور دشوار گزار زمین کے ہیں اور سہل کے معنی: نرم اور عمدہ زمین کے ہیں حزن کی ضد۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأداب ١٠٧ (٦١٩٠)، ١٠٨ (٦١٩٣)، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٣) (صحیح )
4957Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ ؟، قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، فَقَالَعُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْأَجْدُعُ شَيْطَانٌ.

مسروق کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب ؓ سے ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: مسروق بن اجدع، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اجدع تو شیطان ہے ۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Masruq said: I met Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) who said: Who are you? I replied: Masruq ibn al-Ajda. Umar then said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: al-Ajda (mutilated) is a devil.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٣١ (٣٧٣١)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١) (ضعیف )