Explained with ayahs 81–82
جہنم کی آگ کالی ہے
جو لوگ غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے۔ جنہیں راہ اللہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے ؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے۔ یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
سورة التَّوْبَة 87
غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ روکے بیٹھے رہے۔ مگر جب مخلص اہل ایمان بڑھ بڑھ کر چندے دینے لگے تو ان لوگوں نے ان پر باتیں چھانٹنی شروع کیں۔ کوئی ذی استطاعت مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق یا اس سے بڑھ کر کوئی بڑی رقم پیش کرتا تو یہ اس پر ریاکاری کا الزام لگاتے، اور اگر کوئی غریب مسلمان اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر کوئی چھوٹی سے رقم حاضر کرتا، یا رات بھر محنت مزدوری کر کے کچھ کھجوریں حاصل کرتا اور وہی لا کر پیش کردیتا، تو یہ اس پر آوازے کستے کہ لو، یہ ٹڈی کی ٹانگ بھی آگئی ہے تاکہ اس سے روم کے قلعے فتح کیے جائیں۔
Read the full tafseer →(آیت) فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا، جس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ہنسو تھوڑا روؤ زیادہ، یہ لفظ اگرچہ بصیغہ امر لایا گیا مگر حضرات مفسرین نے اس کو خبر کے معنی میں قرار دیا ہے، اور بصیغہ امر ذکر کرنے کی یہ حکمت بیان کی ہے کہ ایسا ہونا حتمی اور یقینی ہے، یعنی یہ بات یقینی طور پر ہونے والی ہے کہ ان لوگوں کی یہ خوشی و ہنسی صرف چند روز کی ہے، اس کے بعد آخرت میں ہمیشہ کے لئے رونا ہی رونا ہوگا، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے
الدنیا قلیل فلیضحکوا فیھا ماشاؤ ا فاذا انقطعت الدنیا وصاروا الی اللہ فلیستانفوا البکاء بکاء لا ینقطع ابدا دنیا چند روز ہے اس میں جتنا چاہو ہنس لو، پھر…
Read the full tafseer →فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّلْيَبْكُوْا كَثِيْرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۔ عمل اور جزا دونوں سامنے : یعنی جب یہ موسم کی گرمی سے بھاگ کر جہنم کی آگ میں کودے ہیں تو اپنی اس کرتوت کی پاداش میں حق یہ ہے کہ یہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ لیکن جیسا کہ اوپر والی آیت میں گزرا، یہ فہم و بصیرت سے عاری ہوچکے ہیں اس وجہ سے اپنی اس شامت اور بدبختی پر خوش ہیں گویا انہوں نے کوئی بڑا تیر مارا ہے عام طور پر مفسرین نے یہاں انشاء کو خبر کے معنی میں لیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے۔ یہاں عمل اور جزا دونوں کو نگاہوں کے سامنے مستضر کردیا گیا ہے اس لیے کہ جس کے اندر بصیرت ہو وہ اس دنیا میں اپنے عمل…
Read the full tafseer →28۔ 1 قلیلا اور کثیرا یا تو مصدریت (یعنی ضحکا اور بکآء اکثیرا یا ظرفیت یعنی (زمانا قلیلا و زمانا کثیرا) کی بنیاد پر منصوب ہے اور امر کے دونوں صیغے بمعنی خبر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہنسیں گے تو تھوڑا اور روئیں گے بہت زیادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
67: آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو صدقات نکالنے کی ترغیب دی تو ہر مخلص مسلمان نے اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ لا کر پیش کیا، منافقین خود تو اس کار خیر میں کیا حصہ لیتے، مسلمانوں کو طعنے دیتے رہتے تھے۔ اگر کوئی شخص زیادہ مال لے کر آتا تو کہتے کہ یہ تو دکھاوے کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور اگر کوئی غریب مزدور اپنے گھاڑھے پسینے کی کمائی سے کچھ تھوڑا سا صدقہ لے کر آتا تو منافقین اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ یہ کیا چیز اٹھا لایا ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔ صحیح بخاری اور حدیث و تفسیر کی دوسری کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مروی ہیں۔ لیکن اس جگہ غالبا وہ موقع مراد ہے جب آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے چندہ جمع کرنے کی…
Read the full tafseer →یہاں اگر کوئی ہنسے گا تو اس کی ہنسی مختصر ہوگی کیونکہ دنیا کی زندگی محدود ہے۔ اور آخرت میں پھر اسے ہمیشہ کے لیے رونا ہوگا۔ اور جیسا کرے گا ویسے بھرے گا۔ یہ نہایت ہی منصفانہ جزا ہے۔
یہ لوگ جنہوں نے جہاد کے مقابلے میں آرام کو پسند کیا اور اپنایا۔ اور مشکل حالات میں قافلہ اسلام سے پیچھے رہ گئے۔ یہ کسی بھی مشکل مہم کے لیے نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ یہ جہاد کے قابل ہی نہیں رہے۔ اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی مناسب نہیں ہے۔ لہذا اب کسی بھی موقعہ پر انہیں شریک جہاد کرکے ان کو عزت نہ دی جائے کیونکہ اس اہم موقعہ پر انہوں نے خود اس اعزاز کو لات مار دی۔
Read the full tafseer →7 یعنی چند روز اپنی حرکات پر خوش ہو لو اور ہنس لو۔ پھر ان کرتوتوں کی سزا میں ہمیشہ کو رونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت 81 فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَرِہُوْٓا اَنْ یُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَالُوْا لاَ تَنْفِرُوْا فِی الْْحَرِّ ط
یہ لوگ خود بھی اللہ کے رستے میں نہ نکلے اور دوسروں کو بھی روکنے کی کوشش میں رہے کہ ہم تو رخصت لے آئے ہیں ‘ تم بھی ہوش کے ناخن لو ‘ اس قدر شدید گرمی میں سفر کے لیے مت نکلو۔
Read the full tafseer →97 جس قسم کے کام یہ دنیا میں کر رہے ہیں چاہیے تو یہ تھا کہ یہ بہت کم ہنستے اور روتے زیادہ۔ اور اگر آج انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی تو قیامت میں انہیں یہی کچھ کرنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →152 ۔ (اس دنیا میں جس کی عمر چند روزہ ہے) (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیر ا “۔ ہنسنے کا تعلق اسی دنیا سے ہے اور رونے کا عالم آخرت سے جس کی مدت ختم ہونے والی نہیں۔ فلیضحکوا اور ولیبکوا گو صورۃ امر ہیں لیکن مراد یہاں صیغہ امر سے بھی محض خبر ہی ہے جو اپنے وقوع میں تمامتر یقینی ہے۔ والامر بالضحک والبکاء فی معنی الخبر (بحر) اخرجہ علی صیغۃ الامر للدلالۃ علی نہ حتم واجب (بیضاوی) (آیت) ” قلیلا وکثیرا “۔ قلیل میں اشارہ اس دنیا کی عارضی حیثیت کی جانب ہے اور کثیر میں آخرت کے دوام کی جانب، قلیلا اشارۃ الی مدۃ العمر فی الدنیا وکثیرا اشارۃ الی تابید الخلود (بحر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیت نمبر 81 تا 89
ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو…
Read the full tafseer →فلیضحکوا قلیلاً ولیبکوا کثیرًا پس یہ ہنسیں گے کم اور روئیں گے بہت۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے یہ خوش ہوئے تو دنیا میں کچھ یا تھوڑی مدت کیلئے ہنس لیں گے اور آخرت میں بہت روئیں گے۔
فَلْیَضْحَکُوْا اور وَلْیَبْکُوْا اگرچہ امر کے صیغے ہیں لیکن مآل کار ان کو جن حالات سے دنیا اور آخرت میں دوچار ہونا تھا ‘ ان کی خبر دی گئی ہے ‘ یعنی امر بمعنی خبر ہے۔ خبر کو انشا کا جامہ پہنا کر پیش کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ایسا واقع ہونا یقینی اور قطعی ہے۔
ہنسنے اور رونے سے مراد یا تو حقیقی معنی ہیں یا بطور خوشی اور غم۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہنسنے اور رونے کا تعلق صرف آخرت سے ہو…
Read the full tafseer →(82) اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں تھوڑے دن ہنس لیں اور آخرت میں بہت دنوں تک روتے رہیں جو ان معاصی اور گناوں کا بدلہ ہے۔
Read the full tafseer →فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّلْيَبْكُوْا كَثِيْرًا : کیونکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے، فانی اور باقی کا کیا مقابلہ ؟ اس لیے ان کا ہنسنا بہت ہی کم عرصے کے لیے اور رونا بیحد و حساب مدت کے لیے ہے جس کی انتہا ہی نہیں۔ یہ بظاہر حکم ہے مگر منافقین حکم ماننے والے کب تھے، اس لیے یہ امر کے الفاظ میں خبر دی جا رہی ہے، یعنی یہ لوگ بہت کم ہنسیں گے اور بہت زیادہ روئیں گے۔ ”جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ“ سے اس امر کے بمعنی خبر ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ اس میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ خبر میں تو صدق و کذب کا بھی احتمال ہوتا ہے، مگر انشاء (امر و نہی) میں اس کا احتمال ہی نہیں ہوتا، وہ حتمی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 82
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) فلیضحکو قلیلا یہ امر ہے اور یہ تہدید کے معنی کے لیے ہے اور یہ ہنسنے کے بارے امر نہیں ہے۔ اور اصل یہ ہے کہ اس میں لام مکسور ہوتا ہے پھر کسرہ کے ثقیل ہونے کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا۔ حسن۔ نے کہا : (آیت) فلیضحکو قلیلا انہیں چاہیے کہ وہ دنیا میں تھوڑا ہنسیں۔ (آیت) ولیبکو کثیرا اور زیادہ روئیں جہنم میں (2) (تفسیر طبری، جلد 10، صفحہ 228 ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ امر بمعنی خبر ہے۔ ای انھم سیضحکون قلیلا ویبکون کثیرا (بےشک وہ عنقریب تھوڑا ہنسیں گے اور زیادہ روئیں گے) جزاء یہ مفعول من اجلہ ہے، ای الجزائ (سزا کے لیے )
مسئلہ نمبر…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا “ کے بارے میں فرمایا ان سے مراد منافق اور کافر ہیں جنہوں نے اپنے دین کو مذاق اور کھیل بنایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا “ یعنی دنیا میں (تھوڑا ہنسو) (آیت) ” ولیبکوا کثیرا “ یعنی آخرت میں زیادہ رو وگے۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلیضحکوا قلیلا “ یعنی دنیا تھوڑی ہے تو اس میں جتنا تم چاہو ہنس لو۔ جب دنیا ختم ہوجائے گی اور اللہ کی طرف جائیں گے تو رونا شروع کریں گے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔
3:۔ بخاری…
Read the full tafseer →فَلْيَضْحَكُوْا [ پس چاہیے کہ وہ لوگ ہنسیں ] قَلِيْلًا [ تھوڑا [وَّلْيَبْكُوْا [ اور رو ویں ] كَثِيْرًا ۚ [ زیادہ ] جَزَاۗءًۢ [ بدلہ ہوتے ہوئے ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ لوگ کماتے تھے ]
ب ک ی : (ض) ۔ بکاء ، رونا فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ [ تو نہ روئے ان پر آسمان اور زمین ] 44:29 ۔ باک ، ج : بکی ۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ سُجَّدًا وَّبُكِيًّا [سجدہ کرنے والے اور رونے والے ہوتے ہوئے ] 19:58 ۔ (افعال ) ابکاء ، کسی کو رلانا ۔ وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى [اور یہ کہ وہ ہنساتا ہے اور رلاتا ہے ] 53:43 ۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلًا وَّلْیَبْکُوْا کَثِیْرًا) کہ یہ دنیا میں تھوڑا سا ہنس لیں اور آخرت میں زیادہ روئیں گے۔ یہاں تھوڑی سی خوشی ہے جس میں ہنسی بھی ہے اور دوسروں کا مذاق بنانا بھی ہے جس کو خوشی طبعی سے تعبیر کرتے ہیں لیکن آخرت میں کافروں کی جو بد حالی ہوگی اس پر جو روئیں گے اس رونے کا تصور کریں تو یہاں کی ذرا سی خوشی کو بھول جائیں۔ وہاں تو ان کا رونا ہی رونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن قیس (یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا نام ہے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ دوزخی اتنا روئیں گے کہ ان کے آنسوؤں میں اگر کشتیاں چلائی جائیں تو جاری ہوجائیں (اور ان کے آنسو عام آنسو نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–84
تفصیل جرائم منافقین
قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔
(ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں
نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں
ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…
Read the full tafseer →78:“ فَلْیَضْحَکُوْا الخ ” امر بمعنی خبر ہے۔ منافقین جہاد میں شریک نہ ہو کر بہت خوش ہیں اور ہنس رہے ہیں لیکن دنیا کی یہ خوشی اور ہنسی اس افسوس اور رونے کے مقابلے میں بہت کم ہے جو آخرت میں ان کے حصے میں آئیں گے۔ “ اخبار عن عاجل امرھم و اٰجله من الضحک القلیل فی الدنیا والبکاء الکثیر فی الاخري ” (روح ج 10 ص 112) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اللہ نے جہاد کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان فرمائی پھر ان کی قبیح صفات بدعہدی اور جھوٹ کا ذکر کیا۔ گذشتہ آیا ت میں منافقوں کی اس خصلت کو بیان کیا کہ وہ لوگ اپنی خوشی خاطر سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو تنقید کانشانہ بناتے ہیں۔ کوئی شخص اپنی حیثیت کے مطابق تھوڑا خرچ کرے یا زیادہ ، منافق ہر حالت میں ان پر اعتراض ہی کرتے تھے۔ پھر اللہ نے اپنے نبی (علیہ السلام) سے فرمایا ، کہ آپ ان منافقوں کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ، ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے بدطینت لوگوں کو نہ بخشنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
جہاد سے گریز :
اب آج کی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →فَلْيَضْحَكُوْا قَلِيْلًا وَّلْيَبْكُوْا كَثِيْرًا 0 ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 82
ضحك
الضَّحِكُ : انبساطُ الوجه وتكشّر الأسنان من سرور النّفس، ولظهور الأسنان عنده سمّيت مقدّمات الأسنان الضَّوَاحِكِ.
قال تعالیٰ “ وَامْرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَتْ [هود/ 71] ، وضَحِكُهَا کان للتّعجّب بدلالة قوله : أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 73] ، ويدلّ علی ذلك أيضا قوله : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ إلى قوله : عَجِيبٌ [هود/ 72] ، وقول من قال : حاضت، فلیس ذلک تفسیرا لقوله : فَضَحِكَتْ كما تصوّره بعض المفسّرين «1» ، فقال : ضَحِكَتْ بمعنی حاضت، وإنّما ذکر ذلک تنصیصا لحالها، وأنّ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ترکیب : الذین الخ مبتداء من المومنین المطوعین کابیان۔ فی الصدقات متعلق ہے یلمزون سے۔ والذین مبتداء فیسخرون خبر جملہ معطوف ہے اول الذین پر سخر اللّٰہ منہم خبر سبعین منصوب علی المصدر والعدد یقوم مقام المصدر کقولک ضربۃ عشرین ضربتہ قلیلا وکثیرا صفت ہے مصدر محذوف کی۔
تفسیر : ان آیات میں منافقین کی عادت و طعنہ زنی کو بیان کرتا ہے کہ جو اہل اسلام مقدور والے ہیں ان پر بھی طعن کرتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں اور جو مفلس اور مزدور اپنی مزدوری میں سے صدقہ دیتے ہیں ان پر بھی ہنستے ہیں۔ غزوہ تبوک کے لئے جب تیاری کا حکم دیا اور لوگوں کو اس میں مال و زر سے مدد دینے کی ترغیب دی تو عبدالرحمن بن عوف ؓ چار ہزار درہم…
Read the full tafseer →فَلْیَضْحَکُوْاقَلِیْلًا وَّلْیَبْکُوْاکَثِیْرًا ج جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ( التوبۃ : 82)
(پس انھیں چاہیے کہ وہ کم ہنسیں اور زیادہ روئیں اپنے اعمال کی پاداش میں۔ )
اپنے انجام پر روئیں
یہ منافقین موسم کی گرمی سے بچ کر گھروں کے عافیت کدوں میں پناہ گزیں ہوجانا چاہتے ہیں۔ لیکن انھیں معلوم ہے کہ فرض کی جس پکار پر مسلمانوں نے جلا دینے والے اس موسم میں اتنے خطرناک اقدام کا فیصلہ کیا ہے اس میں پہلو تہی جہنم کی آگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور یہ منافق اس آگ کو دعوت دے چکے ہیں کیونکہ انھوں نے پیچھے رہنے کو اپنی کامیابی سمجھ لیا ہے۔ اپنی اس حماقت پر اب انھیں خوش ہونے کی بجائے رونا چاہیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کے لیے بخشش کی دعا کرنا اس لیے بھی جائز نہیں یہ خود جان بوجھ کر جہاد سے پیچھے رہنے والے اور لوگوں کو جہاد سے بددل کرنے والے ہیں۔
مُخَلّفَ کی جمع مُخَلَّفُوْنَ ہے جس کا معنی ہے وہ لوگ جنھیں ان کے عذربہانوں اور شرارتوں کی وجہ سے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ منافقین کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جہاد کے لیے نکلنے کے بجائے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں بظاہر تو وہ اپنے آپ میں خوش ہوتے کہ ہم نے پیچھے رہنے کی باضابطہ اجازت لی ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ اللہ کے رسول جانتے تھے کہ یہ لوگ جھوٹے بہانے اور خود ساختہ مجبوریاں پیش کرکے جہاد سے پیچھے رہنا…
Read the full tafseer →آیت 82: فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلاً وَّ لْیَبْکُوْا کَثِیْرًا (پس یہ ہنسیں گے تھوڑا اور روئیں گے بہت) وہ دنیا میں اپنے پیچھے رہنے پر ذرا سی خوشی منا لیں آخرت میں ان کو اس کی سزا میں بہت رونا پڑے گا۔
نکتہ : یہاں خبر کو امر کے انداز سے ذکر کر کے اس کا حتمی اور لازمی ہونا بتلایا کہ اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہ پیش آئے گی۔ روایت میں ہے کہ منافقین آگ میں دنیا کی عمر کی مقدار روتے رہیں گے ان کے آنسو رکنے نہ پائیں گے اور نہ ہی پلک جھپک کیلئے نیند کریں گے۔ جَزَائًم بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (ان کاموں کے بدلہ میں جو وہ کیا کرتے تھے) نفاق سے جو کماتے تھے۔
Read the full tafseer →82:” فلیضحکوا قلیلا “ دنیا میں ” ولیبکوا کثیرا “ آخرت میں۔ تقدیر عبارت یہ ہے ” فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا “ ‘۔۔۔۔” جزآء مما کا نوا یکسبون “
موسیٰ بن انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم وہ کچھ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تھوڑ ا ہنسو اور زیادہ روئو۔ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم رویا کرو ‘ اگر رونے کی طاقت نہیں رکھتے تو رونے کی صورت بنا لو کیونکہ جہنم والے جہنم میں اتنا روئیں گے کہ ان کے آنسو ان کے چہرے پر اتنے بہیں گے کہ گویا وہ چھوٹے نالے ہیں۔ پھر آنسو ختم ہوجائیں گے تو خون کے آنسو بہیں گے۔ اگر کشتیاں اس میں چلائی جائیں تو چل پڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81۔ 82۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان منافقوں کی مذمت بیان کی جو غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ جہاد میں نہیں شریک ہوئے اور حضرت کا ساتھ نہیں دیا اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور آنحضرت ﷺ کے جانے پر خوشی ظاہر کی اور لڑنے سے جی چرایا اور اپنے مال و دولت کی خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کیا اور خدا کی راہ میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھنا۔
برا سمجھا حالانکہ خدا کے نزدیک بڑے بڑے مرتبے اس شخص کے ہیں جو جان ومال سے جہاد میں شریک ہو ان منافقوں نے خود تو جی چرایا تو چرایا مگر اوروں کو بھی منع کرتے تھے کہ ایسی گرمی میں کہا جہاد میں لڑنے کو جاؤ گے جیسا کہ خود اللہ پاک نے آگے بیان فرمایا۔ صحیح مسلم میں سفیان ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 83
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (فرح المخلفون بمقعدھم خلف رسول اللہ) ” خوش ہوگئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر “ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے، کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزادیہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ (وکرھو ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ) ” اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
منافق پر نماز جنازہ کی ممانعت
قول باری ہے استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن بغفر اللہ لھم ۔ اے نبی ! تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کردیا نہ کرو ، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی طرف ان کے لیے معافی کی درخواست ان کی بخشش کی موجب نہیں ہوگی ۔ پھر فرمایا ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم ستر کا ذکر بخشش سے مایوس کردینے میں مبالغہ کے طورپر ہوا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں ستر سے زائد مرتبہ انکے لیے معافی کی درخواست…
Read the full tafseer →166 تھوڑا ہنس لو، تمہارا انجام بہرحال بہت برا ہے : یعنی دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ من زَیْغٍ وَّاِنْحِرَافٍ ۔ کہ دنیا کی یہ زندگی، خواہ کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، آخرت کے مقابلے میں تھوڑی، بہت تھوڑی، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سو اس کی خوشی کیا خوشی ہے اور اس کا ہنسنا کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ سو اس میں تم ہنس لو اور عیش کرلو۔ تمہارا انجام بہرحال بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب یہ لوگ دنیا کی اس گرمی اور دھوپ کی شدت سے بھاگ کر دوزخ کی آگ میں کو دنے کے لیے تیار ہوگئے تو اپنی اس کرتوت کی پاداش میں ان کے لیے حق اور مناسب یہ ہے کہ یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
منافق کی پہچان اور ان سے قطع تعلق
تشریح : پچھلی آیات سے منافقین کا سلسلہ چل رہا ہے یہاں بھی انہی کا ذکر ہے اور اسلامی فوج کو یہ نکتہ سمجھایا جا رہا ہے کہ منافقین سے مدد لینا بڑی حماقت ہے کیونکہ یہ لوگ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ ہوتے ہیں یہ بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں اس لیے اپنی فوج کو ان سے ہوشیار رہنے کی اور آپس میں متحد رہنے کی پوری ٹریننگ دو کیونکہ یہ نہ تو مخلص ہیں اور نہ ہی جہاد کی تکلیف برداشت کرسکتے ہیں غزوئہ تبوک کا واقعہ ہوچکا ہے بلکہ یہ تو دوسروں کو بھی ترغیب دیتے رہے کہ بھئی اتنی گرمی ہے مت نکلو جہاد کے لئے۔ ان لوگوں کو کیا معلوم کہ اطاعت رسول ﷺ اور محبت الٰہی میں جان و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیات 81 تا 89
اسرار و معارف
نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 1 جو جنگ تبوک کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ گھروں میں بیٹھے رہے تھے۔2 یعنی ان لوگوں کے ساتھ جو بےعذار گھروں میں رہ گئے یا معذور کے ساتھ جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار، اپاہج، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : یہ جو فرمایا کہ اگر پھر لے جاوے اللہ کسی کو فرقہ کی طرف وہ اس واسطے کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ مدینہ میں منافق تھے اور فرقے اس واسطے فرمایا کہ بعض پیچھے مرگئے اور سب بیٹھنے والے منا فق نہ تھے۔ بعض مسلمان بھی تھے۔ کہ ان کی تقصیر معاف ہوئی۔ ( مو ضح )
Read the full tafseer →(9:82) فلیضحکوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر غائب ۔ انہیں چاہیے کہ ہنسیں۔
ولیبکوا۔ فعل امر جمع مذکر غائب۔ انہیں چاہیے کہ روئیں۔ دونوں فعل امر بمعنی خبر آئے ہیں یعنی سیضحکون قلیلا ویبکون کثیرا۔ وہ تھوڑا ہنسیں گے۔ (اس چند روزہ زندگی میں) اور زیادہ روئیں گے (ابدی زندگی آخرت میں) امر کا صیغہ اس کے حتمی اور واجبی ہونے کے بیان کے لئے آیا ہے۔ یعنی یہ ان کا مال حتمی ہے ضرور ہوکر رہے گا۔
بما کانوا یکسبون۔ ان کے رویے اور ہنسنے کا سبب بیان کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تشریح آیت نمبر 81 تا 82
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر منافقین نے اس جہاز میں شرکت سے بچنے اور مال و دولت حاصل کرنے کیلئے ہزاروں بہانے بنائے تھے، وہیں وہ جاں نثار اور مجاہیدن صحابہ بھی تھے جو ہر چیز سے بےنیاز ہو کر محض اللہ کی رضا و خوشنوید اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے جہاد میں شریک ہونے کو سعادت سمجھ رے تھے۔ فرمایا گیا کہ یہ منافق جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں گھر پر بیٹھے رہ گئیا ور انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے کو برا سمجھا ہے اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اتنی شدید گرمی کے موسم میں سفر نہ کرو۔ ان کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان منافقوں کی مذمت بیان کی جو غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ جہاد میں نہیں شریک ہوئے اور حضرت محمد ﷺ کا ساتھ نہیں دیا۔ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور آنحضرت ﷺ کے جانے پر خوشی ظاہر کی اور لڑنے سے جی چرایا اور اپنے مال و دولت کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کیا اور خدا کی راہ میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھنا برا سمجھا۔ حالانکہ خدا کے نزدیک بڑے بڑے مر تبے اس شخص کے ہیں جو جان ومال سے جہاد میں شریک ہو۔
منافقوں کے عذابوں کا ذکر
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ تبوک کی لڑائی کے وقت منافقوں نے مسلمانوں سے مشورہ کے طور پر اور آپس میں یہ چرچا کیا کہ ایسے گرم موسم میں سفر مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–94
[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
رونا سزا ہے !
(ف 2) یعنی منافقین کو چاہئے کہ اپنی ناکامیوں پر ماتم کریں ، اور روئیں کیونکہ اسلام باوجود ان کی مخالفت کے کامیاب رہا ہے اور مسلمان ان کے مزعومات کے علی الرقم بڑھتے ہی چلے گئے ، یہ محرومی وبدبختی ان کے اعمال کی سزا ہے ۔ بعض نادان لوگ جو سال مین ایک دفعہ خوب رونا اور ماتم کرنا موجب ثواب تصور کرتے ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام مسرت و طمانیت کا مذہب ہے ، اس طرح رونے کی محفلیں منعقد کرنا عذاب الہی ہے ۔
Read the full tafseer →82 سو اب ان کو چاہئے تھوڑے دن ہنس لیں اور بہت دنوں روتے رہیں اس کمائی کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔ یعنی دنیا کا ہنسنا اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کا رونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 1۔ یعنی ہنسنا تھوڑے دنوں کا ہے پھر رونا ہمیشہ ہمیشہ کا ہے۔ فلیضحکوا گوصیغہ امر کا ہے مگر مراد اس سے خبر ہے اور مقصود مرتب کرنا مجموعہ ہے۔
Read the full tafseer →اب ہنستے ہیں پھر روئیں گے گھر جا کے جھاٹا کھوئیں گے :
109: زیر نظر آیت میں ہنسنے کا تعلق اس دنیا سے ہے اور رونے کا تعلق عالم آخرت سے اور ظاہر ہے کہ اس دنیا کی ہرچیز کو فنا ہے اور عالم آخرت قبا کا نام ہے جس کو کبھی فنا نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ہنسنے کی آخر مدت ہی کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ جتنی بھی ہوگی وہ آخرت کے مقابلے میں قلیل ہی ہوگی اور اس طرح آخرت اس دنیا کے مقابلے میں کثیر ہی ہوگی۔ گویا یہ لوگ موسم گرما سے بھاگ کر کہاں گئے ؟ جہنم کی آگ میں کود گئے تو پھر ان کو اپنے اس کرتوت سے کیا حاصل ہوا ؟ وہ ایسا کر کے فائدع میں رہے یا سراسر نقصان میں ؟ معلوم ہوا کہ یہ لوگ فہم و بصیرت سے عاری ہوچکے…
Read the full tafseer →After that it was said: فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا (So, let them laugh a little, and weep a lot, being a reward of what they used to earn - 82). Though, the word ` falya dhak u' (So, laugh) has been used in the imperative form, but commentators interpret it in the sense of the predicate of a nominal clause. The wisdom behind the use of the imperative form given by them is that this is categorical and certain. In other words, this is going to happen as a matter of certainty. Such people could laugh for the days they have in the mortal world - but, in 'Akhirah, they must weep and weep…
Read the full tafseer →