Sunan Abu Dawood 4887

ادب کا بیان

4887Sunan Abu Dawood

کسی شخص کی غیبت، غیبت نہیں کہلاتی

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَمْضَمٍ، قَالُوا: وَمَنْ أَبُو ضَمْضَمٍ، قَالَ: رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: عِرْضِي لِمَنْ شَتَمَنِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيِّ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ.

عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( عرضي على عبادک ) کے بجائے ( عرضي لمن شتمني ) (میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔

Abdur-Rahman bin ‘Ajlan reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Is one of you unable to be like Abu Damdam? The people asked: who is Abu Damdam? He replied: A man of old before you. He then mentioned the rest of tradition to the tradition to the same effect. This version has: who would say (in the morning): My honors is for the one who reviles me. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Hashim bin al-Qasim from Muhammad bin Adb Allah al-Ammi from Thabit on the authority of Anas from Prophet ﷺ to the same effect. Abu Dawud said: The tradition of Hammad (i. e. Abdur-Rahmans version) is sounder.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٧، ١٩٢١٥) (ضعیف) (اس کے ضعیف ہونے کی وجہ ارسال ہے، تابعی یعنی ابن عجلان نے واسطہ ذکر نہیں کیا، اور وہ خود مجہول الحال ہیں )