Sunan Abu Dawood 4874

ادب کا بیان

4874Sunan Abu Dawood

غیبت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُ ؟ قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ، قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَهَتَّهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا ۔

Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ was asked: Messenger of Allah! What is back-biting? He replied: it is saying something about your brother which he would dislike. He was asked again: Tell me how the matter stands if what I say about my brother is true? He replied: if what you say of him is true, you have slandered him is true you have slandered him, and if what you say of him is not true, you have reviled him.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٢٣ (١٩٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٠٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة ٢٠ (٢٥٨٩)، مسند احمد (٢/٢٣٠، ٤٥٨)، سنن الدارمی/الرقاق ٦ (٢٧٥٦) (صحیح )