Explained with ayahs 88–89
منافق کی آخرت خراب
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی خستہ حالت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لئے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لئے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
سورة التَّوْبَة 89
یعنی اگرچہ یہ بری شرم کے قابل بات ہے کہ اچھے خاصے ہٹے کٹے، تندرست، صاحب مقدرت لوگ، ایمان کا دعویٰ رکھنے کے باوجود کام کا وقت آنے پر میدان میں نکلنے کے بجائے گھروں میں گھس بیٹھیں اور عورتوں میں جا شامل ہوں، لیکن چونکہ ان لوگوں نے خود جان بوجھ کر اپنے لیے یہی رویہ پسند کیا تھا اس لیے قانون فطرت کے مطابق ان سے وہ پاکیزہ احساسات چھین لیے گئے جن کی بدولت آدمی ایسے ذلیل اطوار اختیار کرنے میں شرم محسوس کیا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
اُولُوا الطَّوْلِ کا لفظ تخصیص کے لئے نہیں بلکہ اس سے غیر اولی الطول یعنی غیر مستطیع لوگوں کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ ان کے پاس تو ایک ظاہری عذر بھی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
88۔ 89۔ سچے اہل ایمان کا کردار : لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْخَيْرٰتُ ۡ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ اب یہ سچے اور پکے اہل ایمان کا کردار اور ان کا انجام بیان ہو رہا ہے اور مقصود اس سے ان مخلصین کی تحسین بھی ہے اور ان منافقین کو غیرت دلانا بھی کہ رسول کے جو سچے ساتھی ہیں وہ جب حکم جہاد ہوتا ہے تو ان منافقین کی طرح رخصت کی عرضیاں لے کر نہیں دوڑتے بلکہ اپنے مال اور سر لے کر رسول کی خدمت…
Read the full tafseer →89۔ 1 ان منافقین کے برعکس اہل ایمان کا رویہ یہ ہے کہ وہ اپنی جانوں اور مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں انہیں اپنی جانوں کی پروا ہے نہ مالوں کی۔ ان کے نزدیک اللہ کا حکم سب پر بالا تر ہے، انہی کے لئے خیرات ہیں، یعنی آخرت کی بھلائیاں اور جنت کی نعمتیں اور بعض کے نزدیک دین و دنیا کے منافع اور یہی لوگ فلاح یاب اور فوز عظیم کے حامل ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
70: دیکھئے آیت نمبر 55 کا حاشیہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔
یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
1 منافقین کے بالمقابل مومنین مخلصین کا بیان فرمایا کہ دیکھو ! یہ ہیں خدا کے وفادار بندے۔ جو اس کے راستہ میں نہ جان سے ہٹتے ہیں نہ مال سے۔ کیسا ہی خطرہ کا موقع ہو، اسلام کی حمایت اور پیغمبر اسلام کی معیت میں ہر قربانی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پھر ایسوں کے لیے فلاح و کامیابی نہ ہوگی تو اور کس کے لیے ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت 88 لٰکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ جَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط وَاُولٰٓءِکَ لَہُمُ الْخَیْرٰتُز وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
فلاح محض ایک لفظ ہی نہیں بلکہ قرآن کی ایک جامع اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورة المؤمنون کے آغاز میں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
102 یہاں درمیان میں حقیقی مسلمانوں، جہاد کے سلسلہ میں ان کی مخلصانہ کوششوں اور ان کے اجر کا ذکر منافقوں کے کردار کے بالکل برعکس بیان ہو رہا ہے جیسا کہ قرآن میں اکثر یہی سنت جاری ہے۔ اس کے بعد پھر رخصت لینے والوں اور منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
162 ۔ منافقین کا دائرہ شہری آبادیوں تک محدود نہ تھا، شہر مدینہ کے باہر بعض دیہاتی قبیلہ بھی منافق تھے۔ اب ذکران کا آرہا ہے، اور ان کی بھی دو قسمیں بیان ہوں گی ، (آیت) ” الاعراب “۔ عرب کہتے ہیں نسل حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو اور اعراب اسی کی جمع ہے لیکن اعراب کا اطلاق صرف دیہاتی آبادی کے لئے مخصوص رہ گیا ہے۔ صار ذلک اسما لسکان البادیۃ (راغب) ھم سکان البادیۃ خاصۃ (تاج) (آیت) ” المعذرون “ َ معذر ایسے عذرظاہر کرنے والے کو کہتے ہیں جس کے پاس حقیقۃ کوئی عذر نہ ہو اور ہو محض بہانہ کررہے ہوں، ازہری لغوی نے ابن عباس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ معذرین وہ لوگ ہیں جو عذر نہ رکھتے ہوں اور عذر پیش کریں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیت نمبر 81 تا 89
ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو…
Read the full tafseer →اعد اللہ لھم جنت تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا ذلک الفوز العظیم۔ اللہ نے ان کیلئے جنتیں تیار کردی ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان کے اندر وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ آخرت میں جو بھلائیاں ان کو ملیں گی ‘ اس آیت میں ان کا (مجمل) اظہار ہے۔
Read the full tafseer →(89) ان کیلیے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد، شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہیں، وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کی بدولت جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کیں اور دوزخ سے نجات پائی۔
Read the full tafseer →اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کیے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جو زمین و آسمان کے درمیان ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اس سے فردوس کا سوال کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے بہتر اور سب سے بلند حصہ ہے، جس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔“ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ : 2790، عن أبی ہریرہ ؓ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
آیت نمبر 87 تا 89۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) رضوا بان یکونوا مع الخوالف اس میں الخوالف، خالفۃ کی جمع ہے یعنی وہ عورتوں، بچوں اور مردوں میں سے معذوروں کے ساتھ ہوجائیں۔ اور آدمی کے لیے خالف اور خالفۃ بھی کہا جاتا ہے جب وہ نجیب اور شریف نہ ہو، جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان خالفۃ اھلہ جب وہ ان سے گھٹیا ہو۔ نحاس نے کہا ہے : اس کی اصل خلف اللبن یخلف سے ہے جب دودھ طویل وقت تک پڑے رہنے کے سبب کھٹا اور خراب ہوجائے اور خلف فم الصائم روزے دار کے منہ کی بو بدل جائے اور اسی سے فلان خلف سوئ (فلاں برا پیچھے رہنے والا ہے) مگر یہ فاعلۃ کی جمع فواعل ہے اور فاعل صفت کی فواعل کے وزن پر جمع نہیں بنائی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “ یعنی عورتوں کے ساتھ (انہوں نے) بیٹھنا پسند کیا اور جہاد میں جانا پسند نہ کیا۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ثنیۃ الوداع پر آئے اور آپ تبوک کے طرف ارادہ رکھتے تھے۔ علی ؓ رونے لگے اور فرما رہے تھے کیا مجھے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میرے نزدیک موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی طرح (قائم مقام) ہوجائے مگر…
Read the full tafseer →اَعَدَّ [تیار کیے ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات ] تَجْرِيْ [ بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے نیچے سے ] الْاَنْھٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ان میں ] ذٰلِكَ [ یہ ] الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ ہی عظیم کامیابی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بشارت
منافقین کا حال بد بیان فرمانے کے بعد اہل ایمان کو خوشخبری دی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺ اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان کے لیے خیرات یعنی خوبیاں ہیں یعنی وہ دنیوی اور اخروی منافع ہیں جو محبوب اور پسندیدہ ہیں۔ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کے لیے نصرت ہے اور مال غنیمت ہے اور آخرت میں جنت ہے اور اس کی نعمتیں ہیں۔ بعض مفسرین نے الخیرات سے جنت کی حوریں مراد لی ہیں۔ کیونکہ سورة رحمن میں یہ کلمہ جنت کی حوروں کے لیے آیا ہے۔ قال اللہ تبارک و تعالیٰ (فِیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ)
پھر فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (اور یہی لوگ کامیاب ہیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
کفار اور منافقین کا ایک شبہ اور اس کا ازالہ
قال اللہ تعالیٰ ۔ ولا تعجبک اموالھم واولادھم۔۔۔ الی۔۔۔ ذالک الفوز العظیم
(ربط): گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کا مبغوض عنداللہ ہونا بتلایا اب اس بارے میں ایک شبہ کا ازالہ فرماتے ہیں وہ یہ کہ ان کے پاس جو کچھ مال اور اولاد ہے وہ ان کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ ان کے مبغوض ہونے کی علامت ہے اور ان کو جو مال و دولت دیا گیا ہے وہ ان کے حق میں ذریعہ عذاب ہے سو اے مسلمانو تمہیں ان کے مال و دولت سے دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے مال کو اگر خدا تعالیٰ کی اطاعت اور جہاد فی سبیل اللہ کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ نعمت ہے اور اگر اس کو معصیت کا ذریعہ بنایاجائے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
83:“ لٰکِنِ الرَّسُوْلُ الخ ” یہاں سے لے کر “ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” تکحضور ﷺ کے ساتھ مال و جان سے جہاد کرنے والے صحابہ کرام اور مخلص مومنین کی فضیلت اور ان کے لیے اخروی بشارت مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
ربط آیات :
جہاد سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے منافقین کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے بعد پیچھے بیٹھے رہنے پر بڑے خوش ہوئے کہ اچھا ہوا ہم اس دور دراز کے سفر پر نہیں گئے گویا کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں مال وجان کھپا دینے کو ناپسند کیا ، وہ ایک دوسرے کو گرمی کی شدت میں سفر کرنے سے منع کرتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ تو بہت سخت ہے ، اگر اس دنیا کی گرمی برداشت نہیں کرسکتے تو دوزخ کی تپش کیسے برداشت کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آئیں گے تو منافق لوگ آئندہ جہاد میں شمولیت کی پیش کش کریں گے مگر حضور ﷺ…
Read the full tafseer →اَعَدَّ اللہُ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا 0 ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 89 ۧ
عد ( اعداد)
والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی:
وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
ترکیب : منہم ومات دونوں احد کی صفت ہیں ابدا ظرف ہے لاتصل کا اذا انزلت شرط استاذن جواب۔ خوالف جمع خالفۃ ہے المراۃ لھم اعد سے متعلق جنت موصوف تجری الخ صفت خالدین حال ہے ضمیر لہم سے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقین کے لئے آنحضرت ﷺ کو استغفار سے منع کیا تھا اب یہاں ان کی نماز جنازہ اور ان کی قبر پر دعا کے لئے کھڑا ہونے سے بھی منع فرماتا ہے جو انسان کے لئے نجات کا بڑا وسیلہ تھا یعنی مغفرت اور رسول کی شفاعت کے دائرہ سے خارج کردیا گیا۔
صحیح بخاری میں ہے کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مرگیا تو آنحضرت ﷺ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے لوگوں نے بلایا۔ آپ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
لٰـکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْط وَاُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْخَیْرٰتُز وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ع (التوبۃ : 88۔ 89)
(البتہ ! رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے انھوں نے جہاد کیا اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور انہی کے لیے ساری بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے ندیاں رواں ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ )
اہلِ ایمان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے مقابلہ میں مخلص مسلمانوں کا کردار۔
منافق اپنے ایمان میں غیر مخلص ہونے کی وجہ سے جہاد اور نیکی کے کاموں میں پیچھے رہنا پسند کرتا ہے اس کے مقابلے میں حقیقی مسلمان ہر وقت اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشاں رہتا ہے یہاں تک کہ وقت آنے پر وہ اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ ان لوگوں کے لیے دنیا میں خیر ہی خیر ہے اور آخرت میں فلاح اور کامیابی پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حقیقت میں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہاں تک…
Read the full tafseer →جنت کے حقدار :
آیت 89: اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جنکے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہینگے یہی بڑی کامیابی ہے) اَعَدَّ ؔ کا لفظ بتلا رہا ہے کہ جنت مخلوق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت نمبر 88: یعنی نیکیاں اور بعض نے کہ خو بصورت عورتیں جنت میں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فیھن خیرات حسان “ ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ خیر کا معنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین “۔۔۔” واولئک ھم المفلحون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
88۔ 89۔ اللہ پاک نے منافقوں کی مذمت بیان کر کے یہ بات بیان فرمائی کر یہ لوگ جو جہاد میں نہیں شریک ہوئے ہیں اس سے کوئی ضرر خدا کے دین کو نہیں پہنچتا ہے ان لوگوں سے جو بہتر اور اچھے لوگ ہیں رسول اور مومنین وہ لوگ سچے دل سے اور خالص نیت سے خدا کی راہ میں جان اور مال سے حاضر ہوئے اور آئے دن جہاد کرتے رہتے ہیں اور جیسا کہ حق جہاد کا ہے پورا پورا ادا کرتے ہیں پھر یہ ذکر کیا کہ یہ مومنین جو اس طرح خدا کی راہ میں سرگرمی سے لڑر ہے ہیں تو ان کی محنت رائگاں نہیں جائے گی اس کے عوض میں دنیا اور آخرت دونوں جگہ انہیں بہتری ہوگی اور بڑی فلاحیت اٹھائیں گے کیا یہ کم دنیا میں فلاحیت ہے کہ جہاد میں شریک ہونے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت 88
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے بےنیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں (الرسول) رسول مصطفیٰ ﷺ (آیت) ” اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انہوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔ “ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے۔ (واولئک لھم الخیرات) ” یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (دنیا و آخرت) کی بیشمار بھلائیاں ہیں۔ “ (واولئک ھم المفلحون) ” اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔ “ جو بلند ترین مطالب اور کامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
قول باری ہے ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ً ولا تقم علی قبرہ اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا آیت میں کئی احکام پر دلالت ہو رہی ہے ۔ مسلمانوں کے مردوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کافروں کے مردوں کی نماز جنازہ کی ممانعت ہے، اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ تدفین کا کام مکمل ہوجانے تک قبر کے پاس کھڑے رہنا چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ تدفین کے وقت قبر کے پاس کھڑے رہتے تھے۔ وکیع نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے عمیر بن سعد سے روایت کی ہے کہ حضر ت علی ؓ تدفین کا کام مکمل ہونے تک ایک قبر کے پاسکھڑے رہتے۔ سفیان ثوری نے…
Read the full tafseer →173 حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی جنت سے سرفرازی : سو اس سے اصل، حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی کی نشاندہی فرما دی گئی۔ یعنی جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی کی کا میابی جو کہ اصل حقیقی، کامل اور ابدی کامیابی ہے۔ جس کے مقابلے میں دنیا کی ہر کامیابی ہیچ اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور یہ کامیابی انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے اور ہوگی جو مذکورہ بالا اوصاف سے بہرہ مند اور مالا مال ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس اصل اور حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح سے سرفراز اور بہرہ مند ہونے کے لیے فلاں ابن فلاں کی کوئی حیثیت اور حقیقت نہیں بلکہ اصل چیز اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
مجاہد مومن اور عذر سے پیچھے رہنے والے
تشریح : ان آیات میں تشریح کردی گئی ہے کہ جہاد میں شامل نہ ہونے کے لیے کون کونسی صورتیں ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مال و جان سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں جہاد کیا ایسے ہی لوگ اللہ کے پسندیدہ ہیں ایسے ہی لوگوں کو دنیا و آخرت میں بھلائیوں کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اللہ رب العزت اعلان کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بہترین باغات اور پرسکون پر آسائش ٹھکانے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جہاد سے چھوٹ صرف عورتوں، بچوں، بیماروں اور ان لوگوں کو ہے جن کی جسمانی حالت ٹھیک نہ ہو۔ لیکن جھوٹ بول کر اپنے آپ کو جہاد کے قابل ظاہر نہ کرنا انتہائی گناہ اور شرم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیات 81 تا 89
اسرار و معارف
نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ…
Read the full tafseer →ف 2 دنیا کی زندگی اور آرام و آسائش اس کے مقابلے میں کچھ نہیں۔
Read the full tafseer →(9:89) اعد۔ اعداد سے ماضی۔ واحد مذکر غائب۔ اس نے تیار کیا۔ تیار کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–89
لغات القرآن آیت نمبر 85 تا 89
تزھق (نکلے، نکالے) اولو الطول (طاقت والے) ذرنا (ہمیں چھوڑ دے) طبع (مہر لگا دی گئی) لایفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) المفلحون (کامیابی حاصل کرنے والے) اعد ت (تیار کر رکھا ہے)
تشریح : آیت نمبر 85 تا 89
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں ہی فرما دیا تھا کہ ان کے اموال اور اولادیں مومنوں کے لئے تو رحمت ہی رحمت ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لیکن کفار اور منافقین کے لئے بڑی آفت ہیں چونکہ وہ ساری زندگی اسی میں پھنسے رہتے ہیں۔ جہاد تو بڑی بات ہے انہیں اسلام کی معمولی عملی خدمت کی توفیق بھی نہیں ہوتی وہ مرتے دم تک دین اسلام اور اس کے عملی پہلوؤں سے بھاگتے پھرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
مسلمانوں کے جہاد کی خوبی
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور خود ہمارے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں ثابت قدم ہیں، اور ہر قسم کے مصائب و تکالیف کو بڑی شادمانی کے ساتھ سہتے ہیں وہ خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں۔ یہی لوگ دونوں جہانوں کی خوبیوں پر کامیاب ہوں گے دنیا میں تو فتح و نصرت اور غنیمت کا مال ہاتھ لگے گا اور آخرت میں دیدار الہی نصیب ہوگا۔ انہی لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے جنت کے ہرے بھرے اور پھل پھولدار باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–94
[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
(ف 1) غرض یہ ہے کہ صاحب وسعت رہتے ہیں اور وہ دون ہمتی اور بزدلی میں عورتوں کی مانند ہیں ، ان کے دلوں پر حب نفس کی مہر لگی ہے ، اس لئے بیداری نہیں ، فقھا و فراست سے محروم ہیں ۔ اس لئے جہاد کے فوائد سے آگاہ نہیں ۔
حل لغات :
اولوالطول : صاحب وسعت دولتمند ۔
الخوالف : جمع خالفۃ ۔ گھر میں بیٹھنے والی ۔
Read the full tafseer →89 اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور ان نعمتوں کا حصول بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ف 1۔ اولو الطول کے ذکر سے تخصیص مقصود نہیں بلکہ غیر اولی الطول کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ جب اہل مقدور کا یہ حال ہے تو بےمقدوروں کا تو ضروری ہوگا۔
Read the full tafseer →دنیا تو دنیا ہی ہے اللہ نے ان کے لئے آخرت میں کیا کچھ تیار کر رکھا ہے :
119: دنیوی زندگی کا ایک اپنا مقام ہے لیکن آخر وہ ہے ہی کتنی ؟ فرمایا ان کی دنیوی زندگی میں جو فلاح و کامیابی ہے اس کے مقابلہ میں ابھی جو کچھ آخرت کی مہمانی کے لئے تیار کر رکھا ہے وہ ایسا ہے کہ کسی آنکھ نے اس کو دیکھا اور کسی کان نے اس کو سنا اور کسی دل نے اسے ابھی تک محسوس نہ کیا ہے کیونکہ وہ محسومات کی چیزیں نہیں اور اصل کامیابی تو وہی ہے جو آخرت میں ان کے حصے میں آئے گی جس کو بیان کرنے کے لئے نہ الفاظ مل سکتے ہیں اور نہ ہی وہ قلم کی نوک پر آسکتے ہیں اور کتنے بخت اور ہیں وہ لوگ جن کا ذکر قرآن کریم جگہ جگہ انہی استعارات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
Commentary
The details given in the verse tell us that there were two kinds of people among the Bedouins of the desert. First, there were those who visited the Holy Prophet ﷺ and requested that they might be excused from Jihad and allowed to stay behind. Then, there were the arrogant and rebellious among them who did not even bother to take the trouble of excusing themselves out of it. They just stayed behind.
When the Holy Prophet ﷺ allowed Jadd ibn Qays that he may not go on Jihad,' says Sayyidna Jabir ibn ` Abdullah ؓ ، ` some hypocrites also came to him, offered their excuses and sought…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →