Explained with ayahs 91–93
عدم جہاد کے شرعی عذر
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔ پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن کوئی لولا لنگڑا یا اپاہج بیمار یا بالکل ہی ناطاقت ہو۔ دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب میں مثلاً کوئی بیمار ہوگیا ہے یا بالکل فقیر ہوگیا ہے، سامان سفر سامان جہاد مہیا نہیں کرسکتے وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کرسکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
سورة التَّوْبَة 93
ایسے لوگ جو خدمت دین کے لیے بےتاب ہوں، اور اگر کسی حقیقی مجبوری کے سبب سے یا ذرائع نہ پانے کی وجہ سے عملًا خدمت نہ کرسکیں تو ان کے دل کو اتنا سخت صدمہ ہو جتنا کسی دنیا پرست کو روزگار چھوٹ جانے یا کسی بڑے نفع کے موقع سے محروم رہ جانے کا ہوا کرتا ہے، ان کا شمار خدا کے ہاں خدمت انجام دینے والوں ہی میں ہوگا اگرچہ انہوں نے عملا کوئی خدمت انجام نہ دی ہو۔ اس لیے کہ وہ چاہے ہاتھ پاؤں سے کام نہ کرسکے ہوں، لیکن دل سے تو وہ برسر خدمت ہی رہے ہیں۔ یہی بات ہے جو غزوہ تبوک سے واپسی پر اثنائے سفر میں نبی ﷺ نے اپنے رفقا کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی تھی کہ ان بالمدینۃ اقوامًا ما سرتم مسیرا ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
خلاصہ تفسیر
کم طاقت لوگوں پر کوئی گناہ نہیں اور نہ بیماروں پر اور نہ ان لوگوں پر جن کو (سامان جہاد کی تیاری میں) خرچ کرنے کو میسر نہیں جبکہ یہ لوگ اللہ اور رسول کے ساتھ (اور احکام میں) خلوص رکھیں (اور دل سے اطاعت کرتے رہیں تو) ان نکوکاروں پر کسی قسم کا الزام (عائد) نہیں (کیونکہ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا) اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (کہ اگر یہ لوگ اپنے علم میں معذور ہوں اور اپنی طرف سے خلوص و اطاعت میں کوشش کریں اور واقع میں کچھ کمی رہ جائے تو معاف کردیں گے) اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ اور الزام ہے) کہ جس وقت وہ آپ کے پاس اس واسطے آتے ہیں کہ آپ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
91۔ 93:۔ اب یہ معذرین اور حقیقی معذورین کے درمیان فرق واضح کردیا گیا ہے تاکہ نہ تو ہر بہان باز اپنے کو معذور ٹھہرا سکے نہ کسی واقعی معذور پر نفاق کی عائد کی جاسکے۔
لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یعنی کمزور مریض اور تنگ حال جو اپنے لیے زاد راہ اور سوار جو جہاد کے لیے تو بےقرار ہیں۔ لیکن اپنی ناداری کے سبب سے کسی سواری کا بندوبست خود کرسکنے پر قادر نہیں ہیں اور جب تمہارے پاس کسی سواری کے لیے درخواست لے کر…
Read the full tafseer →92۔ 1 یہ مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے جن کے پاس اپنی سواریاں بھی نہیں تھیں اور نبی ﷺ نے بھی انہیں سواریاں پیش کرنے سے معذرت کی جس پر انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ بےاختیار ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، گویا مخلص مسلمان جو کسی بھی لحاظ سے معقول عذر رکھتے تھے اللہ تعالیٰ نے جو ہر ظاہر باطن سے باخبر ہے ان کو جہاد میں شرکت سے مستثنٰی کردیا۔ بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے ان معذورین کے بارے میں جہاد میں شریک لوگوں سے فرمایا کہ ' تمہارے پیچھے مدینے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ تم جس وادی کو بھی طے کرتے ہو اور جس راستے پر چلتے ہو، تمہارے ساتھ وہ اجر میں برابر کے شریک ہیں ' صحابہ کرام نے پوچھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–94
72: روایات میں ہے کہ یہ سات انصاری صحابہ تھے۔ حضرت سالم بن عمیر، حضرت علبہ بن زید، حضرت عبدالرحمن بن کعب، حضرت عمرو بن الحمام، حضرت عبداللہ بن مغفل، حضرت ہر می بن عبداللہ اور حضرت عرباض بن ساریہ ؓ۔ انہوں نے غزوہ تبوک میں شامل ہونے کے لیے اپنے شوق کا اظہار فرمایا، اور آنحضرت ﷺ سے سواری کی درخواست پیش کی۔ جب آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی سورای نہیں ہے تو یہ روتے ہوئے واپس گئے۔ (روح المعانی)
Read the full tafseer →اس طرح جنگی قوت رکھنے والے لیکن سواری نہ رکھنے والے بھی معذور ہوں گے جو پیادہ اس دور دراز سفر پر نہیں جاسکتے تھے۔ ایسے لوگ مجبوراً رہ گئے لیکن ان کے دل پھٹے جا رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ وہ مجبوراً اس اعزاز سے محروم ہورہے ہیں۔
جہاد کی سچی چاہت کی یہ کس قدر اچھی تصویر کشی ہے۔ دلی رنج و الم کو کن خوبصورت الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ رسول اللہ کے زمانے میں بعض عملی واقعات کی یہ اس آیت میں تصویر کھینچی گئی ہے۔ مختلف روایات میں مختلف فدایان اسلام کا ذکر ہے لیکن یہ سب اس آیت کا صحیح مصداق ہیں۔
وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ…
Read the full tafseer →5 سبحان اللہ نبی کریم ﷺ کی صحبت نے صحابہ ؓ کے دلوں میں عشق الٰہی کا وہ نشہ پیدا کیا تھا جس کی مثال کسی قوم و ملت کی تاریخ میں موجود نہیں۔ مستطیع اور مقدور والے صحابہ کو دیکھو تو جان و مال سب کچھ خدا کے راستہ میں لٹانے کو تیار ہیں اور سخت سے سخت قربانی کے وقت بڑے ولولہ اور اشتیاق سے آگے بڑھتے ہیں۔ جن کو مقدور نہیں وہ اس غم میں رو رو کر جان کھوئے لیتے ہیں کہ ہم میں اتنی استطاعت کیوں نہ ہوئی کہ اس محبوب حقیقی کی راہ میں قربان ہونے کے لیے اپنے کو پیش کرسکتے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ آپ ﷺ نے مجاہدین کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم مدینہ میں ایک ایسی قوم کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو جو ہر قدم پر تمہارے اجر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
آیت 92 وَّلاَ عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلاَّ یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ
یعنی وہ لوگ جو دل و جان سے چاہتے تھے کہ اس مہم میں شریک ہوں ‘ مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے شرکت نہیں کر پا رہے تھے ‘ اپنی اس محرومی پر وہ واقعتا صدمے اور رنج و غم سے ہلکان ہو رہے تھے۔ ایک طرف ایسے مؤمنین صادقین تھے اور دوسری طرف وہ صاحب حیثیت اُولُوا الطَّوْلِ لوگ جن کے پاس سب کچھ موجود تھا ‘ وسائل و ذرائع کی کمی نہیں تھی ‘ تندرست و توانا تھے ‘ لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں نکلنے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
105 حقیقی معذوروں کی کیفیت سواری مانگنے والے :۔ اس آیت میں ایسے حقیقی مومنوں کا ذکر ہے جن کے لیے شرعی عذر موجود تھا۔ یعنی اتنے طویل سفر کے لیے سواری کا بندوبست نہ تھا تاہم وہ جہاد پر جانے کے لیے بےچین تھے۔ وہ درخواست لے کر رسول اللہ کے پاس گئے کہ آپ سواری کا کوئی بندوبست کر دیجئے۔ اتفاق سے آپ کے پاس بھی اس وقت سواری کا کوئی بندوبست نہ تھا لہذا آپ نے انہیں جواب دے دیا۔ جس سے انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور وہ صدمہ صرف یہ تھا کہ شاید اب ہم جہاد پر نہ جاسکیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی خدمت میں سواری مانگنے کے…
Read the full tafseer →167 ۔ (سامان جہاد میں) آیت میں ان مخلص، معذور دیہاتیوں کے مزید اخلاص پر گواہی مل رہی ہے۔ (آیت) ” لتحملھم “ محاورہ میں اس کے معنی یہی ہیں کہ آپ ان کے لئے سواری کا انتظام کردیں۔ احملنی اے اعطنی ظھرا ارکبہ (تاج) (آیت) ” اعینھم تفیض من الدمع “۔ یہ طرز ادا بلیغ تر ہے۔ یفیض دمعھا سے، کہ اس میں آنکھ ہی کو بہتا ہوا آنسو بنادیا گیا ہے۔ ھو ابلغ من یفیض دمعھا لان العین فعلت کان کلھا دمع فائض (کشاف)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت نمبر 90 تا 93
ترجمہ : اور آئے عذر کرنے والے آپ ﷺ کے پاس عرب کے کچھ بدو، اصل میں تاء کو ذال میں اور ادغام کر کے یعنی مُعْتَذِرُوْنَ میں ( اور معتذرون) معنی میں معذورین کے ہے، اور ایک قراءت میں معتذرون بھی پڑھا گیا ہے تاکہ ان کو (مدینہ ہی میں) بیٹھ رہنے کی اجازت مل جائے ان کے عذر کی وجہ سے چناچہ ان کو اجازت دے دی گئی، اور بدو منافقین میں سے جنہوں نے دعوائے ایمان میں اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی وہ تو عذر کرنے سے بھی بیٹھ گئے (یعنی عذر کرنے بھی نہ آئے) ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو دردناک عذاب لاحق ہوگا اور کمزوروں مثلاً بوڑھے اور مریضوں پر مثلاً اندھے اور اپاہج پر اور ان لوگوں پر…
Read the full tafseer →ولا علی الذین ازا ما اتوک لتحملھم قلت لا اجد ما احملکم علیہ تولوا واعینھم تفیض من الدمع حزنًا الا یجدوا ما ینفقون۔ اور نہ ان لوگوں پر (کوئی گناہ ہے) کہ جس وقت وہ آپ کے پاس اس غرض سے آتے ہیں کہ آپ ان کو کوئی سواری دے دیں اور آپ کہہ دیتے ہیں کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تم کو سوار کر دوں تو وہ (ناکام) اس حالت سے واپس چلے جاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں اس غم میں کہ (افسوس) ان کو خرچ کرنے کو کچھ بھی میسر نہیں۔
اس کلام کا عطف الضعفاء یا المحسنین پر ہے۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے استدعاء کی تھی کہ (جہاد کے سفر پر جانے کیلئے) ہم کو کوئی سواری…
Read the full tafseer →(92) اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے کہ جس وقت وہ آپ کے پاس جہاد کیلیے خرچ وسواری کے لیے آتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن معقل بن یسار اور سالم بن عمیر انصاری اور ان کے ساتھی اور آپ ان سے فرما دیتے ہیں کہ میرے پاس تو جہاد پر جانے کے لیے کوئی چیز نہیں تو آپ کے ہاں سے ناکام اس حالت میں واپس چلے جاتے ہیں کہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں، اس غم میں کہ ان کو سامان جہاد کی تیاری میں خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں۔
Read the full tafseer →وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ : یہ مخلص مسلمانوں کے ایک اور گروہ کا ذکر ہے جن کے پاس اپنی سواریاں نہیں تھیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں لینے کے لیے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا، میرے پاس تمہیں سواری دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، اس پر انھیں اتنا صدمہ ہوا کہ وہ رونے لگے اور ایسے روئے گویا آنکھیں پانی کے چشمے بن گئیں، جن سے آنسوؤں کی نالیاں رواں ہوں کہ ہمارے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں کہ ہم جہاد میں شریک ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی گناہ سے بری قرار دیا کہ ان لوگوں پر اعتراض کا کوئی راستہ اور کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ یہ محسنین ہیں۔
اس آیت پر ان لوگوں کو خلوص کے ساتھ غور کرنا چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
آیت نمبر 91 تا 92۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) لیس علی الضعفاء الآیہ، یہ اشارہ عاجز آدمی سے تکلیف اور پابندی کے ساقط ہونے میں اصل ہے۔ پس ہر وہ جو کسی شی سے عاجز ہو تو وہ اس سے ساقط ہوجاتی ہے، کبھی ایسے بدل کے ساتھ جو فعل ہوتا ہے اور کبھی ایسے بدل کے ساتھ جو کہ تاوان اور جرمانہ ہوتا ہے اور قوت و طاقت کے اعتبار سے عاجز ہونے یا مال کے اعتبار سے عاجز ہونے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اور اس آیت کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) لایکلف اللہ نفسا الا وسعھا (البقرہ : 286) (ذمہ داری نہیں ڈالتا اللہ تعالیٰ کسی شخص پر مگر جتنی طاقت ہو اس کی) اور اللہ تعالیٰ کا یہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے مدینہ منورہ میں ایسی قوم کو چھوڑا ہے جنہوں نے تمہارے ساتھ کوئی بھی سفر نہیں کیا اور تمہارے ساتھ وادیوں کو عبور نہیں کیا اور نہ تمہارے ساتھ دشمن کا سامنا کیا مگر وہ تمہارے ساتھ شریک ہیں اجر میں پھر آپ نے ( یہ آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک “ تلاوت کی۔
2:۔ ابن جریر وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ وہ غازین (یعنی دشمن سے لڑنے والے) کو بھیجیں (یعنی جہاد کے لئے تیار ہوں) آپ کے صحابہ میں سے ایک جماعت آئی ان میں عبداللہ بن معقل لمزنی تھے انہوں نے عرض کیا یارسول…
Read the full tafseer →وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ [ اور نہ ان پر (کوئی الزام ہے) جو ] اِذَا مَآ [ جس وقت ] اَتَوْكَ [ پہنچے آپ کے پاس ] لِتَحْمِلَهُمْ [ تاکہ آپ سواری دین ان کو ] قُلْتَ [ تو آپ نے کہا ] لَآ اَجِدُ [ میں نہیں پاتا ] مَآ [ اس کو ] اَحْمِلُكُمْ [ میں سوار کروں تم لوگوں ] عَلَيْهِ ۠ [ جس پر ] تَوَلَّوْا [ وہ لوگ پلٹے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] اَعْيُنُهُمْ [ ان کی آنکھیں ] تَفِيْضُ [ بہتی تھیں ] مِنَ الدَّمْعِ [ آنسو سے ] حَزَنًا [ اس غم میں ] اَلَّا يَجِدُوْا [ کہ وہ نہیں پاتے ] مَا [ اس کو جو ] يُنْفِقُوْنَ [ وہ خرچ کریں ]
(آیت ۔ 92) ولا علی الذین گزشتہ آیت میں مامن سبیل کی قائم مقام خبر ہے ۔ اذا ما میں…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَّ لَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ) (اور ان لوگوں پر بھی کوئی گناہ نہیں جو آپ کے پاس آئے کہ آپ انہیں سواری دے دیں ان کے جواب میں آپ نے فرما دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کرا دوں) ۔ البدایہ و النہایۃ (ص 5 ج 5) میں لکھا ہے کہ سات افراد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سواری طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک سالم بن عمیر، دوسرے علبہ بن زید، تیسرے ابو لیلی عبدالرحمن بن کعب چوتھے عمرو بن الحمام، پانچویں عبداللہ بن معلق چھٹے حرمی بن عبداللہ اور ساتویں عرباض بن ساریہ ؓ تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
قال اللہ تعالیٰ ۔ وجاء المعذرون من الاعراب۔۔۔ الی۔۔۔ عذاب الیم۔
(ربط): اوپر کی آیتوں میں شہر مدینہ کے منافقوں کے احوال بیان کیے اب اس آیت میں منافقین اور ان کے اعذار کاذبہ کا حال بیان ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے جنگ تبوک کی روانگی کی وقت دیہاتیوں میں سے عذر کرنے والے جنہوں نے قلت مال اور کثرت عیال کا ذکر کیا تاکہ ان کو جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ معذرون کی اصل معتذرون ہے جو اعتذار سے مشتق ہے اور اعتذار کا استعمال عذر کاذب اور عذر صادق دونوں میں صحیح ہے اس بناء پر مفسرین میں اختلاف ہے کہ آیا یہ عذر کرنیوالے دیہاتی اپنے عذر میں سچے تھے یا جھوٹے تھے بعض کہتے ہیں کہ سچے تھے اور…
Read the full tafseer →86:“ وَلَا عَلَی الَّذِیْنَ الخ ” اسی طرح ان لوگوں پر بھی تخلف عن الجہاد کی وجہ سے گناہ نہیں جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئ ہے تاکہ آپ ان کے لیے سواری کا انتظام فرمائیں لیکن سواری نہ ہونے کی وجہ سے وہ مایوس ہو کر زور و قطار رونے لگے اس لیے کہ وہ جہاد میں شریک نہیں ہوسکیں گے اور اس کے اجر سے محروم ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
دیہاتی منافقین کی حیلہ سازی :
گذشتہ دروس میں غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والے منافقوں کی مذمت بیان کی گئی تھی اور اس جہاد میں شامل ہونے والے مومنین کی تعریف کی گئی تھی۔ اب آج کی آیات میں دیہاتی منافقین کے کردار کے پیش نظر ان کی بھی مذمت بیان ہوئی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وجاء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم “ اور آئے معذور لوگ دیہاتیوں میں سے تا کہ انہیں رخصت مل جائے۔ مفسرین کرام اس آیت کی دو طرح سے تفسیر بیان کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایسے لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جن کے پاس غزوہ تبوک میں عدم شرکت کا معقول عذر موجود تھا لہٰذا اللہ کے رسول نے انہیں رخصت دیدی۔ اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے…
Read the full tafseer →وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَہُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْہِ 0 ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُہُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ 92 ۭ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
ترکیب : حرج اسم لیس علی الضعفاء الخ خبر اذا کا عامل حرج ہے۔ ولا علی الذین معطوف ہے علی المرضٰی پر۔ اذا ما کا جواب تولوا قلت حال ہے فاعل تولوا سے من بیان ہے تفیض کا ‘ حزنا مفعول لہ ہے تفیض کا۔
تفسیر : مدینہ کے منافقوں کے سوا عرب کے دیگر قبائل میں سے بھی ایسے لوگ تھے جو جنگ تبوک میں شامل نہ ہوئے تھے۔ ازانجملہ عامر بن الطفیل کے چند لوگ تھے۔ آنحضرت ﷺ سے عذر کرنے لگے کہ ہم کو رخصت دیجئے۔ آپ نے فرمایا مجھے پہلے ہی سے تمہارا حال اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا تھا اور بعض ایسے تھے کہ وہ عذر کرنے بھی نہیں آئے۔ متکبرانہ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ اول فریق کی طرف وجاء المعذرون میں اور دوسرے کی طرف وقعد الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
لَیْسَ عَلَیَ الضُّعَفَآئِ وَلَاعَلَی الْمَرْضٰی وَلَاعَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوَْنَ مَایُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْالِلَّہِ وَرَسُوْلِہٖ مَاعَلَی الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ لا وَّلَاعَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ قُلْتَ لآاَجِدُ مَآاَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ ص تَوَلَّوْا وَّاَعْیُنُُُُُُھُمْ تَفِیضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَ
(کوئی حرج نہیں جہاد سے پیچھے رہ جانے پر کمزوروں بیماروں اور ان لوگوں پر جو خرچ کرنے کی مقدرت نہیں رکھتے۔ جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خیر خواہی کرتے رہیں خوب کاروں پر کوئی الزام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
فہم القرآن
ربط کلام : جھوٹے عذر پیش کرنے والوں کے لیے اذیت ناک عذاب ہے اور حقیقی عذر رکھنے والوں پر کوئی گناہ نہیں۔
بعض حالات میں ہر مسلمان پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے تبوک کا جہاد بھی فرض عین ہوچکا تھا۔ جہاد فرض عین ہونے کے باوجود چار قسم کے لوگوں کو جہا د سے رخصت دی گئی ہے۔
1۔ ایسا کمزور جو بڑھا پا، صغر سنی یا کسی جسمانی کمزوری کی وجہ سے جہاد میں شرکت کرنے سے قاصر ہو۔
2۔ وہ شخص جو دائمی مرض یا وقتی بیماری کی وجہ سے جہاد میں شامل نہ ہو سکے۔
3۔ جہاد مال اور جان کے ساتھ کرنا فرض ہے اگر کوئی غربت کی وجہ سے دفاعی فنڈ میں حصہ نہیں لے سکتا تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔
4۔ جو شخص سواری نہ ہونے کی وجہ…
Read the full tafseer →زادِ سفر سے معذور لوگ :
آیت 92: وَّلَا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ (اور نہ ان لوگوں پر کہ جس وقت وہ آپ کے پاس آئے اسلئے تاکہ آپ ان کو سواری دیں) سواری عنایت کریں قُلْتَ (آپ نے کہہ دیا) یہ اَتَوْکَ کی کا فؔ سے حال ہے اور اس سے پہلے قد مضمر ہے ای اذا اتوک قائلاً ۔ جب وہ یہ کہتے ہوئے آئے کہ ہمیں سواری دیں تو آپ نے انہیں جواب دیا۔ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوْا (میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں آپ کو سوار کر دوں تو وہ واپس چلے جاتے ہیں) یہ اذا کا جواب ہے وَّ اَعْیُنُہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ (اس حالت میں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں) بہتے ہیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 92:” ولا علی الذین اذا مآ اتو ک لتحملھم “ مطلب یہ ہے کہ نہ پہلے لوگوں پر کوئی سبیل ہے اور نہ ان لوگوں پر جو آپ (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ یہ سات افراد تھے۔ ان کا نام کثرت سے رونے والے پڑگیا۔” بکائین “ معقل بن یسار ؓ ‘ صنحر بن خنسائ ‘ عبد اللہ بن کعب انصاری ‘ عبلہ بن زید انصاری ‘ سالم بن عمیر ‘ ثعلبۃ بن غنمۃ ‘ عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ یہ حضرات نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ‘ اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) بیشک اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ (علیہ السلام) کے ساتھ نکلنے کا حکم دیا ہے ‘ ہمیں سوار کردیں۔ مفسرین رحمہم اللہ کا اس لفظ ” لتحملھم “ کے معنی میں اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →92۔ صحیح بخاری میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے جو اس آیت کی شان نزول اور تفسیر بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ اپنے قبیلہ کے لوگوں کے ساتھ آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ سے لڑائی پر جانے کے لئے سواری عطا فرمانے کی خواہش پیش کی اس وقت آپ کچھ غصہ میں تھے اس غصہ کی حالت میں آپ نے قسم کھائی سواری کے نہ دینے کی پھر کچھ اونٹ مال غنیمت کے کہیں سے آگئے اور آپ نے ان لوگوں کو پھر بلایا اور چھ اونٹ ان کو دئے پہلے یہ لوگ اونٹ لے کر چلے پھر ان کے خیال آیا کہ آنحضرت کو آپ کی قسم یاد دلا دینی چاہئے ایسا نہ ہو کہ آپ نے قسم کی حالت کو بھول کر ہم کو یہ اونٹ دئے ہوں اس خیال سے یہ لوگ راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت 90
(وجآء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم) ” اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے سستی کی اور جہاد کے لئے نکلنے سے قاصر رہے، اس لئے آئے کہ انہیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انہیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں۔۔۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انہوں نے اعتزاز کو بالکل ہی ترک کردیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (المعذرون) ” عذر کرنے والے “ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–94
حقیقی معذورین کا عذر جہاد قابل قبول ہے
قول باری ہے لیس علی الصضعفاء ولا علی المرضی ولا علی الذین لا یجدون ما ینفقونحرج اذا نصحوا للہ ورسولہ ۔ ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زاد راہ نہیں پاتے اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جبکہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفا دار ہوں ۔ یہ آیت ما قبل پر عطف ہے جس میں جہاد کا ذکر ہوا ہے، چناچہ ارشاد ہے۔ لکن الرسول والذین امنوا معہ جاھد وابامالھم وانفسھم پھر اس پر اس قول کو عطف کیا ۔ وجاء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم بدوی عربوں میں سیب ہت سے لوگ آئے جنہوں نے عذر کیے تا کہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی جائے۔ اللہ…
Read the full tafseer →176 صدق ایمان کی ایک نشانی، نیکی سے محرومی پر رو پڑنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے سچے اور مخلص لوگ جہاد کے لیے سواری نہ ملنے کے نتیجے میں غم اور افسوس کے باعث روتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں۔ اور ایسے کہ گویا ان کی آنکھیں حوض ہیں جو کناروں سے بہ پڑے ہیں۔ اس لئے کہ یہاں پر " تَدْمَعُ " نہیں بلکہ { تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ } فرمایا گیا گیا ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایسے حضرات کا لقب ہی " بَکَّائِیْنَ " " بہت زیادہ رونے والے " پڑگیا تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یہی حال ہوتا ہے سچے ایمان والوں کا کہ نیکی اور بھلائی سے محرومی پر وہ روتے اور افسوس کرتے ہیں جبکہ نفاق کے روگی اس کے برعکس اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
مجاہد مومن اور عذر سے پیچھے رہنے والے
تشریح : ان آیات میں تشریح کردی گئی ہے کہ جہاد میں شامل نہ ہونے کے لیے کون کونسی صورتیں ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مال و جان سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں جہاد کیا ایسے ہی لوگ اللہ کے پسندیدہ ہیں ایسے ہی لوگوں کو دنیا و آخرت میں بھلائیوں کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اللہ رب العزت اعلان کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بہترین باغات اور پرسکون پر آسائش ٹھکانے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جہاد سے چھوٹ صرف عورتوں، بچوں، بیماروں اور ان لوگوں کو ہے جن کی جسمانی حالت ٹھیک نہ ہو۔ لیکن جھوٹ بول کر اپنے آپ کو جہاد کے قابل ظاہر نہ کرنا انتہائی گناہ اور شرم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیات 90 تا 93
اسرار و معارف
کفار ومنافقین میں بھی درجے ہیں جیسے کچھ گنوار اور دیہاتی تو ایسے تھے جو جانا ہرگز نہ چاہتے تھے ، مگر سے متعلق ہوں یا آخرت سے انہی کا مقدر ہیں اور یہی لوگ کا میا ب ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اپنا جان ومال اور اپنی بہترین کوشش غلبہ اسلام کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، اللہ نے جنت تیار کی ہے جس کے نیچے نہریں رواں ہیں جو سداشاداب ہے ۔ اور یہی حقیقی کامیابی ہے کہ ان لوگوں کے مدارج کو پایا جائے اور ان کے نقوش پاپر چل کر حیات بسرہو۔
آیات 90 تا 93
دنیا داری کے لئے اجازت حاصل کرنے آگئے مگر کچھ اسقدر شدید تھے کہ گھر ہی بیٹھ رہے اور جھوٹے منہ اجازت لینا بھی گوارانہ کیا کہ…
Read the full tafseer →ف 10 متعدد صحیح روایات میں ہے کہ یہ انصار ؓ کے مختلف قبیلوں کے ساٹھ آدمی تھے جو جہاد میں شرکت کے شوق میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے مگر چونکہ سواریوں کی انتظام نہ تھا اس لیے نبی ﷺ نے انہیں جہاد میں شرکت سے معذور قراردے دیا اس پر وہ دلوں میں حسرت لئے روتے ہوئے واپس ہوگئے جیسا کہ اس آیت میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ ( فتح القدیر وغیر ہ
Read the full tafseer →(9:92) اتوک۔ ماضی جمع مذکر غائب ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ وہ تیرے پاس آئے۔ لتحملہم کہ تو ان کو سواری مہیا کرے۔ حمل سے جمع مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر۔ تفیض۔ وہ بہتی ہے وہ جاری ہے۔ فیض سے باب ضرب۔ اس کا استعمال اگر آنسو اور پانی کے لئے ہو تو اس کا معنی جاری ہونے اور بہنے کے آتے ہیں۔
الدمع۔ آنسو۔ اشک۔ دموع جمع۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 93
المعذرون (معذرت پیش کرنے والے) الاعراب (دیہاتی) لبوذن (تاکہ اجازت دی جائے) سیصیب (جلد ہی پہنچے گا) الضعفآء (کمزور، ضعیف) المرضی (مریض) لایجدون (وہ نہیں پاتے ہیں) حرج (گناہ، تنگی) نصحوا (نصیحت کی، انہوں نے نصیحت کی) المحسنین (نیکو کار) اتوک (تیرے پاس آئے) لتحمل (تاکہ تو سوار کرا دے) لا اجد (میں نہیں پاتا ہوں ) اعین (عین) ، آنکھیں تفیض (بہہ رہی ہیں ) الدمع (آنسو) حزن (رنج و غم) الایجدوا (یہ کہ وہ نہیں پا رہے ہیں) السبیل (راستہ، الزام) اغنیآء (مالدار ہیں)
تشریح : آیت نمبر 90 تا 93
اعراب، اعرابی کی جمع ہے۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو شہروں کے باہر چھوٹی چھوٹی جگہوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
شان نزول : اصحاب رسول ﷺ میں سے چند اصحاب جہاد میں جانے کے لئے حاضر ہوئے اور عرض کیا :'' یا رسول اللہ ہم کو سواری مرحمت فرمایئے تاکہ ہم سوار ہوکر ہمرکابی میں جہاد کو چلیں ''۔ آپ نے فرمایا کہ ساتھیو ! میرے پاس کوئی سواری موجود نہیں ہے۔ تو یہ رسول اللہ ﷺ کے شیدائی، جہاد کے فریفتہ روتے ہوئے مایوسانہ واپس ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا مطلب یہ ہے کہ جو اپاہج بڈھے یا مفلس جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں آیا ہے، لڑائی پر نہیں گئے اور ان لوگوں کو معذور ٹھرا کر یہ فرمایا کہ یہ لوگ مواخذہ کے قابل نہیں۔ اصل مواخذہ کے قابل وہ لوگ ہیں جو باوجود دولت مند ہونے اور ہٹے کٹے ہونے کے اللہ کے رسول ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–94
[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
جہاد سے کون کون مستثنے ہیں :
(ف 1)
جہاد ایک اہم اسلامی فریضہ ہے ، جس میں تساہل وتخلف جائز نہیں ، اس آیت میں بتایا ہے کہ مندرجہ ذیل لوگ عموم حکم سے مستثنے قرار پائیں گے ۔
(1) الضعفاء یعنی کمزور وناتوان اشخاص ۔
(2) مریض ۔
(3) مفلس ، یعنی جس کے پاس جہاد کی تیاری کے لئے سامان نہ ہو ۔
(4) جو سواری نہ رکھتا ہو ۔
غرض یہ ہے کہ جہاد میں شرکت کے لئے اچھے طبقے کے لوگ جائیں ، جن کی رگوں میں خون دوڑ رہا ہو ، جو جہاد میں اپنے مصارف برداشت کرسکیں ، جن کے پاس آلات جہاد ہوں اور جنہیں ہر طرح سپاہی قرار دیا جاسکے ۔
رسول اللہ ﷺ کے عہد بابرکت میں کوئی متعین فوج نہ تھی بلکہ ہر شخص بجائے خود سپاہی تھا ، اور ذمہ…
Read the full tafseer →92 اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ اور الزام ہے جو آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے کہ آپ ان کو کوئی سواری دے دیں اور آپ نے بطور معذرت ان سے فرمایا کہ میں اپنے پاس کوئی سواری نہیں پاتا جس پر تم کو سوار کردوں تو وہ آپ کا جواب سن کر واپس گئے اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہ رہے تھے کہ ان کے پاس جہاد کی تیاری کے لئے خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں۔ یعنی ایسے فقراء پر بھی کوئی الزام نہیں کہ جو سواری تک کے لئے بھی کوئی پیسہ نہیں رکھتے اس توقع میں آئے کہ پیغمبر کے پاس سے سواری مل جائے گی لیکن یہاں بھی سواری نہ ملی تو زار و قطارروتے ہوئے اس رنج و افسوس میں واپس ہوئے کہ نہ اپنے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–92
ف 3۔ اگر یہ لوگ اپنے علم میں معذور ہوں اور اپنی طرف سے خلوص و اطاعت میں کوشش کریں اور واقع میں کچھ کمی رہ جائے تو معاف کردیں گے۔
Read the full tafseer →وہ معذور جو اپنے عذر پر اشک بہا رہے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس بھی اشک شوئی کی کوئی چیز نہیں :
123: یہ وہ زمانہ ہے کہ جب غزوہ تبوک کی تیاری مکمل طور پر شروع ہوگئی تو وہ غریب و نادار مسلمان جن کے دلوں میں راہ حق میں جان دینے کے ہزاروں ارمان مچل رہے تھے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم دل و جان سے جہاد کے لئے تیار ہیں لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ہم نادار ہیں ، اتنی طاقت نہیں کہ سواری کا بندوبست کریں ، ازراہ مہربان کوئی سواری کا بندوبست فرمادیں کہ ہم بھی آپ کے ساتھ شریک جہاد ہو سکیں اور پھر آپ نے جب ان کو یہ بتایا کہ بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں کہ تمہاری سواری کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
Ultimately, there were some of them still left out for the simple reason that they could not find a mount. Rendered totally helpless, they could do nothing about their aspirations for Jihad. These are the kinds of people mentioned in the cited verses whose excuse was accepted by Allah Ta` ala. However, at the end, the warning was repeated by saying that particularly cursed are those who, despite their ability, elected to stay away from Jihad like women. The sentence: الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ (Blame lies, in fact, on those who ask your permis-sion despite being rich - 93)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →