Sunan Abu Dawood 4974

ادب کا بیان

4974Sunan Abu Dawood

کرم اور زبان کو پیچ وار گفتگو سے بچانے کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: الْكَرْمَ، فَإِنَّ الْكَرْمَ: الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ، وَلَكِنْ قُولُوا: حَدَائِقَ الْأَعْنَابِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی (انگور اور اس کے باغ کو) كرم نہ کہے ١ ؎، اس لیے کہ كرم مسلمان مرد کو کہتے ہیں ٢ ؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: None of you should Call (grapes) karm, for the karm is a Muslim man, but call (grapes) garden of grapes (hada’iq al-a’nab).

Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ كرم یعنی انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے لوگ عمدہ اور بہتر سمجھتے ہیں اس لیے انگور کا نام كرم رکھنے سے آپ ﷺ نے منع فرما دیا تاکہ کبھی بھی شراب کی بہتری خیال میں نہ آئے۔ ٢ ؎: عرب رَجُلٌ کَرْمٌ اور قَوْمٌ کَرْمٌ کہتے ہیں رَجُلٌ کَرِیْمٌ اور قَوْمٌ کِرَامٌ کے معنی میں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٦٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب ١٠١ (٦١٨٢)، صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ٢ (٢٢٤٩)، مسند احمد (٢/٢٧٢، ٤٦٤، ٤٧٦) (صحیح )