At-Tawba 9:88

At-Tawba · from ayah 88

9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ؕ— وَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ ؗ— وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۟لٰـكِنِ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ جَاهَدُوۡا بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ‌ؕ وَاُولٰۤئِكَ لَهُمُ الۡخَيۡـرٰتُ‌ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏

لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But the Messenger and those who believed with him fought with their wealth and their lives. Those will have [all that is] good, and it is those who are the successful.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 11 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:88

بخلاف اس کے رسولؐ نے اور ان لوگوں نے جو رسولؐ کے ساتھ ایمان لائے تھے ا پنی جان و مال سے جہاد کیا اور اب ساری بھلائیاں انہی کے لیے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن خود رسول اللہ اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا، اور انہیں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد کو پہنچے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

لیکن رسول ﷺ اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور انہی لوگوں کے لئے سب بھلائیاں ہیں اور وہی لوگ مراد پانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ہمراہ ایمان لائے، اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب بھلائیاں ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لیکن رسول نے اور ان لوگوں نے جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کیا۔ ساری بھلائیاں انہی لوگوں کے لیے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

البتہ رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں انہوں نے اپنے مال و جان سے جہاد کیا اور یہی ہیں جن کے لیے رحمتیں اور برکتیں ہیں اور یہی لوگ فلاں پانے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لیکن اللہ کے رسول اور وہ لوگ جو (صدق دل سے) ایمان لائے آپ کے ساتھ، انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے، اور یہی لوگ ہیں جن کے لئے سب بھلائیاں ہیں، اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

— مولانا اسحاق مدنی

البتہ رسول اور جو لوگ ان کی ہمراہی میں ایمان لاچکے ہیں انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا اور انہی کے لئے خوبیاں ہیں اور یہی لوگ (پورے) کامیاب ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن (اس کے برعکس) رسول ﷺ اور وہ لوگ جو آپ ﷺ کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اپنے اموال سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ اسلام لائے سب اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے انہی لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But the Messenger and those who shared his faith strove with their belongings and their lives. It is they who shall have all kinds of good. It is they who shall prosper.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But the Messenger and the believers in his company have carried out Jihad with their wealth and lives, and for them there are the good things, and they are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani

But the Messenger and the believers in his company have carried out Jihad with their wealth and lives, and for them there are the good things, and they are the successful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But the Messenger and those who believed with him strove hard and fought with their wealth and their lives. Such are they for whom are the good things, and it is they who will be successful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But the messenger and those who believe with him strive with their wealth and their lives. Such are they for whom are the good things. Such are they who are the successful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But the Messenger and those who believed with him fought with their wealth and their lives. Those will have [all that is] good, and it is those who are the successful.

— Saheeh International

But the Messenger of God and the believers with him fought for the cause of God with their possessions and in person and their reward will be all good things and everlasting happiness.

— Muhammad Sarwar

But the Apostle and those who believe with him strive hard with their property and their persons; and these it is who shall have the good things and these it is who shall be successful.

— Muhammad Habib Shakir

But the apostle and those who believed in his company strave hard with their riches and their lives. These are they for whom are goods, and these: they are the blissful.

— Abdul Majid Daryabadi

But the Messenger, and those who believe with him, strive and fight with their wealth and their persons: for them are (all) good things: and it is they who will prosper.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:88

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 88–89

منافق کی آخرت خراب منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی خستہ حالت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لئے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لئے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 87–89

سورة التَّوْبَة 89 یعنی اگرچہ یہ بری شرم کے قابل بات ہے کہ اچھے خاصے ہٹے کٹے، تندرست، صاحب مقدرت لوگ، ایمان کا دعویٰ رکھنے کے باوجود کام کا وقت آنے پر میدان میں نکلنے کے بجائے گھروں میں گھس بیٹھیں اور عورتوں میں جا شامل ہوں، لیکن چونکہ ان لوگوں نے خود جان بوجھ کر اپنے لیے یہی رویہ پسند کیا تھا اس لیے قانون فطرت کے مطابق ان سے وہ پاکیزہ احساسات چھین لیے گئے جن کی بدولت آدمی ایسے ذلیل اطوار اختیار کرنے میں شرم محسوس کیا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–89

اُولُوا الطَّوْلِ کا لفظ تخصیص کے لئے نہیں بلکہ اس سے غیر اولی الطول یعنی غیر مستطیع لوگوں کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ ان کے پاس تو ایک ظاہری عذر بھی تھا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 88–89

88۔ 89۔ سچے اہل ایمان کا کردار : لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْخَيْرٰتُ ۡ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔ اب یہ سچے اور پکے اہل ایمان کا کردار اور ان کا انجام بیان ہو رہا ہے اور مقصود اس سے ان مخلصین کی تحسین بھی ہے اور ان منافقین کو غیرت دلانا بھی کہ رسول کے جو سچے ساتھی ہیں وہ جب حکم جہاد ہوتا ہے تو ان منافقین کی طرح رخصت کی عرضیاں لے کر نہیں دوڑتے بلکہ اپنے مال اور سر لے کر رسول کی خدمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 87–88

87۔ 1 دلوں پر مہر لگ جانا یہ مسلسل گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے، اس کے بعد انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 87–89

رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔ یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 88–89

1 منافقین کے بالمقابل مومنین مخلصین کا بیان فرمایا کہ دیکھو ! یہ ہیں خدا کے وفادار بندے۔ جو اس کے راستہ میں نہ جان سے ہٹتے ہیں نہ مال سے۔ کیسا ہی خطرہ کا موقع ہو، اسلام کی حمایت اور پیغمبر اسلام کی معیت میں ہر قربانی کے لیے تیار رہتے ہیں۔ پھر ایسوں کے لیے فلاح و کامیابی نہ ہوگی تو اور کس کے لیے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 88–89

آیت 88 لٰکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ جَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط وَاُولٰٓءِکَ لَہُمُ الْخَیْرٰتُز وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ فلاح محض ایک لفظ ہی نہیں بلکہ قرآن کی ایک جامع اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورة المؤمنون کے آغاز میں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 88–89

102 یہاں درمیان میں حقیقی مسلمانوں، جہاد کے سلسلہ میں ان کی مخلصانہ کوششوں اور ان کے اجر کا ذکر منافقوں کے کردار کے بالکل برعکس بیان ہو رہا ہے جیسا کہ قرآن میں اکثر یہی سنت جاری ہے۔ اس کے بعد پھر رخصت لینے والوں اور منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

161 ۔ (دنیا وآخرت دونوں میں) (آیت) ” المفلحون “۔ فلاح کی وسعت وعموم مفہوم پر حاشیہ شروع پارۂ اول میں (آیت) ” اولئک ھم المفلحون “۔ کے تحت میں گزر چکا۔ (آیت) ” الرسول والذین امنوا معہ “۔ محقق تھانوی (رح) نے یہاں یہ نکتہ لکھا ہے کہ مومنین کے ساتھ یہاں ذکر رسول لے آنا مومنین کی ہمت افزائی وقدر افزائی کے لئے ہے کہ جہاد میں ان کا اخلاص بھی کامل ہے جیسا کہ رسول کا اخلاص اکمل ہے۔ (آیت) ” الخیرت “۔ یہ دنیوی واخروی دونوں عالموں کی خوبیوں کا جامع ہے۔ وظاھر اللفظ عمومھا ھنا لمنافع الدارین کالنصر والغنیمۃ فی الدنیا والجنۃ ونعیمھا فی الاخری (روح) تناول منافع الدارین لاطلاق اللفظ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 81–89

آیت نمبر 81 تا 89 ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لکن الرسول والذین امنوا معہ جاھدوا باموالھم وانفسھم لیکن رسول ﷺ اور رسول ﷺ کے ساتھی (مخلص) اہل ایمان نے اپنے مال و جان سے جہاد کیا۔ یعنی اگر ان منافقوں نے ساتھ نہیں دیا اور جہاد کو نہیں گئے تو دین اسلام کا کوئی نقصان نہیں ہوا ‘ ان سے بہتر اور افضل لوگوں نے جہاد کیا۔ واولئک لھم الخیرات اور یہی ہیں وہ جن کیلئے بھلائیاں ‘ یعنی دونوں جہان کے منافع ہیں۔ بعض کے نزدیک الخیرات سے مراد ہیں حوریں۔ اللہ نے (حوروں کے متعلق) فرمایا ہے : فِیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ۔ خیرات ‘ خیرۃ کی جمع ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ خیر کے (مرادی حقیقی) معنی سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ اللہ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(88) لیکن رسول اکرم ﷺ اور آپ کے خالص مسلمان ساتھی انہوں نے اطاعت خداوندی میں جہاد کیا ان ہی حضرات کیلیے دنیا میں مقبول نیکیاں ہیں یا یہ کہ آخرت میں خوبصورت حوریں ہیں اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب سے نجات حاصل کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ : لیکن رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کا حال منافقین جیسا نہیں، ان میں نہ ان کی طرح بزدلی ہے، نہ جہاد سے گریز، نہ مال و جان کی قربانی میں بخل، نہ اللہ اور اس کے رسول سے کفر، نہ نافرمانی، بلکہ وہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ جہاد یعنی اپنی آخری کوشش کرتے ہیں اور ہر حال میں اطاعت کرتے ہیں۔ انھی کے لیے تمام بھلائیاں، یعنی دنیا کی فتوحات و غنائم اور آخرت کے سب سے بلند درجے ہیں۔ دیکھیے سورة حجرات (15) اور صف (10 تا 12) انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جنت میں پہنچ جانے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 87–89

آیت نمبر 87 تا 89۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) رضوا بان یکونوا مع الخوالف اس میں الخوالف، خالفۃ کی جمع ہے یعنی وہ عورتوں، بچوں اور مردوں میں سے معذوروں کے ساتھ ہوجائیں۔ اور آدمی کے لیے خالف اور خالفۃ بھی کہا جاتا ہے جب وہ نجیب اور شریف نہ ہو، جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان خالفۃ اھلہ جب وہ ان سے گھٹیا ہو۔ نحاس نے کہا ہے : اس کی اصل خلف اللبن یخلف سے ہے جب دودھ طویل وقت تک پڑے رہنے کے سبب کھٹا اور خراب ہوجائے اور خلف فم الصائم روزے دار کے منہ کی بو بدل جائے اور اسی سے فلان خلف سوئ (فلاں برا پیچھے رہنے والا ہے) مگر یہ فاعلۃ کی جمع فواعل ہے اور فاعل صفت کی فواعل کے وزن پر جمع نہیں بنائی جاتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–89

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “ یعنی عورتوں کے ساتھ (انہوں نے) بیٹھنا پسند کیا اور جہاد میں جانا پسند نہ کیا۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ثنیۃ الوداع پر آئے اور آپ تبوک کے طرف ارادہ رکھتے تھے۔ علی ؓ رونے لگے اور فرما رہے تھے کیا مجھے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میرے نزدیک موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی طرح (قائم مقام) ہوجائے مگر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لٰكِنِ [ لیکن (یعنی جب کہ )] الرَّسُوْلُ [ یہ رسول ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ ] جٰهَدُوْا [ جہاد کرتے ہیں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِهِمْ ۭ [ اور اپنی جانوں سے ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ہیں ] لَهُمُ [ جن کے لیے ] الْخَيْرٰتُ ۡ [ بھلائیاں ہیں ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ ہی فلاح پانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 88–89

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بشارت منافقین کا حال بد بیان فرمانے کے بعد اہل ایمان کو خوشخبری دی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول ﷺ اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان کے لیے خیرات یعنی خوبیاں ہیں یعنی وہ دنیوی اور اخروی منافع ہیں جو محبوب اور پسندیدہ ہیں۔ دنیا میں اللہ کی طرف سے ان کے لیے نصرت ہے اور مال غنیمت ہے اور آخرت میں جنت ہے اور اس کی نعمتیں ہیں۔ بعض مفسرین نے الخیرات سے جنت کی حوریں مراد لی ہیں۔ کیونکہ سورة رحمن میں یہ کلمہ جنت کی حوروں کے لیے آیا ہے۔ قال اللہ تبارک و تعالیٰ (فِیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ) پھر فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) (اور یہی لوگ کامیاب ہیں)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–89

کفار اور منافقین کا ایک شبہ اور اس کا ازالہ قال اللہ تعالیٰ ۔ ولا تعجبک اموالھم واولادھم۔۔۔ الی۔۔۔ ذالک الفوز العظیم (ربط): گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کا مبغوض عنداللہ ہونا بتلایا اب اس بارے میں ایک شبہ کا ازالہ فرماتے ہیں وہ یہ کہ ان کے پاس جو کچھ مال اور اولاد ہے وہ ان کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ ان کے مبغوض ہونے کی علامت ہے اور ان کو جو مال و دولت دیا گیا ہے وہ ان کے حق میں ذریعہ عذاب ہے سو اے مسلمانو تمہیں ان کے مال و دولت سے دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے مال کو اگر خدا تعالیٰ کی اطاعت اور جہاد فی سبیل اللہ کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ نعمت ہے اور اگر اس کو معصیت کا ذریعہ بنایاجائے تو وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 88–89

83:“ لٰکِنِ الرَّسُوْلُ الخ ” یہاں سے لے کر “ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” تکحضور ﷺ کے ساتھ مال و جان سے جہاد کرنے والے صحابہ کرام اور مخلص مومنین کی فضیلت اور ان کے لیے اخروی بشارت مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 85–89

ربط آیات : جہاد سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے منافقین کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے بعد پیچھے بیٹھے رہنے پر بڑے خوش ہوئے کہ اچھا ہوا ہم اس دور دراز کے سفر پر نہیں گئے گویا کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں مال وجان کھپا دینے کو ناپسند کیا ، وہ ایک دوسرے کو گرمی کی شدت میں سفر کرنے سے منع کرتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ تو بہت سخت ہے ، اگر اس دنیا کی گرمی برداشت نہیں کرسکتے تو دوزخ کی تپش کیسے برداشت کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آئیں گے تو منافق لوگ آئندہ جہاد میں شمولیت کی پیش کش کریں گے مگر حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ۝ 0 ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْخَيْرٰتُ۝ 0 ۡوَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝ 88 رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–89

ترکیب : منہم ومات دونوں احد کی صفت ہیں ابدا ظرف ہے لاتصل کا اذا انزلت شرط استاذن جواب۔ خوالف جمع خالفۃ ہے المراۃ لھم اعد سے متعلق جنت موصوف تجری الخ صفت خالدین حال ہے ضمیر لہم سے۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقین کے لئے آنحضرت ﷺ کو استغفار سے منع کیا تھا اب یہاں ان کی نماز جنازہ اور ان کی قبر پر دعا کے لئے کھڑا ہونے سے بھی منع فرماتا ہے جو انسان کے لئے نجات کا بڑا وسیلہ تھا یعنی مغفرت اور رسول کی شفاعت کے دائرہ سے خارج کردیا گیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مرگیا تو آنحضرت ﷺ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے لوگوں نے بلایا۔ آپ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 88–89

لٰـکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْط وَاُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْخَیْرٰتُز وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ ع (التوبۃ : 88۔ 89) (البتہ ! رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے انھوں نے جہاد کیا اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اور انہی کے لیے ساری بھلائیاں ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے ندیاں رواں ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ) اہلِ ایمان کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 88–89

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے مقابلہ میں مخلص مسلمانوں کا کردار۔ منافق اپنے ایمان میں غیر مخلص ہونے کی وجہ سے جہاد اور نیکی کے کاموں میں پیچھے رہنا پسند کرتا ہے اس کے مقابلے میں حقیقی مسلمان ہر وقت اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشاں رہتا ہے یہاں تک کہ وقت آنے پر وہ اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ ان لوگوں کے لیے دنیا میں خیر ہی خیر ہے اور آخرت میں فلاح اور کامیابی پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ حقیقت میں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہاں تک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رسول اور مومن جہاد کرنے والے ہیں : آیت 88: لٰکِنِ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا مَعَہٗ جٰھَدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ (لیکن رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ ایمان والے انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کیا) اگر یہ لوگ نہیں گئے تو ان سے بہت بہتر لوگ تو غزوہ کیلئے گئے۔ وَاُولٰٓپکَ لَھُمُ الْخَیْرٰتُ (انہی کے لئے ساری بھلائیاں ہیں) خیرات کا لفظ دونوں جہان کی کامیابیوں کو شامل ہے کیونکہ لفظ مطلق ہے اور اسمیں گنجائش ہے۔ نمبر 2۔ حوریں مراد ہیں کیونکہ اس ارشاد میں ہے فیھن خیراتٌ حسان۔ ( الرحمان : 70) وَاُولٰٓپکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (اور یہی لوگ کامیاب ہیں) ہر مطلوب ان کو ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 88–89

آیت نمبر 88: یعنی نیکیاں اور بعض نے کہ خو بصورت عورتیں جنت میں۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فیھن خیرات حسان “ ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ خیر کا معنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین “۔۔۔” واولئک ھم المفلحون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 88–89

88۔ 89۔ اللہ پاک نے منافقوں کی مذمت بیان کر کے یہ بات بیان فرمائی کر یہ لوگ جو جہاد میں نہیں شریک ہوئے ہیں اس سے کوئی ضرر خدا کے دین کو نہیں پہنچتا ہے ان لوگوں سے جو بہتر اور اچھے لوگ ہیں رسول اور مومنین وہ لوگ سچے دل سے اور خالص نیت سے خدا کی راہ میں جان اور مال سے حاضر ہوئے اور آئے دن جہاد کرتے رہتے ہیں اور جیسا کہ حق جہاد کا ہے پورا پورا ادا کرتے ہیں پھر یہ ذکر کیا کہ یہ مومنین جو اس طرح خدا کی راہ میں سرگرمی سے لڑر ہے ہیں تو ان کی محنت رائگاں نہیں جائے گی اس کے عوض میں دنیا اور آخرت دونوں جگہ انہیں بہتری ہوگی اور بڑی فلاحیت اٹھائیں گے کیا یہ کم دنیا میں فلاحیت ہے کہ جہاد میں شریک ہونے پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 88–89

آیت 88 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : جب یہ منافقین جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے بےنیاز ہے۔ اس کی مخلوق میں اس کے ایسے خاص بندے ہیں جن کو اس نے اپنے فضل سے خاص طور پر نوازا ہے وہ اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ ہیں (الرسول) رسول مصطفیٰ ﷺ (آیت) ” اور وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جہاد کیا انہوں نے آپ کے ساتھ اپنے مالوں اور جانوں سے۔ “ وہ کاہل ہیں نہ سست بلکہ وہ فرحاں اور بشارت حاصل کرنے والے۔ (واولئک لھم الخیرات) ” یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے (دنیا و آخرت) کی بیشمار بھلائیاں ہیں۔ “ (واولئک ھم المفلحون) ” اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔ “ جو بلند ترین مطالب اور کامل…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 84–90

قول باری ہے ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ً ولا تقم علی قبرہ اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا آیت میں کئی احکام پر دلالت ہو رہی ہے ۔ مسلمانوں کے مردوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کافروں کے مردوں کی نماز جنازہ کی ممانعت ہے، اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ تدفین کا کام مکمل ہوجانے تک قبر کے پاس کھڑے رہنا چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ تدفین کے وقت قبر کے پاس کھڑے رہتے تھے۔ وکیع نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے عمیر بن سعد سے روایت کی ہے کہ حضر ت علی ؓ تدفین کا کام مکمل ہونے تک ایک قبر کے پاسکھڑے رہتے۔ سفیان ثوری نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

172 فلاح پانے والے خوش نصیبوں کی نشان دہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ صدق دل سے ایمان لائے اور انہوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد بھی کیا تو ایسے ہی خوش نصیب ہیں جن کے لیے سب بھلائیاں ہیں اور یہی ہیں فلاح پانے والے کہ ایسوں کو دنیا میں فتح و نصرت کی خوشی و مسرت، اِعلاء ِکلمتہ اللہ اور غلبہ دین حق کا شرف و اعزاز اور مال غنیمت اور آخرت میں دائمی اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوتی ہے۔ سو صدق ایمان اخلاص عمل اور جہاد فی سبیل اللہ وہ بنیادی اوصاف ہیں جو انسان کو خیرات و حسنات کا اہل بناتے اور اس کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار ومالا مال کرتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–92

مجاہد مومن اور عذر سے پیچھے رہنے والے تشریح : ان آیات میں تشریح کردی گئی ہے کہ جہاد میں شامل نہ ہونے کے لیے کون کونسی صورتیں ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مال و جان سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں جہاد کیا ایسے ہی لوگ اللہ کے پسندیدہ ہیں ایسے ہی لوگوں کو دنیا و آخرت میں بھلائیوں کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اللہ رب العزت اعلان کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بہترین باغات اور پرسکون پر آسائش ٹھکانے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ جہاد سے چھوٹ صرف عورتوں، بچوں، بیماروں اور ان لوگوں کو ہے جن کی جسمانی حالت ٹھیک نہ ہو۔ لیکن جھوٹ بول کر اپنے آپ کو جہاد کے قابل ظاہر نہ کرنا انتہائی گناہ اور شرم کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 81–89

آیات 81 تا 89 اسرار و معارف نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:88) لکن الرسول۔ لکن کی دو صورتیں ہیں۔ (1) لکن (مشدد) سے مخفف بنایا ہوا ہے اس صورت میں یہ حرف ابتداء ہے اور غیر عامل ہوتا ہے اسی لئے اسم پر بھی داخل ہوتا ہے جیسے آیۃ ہذا میں لکن الرسول والذین امنوا معہ اور فعل پر بھی جیسے ما کان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما (3:67) اس صورت میں یہ استدراک کا فائدہ دیتا ہے۔ (2) حرف عاطفہ کا کام بھی دیتا ہے جبکہ اس کے بعد کوئی مفرد آئے مثلاً لکن اللہ یشھد بما انزل الیک (4:166) لیکن یہ بھی استدراک کے لئے آیا ہے۔ (استدراک کا مطلب یہ ہے کہ ماقبل کے حکم کے خلاف مابعد کی طرف کسی حکم کی نسبت کی جائے اسی لئے ضروری ہے کہ لکن (یا اسی طور لکن) سے پہلے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 85–89

لغات القرآن آیت نمبر 85 تا 89 تزھق (نکلے، نکالے) اولو الطول (طاقت والے) ذرنا (ہمیں چھوڑ دے) طبع (مہر لگا دی گئی) لایفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) المفلحون (کامیابی حاصل کرنے والے) اعد ت (تیار کر رکھا ہے) تشریح : آیت نمبر 85 تا 89 اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں ہی فرما دیا تھا کہ ان کے اموال اور اولادیں مومنوں کے لئے تو رحمت ہی رحمت ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لیکن کفار اور منافقین کے لئے بڑی آفت ہیں چونکہ وہ ساری زندگی اسی میں پھنسے رہتے ہیں۔ جہاد تو بڑی بات ہے انہیں اسلام کی معمولی عملی خدمت کی توفیق بھی نہیں ہوتی وہ مرتے دم تک دین اسلام اور اس کے عملی پہلوؤں سے بھاگتے پھرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 88–89

مسلمانوں کے جہاد کی خوبی ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور خود ہمارے رسول ﷺ کی فرمانبرداری میں ثابت قدم ہیں، اور ہر قسم کے مصائب و تکالیف کو بڑی شادمانی کے ساتھ سہتے ہیں وہ خدا کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں۔ یہی لوگ دونوں جہانوں کی خوبیوں پر کامیاب ہوں گے دنیا میں تو فتح و نصرت اور غنیمت کا مال ہاتھ لگے گا اور آخرت میں دیدار الہی نصیب ہوگا۔ انہی لوگوں کے لئے خدا تعالیٰ نے جنت کے ہرے بھرے اور پھل پھولدار باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–94

[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 87–89

(ف 1) غرض یہ ہے کہ صاحب وسعت رہتے ہیں اور وہ دون ہمتی اور بزدلی میں عورتوں کی مانند ہیں ، ان کے دلوں پر حب نفس کی مہر لگی ہے ، اس لئے بیداری نہیں ، فقھا و فراست سے محروم ہیں ۔ اس لئے جہاد کے فوائد سے آگاہ نہیں ۔ حل لغات : اولوالطول : صاحب وسعت دولتمند ۔ الخوالف : جمع خالفۃ ۔ گھر میں بیٹھنے والی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

88 مگر ہاں رسول اور اس کے وہ ساتھی جو اہل ایمان ہیں انہوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کیا یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہر قسم کی خوبیاں ہیں اور یہی لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں۔ یعنی رسول ﷺ کے ساتھ جو مخلص مسلمان ہیں وہ گھر میں بیٹھنے کی خواہش نہیں کرتے بلکہ رسول ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–89

ف 1۔ اولو الطول کے ذکر سے تخصیص مقصود نہیں بلکہ غیر اولی الطول کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ جب اہل مقدور کا یہ حال ہے تو بےمقدوروں کا تو ضروری ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان والے لوگ کبھی جہاد سے جی نہیں چرائیں گے۔ 118: اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے سچے شیدائیوں اور پکے اہل ایمان کا کردار اور ان کا انجام بیان ہو رہا ہے جس سے مقصود مخلصین کی تحسین بھی ہے اور منافقین کو غیرت دلانا بھی کہ مرد ہو کر نامردوں کے سے کام کرتے ہو۔ ذرا دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہونے والوں کی طرف بھی آنکھ بھر کر دیکھو اور ان کی نظروں سے نظریں بھی ملا لو شاید تمہیں حیاء آجائے اور خربوزے کو دیکھ کر ہی خربوزہ رنگ پکڑنے لگے۔ آج کل کے ” غلامان رسول “ ، ” عاشقان رسول “ ، ” محبان رسول “ ، اور ” غلامان مصطفیٰ “ کہلانے والوں کو بھی غور کرنا چاہئے کہ حقیقت میں محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں ،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–90

Commentary The details given in the verse tell us that there were two kinds of people among the Bedouins of the desert. First, there were those who visited the Holy Prophet ﷺ and requested that they might be excused from Jihad and allowed to stay behind. Then, there were the arrogant and rebellious among them who did not even bother to take the trouble of excusing themselves out of it. They just stayed behind. When the Holy Prophet ﷺ allowed Jadd ibn Qays that he may not go on Jihad,' says Sayyidna Jabir ibn ` Abdullah ؓ ، ` some hypocrites also came to him, offered their excuses and sought…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →