At-Tawba 9:93

At-Tawba · from ayah 93

9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَهُمْ اَغْنِیَآءُ ۚ— رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ ۙ— وَطَبَعَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟اِنَّمَا السَّبِيۡلُ عَلَى الَّذِيۡنَ يَسۡتَاْذِنُوۡنَكَ وَهُمۡ اَغۡنِيَآءُ‌ۚ رَضُوۡا بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَـوَالِفِۙ وَطَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ

الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The cause [for blame] is only upon those who ask permission of you while they are rich. They are satisfied to be with those who stay behind, and Allah has sealed over their hearts, so they do not know.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 12 of surah · Ruku 18 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:93

البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

الزام تو ان لوگوں پر ہے۔ جو دولت مند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہیں (یعنی) اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں۔ خدا نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ سمجھتے ہی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک انہیں لوگوں پر راه الزام ہے جو باوجود دولتمند ہونے کے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ یہ خانہ نشین عورتوں کا ساتھ دینے پر خوش ہیں اور ان کے دلوں پر مہر خداوندی لگ چکی ہے جس سے وه محض بے علم ہو گئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود تم سے اجازت مانگتے ہیں۔ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوگئے۔ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے انہیں حقیقت کا پتہ نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مؤاخذہ تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(الزام کی) راہ تو فقط ان لوگوں پر ہے جو آپ سے رخصت طلب کرتے ہیں حالانکہ وہ مال دار ہیں، وہ اس بات سے خوش ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں اور معذوروں کے ساتھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، سو وہ جانتے ہی نہیں (کہ حقیقی سود و زیاں کیا ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(اعتراض کا) راستہ تو صرف ان لوگوں پر ہے جو تجھ سے اجازت مانگتے ہیں، حالانکہ وہ دولت مند ہیں، وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی، سو وہ نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو غنی ہونے کے باوجود آپ سے رخصت مانگتے ہیں انہوں نے پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھ شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ لہذا اب یہ کچھ نہیں جانتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

الزام تو بس ان پر ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں حالانکہ وہ مالدار ہیں۔ یہ لوگ خانہ نشین عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہنے پر راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی۔ پس وہ علم سے محروم ہوگئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو اجازت مانگتے ہیں آپ سے، درآں حالیکہ وہ مالدار ہیں، وہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ وہ رہیں پیچھے رہنے والیوں کے ساتھ، اور اللہ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر، (ان کے خبث باطن کی بناء پر) سو یہ جانتے نہیں (اپنے حقیقی نفع و نقصان کو)۔

— مولانا اسحاق مدنی

الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو آپ سے اجازت مانگتے ہیں درآنحالیکہ وہ اہل مقدرت ہیں یہ راضی ہوگئے اس پر کہ رہ جائیں خانہ نشین عورتوں کے ساتھ اور مہر کردی اللہ نے ان کے دلوں پر سو یہ جانتے ہی نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو آپ ﷺ سے رخصت مانگتے ہیں جب کہ وہ غنی (مالدار) ہیں وہ راضی ہوگئے اس پر کہ ہوجائیں پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے پس وہ صحیح علم سے بےبہرہ ہوچکے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولت مند ہیں اور پھر آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں (اس بات سے) خوش ہیں (کہ پیچھے رہ جانیوالی عورتوں) کے ساتھ گھروں میں بیٹھ رہیں اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے، پس وہ سمجھتے ہی نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

But there are grounds for reproach against those who seek leave to stay behind even though they are affluent. They are the ones who were content to be with the womenfolk who stay behind. Allah has set a seal on their hearts, leaving them bereft of understanding.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Blame lies, in fact, on those who ask you permission despite being rich. They are happy being with women who sit back. Allah has sealed their hearts; so they do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

Blame lies, in fact, on those who ask you permission despite being rich. They are happy being with women who sit back. Allah has sealed their hearts; so they do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The means (of complaint) is only against those who are rich, and yet ask exemption. They are content to be with (the women) who sit behind (at home) and Allah has sealed up their hearts so that they know not (what they are losing).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The road (of blame) is only against those who ask for leave of thee (to stay at home) when they are rich. They are content to be with the useless. Allah hath sealed their hearts so that they know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The cause [for blame] is only upon those who ask permission of you while they are rich. They are satisfied to be with those who stay behind, and Allah has sealed over their hearts, so they do not know.

