Explained with ayahs 94–96
فاسق اور چوہے کی مماثلت
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میدان جہاد سے واپس مدینے پہنچو گے تو سبھی منافق عذر و معذرت کرنے لگیں گے۔ تم ان سے صاف کہہ دینا کہ ہم تمہاری ان باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیتوں سے ہمیں خبردار کردیا ہے۔ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سب لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ پھر آخرت میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہی ہے وہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے۔ تمہارے ایک ایک کام کا بدلہ دے گا خیر و شر کی جزا، سزا سب بھگتنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لے اپنی معذوری اور مجبوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے قسمیں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
سورة التَّوْبَة 94
پہلے فقرے میں صرف نظر سے مراد درگزر ہے اور دوسرے فقرے میں قطع تعلق۔ یعنی وہ تو چاہتے ہیں کہ تم ان سے تعرض نہ کرو، مگر بہتر یہ ہے کہ تم ان سے کوئی واسطہ ہی نہ رکھو اور سمجھ لو کہ تم ان سے کٹ گئے اور وہ تم سے۔
Read the full tafseer →دوسرا حکم دوسری آیت میں بیان ہوا ہے کہ یہ لوگ آپ کی واپسی کے بعد جھوٹی قسمیں کھا کر آپ کو مطمئن کرنا چاہیں گے، اور مقصد اس سے یہ ہوگا کہ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ، یعنی آپ کی اس غیر حاضری جہاد کو نظر انداز کردیں، اس پر ملامت نہ کریں، اس پر یہ ارشاد ہوا کہ ان کی یہ خواہش آپ پوری کردیں فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ، یعنی آپ ان سے اعراض کریں نہ تو ان پر ملامت و سرزنش کریں اور نہ شگفتہ تعلقات ان سے رکھیں، کیونکہ ملامت سے تو کوئی فائدہ نہیں، جب ان کے دل میں ایمان ہی نہیں اور اس کی طلب بھی نہیں تو ملامت کرنے سے کیا ہوگا، فضول اپنا وقت ضائع کیوں کیا جائے۔
Read the full tafseer →سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭفَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭاِنَّھُمْ رِجْسٌ ۡ وَّمَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۚجَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۔ اس آیت میں ایک ہی لفظ ’ اعراض ‘ پہلو بہ پہلو نہایت بلاغت سے دو مختلف بلکہ متضاد معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اعراض کا ایک مفہوم تو کسی سے منہ پھیرلینا ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آپ کسی کے عذر کو قبول کر کے اس سے درگزر کرلیں اور اس سے راضی ہوجائیں۔ فرمایا کہ تمہاری واپسی پر یہ قسمیں کھا کھا کے تمہیں راضی اور مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے کہ جو کچھ ہوچکا ہے اس کو نظر انداز کرو، سو ٹھیک ہے اب ان سے اعراض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
93۔ 1 یہ منافقین ہیں جن کا تذکرہ آیت 86، 87 میں گزر ا۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر مخلص مسلمانوں کے مقابلے میں ہوا ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ خَوَالِفُ ، خَالِفَۃ، ُ (پیچھے رہنے والے) مرد عورتیں، بچے معذور اور شدید بیمار اور بوڑھے ہیں جو جنگ میں شرکت سے معذور ہیں۔ لا یَعْلَمُوْ نَ کا مطلب ہے وہ نہیں جانتے کہ پیچھے رہنا کتنا بڑا جرم ہے، ورنہ شاید وہ رسول ﷺ سے پیچھے نہ رہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
73: یہاں ”در گذر کرنے“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بات سن کر انہیں نظر انداز کردیا جائے، نہ تو فوری پر انہیں کوئی سزا دی جائے۔ اور نہ یہ وعدہ کیا جائے کہ ان کی معذرت قبول کرلی گئی ہے۔ اور انہیں معاف کردیا گیا ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ اگلے جملے میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اپنے نفاق کی وجہ سے یہ سراپا گندگی ہیں، ان کی معذرت جھوٹی ہے جو انہیں اس گندگی سے پاک نہیں کرسکتی، اور آخر کار ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔
پارہ 11 ایک نظر میں
یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے…
Read the full tafseer →2 تبوک سے واپسی کے بعد منافقین جھوٹی قسمیں کھاکر جو عذر پیش کرتے تھے اس کی غرض یہ تھی کہ پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو اپنی قسموں اور ملمع سازیوں سے راضی و مطمئن کردیں تاکہ بارگاہ رسالت سے ان پر کوئی عتاب و ملامت اور دارو گیر نہ ہو۔ سابق کی طرح یوں ہی معاملہ ابہام میں رہے۔ مسلمان ان سے کچھ تعرض نہ کریں۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ بہتر ہے تم ان سے تعرض مت کرو۔ لیکن یہ اغماض و تغافل (تعرض نہ کرنا) راضی و مطمئن ہونے کی بناء پر نہیں، بلکہ ان کے نہایت پلید اور شریر ہونے کی وجہ سے ہے، یہ لوگ اس قدر گندے واقع ہوئے ہیں کہ ان کے پاک و صاف ہونے کی کوئی توقع نہیں رہی۔ لہذا اس غلاظت کی پوٹ کو دور پھینک دینا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت 94 یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْہِمْ ط
یَعْتَذِرُوْنَچونکہ فعل مضارع ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں بھی ہوسکتا ہے اور مستقبل میں بھی۔ اگر تو یہ آیات تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئی ہیں تو ترجمہ وہ ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اگر ان کا نزول رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد ہوا ہے تو ترجمہ یوں ہوگا : بہانے بنا رہے ہیں وہ تمہارے پاس آکر جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر آگئے ہو
قُلْ لاَّ تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ اَخْبَارِکُمْ ط۔
مہم پر جانے سے قبل تو حضور ﷺ اپنی طبعی شرافت اور مروّت کے باعث منافقین کے جھوٹے بہانوں پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
107 قسمیں کھانے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں مسلمان ہی سمجھا جائے :۔ یعنی جب وہ آ کر اپنے عذر پیش کر کے اپنے بیان پر قسمیں کھانے لگے تو ان سے مختلف سوالات کر کے ان کے بیانات کی تحقیق نہ شروع کردینا۔ وہ اپنے عذر اس لیے پیش نہیں کر رہے کہ آپ ان سے سوالات شروع کردیں بلکہ اس لیے کہ آپ ان سے درگزر کریں اور کچھ تعرض نہ کریں۔ سو آپ ان سے پوری طرح اعراض کیجئے۔ کیونکہ یہ نجس اور بد باطن لوگ ہیں۔ مسلمانوں کو ان سے میل ملاپ بھی نہ رکھنا چاہیے تاکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا کچھ احساس ہوجائے۔ ان کے قسمیں کھانے کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ آپ ان سے راضی رہیں۔ اور ان سے مسلمانوں کے تعلقات ویسے ہی برقرار رہیں جیسے پہلے تھے…
Read the full tafseer →171۔ (اور کسی قسم کی ملامت ومؤاخذہ ان سے نہ کرو) (آیت) ” سیحلفون “۔ یہ حلف اس مضمون کا ہوگا کہ ہم کو فلاں فلاں مجبوریاں اور معذوریاں لاحق رہیں۔ (آیت) ” اذا انقلبتم الیھم “۔ یعنی جب تم معرکہ جہاد سے مدینہ واپس ہوگے ، (آیت) ” لتعرضوا عنھم “۔ اعراض یہاں عفو و درگزر اور چشم پوشی کے معنی میں ہے۔ اے لتصحفوا من لومھم (قرطبی)
172۔ (اور اس دنیا میں ان کی اصلاح کی امید نہ رکھو) یعنی اچھی بات ہے ان کی خواہش پوری کردو اور ان کی طرف التفات بھی نہ کرو۔ تعرض سے مقصود تو اصلاح ہوتی ہے، سو اس کی کوئی توقع ہی ان کے خبث کی بنا پر نہیں۔ (آیت) ” فاعرضوا “۔ اعراض یہاں ردوترک اور قطع تعلق کے مفہوم میں ہے۔
173۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : جب آپ غزوہ سے لوٹ کر ان کے پاس جائیں گے تو وہ پیچھے رہ جانے کے (طرح طرح) کے اعذار پیش کریں گے (مگر) آپ کہہ دینا بہانے نہ کرو، ہم تمہاری بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں گے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دئیے ہیں، یعنی تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے، اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر بعث کے بعد تم ایسی ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے یعنی اللہ کی طرف اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو جس کی جزاء وہ تم کو دے گا، اب جب تم اظہار ناراضگی کو ترک کر کے ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر…
Read the full tafseer →سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم لتعرضوا عنھم جب تم ان کے پاس پلٹ کر جاؤ گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے اعراض کرلو۔ اور ان کو عتاب نہ کرو۔
فاعرضوا عنھم سو تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو اور ان کو سخت سست نہ کہو ‘ نہ ان کے ساتھ رہو۔
انھم رجس وہ لوگ بالکل گندے ہیں۔ یعنی ان کے باطن گندے ہیں ‘ اسلئے ان سے انسیت بڑھانا اور ان کی صحبت اختیار کرنا جائز نہیں اور چونکہ ان میں پاک ہونے اور پاکیزہ بننے کی صلاحیت و قابلیت ہی باقی نہیں رہی ‘ اسلئے ان کو عتاب و سرزنش بھی نہ کرو۔ عتاب کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ پر آمادہ ہوجائیں اور پچھلی حرکتوں سے رجوع کر کے آئندہ کیلئے…
Read the full tafseer →(95) جب آپ کی غزوہ تبوک سے مدینہ منورہ واپسی ہوگی تو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی آکر قسمیں کھائیں گے کہ ہم مجبور تھے۔
Read the full tafseer →سَيَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ : اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھانے سے ان کا مقصد یہ ہے کہ تم ان سے اعراض کرو، سو واقعی تم ان سے اعراض کرو۔ پہلے اعراض کا مطلب ہے کہ تم ان سے درگزر اور چشم پوشی کرو اور دوسرے اعراض کا مطلب یہ ہے کہ تم ان سے درگزر اور چشم پوشی کے ساتھ قطع تعلق بھی کرو۔ پھر ان سے قطع تعلق کا سبب بیان فرمایا کہ یہ رجس ہیں، جس کا معنی ”گندگی“ ہے، یعنی عقائد و اعمال کے لحاظ سے وہ اتنے گندے ہیں کہ سمجھو سراسر گندگی ہیں، گندگی کی پوٹ ہیں۔ گندگی سے تعلق کا نتیجہ آلودگی ہی ہے، اس لیے ان سے بچ جاؤ، تاکہ کہیں ان سے متاثر نہ ہوجاؤ۔ ”صحبت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 95
قولہ تعالیٰ : (آیت) سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم وہ تمہارے سام نے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم تبوک سے ان کی طرف لوٹوگے۔ اس میں محلوف علیہ محذوف ہے، یعنی وہ قسمیں کھائیں گے کہ وہ نکلنے پر قادر نہ تھے۔ لتعرضو اعنھم تاکہ تم انہیں ملامت کرنے سے درگزر کرو۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یعنی تم ان سے کلام نہ کرو۔ اور حدیث میں ہے کہ جب حضور ﷺ تبوک سے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :” نہ تم ان کے ساتھ بیٹھو اور نہ ان سے کلام کرو “ (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 96) ۔ (آیت) انھم رجس یعنی ان کا عمل ناپاک اور پلید ہے۔ اور تقدیر کلام یہ ہے : انھم ذورجس یعنی ان کا عمل قبیح اور برا ہے۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” انما السبیل علی الذین یستاذنونک “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت اور جو اس کے بعد ہے یعنی (آیت) ” فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین “ تک منافقین کے بارے میں۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قد نبانا اللہ من اخبارکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ خبر دی گئی اگر تم نکلتے ہمارے ساتھ تو تم لوگ ہمارے ساتھ نہ زیادہ کرتے مگر فساد یا خرابی کو اور فرمایا (آیت) ” فاعرضوا عنہم انہم رجس “ یعنی رجس یعنی جب نبی کریم ﷺ واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا (صحابہ کرام…
Read the full tafseer →سَيَحْلِفُوْنَ [وہ لوگ قسم کھائیں گے ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَكُمْ [ تمہارے لیے ( یعنی سامنے ) ] اِذَا [جب ] انْقَلَبْتُمْ [ تم لوگ پلٹوگے ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] لِتُعْرِضُوْا [ تاکہ تم لوگ درگزر کرو ] عَنْھُمْ ۭ [ ان سے ] فَاَعْرِضُوْا [ تو تم لوگ اعراض کرو ] عَنْھُمْ ۭ [ ان سے ] اِنَّھُمْ [ بیشک وہ سب ] رِجْسٌ ۡ [ نجس ہیں ] وَّمَاْوٰىھُمْ [ اور ان کا ٹھکانہ ] جَهَنَّمُ ۚ [جہنم ہے ] جَزَاۗءًۢ [ بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [اس کا جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ کماتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
تبوک سے واپسی پر عذر پیش کرنے والوں کو جواب
جن لوگوں نے تبوک سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جھوٹے عذر پیش کیے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ جل شانہٗ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آپ کی واپسی پر یہ لوگ عذر پیش کریں گے۔ آپ ان سے فرما دیں کہ ہم تمہاری بات سچی نہیں مانیں گے تمہارے حالات کی اللہ نے ہمیں پہلے سے خبر دے دی ہے۔ اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کار گزاری دیکھ لے گا۔ اور تمہاری پول کھلتی رہے گی۔ یہ ذلت تو دنیا میں ہوگی پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور شہادت سب کا جاننے والا ہے جو چیزیں ظاہر ہیں وہ انہیں بھی جانتا ہے اور جو چیزیں مخلوق سے پوشیدہ ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
قال اللہ تعالیٰ ۔ یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین
(ربط): اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے غزوۂ تبوک کی روانگی کے وقت طرح طرح کے عذر اور حیلے بہانے تراشے تھے اب ان آیات میں ان منافقین کے متعلق خبر دی جاتی ہے جو اس غزوہ سے واپس آنے کے بعد تمہارے پاس آ کر اپنے نہ جانے کے عذر بیان کریں گے۔ یہ آیتیں غزوۂ تبوک کی واپسی سے پہلے نازل ہوئیں جن میں یہ خبر دے دی گئی کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی واپسی کے بعد آپ ﷺ کے پاس آکر آپ کے ساتھ نہ جانے کے عذر بیان کریں گے اور قسمیں کھائیں گے مگر اے نبی آپ ان سے صاف کہہ دیجئے کہ اب کوئی عذر نہ کرو۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری…
Read the full tafseer →90:“ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ الخ ” اس میں بھی ان منافقین کا ذکر ہے جو بغیر کسی عذر کے جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ یعنی جب آپ واپس لوٹ کر ان کے پاس پہنچیں تو وہ قسمیں کھا کھا کر اپنی سچائی اور معذوری بیان کریں گے تاکہ آپ ان سے درگذر کریں۔ “ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ” تم ان سے منہ موڑ لینا کیونکہ وہ نہایت ناپاک لوگ ہیں اور تمہاری صحبت ومجلس کے لائق نہیں ہیں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ ان کے اپنے ہی اعمال کی سزا ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
جہادسازی :
اللہ تعالیٰ نے منافقین کی بایں وجہ مذمت بیان فرمائی کہ نہ تو وہ خوشی خاطر سے جہاد میں شریک ہوتے ہیں اور نہ مال خرچ کرتے ہیں ، انہوں نے غزوہ تبوک پر جانے سے پہلے کچھ حیلے بہانے بنائے حالانکہ وہ یہ سفر اختیار کرنے کے لیے جسمانی اور مالی لحاظ سے مضبوط تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کے ان حیلوں بہانوں کا تذکرہ کیا ہے جو وہ غزوہ سے واپسی پر مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم “ یہ لوگ حیلے بنائیں گے اور عذر پیش کریں گے تمہارے سامنے جب تم لوٹ کر ان کے پاس آئو گے۔ اس آیت کا مصداق 9 ھ میں پیش آنے والا غزوہ تبوک…
Read the full tafseer →سَيَحْلِفُوْنَ بِاللہِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْہِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ 0 ۭ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ 0 ۭ اِنَّھُمْ رِجْسٌ 0 ۡوَّمَاْوٰىھُمْ جَہَنَّمُ 0 ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 95
حلف
الحِلْف : العهد بين القوم، والمُحَالَفَة : المعاهدة، وجعلت للملازمة التي تکون بمعاهدة، وفلان حَلِفُ کرم، وحَلِيف کرم، والأحلاف جمع حلیف، قال الشاعر وهو زهير :
تدارکتما الأحلاف قد ثلّ عرشها أي : كاد يزول استقامة أمورها، وعرش الرجل : قوام أمره .
والحَلِفُ أصله الیمین الذي يأخذ بعضهم من بعض بها العهد، ثمّ عبّر به عن کلّ يمين، قال اللہ تعالی: وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ [ القلم/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
3 ؎ کہ جہاد میں دنیا و آخرت کے کیا کیا فوائد ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ ِاذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِم ط قُلْ لَّاتَعْتَذِرُوْالَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْنَبَّاناَ اللَّہُ مِنْ اَخْبَاِرکُمْ وَ سَیََرَی اللَّہُ عَمَلَکُمْ وَ َرسُوُلُہ ‘ ثُمَّ تُرَدُّونَ اِلیٰ عٰلِمِ الْغَیبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّـُٔکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
(جب آپ لوٹ کر ان کی طرف جائیں گے تو وہ آپ ﷺ کے سامنے عذر پیش کرینگے۔ کہہ دیجیے ’ کہ بہانے مت بنائو ہم تمہارا اعتبار نہیں کرینگے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے۔ اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے۔ پھر تم لوٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔ پھر وہ تمہیں…
Read the full tafseer →شروع کیں۔ ادھر راستہ میں ہی رب کریم نے اپنے رسول کو آگاہ فرمادیا کہ آپ جوں ہی مدینہ ورود مسعود فرمائیں گے تو منافق ٹولیوں کی صورت میں آپ کے سامنے اپنی معذرتیں پیش کریں گے۔ لیکن اب ان کی کسی معذرت کو درخور اعتنا نہ سمجھا جائے بلکہ منافقین کو کھلے الفاظ میں بتلایا جائے کہ میرے رب نے مجھے تمہاری سازشوں اور ملمع سازیوں سے پوری طرح آگاہ فرما دیا ہے لہٰذا تمہارے کسی عذر اور بہانہ کو قبول نہیں کیا جائے گا البتہ تم آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کی کوشش کرو تو اللہ اور اس کا رسول تمہارے کردار کو دیکھیں اور جانچیں گے کہ تم اپنے قول و فعل میں کتنے سچے ثابت ہوتے ہو۔
اے منافقو ! نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ سے…
Read the full tafseer →وہ جان چھڑانے کے لئے قسمیں اٹھائیں لگے تم ان سے اعراض کرو :
آیت 95: سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ (ہاں وہ اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کے پاس واپس جائو گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو ) تاکہ تم ان کو چھوڑ دو اور تو بیخ بالکل نہ کرو۔ فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ (پس تم ان سے اعراض کرو) ان کی طلب پوری کردو۔ اِنَّھُمْ رِجْسٌ (وہ لوگ بالکل گندے ہیں) یہ ترک عتاب کی علت ہے یعنی عتاب ان کے لئے کوئی فائدہ مند نہیں۔ اور ان کے مناسب نہیں کیونکہ وہ پلیدی ہے جس کی تطہیر کی کوئی صورت نہیں۔ وَّمَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ (اور ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
آیت نمبر 95: جب تم ان کی طرف جہاد سے لوٹو گے ” لتعرضوا عنھم “ تاکہ تم ان سے در گزر کرو۔ ” فاعرضوا عنھم “ ان کو چھوڑ دو اور جو انہوں نے اپنے لیے نفاق کو اختیار کیا ہے ” انھم رجس “ یعنی بیشک ان کا عمل بہت برا ہے۔” وما وھم “ آخرت میں ” جھنم جزآء م بما کانوا یکسبون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جد بن قیس اور معتب بن قشیر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ یہ اسی (0 8) منافقین تھے جب نبی کریم ﷺ واپس تشریف لائے تو فرمایا ان کے ساتھ نہ بیٹھنا اور ان سے بات بھی نہ کرنا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے نبی کریم ﷺ کے لیے اللہ کی قسم کھائی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
92۔ 96۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو اپاہج بڈھے یا مفلس ہونے کے سبب سے لڑائی پر نہیں گئے اور ان لوگوں کو معذور ٹھہرا کر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ سرزنش کے قابل نہیں ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ اصلی سرزنش کے قابل وہ لوگ ہیں جو باوجود دولت مند ہونے اور ہٹے کٹے ہونے کے اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر بیٹھ رہے اور آگے کی آیتوں میں دور تک ان لوگوں کا ذکر ہے جس ذکر میں ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ایک توہ جنہوں نے آنحضرت سے جھوٹے عذر کئے ان کی نسبت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں اور اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب رکھا ہے دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے اپنے قصور پر خود قائل ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت (94 تا 96)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذخر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا : (یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم) ” جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ “ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمہارے پاس معذرت کریں گے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجئے ! (لا تعتذ روالن نومن لکم) ” تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے “ یعنی ہم تمہاری جھوٹٰ معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ (قد نبانا اللہ من اخبارکم) ” اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے خبردار کردیا ہے “ اور اللہ تعالیٰ اپنے…
Read the full tafseer →مشرکین سے کنارہ کشی لازم ہے
قول باری ہے فاعرضوا عنھم انھم رجس بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو کیونکہ یہ ایک گندگی ہیں ۔ یہ اس قول باری کی طرح ہے انما المشرکون نجس ۔ مشرکین تو ناپاک ہیں ۔ اس لیے کہ جس کے لفظ سے نجس کی تعبیر کی جاتی ہے اور تابع کے طور پر رجس نجس کہا جاتا ہے۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ کافروں سے کنارہ کشی اختیار کرنا ، ان سے ترک موالات یعنی دوستی نہ گانٹھنا ، ان کے ساتھ گھل مل نہ جانا ، ان سے مانوس نہ ہونا اور ان کی تقویت کا باعث نہ بننا واجب ہے۔
Read the full tafseer →180 منافق لوگ نرے پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ ۔ { انہم رجس وماواہم جہنم } ۔ کہ یہ نرے پلید ہیں اور ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ سو منافق لوگ حسّی، معنوی اور حکمی ہر طرح کی نجاست سے یہ لوگ آلودہ ہیں۔ اس لئے یہ منہ لگانے کے قابل نہیں۔ اور جب ٹھکانا ان سب کا دوزخ ہے تو پھر تمہیں ان سے الجھنے اور جھگڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ کہ اس آتش سوزاں کا دائمی عذاب ہی ان کے لئے کافی و وافی ہے۔ پس ان سے منہ موڑ لو اور ان کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے اور اپنے کیے کرائے کا بھگتان انہوں نے بہرحال بھگتنا ہے۔ بہرکیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
منافقین کے بہانے اور مسلمانوں کو ہدایات
تشریح : پچھلی آیات میں غزوئہ تبوک کے لیے نکلنے سے پہلے منافقین کے جہاد پر نہ جانے کے حیلے بہانوں کا ذکر ہے۔ یہ آیات غزوئہ تبوک سے واپس آنے سے پہلے نازل ہوچکی تھیں کہ اب جب آپ واپس پہنچیں گے تو پھر منافقین کا عمل وہی ہوگا، یعنی قسمیں کھائیں گے، جھوٹے بہانے بنائیں گے، چاپلوسی کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ نے پہلے سیہدایات دے دیں کہ انکو بتا دینا اللہ سب کچھ جانتا ہے اس نے تمہارے دل کے کھوٹ، جھوٹے حیلے بہانے اور منافقت سب کچھ مجھے بتا دیا ہے اور اب تمہیں مہلت دی جاتی ہے کہ اپنی منافقت سے توبہ کرلو تو تمہیں معاف کردیا جائے گا۔ پھر فرمایا کہ آپ ان لوگوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیات 94 تا 99
اسرار و معارف
منافقین کا قاعدہ ہی یہی ہے کہ جب آپ واپس جائیں گے تو معذرت کرنے حاضر ہوجائیں گے اور مختلف بہانے کریں گے حضور ! ہم تو خادم ہیں بس فلاں مجبوری درمیان آگئی اور جب ایمان کمزور ہو یہی حال ہوتا ہے جیسے آج بھی کوئی مصروفیت یا تھوڑی بہت بیماری ہی آجائے تو لوگ سب سے پہلے نماز کو خیر یاد کہتے ہیں یعنی مصر وفیات کا سب سے کمزور حصہ دین ہی ہے۔ مگر لوگوں کے سامنے یہ بات قبول کرنا پسند نہیں کرتے اور حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں تو آپ فرمادیجئے ! کہ ہمیں تو اللہ نے تمہاری سب باتیں بتاوی ہیں ۔ یہ صورت یقنی طور پر تو صرف وحی کے سبب تھی مگر دک کی بات دل کو پہنچ ضرور جاتی ہے ۔ اگر چہ آپ…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی انہوں نے جو جہاد میں حصہ نہیں لیا اور گھروں میں بیٹھے رہے اس پر انہیں معذور سمجھتے ہوئے اغماض اور چشم پوشی کرو اور کسی قسم کی ملامت نہ کرو۔ (کبیر)
4 ۔ یعنی ان سے قطع تعلق کرلو اور کسی قسم کا میل جول نہ رکھو۔ پہلے فقرے میں اعراض کے معنی درگزر اور چشم پوشی کے ہیں اور یہاں اس کے معنی قطع تعلق کے۔ یعنی وہ تو صرف چشم پوشی چاہتے ہیں مگر تمہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ ان سے قطع تعلق ہی کرلو۔ حضرت ابن عباس سے یہی تفسیر منقول ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے جب آپ مدینہ واپس آگئے تو آپ نے فرمایا۔ لاتجالسوھم ولا تکلموھم۔ کہ ان سے ہم مجلسی اور گفتگو ختم کردو۔ ھؤلاء طلبو اعراض الصفح فاعطوا اعراض المقت۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(9:95) اذا انقلبتم الیہم۔ تم ان کی طرف پھرو گے، تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ (ماضی بمعنی مضارع)
لتعرضوا عنھم۔ اعرض یعرض اعراض (افعال) عن منہ موڑنا۔ منہ پھیرنا۔ اعراض کرنا۔ درگزر کرنا۔ معاف کرنا۔
یہاں بمعنی۔ تاکہ تم ان کو معاف کردو۔ ان سے درگزر کرو۔ صرف نظر کرو۔ تعرض نہ کرو ۔ اسی معنی میں ہے۔ فاعرض عنھم وعظھم (4:63) تم ان سے اعراض برتو (درگزر کرو) اور نصیحت کرتے رہو۔ منہ پھیرنے ۔ روگردانی کرنے ۔ کنارہ کشی کرنے کے معنی میں آیۃ ہذا میں ہی ہے۔ فاعرضوا عنھم۔ پس تم ان سے منہ پھیر لو۔ کنارہ کشی اختیار کرو۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ واعرض عن الجاہلین (7:199) اور جاہلوں سے کنارہ کشی کرو۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 96
یعتذرون (وہ عذر کرتے ہیں، کریں گے) رجعتم (تم لوٹے) لن نومن (ہم ہرگز یقین نہ کریں گے) نبانا اللہ (ہمیں اللہ نے بتا دیا ہے) اخبار (حالات، خبریں) تردون (تم لوٹائے جائو گے) علم الغیب والشھادۃ (پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا) ینبی (وہ بتائے گا) انقلبتم (تم پلٹے) لتعرضوا (تاکہ تم درگزر کرو) اعرضوا (درگزر کرو، معاف کر دو ) یحلفون (وہ قسمیں کھائیں گے) لترضوا (تاکہ تم راضی ہو جائو) لایرضی (وہ راضی نہ ہوگا)
تشریح : آیت نمبر 94 تا 96
گزشتہ آیات سے منافقین کی عادتوں کا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس پہنچیں گے تو وہ قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عقبیٰ کے عذاب وثواب کا یقین نہیں ہے۔ اس لئے رات دن بےدھڑک یہ لوگ طرح طرح کے گناہوں میں گرفتار رہتے ہیں، اور کثرت گناہوں سے ان کے دل پر ایسا زنگ چھا گیا ہے کہ اس زنگ کے سبب سے ان کا دل ناپاک ہوگیا۔ جس سے جہاد کی خوبی کی یا اور کسی نیک بات کے سمجھنے کی صلاحیت ان کے دل میں نہیں رہی ہے۔ پھر فرمایا : ” اے رسول ﷺ اللہ کے ! تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان جب مدینہ میں جاؤ گے تو یہ لوگ طرح طرح کے عذر کریں گے۔ اس پر ان لوگوں کو یہ جواب دینا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل کا حال ہم کو بتلا دیا ہے۔ اس لئے اب تو ہم تمہارے عذروں کی صداقت نہیں کرسکتے۔ ہاں تمہاری آئندہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
[50] یعنی ان سے درگزر کرو۔ یہاں اعراض درگزر اور چشم پوشی کے معنی میں ہے۔
[51] یعنی قطع تعلق کرلو۔ یہاں اعراض تعلق ختم کرنے کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
منافقین کی معذرت :
(ف 1) ایک وہ خوش نصیب مسلمان تھے جنہوں نے رسول کی پیروی کی اور توحید کی حفاظت کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ، میدان جہاد میں پہنچے اور کفار سے لڑے ، دوسرے وہ محرومان قسمت تھے ، بزدلی میں جن کی راہنمائی کی ، اور گھروں میں گھسے بیٹھے رہے اور اس وقت بیٹھے رہے جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ یہ لوگ بربکف ہو کر نکلتے اور اپنے خون سے شجر اسلام کو سینچتے ، یہ جرم واقعی غداری ہے ، اللہ سے غداری ہے رسول سے غداری ہے اور اسلامی مصالح سے غداری ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب آپ لوگ جہاد سے لوٹیں گئے تو یہ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آئیں گے اور جھوٹے عذر پیش کریں گے آپ کو یقین دلانے…
Read the full tafseer →95 جب تم غزوئہ تبوک سے پلٹو گے اور مدینے پہنچوگے تو تمہارے سامنے قسمیں بھی کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو اور ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو تو تم ان سے بالکل ہی اعراض و اجتناب کرو اور ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو یہ لوگ بالکل ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اس کمائی کے بدلے میں جو یہ کسب کیا کرتے تھے یعنی جب تم لوٹوگے تو یہ لوگ قسمیں بھی کھائیں گے کہ تم ان سے درگزر کرو اور ان کو جانے دو تو تم ان کی خواہش پوری کردو اور ان کو بالکل ہی چھوڑ دو یہ لوگ تو ناپاک ہیں اور ان کا آخر کار ٹھکانا دوزخ ہے لہٰذا تم ان کو منہ نہ لگائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 4۔ اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے روانگی کے وقت عذر تراشتے تھے آگے ان کا ذکر ہے جنہوں نے واپسی کے بہانے تصنیف کیے یہ اگلی آیتیں واپسی کے قبل نازل ہوئیں جن میں اغراض خانیہ اعراض ورضائے خلق کی تحصیل کے لیے ان کی بہانہ سازی یعتذرون میں پیشین گوئی ہے اور قل لاتعتذروا اور فاعرضوا میں اس عذر کے وقت ان کے ساتھ قولا و عملا برتاو کی تعلیم ہے اور ساتھ ساتھ عذاب کی وعیدیں ان کو سنائی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →126: جیسا کہ آپ پچھلے بڑی تفصیل سے پڑھ چکے کہ منافق کی علامات میں سے ایک علامت اس کے جھوٹ بولنے کی بھی ہے اور وعدہ خلافی کرنے کی بھی اب تمہارے پاس ایک اور صرف ایک راستہ باقی رہ گیا ہے کہ تم زبانی جمع خرچ کرنے کی بجائے اپنے اللہ کو اور اس کے رسول کو اخلاص و اطاعت کے ذریعہ راضی کرلو لیکن اس کے لئے وقت خرچ ہوگا اور اگر تم نے کوئی عملی اقدام کیا تو تمہاری توبہ کا حال سب لوگوں پر کھل جائے گا اور اللہ تو پہلے ہی تمہاری ہر حرکتت سے اچھی طرح واقف ہے کہ تم رفع الوقتی کر رہے ہو یا فی الحقیقت تمہارے دلوں میں کچھ تبدییہ آئے گی۔ اس طرح تمہیں ایک ایک بات پر دس دس قسمیں کھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ الٹا…
Read the full tafseer →2. The second instruction to the Holy Prophet ﷺ appears in the second verse (95) where it has been said that these people will come to him after his return to Madinah, impress him with their feigned oaths and try to satisfy him. What they would wish to achieve from this initiative is: لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ (so that you may ignore their misdeed), that is, ignore their absence from Jihad and spare the reproach due on it.' Thereupon, it was said that he might as well grant their wish. The text says: فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ :` you ignore them.' Thus, the instruction carries the sense: ` neither…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →