ادب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 38 · 493 hadiths · Page 10 of 26

4958Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا، وَلَا رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ ؟، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدَنَّ عَلَيَّ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو، اس لیے کہ تم پوچھو گے: کیا وہاں ہے وہ؟ تو جواب دینے والا کہے گا: نہیں (تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے) (سمرہ نے کہا) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا۔

Samurah bin Jundub reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Do not call your servant Yasar (wealth), Rabah (profit), Nijih (prosperous) and Aflah (successful), for you may ask; Is he there? And someone says: No. Samurah said: These are four (names), so do not attribute more to me.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأداب ٢ (٢١٣٦)، سنن الترمذی/الأدب ٦٥ (٢٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣١ (٣٧٣٠)، (تحفة الأشراف: ٤٦١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧، ١٠، ١٢، ٢١)، سنن الدارمی/الاستئذان ٦١ (٢٧٣٨) (صحیح )
4959Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ: أَفْلَحَ، وَيَسَارًا، وَنَافِعًا، وَرَبَاحًا.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم افلح، یسار، نافع اور رباح ان چار ناموں میں سے کوئی اپنے غلاموں یا بچوں کا رکھیں۔

Samurah said: The Aposlte of Allah ﷺ forbade giving four names to our slaves: Aflah (successful), Yasar (wealth), Naf (beneficial) and Rabah (profit).

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٦١٢) (صحیح )
4960Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْهَى أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا نَافِعًا، وَأَفْلَحَ، وَبَرَكَةَ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَلَا أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ: إِذَا جَاءَ أَثَمَّ بَرَكَةُ ؟، فَيَقُولُونَ: لَا، قَالَ أبو داود: رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، (اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If I survive (God willing), I shall forbid my people to give the names Nafi (beneficial), Aflah (successful) and Barakah (blessing). Al-Amash said: I do not know whether he mentioned Nafi or not. When a man comes and asks: Is there Barakah (blessing)? The people say: No. Abu Dawud said: A similar tradition has been transmitted by Abu al-Zubair on the authority of Jabir from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. This version has no mention of Barakah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٣٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٨٨) (صحیح )
4961Sunan Abu Dawood

برے نام کو بدلنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَخْنَعُ: اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ، قَالَ أبو داود: رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: أَخْنَى اسْمٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے أخنع اسم کے بجائے أخنى اسم کہا ہے، (جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں) ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: The vilest names in Allah’s sight on the Day of resurrection will be that of a man called Malik al-Amlak. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Shuaib bin Abi Hamzah from Abi al-Zinad through different chain of narrators. This version has the words akhna ismin (most obscene name) instead of akhna ismin (the vilest name).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١١٤ (٦٢٠٦)، صحیح مسلم/الأداب ٤ (٢١٤٣)، سنن الترمذی/الأدب ٦٥ (٢٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٤) (صحیح )
4962Sunan Abu Dawood

القاب کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي بَنِي سَلَمَةَ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ بِئْسَ الاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الإِيمَانِ سورة الحجرات آية 11، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلَّا وَلَهُ اسْمَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَا فُلَانُ، فَيَقُولُونَ مَهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا الِاسْمِ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11.

ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے (الحجرات: ١١) ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی ولا تنابزوا بالألقاب۔

Narrated Abu Jubayrah ibn ad-Dahhak (RA) : This verse was revealed about us, the Banu Salimah: Nor call each other by (offensive) nicknames: ill-seeming is a name connoting wickedness (to be used of one) after he has believed. He said: When the Messenger of Allah ﷺ came to us, every one of us had two or three names. The Messenger of Allah ﷺ began to say: O so and so! But they would say: Keep silence, Messenger of Allah! He becomes angry by this name. So this verse was revealed: Nor call each other by (offensive) nicknames.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/ تفسیر القرآن ٤٩ (٣٢٦٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٥ (٣٧٤١)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦٩، ٢٦٠، ٥/٣٨٠) (صحیح )
4963Sunan Abu Dawood

ابوعیسیٰ کنیت رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى: أَبَا عِيسَى، وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بابي عِيسَى، فَقَالَ لَهُعُمَرُأَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ، وَإِنَّا فِي جَلْجَتِنَا، فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ.

اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر ؓ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ١ ؎ وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ ﷺ نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ٢ ؎ چناچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Zayd ibn Aslam quoted his father as saying: Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) struck one of his sons who was given the kunyah Abu Isa, and al-Mughirah ibn Shubah had the kunyah Abu Isa. Umar said to him: Is it not sufficient for you that you are called by the kunyah Abu Abdullah? He replied: The Messenger of Allah ﷺ gave me this kunyah. Thereupon he said: The Messenger of Allah ﷺ was forgiven all his sins, past and those followed. But we are among the people similar to us. Henceforth he was called by the kunyah Abu Abdullah until he died.

Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ نے ابوعیسیٰ کنیت رکھنے سے اس وجہ سے منع کیا کہ اس بات کا خدشہ تھا کہ لوگ اس وہم میں نہ مبتلا ہوجائیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی کوئی باپ تھا، یہی وجہ ہے کہ عمر ؓ نے کہا کہ یہ کنیت رکھنا آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔ ٢ ؎: مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ عام مسلمان ہیں، اور یہ نہیں معلوم کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٧) (صحیح )
4964Sunan Abu Dawood

غیر کے بیٹے کو اے میرے بیٹے کہہ کر پکارنا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَوَسَمَّاهُ ابْنُ مَحْبُوبٍ الْجَعْدَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: يَا بُنَيَّ، قَالَ أبو داود: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُثْنِي عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُوبٍ، وَيَقُولُ: كَثِيرُ الْحَدِيثِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: اے میرے بیٹے!۔

Narrated Anas bin Malik (RA): The Prophet ﷺ said to him: My sonny. Abu Dawud said: I heard Yahya bin Main praising the transmitter Muhammad bin Mahbub, and he said: He transmitted a large number of traditions.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأدب ٦ (٢١٥١)، سنن الترمذی/الأدب ٦٢ (٢٨٣١)، (تحفة الأشراف: ٥١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٦٣) (صحیح )
4965Sunan Abu Dawood

ابوقاسم کنیت رکھنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي، قَالَ أبو داود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، وَسُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، نَحْوَهُمْ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر ؓ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک ؓ کی روایت بھی اسی طرح ہے (یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو) ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Call yourselves by my name, but do not use my KUNYAH (surname). Abu Dawud said: Abu Salih has transmitted it in a similar way from Abu Hurairah, and similar are the traditions of Abu Sufyan from Jabir, of Salim bin Abl al-Ja’d from Jabir, of Sulaiman al-Yashkuri from Jabir, and of Ibn al-Munkadir from Jabir and similar others and Anas bin Malik (RA).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٨ (١١٠)، المناقب ٢٠ (٣٥٣٩)، الأدب ١٠٦ (٦١٨٨)، صحیح مسلم/الأداب ١ (٢١٣٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٣ (٣٧٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٨، ٢٦٠، ٢٧٠)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٨ (٢٧٣٥) (صحیح )
4966Sunan Abu Dawood

ابوقاسم کنیت رکھنا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي، قَالَ أبو داود: وَرَوَى بِهَذَا الْمَعْنَى ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَى الرِّوَايَتَيْنِ، وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، اخْتُلِفَ فِيهِ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَى مَا قال أَبُو الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَلَى مَا قال ابْنُ سِيرِينَ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَى الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ ؓ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ١ ؎۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone is called by my name, he must not be given my kunyah (surname), and if anyone uses my kunyah (surname), he must not be called by my name. Abu Dawud said: Ibn Ajlan transmitted it to the same effect from his father on the authority if Abu Hurairah. It has also been transmitted by Abu Zarah from Abu Hurairah in two different versions. And similar is the version of Abdur-Rahman bin Abi Amrah from Abu Hurairah. This version is disputed: Al-Thawri and Ibn Juraij transmitted it according to the version of Abu al-Zubair; and Maqil bin Ubaid Allah transmitted it according to the version of Ibn Sirin. It is again dispted on Musa bin Yasar from Abu Hurariah, transmitting it in two versions: Hammad bin Khalid and Ibn Abi Fudaik varied in their versions.

Notes · وضاحت
١ ؎: خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے دونوں لفظوں کے ساتھ آئی ہے: اس طرح بھی جیسے محمد بن سیرین نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، جو یہ ہے تسموا باسمي ولا تکتنوا بكنيتي میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو اور اس طرح بھی جیسے ابوالزبیر نے جابر ؓ سے روایت کی ہے، دونوں روایتوں میں فرق یہ ہے کہ بطریق ابوالزبیر عن جابر میں نبی اکرم ﷺ کا نام اور کنیت الگ الگ رکھنے کا جواز ثابت ہو رہا ہے، اور بطریق ابن سیرین ابوہریرہ کی روایت سے نام رکھنے کا جواز اور کنیت رکھنے کا عدم جواز ثابت ہو رہا ہے، صحیح بخاری کی حدیث بطریق سالم بن ابی الجعد عن جابر ؓ: ابن سیرین کی ابوہریرہ سے حدیث کی طرح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٩٨٣، ١٣٦١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١٣) (منکر) (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، صحیح بخاری میں سالم بن ابی الجعد نے جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم نے فرمایا: سمو ا بأسمی ولا تکنوا بکنیتي الأدب ٦١٨٧ )
4967Sunan Abu Dawood

نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنیکی اجازت ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ: وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ، وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ، قال: نَعَمْ، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔

Muhammad bin al-Hanafiyyah quoted Ali as saying: I said: Messenger of Allah! tell me if a son is born to me after your death, may I give him your name and your kunyah? He replied: Yes. The transmitter Abu Bakr did not mention the words I said. Instead, he said: Ali said to the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦٨ (٢٨٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٥) (صحیح )
4968Sunan Abu Dawood

نام اور کنیت دونوں کو جمع کرنیکی اجازت ہے

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلَامًا، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، وَكَنَّيْتُهُ: أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي، وَحَرَّمَ كُنْيَتِي، أَوْ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي، وَأَحَلَّ اسْمِي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah! I have given birth to a boy, and call him Muhammad and Abul Qasim as kunyah (surname), but I have been told that you disapproved of that. He replied: What is it which has made my name lawful and my kunyah unlawful, or what is it which has made my kunyah unlawful and my name lawful?

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ ﷺ کی حیات مبارکہ تک ہے، اس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں، بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٨٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٥، ٢٠٩) (ضعیف )
4969Sunan Abu Dawood

بغیر لڑکے کے کنیت رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا، وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى: أَبَا عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَرَآهُ حَزِينًا، فَقَالَ: مَا شَأْنُهُ ؟ قَالُوا: مَاتَ نُغَرُهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مرگئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مرگئی، تو آپ نے فرمایا: اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر (چڑیا) کو؟ ۔

Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ used to come to visit us. I had a younger brother who was called Abu ‘Umair by Kunyah (surname). He had a sparrow with which he played, but it died. So one day the prophet ﷺ came to see him and saw him grieved. He asked: What is the matter with him? The people replied: His sparrow has died. He then said: Abu ‘Umair! What has happened to the little sparrow?

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٧٨)، وقد أخرجہ: خ /الأدب ٨١ (٦١٢٩)، صحیح مسلم/الأداب ٥ (٢١٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣١ (٣٣٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٤ (٣٧٢٠)، ٣٤، مسند احمد (٣ /١١٥، ١١٩، ١٧١، ١٩٠، ٢٠١، ٢٢٣، ٢٧٨) (صحیح )
4970Sunan Abu Dawood

عورت کے لئے کنیت اختیار کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ صَوَاحِبِي لَهُنَّ كُنًى، قال: فَاكْتَنِي بابنِكِ عَبْدِ اللَّهِ، يَعْنِي ابْن أخْتُهَا، قَالَ مُسَدَّدٌ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ، قال أبو داود: وَهَكَذَا قَالَ قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ، وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَمَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، عَنْ هِشَامٍ، كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں (عبداللہ کے بجائے) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں: چناچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Aisha (RA) said: Messenger of Allah! All my fellow-wives have kunyahs? He said: Give yourself the kunyah by Abdullah, your son - that is to say, her nephew (her sisters son). Musaddad said: Abdullah ibn az-Zubayr. She was called by the kunyah Umm Abdullah. Abu Dawud said: Qurran bin Tammam and Mamar all have transmitted it from Hisham in a similar manner. It has also been transmitted by Abu Usamah from Hisham, from Abbad bin Hamzah. Similarly, Hammad bin Salamah and Maslamah bin Qanab have narrated it from Hisham, like the tradition transmitted by Abu Usamah.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٨٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٧، ١٥١، ١٨٦، ٢٦٠) (صحیح )
4971Sunan Abu Dawood

معنی خیز کلام کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ إِمَامُ مَسْجِدِ حِمْصَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ضُبَارَةَ بْنِ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَبُرَتْ خِيَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاكَ حَدِيثًا هُوَ لَكَ بِهِ مُصَدِّقٌ، وَأَنْتَ لَهُ بِهِ كَاذِبٌ.

سفیان بن اسید حضرمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔

Narrated Sufyan ibn Asid al-Hadrami (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is great treachery that you should tell your brother something and have him believe you when you are lying.

Notes · وضاحت
١ ؎: تعریض یا توریہ ایسے لفظ کے اطلاق کا نام ہے جس کا ایک ظاہری معنی ہوا، اور متکلم اس ظاہری معنیٰ کے خلاف ایک دوسرا معنی مراد لے رہا ہو جس کا وہ لفظ محتمل ہو، یہ ایک طرح سے مخاطب کو دھوکہ میں ڈالنا ہے اسی وجہ سے جب تک کوئی شرعی مصلحت یا کوئی ایسی حاجت نہ ہو کہ اس کے بغیر کوئی اور چارہ کار نہ ہو ایسا کرنا صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٤٧٥) (ضعیف )
4972Sunan Abu Dawood

کلام میں زعمو کہنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فِي زَعَمُوا، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا، قال أبو داود: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: هَذَا حُذَيْفَةُ.

ابومسعود ؓ نے ابوعبداللہ (حذیفہ) ؓ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا تم نے زعموا کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: زعموا (لوگوں نے گمان کیا) آدمی کی بہت بری سواری ہے ١ ؎۔

Abu Masud asked Abu Abu Allah, or Abu Abdullah asked Abu Masud; what did you hear the Messenger of Allah ﷺ say about za’ama (they alleged, asserted, or it is said). He replied: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: it is a bad riding-beast for a man (to say) za’ama (they asserted). Abu DAwud said: This Abu Abdullah is Hudhaifah.

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ زعموا کا تعلق ایسے قول اور ایسی بات سے ہے جو غیر یقینی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں اس لئے آپ ﷺ نے اس لفظ و اپنے مقصد کے لئے سواری بنانے اور اس کی آڑ لے کر کوئی ایسی بات کہنے سے منع کیا ہے جو غیر محقق ہو اور جو پایہ ثبوت کو نہ پہنچتی ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٣٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٩، ٥/٤٠١) (صحیح )
4973Sunan Abu Dawood

خطبہ میں اما بعد کہنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں خطبہ دیا تو أما بعد کہا ١ ؎۔

Zaid bin Arqam said that the Prophet ﷺ addressed them, saying: To proceed (amma ba’d)

Notes · وضاحت
١ ؎: أما بعد کا کلمہ حمد و صلاۃ کے بعد کہا جاتا ہے، آپ ﷺ اس کلمہ کا استعمال کرتے تھے، اس سے متعلق روایت تقریباً بارہ صحابہ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٦٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل علي ٤ (٢٤٠٨) (صحیح )
4974Sunan Abu Dawood

کرم اور زبان کو پیچ وار گفتگو سے بچانے کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ: الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: حَدَائِقَ الْأَعْنَابِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی (انگور اور اس کے باغ کو) كرم نہ کہے ١ ؎، اس لیے کہ كرم مسلمان مرد کو کہتے ہیں ٢ ؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: None of you should Call (grapes) karm, for the karm is a Muslim man, but call (grapes) garden of grapes (hada’iq al-a’nab).

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ كرم یعنی انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے لوگ عمدہ اور بہتر سمجھتے ہیں اس لیے انگور کا نام كرم رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرما دیا تاکہ کبھی بھی شراب کی بہتری خیال میں نہ آئے۔ ٢ ؎: عرب رَجُلٌ کَرْمٌ اور قَوْمٌ کَرْمٌ کہتے ہیں رَجُلٌ کَرِیْمٌ اور قَوْمٌ کِرَامٌ کے معنی میں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٦٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ١٠١ (٦١٨٢)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٢ (٢٢٤٩)، مسند احمد (٢/٢٧٢، ٤٦٤، ٤٧٦) (صحیح )
4975Sunan Abu Dawood

آقا کو غلام اے میرے رب کہہ کر نہ پکارے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: عَبْدِي وَأَمَتِي، وَلَا يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ: رَبِّي وَرَبَّتِي، وَلْيَقُلِ الْمَالِكُ: فَتَايَ وَفَتَاتِي، وَلْيَقُلِ الْمَمْلُوكُ: سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي، فَإِنَّكُمُ الْمَمْلُوكُونَ، وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی (اپنے غلام یا لونڈی کو) عبدي (میرا بندہ) اور أمتي (میری بندی) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لونڈی (اپنے آقا کو) ربي (میرے مالک) اور ربتي (میری مالکن) کہے بلکہ مالک یوں کہے: میرے جوان! یا میری جوان! اور غلام اور لونڈی یوں کہیں: سيدي (میرے آقا) اور سيدتي (میری مالکن) اس لیے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: None of you must say: My slave (abdi) and My slave-woman (amati), and a slave must not say: My lord (rabbi or rabbati). The master (of a slave) should say: My young man (fataya) and My young woman (fatati), and a slave should say My master (sayyidi) and My mistress (sayyidati), for you are all (Allahs slave and the Lord is Allah, Most High.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٤٢٩، ١٤٤٥٩، ١٤٥٢٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العتق ١٧ (٢٥٥٢)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٣ (٢٢٤٩)، مسند احمد (٢/٤٢٣، ٤٦٣، ٤٨٤، ٤٩١، ٥٠٨) (صحیح )
4976Sunan Abu Dawood

آقا کو غلام اے میرے رب کہہ کر نہ پکارے

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلْيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں یہ ہے فرمایا: اور چاہیئے کہ وہ سيدي (میرے آقا) اور مولاى (میرے مولی) کہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version does not mention the Prophet ﷺ i. e, it does not go back to him. It has: He must say: “My master” (sayyidi) and “My patron” (mawlaya).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٢) (صحیح )
4977Sunan Abu Dawood

آقا کو غلام اے میرے رب کہہ کر نہ پکارے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدٌ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ منافق کو سید نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ سید ہے (یعنی قوم کا سردار ہے یا غلام و لونڈی اور مال والا ہے) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ١ ؎۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: Do not call a hypocrite sayyid (master), for if he is a sayyid, you will displease your Lord, Most High.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ تم نے اسے سید کہہ کر اس کی تعظیم کی حالانکہ وہ تعظیم کا مستحق نہیں اور اگر وہ ان معانی میں سے کسی بھی اعتبار سے سید نہیں ہے تو تمہارا اسے سید کہنا کذب و نفاق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الیوم واللیة (٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٦، ٣٤٧) (صحیح )