Sunan Abu Dawood 4963

ادب کا بیان

4963Sunan Abu Dawood

ابوعیسیٰ کنیت رکھنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَرَبَ ابْنًا لَهُ تَكَنَّى: أَبَا عِيسَى، وَأَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ تَكَنَّى بابي عِيسَى، فَقَالَ لَهُعُمَرُأَمَا يَكْفِيكَ أَنْ تُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَا تَأَخَّرَ، وَإِنَّا فِي جَلْجَتِنَا، فَلَمْ يَزَلْ يُكْنَى بابي عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى هَلَكَ.

اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر ؓ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ١ ؎ وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ ﷺ نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ٢ ؎ چناچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Zayd ibn Aslam quoted his father as saying: Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him) struck one of his sons who was given the kunyah Abu Isa, and al-Mughirah ibn Shubah had the kunyah Abu Isa. Umar said to him: Is it not sufficient for you that you are called by the kunyah Abu Abdullah? He replied: The Messenger of Allah ﷺ gave me this kunyah. Thereupon he said: The Messenger of Allah ﷺ was forgiven all his sins, past and those followed. But we are among the people similar to us. Henceforth he was called by the kunyah Abu Abdullah until he died.

Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ نے ابوعیسیٰ کنیت رکھنے سے اس وجہ سے منع کیا کہ اس بات کا خدشہ تھا کہ لوگ اس وہم میں نہ مبتلا ہوجائیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بھی کوئی باپ تھا، یہی وجہ ہے کہ عمر ؓ نے کہا کہ یہ کنیت رکھنا آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔ ٢ ؎: مقصد یہ ہے کہ ہم لوگ عام مسلمان ہیں، اور یہ نہیں معلوم کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٧) (صحیح )