Sunan Abu Dawood 4977

ادب کا بیان

4977Sunan Abu Dawood

آقا کو غلام اے میرے رب کہہ کر نہ پکارے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدٌ، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدًا فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ منافق کو سید نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ سید ہے (یعنی قوم کا سردار ہے یا غلام و لونڈی اور مال والا ہے) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ١ ؎۔

Narrated Buraydah ibn al-Hasib: The Prophet ﷺ said: Do not call a hypocrite sayyid (master), for if he is a sayyid, you will displease your Lord, Most High.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ تم نے اسے سید کہہ کر اس کی تعظیم کی حالانکہ وہ تعظیم کا مستحق نہیں اور اگر وہ ان معانی میں سے کسی بھی اعتبار سے سید نہیں ہے تو تمہارا اسے سید کہنا کذب و نفاق ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الیوم واللیة (٢٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٦، ٣٤٧) (صحیح )