جہاد اور معذور لوگ
یہ بیان ان لوگوں کا ہے جو حقیقتاً کسی شرعی عذر کے باعث جہاد میں شامل نہ ہوسکتے تھے۔ مدینہ کے ارد گرد کے یہ لوگ آ کر اپنی کمزوری و ضعیفی بےطاقتی بیان کر کے اللہ کے رسول ﷺ سے اجازت لیتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ انہیں واقعی معذور سمجھیں تو اجازت دے دیں۔ یہ بنو غفار کے قبیلے کے لوگ تھے۔ ابن عباس کی قرأت میں (وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 90) 9۔ التوبہ :90) ہے یعنی اہل عذر لوگ۔ یہی معنی مطلب زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اسی جملے کے بعد ان لوگوں کا بیان…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 90
بدوی عربوں سے مراد مدینہ کے اطراف میں رہنے والے دیہاتی اور صحرائی عرب ہیں جنہیں عام طور پر بدو کہا جاتا ہے۔
سورة التَّوْبَة 91
“ منافقانہ اظہار ایمان، جس کی تہ میں فی الواقع تصدیق، تسلیم، اخلاص اور اطاعت نہ ہو، اور جس کے ظاہری اقرار کے باوجود انسان خدا اور اس کے دین کی بہ نسبت اپنے مفاد اور اپنی دنیوی دلچسپیوں کو عزیز رکھتا ہو، اصل حقیقت کے اعتبار سے کفر و انکار ہی ہے۔ خدا کے ہاں ایسے لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو منکروں اور باغیوں کے ساتھ ہوگا، چاہے دنیا میں اس قسم کے لوگ کافر نہ ٹھیرائے جاسکتے ہوں اور ان کے ساتھ مسلمانوں ہی کا سا معاملہ ہوتا رہے۔ اس دنیوی زندگی میں جس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کچھ بہانہ باز لوگ دیہاتیوں میں سے آئے تاکہ ان کو (گھر رہنے کی) اجازت مل جائے اور (ان دیہاتیوں میں سے) جنہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے (دعوائی ایمان میں) بالکل ہی جھوٹ بولا تھا وہ بالکل ہی بیٹھ رہے ، (جھوٹے عذر کرنے بھی نہ آئے) ان میں جو (آخر تک) کافر رہیں گے ان کو (آخرت میں) دردناک عذاب ہوگا (اور جو توبہ کرلیں تو عذاب سے بچ جائیں گے)۔
معارف و مسائل
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ان دیہاتیوں میں دو قسم کے لوگ تھے، ایک تو وہ جو حیلے بہانے پیش کرنے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کو جہاد میں چلنے سے رخصت دے دیجائے، اور کچھ ایسے سرکش بھی تھے جنہوں نے اس کی بھی پروا نہیں کی کہ…
Read the full tafseer →آیات 90۔ 99: اوپر زیادہ تر بحث شہری منافقین سے تھی جو مدینہ اور اس کے آس پاس آباد تھے۔ آگے ان منافقین کا ذکر آرہا ہے جو دیہاتوں رہائش رکھتے تھے۔ بیماریاں دونوں کی ایک ہی قسم کی ہیں اس وجہ سے حکم بھی دونوں کا ایک ہی بیان ہوا ہے۔ اسی ضمن میں حقیقی معذورین کی تفصیل بھی بیان کردی ہے تاکہ بہانہ بازوں اور حقیقی معذوروں کے امتیاز میں کوئی گھپلا پیش نہ آئے۔ منافقین کے باب میں چونکہ یہ فیصلہ کن بحث تھی، اندیشہ تھا کہ کوئی بےگناہ زد میں آجائے، اس وجہ سے دونوں کے درمیان ایک خط واضح کھینچنا ضروری ہوا۔ آیات ملاحظہ فرمائیے۔
وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →90۔ 1 ان مُعَذرِیْن کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ شہر سے دور رہنے والے وہ اعرابی ہیں جنہوں نے جھوٹے عذر پیش کر کے اجازت حاصل کی۔ دوسری قسم ان میں وہ تھی جنہوں نے آکر عذر پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور بیٹھے رہے۔ اس طرح گویا آیت میں منافقین کے دو گروہوں کا تذ کرہ ہے اور عذاب الیم کی وعید میں دونوں شامل ہیں۔ اور منھم سے جھوٹے عذرپیش کرنے والے اور بیٹھ رہنے والے دونوں مراد ہوں گے اور دوسرے مفسرین نے معذرون سے مراد ایسے بادیہ نشین مسلمان لیے ہیں جنہوں نے معقول عذر پیش کر کے اجازت لی تھی اور معذرون ان کے نزدیک اصل میں معتذرون ہے تا کو ذال میں مدغم کردیا گیا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
71: جس طرح مدینہ منورہ میں بہت سے منافق تھے، اسی طرح مدینہ منورہ سے باہر دیہات میں بھی منافق موجود تھے، چونکہ غزوہ تبوک میں جانے کا حکم صرف اہل مدینہ کے لئے نہیں بلکہ آس پاس کے لوگوں کے لئے بھی تھا، اس لئے یہ دیہاتی بھی بہانہ کرنے کے لئے آئے تھے۔
Read the full tafseer →پہلے لوگ تو وہ ہیں جن کے عذرات حقیقی ہیں۔ لہذا ان کو اجازت دے دی گئی اور وہ مجبوراً رہ گئے ، رہے دوسرے تو وہ بلا عذر رہے۔ کیونکہ انہوں نے اور رسول اللہ کے سامنے جھوٹے عذرا پیش کیے۔ ان میں سے جن لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا وہ تو عذاب الیم سے دوچار ہوں گے۔ ہاں جن لوگوں نے توبہ کرلی تو ان کا ذکر یہاں نہیں ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔
Read the full tafseer →2 یعنی جس طرح مدینہ کے رہنے والوں میں منافقین بھی ہیں اور مخلصین بھی۔ اسی طرح دیہاتی گنواروں میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے یہاں دو قسموں کا ذکر فرمایا۔ مخلص دیہاتیوں کا ذکر اس رکوع کے خاتمہ پر " وَمِنَ الْاَ عْرَابِ مَنْ یُّؤمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ " میں آئے گا۔ یہاں دیہاتیوں کی جن دو جماعتوں کا ذکر ہے (مُعذّرون وْنَ اور قاعِدُوْنَ ) ان میں سے پہلی جماعت (مُعْذِرُوْنَ ) کے مصداق میں مفسرین سلف کا اختلاف ہے کہ آیا اس سے مراد جھوٹے بہانے بنانے والے منافق ہیں (جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے) یا سچے عذر کرنے والے مسلمان جو واقعی جہاد کی شرکت سے معذور تھے اگر پہلی شق اختیار…
Read the full tafseer →آیت 90 وَجَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَہُمْ
’ اَعْرَاب ‘ جمع ہے ’ اعرابی ‘ کی ‘ یعنی بدو ‘ دیہاتی ‘ بادیہ نشین لوگ۔ جہاد کے لیے اس نفیر عام کا اطلاق مدینہ کے اطراف و جوانب کی آبادیوں میں بسنے والے مسلمانوں پر بھی ہوتا تھا۔ اب ان کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان میں سے بھی لوگ آ آکر بہانے بنانے لگے کہ انہیں اس مہم پر جانے سے معاف رکھا جائے۔
وَقَعَدَ الَّذِیْنَ کَذَبُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ط
انہوں نے جو وعدے کیے تھے وہ جھوٹے نکلے یا جو عذر وہ لوگ رخصت کے لیے پیش کر رہے تھے وہ سب بےبنیاد تھے۔
Read the full tafseer →103 بہانے تراشنے والے بدوی منافقین :۔ مدینہ کے آس پاس آباد ہونے والے لوگوں کو اعراب یا بدوی (یعنی دیہاتی) کہا جاتا تھا۔ ان میں بھی منافقین کا عنصر موجود تھا۔ اس آیت میں ایسے ہی منافقوں کا ذکر ہے جو جہاد کے اعلان سے پہلے تو بلند بانگ دعوے کرتے تھے مگر وقت آنے پر اپنے عہد سے پھرگئے اور مدینہ کے منافقوں کی طرح بہانے تراش کر جہاد سے رخصت مانگنے لگے تھے۔
اگلی آیات میں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو فی الواقع معذور ہوتے ہیں۔ نیز یہ کہ ان کا عذر کس شرط کے تحت قابل قبول سمجھا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
162 ۔ منافقین کا دائرہ شہری آبادیوں تک محدود نہ تھا، شہر مدینہ کے باہر بعض دیہاتی قبیلہ بھی منافق تھے۔ اب ذکران کا آرہا ہے، اور ان کی بھی دو قسمیں بیان ہوں گی ، (آیت) ” الاعراب “۔ عرب کہتے ہیں نسل حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو اور اعراب اسی کی جمع ہے لیکن اعراب کا اطلاق صرف دیہاتی آبادی کے لئے مخصوص رہ گیا ہے۔ صار ذلک اسما لسکان البادیۃ (راغب) ھم سکان البادیۃ خاصۃ (تاج) (آیت) ” المعذرون “ َ معذر ایسے عذرظاہر کرنے والے کو کہتے ہیں جس کے پاس حقیقۃ کوئی عذر نہ ہو اور ہو محض بہانہ کررہے ہوں، ازہری لغوی نے ابن عباس ؓ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ معذرین وہ لوگ ہیں جو عذر نہ رکھتے ہوں اور عذر پیش کریں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت نمبر 90 تا 93
ترجمہ : اور آئے عذر کرنے والے آپ ﷺ کے پاس عرب کے کچھ بدو، اصل میں تاء کو ذال میں اور ادغام کر کے یعنی مُعْتَذِرُوْنَ میں ( اور معتذرون) معنی میں معذورین کے ہے، اور ایک قراءت میں معتذرون بھی پڑھا گیا ہے تاکہ ان کو (مدینہ ہی میں) بیٹھ رہنے کی اجازت مل جائے ان کے عذر کی وجہ سے چناچہ ان کو اجازت دے دی گئی، اور بدو منافقین میں سے جنہوں نے دعوائے ایمان میں اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی وہ تو عذر کرنے سے بھی بیٹھ گئے (یعنی عذر کرنے بھی نہ آئے) ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان کو دردناک عذاب لاحق ہوگا اور کمزوروں مثلاً بوڑھے اور مریضوں پر مثلاً اندھے اور اپاہج پر اور ان لوگوں پر…
Read the full tafseer →وجآء المعذرون من الاعراب لیؤذن لھم اور دیہاتیوں میں سے کچھ بہانہ باز لوگ آئے تاکہ ان کو گھر رہنے کی اجازت مل جائے۔
یعنی تنگ حالی اور کثرت عیال کا عذر پیش کرنے والے اعرابی آئے۔ المعذِّرون (باب افتعال سے ہے) اصل میں معتذرون تھا۔ فراء کا یہی قول ہے۔ یا المعذِّرونباب تفعیل سے ہے ‘ یعنی (صحیح) عذر پیش کرنے میں کوتاہی کرنے والے اور (جھوٹے) عذر پیش کر کے یقین دلانے والے کو ہم معذور ہیں ‘ حالانکہ وہ معذور نہیں ہیں۔ ان کو اذن دے دی جائے ‘ یعنی جہاد کو نہ جانے اور گھروں میں بیٹھ رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ محمد بن عمر کا بیان ہے کہ کچھ منافق رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جہاد میں نہ چلنے کی اجازت لینے کیلئے…
Read the full tafseer →(90) اے نبی اکرم ﷺ آپ کی خدمت میں قبیلہ غفار کے کچھ آدمی آئے، معذرون اگر تخفیف کے ساتھ ہو تو مطلب یہ کہ معذور لوگ آئے اور اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ کچھ بہانہ باز لوگ آئے تاکہ رسول اکرم ﷺ ان کو غزوہ تبوک میں عدم شرکت کی اجازت مرحمت فرمادیں۔
اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے خفیہ طریقہ پر جہاد کے بارے میں بغیر اجازت کے مخالفت کی تھی وہ بالکل ہی بیٹھ رہے ،
ان منافقین میں سے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو درد ناک عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ : اس سے پہلے مدینہ کے منافقین اور اہل ایمان کا ذکر تھا، اب مدینہ کے اردگرد بادیہ نشینوں کا حال ذکر ہوتا ہے، کیونکہ ان میں بھی دونوں قسم کے لوگ موجود تھے، جیسا کہ آگے آیت (98، 99) اور پھر (101، 102) میں ذکر آ رہا ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر دو طرح کی ہے، کیونکہ عذر کرنے والے سچے بھی ہوسکتے ہیں اور جھوٹے بھی، اس لیے بعض نے تو ”الْمُعَذِّرُوْنَ“ سے مراد وہ اعراب لیے ہیں جو صحیح مومن تھے مگر کسی حقیقی عذر کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے، یہ لوگ تو اپنا عذر بیان کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا تھا اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 90۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) وجاء المعذرون من الاعراب، اعرج اور ضحاک نے تخفیف کے ساتھ المعذرون پڑھا ہے۔ اور ابو کریب نے اسے ابوبکر سے اور انہوں نے عاصم سے روایت کیا ہے اور اسے اصحاب القراء ات نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ جوہری نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ وجاء المعذرون تخفیف کے ساتھ پڑھتے تھے (1) (تفسیرطبری، جلد 10، صفحہ 236) ، یہ اعذر سے ہے۔ اور کہتے : قسم بخدا ! یہ اسی طرح نازل کیا گیا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : مگر یہ کہ اس (قراءت) کا مدار کلبی پر ہے۔ اور یہ اعذر سے ہے، اور اسی سے ہے قد اعذر من انذر یعنی جو آپ کے پاس آیا اس نے عذر میں اتنامبالغہ اور غلو کیا کہ اس نے آپ کو ڈرادیا۔ اور رہا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ یعنی ان میں سے عذر والے ہوئے بلکہ ان کو اجازت مل جائے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ سے مراد ہیں عذر والے لوگ (یعنی بہانے والے) اور وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وجآء المعذرون “ (یعنی بغیر تشدید کے تخفیف کے ساتھ)
3:۔ ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ یوں پڑھتے ہیں (آیت) ” وجآء المعذرون من الاعراب “ اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ عذر کرنے والوں پر (یعنی بہانے بنانے والوں پر) لعنت کرے۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَ [ اور آئے ] الْمُعَذِّرُوْنَ [ بہانے بنانے والے ] مِنَ الْاَعْرَابِ [ دیہاتیوں میں سے ] لِيُؤْذَنَ [ تاکہ اجازت دی جائے ] لَهُمْ [ ان کو ] وَقَعَدَ [ اور بیٹھ رہے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَبُوا [ جھوٹ کہا ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] وَرَسُوْلَهٗ ۭ [ اور اس کے رسول سے ] سَيُصِيْبُ [آن لگے گا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنہوں نے ] كَفَرُوْا [کفر کیا ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ ایک درد ناک عذاب ]
ع ر ب : (ک) ۔ عربا ، کسی چیز کا صاف اور واضح ہونا ، فصیح زبان بولنا ۔ عربی ۔ عرب سے نسبت رکھنے والا ۔ عرب کا باشندہ ۔ عرب کی زبان ۔ وَّھٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِيْنٌ [ اور یہ…
Read the full tafseer →جن حضرات کے پاس سواری نہ تھی وہ غزوہ تبوک کی شرکت سے محرومی پر رو رہے تھے
رسول اللہ ﷺ نے جب غزوہ تبوک میں شرکت کرنے کے لیے اپنے ہمراہ چلنے کی دعوت دی تو یہ دعوت اہل مدینہ کو اور آس پاس کے دیہات کے رہنے والے جو لوگ تھے ان سب کو عام تھی بہت سے منافقین ایسے تھے جنہوں نے عذر پیش نہ کیا اور دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے گھروں ہی میں رہ گئے اور بہت سے دیہات کے رہنے والے عذر پیش کرنے کے لیے آئے وہ عذر پیش کر کے پیچھے رہ گئے۔ پہلی آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا (سَیُصِیْبُ الَّذِیْنََ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (ان میں سے جو لوگ کفر ہی پر رہیں گے ان کو درد ناک عذاب ہوگا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
قال اللہ تعالیٰ ۔ وجاء المعذرون من الاعراب۔۔۔ الی۔۔۔ عذاب الیم۔
(ربط): اوپر کی آیتوں میں شہر مدینہ کے منافقوں کے احوال بیان کیے اب اس آیت میں منافقین اور ان کے اعذار کاذبہ کا حال بیان ہوتا ہے چناچہ فرماتے ہیں اور اے جنگ تبوک کی روانگی کی وقت دیہاتیوں میں سے عذر کرنے والے جنہوں نے قلت مال اور کثرت عیال کا ذکر کیا تاکہ ان کو جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دی جائے۔ معذرون کی اصل معتذرون ہے جو اعتذار سے مشتق ہے اور اعتذار کا استعمال عذر کاذب اور عذر صادق دونوں میں صحیح ہے اس بناء پر مفسرین میں اختلاف ہے کہ آیا یہ عذر کرنیوالے دیہاتی اپنے عذر میں سچے تھے یا جھوٹے تھے بعض کہتے ہیں کہ سچے تھے اور…
Read the full tafseer →84:“ وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ الخ ” یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو واقعی معذور تھے اور اپنا عذر بیان کر کےحضور ﷺ سے تخلف عن الجہاد کی اجازت لیتے تھے اور اس سے بنی غفار کے لیے لوگ مراد ہیں۔ “ ثم بین تعالیٰ حال ذوي الاعذار فی ترک الجهاد الذین جاء وا رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم یعتذرون الیه و یبینون له ما ھم فیه من العنف و عدم القدرة علی الخروج الخ ” (ابن کثیر ج 2 ص 381) “ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا الخ ” لیکن منافقین نے پوری دیدہ دلیری سے کام لیا اور کسی قسم کا کوئی عذر و بہانہ پیش کیے بغیر ہی جہاد میں شریک نہ ہوئے اور گھروں میں بیٹھ رہے۔ “ سَیُصِیبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ ” یہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
دیہاتی منافقین کی حیلہ سازی :
گذشتہ دروس میں غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والے منافقوں کی مذمت بیان کی گئی تھی اور اس جہاد میں شامل ہونے والے مومنین کی تعریف کی گئی تھی۔ اب آج کی آیات میں دیہاتی منافقین کے کردار کے پیش نظر ان کی بھی مذمت بیان ہوئی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وجاء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم “ اور آئے معذور لوگ دیہاتیوں میں سے تا کہ انہیں رخصت مل جائے۔ مفسرین کرام اس آیت کی دو طرح سے تفسیر بیان کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت ایسے لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جن کے پاس غزوہ تبوک میں عدم شرکت کا معقول عذر موجود تھا لہٰذا اللہ کے رسول نے انہیں رخصت دیدی۔ اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے…
Read the full tafseer →وَجَاۗءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَہُمْ وَقَعَدَ الَّذِيْنَ كَذَبُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ 0 ۭ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 90
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی…
Read the full tafseer →1 ؎ رخصت مانگتے تھے ٗ پیچھے رہ جانے کے لئے کہ جہاد یعنی جنگ تبوک میں جانا نہ پڑے جو گرمی اور افلاس کے زمانہ کی لڑائی تھی اور مقابلہ میں قیصر روم تھا جس کی دہشت ان کم اعتقادوں کے دلوں پر تھی۔ یہ وقت بڑے امتحان کا تھا۔ آپ کے ایماندار ہی پیغمبر خدا ﷺ کے ساتھ جانثاری کے لئے تیار ہوگئے اور ساتھ بھی گئے اور باقی جو دعویٰ اسلام میں جھوٹے یا سست تھے اور بزدل یا آرام طلب تھے وہ بہانے اور حیلہ سے رخصت اور اجازت مانگنے لگے کہ چلنے میں ہمیں یہ عذر ہے کہ فلاں کام ضروری درپیش ہے۔ اس صورت میں انہیں لوگوں پر عتاب ہو رہا ہے اور ان کے حیلے اور بہانے اور رخصت مانگنے پر ان کی سست اعتقادی اور بزدلی اور آرام طلبی…
Read the full tafseer →وَجَآئَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَھُمْ وَقَعَدَالَّذِیْْنَ کَذَبُواللّٰہَ وََرَسُولَہٗ ط سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (التوبۃ : 90)
(بدوی عربوں میں سے بھی بہانہ باز لوگ آئے کہ انھیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ لوگ بھی جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے جھوٹ بولا ان میں جنھوں نے کفر کیا ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا۔ )
جنگ تبوک کے حوالے سے منافقین کے مختلف گروہوں کی طرف اشارہ فرما کر ان کے اعمال پر تنقید جاری ہے۔ انھیں گروہوں میں سے ایک گروہ اعراب بھی ہے یعنی وہ عرب بدو جو اطراف مدینہ میں رہتے تھے۔ یا بادیہ نشین تھے۔ ان میں سے دو قسم کے لوگوں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مدینہ کے منافقین کے بعد دیہاتی منافقین کا ذکر۔
مدینہ کے منافقین کی دیکھا دیکھی دیہات کے منافقین نے بھی جہاد فی سبیل اللہ سے جان چھڑانے کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر بہانے پیش کرتے آپ ان کے اطوار دیکھ کر ان سے صرف نظر فرماتے منافقین میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ وہ اللہ کے رسول کے پاس حاضر ہو کر کوئی عذر پیش کرتے یا اتنے کڑے وقت میں پیچھے بیٹھے رہنے سے اجتناب کرتے۔ لیکن انھوں نے دونوں میں سے کوئی ایک کام بھی نہ کیا۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرنے والے تھے جنھیں کافر قرار…
Read the full tafseer →بہانہ باز دیہاتی :
آیت 90: وَجَآئَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَھُمْ (اور دیہاتیوں میں سے کچھ بہانہ باز لوگ آئے تاکہ ان کو اجازت مل جائے) نمبر 1۔ اس حکم میں عذر کی بناء پر اجازت دی جائے۔ جبکہ اس سے اسمیں کوتاہی اور سستی ہوگئی ہو۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کو وہم ہے کہ وہ پیچھے رہنے میں معذور ہے حالانکہ اس کو کوئی عذر نہیں۔
نمبر 2۔ المعذرون اصل میں المعتذرون ہے تا ؔ کو دال میں ادغام کردیا۔ اور حرکت عین کو دی۔ اس سے مراد باطل معذرتیں بنانے والے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد بنو اسد، بنو غطفان ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے اہل و عیال ہیں اور ہم میں تنگدستی ہے پس ہمیں پیچھے رہنے…
Read the full tafseer →آیت نمبر :90: یعقوب اور مجاہد رحمہما اللہ نے ” المعذرون “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ وہ لوگ جو عذر میں مبالغہ کرنے والے ہوں ضرب المثل ہے ” لقد اعذر من انذر “ یعنی جس شخص نے عذر میں مبالغہ کیا اور دیگر حضرات نے ” المعذرون “ شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی کوتاہی کرنے والے۔ کہا جاتا ہے ” عذر “ یعنی کوتاہی کی اور فراء (رح) فرماتے ہیں ” المعذرون “ اصل میں ” المعتذرون “ تھا تاء کا ذال میں ادغام کردیا گیا ہے اور تاء کی حرکت عین کو منتقل کردی گئی ہے۔
جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کا تذکرہ
ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ معذرون سے مراد عامر بن طفیل کا قبیلہ ہے۔ یہ لوگ اپنا دفاع کرنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور…
Read the full tafseer →90۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان دو گروہ کا ذکر فرمایا جنہوں نے جھوٹا عذر کر کے جہاد میں شراکت نہیں کی اس بات میں اختلاف ہے کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے عذر کیا تھا بعضوں نے یہ کہا ہے کہ یہ لوگ قبیلہ اسد اور غطفان کے لوگ تھے انہوں نے یہ عذر کیا تھا کہ ہمارے اہل و عیال ہیں جن کے واسطے ہم کو بڑی محنت ومشقت کرنی پڑتی ہے آپ ہمیں گھر میں رہ جانے کا کہیں ہم آپ کے ساتھ اگر چل کر لڑائی میں شریک ہوں تو ہمارے بی بی بچے اور مویشی اکیلے رہ جائیں گے قبیلہ طی کے گنوار آکر ہمارے پیچھے انہیں برباد کردیں گے اور سب مال لوٹ کرلے جائیں گے اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں سے کہہ دیا کہ خیر خدا نے تمہاری ضرورت میرے واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیت 90
(وجآء المعذرون من الاعراب لیوذن لھم) ” اور آئے بہانے کرنے والے گنوار، تاکہ ان کو رخصت مل جائے “ یعنی وہ لوگ جنہوں نے سستی کی اور جہاد کے لئے نکلنے سے قاصر رہے، اس لئے آئے کہ انہیں ترک جہاد کی اجازت مل جائے۔ انہیں اپنی جفا، عدم حیا اور اپنے کمزور ایمان کی بنا پر معذرت کرنے کی بھی پروا نہیں۔۔۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا، انہوں نے اعتزاز کو بالکل ہی ترک کردیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (المعذرون) ” عذر کرنے والے “ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو کوئی حقیقی عذر رکھتے تھے اور وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ آپ ان کی معذرت قبول فرمائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
قول باری ہے ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ً ولا تقم علی قبرہ اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا آیت میں کئی احکام پر دلالت ہو رہی ہے ۔ مسلمانوں کے مردوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کافروں کے مردوں کی نماز جنازہ کی ممانعت ہے، اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ تدفین کا کام مکمل ہوجانے تک قبر کے پاس کھڑے رہنا چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ تدفین کے وقت قبر کے پاس کھڑے رہتے تھے۔ وکیع نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے عمیر بن سعد سے روایت کی ہے کہ حضر ت علی ؓ تدفین کا کام مکمل ہونے تک ایک قبر کے پاسکھڑے رہتے۔ سفیان ثوری نے…
Read the full tafseer →174 دیہاتی منافقوں اور انکے کردار وانجام کا ذکر : " معذّر " اس کو کہتے ہیں جو خواہ مخواہ کے بہانے بنائے۔ اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ " بہانہ باز " سے کیا ہے ۔ والحمدللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ دیہاتی بہانے باز، جھوٹے حیلے بہانے لیکر پہنچ گئے تاکہ ان کو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھ رہنے کی اجازت دی جائے۔ سو یہاں سے " اَعرابی " یعنی دیہاتی منافقوں کا ذکر شروع ہو رہا ہے جبکہ اس سے پہلے اہل مدینہ کے منافقوں کا ذکر تھا۔ (روح اور صفوۃ وغیرہ) ۔ " اعراب " " اعرابی " کی جمع ہے اور یہ لفظ دیہاتی اور بدوی عربوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ سو اطراف مدینہ اور صحرائی بادیہ نشینوں میں سے جو لوگ اسلام میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
مجاہد مومن اور عذر سے پیچھے رہنے والے
تشریح : ان آیات میں تشریح کردی گئی ہے کہ جہاد میں شامل نہ ہونے کے لیے کون کونسی صورتیں ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مال و جان سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں جہاد کیا ایسے ہی لوگ اللہ کے پسندیدہ ہیں ایسے ہی لوگوں کو دنیا و آخرت میں بھلائیوں کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اللہ رب العزت اعلان کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بہترین باغات اور پرسکون پر آسائش ٹھکانے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جہاد سے چھوٹ صرف عورتوں، بچوں، بیماروں اور ان لوگوں کو ہے جن کی جسمانی حالت ٹھیک نہ ہو۔ لیکن جھوٹ بول کر اپنے آپ کو جہاد کے قابل ظاہر نہ کرنا انتہائی گناہ اور شرم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
آیات 90 تا 93
اسرار و معارف
کفار ومنافقین میں بھی درجے ہیں جیسے کچھ گنوار اور دیہاتی تو ایسے تھے جو جانا ہرگز نہ چاہتے تھے ، مگر سے متعلق ہوں یا آخرت سے انہی کا مقدر ہیں اور یہی لوگ کا میا ب ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اپنا جان ومال اور اپنی بہترین کوشش غلبہ اسلام کی راہ میں صرف کرتے ہیں ، اللہ نے جنت تیار کی ہے جس کے نیچے نہریں رواں ہیں جو سداشاداب ہے ۔ اور یہی حقیقی کامیابی ہے کہ ان لوگوں کے مدارج کو پایا جائے اور ان کے نقوش پاپر چل کر حیات بسرہو۔
آیات 90 تا 93
دنیا داری کے لئے اجازت حاصل کرنے آگئے مگر کچھ اسقدر شدید تھے کہ گھر ہی بیٹھ رہے اور جھوٹے منہ اجازت لینا بھی گوارانہ کیا کہ…
Read the full tafseer →ف 3 جو مدینہ کے اطراف اور دورسر صحرائی علاقوں میں رہتے تھے۔4 یعنی دل سے کافر ہیں چاہے زبان سے ایمان کا دعویٰ ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔5 دنیا میں قید اور قتل ہوں گے اور آخرت میں آگ کا ایندھن بنیں گے۔
Read the full tafseer →(9:90) المعذرون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ تعذیر (تفعیل) مصدر۔ جھوٹا عذر پیش کرنے والے۔ معذر۔ وہ شخص ہے جس کے پاس کوئی حقیقی عذر نہ ہو۔ اور پھر بھی وہ عذر پیش کرے۔ بعض علماء کے نزدیک معذرون دراصل معذرون (باب افتعال) سے ت کو ذال سے بدلا اور ذال کو ذال میں مدغم کیا اور معذرون ہوگیا۔ اس باب سے اس کے معنی ہوں گے۔ صحیح عذر والے۔
ابن کثیر نے بھی یہی مطلب لیا ہے لکھتے ہیں :۔ یہ بیان ان لوگوں کا ہے جو حقیقتاً کسی شرعی عذر کے باعث جہاد میں شامل نہ ہوسکتے تھے ! مدینہ کے اردگرد کے یہ لوگ آآکر اپنی کمزوری۔ ضعیفی بےطاقتی بیان کرکے اللہ کے رسول سے اجازت لینے آتے کہ اگر حضور ﷺ واقعی انہیں معذور خیال فرما دیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 93
المعذرون (معذرت پیش کرنے والے) الاعراب (دیہاتی) لبوذن (تاکہ اجازت دی جائے) سیصیب (جلد ہی پہنچے گا) الضعفآء (کمزور، ضعیف) المرضی (مریض) لایجدون (وہ نہیں پاتے ہیں) حرج (گناہ، تنگی) نصحوا (نصیحت کی، انہوں نے نصیحت کی) المحسنین (نیکو کار) اتوک (تیرے پاس آئے) لتحمل (تاکہ تو سوار کرا دے) لا اجد (میں نہیں پاتا ہوں ) اعین (عین) ، آنکھیں تفیض (بہہ رہی ہیں ) الدمع (آنسو) حزن (رنج و غم) الایجدوا (یہ کہ وہ نہیں پا رہے ہیں) السبیل (راستہ، الزام) اغنیآء (مالدار ہیں)
تشریح : آیت نمبر 90 تا 93
اعراب، اعرابی کی جمع ہے۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو شہروں کے باہر چھوٹی چھوٹی جگہوں پر…
Read the full tafseer →منافقین کا جھوٹا عذر
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان دو گروہ کا ذکر فرمایا جو لوگ جھوٹا عذر کر کے جہاد میں شریک نہ ہوئے، اور جنہوں نے عذر بھی نہیں کیا خدا اور رسول کے وعدوں کو جھوٹا جان کر گھروں میں بیٹھے رہے۔ پہلا گروہ یہ عامر بن طفیل کی جماعت تھی، انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہا اگر ہم آپ کے ساتھ جہاد میں جائیں تو قبیلہ طے کے گنوار ہماری بی بی بچوں اور جانوروں کو لوٹ لیں گے ''۔ حضور ﷺ نے فرمایا :'' مجھے اللہ نے تمہارے حال سے خبردار کیا ہے اور وہ مجھے تم سے بےنیاز کرے گا ''۔ عمرو بن طلاء نے کہا کہ ان لوگوں نے عذر باطل بنا کر پیش کیا تھا یہ دو سے گروہ کا حال ہے جو بغیر کسی عذر کے بیٹھ رہے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–94
[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Read the full tafseer →معذرین :
(ف 1) اس وقت تک مدینے والوں کا بیان تھا کہ کس طرح میں منافقین نے بزدلی پھیلائی اور کیونکر وہ جہاد سے پیچھے رہے ان آیات میں دیہات والوں کا قصہ ہے کہ ان میں بھی منافق ہیں ، اعراب اصل میں وہ لوگ تھے ، جو حضرمی زندگی نہیں بسر کرتے تھے ، ہاویہ پیمایا صحرا انور تھے ،
ان میں عامر بن طفیل کے آدمی آئے کہنے لگے ، کہ اگر ہم جہاد میں شریک ہوجائیں ، تو بنی طے ہمارے مواشی لوٹ کرلے جائیں گے ، اور ہمارے غیر حاضری میں ہمیں نقصان پہنچائیں گے ، کچھ لوگ وہ تھے جو یوں ہی گھروں میں بیٹھ رہے ، اور عذر ومعذرت کی سرے سے ضرورت ہی نہیں محسوس کی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، ان میں کوئی بھی عندا للہ معذور نہیں ،…
Read the full tafseer →90 کچھ دیہاتیوں میں سے بھی بہانہ سازی کرتے ہوئے آئے تاکہ ان کو بھی گھروں میں رہ جانے کی اجازت دے دی جائے اور جن لوگوں نے ان دیہاتیوں میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل ہی جھوٹ بولا وہ تو گھروں میں بیٹھ رہے ان دیہاتیوں میں سے جو لوگ آخر تک کفر پر قائم رہیں گے ان پر آخرت میں دردناک عذاب واقع ہوگا۔ یعنی بالکل جھوٹ بولنے والے معذرت بھی کرنے نہیں آئے دیہاتیوں میں سے بعض لوگ اچھے بھی ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یوں تو دعوی ایمان میں سب ہی منافقین جھوٹے تھے مگر جو عذر کرنے آئے تھے انہوں نے اپنے دعوی کو ظاہر داری میں تو پورا کیا اور بعض ایسے متکبر تھے جنہوں نے ظاہرداری بھی نہ برتی وہ جیسے دل میں جھوٹے تھے ظاہر میں بھی ان کا جھوٹ کھل گیا۔
Read the full tafseer →شہر تو شہر دیہاتوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو عذر پیش کرتے ہیں :
120: ” الْاَعْرَابِ “ اعرابی کی جمع ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو شہروں کی بجائے دیہاتوں یا جھونپڑیوں میں رہنے والے ہیں یعنی صحرائی علاقوں کے بادیہ نشین جو شہروں کے مقامات میں آباد تھے۔ معذرین وہ لوگ ہیں جو عذر تو نہ رکھتے ہوں لیکن اس کے باوجود عذر پیش کریں (اذہری لغوی ، لسان العرب) معتذر اور معذر میں فرق یہ ہے کہ معتذر وہ ہے کہ جس کو ممکن ہے کہ عذر ہو اور اس طرح یہ بھی کہ کوئی عذر نہ ہو یعنی جس پر عذر کا شک ہو کہ شاید عذر اس کو ہے یا نہیں ہے لیکن معذر کے لئے یقین ہے کہ اس کو فی الواقعہ کوئی عذر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ عذر پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
Commentary
The details given in the verse tell us that there were two kinds of people among the Bedouins of the desert. First, there were those who visited the Holy Prophet ﷺ and requested that they might be excused from Jihad and allowed to stay behind. Then, there were the arrogant and rebellious among them who did not even bother to take the trouble of excusing themselves out of it. They just stayed behind.
When the Holy Prophet ﷺ allowed Jadd ibn Qays that he may not go on Jihad,' says Sayyidna Jabir ibn ` Abdullah ؓ ، ` some hypocrites also came to him, offered their excuses and sought…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →