At-Tawba 9:83

At-Tawba · from ayah 83

9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰی طَآىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ— اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ ۟فَاِنۡ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنۡهُمۡ فَاسۡتَـاْذَنُوۡكَ لِلۡخُرُوۡجِ فَقُلْ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِىَ اَبَدًا وَّلَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِىَ عَدُوًّا‌ ؕ اِنَّكُمۡ رَضِيۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلـِفِيۡنَ

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

If Allah should return you to a faction of them [after the expedition] and then they ask your permission to go out [to battle], say, "You will not go out with me, ever, and you will never fight with me an enemy. Indeed, you were satisfied with sitting [at home] the first time, so sit [now] with those who stay behind."

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 11 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:83

اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ، "اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑ سکتے ہو، تم نے پہلے بیٹھ ر ہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہوکر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ان کی کسی جماعت کی طرف لوٹا کر واپس لے آئے پھر یہ آپ سے میدان جنگ میں نکلنے کی اجازت طلب کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔ تم نے پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا پس تم پیچھے ره جانے والوں میں ہی بیٹھے رہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) اس کے بعد اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کے پاس واپس لے آئے، اور یہ (کسی اور جہاد میں) نکلنے کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان سے کہہ دینا کہ : اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں چل سکو گے، اور میرے ساتھ ملکر کسی دشمن سے کبھی نہیں لڑ سکو گے۔ تم نے پہلی بار بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا، لہذا اب بھی انہی کے ساتھ بیٹھ رہو جن کو (کسی معذوری کی وجہ سے) پیچھے رہنا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اے محبوب! اگر اللہ تمہیں ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگے تو تم فرمانا کہ تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو، تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس (اے حبیب!) اگر اللہ آپ کو (غزوۂ تبوک سے فارغ ہونے کے بعد) ان (منافقین) میں سے کسی گروہ کی طرف دوبارہ واپس لے جائے اور وہ آپ سے (آئندہ کسی اور غزوہ کے موقع پر جہاد کے لئے) نکلنے کی اجازت چاہیں تو ان سے فرما دیجئے گا کہ (اب) تم میرے ساتھ کبھی بھی ہرگز نہ نکلنا اور تم میرے ساتھ ہو کر کبھی بھی ہرگز دشمن سے جنگ نہ کرنا (کیونکہ) تم پہلی مرتبہ (جہاد چھوڑ کر) پیچھے بیٹھے رہنے سے خوش ہوئے تھے سو (اب بھی) پیچھے بیٹھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بیشک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اگر اللہ آپ کو ان منافقوں کے کسی گروہ کی طرف واپس لائے اور وہ آپ سے جہاد پر نکلنے کی اجازت مانگیں تو ان سے کہئے کہ : تم میرے ساتھ کبھی نہ نکلو گے اور نہ میرے ہمراہ دشمن سے جنگ کرو گے کیونکہ تم پہلی دفعہ جو پیچھے بیٹھ رہنے پر خوش تھے تو اب بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اگر اللہ تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دیجیو کہ تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے اور یرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہیں لڑ سکتے تم پہلے بیٹھ رہنے پر راضی ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اگر اللہ آپ کو واپس لے جائے (اے پیغمبر !) ان میں سے کسی گروہ کے پاس، پھر اگر یہ کسی موقع پر آپ سے اجازت مانگیں (جہاد میں) نکلنے کی، تو ان سے کہئے گا کہ تم اب کبھی بھی میرے ساتھ نہیں نکل سکو گے، اور نہ ہی تم کبھی میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے لڑ سکو گے، (کیوں کہ) تم لوگوں نے بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا پہلی مرتبہ، سو اب تم (ہمیشہ کے لئے) بیٹھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ،

— مولانا اسحاق مدنی

تو اگر اللہ آپ کو واپس لائے ان کے کسی گروہ کی طرف اور یہ لوگ آپ سے (ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو آپ کہہ دیجیے کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ چلو گے اور نہ میرے ہمراہ ہو کر کسی دشمن (دین) سے لڑو گے۔ تم وہی ہو کہ پہلی بار بھی تم نے بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا سو پیچھے رہ جانے والے معذوروں کے ساتھ اب بھی بیٹھے رہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پس (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر اللہ آپ کو لوٹا کرلے جائے ان کے کسی گروہ کے پاس پھر وہ آپ ﷺ سے اجازت مانگیں (آپ ﷺ کے ساتھ) نکلنے کے لیے تو کہہ دیجئے گا کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور اب میرے ساتھ ہو کر تم کسی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے۔ تم پہلی مرتبہ راضی ہوگئے تھے بیٹھ رہنے پر تو (اب ہمیشہ کے لیے) بیٹھ رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اگر اللہ آپ کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لے جائے اور وہ آپ سے نکلنے کی اجازت مانگیں تو کہہ دینا کہ تم ہرگز میرے ساتھ نہیں چلو گے اور نہ میرے مددگار بن کر دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ پیچھے بیٹھ رہنے میں خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then if Allah brings you face to face with a party of them, and they ask your leave to go forth (to fight in the Way of Allah), tell them: "You shall not go forth with me, and shall never fight against any enemy along with me. You were well-pleased to remain at home the first time, so now continue to remain with those who have stayed behind."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, if Allah brings you back to a group of them and they seek your permission to march, say to them, :You shall never march with me ever after, and shall never fight an enemy in my company. You were happy with sitting back the first time; now, sit with those remaining behind .

— Muhammad Taqi Usmani

Then, if Allah brings you back to a group of them and they seek your permission to march, say to them, :You shall never march with me ever after, and shall never fight an enemy in my company. You were happy with sitting back the first time; now, sit with those remaining behind .

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If Allah brings you back to a party of them (the hypocrites), and they ask your permission to go out (to fight), say: "Never shall you go out with me nor fight an enemy with me; you were pleased to sit (inactive) on the first occasion, then you sit (now) with those who lag behind."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If Allah bring thee back (from the campaign) unto a party of them and they ask of thee leave to go out (to fight), then say unto them: Ye shall never more go out with me nor fight with me against a foe. Ye were content with sitting still the first time. So sit still, with the useless.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If Allah should return you to a faction of them [after the expedition] and then they ask your permission to go out [to battle], say, "You will not go out with me, ever, and you will never fight with me an enemy. Indeed, you were satisfied with sitting [at home] the first time, so sit [now] with those who stay behind."

— Saheeh International

When God brings you back safely and a group of hypocrites ask you to make them exempt from taking part in the battle, tell them, "Never march with me and never fight with us against any of the enemies (of God). You chose to linger behind the first time, so this time stay behind with those who are of no help in the battle."

— Muhammad Sarwar

Therefore if Allah brings you back to a party of them and then they ask your permission to go forth, say: By no means shall you ever go forth with me and by no means shall you fight an enemy with me; surely you chose to sit the first time, therefore sit (now) with those who remain behind.

— Muhammad Habib Shakir

If, then, Allah bring thee back to a party of them, and they ask leave of thee for going forth, say thou: never ye shall go forth with me, nor ever fight an enemy with me; verily ye were pleased with sitting at home the first time, wherefore sit now with those who stay behind.

— Abdul Majid Daryabadi

If, then, Allah bring thee back to any of them, and they ask thy permission to come out (with thee), say: "Never shall ye come out with me, nor fight an enemy with me: for ye preferred to sit inactive on the first occasion: Then sit ye (now) with those who lag behind."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:83

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مکاروں کی سزا فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی کے ساتھ اس غزوے سے واپس مدینے پہنچا دے اور ان میں سے کوئی جماعت تجھ سے کسی اور غزوے میں تیرے ساتھ چلنے کی درخواست کرے تو بطور ان کو سزا دینے کے تو صاف کہہ دینا کہ نہ تو تم میرے ساتھ والوں میں میرے ساتھ چل سکتے ہو نہ تم میری ہمراہی میں دشمنوں سے جنگ کرسکتے ہو۔ تم جب موقعہ پر دغا دے گئے اور پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہے تو اب تیاری کے کیا معنی ؟ پس یہ آیت مثل (وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ01100؀) 6۔ الانعام :110) کے ہے بدی کا برا بدلہ بدی کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 79–83

سورة التَّوْبَة 87 غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ روکے بیٹھے رہے۔ مگر جب مخلص اہل ایمان بڑھ بڑھ کر چندے دینے لگے تو ان لوگوں نے ان پر باتیں چھانٹنی شروع کیں۔ کوئی ذی استطاعت مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق یا اس سے بڑھ کر کوئی بڑی رقم پیش کرتا تو یہ اس پر ریاکاری کا الزام لگاتے، اور اگر کوئی غریب مسلمان اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر کوئی چھوٹی سے رقم حاضر کرتا، یا رات بھر محنت مزدوری کر کے کچھ کھجوریں حاصل کرتا اور وہی لا کر پیش کردیتا، تو یہ اس پر آوازے کستے کہ لو، یہ ٹڈی کی ٹانگ بھی آگئی ہے تاکہ اس سے روم کے قلعے فتح کیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں لّنْ تَخْرُجُوْا کا ارشاد ہے، اس کا مفہوم مذکور الصدر خلاصہ تفسیر میں تو یہ لیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر آئندہ کسی جہاد میں شرکت کا ارادہ بھی کریں تو چونکہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں وہ ارادہ بھی اخلاص سے نہ ہوگا جب نکلنے کا وقت آئے گا اسوقت پہلے کی طرح حیلے بہانے کرکے ٹل جائیں گے، اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ جب وہ کسی جہاد میں شریک ہونے کو خود بھی کہیں تو آپ یہ حقیقت حال ان کو بتلا دیں کہ تمہارے کسی قول و فعل پر اعتماد نہیں، تم نہ جہاد کو نکلو گے نہ کسی دشمن اسلام سے میرے ساتھ قتال کرو گے۔ اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حکم ان کے لئے بطور دنیاوی سزا کے نافذ کیا گیا کہ اگر وہ سچ سچ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا ۭاِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْن۔ ’ رجع ‘ لازم اور متعدی دونوں آتا ہے۔ ان آیات کا موقع نزول اور ان کے اشارات : اس آیت کے اسلوب بیان سے ایک تو یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ آیتیں تبوک کے سفر کے دوران ہی نازل ہوئی ہیں اس لیے کہ فرمایا ہے کہ اگر تمہیں خدا لوٹائے جو واضح قرینہ اسی بات کا ہے کہ اس سفر سے لوٹائے۔ دوسرا اشارہ یہ نکلتا ہے کہ منافقین کی ان حرکتوں کے سبب سے جو اوپر بیان ہوئی ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

83۔ 1 منافقین کی جماعت مراد ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سلامت تبوک سے مدینہ واپس لے آئے جہاں یہ پیچھے رہ جانے والے منافقین بھی ہیں۔ 83۔ 2 یعنی کسی اور جنگ کے لئے، ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کریں۔ 83۔ 3 یہ آئندہ ساتھ نہ لے جانے کی علت ہے کہ تم پہلی مرتبہ ساتھ نہیں گئے۔ لہذا اب تم اس لائق نہیں کہ تمہیں کسی بھی جنگ میں ساتھ لے جایا جائے۔ 83۔ 4 یعنی اب تمہاری اوقات یہی ہے کہ تم عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو، جو جنگ میں شرکت کرنے کے بجائے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں، نبی کریم ﷺ کو یہ ہدایت اس لئے دی گئی ہے تاکہ ان کے اس ہم و غم اور حسرت میں اور اضافہ ہو جو انہیں پیچھے رہ جانے کی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 79–83

67: آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو صدقات نکالنے کی ترغیب دی تو ہر مخلص مسلمان نے اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ لا کر پیش کیا، منافقین خود تو اس کار خیر میں کیا حصہ لیتے، مسلمانوں کو طعنے دیتے رہتے تھے۔ اگر کوئی شخص زیادہ مال لے کر آتا تو کہتے کہ یہ تو دکھاوے کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور اگر کوئی غریب مزدور اپنے گھاڑھے پسینے کی کمائی سے کچھ تھوڑا سا صدقہ لے کر آتا تو منافقین اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ یہ کیا چیز اٹھا لایا ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔ صحیح بخاری اور حدیث و تفسیر کی دوسری کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مروی ہیں۔ لیکن اس جگہ غالبا وہ موقع مراد ہے جب آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے چندہ جمع کرنے کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

دعوت اسلامی اور اسلامی تحریکات کو نہایت ہی مضبوط ، نہایت ہی سلیم الفطرت اور نہایت ہی راست باز لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جن کے ارادے مصمم ہوں ، جو مشکلات کو انگیز کرنے والے ہوں ، دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونے والے ہوں اور ایک طویل اور پر مشقت جدوجہد کے لیے تیار ہوں۔ لیکن جب اسلامی تحریکات کی صفوں میں عیش پسند ، راحت طلب ، اور کمزور یقین کے لوگ گھس آئیں تو وہ مشکل وقت میں اس کی شکست کا باعث بنتے ہیں۔ مشکل وقت وہ اضطراب اور انتشار کا سبب بنتے ہیں۔ لہذا اس قسم کے لوگ جن سے تحریک کے دوران ضعف و کمزوری کا صدور ہوجائے ان کو تحریک سے دور پھینکنا چاہیے تاکہ مشکل اوقات میں وہ کمزوری اور انتشار کا باعث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 حضور ﷺ تبوک میں تھے اور منافقین مدینہ میں ممکن تھا کہ بعض منافقین آپ ﷺ کی واپسی سے قبل مرجائیں، اس لیے اِلٰی طآئفۃٍ مِّنْہُمْ " فرمایا۔ 2 یعنی اب اگر یہ لوگ کسی دوسرے غزوہ میں ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو فرما دیجئے کہ بس ! تمہاری ہمت و شجاعت کا بھانڈا پھوٹ چکا اور تمہارے دلوں کا حال پہلی مرتبہ کھل چکا، نہ تم کبھی ہمارے ساتھ نکل سکتے ہو اور نہ دشمنان اسلام کے مقابلہ میں بہادری دکھا سکتے ہو، لہذا اب تم کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں۔ عورتوں، بچوں، اپاہج اور ناتوان بڈھوں کے ساتھ گھر میں گھسے بیٹھے رہو اور جس چیز کو پہلی دفعہ تم نے اپنے لیے پسند کرلیا ہے مناسب ہے کہ اسی حالت پر مرو۔ تاکہ اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 83 فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآءِفَۃٍ مِّنْہُمْ مضمون سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ آیت مقام تبوک پر نازل ہوئی ہے۔ سورت کے اس دوسرے حصے کے پہلے چار رکوعوں چھٹے رکوع سے لے کر نویں رکوع تک کے بارے میں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ غزوۂ تبوک پر روانگی سے قبل نازل ہوئے تھے۔ ان کے بعد کی آیات مختلف مواقع پر نازل ہوئیں ‘ کچھ جاتے ہوئے راستے میں ‘ کچھ تبوک میں قیام کے دوران اور کچھ واپس آتے ہوئے راستے میں۔ فَاسْتَاْذَنُوْکَ لِلْخُرُوْجِ یعنی کسی مہم پر ‘ کسی اور دشمن کے خلاف آپ ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہونا چاہیں : فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا غزوۂ تبوک کی مہم میں تمہارا آخری امتحان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

98 منافقوں کے وعدے ناقابل اعتماد ہیں :۔ اس آیت میں منافقوں کی سیرت پر تبصرہ کیا گیا ہے یعنی جب آپ غزوہ تبوک سے واپس مدینہ پہنچیں گے تو جو منافق اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے آئندہ کسی جنگ میں آپ کا ساتھ دینے کے پرزور دعوے کریں گے تو آپ ان کے ایسے دل خوش کردینے والے اور زبانی دعوؤں کا قطعاً اعتبار نہ کیجئے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسا وقت آ بھی گیا تو یہ لوگ اس وقت بھی یہی کچھ کریں گے جو اس دفعہ کرچکے ہیں۔ یعنی پھر وہ جھوٹے بہانے تراش تراش کر آپ سے معذرت کرنے لگیں گے تو اس سے بہتر یہی ہے کہ ابھی سے انہیں پکی رخصت دے دو اور کہہ دو کہ تمہارے نصیب میں بس عورتوں اور بچوں کی طرح پیچھے رہنا ہی لکھا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

153 ۔ (تمہارے دل کا خبث اللہ نے مجھ پر روشن کردیا۔ اسی وحی الہی کے بھروسہ پر میں یہ وثوق سے کہہ رہا ہوں) (آیت) ” فاستاذنوک “۔ یہ ان کا اجازت طلب کرنا خوشامد وتملق کی راہ سے ہوگا۔ 154 ۔ (اس لئے کہ دل میں عزم بھی تمہارے اب بھی یہی ہے) الخالفین۔ یعنی وہ کل لوگ جو کسی عذر حقیقی کی بنا پر پیچھے رہ گئے، مثلا بیمار یا بوڑھے یا بچے یا عورتیں۔ اے المتخلفین لعدم لیاقتھم کالنساء والصبیان والرجال العاجزین وجمع المذکر للتغلب (روح) و تفسیر الخالف بالمتخلف ھو الماثور عن اکثر المفسرین السلف (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 81–89

آیت نمبر 81 تا 89 ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان رجعک اللہ الی طآئفۃٍ منھم فاستاذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابداً ولن تقاتلو معی عدوًا اب جب اللہ آپ کو (مدینہ میں) لوٹا کر ان (منافقوں) کے کسی گروہ تک پہنچا دے اور وہ آپ سے (آئندہ کسی اور جہاد میں نکلنے کی اجازت طلب کریں تو آپ ان سے کہہ دیں کہ تم لوگ کبھی میرے ساتھ نہیں نکلو گے نہ میرے ساتھ مل کر کسی دشمن سے لڑو گے۔ لَنْ تَخْرُجُوْا اور لَنْ تُقَاتِلُوْا خبری جملے ہیں لیکن نہی کے معنی میں ہیں ‘ کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے نہی کو بصورت خبر ذکر کیا ہے۔ انکم رضیتم بالعقود اول مرۃٍ فاقعدوا مع الخالفین۔ تم نے پہلی بار (یعنی تبوک کے موقع پر) بیٹھ رہنے کو پسند کیا (اور شریک نہ ہوئے) پس اب بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(83) اگر اللہ تعالیٰ آپ کو غزوۂ تبوک سے مدینہ منورہ ان منافقین کے کسی گروہ کے پاس واپس لائے اور وہ براہ خوشامد دوسرے جہاد پر آپ کے ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو آپ یہ فرما دیجیے کہ غزوہ تبوک کے بعد تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ چلو گے۔ تم نے غزوہ تبوک سے قبل ہی بیٹھنے کو پسند کیا، لہٰذا جہاد سے عورتوں اور بچوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْهُمْ : ”اگر اللہ تجھے ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے۔“ ”رَجَعَ“ لازم اور متعدی دونوں طرح آتا ہے، یعنی لوٹنا اور لوٹانا، یہاں متعدی کے معنی میں ہے۔ یعنی جو جنگ تبوک کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ گھروں میں بیٹھے رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو آئندہ انھیں اپنے ساتھ لے جانے اور اپنے ہمراہ لڑانے سے منع فرما دیا، اس لیے کہ ان کا اعتبار اٹھ گیا۔ جب وہ مشکل وقت میں ساتھ نہیں گئے تو آسان وقت میں بھی کیوں جائیں، جیسا کہ سورة فتح میں حدیبیہ کے لیے نہ جانے والے اعراب کو خیبر کی فتح میں شرکت سے منع فرما دیا۔ دیکھیے سورة فتح (11 تا 15) مگر وہاں ہمیشہ کے لیے منع…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 83۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) فان رجعک اللہ الی طائفۃ منھم یعنی پھر اگر لے جائے آپ کو اللہ تعالیٰ منافقین کے کسی گروہ کے پاس۔ بیشک فرمایا : (آیت) الی طائفۃ کیونکہ وہ تمام جو مدینہ طیبہ میں مقیم رہے وہ منافقین نہیں تھے، بلکہ ان میں معذور بھی تھے اور وہ بھی جن کا کوئی عذر نہ تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور ان کی توبہ قبول فرمالی، جیسا کہ وہ تین جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے۔ ان کا ذکرعنقریب آئے گا۔ (آیت) فاستاذنوک للخروج فقل لن تخرجوا معی ابدا یعنی ان کا انجام اور نتیجہ یہ ہے کہ آپ کبھی بھی انہیں ساتھ نہ ملائیں۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے سورة الفتح میں فرمایا : (آیت) قل لن تتبعونا (الفتح…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فان رجعک اللہ الی طآ ئفۃ منہم “ ہم کو ذکر کیا گیا کہ وہ منافقین بارہ آدمی تھے۔ اور اس میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ انہی کے بارے میں کہا گیا۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں آپ بتائیے اگر آپ نکلتے تو بھی آپ کے ساتھ نکلنے کی اجازت مانگتے آپ فرما دیجئے تم ہرگز میرے ساتھ نہیں نکلوگے۔ 3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاقعدوا مع الخلفین “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو (جنگ) جانے سے پیچھے رہ گئے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنْ [ پس اگر ] رَّجَعَكَ [ لوٹائے آپ کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اِلٰى طَاۗىِٕفَةٍ [ کسی گروہ کی طرف ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] فَاسْتَاْذَنُوْكَ [ پھر وہ اجازت مانگیں آپ سے ] لِلْخُرُوْجِ [ نکلنے کے لیے ] فَقُلْ [تو آپ کہیں ] لَّنْ تَخْرُجُوْا [ تم لوگ ہرگز مت نکلو ] مَعِيَ [ میرے ساتھ ] اَبَدًا [ کبھی بھی ] وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا [ اور تم لوگ ہرگز جنگ مت کرو ] مَعِيَ [ میرے ساتھ (مل کر ) ] عَدُوًّا ۭ [ کسی دشمن سے ] اِنَّكُمْ [ بیشک تم لوگ ] رَضِيْتُمْ [ راضی ہوئے ] بِالْقُعُوْدِ [ بیٹھ رہنے پر ] اَوَّلَ مَرَّةٍ [ پہلی مرتبہ ] فَاقْعُدُوْا [ پس تم لوگ بیٹھو ] مَعَ الْخٰلِفِيْنَ [ پیچھے رہنے والوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآءِفَۃٍ مِّنْھُمْ ) (الآیۃ) یعنی اگر اللہ آپ کو غزوۂ تبوک کے سفر سے ان کے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائیں جو آپ کے واپس پہنچنے تک مدینہ میں موجود ہوں اور پھر آپ کو کسی دوسرے موقعہ پر جہاد کے لیے جانا ہو اور یہ لوگ ہمراہ چلنے کی اجازت مانگیں تو آپ ان سے فرما دیں کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ جہاد میں نہ چلو گے اور نہ میرے ہمراہ کسی دشمن سے لڑو گے۔ یعنی میں تمہیں ہرگز ساتھ نہ لے جاؤں گا۔ چونکہ تم نے پہلے بیٹھے رہنے کو پسند کیا تھا لہٰذا اب بھی ان لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو پیچھے رہ جانے کے لائق ہیں (یعنی بوڑھے بچے اور عورتیں) تم انہیں میں رہو۔ وہ معذوری کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–84

تفصیل جرائم منافقین قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔ (ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

79:“ فَاِنْ رَّجَعَکَ الخ ” اس میں بھی ان منافقین کا ذکر ہے جو غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ منافقین کی شرارتوں اور ان کی عداوت اور دشمنی کو واشگاف کرنے کے بعدحضور ﷺ سے فرمایا کہ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں ہیں کہ آپ کی صحبت میں رہیں لہذا جب آپ بخیر و عافیت مدینہ واپس پہنچ جائیں اور اس کے بعد کوئی جنگ درپیش ہو اور یہ منافقین اس میں شریک ہونے کے لیے آپ سے اجازت مانگیں تو آپ ان کو غزوہ میں شریک ہونے کی ہرگز اجازت نہ دیں اور صاف فرمادیں کہ اب کبھی بھی تم ہمارے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوسکتے۔ بس اب گھروں ہی میں بیٹھے رہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 81–84

ربط آیات : گذشتہ دروس میں اللہ نے جہاد کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان فرمائی پھر ان کی قبیح صفات بدعہدی اور جھوٹ کا ذکر کیا۔ گذشتہ آیا ت میں منافقوں کی اس خصلت کو بیان کیا کہ وہ لوگ اپنی خوشی خاطر سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو تنقید کانشانہ بناتے ہیں۔ کوئی شخص اپنی حیثیت کے مطابق تھوڑا خرچ کرے یا زیادہ ، منافق ہر حالت میں ان پر اعتراض ہی کرتے تھے۔ پھر اللہ نے اپنے نبی (علیہ السلام) سے فرمایا ، کہ آپ ان منافقوں کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ، ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے بدطینت لوگوں کو نہ بخشنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جہاد سے گریز : اب آج کی آیات میں اللہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللہُ اِلٰى طَاۗىِٕفَۃٍ مِّنْہُمْ فَاسْـتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِيَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِيَ عَدُوًّا۝ 0 ۭ اِنَّكُمْ رَضِيْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِيْنَ۝ 83 رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ یعنی جہاد سے آپ اے پیغمبر ! اگر صحیح وسالم ان منافقوں کے پاس واپس آویں اور یہ آپ کے ساتھ جانے کی اجازت مانگیں تو آپ اجازت نہ دیں۔ 12 منہ 1 ؎ حوائف خائف کی جمع گھر کی بیٹھنے والی عورتوں کو خوائف کہا کرتے ہیں کیونکہ یہ خلف یعنی بعد مردوں کے گھروں میں رہتی ہیں جبکہ وہ باہر چلے جاتے ہیں۔ 12 حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنْھُمْ فَاسْتَاْذَنُوکَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّاط اِنَّکُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ (التوبۃ : 83) (پس اگر اللہ تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف پلٹائے اور وہ تم سے جہاد کے لیے نکلنے کی اجازت مانگے تو کہہ دیجیے ! تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکل سکتے اور میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے نہیں لڑ سکتے۔ تم پہلے بیٹھ رہنے پر راضی ہوئے تو اب بھی پیچھے بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھو۔ ) منافقین کی آرزو کی ناکامی اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے چند باتیں ذہنی افق…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کا ذکر جاری ہے۔ منافقین کو چھوڑجانے کی وجہ یہ بھی تھی کیونکہ وہ خود جھوٹے بہانوں کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہنا چاہتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مبارکہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران نازل ہوئی جس میں ایک طرف رسول اکرم ﷺ کو یہ خوشخبری سنائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب اور بامراد مدینہ واپس لائے گا اور دوسری طرف یہ ہدایت کی گئی جب آپ مدینہ تشریف لائیں تو منافقین کا ایک گروہ آپ کی خدمت میں آکر یہ کہے گا آئندہ ہمیں بھی ضرور اپنے ساتھ جہاد کے لیے لے جائیے صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ تبوک کے محاذ سے حقیقی مجبوری کی وجہ سے ہم پیچھے رہے ہیں ورنہ ہم جہاد سے جی کترانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 83: فَاِنْ رَّجَعَکَ اللّٰہُ (پس اگر اللہ تعالیٰ آپ کو واپس لائے) اللہ تعالیٰ آپ کو تبوک سے واپس لے جائینگے۔ اِلٰی طَآپفَۃٍ مِّنْھُمْ (انکے کسی گروہ کی طرف) یہاں طائفہ فرمایا اسلئے کہ بعض نے توبہ کرلی اور بعض طبعی موت مرگئے۔ فَاسْتَاْذَنُوْکَ لِلْخُرُوْجِ (پھر یہ لوگ نکلنے کی اجازت مانگیں) غزوئہ تبوک کے بعد والے غزوہ میں فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اََبَدًا (تو آپ فرما دیں کہ تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ نکلو گے) قراءت : حمزہ، علی، ابوبکر نے یا کے سکون سے یخرجوا پڑھا ہے۔ وَّلَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا (اور نہ میرے ساتھ مل کر کسی دشمن سے لڑوگے) حفص نے مَعِیَ پڑھا۔ اِنَّکُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر :83” فان رجعک اللہ “ یعنی اے محمد ﷺ آپ کو غزوہ تبوک سے واپس کردیں۔” الی طائفۃ منھم “ پیچھے رہ جانے والوں کی ایک جماعت کی طرف کیونکہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تمام لوگ منافق نہ تھے “ فاستاذنوک للخروج “ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ دوسرے غزوہ میں ” فقل لن تخرجوا معی ابدا “ سفر میں۔” ولن تقاتلوا معی عدوا انکم رضیتم بالقعود اول مرۃ فاقعدوا مع الخلفین “ یعنی عورتوں اور بچوں کے ساتھ اور بعض نے کہا مریضوں اور اپاہجوں کے ساتھ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ جو بغیر عذر کے پیچھے رہ گئے۔ اور کہا گیا ہے کہ خالفین کے ساتھ قراء فرماتے ہیں صاحب خالف اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی مخالف ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

83۔ آنحضرت ﷺ جب سفر ہی میں تھے تو اللہ پاک نے یہ حکم دیا کہ جب آپ مدینہ میں واپس ہو کر پہنچیں اور پھر کبھی دوبارہ کسی جہاد میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہ بارہ منافق جو مدینہ میں ہیں وہ اور اس تبوک کے سفر میں شریک نہ ہوئے گھروں میں بیٹھ رہے اگر یہ لوگ آئندہ کہنے لگیں کہ اس مرتبہ ہم چلیں گے تو ان سے کہہ دو کہ تم نے تو پہلی مرتبہ گھروں میں بیٹھ رہنا پسند کیا اب تم کبھی ہمارے ساتھ جہاد میں نہیں جاسکتے ہو اور نہ کسی دشمن سے لڑائی کرسکتے ہو تم تو بس انہیں معذور لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو جہاد میں شریک ہونے سے مجبور ہیں بیمار ہیں یا کوئی اور عذر رکھتے ہیں مفسروں نے الیٰ طائفۃ کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 81–83

آیت 83 اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (فرح المخلفون بمقعدھم خلف رسول اللہ) ” خوش ہوگئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر “ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے، کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزادیہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ (وکرھو ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ) ” اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 80–83

منافق پر نماز جنازہ کی ممانعت قول باری ہے استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن بغفر اللہ لھم ۔ اے نبی ! تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کردیا نہ کرو ، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی طرف ان کے لیے معافی کی درخواست ان کی بخشش کی موجب نہیں ہوگی ۔ پھر فرمایا ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم ستر کا ذکر بخشش سے مایوس کردینے میں مبالغہ کے طورپر ہوا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں ستر سے زائد مرتبہ انکے لیے معافی کی درخواست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 83–84

168 بدنیتی اور دوں ہمتی کے باعث محرومی کا ٹھپہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ چونکہ تم لوگوں نے پیچھے بیٹھ رہنے کو پسند کیا پہلی مرتبہ۔ سو اب تم لوگ پیچھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ یعنی بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور عورتوں کے ساتھ کہ تمہاری بدنیتی، بےہمتی، کور باطنی اور سوئِ اختیار کا صلہ وثمرہ یہی ہے۔ سو انسان کی بدنیتی اور اس کی دوں ہمتی اس کو اس حد تک پہنچا دیتی ہے کہ اس پر محرومی اور حرماں نصیبی کا ٹھپہ لگ جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کیلئے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر اللہ آپ کو واپس لوٹا کر ان میں سے کسی گروہ کے پاس پہنچادے اور یہ لوگ آئندہ کبھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 81–83

منافق کی پہچان اور ان سے قطع تعلق تشریح : پچھلی آیات سے منافقین کا سلسلہ چل رہا ہے یہاں بھی انہی کا ذکر ہے اور اسلامی فوج کو یہ نکتہ سمجھایا جا رہا ہے کہ منافقین سے مدد لینا بڑی حماقت ہے کیونکہ یہ لوگ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ ہوتے ہیں یہ بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں اس لیے اپنی فوج کو ان سے ہوشیار رہنے کی اور آپس میں متحد رہنے کی پوری ٹریننگ دو کیونکہ یہ نہ تو مخلص ہیں اور نہ ہی جہاد کی تکلیف برداشت کرسکتے ہیں غزوئہ تبوک کا واقعہ ہوچکا ہے بلکہ یہ تو دوسروں کو بھی ترغیب دیتے رہے کہ بھئی اتنی گرمی ہے مت نکلو جہاد کے لئے۔ ان لوگوں کو کیا معلوم کہ اطاعت رسول ﷺ اور محبت الٰہی میں جان و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 81–89

آیات 81 تا 89 اسرار و معارف نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 82–83

ف 1 جو جنگ تبوک کے لیے نہیں نکلے تھے بلکہ گھروں میں بیٹھے رہے تھے۔2 یعنی ان لوگوں کے ساتھ جو بےعذار گھروں میں رہ گئے یا معذور کے ساتھ جیسے عورتیں، بچے، بوڑھے، بیمار، اپاہج، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : یہ جو فرمایا کہ اگر پھر لے جاوے اللہ کسی کو فرقہ کی طرف وہ اس واسطے کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ مدینہ میں منافق تھے اور فرقے اس واسطے فرمایا کہ بعض پیچھے مرگئے اور سب بیٹھنے والے منا فق نہ تھے۔ بعض مسلمان بھی تھے۔ کہ ان کی تقصیر معاف ہوئی۔ ( مو ضح )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

رجعک اللہ۔ اللہ تجھے واپس لیجائے۔ امام رازی کے قول کے مطابق الرجع مصیر الشی الی المکان الذی کان فیہ الرجع کسی شے کا اس جگہ کی طرف لوٹتا ہے جہاں وہ پہلے تھی۔ اس صورت میں جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر خدا تمہیں واپس مدینہ لیجائے۔ رجع متعدی ہے اور رجوع لازم ہے گردان ہر دو کی باب ضرب سے آتی ہے۔ الی طائفۃ منھم۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع وہ مخلفون ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ طائفۃ۔ گروہ۔ جماعت۔ ان مخلفون کے دو گروہ بنا دئیے۔ ایک وہ جس کا ذکر فاستاذنوک سے شروع ہونے والا ہے اور دوسرا جس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مؤخر الذکر گروہ میں وہ شامل ہیں جنہوں نے معقول و جو ہات کی بنا پر جہاد میں شرکت نہ کی لیکن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 83 رجعک (تجھے لوٹائے ) استاذنوک (وہ تجھ سے اجازت مانگیں) لن تخرجوا (تم ہرگز نہ نکلو گے) معی (میرے ساتھ) ابداً (ہمیشہ) رضیتم (تم راضی ہوگئے) افعدوا (تم بیٹھے رہو) الخلفین (پیچھے رہ جانے والے) تشریح : آیت نمبر 83 غزوہ تبوک جو بہت اہم غزوہ تھا اس میں جو منافین حیلے بہانے کر کے اس بات پر خوش ہو رہے تھے کہ ہماری جان چھوٹ گئی ان کے متعلق مسلسل آیات میں وعیدیں آرہی ہیں تاکہ قیامت تک اب کسی کو اللہ اور رسول ﷺ کے مقابلے میں کسی حیلے بہانے کی جرأت نہ ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ اے نبی ﷺ آپ ان منافقین سے کہہ دیجیے کہ اب جہاد و قتال کا موقع آئے گا تو تمہیں اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

منافقین کو جہاد میں نہ شریک کرنے کا حکم آنحضرت ﷺ جب سفر ہی میں تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ جب آپ مدینہ میں واپس ہوکر پہنچیں اور پھر کبھی دوبارہ کسی جہاد میں جانے کا اتفاق ہو اور وہ بارہ منافق جو اس تبوک کے سفر میں شریک نہ ہوئے گھروں میں بیٹھ رہے اگر یہ لوگ آئندہ کہنے لگیں کہ اس مرتبہ ہم چلیں گے تو ان سے کہ دو کہ تم نے پہلی مرتبہ گھروں میں بیٹھ رہنا پسند کیا اب تم کبھی ہمارے ساتھ جہاد میں نہیں جاسکتے ہو اور نہ کسی دشمن سے لڑائی کرسکتے ہو تم تو بس انہیں معذور لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–94

[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 82–83

رونا سزا ہے ! (ف 2) یعنی منافقین کو چاہئے کہ اپنی ناکامیوں پر ماتم کریں ، اور روئیں کیونکہ اسلام باوجود ان کی مخالفت کے کامیاب رہا ہے اور مسلمان ان کے مزعومات کے علی الرقم بڑھتے ہی چلے گئے ، یہ محرومی وبدبختی ان کے اعمال کی سزا ہے ۔ بعض نادان لوگ جو سال مین ایک دفعہ خوب رونا اور ماتم کرنا موجب ثواب تصور کرتے ہیں ، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام مسرت و طمانیت کا مذہب ہے ، اس طرح رونے کی محفلیں منعقد کرنا عذاب الہی ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

83 بس اب اگر آپ کو اللہ تعالیٰ صحیح سالم ان کے کسی گروہ کی طرف جہاد سے واپس لائے پھر یہ لوگ اپنے پر سے الزام ہٹانے کو آپ سے کبھی جہاد میں نکلنے کی اجازت مانگیں تو آپ ن سے اس وقت یہ فرمادیں کہ تم میرے ساتھ کبھی بھی نہ چلوگے اور نہ تم میرے ہمراہ ہوکر کبھی کسی دشمن سے لڑوگے کیونکہ تم نے پہلی مرتبہ بھی گھر میں بیٹھ رہنے کو پسند کیا لہٰذا اب بھی تم انہیں لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو حقیقت میں پیچھے رہ جانے کے قابل ہیں۔ یعنی تم دنیا سازی اور گلہ مٹانے کو یہ باتیں کہہ رہے ہو ورنہ تمہارا عزم اور ارادہ جہاد کا نہیں ہے اور نہ جہاد کے لئے نکلنا چاہتے ہو لہٰذا تم بھی عورتوں، بڈھوں، بیماروں وغیرہ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 82–83

ف 1۔ یعنی ہنسنا تھوڑے دنوں کا ہے پھر رونا ہمیشہ ہمیشہ کا ہے۔ فلیضحکوا گوصیغہ امر کا ہے مگر مراد اس سے خبر ہے اور مقصود مرتب کرنا مجموعہ ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب آپ لوٹ کر واپس آئیں گے تو یہ لوگ آئندہ شامل ہونے کے وعدے کریں گے : 110: زیر نظر آیت ایک پیش گوئی کے طور پر کہی گئی جو بالکل سچ ثابت ہوئی۔ فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! جب آپ لوٹ کر مدینہ واپس جائیں گے تو یہ اجازت طلب کرنے والے آپ کے پاس لوٹ کر آئیں گے اور کہیں گے کہ اس سفر میں تو ہم ان حالات کے تحت ساتھ نہ دے سکے لیکن آئندہ اگر ایسا موقع آیا تو ہم صف اول میں ہوں گے اور ان کا ایسا کہنا محض آپ کو خوش کرنے کے لئے ہوگا ان کی نیت میں جہاد کرنا مطلق نہیں ہے اس لئے آپ ان سے واضح الفاظ میں کہہ دیجئے کہ پہلے تم نے جان بوجھ کر میری دعوت کو قبول نہیں کیا اور اب تمہیں بطور سزا جہاد کی توفیق سے محروم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The statement: لَّن تَخْرُ‌جُوا (Ian takhruju ... you shall never march) in the second verse (83) has been explained by Maulana Ashraf ` Ali Thanavi (رح) in the summary of his Tafsir Bay-an a1-Qur'an. According to him, ` even if these people intend to participate in a future Jihad, they would get out of it when they want to, under one or the other pretext; and since they do not have faith in their heart, their intention too will not be backed by sincerity. Therefore, the Holy Prophet ﷺ was commanded that, even if they want to take part in a Jihad, he should tell them the truth that he does…

Read the full tafseer →