Explained with ayahs 94–96
فاسق اور چوہے کی مماثلت
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میدان جہاد سے واپس مدینے پہنچو گے تو سبھی منافق عذر و معذرت کرنے لگیں گے۔ تم ان سے صاف کہہ دینا کہ ہم تمہاری ان باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیتوں سے ہمیں خبردار کردیا ہے۔ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سب لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ پھر آخرت میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہی ہے وہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے۔ تمہارے ایک ایک کام کا بدلہ دے گا خیر و شر کی جزا، سزا سب بھگتنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لے اپنی معذوری اور مجبوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے قسمیں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
سورة التَّوْبَة 94
پہلے فقرے میں صرف نظر سے مراد درگزر ہے اور دوسرے فقرے میں قطع تعلق۔ یعنی وہ تو چاہتے ہیں کہ تم ان سے تعرض نہ کرو، مگر بہتر یہ ہے کہ تم ان سے کوئی واسطہ ہی نہ رکھو اور سمجھ لو کہ تم ان سے کٹ گئے اور وہ تم سے۔
Read the full tafseer →تیسرا حکم تیسری آیت میں یہ ہے کہ یہ لوگ قسمیں کھا کر آپ کو اور مسلمانوں کو راضی کرنا چاہیں گے اس کے متعلق حق تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمادی کہ ان کی یہ خواہش پوری نہ کی جائے، آپ ان سے راضی نہ ہوں، اور یہ بھی فرمادیا کہ بالفرض اگر آپ راضی بھی ہوگئے تو ان کو کوئی فائدہ اس لئے نہیں پہنچے گا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہے اور اللہ کیسے راضی ہو جبکہ یہ اپنے کفر و منافقت پر قائم ہیں۔
Read the full tafseer →يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ۔ لترضوا عنہم سے اعراض کے اس مفہوم کی وضاحت ہورہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ یعنی یہ قسموں کے ذریعے سے تمہیں (خطاب مسلمانوں سے ہے) خوش کرنا چاہیں گے۔ اگر تم ان سے خوش بھی ہوگے تو یاد رکھو کہ اللہ ان بدعہدوں سے راضی ہونے والا نہیں ہے۔ اللہ تو اسی وقت راضی ہوگا جب یہ اپنی توبہ اور اصلاح اور اپنے اعمال سے اس کو راضی کریں۔
Read the full tafseer →96۔ 1 ان تین آیات میں ان منافقین کا ذکر ہے جو تبوک کے سفر میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں گئے تھے نبی اور مسلمانوں کو بخریت واپسی پر اپنے عذر پیش کرکے ان کی نظروں میں وفادار بننا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جب ان کے پاس آؤ گے تو یہ عذر پیش کریں گے، تم ان سے کہہ دو ، کہ ہمارے سامنے عذر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اصل حالات سے ہمیں باخبر کردیا ہے۔ اب تمہارے جھوٹے عذروں کا ہم اعتبار کس طرح کرسکتے ہیں ؟ البتہ ان عذروں کی حقیقت مستقبل قریب میں مذید واضح ہوجائے گی، تمہارا عمل، جسے اللہ تعالیٰ بھی دیکھ رہا ہے اور رسول ﷺ کی نظر بھی اس پر ہے، تمہارے عذروں کی حقیقت کو خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
73: یہاں ”در گذر کرنے“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کی بات سن کر انہیں نظر انداز کردیا جائے، نہ تو فوری پر انہیں کوئی سزا دی جائے۔ اور نہ یہ وعدہ کیا جائے کہ ان کی معذرت قبول کرلی گئی ہے۔ اور انہیں معاف کردیا گیا ہے۔ اس طرز عمل کی وجہ اگلے جملے میں یہ بیان کی گئی ہے کہ اپنے نفاق کی وجہ سے یہ سراپا گندگی ہیں، ان کی معذرت جھوٹی ہے جو انہیں اس گندگی سے پاک نہیں کرسکتی، اور آخر کار ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔
پارہ 11 ایک نظر میں
یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے…
Read the full tafseer →3 بڑی کوشش یہ ہے کہ مکروفریب اور کذب ودروغ سے مسلمانوں کو خوش کرلیں۔ فرض کیجئے اگر چکنی چپڑی باتوں سے مخلوق راضی ہوجائے تو کیا نفع پہنچ سکتا ہے جب کہ خدا ان سے راضی نہ ہو۔ خدا کے آگے تو کوئی چالاکی اور دغا بازی نہیں چل سکتی۔ گویا متنبہ فرما دیا کہ جس قوم سے خدا راضی نہ ہو، کوئی مومن قانت کیسے راضی ہوسکتا ہے۔ لہذا جھوٹی باتوں سے پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کو خوش کرلینے کا خبط انہیں دماغوں سے نکال دینا چاہیے۔ اگر ان کے ساتھ تغافل و اعراض کا معاملہ کیا گیا ہے تو یہ اس کی دلیل نہیں کہ مسلمان ان سے خوش اور مطمئن ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جس شخص کا حال معلوم ہو کہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل روا…
Read the full tafseer →آیت 96 یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْہُمْ ج
اب یہ ان منافقین کی دنیا داری کے لحاظ سے مجبوری تھی۔ ایک معاشرے کے اندر سب کا اکٹھے رہنا سہنا تھا۔ اوس اور خزرج کے اندر ان کی رشتہ داریاں تھیں۔ ایسے ماحول میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے صاف نہ ہوئے تو وہ اس معاشرے کے اندر ایک طرح سے اچھوت بن کر رہ جائیں گے۔ اس لیے وہ مسلمانوں کے اندر اپنا اعتماد پھر سے بحال کرنے کے لیے ہر طرح سے دوڑ دھوپ کر رہے تھے ‘ مسلمانوں سے ملاقاتیں کرتے تھے ‘ ان کو اپنی مجبوریاں بتاتے تھے اور ان کے سامنے قسمیں کھا کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
107 قسمیں کھانے کا مقصد یہ ہے کہ انہیں مسلمان ہی سمجھا جائے :۔ یعنی جب وہ آ کر اپنے عذر پیش کر کے اپنے بیان پر قسمیں کھانے لگے تو ان سے مختلف سوالات کر کے ان کے بیانات کی تحقیق نہ شروع کردینا۔ وہ اپنے عذر اس لیے پیش نہیں کر رہے کہ آپ ان سے سوالات شروع کردیں بلکہ اس لیے کہ آپ ان سے درگزر کریں اور کچھ تعرض نہ کریں۔ سو آپ ان سے پوری طرح اعراض کیجئے۔ کیونکہ یہ نجس اور بد باطن لوگ ہیں۔ مسلمانوں کو ان سے میل ملاپ بھی نہ رکھنا چاہیے تاکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا کچھ احساس ہوجائے۔ ان کے قسمیں کھانے کا اصل مقصد تو یہ ہے کہ آپ ان سے راضی رہیں۔ اور ان سے مسلمانوں کے تعلقات ویسے ہی برقرار رہیں جیسے پہلے تھے…
Read the full tafseer →174۔ (سو تمہاری رضا مندی سے ان دشمنان دین کو نفع ہی کیا پہنچ سکتا ہے) منافقین کی ایک خاص شناخت یہ ہے کہ اللہ کے بجائے اس کے بندوں کی رضا جوئی میں لگے رہتے ہیں، قرآن مجید کی اس صراحت نے واضح کردیا کہ مومنین کی رضا مندی اللہ کی رضا مندی کو مستلزم نہیں۔ انما قیل ذلک لئلا یتوھم ان رضا المومنین یقتضی رضا اللہ عنھم (مدارک) فقہاء نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ حلف کے بعد قبول عذر لازمی نہیں۔ یدل علی ان الحلف علی الاعتذار ممن کان متھما لا یوجب الرضاعنہ و قبول عذرہ لان الایۃ قد اقتضت النھی عن الرضا عن ھؤلآء مع ایمانھم (جصاص) (آیت) ” لترضوا عنھم “۔ یعنی تمہارے سامنے یہ جو قسمیں کھا کھا کر تمہیں راضی کرلینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : جب آپ غزوہ سے لوٹ کر ان کے پاس جائیں گے تو وہ پیچھے رہ جانے کے (طرح طرح) کے اعذار پیش کریں گے (مگر) آپ کہہ دینا بہانے نہ کرو، ہم تمہاری بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں گے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دئیے ہیں، یعنی تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے، اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر بعث کے بعد تم ایسی ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے یعنی اللہ کی طرف اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو جس کی جزاء وہ تم کو دے گا، اب جب تم اظہار ناراضگی کو ترک کر کے ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر…
Read the full tafseer →یحلفون لکم لترضوا عنھم وہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے رضامند ہوجاؤ۔ اور جیسے پہلے ان سے سلوک کرتے تھے ‘ وہی سلوک جاری رکھو۔
فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین۔ تو اگر تم ان سے رضامند بھی ہوجاؤ گے
تب بھی اللہ ان بدکاروں سے راضی نہ ہوگا۔ الفاسقین کا لفظ ذکر کر کے اپنی ناراضگی کی وجہ بھی بیان کردی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ تم کو دھوکہ دے کر رضامند بھی کرلیں اور تم ان کی خفیہ حالتوں سے ناواقف ہونے کی بناء پر ان سے رضامند بھی ہوجاؤ تب بھی یہ اللہ کو دھوکہ نہیں دے سکتے اور اللہ سے اپنی حالت نہیں چھپاسکتے ‘ اسلئے اللہ ان سے رضامند نہ ہوگا اور اللہ کی ناراضگی کی موجودگی میں…
Read the full tafseer →(96) تاکہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے کوئی مواخذہ نہ کریں سو تم بھی انکو ان کے حال پر چھوڑ دو کیوں کہ وہ باکل بیہودہ ہیں اور آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کاموں کے بدلے میں جو کہ وہ کہتے اور کرتے تھے اور یہ آپ کی رضا حاصل کرنے کے لیے قسمیں کھائیں گے، بالفرض آپ ان کی جھوٹی قسموں سے ان سے راضی ہو بھی جائیں تو اللہ ان منافقین سے راضی نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ : یعنی ان کے قسمیں کھانے اور حیلے بہانے کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تم ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ ان سے راضی بھی ہوجاؤ، اگر تم ان کی باتوں سے متاثر ہو کر راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ ان کے فسق کی وجہ سے ان سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ ”فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنْھُمْ“ کے بجائے (لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ) کہنے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بیان ہوا ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے بھی ان کے فسق کی وجہ سے کسی صورت ان سے راضی ہونا جائز نہیں۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”جس شخص کے حالات سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 96
عبداللہ بن ابی نے قسم کھائی کہ وہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہے گا اور اس نے خواہش یہ کی کہ آپ ﷺ اس سے راضی اور خوش ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” انما السبیل علی الذین یستاذنونک “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت اور جو اس کے بعد ہے یعنی (آیت) ” فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین “ تک منافقین کے بارے میں۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قد نبانا اللہ من اخبارکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ خبر دی گئی اگر تم نکلتے ہمارے ساتھ تو تم لوگ ہمارے ساتھ نہ زیادہ کرتے مگر فساد یا خرابی کو اور فرمایا (آیت) ” فاعرضوا عنہم انہم رجس “ یعنی رجس یعنی جب نبی کریم ﷺ واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا (صحابہ کرام…
Read the full tafseer →يَحْلِفُوْنَ [ وہ قسم کھائیں گے ] لَكُمْ [ تمہارے سامنے ] لِتَرْضَوْا [ تاکہ تم لوگ راضی ہوجاؤ] عَنْھُمْ ۚ [ ان سے ] فَاِنْ [ پس اگر ] تَرْضَوْا [ تم لوگ راضی ہوگے ] عَنْھُمْ [ ان سے ] فَاِنَّ [ تو بیشک ] اللّٰهَ [اللہ ] لَا يَرْضٰى [ راضی نہیں ہوگا ] عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والے لوگوں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
تبوک سے واپسی پر عذر پیش کرنے والوں کو جواب
جن لوگوں نے تبوک سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جھوٹے عذر پیش کیے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ جل شانہٗ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آپ کی واپسی پر یہ لوگ عذر پیش کریں گے۔ آپ ان سے فرما دیں کہ ہم تمہاری بات سچی نہیں مانیں گے تمہارے حالات کی اللہ نے ہمیں پہلے سے خبر دے دی ہے۔ اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کار گزاری دیکھ لے گا۔ اور تمہاری پول کھلتی رہے گی۔ یہ ذلت تو دنیا میں ہوگی پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور شہادت سب کا جاننے والا ہے جو چیزیں ظاہر ہیں وہ انہیں بھی جانتا ہے اور جو چیزیں مخلوق سے پوشیدہ ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
قال اللہ تعالیٰ ۔ یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین
(ربط): اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے غزوۂ تبوک کی روانگی کے وقت طرح طرح کے عذر اور حیلے بہانے تراشے تھے اب ان آیات میں ان منافقین کے متعلق خبر دی جاتی ہے جو اس غزوہ سے واپس آنے کے بعد تمہارے پاس آ کر اپنے نہ جانے کے عذر بیان کریں گے۔ یہ آیتیں غزوۂ تبوک کی واپسی سے پہلے نازل ہوئیں جن میں یہ خبر دے دی گئی کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی واپسی کے بعد آپ ﷺ کے پاس آکر آپ کے ساتھ نہ جانے کے عذر بیان کریں گے اور قسمیں کھائیں گے مگر اے نبی آپ ان سے صاف کہہ دیجئے کہ اب کوئی عذر نہ کرو۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری…
Read the full tafseer →91:“ یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ الخ ” وہ قسمیں اس لیے کھائیں گے تاکہ تم لوگ ان سے راضی ہوجاؤ۔ لیکن یاد رکھو یہ لوگ خدا کے سخت نافرمان اور باغی ہیں۔ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ اور صرف تمہاری رضامندی سے انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ “ اي رضاکم لا ینتج لھم نفعا لان اللہ تعالیٰ ساخط علیھم ولا اثر لرضا احد مع سخطه تعالیٰ ” (روح ج 11 ص 4) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
جہادسازی :
اللہ تعالیٰ نے منافقین کی بایں وجہ مذمت بیان فرمائی کہ نہ تو وہ خوشی خاطر سے جہاد میں شریک ہوتے ہیں اور نہ مال خرچ کرتے ہیں ، انہوں نے غزوہ تبوک پر جانے سے پہلے کچھ حیلے بہانے بنائے حالانکہ وہ یہ سفر اختیار کرنے کے لیے جسمانی اور مالی لحاظ سے مضبوط تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کے ان حیلوں بہانوں کا تذکرہ کیا ہے جو وہ غزوہ سے واپسی پر مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم “ یہ لوگ حیلے بنائیں گے اور عذر پیش کریں گے تمہارے سامنے جب تم لوٹ کر ان کے پاس آئو گے۔ اس آیت کا مصداق 9 ھ میں پیش آنے والا غزوہ تبوک…
Read the full tafseer →يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ 0 ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللہَ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ 96
رضي
يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی:
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
3 ؎ کہ جہاد میں دنیا و آخرت کے کیا کیا فوائد ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →(یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ ج فَاِنْ تَرْضَوْا عنَھُْمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ اْلقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (التوبہ : 96)
(یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ پس اگر تم ان سے خوش ہو بھی گئے تو اللہ ان بد عہد لوگوں سے راضی ہونے والا نہیں۔ )
اس آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے تو وہ تمہیں درگزر کرنے پر مائل کرینگے تاکہ تم ان کے اعمال پر انھیں کوئی سزا نہ دو اور اگر تم میں سے کچھ لوگوں نے تھوڑا سا بھی مروت کا سلوک کیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کوشش کریں گے کہ تمہیں کسی حد تک راضی کرلیں اور شریف آدمی کی یہ کمزوری ہوتی ہے کہ جب کوئی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ منافقوں کے بارے میں مزید ناراضگی کا اظہار۔
منافقین کے بارے میں مزید سختی کرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر آپ ان کی جھوٹی قسموں، مصنوعی عاجزی اور ظاہری درماندگی پر راضی ہو بھی جائیں تو یاد رکھیں اللہ تعالیٰ ہرگز ان پر راضی نہیں ہوگا۔ کیونکہ حقیقتاً یہ لوگ نافرمان ہیں اس آیت میں یہ اصول دو ٹوک انداز میں سمجھا دیا گیا ہے کہ اصل رضامندی اللہ ہی کی ہوتی ہے اگر نبی آخر الزماں بھی کسی شخص سے راضی ہوجائیں تو یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوجائے۔
اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں تاکہ لوگ اپنے باطل عقیدہ پر غور کرسکیں۔
حضرت نوح (علیہ…
Read the full tafseer →اگر تم راضی ہو بھی گئے مگر اللہ راضی نہ ہوگا :
آیت 96: یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ (وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجائو) اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھانے سے ان کا مقصدصرف تمہیں راضی کرنا ہے تاکہ اس سے ان کو دنیوی فائدہ پہنچ جائے۔ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَایَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ (پس اگر تم ان سے راضی بھی ہوجائو تو اللہ تعالیٰ ایسے شریر لوگوں سے راضی نہ ہوگا) فقط تمہاری رضامندی ان کے لئے کافی نہ ہوگی جبکہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہیں اور وہ جلد ملنے والی یا بدیر آنے والی سزا کی زد میں ہیں۔ : مسئلہ
یہ اس لئے فرما دیا تاکہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
آیت نمبر 95: جب تم ان کی طرف جہاد سے لوٹو گے ” لتعرضوا عنھم “ تاکہ تم ان سے در گزر کرو۔ ” فاعرضوا عنھم “ ان کو چھوڑ دو اور جو انہوں نے اپنے لیے نفاق کو اختیار کیا ہے ” انھم رجس “ یعنی بیشک ان کا عمل بہت برا ہے۔” وما وھم “ آخرت میں ” جھنم جزآء م بما کانوا یکسبون “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جد بن قیس اور معتب بن قشیر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ یہ اسی (0 8) منافقین تھے جب نبی کریم ﷺ واپس تشریف لائے تو فرمایا ان کے ساتھ نہ بیٹھنا اور ان سے بات بھی نہ کرنا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اس نے نبی کریم ﷺ کے لیے اللہ کی قسم کھائی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
92۔ 96۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو اپاہج بڈھے یا مفلس ہونے کے سبب سے لڑائی پر نہیں گئے اور ان لوگوں کو معذور ٹھہرا کر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ سرزنش کے قابل نہیں ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ اصلی سرزنش کے قابل وہ لوگ ہیں جو باوجود دولت مند ہونے اور ہٹے کٹے ہونے کے اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر بیٹھ رہے اور آگے کی آیتوں میں دور تک ان لوگوں کا ذکر ہے جس ذکر میں ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ایک توہ جنہوں نے آنحضرت سے جھوٹے عذر کئے ان کی نسبت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں اور اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب رکھا ہے دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے اپنے قصور پر خود قائل ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت (94 تا 96)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذخر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا : (یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم) ” جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ “ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمہارے پاس معذرت کریں گے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجئے ! (لا تعتذ روالن نومن لکم) ” تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے “ یعنی ہم تمہاری جھوٹٰ معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ (قد نبانا اللہ من اخبارکم) ” اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے خبردار کردیا ہے “ اور اللہ تعالیٰ اپنے…
Read the full tafseer →قسم میں اللہ کا ذکر ہو یا نہ ہو وہ قسم ہی ہے
قول باری ہے یخلفون لکم لترضوا عنھم فان ترضوا عنھم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفاسقین ۔ یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے راضی ہو جائو حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ایسے فاسق لوگوں سے ہرگز راضی نہ ہوگا ۔ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ایسا شخص جس پر اتہام لگا ہو اس کی طرف سے اعتذار کی خاطر حلف اٹھانا اور قسمیں کھانا اس سے راضی ہوجانے اور اس کے عذر کو قبول کرلینے کا موجب نہیں ہوتا اس لیے کہ آیت ان لوگوں سے ان کی قسموں کے باوجود راضی ہونے کی ممانعت کی مقتضی ہے۔ اس آیت میں اللہ نے یخلفون فرمایا اور اس کے ساتھ باللہ کا اضافہ…
Read the full tafseer →181 ابنائے دنیا کے نزدیک اصل چیز مخلوق کی رضامندی اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھا کھا کر ایسا کہیں گے تاکہ راضی ہوجائیں اور ان کو کچھ نہ کہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کا وطیرہ و طریقہ کل کی طرح آج بھی یہی ہے، کہ ان کے پیش نظر مخلوق ہی کی رضامندی ہوتی ہے اور بس۔ جب کہ اہل ایمان کے نزدیک اصل مقصود حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رضا و خوشنودی ہوتی ہے کہ اگر یہ سعادت نصیب ہوگئی تو سب کچھ مل گیا اور اس کے بغیر اگر سب کچھ مل بھی گیا تو بھی کچھ نہ ملا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ و عَلَا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا سے مشرف فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف مسلمانوں کو خطاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
منافقین کے بہانے اور مسلمانوں کو ہدایات
تشریح : پچھلی آیات میں غزوئہ تبوک کے لیے نکلنے سے پہلے منافقین کے جہاد پر نہ جانے کے حیلے بہانوں کا ذکر ہے۔ یہ آیات غزوئہ تبوک سے واپس آنے سے پہلے نازل ہوچکی تھیں کہ اب جب آپ واپس پہنچیں گے تو پھر منافقین کا عمل وہی ہوگا، یعنی قسمیں کھائیں گے، جھوٹے بہانے بنائیں گے، چاپلوسی کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ نے پہلے سیہدایات دے دیں کہ انکو بتا دینا اللہ سب کچھ جانتا ہے اس نے تمہارے دل کے کھوٹ، جھوٹے حیلے بہانے اور منافقت سب کچھ مجھے بتا دیا ہے اور اب تمہیں مہلت دی جاتی ہے کہ اپنی منافقت سے توبہ کرلو تو تمہیں معاف کردیا جائے گا۔ پھر فرمایا کہ آپ ان لوگوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیات 94 تا 99
اسرار و معارف
منافقین کا قاعدہ ہی یہی ہے کہ جب آپ واپس جائیں گے تو معذرت کرنے حاضر ہوجائیں گے اور مختلف بہانے کریں گے حضور ! ہم تو خادم ہیں بس فلاں مجبوری درمیان آگئی اور جب ایمان کمزور ہو یہی حال ہوتا ہے جیسے آج بھی کوئی مصروفیت یا تھوڑی بہت بیماری ہی آجائے تو لوگ سب سے پہلے نماز کو خیر یاد کہتے ہیں یعنی مصر وفیات کا سب سے کمزور حصہ دین ہی ہے۔ مگر لوگوں کے سامنے یہ بات قبول کرنا پسند نہیں کرتے اور حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں تو آپ فرمادیجئے ! کہ ہمیں تو اللہ نے تمہاری سب باتیں بتاوی ہیں ۔ یہ صورت یقنی طور پر تو صرف وحی کے سبب تھی مگر دک کی بات دل کو پہنچ ضرور جاتی ہے ۔ اگر چہ آپ…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یعنی ان کے قسمیں کھانے اور حیلے کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ تم ان سے درگزر کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ ان سے راضی بھی ہوجاؤ مگر اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا۔ اس میں اشارہ ہے کہ مسلمانون کے لیے کسی صورت بھی ان سے راضی ہونا جائز نہیں ہے (از کبیر) شاہ صاحب لکھتے ہیں، جس شخص کے حالات سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل تو جائز ہے مگر اس سے محبت اور دوستی روا نہیں۔ (از موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–96
(9:95) اذا انقلبتم الیہم۔ تم ان کی طرف پھرو گے، تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ (ماضی بمعنی مضارع)
لتعرضوا عنھم۔ اعرض یعرض اعراض (افعال) عن منہ موڑنا۔ منہ پھیرنا۔ اعراض کرنا۔ درگزر کرنا۔ معاف کرنا۔
یہاں بمعنی۔ تاکہ تم ان کو معاف کردو۔ ان سے درگزر کرو۔ صرف نظر کرو۔ تعرض نہ کرو ۔ اسی معنی میں ہے۔ فاعرض عنھم وعظھم (4:63) تم ان سے اعراض برتو (درگزر کرو) اور نصیحت کرتے رہو۔ منہ پھیرنے ۔ روگردانی کرنے ۔ کنارہ کشی کرنے کے معنی میں آیۃ ہذا میں ہی ہے۔ فاعرضوا عنھم۔ پس تم ان سے منہ پھیر لو۔ کنارہ کشی اختیار کرو۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ واعرض عن الجاہلین (7:199) اور جاہلوں سے کنارہ کشی کرو۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 96
یعتذرون (وہ عذر کرتے ہیں، کریں گے) رجعتم (تم لوٹے) لن نومن (ہم ہرگز یقین نہ کریں گے) نبانا اللہ (ہمیں اللہ نے بتا دیا ہے) اخبار (حالات، خبریں) تردون (تم لوٹائے جائو گے) علم الغیب والشھادۃ (پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا) ینبی (وہ بتائے گا) انقلبتم (تم پلٹے) لتعرضوا (تاکہ تم درگزر کرو) اعرضوا (درگزر کرو، معاف کر دو ) یحلفون (وہ قسمیں کھائیں گے) لترضوا (تاکہ تم راضی ہو جائو) لایرضی (وہ راضی نہ ہوگا)
تشریح : آیت نمبر 94 تا 96
گزشتہ آیات سے منافقین کی عادتوں کا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس پہنچیں گے تو وہ قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلانے…
Read the full tafseer →شان نزول : یہ آیت عبد اللہ بن ابی کے حق میں نازل ہوئی اس نے آنحضرت ﷺ کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اب کبھی وہ جہاد میں جانے سے سستی نہ کرے گا اور آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تھی کہ حضور اس سے راضی ہوجائیں۔ اس پر یہ آیت ہوئی اور فرمایا کہ تم کو ان کی بداعتقادی اور دل کی گندگی کا حال معلوم نہیں اس لئے اگر بالفرض اپنی جھوٹی قسموں پر یہ لوگ تم کو کچھ رضامند کریں تو کرلیں، مگر اللہ کو تو ان کے دلوں کا حال ذرا ذرا معلوم ہے، اس واسطے جب تک منافق پنے کی گندگی سے یہ لوگ اپنے دلوں کو پاک نہ کریں گے اس وقت تک ایسے بےحکم لوگوں سے اللہ راضی نہیں ہو سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
[50] یعنی ان سے درگزر کرو۔ یہاں اعراض درگزر اور چشم پوشی کے معنی میں ہے۔
[51] یعنی قطع تعلق کرلو۔ یہاں اعراض تعلق ختم کرنے کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
منافقین کی معذرت :
(ف 1) ایک وہ خوش نصیب مسلمان تھے جنہوں نے رسول کی پیروی کی اور توحید کی حفاظت کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ، میدان جہاد میں پہنچے اور کفار سے لڑے ، دوسرے وہ محرومان قسمت تھے ، بزدلی میں جن کی راہنمائی کی ، اور گھروں میں گھسے بیٹھے رہے اور اس وقت بیٹھے رہے جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ یہ لوگ بربکف ہو کر نکلتے اور اپنے خون سے شجر اسلام کو سینچتے ، یہ جرم واقعی غداری ہے ، اللہ سے غداری ہے رسول سے غداری ہے اور اسلامی مصالح سے غداری ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب آپ لوگ جہاد سے لوٹیں گئے تو یہ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آئیں گے اور جھوٹے عذر پیش کریں گے آپ کو یقین دلانے…
Read the full tafseer →96 نیز اس لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہوجائو حالانکہ بالفرض تم اگر ان سے راضی بھی ہوجائو تو یقیناً ایسے نافرمان لوگوں سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا یعنی اول تو تم راضی نہیں ہوگے لیکن اگر لوفرضنا تم راضی بھی ہوجائو تو اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوگا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جس شخص کا احوال معلوم ہو کہ منافق ہے اس کی طرف سے تغافل روا ہے لیکن دوستی اور محبت اور یگانگی روا نہیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–97
ف 1۔ عذر وحلف میں ان کی دوغرضیں فرمائیں اعراض اور رضا اور اس کے متعلق تین حکم فرمائے ایک لاتعتذروا دوسرا اعرضو تیسرا عدم رضا جو فان ترضوا سے مفہوم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →یہ قسمیں کیوں کھاتے ہیں ؟ اس لئے کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ :
127: فرمایا یہ دفع الوقتی چاہتے ہیں ان کو کوئی مجبوری لاحق نہ تھی اور نہ ہے لیکن یہ حلف اٹھا کر ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کو فلاں فلاں مجبوری تھی اور تم اس طرح سمجھ لو کہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ان سے کبھی راضی نہیں ہوگا کیونکہ یہ لوگ صحیح معنوں میں ایمان کی حالت سے نکل چکے ہیں اور یہ مسئلہ علم الٰہی کا ہے پھر جب علم الٰہی میں موجود ہے کہ یہ دل کے کھوٹے ہیں تو آخر اللہ ان سے راضی کیوں گا ؟ اس آیت نے بھی رسول اللہ ﷺ کے غیب جاننے کی نفی فرمادی اس لئے ہمارے ان بھائیوں کو اس پر غور کرنا چاہئے جو دن رات صرف آپ ﷺ کے غیب جاننے کی…
Read the full tafseer →2. The third instruction given to the Holy Prophet ﷺ appears in the third verse (96): "They swear before you so that you may be pleased with them." The order of Allah Ta` ala is that their wish was not to be granted and he was not to be pleased with them. However, it was also said that, ` even if you were to be pleased with them, it was not going to work for them in any manner, because Allah is not pleased with them. And how could Allah be pleased with them when they are still adamant about their denial and hypocrisy?
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →