Explained with ayahs 94–96
فاسق اور چوہے کی مماثلت
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم میدان جہاد سے واپس مدینے پہنچو گے تو سبھی منافق عذر و معذرت کرنے لگیں گے۔ تم ان سے صاف کہہ دینا کہ ہم تمہاری ان باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری نیتوں سے ہمیں خبردار کردیا ہے۔ دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوت سب لوگوں کے سامنے کھول کر رکھ دے گا۔ پھر آخرت میں تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہی ہے وہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے۔ تمہارے ایک ایک کام کا بدلہ دے گا خیر و شر کی جزا، سزا سب بھگتنی پڑے گی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ تم کو راضی کرنے کے لے اپنی معذوری اور مجبوری کو سچ ثابت کرنے کے لئے قسمیں تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
سورة التَّوْبَة 93
ایسے لوگ جو خدمت دین کے لیے بےتاب ہوں، اور اگر کسی حقیقی مجبوری کے سبب سے یا ذرائع نہ پانے کی وجہ سے عملًا خدمت نہ کرسکیں تو ان کے دل کو اتنا سخت صدمہ ہو جتنا کسی دنیا پرست کو روزگار چھوٹ جانے یا کسی بڑے نفع کے موقع سے محروم رہ جانے کا ہوا کرتا ہے، ان کا شمار خدا کے ہاں خدمت انجام دینے والوں ہی میں ہوگا اگرچہ انہوں نے عملا کوئی خدمت انجام نہ دی ہو۔ اس لیے کہ وہ چاہے ہاتھ پاؤں سے کام نہ کرسکے ہوں، لیکن دل سے تو وہ برسر خدمت ہی رہے ہیں۔ یہی بات ہے جو غزوہ تبوک سے واپسی پر اثنائے سفر میں نبی ﷺ نے اپنے رفقا کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی تھی کہ ان بالمدینۃ اقوامًا ما سرتم مسیرا ولا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یہ لوگ تمہارے (سب کے) سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے، (سو اے محمد ﷺ آپ (سب کی طرف سے صاف) کہہ دیجئے کہ (بس رہنے دو) یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے (کیونکہ) اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری (واقعی حالت کی) خبر دے چکے ہیں (کہ تم کو کوئی عذر صحیح نہ تھا) اور (خیر) آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے (معلوم ہوجائے گا کہ حسب زعم خود کتنے مطیع اور مخلص ہو) پھر ایسے کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے (جس سے تمہارا کوئی اعتقاد کوئی عمل مخفی نہیں) پھر وہ تم کو بتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے (اور اس کا بدلہ دے…
Read the full tafseer →يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْهِمْ ۭ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ ۭ وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
اعتذار یہاں باتیں بنانے اور جھوٹے عذر تراشنے کے معنی میں ہے۔ یعنی جب تم اس سفر سے (اشارہ سفر تبوک کی طرف ہے) پلٹو گے تو یہ منافقین اپنے رویہ کے باب میں تم کو (خطاب مسلمانوں سے ہے) مطمئن کرنے کے لیے اپنے گھڑے ہوئے عذرات کی داستان سنائیں گے۔ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
93۔ 1 یہ منافقین ہیں جن کا تذکرہ آیت 86، 87 میں گزر ا۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر مخلص مسلمانوں کے مقابلے میں ہوا ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ خَوَالِفُ ، خَالِفَۃ، ُ (پیچھے رہنے والے) مرد عورتیں، بچے معذور اور شدید بیمار اور بوڑھے ہیں جو جنگ میں شرکت سے معذور ہیں۔ لا یَعْلَمُوْ نَ کا مطلب ہے وہ نہیں جانتے کہ پیچھے رہنا کتنا بڑا جرم ہے، ورنہ شاید وہ رسول ﷺ سے پیچھے نہ رہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
72: روایات میں ہے کہ یہ سات انصاری صحابہ تھے۔ حضرت سالم بن عمیر، حضرت علبہ بن زید، حضرت عبدالرحمن بن کعب، حضرت عمرو بن الحمام، حضرت عبداللہ بن مغفل، حضرت ہر می بن عبداللہ اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ۔ انہوں نے غزوہ تبوک میں شامل ہونے کے لیے اپنے شوق کا اظہار فرمایا، اور آنحضرت ﷺ سے سواری کی درخواست پیش کی۔ جب آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی سورای نہیں ہے تو یہ روتے ہوئے واپس گئے۔ (روح المعانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔
پارہ 11 ایک نظر میں
یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے…
Read the full tafseer →1 یعنی جیسے تبوک کی طرف روانہ ہونے کے وقت منافقین نے طرح طرح کے حیلے بنائے، جب تم مدینہ واپس آؤ گے، اس وقت بھی یہ لوگ اعذار باطلہ پیش کر کے تم کو مطمئن بنانا چاہیں گے اور قسمیں کھائیں گے کہ حضرت ہمارا قصد مصمم تھا کہ آپ کے ساتھ چلیں، مگر فلاں فلاں موانع و عوائق پیش آجانے کی وجہ سے مجبور رہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ جھوٹی باتیں بنانے سے کچھ فائدہ نہیں۔ تمہارے سب اعذار لغو اور بیکار ہیں۔ ہم کو حق تعالیٰ تمہارے کذب و نفاق پر مطلع کرچکا۔ پھر کس طرح ہم تمہاری لغو بات کو باور کرسکتے ہیں۔ اب پچھلے قصہ کو چھوڑو، آئندہ تمہارا طرز عمل دیکھا جائے گا کہ اپنے دعوے کو کہاں تک نباہتے ہو، سب جھوٹ سچ ظاہر ہو کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
آیت 94 یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْہِمْ ط
یَعْتَذِرُوْنَچونکہ فعل مضارع ہے اس لیے اس کا ترجمہ حال میں بھی ہوسکتا ہے اور مستقبل میں بھی۔ اگر تو یہ آیات تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئی ہیں تو ترجمہ وہ ہوگا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اگر ان کا نزول رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد ہوا ہے تو ترجمہ یوں ہوگا : بہانے بنا رہے ہیں وہ تمہارے پاس آکر جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر آگئے ہو
قُلْ لاَّ تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ اَخْبَارِکُمْ ط۔
مہم پر جانے سے قبل تو حضور ﷺ اپنی طبعی شرافت اور مروّت کے باعث منافقین کے جھوٹے بہانوں پر بھی…
Read the full tafseer →106 عذر اور توبہ کے سچا ہونے کا معیار آئندہ کا عمل ہے :۔ کچھ منافق تو ایسے تھے جنہوں نے غزوہ تبوک پر روانگی سے پہلے ہی حیلے بہانے بنا کر آپ سے رخصت طلب کرلی تھی۔ اور بہت سے ایسے تھے جو رخصت کے بغیر ہی مدینہ میں رہ گئے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ آپ واپس آئیں تو معذرت کرلی جائے۔ چناچہ جب آپ واپس آئے تو منافقین آنے لگے اور اپنے اپنے بہانے پیش کرنے لگے۔ آپ نے انہیں اللہ کی ہدایت کے مطابق کہہ دیا کہ پہلے جو کچھ تم نے کیا ہے وہ ہمیں معلوم ہوچکا ہے۔ اب آئندہ کے طرز عمل کی فکر کرو۔ تمہارا آئندہ کا طرز عمل ہی اس چیز کی وضاحت کرے گا کہ تم ان بہانوں میں کہاں تک سچے تھے۔
Read the full tafseer →169۔ (اور ہمیں وحی الہی کے ذریعہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ تمہارا کوئی عذر بھی صحیح نہ تھا) (آیت) ” یعتذرون الیکم “۔ خطاب میں اب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مومنین بھی شریک ہیں اور ذکر انہی منافقین مخلفین کا چل رہا ہے۔ (آیت) ” اذا رجعتم الیھم “۔ نزول آیت کا زمانہ سفر تبوک کا زمانہ ہے۔ یہ بات بہ طور پیشگوئی فرمائی جارہی ہے کہ جب لشکر اسلام مدینہ واپس پہنچے گا تو منافقین اپنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ (آیت) ” قل “۔ یعنی اے رسول اللہ ﷺ آپ سب مومنین کی طرف سے کہہ دیجئے (آیت) ” لاتعتذورا “۔ اعتذار یہاں بہانہ بنانے کے معنی میں ہے۔ یعنی انہ لاعذرلھم والمعاذیر یشوبھا الکذب (لسان) (آیت) ” لن نؤمن لکم “۔ فعل ایمان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : جب آپ غزوہ سے لوٹ کر ان کے پاس جائیں گے تو وہ پیچھے رہ جانے کے (طرح طرح) کے اعذار پیش کریں گے (مگر) آپ کہہ دینا بہانے نہ کرو، ہم تمہاری بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں گے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دئیے ہیں، یعنی تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے، اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر بعث کے بعد تم ایسی ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے یعنی اللہ کی طرف اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو جس کی جزاء وہ تم کو دے گا، اب جب تم اظہار ناراضگی کو ترک کر کے ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر…
Read the full tafseer →یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم قل لا تعتذروا لن نؤمن لکم قد نبانا اللہ من اخبارکم : جب تم ان کے پاس لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے عذر کریں گے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے : عذر نہ پیش کرو۔ ہم تمہاری باتوں کا یقین نہیں کریں گے ‘ اللہ نے تمہاری کچھ خبریں ہم کو بتادی ہیں۔ یعنی وہ منافق جو غزوۂ تبوک کو نہیں گئے ‘ معذرت پیش کریں گے۔
ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ایسے لوگ کچھ اوپر اسّی تھے۔ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ہے۔ واپسی سے مراد ہے تبوک سے مدینہ کو واپسی۔ آیت بطور معجزہ پیشین گوئی ہے جو صحیح ثابت ہوئی۔ منافق جھوٹے عذر پیش کرنے کیلئے حاضر ہوئے۔
عذر پیش نہ کرو یعنی جھوٹے عذر نہ بیان کرو ‘ ہم تمہاری ان باتوں…
Read the full tafseer →(94) غزوہ تبوک سے جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لائیں گے تو یہ آپ کے سامنے عذر پیش کریں گے کہ ہم آپ کے ساتھ نہیں جاسکتے تھے، لہذا اے محمد ﷺ آپ ان کو صاف بتادیں کہ بس عدم شرکت کا بہانہ نہ پیش کرو جو تم باتیں کہتے ہو ہم کبھی تمہیں سچا نہیں جانیں گے کہ کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تمہاری اصل حالت اور تمہارے نفاق کے بارے میں اطلاع کرچکے ہیں۔
البتہ اس کے بعد بھی اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارے اعمال دیکھ لیں گے اور پھر آخرت میں اس کے پاس لوٹ کرجاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے اور پھر وہ تمہیں تمہاری نیکی اور بدی سب بتا دے گا، غیب جو بندوں سے چھپا ہوا یا یہ کہ جس کو بندے نہ جان سکیں یا…
Read the full tafseer →يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ : جیسا کہ پہلے گزرا کہ یہ سلسلۂ آیات تبوک سے واپسی پر نازل ہوا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے ہی ان کے جھوٹے بہانوں کی اطلاع دے دی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ ان سے کہہ دو کہ بہانے مت تراشو، ہم کسی صورت تمہارا اعتبار نہیں کریں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہاری کچھ خبریں بتادی ہیں۔ اب دیکھا جائے گا کہ تمہارا آئندہ رویہ کیا رہتا ہے، آیا تم موجودہ روش سے باز آتے ہو یا اسی پر جمے رہتے ہو۔
وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ : یہ عبارت یوں بھی ہوسکتی تھی کہ ”وَ سَیَرَی اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ عَمَلَکُمْ“ کہ عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارا عمل دیکھیں گے، مگر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 94
قولہ تعالیٰ : (آیت) یعتذرون الیکم یعنی منافقین بہانے پیش کریں گے۔ (آیت) لن نومن لکم یعنی ہم ہرگز تمہاری بات تسلیم نہیں کریں گے۔ (آیت) قد نبانا اللہ من اخبارکم تحقیق اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے رازوں اور خفیہ باتوں کے بارے میں خبر دے دی ہے۔ (آیت) وسیری اللہ عملکم اور اللہ تعالیٰ تمہارا عمل دیکھے گا اس بارے میں جو تم نیاکروگے۔ (آیت) ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بناکنتم تعملون یعنی وہ تمہیں تمہارے عمل کے مطابق جزادے گا۔ یہ سب پہلے گزرچکا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” انما السبیل علی الذین یستاذنونک “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت اور جو اس کے بعد ہے یعنی (آیت) ” فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین “ تک منافقین کے بارے میں۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قد نبانا اللہ من اخبارکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ خبر دی گئی اگر تم نکلتے ہمارے ساتھ تو تم لوگ ہمارے ساتھ نہ زیادہ کرتے مگر فساد یا خرابی کو اور فرمایا (آیت) ” فاعرضوا عنہم انہم رجس “ یعنی رجس یعنی جب نبی کریم ﷺ واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا (صحابہ کرام…
Read the full tafseer →يَعْتَذِرُوْنَ [ وہ لوگ معذرت پیش کریں کریں گے ] اِلَيْكُمْ [ تمہاری طرف ] اِذَا [ جب ] رَجَعْتُمْ [ تم لوگ لوٹو گے ] اِلَيْهِمْ ۭ [ ان کی طرف ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] لَّا تَعْتَذِرُوْا [ تم لوگ معذرت مت کرو ] لَنْ نُّؤْمِنَ [ ہم ہرگز نہیں مانیں گے ] لَكُمْ [ تمہاری بات ] قَدْ نَبَّاَنَا [ ہمیں بتادیا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] مِنْ اَخْبَارِكُمْ ۭ [ تمہاری خبروں میں سے ] وَسَيَرَى [ اور دیکھے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَمَلَكُمْ [ تمہارے عمل کو ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کے رسول (بھی ) ] ثُمَّ [ پھر ] تُرَدُّوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤگے ] اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [ موجود اور غائب کے جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
تبوک سے واپسی پر عذر پیش کرنے والوں کو جواب
جن لوگوں نے تبوک سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جھوٹے عذر پیش کیے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ جل شانہٗ نے پہلے ہی خبر دے دی تھی کہ آپ کی واپسی پر یہ لوگ عذر پیش کریں گے۔ آپ ان سے فرما دیں کہ ہم تمہاری بات سچی نہیں مانیں گے تمہارے حالات کی اللہ نے ہمیں پہلے سے خبر دے دی ہے۔ اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کار گزاری دیکھ لے گا۔ اور تمہاری پول کھلتی رہے گی۔ یہ ذلت تو دنیا میں ہوگی پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو غیب اور شہادت سب کا جاننے والا ہے جو چیزیں ظاہر ہیں وہ انہیں بھی جانتا ہے اور جو چیزیں مخلوق سے پوشیدہ ہیں وہ ان سے بھی باخبر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
قال اللہ تعالیٰ ۔ یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم۔۔۔ الی۔۔۔ فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین
(ربط): اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے غزوۂ تبوک کی روانگی کے وقت طرح طرح کے عذر اور حیلے بہانے تراشے تھے اب ان آیات میں ان منافقین کے متعلق خبر دی جاتی ہے جو اس غزوہ سے واپس آنے کے بعد تمہارے پاس آ کر اپنے نہ جانے کے عذر بیان کریں گے۔ یہ آیتیں غزوۂ تبوک کی واپسی سے پہلے نازل ہوئیں جن میں یہ خبر دے دی گئی کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی واپسی کے بعد آپ ﷺ کے پاس آکر آپ کے ساتھ نہ جانے کے عذر بیان کریں گے اور قسمیں کھائیں گے مگر اے نبی آپ ان سے صاف کہہ دیجئے کہ اب کوئی عذر نہ کرو۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری…
Read the full tafseer →88:“ یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ الخ ” خطاب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے ہے یعنی جب آپ لوگ غزوہ تبوک سے واپس مدینہ پہنچیں گے تو منافقین تمہارے پاس آکر جہاد میں شریک نہ ہونے کے بارے میں بہانے پیش کریں گے “ قُلْ لَا تَعْتَذِرُوْا ” یعنی واپسی پر جب وہ عذر پیش کریں تو آپ فرما دیں کہ بہانے مت بناؤ۔ ہم تمہاری باتوں پر یقین نہیں کرینگے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اصل حقیقت سے آگاہ فرما دیا ہے اور تمہارے دل کے پوشیدہ رازوں پر مطلع کردیا ہے۔ “ لان اللہ تعالیٰ قد انبانا بالوحی بما فی ضمائرکم من الشر و الفساد ” (روح ج 11 ص 2) ۔
89:“ وَ سَیَرَي اللّٰهُ عَمَلَکُمْ الخ ” سے مراد وہ اعمال سے ہیں جو نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
جہادسازی :
اللہ تعالیٰ نے منافقین کی بایں وجہ مذمت بیان فرمائی کہ نہ تو وہ خوشی خاطر سے جہاد میں شریک ہوتے ہیں اور نہ مال خرچ کرتے ہیں ، انہوں نے غزوہ تبوک پر جانے سے پہلے کچھ حیلے بہانے بنائے حالانکہ وہ یہ سفر اختیار کرنے کے لیے جسمانی اور مالی لحاظ سے مضبوط تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کے ان حیلوں بہانوں کا تذکرہ کیا ہے جو وہ غزوہ سے واپسی پر مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم “ یہ لوگ حیلے بنائیں گے اور عذر پیش کریں گے تمہارے سامنے جب تم لوٹ کر ان کے پاس آئو گے۔ اس آیت کا مصداق 9 ھ میں پیش آنے والا غزوہ تبوک…
Read the full tafseer →يَعْتَذِرُوْنَ اِلَيْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَيْہِمْ 0 ۭ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللہُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ 0 ۭ وَسَيَرَى اللہُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُہٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 94
عذر
العُذْرُ : تحرّي الإنسان ما يمحو به ذنوبه .
ويقال : عُذْرٌ وعُذُرٌ ، وذلک علی ثلاثة أضرب :
إمّا أن يقول : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، فيذكر ما يخرجه عن کو نه مذنبا، أو يقول : فعلت ولا أعود، ونحو ذلک من المقال . وهذا الثالث هو التّوبة، فكلّ توبة عُذْرٌ ولیس کلُّ عُذْرٍ توبةً ، واعْتذَرْتُ إليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
3 ؎ کہ جہاد میں دنیا و آخرت کے کیا کیا فوائد ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْکُمْ ِاذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِم ط قُلْ لَّاتَعْتَذِرُوْالَنْ نُّؤْمِنَ لَکُمْ قَدْنَبَّاناَ اللَّہُ مِنْ اَخْبَاِرکُمْ وَ سَیََرَی اللَّہُ عَمَلَکُمْ وَ َرسُوُلُہ ‘ ثُمَّ تُرَدُّونَ اِلیٰ عٰلِمِ الْغَیبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّـُٔکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ
(جب آپ لوٹ کر ان کی طرف جائیں گے تو وہ آپ ﷺ کے سامنے عذر پیش کرینگے۔ کہہ دیجیے ’ کہ بہانے مت بنائو ہم تمہارا اعتبار نہیں کرینگے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے۔ اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے۔ پھر تم لوٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔ پھر وہ تمہیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دسویں پارے کے آخر اور اس آیت سے پہلے یہ فرمایا گیا ہے کہ جن منافقوں نے غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر ثبت کردی ہے۔ اب وہ جہاد کی فضیلت اور دین کی حقیقت کو نہیں جان سکتے۔ لہٰذا یہ لوگ آپ کی واپسی پر معذرت کریں تو ان کی معذرت قبول نہ کی جائے۔
منافقوں کا اندازہ اور ان کی تمنا یہ تھی کہ سلطنت روما کا فرماں روا مسلمانوں کی طاقت کو اس طرح کچل ڈالے گا کہ یہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے لیکن روم کے لشکر مسلمانوں کی تاب نہ لاسکے اور انھوں نے اپنی پسپائی میں خیر سمجھی۔ نبی اکرم ﷺ نے رومیوں کا تعاقب کرنے کی بجائے کچھ دن محاذ پر قیام فرمایا اور بالآخر…
Read the full tafseer →جھوٹی معذرت والے :
آیت 94: یَعْتَذِرُوْنَ اِلَـیْکُمْ (یہ لوگ آپ کے سامنے پیش کریں گے) اپنے نفوس کیلئے ایک باطنی عذر بناتے ہیں۔ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِمْ (جب تم ان کے پاس واپس جائو گے) اس سفر سے قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا (آپ کہہ دیں کہ یہ عذر مت پیش کرو) جھوٹے لَنْ نُّؤْمِنَ لَـکُمْ (ہم ہرگز تم پر اعتماد نہ کریں گے) ہم ہرگز تمہاری تصدیق نہ کریں گے یہ اعتذار کی ممانعت کی علت ہے کیونکہ عذر کرنے والے کی اصلی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس سلسلہ میں اس کی بات سچی تسلیم کرلی جائے۔ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰہُ مِنْ اَخْبَارِکُمْ (اللہ تعالیٰ نے تمہاری کچھ خبریں ہمیں بتادیں ہیں) یہ ان کی تصدیق کے قبول نہ کرنے کی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت نمبر 94:” یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم “ روایت کیا گیا ہے کہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کی تعداد بیاسی تھی جب رسول اللہ ﷺ سفر سے واپس تشریف لے آئے تو وہ آکر باطل عذر کرنے لگے۔” قل لاتعتذروا لن نئو من لکم قد نبا نا اللہ من اخبارکم وسیری اللہ عملکم ورسولہ “ آئندہ وقت میں کہ کیا تم نے اپنے نفاق سے توبہ کرلی ہے یا اس پر قائم ہو ؟” ثم تردون الی علیم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–96
92۔ 96۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو اپاہج بڈھے یا مفلس ہونے کے سبب سے لڑائی پر نہیں گئے اور ان لوگوں کو معذور ٹھہرا کر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ سرزنش کے قابل نہیں ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ اصلی سرزنش کے قابل وہ لوگ ہیں جو باوجود دولت مند ہونے اور ہٹے کٹے ہونے کے اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر بیٹھ رہے اور آگے کی آیتوں میں دور تک ان لوگوں کا ذکر ہے جس ذکر میں ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ایک توہ جنہوں نے آنحضرت سے جھوٹے عذر کئے ان کی نسبت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں اور اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب رکھا ہے دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے اپنے قصور پر خود قائل ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
آیت (94 تا 96)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے دولت مند منافقین کے پیچھے رہنے کا ذخر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے پیچھے رہنے کے لئے ان کے پاس کوئی عذر نہ تھا اور یہ بھی آگاہ فرمایا : (یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم) ” جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ “ یعنی جب تم ان کے پاس اپنے غزوہ سے واپس لوٹو گے تو یہ منافقین تمہارے پاس معذرت کریں گے۔ (قل) آپ ان سے کہہ دیجئے ! (لا تعتذ روالن نومن لکم) ” تم بہانے مت بناؤ، ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے “ یعنی ہم تمہاری جھوٹٰ معذرتوں کی تصدیق نہیں کریں گے۔ (قد نبانا اللہ من اخبارکم) ” اللہ نے ہمیں تمہارے حالات سے خبردار کردیا ہے “ اور اللہ تعالیٰ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
حقیقی معذورین کا عذر جہاد قابل قبول ہے
قول باری ہے لیس علی الصضعفاء ولا علی المرضی ولا علی الذین لا یجدون ما ینفقونحرج اذا نصحوا للہ ورسولہ ۔ ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زاد راہ نہیں پاتے اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفا دار ہوں ۔ یہ آیت ما قبل پر عطف ہے جس میں جہاد کا ذکر ہوا ہے، چناچہ ارشاد ہے۔ لکن الرسول والذین امنوا معہ جاھد وابامالھم وانفسھم پھر اس پر اس قول کو عطف کیا ۔ وجاء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم بدوی عربوں میں سیب ہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تا کہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی جائے۔ اللہ…
Read the full tafseer →178 قرآن حکیم کا ایک معجزہ اور پیغمبر کی حقانیت کا ثبوت : کہ پیغمبر سے فرمایا گیا کہ جب آپ جہاد کے اس سفر سے واپس لوٹیں تو واپسی کے اس موقع پر ان بہانے بازوں سے کہنا کہ ہم تمہارے ان حیلوں حوالوں پر اعتبار کرنے والے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے بارے میں وحی کے ذریعے خبر دے دی ہے۔ پھر ہم تمہاری ان باتوں کا اعتبار کس طرح کرسکتے ہیں۔ یہ سب خبریں مستقبل کے بارے میں ہیں۔ اور جیسے قرآن نے پیشگی خبر دی تھی ویسے ہی واقع ہوئیں جو کہ قرآن پاک کا ایک اور کھلا ہوا معجزہ ہے ۔ والحمد للہ ۔ سو یہ پیغمبر کی حقانیت و صداقت کا ایک اور ثبوت اور مظہر ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
منافقین کے بہانے اور مسلمانوں کو ہدایات
تشریح : پچھلی آیات میں غزوئہ تبوک کے لیے نکلنے سے پہلے منافقین کے جہاد پر نہ جانے کے حیلے بہانوں کا ذکر ہے۔ یہ آیات غزوئہ تبوک سے واپس آنے سے پہلے نازل ہوچکی تھیں کہ اب جب آپ واپس پہنچیں گے تو پھر منافقین کا عمل وہی ہوگا، یعنی قسمیں کھائیں گے، جھوٹے بہانے بنائیں گے، چاپلوسی کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ نے پہلے سیہدایات دے دیں کہ انکو بتا دینا اللہ سب کچھ جانتا ہے اس نے تمہارے دل کے کھوٹ، جھوٹے حیلے بہانے اور منافقت سب کچھ مجھے بتا دیا ہے اور اب تمہیں مہلت دی جاتی ہے کہ اپنی منافقت سے توبہ کرلو تو تمہیں معاف کردیا جائے گا۔ پھر فرمایا کہ آپ ان لوگوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیات 94 تا 99
اسرار و معارف
منافقین کا قاعدہ ہی یہی ہے کہ جب آپ واپس جائیں گے تو معذرت کرنے حاضر ہوجائیں گے اور مختلف بہانے کریں گے حضور ! ہم تو خادم ہیں بس فلاں مجبوری درمیان آگئی اور جب ایمان کمزور ہو یہی حال ہوتا ہے جیسے آج بھی کوئی مصروفیت یا تھوڑی بہت بیماری ہی آجائے تو لوگ سب سے پہلے نماز کو خیر یاد کہتے ہیں یعنی مصر وفیات کا سب سے کمزور حصہ دین ہی ہے۔ مگر لوگوں کے سامنے یہ بات قبول کرنا پسند نہیں کرتے اور حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں تو آپ فرمادیجئے ! کہ ہمیں تو اللہ نے تمہاری سب باتیں بتاوی ہیں ۔ یہ صورت یقنی طور پر تو صرف وحی کے سبب تھی مگر دک کی بات دل کو پہنچ ضرور جاتی ہے ۔ اگر چہ آپ…
Read the full tafseer →ف 1: " کہ آئندہ تمہارا رویہ کیسا رہتا ہے ؟ آیا تم موجودہ روش سے باز آتے ہو یا اسی پر جمے رہتے ہو " فالمفعول الثانی محذوف۔ یہ وعید ہے اور " ورسولہ " فاعل پر مفعول کی تقدیم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وعید کا مدار اللہ تعالیٰ کا علم ہے (روح)
2 ۔ پھر جیسے تمہارے اعمال ہوں گے ویسا ہی تمہیں ان کا بدلہ ملے گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(9:94) یعتذرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ اعتذار (افتعال) مصدر۔ وہ معذرت کریں گے۔ وہ بہانے بنائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–96
لغات القرآن آیت نمبر 94 تا 96
یعتذرون (وہ عذر کرتے ہیں، کریں گے) رجعتم (تم لوٹے) لن نومن (ہم ہرگز یقین نہ کریں گے) نبانا اللہ (ہمیں اللہ نے بتا دیا ہے) اخبار (حالات، خبریں) تردون (تم لوٹائے جائو گے) علم الغیب والشھادۃ (پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا) ینبی (وہ بتائے گا) انقلبتم (تم پلٹے) لتعرضوا (تاکہ تم درگزر کرو) اعرضوا (درگزر کرو، معاف کر دو ) یحلفون (وہ قسمیں کھائیں گے) لترضوا (تاکہ تم راضی ہو جائو) لایرضی (وہ راضی نہ ہوگا)
تشریح : آیت نمبر 94 تا 96
گزشتہ آیات سے منافقین کی عادتوں کا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس پہنچیں گے تو وہ قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–95
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عقبیٰ کے عذاب وثواب کا یقین نہیں ہے۔ اس لئے رات دن بےدھڑک یہ لوگ طرح طرح کے گناہوں میں گرفتار رہتے ہیں، اور کثرت گناہوں سے ان کے دل پر ایسا زنگ چھا گیا ہے کہ اس زنگ کے سبب سے ان کا دل ناپاک ہوگیا۔ جس سے جہاد کی خوبی کی یا اور کسی نیک بات کے سمجھنے کی صلاحیت ان کے دل میں نہیں رہی ہے۔ پھر فرمایا : ” اے رسول ﷺ اللہ کے ! تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان جب مدینہ میں جاؤ گے تو یہ لوگ طرح طرح کے عذر کریں گے۔ اس پر ان لوگوں کو یہ جواب دینا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل کا حال ہم کو بتلا دیا ہے۔ اس لئے اب تو ہم تمہارے عذروں کی صداقت نہیں کرسکتے۔ ہاں تمہاری آئندہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–94
[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–97
منافقین کی معذرت :
(ف 1) ایک وہ خوش نصیب مسلمان تھے جنہوں نے رسول کی پیروی کی اور توحید کی حفاظت کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے ، میدان جہاد میں پہنچے اور کفار سے لڑے ، دوسرے وہ محرومان قسمت تھے ، بزدلی میں جن کی راہنمائی کی ، اور گھروں میں گھسے بیٹھے رہے اور اس وقت بیٹھے رہے جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ یہ لوگ بربکف ہو کر نکلتے اور اپنے خون سے شجر اسلام کو سینچتے ، یہ جرم واقعی غداری ہے ، اللہ سے غداری ہے رسول سے غداری ہے اور اسلامی مصالح سے غداری ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب آپ لوگ جہاد سے لوٹیں گئے تو یہ لوگ جوق در جوق آپ کے پاس آئیں گے اور جھوٹے عذر پیش کریں گے آپ کو یقین دلانے…
Read the full tafseer →94 اے پیغمبر ﷺ ! آپ اور آپ کے ہمراہی مسلمان جب غزوئہ تبوک سے واپس مدینے پہنچیں گے تو یہ لوگ تم سب کے سامنے طرح طرح کے عذر پیش کریں گے آپ سب کی طرف سے فرما دیجئے گا کہ تم بہانے نہ بنائو اور یہ عذر ہمارے سامنے پیش نہ کرو ہم ہرگز تمہاری کوئی بات نہیں مانیں گے اور تم کو کبھی سچا نہیں سمجھیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو تمہارے حالات سے باخبر کردیا ہے اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری اور تمہارے اعمال کو دیکھے گا پھر تم اس کے پاس لوٹائے جائوگے جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے پھر وہ تم کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کردے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ یعنی عذر تو جب چلتا جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–95
ف 4۔ اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے روانگی کے وقت عذر تراشتے تھے آگے ان کا ذکر ہے جنہوں نے واپسی کے بہانے تصنیف کیے یہ اگلی آیتیں واپسی کے قبل نازل ہوئیں جن میں اغراض خانیہ اعراض ورضائے خلق کی تحصیل کے لیے ان کی بہانہ سازی یعتذرون میں پیشین گوئی ہے اور قل لاتعتذروا اور فاعرضوا میں اس عذر کے وقت ان کے ساتھ قولا و عملا برتاو کی تعلیم ہے اور ساتھ ساتھ عذاب کی وعیدیں ان کو سنائی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →تمہاری واپسی پر یہ لوگ پھر چاپلوسی کے لئے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوں گے :
125: یہ بغلیں بجانے والے پہلے تو یہ کہا کرتے تھے کہ اب ان شیروں میں سے ایک بھی واپس آنے والا نہیں یہاں سے یہ نکلے تو بس گئے کچھ راہ کی نذر ہوجائیں گے اور جو بچیں گے ان کو رومی ہڑپ کر جائیں گے۔ ارے رومیوں اور پارسیوں کے خلاف یہ لوگ کیا جنگ کریں گے ۔ سانپ کی موت آتی ہے تو وہ خود نکل کر چورا ہے کی طرف آجاتا ہے اور یہی حال ان لوگوں کا ہونے والا ہے لیکن جب آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی بخیر و عافیت واپس آگئے تو راستے ہی میں ان معذرین کی خبر اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ ایمان والوں کو سنادی کہ یہ منافق اب تمہارے پاس اپنے اخلاص کا یقین…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verses were hypocrites who came up with false excuses at the time Jihad forces were getting ready to march out and succeeded in being allowed to stay behind. The present verses mention those who visited the Holy Prophet ﷺ after his return from Jihad and offered false excuses for their absence from it. These verses had been revealed before his return to Madinah and had told him beforehand about the forthcoming event, that is, the hypocrites will come to him as soon as he reaches Madinah and will offer their excuses. And so it happened.
Three instructions…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →