Explained with ayahs 81–82
جہنم کی آگ کالی ہے
جو لوگ غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے۔ جنہیں راہ اللہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے ؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے۔ یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
سورة التَّوْبَة 87
غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ روکے بیٹھے رہے۔ مگر جب مخلص اہل ایمان بڑھ بڑھ کر چندے دینے لگے تو ان لوگوں نے ان پر باتیں چھانٹنی شروع کیں۔ کوئی ذی استطاعت مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق یا اس سے بڑھ کر کوئی بڑی رقم پیش کرتا تو یہ اس پر ریاکاری کا الزام لگاتے، اور اگر کوئی غریب مسلمان اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر کوئی چھوٹی سے رقم حاضر کرتا، یا رات بھر محنت مزدوری کر کے کچھ کھجوریں حاصل کرتا اور وہی لا کر پیش کردیتا، تو یہ اس پر آوازے کستے کہ لو، یہ ٹڈی کی ٹانگ بھی آگئی ہے تاکہ اس سے روم کے قلعے فتح کیے جائیں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
یہ پیچھے رہ جانے والے خوش ہوگئے رسول اللہ ﷺ کے (جانے کے) بعد اپنے بیٹھے رہنے پر اور ان کو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنا ناگوار ہوا (دو وجہ سے اول کفر دوسرے آرام طلبی) اور (دوسروں کو بھی) کہنے لگے کہ تم (ایسی تیز) گرمی میں (گھر سے) مت نکلو آپ (جواب میں) کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ (اس سے بھی) زیادہ (تیز اور) گرم ہے (سو تعجب ہے کہ اس گرمی سے تو بچتے ہو اور جہنم میں جانے کا خود سامان کر رہے ہو، کہ کفر و مخالفت کو نہیں چھوڑتے) کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجہتے، سو (ان امور مذکورہ کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں (تھوڑے دنوں ہنس (کھیل) لیں اور (پھر آخرت میں) بہت دنوں (یعنی ہمیشہ)…
Read the full tafseer →آیات 81 تا 89 کا مضمون : غزوہ تبوک کے موقع پر جو منافقین بہانے بنا کر گھروں میں بیٹھ رہے اور اپنی فریب کاری پر بہت خوش تھے ان کے باب میں یہ آیات عین میدان جنگ میں نازل ہوئی۔ سیاق وسباق بالکل واضح ہے۔
فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَكَرِهُوْٓا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ۔۔
مخلفون سے مراد : ’ مخلف ‘ کے معنی ہیں وہ جو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ مخلفون سے یہاں ان لوگوں کو مراد لیا گیا ہے جو جھوٹے عذرات پیش کر کے تبوک کی مہم…
Read the full tafseer →81۔ 1 یہ منافقین کا ذکر ہے جو تبوک میں نہیں گئے اور جھو ٹے عذر پیش کر کے اجازت حاصل کرلی۔ خلاف کے معنی ہیں پیچھے یا مخالفت۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے جانے کے بعد آپ کے پیچھے یا آپ کی مخالفت میں مدینہ میں بیٹھے رہے۔
81۔ 2 یعنی اگر ان کو یہ علم ہوتا کہ جہنم کی آگ کی گرمی کے مقابلے میں، دنیا کی گرمی کوئی حیثیت نہیں رکھتی، تو وہ کبھی پیچھے نہ رہتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کا 70 واں حصہ ہے۔ یعنی جہنم کی آگ کی شدت دنیا کی آگ سے 69 حصے زیادہ ہے (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
67: آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو صدقات نکالنے کی ترغیب دی تو ہر مخلص مسلمان نے اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ لا کر پیش کیا، منافقین خود تو اس کار خیر میں کیا حصہ لیتے، مسلمانوں کو طعنے دیتے رہتے تھے۔ اگر کوئی شخص زیادہ مال لے کر آتا تو کہتے کہ یہ تو دکھاوے کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور اگر کوئی غریب مزدور اپنے گھاڑھے پسینے کی کمائی سے کچھ تھوڑا سا صدقہ لے کر آتا تو منافقین اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ یہ کیا چیز اٹھا لایا ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔ صحیح بخاری اور حدیث و تفسیر کی دوسری کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مروی ہیں۔ لیکن اس جگہ غالبا وہ موقع مراد ہے جب آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے چندہ جمع کرنے کی…
Read the full tafseer →اب سیاق کلام ایک بار پھر ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو رسول اللہ سے پیچھے رہ گئے تھے یعنی غزوہ تبوک کے اہم مرحلے میں۔
یہ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے ان سے یہ جرم دنیا پرستی کی وجہ سے سرزد ہوا۔ انہوں نے آرام اور راحت کو پسند کیا۔ انہوں نے انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کی۔ کم ہمتی اور بےحمیتی اور بےایمانی اور دلی کمزور نے ان کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ یہ موقف اختیار کریں۔ ان کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ بھی نہایت ہی حقارت امیز ہے یعنی یہ کوئی سامان ہے جو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ کو چھوڑ کر اس کے مقابلے میں امن و سکون اور عیش و راحت کو قبول کیا۔ انہوں نے رسول اللہ…
Read the full tafseer →4 یہ ان منافقین کے متعلق ہے جو غزوہ تبوک کی شرکت سے علٰیحدہ رہے۔ یعنی منافقین کا حال یہ ہے کہ برائی اور عیب کا کام کر کے خوش ہوتے ہیں، نیکی سے گھبرا کر دور بھاگتے ہیں۔ اور جیسا کہ پہلے گزرا نیکی کرنے والوں پر طعن کرتے اور آوازے کستے ہیں۔ ایسی قوم کو نبی کے استغفار سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہاں سے گنہگار اور بد اعتقاد کا فرق نکلتا ہے۔ گناہ ایسا کونسا ہے جو پیغمبر کے بخشوانے سے نہ بخشا جائے۔ (وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَاۗءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا) 4 ۔ النسآء :64) لیکن بد اعتقاد کو پیغمبر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت 81 فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَرِہُوْٓا اَنْ یُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَالُوْا لاَ تَنْفِرُوْا فِی الْْحَرِّ ط
یہ لوگ خود بھی اللہ کے رستے میں نہ نکلے اور دوسروں کو بھی روکنے کی کوشش میں رہے کہ ہم تو رخصت لے آئے ہیں ‘ تم بھی ہوش کے ناخن لو ‘ اس قدر شدید گرمی میں سفر کے لیے مت نکلو۔
Read the full tafseer →96 منافقوں کا غزوہ تبوک میں شامل ہونے والوں کی حوصلہ شکنی :۔ منافق بظاہر تو اللہ اور رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن اس دعویٰ کی تصدیق کے لئے جن اعمال صالحہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان میں مفقود تھے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے نہ ان کے دعوؤں کو قابل اعتبار سمجھا اور نہ ان کی قسموں کو۔ اسی وجہ سے متعدد مقامات پر انہیں جھوٹا کہا اور بعض دوسرے مقامات پر کافر قرار دیا ور کہیں دونوں صفات کو ملا کر بیان کیا۔ اپنے دعوٰی کے خلاف اعمال میں سے ہی ایک یہ تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ تو اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کرتے ہی نہ تھے اور جو جاتے تھے وہ بھی بادل نخواستہ جاتے تھے تاکہ مسلمان انہیں منافق نہ سمجھنے…
Read the full tafseer →149 ۔ (جب کہ آپ ﷺ غزوہ تبوک پر روانہ ہوچکے) حاشیہ اوپر گزر چکا۔ (آیت) ” المخلفون “۔ اس کے لفظی معنی ہیں ” وہ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے “ رہ جانے والے وہ منافقین ہیں جنہوں نے طرح طرح کے جھوٹے عذر تراش کر کے پیچھے رہ جانے کی اجازت حاصل کرلی تھی، (آیت) ” خلف “۔ کے معنی بعد کے ہیں۔ اے خلفہ (کشاف) بمعنی بعد وخلف “۔ (روح) قال الاخفش ان خلاف بمعنی خلف وان یونس رواہ عن عیسیٰ بن عمر ومعناہ بعد رسول اللہ (کبیر) لیکن دوسرے معنی ” مخالفت میں “ کے بھی ہیں۔ قیل ھو بمعنی المخالفۃ (کشاف وروح) یعنی مخالفۃ لرسول اللہ ﷺ (کبیر عن قطرب والزجاج)
150 ۔ یہ منافقین آپس میں ایک دوسرے سے کہتے تھے۔ غزوۂ تبوک کا زمانہ شدید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیت نمبر 81 تا 89
ترجمہ : غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑے گئے لوگ رسول اللہ ﷺ کے (نکلنے) کے بعد اپنے (گھروں) میں بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، اور انہیں یہ بات ناگوار گذری کہ وہ اپنی جان ومال سے اللہ کے راستہ میں جہاد کریں، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ تبوک کی گرمی سے زیادہ سخت ہے لہٰذا بہتر ہے کہ تم ترک تخلف کر کے اس آگ سے بچو، اگر وہ اس حقیقت کو سمجھتے (تو غزوہ میں شرکت سے) پیچھے نہ رہتے، تھوڑے دنوں دنیا میں ہنس لیں آخرت میں بہت روئیں گے اور یہ رونا ان کے اعمال کی بدولت ہوگا یہ (خبر) بصیغہ امران کی حالت کی خبر ہے پس اگر اللہ آپ کو…
Read the full tafseer →فرح المخلفون بمقعدھم خلف رسول اللہ (غزوۂ تبوک سے) رسول اللہ کے پیچھے بیٹھ رہنے والے اپنے اس بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے (یعنی جو لوگ ساتھ لے جانے سے چھوڑ دئیے گئے ‘ وہ خوش ہوئے) ۔
ابو عبیدہ نے کہا : خلاف کا معنی ہے پیچھے ‘ یعنی بعد رسول اللہ ﷺ کے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلافکا معنی (اس جگہ) مخالفت ہے ‘ اس صورت میں یہ خوش ہونے کی علت کا اظہار ہوگا یعنی جن لوگوں کو ساتھ لے جانے سے چھوڑ دیا گیا ‘ وہ اسلئے خوش ہوئے کہ وہ رسول ﷺ کے مخالف تھے۔
وکرھوآ ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اور ان کو مال و جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ناگوار تھا۔ اس جملہ میں مسلمانوں کی درپردہ تعریف ہے جنہوں نے اللہ کی…
Read the full tafseer →(81) منافقین غزوہ تبوک میں نہ جاکر رسول اکرم ﷺ کے بعد خوش ہوگئے ان کو اطاعت خداوندی میں جہاد کرنا ناگوار ہوا اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ایسی سخت گرمی میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے مت جانا، آپ ان منافقوں سے فرما دیجیے کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ تیز اور گرم ہے، کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجھتے اور اس کی تصدیق کرتے۔
شان نزول : (آیت) فرح المخلفون“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کو اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا اور یہ گرمی کا زمانہ تھا ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ گرمی بہت سخت ہے اور ہم ایسی گرمی میں چلنے کی طاقت نہیں لہٰذا اس سخت گرمی میں نہ نکلیے،…
Read the full tafseer →فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ : منافقین کے مختلف احوال اور ان کی سازشوں اور منصوبوں کے طویل ذکر کے بعد اب خصوصاً ان منافقین کا ذکر شروع ہوتا ہے جو جنگ تبوک میں نبی ﷺ کے ساتھ نہ گئے بلکہ جھوٹے عذر پیش کرکے اجازت لی اور مدینہ منورہ میں ٹھہرے رہے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ”الْمُخَلَّفُوْنَ“ کا لفظ استعمال کیا ہے ”وہ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے“ یعنی وہ خوش نہ ہوں کہ یہ ان کا کارنامہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے اور آرام کے ساتھ مدینہ کے اندر گھروں میں رہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھیں اللہ کی طرف سے جانے کی توفیق ہی نہیں ملی اور وہ اس کی جناب سے دھکیلے ہوئے پیچھے چھوڑ دیے گئے۔ ان کی حیثیت اس ردی سامان کی ہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 81۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) فرح المخلفون بمقعدھم یعنی اپنے بیٹھے رہنے کے سبب پیچھے چھوڑے جانے والے خوش ہوگئے۔ قعد قعودا ومقعدا اس کا معنی ہے وہ بیٹھا۔ واقعدہ غیرہ اور اسے کسی دوسرے نے بٹھا دیا۔ یہ جوہری سے مروی ہے اور المخلف کا معنی متروک (چھوڑا گیا) ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں پیچھے چھوڑدیا اور انہیں کمزور کردیا یارسول اللہ ﷺ اور مومنین نے پیچھے چھوڑ دیا جب انہوں نے ان کے جہاد پر نکلنے میں اور دیر اور سستی کا جان لیا۔ یہ دو قول ہیں : اور یہ غزوئہ تبوک کے وقت ہوا (1) (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 88) ۔ (آیت) خلف رسول اللہ یہ مفعول من اجلہ ہے۔ اور اگر چاہیں تو مصدر بنا لیں۔ اور خلاف بمعنی…
Read the full tafseer →جہنم کی آگ بہت زیادہ گرم ہے :
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” بمقعدہم خلف رسول اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ غزوہ تبوک سے (ان کا پیچھے رہ جانا)
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا یعنی وہ لوگ جن کو پیچھے چھوڑ دیا گیا اس طرح پر کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی روانگی کے بعد (گھروں میں) بیٹھے رہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن ابی شیبہ ابو رزین سے اسی طرح روایت کیا جعفر بن محمد (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ تبوک کا آخری غزوہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ خود تشریف لے گئے۔ اور یہی غزوہ الحر…
Read the full tafseer →فَرِحَ [ خوش ہوئے ] الْمُخَلَّفُوْنَ [ پیچھے چھوڑے ہوئے لوگ ] بِمَقْعَدِهِمْ [ اپنے بیٹھ رہنے پر ] خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول کے پیچھے ] وَكَرِهُوْٓا [ اور انھوں نے ناپسند کیا ] اَنْ [ کہ ] يُّجَاهِدُوْا [وہ جہاد کریں ] بِاَمْوَالِهِمْ [ اپنے مالوں سے ] وَاَنْفُسِهِمْ [ اور اپنی جانوں سے ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] وَقَالُوْا [اور انھوں نے کہا ] لَا تَنْفِرُوْا [ تم لوگ مت نکلو ] فِي الْحَرِّ ۭ [ گرمی میں ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] نَارُ جَهَنَّمَ [ جہنم کی آگ ] اَشَدُّ [ سب سے سخت ہے ] حَرًّا ۭ [ بلحاظ گرمی کے ] لَوْ [ کاش ] كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ [ وہ لوگ سمجھتے ہیں…
Read the full tafseer →منافقین کا اس پر خوش ہونا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ گئے
ان آیات میں بھی منافقین کی مذمت ہے جو غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے آپ تشریف لے گئے اور یہ لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے رہ گئے۔ ان کو پیچھے رہ جانے پر کوئی افسوس نہیں تھا بلکہ خوشیاں منا رہے تھے کہ اچھا ہوا ہم نہ گئے۔ انہوں نے آپ کے ہمراہ نہ جانے پر خوشی منائی اور انہیں یہ نا گوار ہوا کہ اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ اپنے گھروں میں بیٹھے رہ جانے پر افسوس تو کیا ہوتا دوسروں کو بھی جانے سے روک رہے تھے اور یوں کہہ رہے تھے کہ گرمی میں مت نکلو۔ ایسی سخت گرمی میں جانے کا موقعہ نہیں ہے۔ انہوں نے دنیا کی گرمی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–84
تفصیل جرائم منافقین
قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔
(ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں
نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں
ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…
Read the full tafseer →76:“ فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ الخ ”“ اَلْمُخَلَّفُوْنَ ” یعنی ان کو اللہ نے پیچھے چھوڑ دیا اور جہاد میں شریک ہونے کی ان کو توفیق نہ دی۔ “ اي خلفھم اللہ و ثبطھم ” (قرطبی ج 8 ص 216) ۔ حضرت شیخ نے فرمایا “ اي المخلفون بقھر اللہ ” اس سے وہ منافقین مراد ہیں جو جنگ تبوک میں عمداً شریک نہ ہوئے۔ “ مَقْعَد ” مصدر میمی ہے جو منافقین غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے وہ بہت خوش تھے کہ شدت گرما میں وہ سفر کی تکلیفوں اور صعوبتوں سے بچ گئے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنے کو ناپسند کیا۔ “ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ ” منافقوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا یا انہوں نے مومنوں کو بد دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اللہ نے جہاد کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان فرمائی پھر ان کی قبیح صفات بدعہدی اور جھوٹ کا ذکر کیا۔ گذشتہ آیا ت میں منافقوں کی اس خصلت کو بیان کیا کہ وہ لوگ اپنی خوشی خاطر سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو تنقید کانشانہ بناتے ہیں۔ کوئی شخص اپنی حیثیت کے مطابق تھوڑا خرچ کرے یا زیادہ ، منافق ہر حالت میں ان پر اعتراض ہی کرتے تھے۔ پھر اللہ نے اپنے نبی (علیہ السلام) سے فرمایا ، کہ آپ ان منافقوں کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں ، ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے بدطینت لوگوں کو نہ بخشنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
جہاد سے گریز :
اب آج کی آیات میں اللہ…
Read the full tafseer →فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِہِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللہِ وَكَرِہُوْٓا اَنْ يُّجَاہِدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ 0 ۭ قُلْ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا 0 ۭ لَوْ كَانُوْا يَفْقَہُوْنَ 81
فرح
الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ،
(ر ح ) ا لفرح
کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ترکیب : الذین الخ مبتداء من المومنین المطوعین کابیان۔ فی الصدقات متعلق ہے یلمزون سے۔ والذین مبتداء فیسخرون خبر جملہ معطوف ہے اول الذین پر سخر اللّٰہ منہم خبر سبعین منصوب علی المصدر والعدد یقوم مقام المصدر کقولک ضربۃ عشرین ضربتہ قلیلا وکثیرا صفت ہے مصدر محذوف کی۔
تفسیر : ان آیات میں منافقین کی عادت و طعنہ زنی کو بیان کرتا ہے کہ جو اہل اسلام مقدور والے ہیں ان پر بھی طعن کرتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں اور جو مفلس اور مزدور اپنی مزدوری میں سے صدقہ دیتے ہیں ان پر بھی ہنستے ہیں۔ غزوہ تبوک کے لئے جب تیاری کا حکم دیا اور لوگوں کو اس میں مال و زر سے مدد دینے کی ترغیب دی تو عبدالرحمن بن عوف ؓ چار ہزار درہم…
Read the full tafseer →فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِھِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَکَرِھُوْآاَنْ یُّجَاھِدُوْا بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَالُوْا لاَ تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ ط قُلْ نَارُجَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ط لَوْ کَانُوْا یَفْقَھُوْنَ (التوبۃ : 81)
(خوش ہیں وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے اپنے بیٹھ رہنے پر اللہ کے رسول سے پیچھے اور انھوں نے برا جانا کہ وہ اپنے مال وجان سے اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور انھوں نے کہا نہ نکلو اس گرمی میں۔ کہہ دیجیے ! دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش ! وہ سمجھے ہوتے۔ )
تشریح سے پہلے چند مشکل الفاظ کی وضاحت۔ المخلفون : المخلف کی جمع ہے۔ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کے لیے بخشش کی دعا کرنا اس لیے بھی جائز نہیں یہ خود جان بوجھ کر جہاد سے پیچھے رہنے والے اور لوگوں کو جہاد سے بددل کرنے والے ہیں۔
مُخَلّفَ کی جمع مُخَلَّفُوْنَ ہے جس کا معنی ہے وہ لوگ جنھیں ان کے عذربہانوں اور شرارتوں کی وجہ سے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ منافقین کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر جہاد کے لیے نکلنے کے بجائے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں بظاہر تو وہ اپنے آپ میں خوش ہوتے کہ ہم نے پیچھے رہنے کی باضابطہ اجازت لی ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ اللہ کے رسول جانتے تھے کہ یہ لوگ جھوٹے بہانے اور خود ساختہ مجبوریاں پیش کرکے جہاد سے پیچھے رہنا…
Read the full tafseer →تخلف جہاد پر منافقین کی خوشی :
آیت 81: فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ (یہ پیچھے رہ جانے والے خوش ہوگئے) نمبر 1۔ وہ منافقین جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی اور ان کو اجازت دے دی گئی اور غزوئہ تبوک میں ان کو مدینہ میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ نمبر 2۔ جو لوگ سستی سے پیچھے رہ گئے اور ان کو نفاق اور شیطان نے اس بات پر آمادہ کیا۔ بِمَقْعَدِھِمْ (اپنے بیٹھ رہنے پر) غزوہ میں نہ جانے کی بناء پر خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (رسول اللہ ﷺ کے بعد) رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں یہ مفعول لہ یا حال ہے ای قعدوا لمخالفتہ یا مخالفین لہٗ وہ مخالفت کی وجہ سے بیٹھ رہے یا اس حال میں بیٹھ رہے کہ وہ آپکی مخالفت کرنے والے تھے۔…
Read the full tafseer →81:” فرح المخلفون “ غزوہ تبوک سے اور مخلف بمعنی پیچھے چھوڑا ہوا شخص ” بمقعد ھم “ یعنی ان کے بیٹھنے کی وجہ سے ” خلف رسول اللہ “ ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی رسول اللہ ﷺ کے بعد اور بعض نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے کہ آپ (علیہ السلام) تو تشریف لے گئے اور یہ گھروں پر رہ گئے۔” وکرھوآ ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ وقالو ا لا تنفروا فی الحر “ اور غزوہ تبوک سخت گرمی میں تھا۔” قل نار جھنم اشد حرا لو کانوا یفقھون “ یعلمون یعنی جانتے اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں اسی طرح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81۔ 82۔ اللہ پاک نے اس آیت میں ان منافقوں کی مذمت بیان کی جو غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ جہاد میں نہیں شریک ہوئے اور حضرت کا ساتھ نہیں دیا اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور آنحضرت ﷺ کے جانے پر خوشی ظاہر کی اور لڑنے سے جی چرایا اور اپنے مال و دولت کی خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کیا اور خدا کی راہ میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھنا۔
برا سمجھا حالانکہ خدا کے نزدیک بڑے بڑے مرتبے اس شخص کے ہیں جو جان ومال سے جہاد میں شریک ہو ان منافقوں نے خود تو جی چرایا تو چرایا مگر اوروں کو بھی منع کرتے تھے کہ ایسی گرمی میں کہا جہاد میں لڑنے کو جاؤ گے جیسا کہ خود اللہ پاک نے آگے بیان فرمایا۔ صحیح مسلم میں سفیان ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
آیت 83
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا ان کے پیچھے رہ جانے پر تکبر اور فرحت کا اظہار کرنے اور اس پر ان کی لاپروائی کو بیان کرتا ہے، جو ان کے عدم ایمان اور اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ چناچہ فرمایا : (فرح المخلفون بمقعدھم خلف رسول اللہ) ” خوش ہوگئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے، رسول اللہ سے جدا ہو کر “ یہ خوش ہونا، پیچھے رہ جانے پر ایک قدر زائد ہے، کیونکہ جہاد سے جی چرا کر پیچھے بیٹھ رہنا حرام ہے اور اس پر مستزادیہ ہے کہ وہ معصیت کے اس فعل پر خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ (وکرھو ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ) ” اور وہ گھبرائے اس بات سے کہ لڑیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
منافق پر نماز جنازہ کی ممانعت
قول باری ہے استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن بغفر اللہ لھم ۔ اے نبی ! تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کردیا نہ کرو ، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی طرف ان کے لیے معافی کی درخواست ان کی بخشش کی موجب نہیں ہوگی ۔ پھر فرمایا ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم ستر کا ذکر بخشش سے مایوس کردینے میں مبالغہ کے طورپر ہوا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں ستر سے زائد مرتبہ انکے لیے معافی کی درخواست…
Read the full tafseer →163 بدنیتی اور سوء اختیار کا نتیجہ محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ خوش ہو رہے ہیں وہ لوگ جن کو پیچھے چھوڑ دیا گیا یعنی یہاں پر { مُتَخِلّف } نہیں { مُخَلّف } فرمایا گیا ہے۔ اور ان دونوں کے معنوں میں بڑا فرق ہے کہ " متخلف " تو وہ ہوتا ہے جو اپنے طور پر اور اپنے ارادہ و اختیار سے خود پیچھے رہ جائے اور " مخلف " وہ ہوتا ہے جس کو ناکارہ اور نااہل قرار دے کر پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ یعنی ان منافقوں کو قدرت کی طرف سے پیچھے چھوڑدیا گیا اور یہ لوگ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے پیغمبر کی معیت میں نکلنے کے شرف اور اس کی توفیق سے محروم کر دئے گئے کہ ان کی نیتیں صحیح نہیں تھیں۔ جس کے باعث یہ اس قابل ہی نہ رہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
منافق کی پہچان اور ان سے قطع تعلق
تشریح : پچھلی آیات سے منافقین کا سلسلہ چل رہا ہے یہاں بھی انہی کا ذکر ہے اور اسلامی فوج کو یہ نکتہ سمجھایا جا رہا ہے کہ منافقین سے مدد لینا بڑی حماقت ہے کیونکہ یہ لوگ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ ہوتے ہیں یہ بیرونی دشمن سے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں اس لیے اپنی فوج کو ان سے ہوشیار رہنے کی اور آپس میں متحد رہنے کی پوری ٹریننگ دو کیونکہ یہ نہ تو مخلص ہیں اور نہ ہی جہاد کی تکلیف برداشت کرسکتے ہیں غزوئہ تبوک کا واقعہ ہوچکا ہے بلکہ یہ تو دوسروں کو بھی ترغیب دیتے رہے کہ بھئی اتنی گرمی ہے مت نکلو جہاد کے لئے۔ ان لوگوں کو کیا معلوم کہ اطاعت رسول ﷺ اور محبت الٰہی میں جان و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
آیات 81 تا 89
اسرار و معارف
نبی کریم ﷺ کی اطاعت سے محرومی بہت بڑی بدنصیبی ہے خواہ نہ کرنے والا یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ آرام سے ہے اور خواہ مخواہ کی مصیبت نماز روزہ جہاد سے بچا ہوا ہے اپنے گھر میں اپنی پسند سے وقت بسر کررہا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک بہت بڑی مصیبت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جیسے تبوک پہ حاضرنہ ہونے والے آپ ﷺ کی اطاعت سے جی چراکر خوش بیٹھے تھے کہ ہم مزے میں ہیں مال بھی بچا جان کو بھی تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ انھیں جان ومال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا گواراہی نہیں اور گناہ کا اثرہی یہ ہوتا ہے کہ نیکی کے لئے دل میں جگہ نہیں رہتی بلکہ دوسروں سے بھی کہتے ہیں کیوں گرمی میں ہلاک ہوتے ہو مت جاؤ یہ…
Read the full tafseer →(ف 5 یعنی جنگ تبوک میں نبی ﷺ ج کے ساتھ نہ گئے بلکہ جھو ٹے عذر پیش کر کے اجازت لی اور مدینہ منورہ میں ٹھہرے رہے۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں ان کی تعداد بارہ تھی۔ ( ابن ابی حاتم وغیرہ)6 یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ غزوہ تبوک جن دونوں پیش آیا ان دنوں سخت گرمی کا موسم تھا۔
Read the full tafseer →(9:81) المخلفون۔ وہ جو پیچھے چھوڑ دئیے گئے۔ اسم مفعول جمع ہے اس کا فاعل بیان نہیں کیا گیا ۔ پیچھے چھوڑ دینے والا۔ اللہ تعالیٰ ہی ہوسکتا ہے یا شیطان یا ان کی سستی یا مؤمنین ہوسکتے ہیں۔
بمقعدہم۔ مقعد اسم ظرف مکان۔ مفرد۔ مقاعد جمع ۔ قعدۃ۔ قعود مصدر۔ باب نصر بیٹھنے کی جگہ۔ یعنی اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے پر (خوش ہیں) ۔
خلف۔ اس کے معنی پیچھے۔ مخالفت دونوں ہوسکتے ہیں۔ خلاف کے معنی ” الٹا “ بھی ہوسکتے ہیں ۔ قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے اوتقطع ایدیہم وارجلہم من خلاف (5:33) یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور پاؤں الٹی طرف سے۔ یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور دایاں پاؤں۔
لا تنفروا۔ فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
تشریح آیت نمبر 81 تا 82
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر منافقین نے اس جہاز میں شرکت سے بچنے اور مال و دولت حاصل کرنے کیلئے ہزاروں بہانے بنائے تھے، وہیں وہ جاں نثار اور مجاہیدن صحابہ بھی تھے جو ہر چیز سے بےنیاز ہو کر محض اللہ کی رضا و خوشنوید اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے جہاد میں شریک ہونے کو سعادت سمجھ رے تھے۔ فرمایا گیا کہ یہ منافق جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں گھر پر بیٹھے رہ گئیا ور انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے کو برا سمجھا ہے اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اتنی شدید گرمی کے موسم میں سفر نہ کرو۔ ان کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان منافقوں کی مذمت بیان کی جو غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ جہاد میں نہیں شریک ہوئے اور حضرت محمد ﷺ کا ساتھ نہیں دیا۔ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور آنحضرت ﷺ کے جانے پر خوشی ظاہر کی اور لڑنے سے جی چرایا اور اپنے مال و دولت کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کیا اور خدا کی راہ میں اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھنا برا سمجھا۔ حالانکہ خدا کے نزدیک بڑے بڑے مر تبے اس شخص کے ہیں جو جان ومال سے جہاد میں شریک ہو۔
منافقوں کے عذابوں کا ذکر
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ تبوک کی لڑائی کے وقت منافقوں نے مسلمانوں سے مشورہ کے طور پر اور آپس میں یہ چرچا کیا کہ ایسے گرم موسم میں سفر مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–94
[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔
Read the full tafseer →جہنم کی گرمی :
(ف 1) منافقین یہ کہہ کر مسلمانوں کو جہاد سے روکتے کہ بلا کی گرمی ہے اس تپش میں کہاں گھروں سے نکلو گے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، کاش انہیں معلوم ہوتا کہ جہنم کی گرمی اس سے زیادہ شدید ہے اسے کاش ! یہ اس آگ سے بچنے کے لئے کوشش کرتے ۔
Read the full tafseer →81 رسول اللہ ﷺ کے غزوئہ تبوک میں تشریف لے جانے کے بعد یہ پیچھے رہ جانے والے بہت خوش ہوئے ان متخلفین نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے جہاد کریں اور یوں کہنے لگے کہ ایسی سخت گرمی میں کوچ نہ کرو اور گھروں سے مت نکلو آپ کہہ دیجئے کہ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے کیا خوب ہوتا اگر وہ اس بات کو سمجھ سکتے۔
حضور ﷺ جب غزوئہ تبوک میں جانے لگے تو بہانہ ساز منافقوں نے ساتھ نہ دیا اور حضور ﷺ کے بعد خوشی کا اظہار کیا کہ ہم تو بچ گئے کچھ مخلص مسلمان بھی رہ گئے تھے ان کا ذکر اور ان کی توبہ کا بیان آگے آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
ف 4۔ تمسخر سے چونکہ زیادہ دل دکھتا ہے اس لیے اس کا ذکر وقوع اور جزادونوں میں خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے تبوک کی طرف نکل جانے کے بعد منافقین خوش ہوگئے :
107: ” مخلفین “ ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو جھوٹے عذر پیش کر کے تبوک کی مہم میں شریک ہونے سے گریز کرگئے۔ وہ بزعم خویش تو رسول اللہ ﷺ سے رخصت حاصل کرچکے تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے جیسے ان کو رخصت دی اس کی ترجمانی قرآن نے واضح طور پر کردی کہ دراصل وہ پیچھے چھوڑے گئے تھے اور نظر انداز کردیئے گئے تھے اور ان کے باطن کو بھانپ کر رسول اللہ ﷺ نے ان کے لا یعنی عذرات کو سمجھتے ہوئے رخصت دی تھی جو عین حکمت اور نہایت حد تک عقل و سمجھ کی بات اور فراست نبوی ﷺ تھی۔ پھر ان کی ساری حالت روز روشن کی طرح واضح تھی کہ ایسے لوگ شریک نہ ہوں تو یہی بہتر ہے اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
Commentary
Behavior patterns of hypocrites who did not take part in the battle of Tabuk, despite the general call of Jihad, continue to be the main theme since several previous verses.
The current verses give another example of their behavior. Then, it was said that they will be punished in the Hereafter, their names will be eliminated from the list of the mujahidin of Islam forever in this mortal world and that they will never be allowed to take part in any future Jihad.
The word: مُخَلَّفُونَ (those who were left behind - 81) is the plural of مُخَلَّفُ (mukhallaf) which means ` abandoned'…
Read the full tafseer →