At-Tawba 9:87

At-Tawba · from ayah 87

9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ ۟رَضُوۡا بِاَنۡ يَّكُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ‏

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They were satisfied to be with those who stay behind, and their hearts were sealed over, so they do not understand.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 11 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:87

ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں۔ (گھروں میں بیٹھ) رہیں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ تو خانہ نشین عورتوں کاساتھ دینے پر ریجھ گئے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اب وه کچھ سمجھ عقل نہیں رکھتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوجائیں، اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، چنانچہ وہ نہیں سمجھتے (کہ وہ کیا کر رہے ہیں)۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

انہیں پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہُر کردی گئیں تو وہ کچھ نہیں سمجھتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے یہ پسند کیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والی عورتوں، بچوں اور معذوروں کے ساتھ ہو جائیں اور ان کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی ہے سو وہ کچھ نہیں سمجھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان لوگوں نے پیچھے رہنے والوں میں شامل ہونا پسند کیا۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی لہذا وہ اب کچھ نہیں سمجھتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھی بنیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے تو اب وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ راضی ہوگئے اس بات پر کہ ساتھ رہیں گھروں میں بیٹھنے والیوں کے، اور مہر لگا دی گئی ان کے دلوں پر، جس سے یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے (اپنے حقیقی نقصان کو)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہ جانے والوں کے ہمراہ رہ جائیں اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی سو وہ سمجھتے ہی نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ اس پر راضی ہوگئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے پس اب وہ سمجھ نہیں سکتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ یہ پیچھے رہنے والی عورتوں کیساتھ رہ جائیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They were content to stay behind with the womenfolk. Their hearts were sealed, leaving them bereft of understanding.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They are happy to be with women who sit back, and their hearts are sealed; so they do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani

They are happy to be with women who sit back, and their hearts are sealed; so they do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are content to be with those who sit behind. Their hearts are sealed up, so they understand not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They are content that they should be with the useless and their hearts are sealed, so that they apprehend not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They were satisfied to be with those who stay behind, and their hearts were sealed over, so they do not understand.

— Saheeh International

They are happy to stay home with those who are of no help in the battle, thus, their hearts were sealed and they were left with no understanding.

— Muhammad Sarwar

They preferred to be with those who remained behind, and a seal is set on their hearts so they do not understand.

— Muhammad Habib Shakir

Pleased are they that they should be with the women sitters-at-home, and their hearts are sealed up, so they understand not.

— Abdul Majid Daryabadi

They prefer to be with (the women), who remain behind (at home): their hearts are sealed and so they understand not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:87

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 86–87

ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت طاقت قوت ہونے کے باوجود جہاد کے لئے نہیں نکلتے جی چراجاتے ہیں اور حکم ربانی سن کر پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ ان کی بےحمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہوگئے ہیں لشکر چلے گئے، یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے، بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے۔ یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چناچہ اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 87–89

سورة التَّوْبَة 89 یعنی اگرچہ یہ بری شرم کے قابل بات ہے کہ اچھے خاصے ہٹے کٹے، تندرست، صاحب مقدرت لوگ، ایمان کا دعویٰ رکھنے کے باوجود کام کا وقت آنے پر میدان میں نکلنے کے بجائے گھروں میں گھس بیٹھیں اور عورتوں میں جا شامل ہوں، لیکن چونکہ ان لوگوں نے خود جان بوجھ کر اپنے لیے یہی رویہ پسند کیا تھا اس لیے قانون فطرت کے مطابق ان سے وہ پاکیزہ احساسات چھین لیے گئے جن کی بدولت آدمی ایسے ذلیل اطوار اختیار کرنے میں شرم محسوس کیا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–89

اُولُوا الطَّوْلِ کا لفظ تخصیص کے لئے نہیں بلکہ اس سے غیر اولی الطول یعنی غیر مستطیع لوگوں کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ ان کے پاس تو ایک ظاہری عذر بھی تھا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ۔ مرد ہو کر عورتوں کے ساتھی : خوالف، عورتوں کو کہتے ہیں اس لیے کہ مرد جنگ و جہاد اور دوسرے مردانہ کاموں کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں اور یہ بچوں اور گھروں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں بیٹھتی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مرد ہو کر غازیوں کی ہم سفری اور ہم رکابی کی بجائے اپنے لیے یہی پسند کیا کہ عورتوں کی طرح گھروں میں بیٹھیں۔ ان کی اس ایمانی اور اخلاق موت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، نہ اب وہ کوئی صحیح بات سوچتے ہیں۔ نہ کسی عزم و ہمت کے کام کے لیے ان کے اندر حوصلہ ہی پیدا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 87–88

87۔ 1 دلوں پر مہر لگ جانا یہ مسلسل گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے، اس کے بعد انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 87–89

رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔ یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 86–87

6 یعنی قرآن کی کسی سورت میں جب تنبیہ کی جاتی ہے کہ پوری طرح خلوص و پختگی سے ایمان لاؤ، جس کا بڑا اثر یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ پیغمبر ﷺ کے ساتھ ہو کر خدا کے راستہ میں جہاد کریں۔ تو یہ منافقین جان چرانے لگتے ہیں اور ان میں کے استطاعت و مقدور والے بھی جھوٹے عذر تراش کر اجازت طلب کرنے آتے ہیں کہ حضرت ! ہمیں تو یہیں مدینہ میں رہنے دیجئے۔ گویا کمال بےغیرتی اور نامردی سے اس پر راضی ہیں کہ لڑائی یا خطرہ کا نام سنتے ہی خانہ نشین عورتوں کے ساتھ گھروں میں گھس کر بیٹھ رہیں۔ ہاں جس وقت جنگ وغیرہ کا خطرہ نہ رہے اور امن و اطمینان کا زمانہ ہو تو باتیں بنانے اور قینچی کی طرح زبان چلانے میں سب سے پیش پیش ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 87 رَضُوْا بِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ اس انداز بیان میں ان پر گہرا طنز ہے۔ یعنی جنگ کرنا مردوں کا کام ہے جبکہ خواتین اور بچے ایسے مواقع پر پیچھے گھروں میں رہ جاتے ہیں۔ چناچہ اب جب تمام مردوں پر لازم ہے کہ وہ غزوۂ تبوک کے لیے نکلیں ‘ تو یہ منافقین طرح طرح کے بہانوں سے رخصت چاہتے ہیں۔ گویا انہوں نے پیچھے گھروں میں رہ جانے والی عورتوں کا کردار اپنے لیے پسند کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

101 مال و دولت، خوشحالی اور آسودگی اگرچہ اللہ کی نعمت ہے مگر جب یہی چیزیں اللہ کے احکام کی تعمیل میں رکاوٹ بن جائیں تو یہی انسان کے لیے فتنہ اور عذاب کا باعث بن جاتی ہیں۔ ایک تو ان میں نفاق کا مرض پہلے ہی موجود تھا دوسرے عیش و آرام کی زندگی بھی میسر ہو تو منافقوں کو جہاد میں مال و دولت کا خرچ کرنا اور سفر کی صعوبتیں کیسے گوارا ہوسکتی تھیں۔ چناچہ ایسے موقعوں پر حیلہ بازیاں اور معذرتیں کرنا ان کی ایک عادت ثانیہ سی بن چکی تھی۔ ان کی اسی عادت کو اللہ تعالیٰ نے مہر لگانے سے تعبیر کیا ہے۔ لہذا اگر انہیں جہاد کی ترغیب دی جائے تو اب ان کے دلوں پر رتی بھر بھی اثر نہیں ہوتا۔ مزید برآں اپنی اس بزدلی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

160 ۔ (اور ان سے احساس ہی اپنی دون فطرتی کارخصت ہوگیا ہے) (آیت) ” الخوالف “۔ سے مراد یہاں عورتیں ہیں۔ ابن عباس ؓ صحابی اور متعدد تابعین سے یہی منقول ہے۔ عورتیں چونکہ گھر میں بیٹھی رہ جانے والیاں ہیں اسی لئے انہیں خوالف کہتے ہیں۔ الخوالف اے النساء (ابن جریر، عن ابن عباس وقتادہ ومجاہد والضحاک والحسن وابن زید) الخوالف النساء قالہ الجمھور کا بن عباس و مجاھد وقتادہ وشمربن عطیہ وابن زید والفراء (بحر) اے النساء اللاتی تخلفن فی البیوت (جلالین) (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “۔ شریعت اسلام نے جو مشاغل حیات مرد کے ساتھ مخصوص کر رکھے ہیں، اور عورت کو ان سے الگ کر رکھا ہے، ان میں سے ایک شغل جہاد کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 81–89

آیت نمبر 81 تا 89 ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

رضوا بان یکونوا مع الخوالف انہوں نے پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا۔ الخوالف سے مرا ہیں عورتیں جو مردوں کے جانے کے بعد اپنے گھروں میں رہی تھیں۔ خوالف ‘ خالفۃٌ کی جمع ہے۔ بعض نے کہا : خالفہ بےکار ‘ بےنفع آدمیوں کو کہتے ہیں۔ محاورہ میں کہا جاتا ہے : ” فلانٌ خالفۃُ قومِہٖ “ فلاں شخص اپنی قوم میں نچلے درجہ کا (یعنی بیکار یا ناکارہ) ہے۔ مراد یہ ہے کہ انہوں نے ناکارہ لوگوں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا۔ وطبع علی قلوبھم اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی۔ یعنی اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے ان کو بھلائیوں کی خوبی اور برائیوں کی خرابی سمجھ میں نہیں آتی۔ فھم لا یفقھون۔ پس وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(87) یہ لوگ خانہ نشین عورتوں اور بچوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی جس کی وجہ سے حکم خداوندی کی تصدیق ہی نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 86–87

وَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ : ”سُوْرَةٌ“ آیات کا ایک حصہ، ٹکڑا۔ ”الطَّوْلِ“ کا معنی ”اَلْفَضْلُ وَالْقُدْرَۃُ وَالْغِنَی وَالسَّعَۃُ“ ہے۔ (قاموس) یعنی وسعت و طاقت اور مال و دولت۔ ”الْخَوَالِفِ“ یہ ”خَالِفَۃٌ“ کی جمع ہے ”پیچھے رہنے والی عورتیں۔“ ”فَاعِلَۃٌ“ کی جمع ”فَوَاعِلُ“ آتی ہے، جیسے ”قَاطِعَۃٌ“ کی جمع ”قَوَاطِعُ“ اور ”ضَارِبَۃٌ“ کی جمع ”ضَوَارِبُ“ اور ”قَافِلَۃٌ“ کی جمع ”قَوَافِلُ“ یعنی جہاد کے حکم والی آیات کا کوئی حصہ اترنے پر وہ لوگ عذر کریں جن کے پاس کچھ نہیں اور جو ضروریات جہاد حاصل نہ ہوسکنے کی وجہ سے ساتھ نہیں جاسکتے تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر ان منافقین میں سے وسعت و طاقت والے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 87–89

آیت نمبر 87 تا 89۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) رضوا بان یکونوا مع الخوالف اس میں الخوالف، خالفۃ کی جمع ہے یعنی وہ عورتوں، بچوں اور مردوں میں سے معذوروں کے ساتھ ہوجائیں۔ اور آدمی کے لیے خالف اور خالفۃ بھی کہا جاتا ہے جب وہ نجیب اور شریف نہ ہو، جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان خالفۃ اھلہ جب وہ ان سے گھٹیا ہو۔ نحاس نے کہا ہے : اس کی اصل خلف اللبن یخلف سے ہے جب دودھ طویل وقت تک پڑے رہنے کے سبب کھٹا اور خراب ہوجائے اور خلف فم الصائم روزے دار کے منہ کی بو بدل جائے اور اسی سے فلان خلف سوئ (فلاں برا پیچھے رہنے والا ہے) مگر یہ فاعلۃ کی جمع فواعل ہے اور فاعل صفت کی فواعل کے وزن پر جمع نہیں بنائی جاتی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 87–89

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” رضوا بان یکونوا مع الخوالف “ یعنی عورتوں کے ساتھ (انہوں نے) بیٹھنا پسند کیا اور جہاد میں جانا پسند نہ کیا۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعد بن وقاص ؓ سے روایت کیا کہ علی بن ابی طالب ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ثنیۃ الوداع پر آئے اور آپ تبوک کے طرف ارادہ رکھتے تھے۔ علی ؓ رونے لگے اور فرما رہے تھے کیا مجھے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میرے نزدیک موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی طرح (قائم مقام) ہوجائے مگر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

رَضُوْا [ وہ لوگ راضی ہوئے ] بِاَنْ [ اس پر کہ ] يَّكُوْنُوْا [ وہ ہوں ] مَعَ الْخَوَالِفِ [ پیچھے رہنے والوں کے ساتھ ] وَطُبِعَ [ اور چھاپ لگائی گئی ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں پر ] فَهُمْ [ نتیجتا وہ لوگ ] لَا يَفْقَهُوْنَ [ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–87

وسعت ہوتے ہوئے منافقین کا اجازت طلب کرنا کہ غزوہ میں نہ جائیں منافقین کا حال بتاتے ہوئے فرمایا کہ جب قرآن کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے جس میں اللہ پر ایمان لانے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا حکم ہوتا ہے تو اس میں سے پیسے والے اور مالی وسعت والے اجازت لینے کے لیے حاضر ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں چھوڑ دیجیے گھروں میں بیٹھے رہ جانے والوں میں ہمیں بھی شمار فرما لیجیے۔ اس میں ان کی بےغیرتی کی طرف اشارہ ہے۔ بہادر مردوں میں شمار ہونے کو تیار نہیں۔ ضعیفوں اور عورتوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھ رہنے کو تیار ہیں۔ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی (جنہیں اپنے نفع و نقصان کی بھی سمجھ نہیں)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–89

کفار اور منافقین کا ایک شبہ اور اس کا ازالہ قال اللہ تعالیٰ ۔ ولا تعجبک اموالھم واولادھم۔۔۔ الی۔۔۔ ذالک الفوز العظیم (ربط): گزشتہ آیات میں کفار اور منافقین کا مبغوض عنداللہ ہونا بتلایا اب اس بارے میں ایک شبہ کا ازالہ فرماتے ہیں وہ یہ کہ ان کے پاس جو کچھ مال اور اولاد ہے وہ ان کے محبوب ہونے کی دلیل نہیں بلکہ ان کے مبغوض ہونے کی علامت ہے اور ان کو جو مال و دولت دیا گیا ہے وہ ان کے حق میں ذریعہ عذاب ہے سو اے مسلمانو تمہیں ان کے مال و دولت سے دھوکہ میں نہ پڑنا چاہئے مال کو اگر خدا تعالیٰ کی اطاعت اور جہاد فی سبیل اللہ کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ نعمت ہے اور اگر اس کو معصیت کا ذریعہ بنایاجائے تو وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 86–87

82:“ وَ اِذَا اُنْزِلَتْ الخ ” یہ منافقین کی منافقت کی واضح علامت ہے کہ جب جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے تو وہ مالی طاقت اور جسمانی قدرت کے باجود جہاد سے جی چراتے اور آپ کے پاس آ کر اجازت مانگتے ہیں کہ انہیں جہاد کی شمولیت سے مستثنی کردیا جائے اور گھروں میں رہنے دیا جائے وہ جہاد میں شریک ہو کر جرات و شجاعت کے جوہر دکھانے کے بجائے بزدلوں کی طرح مدینہ میں عوتوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ ان کے دل ایمان سے خالی اور اللہ اور رسول کی محبت سے تہی ہیں۔ ان کے دلوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے مہر جباریت لگ چکی ہے اور وہ جہاد کے دینی اور دنیوی منافع سمجھنے سے قاصر ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 85–89

ربط آیات : جہاد سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے منافقین کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے بعد پیچھے بیٹھے رہنے پر بڑے خوش ہوئے کہ اچھا ہوا ہم اس دور دراز کے سفر پر نہیں گئے گویا کہ انہوں نے اللہ کے راستے میں مال وجان کھپا دینے کو ناپسند کیا ، وہ ایک دوسرے کو گرمی کی شدت میں سفر کرنے سے منع کرتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ جہنم کی آگ تو بہت سخت ہے ، اگر اس دنیا کی گرمی برداشت نہیں کرسکتے تو دوزخ کی تپش کیسے برداشت کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس آئیں گے تو منافق لوگ آئندہ جہاد میں شمولیت کی پیش کش کریں گے مگر حضور ﷺ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَـوَالِفِ وَطُبِـــعَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا يَفْقَہُوْنَ۝ 87 رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 84–89

ترکیب : منہم ومات دونوں احد کی صفت ہیں ابدا ظرف ہے لاتصل کا اذا انزلت شرط استاذن جواب۔ خوالف جمع خالفۃ ہے المراۃ لھم اعد سے متعلق جنت موصوف تجری الخ صفت خالدین حال ہے ضمیر لہم سے۔ تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقین کے لئے آنحضرت ﷺ کو استغفار سے منع کیا تھا اب یہاں ان کی نماز جنازہ اور ان کی قبر پر دعا کے لئے کھڑا ہونے سے بھی منع فرماتا ہے جو انسان کے لئے نجات کا بڑا وسیلہ تھا یعنی مغفرت اور رسول کی شفاعت کے دائرہ سے خارج کردیا گیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین مرگیا تو آنحضرت ﷺ کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے لوگوں نے بلایا۔ آپ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَضُوْابِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَایَفْقَھُوْنَ (التوبۃ : 87) (انھوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ پیچھے وہ جانے والیوں کے ساتھی بنیں اور مہر لگادی گئی ان کے دلوں پر پس وہ کچھ نہیں سمجھتے۔ ) یہ دلیل ہے اس بات کی کہ گزشتہ آیت میں جو فرمایا گیا وہ ان کے دل کی آواز ہے کیونکہ رضا اور پسندیدگی دل کا فعل ہے۔ تو زبان سے وہ ہزار بہانے تراشیں لیکن ان کے دل کی رضا اس میں ہے کہ وہ جہاد میں شرکت کی بجائے گھروں میں رہنے والی عورتوں کے ساتھ رہیں۔” خوالف “ گھروں میں رہنے والی عورتوں کو کہتے ہیں۔ مرد جنگ و جہاد اور دوسرے مردانہ کاموں کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 86–87

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ منافقین کا رویہ۔ منافقین کی حالت یہ تھی کہ جب بھی کوئی آیت یا سورة نازل ہوتی جس میں اللہ تعالیٰ پر مخلصانہ ایمان لانے کی دعوت اور رسول معظم ﷺ کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا جاتا تو یہ لوگ اس کے ساتھ سراسر انحراف کرتے اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر مختلف بہانے بنا کر کہتے کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھ رہنے کی اجازت دیجیے حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس کوئی نام نہاد عذر بھی نہیں تھا کیونکہ وہ صحت مند اور وسائل رکھنے والے تھے۔ دراصل یہ اس بات پر خوش تھے کہ انھیں جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گویا کہ وہ ہر حال میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وہ خانشہ نشینی کے خواہاں ہیں : آیت 87: رَضُوْا بِاَنْ یَّکُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ (وہ لوگ خانہ نشین عورتوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے) الخوالف سے عورتیں مراد ہیں اس کی واحد خالفہ ہے۔ وَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْ بِھِمْ (اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی) کفر و منافقت کو اختیار کرنے کی وجہ سے مہر کردی گئی۔ فَھُمْ لَایَفْقَھُوْنَ (پس وہ نہیں سمجھتے) جہاد میں کیا سعادت مندی اور کامرانی مخفی ہے اور پیچھے رہنے میں کیا شقاوت و ہلاکت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت 87: رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ یعنی عورتوں اور بعض نے کہا گھٹیا اور بیوقوف لوگوں کے ساتھ۔ کہا جاتا ہے۔” فلان خالفۃ قومہ “ جب وہ ان میں کم حیثیت ہو۔” وطبع علی قلوبھم فھم لا یفقھون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 86–87

86۔ 87۔ اللہ پاک نے ان آیتوں میں ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی جنہیں جہاد میں شریک ہونے کی ہر طرح کی قدرت حاصل ہے قرآن کی اکثر سورتوں میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ خالص دل سے احکام الٰہی پر ایمان لاؤ اور جہاد میں شریک ہو کر لڑو مگر وہ اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں کہ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ رہیں انہیں اس بات کی مطلق پر وا نہیں کہ گھروں میں بیٹھنا عورتوں کا کام ہے اور مردوں کا شیوہ دشمن کے مقابلہ میں جوانمردی کے ہنر کے دکھلانے کا ہے سورة احزاب میں انہیں لوگوں کے حق میں یوں فرمایا ہے کہ جب لڑائی کا موقع آتا ہے تو سب سے پہلے یہ لوگ نامرد بن جاتے ہیں اور جب لڑائی کا خوف جاتا رہتا ہے تو ان کی زبان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 86–87

آیت 86 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کی دائمی کاہلی اور نیکیوں سے ان کے دائمی گریز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے نیز آگاہ فرماتا ہے کہ سورتیں اور آیات ان کے رویئے پر کوئی اثر نہیں کرتیں، چناچہ فرماتا ہے : (واذا انزلت سورة ) ” اور جب اترتی ہے کوئی سورت “ جس میں ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہو (استاذنک اولوا الطول منھم) ” تو رخصت مانگتے ہیں ان کے صاحب حیثیت لوگ “ یعنی دولت مند اور مال دار لوگ جنہیں کسی قسم کا عذر نہیں اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال اور بیٹوں سے نواز رکھا ہے۔ کیا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس کی تعریف نہیں کرتے اور واجبات کو قائم نہیں کرتے جن کو اللہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 84–90

قول باری ہے ولا تصل علی احد منھم مات ابدا ً ولا تقم علی قبرہ اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا آیت میں کئی احکام پر دلالت ہو رہی ہے ۔ مسلمانوں کے مردوں کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی کافروں کے مردوں کی نماز جنازہ کی ممانعت ہے، اس پر بھی دلالت ہو رہی ہے کہ تدفین کا کام مکمل ہوجانے تک قبر کے پاس کھڑے رہنا چاہیے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ تدفین کے وقت قبر کے پاس کھڑے رہتے تھے۔ وکیع نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے عمیر بن سعد سے روایت کی ہے کہ حضر ت علی ؓ تدفین کا کام مکمل ہونے تک ایک قبر کے پاسکھڑے رہتے۔ سفیان ثوری نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 85–87

170 کافروں اور منکروں کا مال و متاع انکے لیے باعث عذاب و وبال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم منکرین کے اموال و اولاد سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان لوگوں کو انہی چیزوں کے ذریعے عذاب میں ڈالے۔ دنیا میں اور اس کے نتیجے میں ان کی جانیں بھی نکلیں تو کفر ہی کی حالت میں۔ یہ دراصل بیان ہے اللہ پاک کی ان سنن کونیہ میں سے ایک سنت عظیم کا جو کہ اس کارخانہ ہست و بود میں کارفرما ہیں کہ جب انسان اس وحدہ لا شریک کی طرف سے منہ موڑ کر اسی دنیائے دوں کے متاع فانی اور حطام زائل کے جوڑنے اور جمع کرنے میں لگ جاتا ہے اور اپنے خالق ومالک کو بھول جاتا ہے تو اس کا انجام یہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 85–87

بہانے تراشنے والے منافق تشریح : اللہ کے حضور میں منافق و فاسق انتہائی ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اللہ کی راہ کو چھوڑ کر شیطان کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ کفر و شرک اور منافقت کی اتنی گہری تہہ انکے دلوں پر جم گئی ہے کہ اب وہ گہری ہی ہوتی چلی جائے گی کم نہ ہوگی۔ اسی لیے اللہ نے کہا ہے کہ انکے دلوں پر مہر لگ گئی ہے اب وہ نیکی اور ایمان قبول ہی نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 81–89

آیات 81 تا 89 اسرار و معارف نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 86–87

ف 6 ان پر نہ اللہ تعالیٰ و رسول کی بات کا ثر ہوتا ہے اور نہ کسی سمجھانے والے کی نصیحیت کا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:87) لا یفقھون ۔ مضارع منفی ۔ جمع مذکر غائب۔ فقہ سے وہ سمجھ نہیں رکھتے۔ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 85–89

لغات القرآن آیت نمبر 85 تا 89 تزھق (نکلے، نکالے) اولو الطول (طاقت والے) ذرنا (ہمیں چھوڑ دے) طبع (مہر لگا دی گئی) لایفقھون (وہ نہیں سمجھتے ہیں) المفلحون (کامیابی حاصل کرنے والے) اعد ت (تیار کر رکھا ہے) تشریح : آیت نمبر 85 تا 89 اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں ہی فرما دیا تھا کہ ان کے اموال اور اولادیں مومنوں کے لئے تو رحمت ہی رحمت ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی لیکن کفار اور منافقین کے لئے بڑی آفت ہیں چونکہ وہ ساری زندگی اسی میں پھنسے رہتے ہیں۔ جہاد تو بڑی بات ہے انہیں اسلام کی معمولی عملی خدمت کی توفیق بھی نہیں ہوتی وہ مرتے دم تک دین اسلام اور اس کے عملی پہلوؤں سے بھاگتے پھرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 86–87

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی اکثر سورتوں میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ خالص دل سے احکام الہی پر ایمان لاؤ اور جہاد میں شریک ہوکر لڑو، مگر وہ اس بات کو بہت پسند کرتے ہیں کہ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ رہیں۔ انہیں اس بات کی مطلق پروا نہیں کہ گھروں میں بیٹھنا عورتوں کا کام ہے، اور مردوں کا شیوہ دشمن کے مقابلہ میں جوانمردی کے ہنر کے دکھانے کا ہے۔ پھر فرمایا کہ ایسی ہی باتوں سے ان کے دلوں پر زنگ کی مہر لگادی گئی ہے اس لئے یہ دین کے کاموں سے جی چراتے ہیں۔ ان کو اپنے نفع ونقصان کا کچھ خیال نہیں ہے بالکل ناسمجھ ہیں گویا عقل ہی نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–94

[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 87–89

(ف 1) غرض یہ ہے کہ صاحب وسعت رہتے ہیں اور وہ دون ہمتی اور بزدلی میں عورتوں کی مانند ہیں ، ان کے دلوں پر حب نفس کی مہر لگی ہے ، اس لئے بیداری نہیں ، فقھا و فراست سے محروم ہیں ۔ اس لئے جہاد کے فوائد سے آگاہ نہیں ۔ حل لغات : اولوالطول : صاحب وسعت دولتمند ۔ الخوالف : جمع خالفۃ ۔ گھر میں بیٹھنے والی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

87 انہوں نے پیچھے رہ جانے والی عورتوں کے ہمراہ رہ جانے کو پسند کیا اور خانہ نشین عورتوں کے ہمراہ رہ جانے پر راضی ہوگئے اور ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی جس سے یہ جہاد کی اہمیت کو سمجھتے ہی نہیں۔ یعنی اتنے بےحمیت ہیں کہ عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھنے کو پسند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–89

ف 1۔ اولو الطول کے ذکر سے تخصیص مقصود نہیں بلکہ غیر اولی الطول کا حال بدرجہ اولی معلوم ہوگیا کہ جب اہل مقدور کا یہ حال ہے تو بےمقدوروں کا تو ضروری ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس سنگت کو انہوں نے پسند کیا وہ اسی کے قابل تھے : 117: ان کے ڈھانچے تو مردوں کے سے نظر آتے ہیں اور اتنے اتنے بڑے جو ان دکھائی دیتے ہیں ان کو دیکھو رشک آتا ہے لیکن ان کے اندر دل مردوں کے نہیں بلکہ عورتوں کے ہیں اس لئے انہوں نے مردوں کے سے کام کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ عورتوں ہی کی صحبت اختیار کرنے کی کوشش کی اور اس بات پر راضی ہوئے کہ جب کبھی جہاد کا حکم سنا تو دل ہار کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے مرد ہو کر غازیوں اور مجاہدوں کی ہم سفری اور ہم رکابی کی بجائے اپنے لئے یہی پسند کیا کہ عورتوں کی طرح گھروں میں بیٹھیں اور ان کی اس مردانگی کی موت کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ کہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–90

Commentary The details given in the verse tell us that there were two kinds of people among the Bedouins of the desert. First, there were those who visited the Holy Prophet ﷺ and requested that they might be excused from Jihad and allowed to stay behind. Then, there were the arrogant and rebellious among them who did not even bother to take the trouble of excusing themselves out of it. They just stayed behind. When the Holy Prophet ﷺ allowed Jadd ibn Qays that he may not go on Jihad,' says Sayyidna Jabir ibn ` Abdullah ؓ ، ` some hypocrites also came to him, offered their excuses and sought…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →