At-Tawba 9:80

At-Tawba · from ayah 80

9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ؕ— اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ؕ— ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ؕ— وَاللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۟۠اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ‌ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ

تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے)۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ask forgiveness for them, [O Muhammad], or do not ask forgiveness for them. If you should ask forgiveness for them seventy times - never will Allah forgive them. That is because they disbelieved in Allah and His Messenger, and Allah does not guide the defiantly disobedient people.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:80

اے نبیؐ، تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو۔ (بات ایک ہے)۔ اگر ان کے لیے ستّر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر کیا۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر۔ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کیا ایسے فاسق لوگوں کو رب کریم ہدایت نہیں دیتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے نبی) تم ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کرو گے تب بھی اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کا رویہ اپنایا ہے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اگر تم ستر بار ان کی معافی چاہو گے تو اللہ ہرگز انھیں نہیں بخشے گا یہ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے منکر ہوئے، اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ خواہ ان (بدبخت، گستاخ اور آپ کی شان میں طعنہ زنی کرنے والے منافقوں) کے لئے بخشش طلب کریں یا ان کے لئے بخشش طلب نہ کریں، اگر آپ (اپنی طبعی شفقت اور عفو و درگزر کی عادتِ کریمانہ کے پیشِ نظر) ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش طلب کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے لیے بخشش مانگ، یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ، اگر تو ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کرے گا تو بھی اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ بیشک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں (اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کریں تو اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور ایسے فاسق لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے لیے مغفرت چاہو گے تو بھی اللہ ان کو بخشنے والا نہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ بدعہدوں کو راہ یاب نہیں کرتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

آپ (اے پیغمبر !) ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں، ان کے لئے (ایک برابر ہے کہ) آپ اگر ان کے لئے ستر مرتبہ بھی بخشش کی دعا کریں گے تو بھی اللہ نے ان کو ہرگز نہیں بخشنا، یہ اس لئے کہ انہوں نے (جان بوجھ کر) کفر کیا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ، اور اللہ ہدایت (کی دولت) سے نہیں نوازتا ایسے بدکاروں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ ان کے لئے استغفار کریں خواہ ان کے لئے استغفار نہ کریں اگر آپ ان کے لئے ستر بار (بھی استغفار کریں گے جب بھی اللہ نہیں بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔ اگر آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کریں گے تب بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرچکے ہیں اور اللہ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ ان کے لئے بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں (اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا) اگر آپ ان کے لئے ستر مرتبہ بھی دعائے مغفرت کریں تو اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور ایسے فاسق لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), it is all the same whether or not you ask for their forgiveness. Even if you were to ask forgiveness for them seventy times, Allah shall not forgive them. That is because they disbelieved in Allah and His Messenger; and Allah does not bestow His Guidance on such evil-doing folk.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It is all equal whether you) ask pardon for them or do not ask pardon for them. Even if you ask pardon for them seventy times, Allah will never pardon them. That is because they disbelieved in Allah and His Messenger. Allah does not lead the sinning people to the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

(It is all equal whether you) ask pardon for them or do not ask pardon for them. Even if you ask pardon for them seventy times, Allah will never pardon them. That is because they disbelieved in Allah and His Messenger. Allah does not lead the sinning people to the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whether you (O Muhammad) ask forgiveness for them (hypocrites) or ask not forgiveness for them -- (and even) if you ask seventy times for their forgiveness -- Allah will not forgive them because they have disbelieved in Allah and His Messenger. And Allah guides not those people who are rebellious.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ask forgiveness for them (O Muhammad), or ask not forgiveness for them; though thou ask forgiveness for them seventy times Allah will not forgive them. That is because they disbelieved in Allah and His messenger, and Allah guideth not wrongdoing folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Ask forgiveness for them, [O Muhammad], or do not ask forgiveness for them. If you should ask forgiveness for them seventy times - never will Allah forgive them. That is because they disbelieved in Allah and His Messenger, and Allah does not guide the defiantly disobedient people.

— Saheeh International

(Muhammad), whether you ask God to forgive them or not, He will never do so, even if you were to beg seventy times; they have disbelieved in God and His Messenger and God does not guide the evil-doers.

— Muhammad Sarwar

Ask forgiveness for them or do not ask forgiveness for them; even if you ask forgiveness for them seventy times, Allah will not forgive them; this is because they disbelieve in Allah and His Apostle, and Allah does not guide the transgressing people.

— Muhammad Habib Shakir

Ask thou forgiveness for them or ask thou not forgiveness for them: if thou askest forgiveness for them seventy times, Allah will forgive them not. This, because they disbelieved in Allah and His apostle, and Allah guideth not an ungodly people.

— Abdul Majid Daryabadi

Whether thou ask for their forgiveness, or not, (their sin is unforgivable): if thou ask seventy times for their forgiveness, Allah will not forgive them: because they have rejected Allah and His Messenger: and Allah guideth not those who are perversely rebellious.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

منافق کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے فرماتا ہے کہ یہ منافق اس قابل نہیں کہ اے نبی تو ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب کرے ایک بار نہیں اگر تو ستر مرتبہ بھی بخشش ان کے لئے چاہے تو اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ یہ جو ستر کا ذکر ہے اس سے مراد صرف زیادتی ہے وہ ستر سے کم ہو یا بہت زیادہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے ستر کا ہی عدد ہے۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں تو ان کے لئے ستر بار سے بھی زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ انہیں بخش دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمادیا کہ ان کے لئے تیرا استغفار کرنا نہ کرنے کے برابر ہے۔ عبداللہ بن ابی منافق کا بیٹا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 79–83

سورة التَّوْبَة 87 غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی ﷺ نے چندے کی اپیل کی تو بڑے بڑے مال دار منافقین ہاتھ روکے بیٹھے رہے۔ مگر جب مخلص اہل ایمان بڑھ بڑھ کر چندے دینے لگے تو ان لوگوں نے ان پر باتیں چھانٹنی شروع کیں۔ کوئی ذی استطاعت مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق یا اس سے بڑھ کر کوئی بڑی رقم پیش کرتا تو یہ اس پر ریاکاری کا الزام لگاتے، اور اگر کوئی غریب مسلمان اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر کوئی چھوٹی سے رقم حاضر کرتا، یا رات بھر محنت مزدوری کر کے کچھ کھجوریں حاصل کرتا اور وہی لا کر پیش کردیتا، تو یہ اس پر آوازے کستے کہ لو، یہ ٹڈی کی ٹانگ بھی آگئی ہے تاکہ اس سے روم کے قلعے فتح کیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 79–80

خلاصہ تفسیر یہ (منافقین) ایسے ہیں کہ نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر صدقات کے بارے میں (تھوڑا ہونے پر) طعن کرتے ہیں اور (بالخصوص) ان لوگوں پر (اور زیادہ) جن کو بجز محنت مزدوری (کی آمدنی) کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا (اور وہ بیچارے اسی مزدوری میں سے ہمت کر کے کچھ صدقہ نکال دیتے ہیں) یعنی ان سے تمسخر کرتے ہیں (یعنی مطلق طعن تو سب ہی پر کرتے ہیں کہ کیا تھوڑی سی چیز صدقہ میں لائے، اور ان محنت کش غریبوں سے تمسخر بھی کرتے ہیں کہ لو یہ بھی صدقہ دینے کے قابل ہوگئے) اللہ تعالیٰ ان کو تمسخر کا (تو خاص) بدلہ دے گا اور (ویسے مطلق طعن کا یہ بدلہ ملے گا کہ) ان کے لئے (آخرت میں) دردناک سزا ہوگی، آپ خواہ ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منافقین کے باب میں سخت گیری کی سخت تاکید اور ان کے لیے استغفار کی ممانعت : اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔ یہ اسی سختی اور سخت گیری کی تاکید پر مبنی ہے جس کی ہدایت واغلظ علیہم کے الفاظ سے فرمائی گئی ہے۔ نبی ﷺ سراپا رحمت و شفقت تھے اس وجہ سے ان منافقین کی تمام شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے باوجود، ان کی اصلاح اور بخالت، آپ کو اس قدر عزیز تھی کہ جس طرح آپ اپنی تمام امت کے لیے برابر خدا سے مغفرت چاہتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

80۔ 1 ستر کا عدد مبالغے اور تکثیر کے لئے ہے۔ یعنی تو کتنی ہی کثرت سے ان کے لئے استغفار کرلے اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ستر مرتبہ سے زائد استغفار کرنے پر ان کو معافی مل جائے گی۔ 80۔ 2 یہ عدم مغفرت کی علت بیان کردی گئی ہے تاکہ لوگ کسی کی سفارش کی امید پر نہ رہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح کی پونجی لے کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ اگر یہ زاد آخرت کسی کے پاس نہیں ہوگا تو ایسے کافروں اور نافرمانوں کی کوئی شفاعت ہی نہیں کرے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے شفاعت کی اجازت ہی نہیں دے گا۔ 80۔ 3 اس ہدایت سے مراد وہ ہدایت ہے جو انسان کو مطلوب (ایمان) تک پہنچا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 79–83

67: آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو صدقات نکالنے کی ترغیب دی تو ہر مخلص مسلمان نے اپنی استطاعت کے مطابق صدقہ لا کر پیش کیا، منافقین خود تو اس کار خیر میں کیا حصہ لیتے، مسلمانوں کو طعنے دیتے رہتے تھے۔ اگر کوئی شخص زیادہ مال لے کر آتا تو کہتے کہ یہ تو دکھاوے کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور اگر کوئی غریب مزدور اپنے گھاڑھے پسینے کی کمائی سے کچھ تھوڑا سا صدقہ لے کر آتا تو منافقین اس کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ یہ کیا چیز اٹھا لایا ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔ صحیح بخاری اور حدیث و تفسیر کی دوسری کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مروی ہیں۔ لیکن اس جگہ غالبا وہ موقع مراد ہے جب آنحضرت ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے چندہ جمع کرنے کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ منافقین جو مخلص اور رضاکار مومنین کا مذاق اڑاتے تھے ، کہ یہ لوگ اس کا کیوں مال لٹاتے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ خود حضور کے جانب سے طلب مغفرت بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شفقت کی وجہ سے ان خطاکاروں کے لی بھی مغفرت طلب کرتے تھے شاید کہ اللہ معاف کردے۔ لیکن ان لوگوں کے بارے میں اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ ان منافقین کا انجام طے شدہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں نے صیح راہ سے انحراف کرلیا ہے ، لہذا ان کا اب اچھے انجام تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہیں ہے۔ لہذا حضور کو کہا جاتا ہے کہ اب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی منافقین کے لیے آپ ﷺ کتنی ہی مرتبہ استغفار کیجئے ان کے حق میں بالکل بیکار اور بےفائدہ ہے، خدا ان بدبخت کافروں اور نافرمانوں کو کبھی معاف نہ کرے گا۔ واقعہ یہ پیش آیا کہ مدینہ میں رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا۔ آپ نے قمیص مبارک کفن میں دیا۔ لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا۔ نماز جنازہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی، حضرت عمر اس معاملہ میں آڑے آتے تھے اور کہتے تھے کہ یا رسول اللہ ! یہ وہ ہی خبیث تو ہے جس نے فلاں فلاں وقت ایسی ایسی نالائق حرکات کیں۔ ہمیشہ کفر و نفاق کا علمبردار رہا۔ کیا حق تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا۔ (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭاِنْ تَسْتَغْفِرْ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لاَ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْط اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ ط یہ آیت سورة النساء کی آیت 145 اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ج کے بعد منافقین کے حق میں سخت ترین آیت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

95 آپ کا عبداللہ بن ابی منافق کا جنازہ پڑھانے کی وجوہ :۔ غزوہ تبوک سے واپسی کے تھوڑی ہی مدت بعد عبداللہ بن ابی بن سلول کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ تھا اور یہ پکے سچے مسلمان صحابی تھے اور اپنے باپ کی کرتوتوں سے خوب واقف تھے۔ جب غزوہ بنی مصطلق کے واپسی سفر کے دوران عبداللہ بن ابی نے کہا تھا کہ مدینہ جا کر عزت والا (یعنی خود) ذلت والے کو مدینہ سے نکال کر باہر کرے گا۔ تو یہ اپنے باپ کی راہ روک کر کھڑے ہوگئے جس کا مطلب یہ تھا کہ میری بھی نظروں میں چونکہ تم ہی ذلیل ہو لہذا تمہیں مدینہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پھر اس نے رسول اللہ سے معافی مانگی تب عبداللہ ؓ نے اپنے باپ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

147 ۔ (اس لئے کہ مغفرت کی بنیاد یعنی ایمان ہی سرے سے مفقود ہے اور منافقین کے حق میں دعا اور عدم دعادونوں عدم نفع کے لحاظ سے یکساں ہیں) (آیت) ” سبعین مرۃ “۔ ستر سے مراد یہاں عدد کامل یا کثرت استغفار ہے اور ستر تحدید کے لئے نہیں صرف تکثیر کے لئے آیا ہے جیسا کہ محاورۂ عرب میں اکثرآتا ہے۔ والسبعون جار مجری المثل فی کلامھم للتکثیر (کشاف) ذکر السبعین علی وجہ المبالغۃ فی الیاس من المغفرۃ (جصاص) لان العرب فی اسالیب کلامھم تذکر السبعین فی مبالغۃ کلامھا ولا ترید التحدید بھا (ابن کثیر) روایتوں میں آتا ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول منافقین مدینہ کا رئیس وسردار تھا۔ اس کا لڑکا مومن مخلص تھا۔ باپ کے مرنے پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–80

آیت نمبر 73 تا 80 ترجمہ : اے نبی کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان وبرہان سے جہاد کیجئے، اور ان منافقوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور خفگی کے ذریعہ سختی سے پیش آئیے، (آخر کار) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور منافق اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گالی کی جو بات ہماری طرف سے آپ کو پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کہی، حالانکہ یقینا وہ کافرانہ بات انہوں نے کہی، اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے یعنی اسلام ظاہر کرنے کے بعد انہوں نے کفر ظاہر کیا، اور انہوں نے اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جو وہ نبی ﷺ کو قتل کے ارادہ سے تبوک سے لوٹتے وقت لیلة العقبہ میں کرنا چاہتے تھے اور وہ دس سے کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

استغفر لھم ولا تستغفر لھم ان تستغفر لھم سبعین مرۃً فلن یغفر اللہ لھم ان (منافقوں) کیلئے آپ دعائے مغفرت کریں یا نہ کریں ‘ دونوں برابر ہیں۔ اگر ان کیلئے ستر بار آپ دعائے مغفرت کریں گے ‘ تب بھی اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا۔ استغفر امر کا صیغہ ہے لیکن مراد (مفہوم امر نہیں بلکہ) استغفار اور عدم استغفار ‘ دونوں صورتوں میں برابری کی خبر دینا ہے یعنی دونوں صورتیں ان کیلئے برابر ہیں ‘ کوئی بھی ان کے واسطے مفید نہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ان کیلئے ستر مرتبہ سے زیادہ دعائے مغفرت کروں گا۔ اس کے بعد آیت سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ اسْتَغْفَرْتَ لَھُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) آپ خواہ عبداللہ بن ابی، جدی بن قیس، معتب بن قشیر اور ان منافقین کے لیے جو تقریبا ستر ہیں استغفار کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ان منافقوں یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو معاف نہیں فرمائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ : یعنی آپ کا ان کے لیے استغفار کرنا یا نہ کرنا برابر ہے، یہاں یہ بات امر کے صیغے کے ساتھ آئی ہے، مگر مراد خبر دینا ہی ہے، جیسا کہ دوسری جگہ صاف خبر کے الفاظ میں فرمایا : (سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ۭ لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ۭ) [ المنافقون : 6 ] ”ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے، اللہ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔“ اس آیت کی تفسیر کا کچھ حصہ آیت (84) کی تفسیر میں آ رہا ہے۔ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : یعنی آپ ان کے حق میں کتنا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 80 قولہ تعالیٰ : (آیت) استغفر لھم اس کا بیان اس ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ولا تصل علی احد منھم مات ابدا (توبہ : 84) کے تحت آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے عروہ ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن ابی (رئیس المنافقین) نے اپنے ساتھیوں سے کہا اگر تم محمد ﷺ اور ان کے اصحاب پر خرچ نہ کرتے تو یہ لوگ اس کے اردگرد سے بھاگ جاتے۔ اور وہ کہنے لگے (آیت) ” لیخرجن الاعزمنھا الاذل “ (المنافقون آیت 8) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” استغفرلہم اولا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم “ (اس آیت کے نازل ہونے کے بعد) نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ستر مرتبہ سے زیادہ (استغفار) کرلوں گا) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” سواء علیہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم لن یغفر اللہ لہم “ 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِسْتَغْفِرْ [ آپ استغفار کریں ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] اَوْ [ یا ] لَا تَسْتَغْفِرْ [ آپ استغفار نہ کریں ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لیے (برابر ہے ) ] اِنْ [اگر ] تَسْتَغْفِرْ [آپ استغفار کریں گے ] لَهُمْ [ ان کے لیے ] سَبْعِيْنَ مَرَّةً [ ستر مرتبہ ] فَلَنْ يَّغْفِرَ [ تو (بھی) ہرگز معاف نہیں کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَهُمْ ۭ [ ان کو ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّهُمْ [ اس سبب سے کہ انھوں نے ] كَفَرُوْا [ ناشکری کی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلِهٖ ۭ [ اور اس کے رسول کی ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ [ نافرمانی کرنے والے لوگوں کو ] (آیت ۔ 80) اَوْ لَا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 79–80

منافقین کا مخلصین کے صدقات پر طعن و تمسخر کرنا منافقین کے دلوں میں چونکہ ایمان نہیں تھا اس لیے اہل ایمان کو طرح طرح سے تکلیف دیتے تھے ان تکلیفوں میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے اعمال اور احوال کو طعن اور طنز اور مسخرہ بازی کا نشانہ بناتے تھے۔ صحیح بخاری (ص 673 ج 2) میں حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم ہوتا تھا تو ہم محنت مزدوری کر کے اپنی کمروں پر بوجھ اٹھا کر کچھ مال حاصل کرتے تھے (جس کو صدقہ میں پیش کردیتے تھے) ۔ اور تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ایک موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے صدقہ دینے کی ترغیب دی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے چار ہزار درہم پیش کردیئے اور عاصم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–84

تفصیل جرائم منافقین قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔ (ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

75:“ اِسْتَغْفِرْلَھُمْ الخ ” یہ تمام منافقین کا انجام ہے کہ ان کی ہرگز بخشش نہیں ہوگی اگرچہ اللہ کا رسول ستر بار بھی اللہ سے ان کے لیے معافی مانگے کیونکہ ان کے دلوں میں کفر ونفاق ہے اگرچہ بظاہر وہ ایمان کے دعویدار ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ منوا لینا پیغمبر (علیہ السلام) کے اختیار میں نہیں۔ “ اَسْتَغْفِرْ ” امر بمعنی خبر ہے۔ عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین جب مرض الموت میں مبتلا ہوا تو اس کا بیٹا جو مخلص مومن تھاحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے باپ کے لیے استغفار کی درخواست کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کردیا گیا۔ صحیح مسلم میں ہے جب ابن ابی مرگیا توحضور ﷺ اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 79–80

ربط آیات : منافقین کی مذمت کے سلسلے میں گذشتہ درس میں گزر چکا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بعض منافقین عہد کرتے ہیں مگر اس کو پورا نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے دیگا تو ہم صدقہ خیرات کریں گے مگر جب اللہ نے عطا کردیا تو انہوں نے بخل کیا۔ ان کی وعدہ خلافی اور کذب بیانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق کو پختہ کردیا اب یہ نفاق مرتے دم تک ان کے دلوں سے نہیں کھل سکے گا۔ اب آج کے درس میں جب حضور ﷺ نے لوگوں سے مالی تعاون کی اپیل کی تو ہر پکے سچے مسلمان نے اپنی حیثیت کے مطابق اس کار خیر میں حصہ لیا۔ مگر جن کے دلوں میں نفاق تھا۔ انہوں نے صدقہ کرنے والوں کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَہُمْ۝ 0 ۭ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّۃً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ۝ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۝ 80 ۧ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–82

ترکیب : الذین الخ مبتداء من المومنین المطوعین کابیان۔ فی الصدقات متعلق ہے یلمزون سے۔ والذین مبتداء فیسخرون خبر جملہ معطوف ہے اول الذین پر سخر اللّٰہ منہم خبر سبعین منصوب علی المصدر والعدد یقوم مقام المصدر کقولک ضربۃ عشرین ضربتہ قلیلا وکثیرا صفت ہے مصدر محذوف کی۔ تفسیر : ان آیات میں منافقین کی عادت و طعنہ زنی کو بیان کرتا ہے کہ جو اہل اسلام مقدور والے ہیں ان پر بھی طعن کرتے ہیں کہ یہ ریاکار ہیں اور جو مفلس اور مزدور اپنی مزدوری میں سے صدقہ دیتے ہیں ان پر بھی ہنستے ہیں۔ غزوہ تبوک کے لئے جب تیاری کا حکم دیا اور لوگوں کو اس میں مال و زر سے مدد دینے کی ترغیب دی تو عبدالرحمن بن عوف ؓ چار ہزار درہم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْلَا تَسْتَغْفِرْلَھُمْ ط اِنْ تَسْتَِغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَاللّٰہُ لَھُمْ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَفَرُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ع (التوبۃ : 80) (آپ ان کے لیے مغفرت چاہیں یا نہ چاہیں اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی مغفرت چاہیں گے تو بھی اللہ ان کو بخشنے والا نہیں یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور اللہ بدعہدوں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔ ) سخت ہوجانے کی تاکید اس رکوع کی پہلی آیت میں واغلظ علیھم فرماکر آنحضرت ﷺ کو منافقین پر سختی کا جو حکم دیا گیا تھا پیش نظر آیت ِ کریمہ اسی کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقین پر مزید سختی اور ان کی محرومیاں۔ اس خطاب کے آغاز میں رسول محترم ﷺ کو حکم ہوا تھا کہ کفار کے خلاف جہاد کرو اور منافقین پر سختی کرو۔ اب حکم ہوتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی کرلیں ان کے لیے بخشش کی دعا نہیں کرنا۔ اگر آپ ستر (70) مرتبہ بھی ان کے لیے بخشش کی دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہرگز انھیں معاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں۔ ایسے نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ کے غضب کی انتہا ہوجاتی ہے جس کے لیے اللہ کا رسول یہ بد دعا کرے کہ اے اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہ دے۔ جس طرح نوح (علیہ السلام) نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 80: جب عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی میرا والد بیمار ہے اس کے لئے استغفار فرما دیں تو یہ آیت نازل ہوئی : عبداللہ بن ابی کے لئے استغفار کی ممانعت : اِسْتَغْفِرْلَھُمْ اَوْلَا تَسْتَغفِرْ لَھُمْ (آپ خواہ ان کے لئے استغفار کریں یا ان کے لئے استغفار نہ کریں) یہ امر خبر کے معنی میں ہے گویا اس طرح فرمایا گیا لن یغفر اللّٰہ لہم استغفرت لہم ام لم تستغفرلہم۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہ بخشے گا آپ نے ان کے لئے استغفار کردیا۔ یا نہیں کیا۔ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَہُمْ (اگر آپ ان کے لئے استغفار کریں گے ستر مرتبہ بھی تب بھی اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 80” استغفر لھم اولا تستغفرلھم “ الفاظ اگر چہ امر کے ہیں لیکن معنی خبر کا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے ان کے لیے استغفار کیا ہو یا نہ کیا ہو ” ان تستغفر لھم سبعین مر ۃ فلن یغفر اللہ لھم “ ستر کے عدد کا ذکر مبالغہ کے لیے ہے کہ ان کی مغفرت سے نا امیدی ہے۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رخصت دی ہے۔ پس میں ستر سے زائد کروں گا۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمادیں تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا کہ ” سواء علیھم استغفرت لھم ام لم تستغفر لھم لن یغفر اللہ لھم ذلک بانھم کفروا باللہ ورسولہ واللہ لا یھدی القوم الفسقین “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

80۔ اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ ان منافق لوگوں کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے اور ایسے لوگوں کی مغفرت نہ ہونے کا اللہ کا وعدہ ہے اس لئے یہ لوگ ہرگز اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے واسطے استغفار کی دعا کی جاوے کیونکہ اگر ستر بار بھی ان کے واسطے آپ استغفار کریں گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا کس واسطے کہ استغفار تو گنہگار اور خطا وار کے حق میں فائدہ مند ہے نہ جو سرے سے خدا و رسول کے ساتھ کفر کر کے بغیر توبہ کے مرگئے اس لئے ان میں کے جو لوگ اس حال میں مرگئے نہ تو ان کی مغفرت ہوسکتی ہے اور نہ ان میں کے زندہ لوگوں کو توبہ پر مجبور کیا جاویگا اس لئے اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق جیتے جی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–80

آیت 75 ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا (لئن اتنا من فضلہ) ” اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔ ‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے (لنصدقن ولنکونن من الصلحین) ” تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکو کاروں میں سے ہوجائیں گے۔ “ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔ (فلما اتھم من فضلہ) ” پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے ” تو انہوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ (بخلوا بہ) ” بخل کیا ساتھ اس کے “ (وتولوا) اور اطاعت سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 80–83

منافق پر نماز جنازہ کی ممانعت قول باری ہے استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن بغفر اللہ لھم ۔ اے نبی ! تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کردیا نہ کرو ، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ کی طرف ان کے لیے معافی کی درخواست ان کی بخشش کی موجب نہیں ہوگی ۔ پھر فرمایا ان ستغفرلھم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لھم ستر کا ذکر بخشش سے مایوس کردینے میں مبالغہ کے طورپر ہوا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں ستر سے زائد مرتبہ انکے لیے معافی کی درخواست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

160 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان کے لیے (اے پیغمبر) بخشش کی دعا کریں یا نہ کریں ان کے لیے ایک برابر ہے کہ اللہ نے ان کی بخشش ہرگز نہیں کرنی۔ سو { اِستَغْفِرْ } کا صیغہ یہاں پر امر کے لئے نہیں خبر کے معنیٰ میں ہے۔ (صفوۃ البیان) ۔ یعنی ان بدبختوں کا کفر و نفاق اتنا سخت اور اس قدر سنگین ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ کا استغفار بھی اے پیغمبر ان کے لئے مفید نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتا جیسا کہ اہل بدعت وغیرہ کا کہنا ہے کیونکہ جو مختار کل ہوتا ہے وہ استغفار نہیں کیا کرتا کہ استغفار اور اختیار کلی کے درمیان منافات ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

منافقین کی کوئی بخشش نہیں تشریح : غزوہ تبوک کے بعد عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی سیدنا عمر ؓ نے منع کیا اور اس کی منافقانہ حرکتیں یاد دلائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ بخشش مانگو یا نہ مانگو بعد میں ان کی نماز جنازہ سے منع کردیا گیا۔ (صحیح بخاری، کتاب التفسیر) اس کے بعد اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ اگر ستر مرتبہ بھی آپ ان لوگوں کے لیے بخشش مانگیں تو بھی میں ان کو معاف نہیں کروں گا۔ کیونکہ ان کا کفر، شرک، منافقت اور بدعہدی اتنی بری عادتیں ہیں کہ اللہ ایسے نافرمان لوگوں کو ہرگز معاف نہ کریگا اور نہ ہی نیکی کی ہدایت دے گا۔ نفاق ان کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–80

آیات 73 تا 80 اسرار و معارف جہاد کا حکم ان آیات مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست کفا ر اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا جارہا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان امیریا مسلمان حکومت کبھی بھی فریضہ جہاد سے غافل نہ ہو سکیں کہ جب خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے تو اور کون مستثنے ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے جنگ کی جگہ جہاد کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں کفار جنگ کریں گے تو مقابلہ میں لڑنا جہاد ہے ۔ جہاں مسلمان کم ہوں اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس جگہ زبانی اور عملی تبلیغ جہاد ہوگا۔ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اسلام نے تو لڑائی کا حکم دے دیا اب مسلمان کہاں کہاں لڑتے پھریں گے پھر جہاں تعداد میں کم یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 کیونکہ بخشے جانے کے لائق نہیں ہیں۔ اس آیت میں ستر کا لفظ عربی محاورے کے مطابق کثرت کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی آپ ﷺ ان کے حق میں کتنا ہی استغفار کریں اللہ تعالیٰ انیں ہرگز بخشنے والا نہیں ہے۔ اس آیت کی تشریح میں شاہ صاحب فرماتے ہیں یہاں سے فرق نکلتا ہے بےاعتقاد اور گناہ گا رکا۔ گناہ ایسا کون سا ہے کہ پیغمبر ﷺ کے بخشانے سے بخشانہ جائے اور بےاعتقاد لوگ پیغمبر ﷺ کا ستر استغفار فائدہ اب بےاعتقاد لوگ پیغمبر کی شفاعت پر کس دلیل سے بھر وساکر سکتے ہیں۔ آدمی سے بدی ہو یا نماز روزہ نہ ہو اور وہ شرمندہ ہے تو وہ گنہگار ہے اور جو بد کام کو عیب نہ جا نے اور خدا کے عائد کردہ فرض کے کرنے اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:80) استغفرلہم اولا تستغفرلہم۔ استغفر فعل امر بمعنی خبر ہے تقدیر کلام یوں ہے استغفرت لہم یا محمد اولم تستغفرلہم فلن یغفر اللہ لہم (اے محمد ﷺ ) آپ ان کے لئے بخشش طلب کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کو نہیں بخشے گا۔ سبعاین مرۃ۔ ستر بار۔ ستر کا عدد مقررہ حد یا غائیت کے لئے نہیں بلکہ کثرت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–80

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 80 المطوعین (نیکی کرنے والے) لایجدون (وہ نہیں پاتے ہیں) جھدھم (اپنی کوشش اور محنت) یستخرون (وہ مذاق اڑاتے ہیں، مذاق کرتے ہیں) استغفر (دعائے مغفرت کر) سبعین (ستر) مرۃ (ایک مرتبہ، مرتبہ ) لنیغفر (وہ ہرگز معاف کرے گا) تشریح : آیت نمبر 79 تا 80 صحابہ کرام جو رسول اکرم ﷺ کے ایک اشارے پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے ان کو بھی جو میسر ہوتا وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے کم ہو یا زیادہ، منافقین جن کو صحابہ کرام کی جاں نثاری کا ہر انداز برا لگتا تھا کوئی بھی موقع ہوتا طعن و طنز سے باز نہیں آتے تھے اور ہر بات میں کوئی نہ کوئی ایسا پہلو نکال لیتے جس سے وہ اپنے دل…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

منافقوں کے لئے دعائے مغفرت کی مناہی (ممانعت) اس آیت میں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ ان منافق لوگوں کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے اور ایسے لوگوں کی مغفرت نہ ہونے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس لئے یہ لوگ ہرگز اس لائق نہیں ہیں ان کے واسطے استغفار کی دعا کی جاوے۔ کیونکہ اگر ستر بار بھی ان کے واسطے آپ استغفار کریں گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ اس واسطے کہ استغفار اور خطاوار کے حق میں فائدہ مند ہے نہ کہ جو سرے سے خدا اور رسول کے ساتھ کفر کرکے بغیر توبہ کے مر گئے۔ اس لئے ان میں کے جو لوگ اس حال میں مرگئے نہ تو ان کی مغفرت ہوسکتی ہے اور نہ ان کے زندہ لوگوں کو توبہ پر مجبور کیا جاوے گا۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–94

[49] یعنی ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے تاکہ یہ خوب مزے اڑا لیں تب ان کو وہاں سے پکڑے جہاں سے پکڑے جانے کا وہم و گمان بھی ان کو نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 79–80

جہد المقل : (ف 1) غریب غریب مسلمان جب اسلام کی محبت میں سرشار ہو کر داعیات وقت سے متاثر ہو کر رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہونے قلیل و حقیر پونجی آپ کے سپرد کردیتے ، تو یہ منافقین ہنستے ، کہتے واہ یہ بھی کوئی خیرات ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان غریبوں پر ہنسو مت ، یہ دل کے توانگر اور حاتم ہیں ، یہ مخلص ہیں اور تم سے بہرحال بہتر ہیں ، اللہ کی نظر کم پر نہیں ، کیف پر ہے ۔ (آیت) ” سخر اللہ منہم “۔ سے مقصود یہ ہے کہ انہیں جو سزا ملے گی ، وہ ان کے مزعومات کے خلاف ہوگی ، اور بالکل استہزاء کے مماثل ہوگی ، یہ دیکھیں گے کہ یہ جن اعمال پر دنیا میں غرور وناز کرتے تھے ، وہ اللہ کے ہاں کس درجہ حقیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

80 اے پیغمبر آپ ان منافقوں کے لئے خواہ استغفار کریں یا استغفار نہ کریں اگر آپ ان کے لئے ستر 70 مرتبہ بھی یعنی بکثرت استغفا کریں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا یہ عدم مغفرت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کفر و انکار کا ارتکاب کیا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے سرکش اور نافرمانوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں سے فرق نکلتا ہے اعتقاد کا اور گناہ گار کا گناہ ایسا کونسا ہے کہ پیغمبر کے بخشائے سے نہ بخشا جائے اور بےاعتقادی کو پیغمبر کی ستر 70 استغفار فائدہ نہ کرے اب جو بےاعتقاد لوگ بھروسہ کریں پیغمبر کی شفاعت پر کس دلیل سے مثلاً آدمی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 79–81

ف 4۔ تمسخر سے چونکہ زیادہ دل دکھتا ہے اس لیے اس کا ذکر وقوع اور جزادونوں میں خصوصیت کے ساتھ کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منافقین کے حق میں سخت گیری کی تاکید مزید اور استغفار کی ممانعت : 106: پیچھے آیت 73 میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین پر سختی کرنے کا حکم فرمایا۔ اس آیت نے اس سختی کی تشریح فرما دی کہ وہ سختی آپ کس طرح فرمائیں ؟ حکم ہوتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ تو سراپا رحمت و شفقت تھے اس وجہ سے ان منافقین کی تمام شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے باوجود ان کی اصلاح اور نجات میں لگے رہے اور ان کی فلاح آپ ﷺ کو اس قدر عزیز تھی کہ آپ ان کے لئے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ برابر اپنے رب کریم سے مغفرت طلب کرتے تھے یعنی دوسرے مسلمانوں کے ساتتھ ساتھ ان نام کے مسلمانوں کی اصلاح و فلاح کی دعائیں بھی کرتے رہتے تھے لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–81

Commentary Behavior patterns of hypocrites who did not take part in the battle of Tabuk, despite the general call of Jihad, continue to be the main theme since several previous verses. The current verses give another example of their behavior. Then, it was said that they will be punished in the Hereafter, their names will be eliminated from the list of the mujahidin of Islam forever in this mortal world and that they will never be allowed to take part in any future Jihad. The word: مُخَلَّفُونَ (those who were left behind - 81) is the plural of مُخَلَّفُ (mukhallaf) which means ` abandoned'…

Read the full tafseer →