— Saheeh International

The blameworthy ones are those who ask for exemption despite their ability and who preferred to stay at home with those who are truly exempt. God has placed a seal on their hearts but they do not know.

— Muhammad Sarwar

The way (to blame) is only against those who ask permission of you though they are rich; they have chosen to be with those who remained behind, and Allah has set a seal upon their hearts so they do not know.

— Muhammad Habib Shakir

The way is only against those who ask leave of thee while they are rich. They are pleased that they should be with the women sitters-at-home. Allah hath sealed up their hearts, so they know not.

— Abdul Majid Daryabadi

The ground (of complaint) is against such as claim exemption while they are rich. They prefer to stay with the (women) who remain behind: Allah hath sealed their hearts; so they know not (What they miss).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:93

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–93

عدم جہاد کے شرعی عذر اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن کوئی لولا لنگڑا یا اپاہج بیمار یا بالکل ہی ناطاقت ہو۔ دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب میں مثلاً کوئی بیمار ہوگیا ہے یا بالکل فقیر ہوگیا ہے، سامان سفر سامان جہاد مہیا نہیں کرسکتے وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کرسکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 92–94

سورة التَّوْبَة 93 ایسے لوگ جو خدمت دین کے لیے بےتاب ہوں، اور اگر کسی حقیقی مجبوری کے سبب سے یا ذرائع نہ پانے کی وجہ سے عملًا خدمت نہ کرسکیں تو ان کے دل کو اتنا سخت صدمہ ہو جتنا کسی دنیا پرست کو روزگار چھوٹ جانے یا کسی بڑے نفع کے موقع سے محروم رہ جانے کا ہوا کرتا ہے، ان کا شمار خدا کے ہاں خدمت انجام دینے والوں ہی میں ہوگا اگرچہ انہوں نے عملا کوئی خدمت انجام نہ دی ہو۔ اس لیے کہ وہ چاہے ہاتھ پاؤں سے کام نہ کرسکے ہوں، لیکن دل سے تو وہ برسر خدمت ہی رہے ہیں۔ یہی بات ہے جو غزوہ تبوک سے واپسی پر اثنائے سفر میں نبی ﷺ نے اپنے رفقا کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی تھی کہ ان بالمدینۃ اقوامًا ما سرتم مسیرا ولا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بعض وہ بھی رہے کہ جن کو آخر تک سواری نہ ملی، اور مجبور ہو کر رہ گئے، آیات مذکورہ میں انہی سب حضرات کا ذکر آیا ہے، جن کا عذر اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا، آخر میں پھر اس پر تنبیہ فرما دی کہ وبال تو صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے قدرت کے باوجود جہاد سے غیر حاضر رہنا عورتوں کی طرح پسند کیا ‘ (آیت) اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَهُمْ اَغْنِيَاۗءُ کا یہی مطلب ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 91–93

91۔ 93:۔ اب یہ معذرین اور حقیقی معذورین کے درمیان فرق واضح کردیا گیا ہے تاکہ نہ تو ہر بہان باز اپنے کو معذور ٹھہرا سکے نہ کسی واقعی معذور پر نفاق کی عائد کی جاسکے۔ لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یعنی کمزور مریض اور تنگ حال جو اپنے لیے زاد راہ اور سوار جو جہاد کے لیے تو بےقرار ہیں۔ لیکن اپنی ناداری کے سبب سے کسی سواری کا بندوبست خود کرسکنے پر قادر نہیں ہیں اور جب تمہارے پاس کسی سواری کے لیے درخواست لے کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 93–95

93۔ 1 یہ منافقین ہیں جن کا تذکرہ آیت 86، 87 میں گزر ا۔ یہاں دوبارہ ان کا ذکر مخلص مسلمانوں کے مقابلے میں ہوا ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ خَوَالِفُ ، خَالِفَۃ، ُ (پیچھے رہنے والے) مرد عورتیں، بچے معذور اور شدید بیمار اور بوڑھے ہیں جو جنگ میں شرکت سے معذور ہیں۔ لا یَعْلَمُوْ نَ کا مطلب ہے وہ نہیں جانتے کہ پیچھے رہنا کتنا بڑا جرم ہے، ورنہ شاید وہ رسول ﷺ سے پیچھے نہ رہتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 92–94

72: روایات میں ہے کہ یہ سات انصاری صحابہ تھے۔ حضرت سالم بن عمیر، حضرت علبہ بن زید، حضرت عبدالرحمن بن کعب، حضرت عمرو بن الحمام، حضرت عبداللہ بن مغفل، حضرت ہر می بن عبداللہ اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ۔ انہوں نے غزوہ تبوک میں شامل ہونے کے لیے اپنے شوق کا اظہار فرمایا، اور آنحضرت ﷺ سے سواری کی درخواست پیش کی۔ جب آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی سورای نہیں ہے تو یہ روتے ہوئے واپس گئے۔ (روح المعانی)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 93–96

آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔ پارہ 11 ایک نظر میں یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔ سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی باوجود قدرت و استطاعت جہاد سے پہلو تہی کرتے ہیں اور نہایت بےحمیتی سے یہ عار گوارا کرتے ہیں کہ عورتوں کی طرح گھر میں چوڑیاں پہن کر بیٹھ جائیں۔ گناہ کی ممارست (پریکٹس) سے آدمی کا قلب ایسا مسخ اور سیاہ ہوجاتا ہے کہ اسے بھلے برے اور عیب و ہنر کی تمیز بھی باقی نہیں رہتی۔ جب بےغیرتی کرتے کرتے کوئی شخص اس قدر پاگل ہوجائے کہ نادم و متأسف ہونے کی جگہ پر الٹا نازاں اور خوش ہو تو سمجھ لو کہ اس کے دل پر خدائی مہر لگ چکی ہے۔ العیاذ باللہ !

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت 92 وَّلاَ عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلاَّ یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ یعنی وہ لوگ جو دل و جان سے چاہتے تھے کہ اس مہم میں شریک ہوں ‘ مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے شرکت نہیں کر پا رہے تھے ‘ اپنی اس محرومی پر وہ واقعتا صدمے اور رنج و غم سے ہلکان ہو رہے تھے۔ ایک طرف ایسے مؤمنین صادقین تھے اور دوسری طرف وہ صاحب حیثیت اُولُوا الطَّوْلِ لوگ جن کے پاس سب کچھ موجود تھا ‘ وسائل و ذرائع کی کمی نہیں تھی ‘ تندرست و توانا تھے ‘ لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں نکلنے کو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 92–93

105 حقیقی معذوروں کی کیفیت سواری مانگنے والے :۔ اس آیت میں ایسے حقیقی مومنوں کا ذکر ہے جن کے لیے شرعی عذر موجود تھا۔ یعنی اتنے طویل سفر کے لیے سواری کا بندوبست نہ تھا تاہم وہ جہاد پر جانے کے لیے بےچین تھے۔ وہ درخواست لے کر رسول اللہ کے پاس گئے کہ آپ سواری کا کوئی بندوبست کر دیجئے۔ اتفاق سے آپ کے پاس بھی اس وقت سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا لہذا آپ نے انہیں جواب دے دیا۔ جس سے انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور وہ صدمہ صرف یہ تھا کہ شاید اب ہم جہاد پر نہ جاسکیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی خدمت میں سواری مانگنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

168 ۔ (کہ گناہ وثواب کیا ہے، اور حمیت وبے حمیتی کیا ہے) (آیت) ” یستاذنونک “ یعنی جہاد سے جی چرا کر گھر پر رہ جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “۔ اور (آیت) ” طبع اللہ علی قلوبھم “ کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ 160 بلا

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–93

آیت نمبر 90 تا 93 ترجمہ : اور آئے عذر کرنے والے آپ ﷺ کے پاس عرب کے کچھ بدو، اصل میں تاء کو ذال میں اور ادغام کر کے یعنی مُعْتَذِرُوْنَ میں ( اور معتذرون) معنی میں معذورین کے ہے، اور ایک قراءت میں معتذرون بھی پڑھا گیا ہے تاکہ ان کو (مدینہ ہی میں) بیٹھ رہنے کی اجازت مل جائے ان کے عذر کی وجہ سے چناچہ ان کو اجازت دے دی گئی، اور بدو منافقین میں سے جنہوں نے دعوائے ایمان میں اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی وہ تو عذر کرنے سے بھی بیٹھ گئے (یعنی عذر کرنے بھی نہ آئے) ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو دردناک عذاب لاحق ہوگا اور کمزوروں مثلاً بوڑھے اور مریضوں پر مثلاً اندھے اور اپاہج پر اور ان لوگوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما السبیل علی الذین یستاذنونک وھم اغنیآء (عذاب اور عتاب کی) راہ تو ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہوتے ہوئے (جہاد میں نہ جانے کی) آپ سے اجازت طلب کر رہے ہیں۔ یعنی سفر کی تیاری کا سامان ان کے پاس موجود ہے (اور پھرجانا نہیں چاہتے) ۔ رضوا بان یکونوا مع الخوالف وطبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون۔ وہ لوگ (انتہائی بےحمیتی سے) خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی جس سے وہ (گناہ وثواب کو) جانتے بھی نہیں۔ بلاعذر جہاد کو نہ جانے کی اجازت طلب کرنے کا سبب اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے پست درجہ میں رہنے اور عورتوں ‘ بچوں ‘ بیماروں ‘ اپاہجوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(93) بس گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو باوجود مال دار ہونے کے گھر رہنے کی اجازت چاہتے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن ابی، جدی بن قیس، معتب بن قیشر اور ان کے ساتھی جن کی تعداد ستر کے قریب ہے۔ یہ لوگ خانہ نشین عورتوں اور بچوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے جس سے وہ احکام خاوندی کو جانتے ہی نہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ : اللہ تعالیٰ اکثر مقامات پر ہر چیز کے دونوں پہلو بیان کرتا ہے، فرمایا ان پر تو کچھ اعتراض نہیں جن کا ذکر اوپر گزرا، صرف ان لوگوں پر گناہ کا سارا بوجھ ہے جن کے پاس سواری بھی ہے، زاد راہ بھی اور تندرستی بھی اور پھر اغنیاء ہو کر بھی آپ سے اجازت مانگتے ہیں اور اپنی بزدلی، نفاق اور کفر کی وجہ سے پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جانے میں انھیں کوئی عار نہیں، بلکہ اس پر انھیں فخر اور خوشی ہے کہ ہم گرمی میں سفر اور ہلاکت سے بچ گئے۔ وَطَبَعَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے نفاق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا کر انھیں ایسا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 93 قولہ تعالیٰ : (آیت) انما السبیل بیشک سزا اور گناہ ان پر ہے۔ (آیت) علی الذین یستاذنونک وھم اغنیاء مراد منافقین ہیں، ان کے افعال بد سے ڈرانے کے لیے برائے تاکید ان کا دوبارہ ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 93–96

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول (آیت) ” انما السبیل علی الذین یستاذنونک “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت اور جو اس کے بعد ہے یعنی (آیت) ” فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین “ تک منافقین کے بارے میں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قد نبانا اللہ من اخبارکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ خبر دی گئی اگر تم نکلتے ہمارے ساتھ تو تم لوگ ہمارے ساتھ نہ زیادہ کرتے مگر فساد یا خرابی کو اور فرمایا (آیت) ” فاعرضوا عنہم انہم رجس “ یعنی رجس یعنی جب نبی کریم ﷺ واپس لوٹے تو آپ نے فرمایا (صحابہ کرام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] السَّبِيْلُ [ الزام ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان پر ہے جو ] يَسْتَاْذِنُوْنَكَ [ اجازت مانگتے آپ سے ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] اَغْنِيَاۗءُ ۚ [ غنی ہیں ] رَضُوْا [ وہ راضی ہوئے ] بِاَنْ [ اس پر کہ ] يَّكُوْنُوْا [ وہ ہوں ] مَعَ الْخَوَالِفِ ۙ [ پیچھے رہنے والیوں کے ساتھ ] وَطَبَعَ [ اور ٹھپہ لگا دیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں پر ] فَهُمْ [ نتیجتا وہ لوگ ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَکَ وَ ھُمْ اَغْنِیَآءُ ) الزام انہیں لوگوں پر ہے جو مالدار ہوتے ہوئے آپ سے اجازت لیتے ہیں (رَضُوْا بِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ ) یہ لوگ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ساتھ رہ جائیں اپنی مالی استطاعت کی وجہ سے غزوہ میں جاسکتے ہیں اور ان کو ضعف اور مرض بھی نہیں ہے پھر بھی نہیں جاتے اپنے آپ کو عورتوں کے زمرہ میں شمار کرلیا نہ وہ گئیں اور نہ یہ لوگ جانے پر راضی ہوئے۔ (وَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی لہٰذا وہ نہیں جانتے کہ دنیاوی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 90–93

قال اللہ تعالیٰ ۔ وجاء المعذرون من الاعراب۔۔۔ الی۔۔۔ عذاب الیم۔ (ربط): اوپر کی آیتوں میں شہر مدینہ کے منافقوں کے احوال بیان کیے اب اس آیت میں منافقین اور ان کے اعذار کاذبہ کا حال بیان ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے جنگ تبوک کی روانگی کی وقت دیہاتیوں میں سے عذر کرنے والے جنہوں نے قلت مال اور کثرت عیال کا ذکر کیا تاکہ ان کو جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ معذرون کی اصل معتذرون ہے جو اعتذار سے مشتق ہے اور اعتذار کا استعمال عذر کاذب اور عذر صادق دونوں میں صحیح ہے اس بناء پر مفسرین میں اختلاف ہے کہ آیا یہ عذر کرنیوالے دیہاتی اپنے عذر میں سچے تھے یا جھوٹے تھے بعض کہتے ہیں کہ سچے تھے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

87:“ اِنَّمَا السَّبِیْل الخ ” گرفت اور الزام کا راستہ ان منافقین پر ہے جو طاقتور اور دولتمند ہونے کے باوجود محض آرام طلبی کی خاطر ہاد میں شریک نہیں ہونا چاہتے۔ وہ اس قدر بزدل اور پست ہمت ہیں کہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ پیچھے رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹے بہانے بنا کر اجازت مانگتے ہیں۔ “ وَ طَبَعَ اللّٰه الخ ” اللہ نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت ثبت کردی ہے کہ وہ جہاد کے دنیوی اور اخروی فوائد کو نہیں سمجھ سکتے۔ “ ( فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) ما فی الجهاد من الخیر فی الدنیا والاخرة ” (خازن ج 3 ص 111)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 90–93

دیہاتی منافقین کی حیلہ سازی : گذشتہ دروس میں غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والے منافقوں کی مذمت بیان کی گئی تھی اور اس جہاد میں شامل ہونے والے مومنین کی تعریف کی گئی تھی۔ اب آج کی آیات میں دیہاتی منافقین کے کردار کے پیش نظر ان کی بھی مذمت بیان ہوئی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وجاء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم “ اور آئے معذور لوگ دیہاتیوں میں سے تا کہ انہیں رخصت مل جائے۔ مفسرین کرام اس آیت کی دو طرح سے تفسیر بیان کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایسے لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جن کے پاس غزوہ تبوک میں عدم شرکت کا معقول عذر موجود تھا لہٰذا اللہ کے رسول نے انہیں رخصت دیدی۔ اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَسْـتَاْذِنُوْنَكَ وَہُمْ اَغْنِيَاۗءُ۝ 0 ۚ رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ۝ 0 ۙ وَطَبَعَ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 93 سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ غنی الغِنَى يقال علی ضروب : أحدها : عدم الحاجات، ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاذِنُوْنَکَ وَھُمْ اَغْنِیَآئُ ج رَضُوْا بِاَنْ یَّکُونُْومَعَ الْخَوَالِفِ لا وَ طَبَعَ اللَّہُ عَلٰیْ قُلُوْبِھمِْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (الزام تو بس ان لوگوں پر ہے جو آپ ﷺ سے اجازت مانگتے ہیں حالانکہ وہ مالدار ہیں اور وہ راضی ہوگئے اس پر کہ وہ پیچھے رہیں خانہ نشین عورتوں کے ساتھ اور اللہ نے ان دلوں پر مہر لگا دی بس وہ کچھ نہیں جانتے۔ ) منافقین چونکہ مختلف بہانوں اور چرب زبانی سے کام لے کر آنحضرت ﷺ سے جنگ سے پیچھے رہنے کی اجازت لینے کی کوشش کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ کی کریم النفسی کے باعث بعض کامیاب بھی ہوجاتے تھے پروردگار نے ایسے تمام اشتباہات کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 91–93

فہم القرآن ربط کلام : جھوٹے عذر پیش کرنے والوں کے لیے اذیت ناک عذاب ہے اور حقیقی عذر رکھنے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔ بعض حالات میں ہر مسلمان پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے تبوک کا جہاد بھی فرض عین ہوچکا تھا۔ جہاد فرض عین ہونے کے باوجود چار قسم کے لوگوں کو جہا د سے رخصت دی گئی ہے۔ 1۔ ایسا کمزور جو بڑھا پا، صغر سنی یا کسی جسمانی کمزوری کی وجہ سے جہاد میں شرکت کرنے سے قاصر ہو۔ 2۔ وہ شخص جو دائمی مرض یا وقتی بیماری کی وجہ سے جہاد میں شامل نہ ہو سکے۔ 3۔ جہاد مال اور جان کے ساتھ کرنا فرض ہے اگر کوئی غربت کی وجہ سے دفاعی فنڈ میں حصہ نہیں لے سکتا تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔ 4۔ جو شخص سواری نہ ہونے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مالدار پیچھے رہنے کی وجہ سے گنہگار ہیں : آیت 93: اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْکَ (صرف الزام ان لوگوں پر ہے جو آپ سے اجازت چاہتے ہیں) پیچھے رہنے میں وَھُمْ اَغْنِیَآ ئُ رَضُوْا (باوجود اسکے کہ وہ مالدار ہیں وہ راضی ہوگئے) رضوا یہ جملہ مستانفہ ہے گویا اس طرح کہا گیا کیا وجہ ہے کہ انہوں نے مالدارہونے کے باوجود اجازت طلب کی۔ تو جواب ملا وہ اس بات پر راضی اور خوش ہیں بِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ (کہ وہ خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہیں) کہ وہ بھی من جملہ خوالف کی لڑی میں پرو دیئے جائیں وَطَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (اللہ تعالیٰ نے انکے دلوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 93: انما السبیل “ سزا کی ” علی الذین یستاذنونک پیچھے رہ جانے کی وھم اغنیآء رضوا بان یکونوا مع الخوالف عورتوں اور بچوں کے ساتھ وطبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 93–96

92۔ 96۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو اپاہج بڈھے یا مفلس ہونے کے سبب سے لڑائی پر نہیں گئے اور ان لوگوں کو معذور ٹھہرا کر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ سرزنش کے قابل نہیں ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ اصلی سرزنش کے قابل وہ لوگ ہیں جو باوجود دولت مند ہونے اور ہٹے کٹے ہونے کے اللہ کے رسول کا ساتھ چھوڑ کر بیٹھ رہے اور آگے کی آیتوں میں دور تک ان لوگوں کا ذکر ہے جس ذکر میں ان لوگوں کی تین قسمیں ہیں ایک توہ جنہوں نے آنحضرت سے جھوٹے عذر کئے ان کی نسبت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں اور اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب رکھا ہے دوسرا وہ گروہ ہے جنہوں نے اپنے قصور پر خود قائل ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 90–93

آیت 90 (وجآء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم) ” اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے سستی کی اور جہاد کے لئے نکلنے سے قاصر رہے، اس لئے آئے کہ انہیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انہیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں۔۔۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انہوں نے اعتزاز کو بالکل ہی ترک کردیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (المعذرون) ” عذر کرنے والے “ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 91–94

حقیقی معذورین کا عذر جہاد قابل قبول ہے قول باری ہے لیس علی الصضعفاء ولا علی المرضی ولا علی الذین لا یجدون ما ینفقونحرج اذا نصحوا للہ ورسولہ ۔ ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زاد راہ نہیں پاتے اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفا دار ہوں ۔ یہ آیت ما قبل پر عطف ہے جس میں جہاد کا ذکر ہوا ہے، چناچہ ارشاد ہے۔ لکن الرسول والذین امنوا معہ جاھد وابامالھم وانفسھم پھر اس پر اس قول کو عطف کیا ۔ وجاء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم بدوی عربوں میں سیب ہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تا کہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی جائے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

177 منافقوں کے دلوں پر مہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر انکے خبث باطن کی بنا پر۔ سو اس ختم اور مہر کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں۔ ورنہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے یہاں سے محرومی کسی کے لئے بھی نہیں۔ بلکہ بخشش ہی بخشش اور عطاء ہی عطاء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ کوئی اپنے دل کے دروازے خود ہی بند کر دے۔ اور اس طرح وہ اپنے آپ کو نور حق و ہدایت سے محروم کرنے کا سامان خود ہی کرے کہ " خود کردہ را علاجے نیست " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ جب اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو قانون قدرت کے مطابق انکے دلوں پر اسی طرح مہر کردی جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فکر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

سزا کے قابل لوگ تشریح : یہاں واضح کردیا گیا ہے کہ وبال تو صرف ان لوگوں پر ہے جو جان بوجھ کر جہاد میں شامل نہ ہوئے اور عورتوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھ گئے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–93

آیات 90 تا 93 اسرار و معارف کفار ومنافقین میں بھی درجے ہیں جیسے کچھ گنوار اور دیہاتی تو ایسے تھے جو جانا ہرگز نہ چاہتے تھے ، مگر سے متعلق ہوں یا آخرت سے انہی کا مقدر ہیں اور یہی لوگ کا میا ب ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اپنا جان ومال اور اپنی بہترین کوشش غلبہ اسلام کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، اللہ نے جنت تیار کی ہے جس کے نیچے نہریں رواں ہیں جو سداشاداب ہے ۔ اور یہی حقیقی کامیابی ہے کہ ان لوگوں کے مدارج کو پایا جائے اور ان کے نقوش پاپر چل کر حیات بسرہو۔ آیات 90 تا 93 دنیا داری کے لئے اجازت حاصل کرنے آگئے مگر کچھ اسقدر شدید تھے کہ گھر ہی بیٹھ رہے اور جھوٹے منہ اجازت لینا بھی گوارانہ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 حالانکہ انہیں سواری اور زاد سفر سب میسر ہے۔12 گویا دیوانے ہوگئے ہیں جو جہاد اور اس کی فضیلت اور ثواب کو بالکل بھول گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:93) السبیل۔ راہ۔ راستہ۔ کھلی سڑک۔ سبل جمع ۔ سبیل اللہ۔ جہاد ۔ مطلب علم، حج، یا ہر امر خیر۔ جس کا حکم باری تعالیٰ سے ملا ہو۔ لیس لک علی سبیل۔ تم مجھ سے باز پرس نہیں کرسکتے۔ یعنی تمہارے لئے مجھ پر کوئی حجت نہیں ہے۔ انما السبیل علی۔ راہ باز پرس صرف ان کے خلاف پائی جاتی ہے۔ الخوالف۔ خالف اور خالفۃ کی جمع ہے۔ خالفۃ کے معنی ہیں پیچھے رہ جانے والی عورت۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 90–93

لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 93 المعذرون (معذرت پیش کرنے والے) الاعراب (دیہاتی) لبوذن (تاکہ اجازت دی جائے) سیصیب (جلد ہی پہنچے گا) الضعفآء (کمزور، ضعیف) المرضی (مریض) لایجدون (وہ نہیں پاتے ہیں) حرج (گناہ، تنگی) نصحوا (نصیحت کی، انہوں نے نصیحت کی) المحسنین (نیکو کار) اتوک (تیرے پاس آئے) لتحمل (تاکہ تو سوار کرا دے) لا اجد (میں نہیں پاتا ہوں ) اعین (عین) ، آنکھیں تفیض (بہہ رہی ہیں ) الدمع (آنسو) حزن (رنج و غم) الایجدوا (یہ کہ وہ نہیں پا رہے ہیں) السبیل (راستہ، الزام) اغنیآء (مالدار ہیں) تشریح : آیت نمبر 90 تا 93 اعراب، اعرابی کی جمع ہے۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو شہروں کے باہر چھوٹی چھوٹی جگہوں پر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 92–93

شان نزول : اصحاب رسول ﷺ میں سے چند اصحاب جہاد میں جانے کے لئے حاضر ہوئے اور عرض کیا :'' یا رسول اللہ ہم کو سواری مرحمت فرمایئے تاکہ ہم سوار ہوکر ہمرکابی میں جہاد کو چلیں ''۔ آپ نے فرمایا کہ ساتھیو ! میرے پاس کوئی سواری موجود نہیں ہے۔ تو یہ رسول اللہ ﷺ کے شیدائی، جہاد کے فریفتہ روتے ہوئے مایوسانہ واپس ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ جو اپاہج بڈھے یا مفلس جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں آیا ہے، لڑائی پر نہیں گئے اور ان لوگوں کو معذور ٹھرا کر یہ فرمایا کہ یہ لوگ مواخذہ کے قابل نہیں۔ اصل مواخذہ کے قابل وہ لوگ ہیں جو باوجود دولت مند ہونے اور ہٹے کٹے ہونے کے اللہ کے رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–94

[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یعنی بےحس سرمایہ دار جسے ثروت و غنا سے محبت ہے ، اور دولت کونین سے نفرت ، جو نفسانی آسائش چاہتا ہے اور ملت کے درد سے تہی قلب ہے جو عین جہاد کے وقت عورتوں کی طرح گھروں میں آرام فرما ہے ملعون ہے اللہ کی رحمت سے دور ہے ۔ حل لغات : نصحوا : مخلص رہنا ۔ تفیض : فاض ۔ الماء اذا اسال متعصبا ، یعنی ابل پڑنا ، پانی آنکھوں سے ابل ابل کر نکلے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

93 بس الزام اور مواخذہ تو ان لوگوں پر ہے جو باوجود غنی اور مالدار ہونے کے آپ سے گھر میں بیٹھ رہنے کی اجازت طلب کرتے ہیں انہوں نے خانہ نشیں اور گھروں میں بیٹھ رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہ جانے کو پسند کیا اور اس طرح کی خانہ نشینی پر راضی ہوگئے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہرلگادی اس لئے اب یہ گناہ وثواب کو کچھ نہیں جانتے۔ یعنی ان کے برے اعمال کا انجام یہ ہوا کہ ان کے قلوب پر مہر لگادی گئی چونکہ انہوں نے باوجود استطاعت کے جہاد سے جان چرائی اور جھوٹے عذرکرکے اپنے کو بچانا چاہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 93–95

ف 4۔ اوپر ان منافقین کا ذکر تھا جنہوں نے روانگی کے وقت عذر تراشتے تھے آگے ان کا ذکر ہے جنہوں نے واپسی کے بہانے تصنیف کیے یہ اگلی آیتیں واپسی کے قبل نازل ہوئیں جن میں اغراض خانیہ اعراض ورضائے خلق کی تحصیل کے لیے ان کی بہانہ سازی یعتذرون میں پیشین گوئی ہے اور قل لاتعتذروا اور فاعرضوا میں اس عذر کے وقت ان کے ساتھ قولا و عملا برتاو کی تعلیم ہے اور ساتھ ساتھ عذاب کی وعیدیں ان کو سنائی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سارا گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو اجازت طلب کرتے ہیں حالانکہ ان کو کوئی عذر نہیں : 124: سارے کا سارا گناہ تو ان کو رچشموں پر ہے جو دیکھتے ہوئے ان کو دیکھے ہو کر رہ گئے ہیں اور آپ ﷺ سے اجازت طلب کرنے کے لئے آرہے ہیں جب کہ کوئی عذر اجازت طلب کرنے کا ان کے پاس نہیں اور وہ چاہتے تو خود بھی شریک ہوتے اور دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شریک کرسکتے تھے یعنی ان کی سواری کا بندوبست بھی کرسکتے تھے لیکن وہ جہاد سے جی چرا کر گھر بیٹھ گئے اور اجازت مانگی تو بھی اس طرح کہ شاید وہ اس قابل بھی نہ تھے کہ اجازت طلب کرنے کے لئے حاضر ہوں۔ انہوں نے بہت بڑا کام کیا کہ طاقت نہ ہونے کے باوجود وہ کسی کے سہارے اجازت مانگنے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 92–93

Ultimately, there were some of them still left out for the simple reason that they could not find a mount. Rendered totally helpless, they could do nothing about their aspirations for Jihad. These are the kinds of people mentioned in the cited verses whose excuse was accepted by Allah Ta` ala. However, at the end, the warning was repeated by saying that particularly cursed are those who, despite their ability, elected to stay away from Jihad like women. The sentence: الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ (Blame lies, in fact, on those who ask your permis-sion despite being rich - 93)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →