ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روحیں (عالم ارواح میں) الگ الگ جھنڈوں میں ہوتی ہیں یعنی (بدن کے پیدا ہونے سے پہلے روحوں کے جھنڈ الگ الگ ہوتے ہیں) تو ان میں سے جن میں آپس میں (عالم ارواح میں) جان پہچان تھی وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جن میں اجنبیت تھی وہ دنیا میں بھی الگ الگ رہتی ہیں ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: The spirits are in marshalled hosts; those who know one another will be friendly, and those who do not, will keep apart.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٤٩ (٣٦٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٥، ٥٢٧، ٥٣٩) (صحیح )
ابوموسیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے، خوشخبری دینا، نفرت مت دلانا، آسانی اور نرمی کرنا، دشواری اور مشکل میں نہ ڈالنا۔
Abu Musa reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Gladden people and do not scare them; make things easy and do not make them difficult.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٣ (١٧٣٢)، (تحفة الأشراف: ٩٠٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٩، ٤٠٧) (صحیح )
سائب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، تو لوگ میری تعریف اور میرا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ان کو تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں میں نے عرض کیا: سچ کہا آپ نے میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں، آپ میرے شریک تھے، تو آپ ایک بہترین شریک تھے، نہ آپ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔
Narrated as-Saib: I came to the Prophet ﷺ . The people began to praise me and make a mention of me. The Messenger of Allah ﷺ said: I know you, that is, he knew him. I said: My father and mother be sacrificed for you! you were my partner and how good a partner ; you neither disputed nor quarrelled.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٣ (٢٢٨٧)، (تحفة الأشراف: ٣٧٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٥) (صحیح )
مسعر کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک بزرگ کو کہتے سنا کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ کی گفتگو میں ترتیل یا ترسیل ہوتی تھی یعنی آپ ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف گفتگو کرتے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ spoke in a distinct and leisurely manner.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر وہ کلام جس کی ابتداء الحمدللہ (اللہ کی تعریف) سے نہ ہو تو وہ ناقص و ناتمام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس، عقیل، شعیب، اور سعید بن عبدالعزیز نے زہری سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Every important matter which is not begun by an expression of praise to Allah is maimed. Abu Dawud said: It has also been transmitted by Yunus, Aqil, Shuaib, Saeed bin Abd al-Aziz from al-Zuhri from the Prophet ﷺ in Mursal form (the link of the Companion is missing).
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٩) (ضعیف )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے (یعنی وہ ناتمام اور ناقص ہے) یا اس ہاتھ کی طرح ہے جس میں جذام ہو ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Every sermon which does not contain a tashahhud is like a hand cut off.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ١٦ (١١٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٣) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ان کے پاس سے ایک بھکاری گزرا تو انہوں نے اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا، پھر ایک شخص کپڑوں میں ملبوس اور معقول صورت میں گزرا تو انہوں نے اسے بٹھایا اور (اسے کھانا پیش کیا) اور اس نے کھایا، لوگوں نے ان سے اس (امتیاز) کی بابت پوچھا تو وہ بولیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ کی حدیث مختصر ہے، اور میمون نے عائشہ ؓ کو نہیں پایا ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Maymun ibn Abu Shabib said: A beggar passed by Aisha (RA) and gave him a piece of bread. Another man who wore clothes and had good appearance passed by her, and she made her seated and he ate (with her). When she was asked about that, she replied: The Messenger of Allah ﷺ said: treat the people according to their ranks. Abu Dawud said: The version of Yahya is short. Abu Dawud said: Maimun did not see Aishah.
Notes · وضاحت
١ ؎: لوگوں کے ساتھ اس طرح پیش آؤ جیسا کہ ان کے منصب کے شایان شان ہو۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو ١ ؎ اور نہ اس سے دور پڑجانے والا ہو، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے۔
Narrated Abu Musa al-Ashari (RA) : The Prophet ﷺ said: Glorifying Allah involves showing honour to a grey-haired Muslim and to one who can expound the Quran, but not to one who acts extravagantly regarding it, or turns away from it, and showing honour to a just ruler.
Notes · وضاحت
١ ؎: غلو کرنے والے سے مراد ایسا شخص ہے جو قرآن مجید پر عمل کرنے، اس کے متشابہات کے معانیٰ میں کھوج کرنے نیز اس کی قرات اور اس کے حروف کو مخارج سے ادائیگی میں حد سے تجاوز کرنے والا ہو۔
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: It is not lawful for a man to separate two persons except with their permission.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ١٢ (١٧٥٣)، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١٣) (حسن صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے تھے تو اپنے ہاتھ سے احتباء کرتے تھے ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن ابراہیم ایک ایسے شیخ ہیں جو منکر الحدیث ہیں۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ sat, he had his knees drawn up supported by his hands. Abu Dawud said: And Allah bin Ibrahim was an old man and his traditions were rejected.
Notes · وضاحت
١ ؎: سرین زمین پر لگا کر دونوں پاؤں کھڑے کر کے اور دونوں ہاتھوں سے پاؤں پر حلقہ بنا کر بیٹھنے کو احتباء کہتے ہیں۔
قیلہ بنت مخرمہ ؓ نے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ دونوں ہاتھ سے احتباء کرنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے تو جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیٹھنے میں مختشع اور موسیٰ کی روایت میں ہے متخشع ١ ؎ دیکھا تو میں خوف سے لرز گئی ٢ ؎۔
Narrated Qaylah daughter of Makhramah (RA) : She saw the Prophet ﷺ sitting with his arms round his legs. She said: When I saw the Messenger of Allah ﷺ in such humble condition in the sitting position (according to Musas version), I trembled with fear.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں لفظوں میں سے پہلا باب افتعال، اور دوسرا باب تفعل سے ہے، دونوں کے معنیٰ عاجزی اور گریہ وزاری کرنے والا ہے۔ ٢ ؎: یہ نور الٰہی کا اجلال تھا کہ عاجزی کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا رعب دل میں اتنا زیادہ سما گیا۔
شرید بن سوید ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ گزرے اور میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھ چھوڑا تھا اور اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب نازل ہوا؟ ۔
Amr bin al-Sharid quoted his father al-Sharid bin Suwaid as saying: The Messenger of Allah ﷺ came upon me when I was sitting thus: having my left hand behind my back and leaning on the fleshy part of it, and said: Are you sitting in the manner of those with whom Allah is angry?
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٨٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی کے مثل فرمایا، ابوصالح کہتے ہیں: میں نے ابن عمر سے کہا: اگر چار آدمی ہوں تو؟ وہ بولے (تو کوئی حرج نہیں) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی۔
A similar tradition has been transmitted by Ibn Umar through a different chain of narrators. This version has: Abu Salih said: I asked Ibn Umar (RA) : If they are four? He replied: then it does not harm you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٧١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٨، ٤٣، ١٤١) (صحیح )
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس (اس جگہ بیٹھنے) کا زیادہ مستحق ہے ۔
Abu Salih said: I was sitting with my father and there was also a boy with him. He got up and then returned. So my father mentioned a tradition on the authority of Abu Hurairah from the prophet ﷺ saying: If anyone gets up from where he has been sitting and comes back to it, he has most right to it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٦٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ١٢ (٢١٧٩)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٢ (٣٧١٧)، مسند احمد (٢/٣٤٢، ٥٢٧)، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٥ (٢٦٩٦) (صحیح )