At-Tawba 9:76

At-Tawba · from ayah 76

9:76

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۟فَلَمَّاۤ اٰتٰٮهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ بَخِلُوۡا بِهٖ وَتَوَلَّوْا وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when he gave them from His bounty, they were stingy with it and turned away while they refused.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:76

مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کر دیا تو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پروا تک نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو یہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کرکے منھ موڑ لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا تو اس میں بخل کرنے لگے، اور منہ موڑ کر چل دیے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس جب اس نے انہیں اپنے فضل سے (دولت) بخشی (تو) وہ اس میں بخل کرنے لگے اور وہ (اپنے عہد سے) روگردانی کرتے ہوئے پھر گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب اس نے انھیں اپنے فضل میں سے کچھ عطا فرمایا تو انھوں نے اس میں بخل کیا اور منہ موڑ گئے، اس حال میں کہ وہ بےرخی کرنے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب اللہ نے اپنی مہربانی سے مال عطا کردیا تو بخل کرنے لگے اور کمال بےاعتنائی سے (اپنے عہد سے) پھرگئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اللہ نے جب ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا تو وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور برگشتہ ہو کر منہ پھیر لیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر جب اللہ نے نواز دیا ان کو اپنے فضل سے تو یہ اس میں بخل کرنے لگے، اور یہ پھرگئے منہ موڑ کر،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیدیا تو لگے وہ اس میں بخل کرنے اور روگردانی کرنے اور منہ پھیرے ہوئے تو وہ تھے ہی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب اللہ نے انہیں نواز دیا اپنے فضل سے (غنی کردیا) تو انہوں نے اس دولت کے ساتھ بخل کیا اور پیٹھ موڑ لی اور اعراض کیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو مال دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور اپنے عہد سے پھرگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then, when He gave them out of His bounty, they grew niggardly and turned their backs (upon their covenant).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But when He gave them (wealth) out of His grace, they became stingy about it, and went back turning their faces away.

— Muhammad Taqi Usmani

But when He gave them (wealth) out of His grace, they became stingy about it, and went back turning their faces away.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then when He gave them of His bounty, they became stingy, and turned away, averse.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Yet when He gave them of His bounty, they hoarded it and turned away, averse;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when he gave them from His bounty, they were stingy with it and turned away while they refused.

— Saheeh International

But when His favors were bestowed on them, they became niggardly and in disregard broke their promise.

— Muhammad Sarwar

But when He gave them out of His grace, they became niggardly of it and they turned back and they withdrew.

— Muhammad Habib Shakir

Then when He gave them out of His grace, they became niggardly therewith and turned away as backsliders.

— Abdul Majid Daryabadi

But when He did bestow of His bounty, they became covetous, and turned back (from their covenant), averse (from its fulfilment).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–78

دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں لیکن جب اللہ نے اسے امیر اور خوشحال بنادیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لئے نفاق ڈال دیا۔ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے مالداری کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا تھوڑا مال جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے پھر دوبارہ بھی درخواست کی تو آپ نے پھر سمجھایا کہ تو اپنا حال اللہ کے نبی جیسا رکھنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 76–78

سورة التَّوْبَة 86 اوپر کی آیت میں ان منافقین کی جس کافر نعمتی و محسن کشی پر ملامت کی گئی تھی اس کا ایک اور ثبوت خود انہی کی زندگیوں سے پیش کر کے یہاں واضح کیا گیا ہے کہ دراصل یہ لوگ عادی مجرم ہیں، ان کے ضابطہ اخلاقی میں شکر، اعتراف نعمت، اور پاس عہد جیسی خوبیوں کا کہیں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

دوسری آیت وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ ، بھی ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے، جو ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص ثعلبہ ابن حاطب انصاری نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ درخواست کی کہ آپ دعاء کریں کہ میں مالدار ہوجاؤ ں، آپ نے فرمایا کہ کیا تم کو میرا طریقہ پسند نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں چاہتا تو مدینہ کے پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ پھرا کرتے، مگر مجھے ایسی مال داری پسند نہیں، یہ شخص چلا گیا، مگر دوبارہ پھر آیا اور پھر یہی درخواست اس معاہدہ کے ساتھ پیش کی کہ اگر مجھے مال مل گیا تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 75–77

5 7 تا 77: وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۔ اسلام کی بدولت مال دار بننے والوں کی کمزوری : یہ انہی اسلام کی بدولت مال دار بنے ہوئے کچھ لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جب یہ غریب تھے تو اس وقت تو ان کا حال یہ تھا کہ ہر جگہ یہ اپنے اس شوق اور اس تمنا کا اظہار کرتے پھرتے تھے کہ اگر ہمارے حالات بھی اللہ نے سدھار دیے تو ہم بھی خدا کی راہ میں خوب خرچ کریں گے اور دین کی بڑی بڑی خدمتیں کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کی تمنا پوری کردی اور دینے کا وقت آیاتو اس طرح منہ پھیر کر چل دیے ہیں گویا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 76–77

اس آیت کو بعض مفسرین نے ایک صحابی حضر ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں قرار دیا ہے لیکن سندا یہ صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس میں بھی منافقین کا ایک اور کردار بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 76–78

66: حضرت ابو امامہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص جس کا نام ثعبلہ بن حاطب تھا، آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور درخواست کی کہ آپ میرے لیے مال دار ہونے کی دعا فرمادیں۔ آپ نے شروع میں اسے سمجھایا کہ بہت مال دار ہونا مجھے اپنے لیے بھی پسند نہیں ہے۔ لیکن اس نے بار بار اصرار کیا، اور یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر میں مال دار ہوگیا تو ہر حق دار کو اس کا حق پہنچاؤں گا، آپ نے اس موقع پر حکیمانہ جملہ بھی ارشاد فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا تم شکر ادا کرسکو اس زیادہ مال سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کرسکو۔ اس پر بھی اس کا اصرار جاری رہا تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرما دی۔ چنانچہ وہ واقعی مال دار ہوگیا اور اس کے مال…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔ منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–76

5 ایک شخص ثعلبہ بن حاطب انصاری نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میرے حق میں دولت مند ہوجانے کی دعا فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ ثعلبہ ! تھوڑی چیز جس پر تو خدا کا شکر ادا کرے، اس بہت چیز سے اچھی ہے جس کے حقوق ادا نہ کرسکے۔ اس نے پھر وہی درخواست کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ثعلبہ ! کیا تجھے پسند نہیں کہ میرے نقش قدم پر چلے۔ آپ ﷺ کے انکار پر اس کا اصرار بڑھتا رہا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اگر خدا مجھ کو مال دے گا، میں پوری طرح حقوق ادا کروں گا۔ آخر حضور ﷺ نے دعا فرمائی، اس کی بکریوں میں اس قدر برکت ہوئی کہ مدینہ سے باہر ایک گاؤں میں رہنے کی ضرورت پڑی اور اتنا پھیلاوا ہوا کہ ان میں مشغول ہو کر رفتہ رفتہ جمعہ و جماعات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 74–76

آیت 74 یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ مَا قَالُوْا ط یہ جس بات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اٹھائیسویں پارے کی سورة المنافقون میں آئے گی۔ بہر حال یہاں صرف اتنا جان لینا ضروری ہے کہ تبوک سے واپسی کے سفر پر عبداللہ بن ابی کے منہ سے کسی نوجوان مسلمان نے غلط بات سنی تو اس نے آکر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کردیا۔ آپ ﷺ نے طلب فرما کر باز پرس کی تو وہ صاف مکر گیا کہ اس نوجوان نے خواہ مخواہ فتنہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَۃَ الْکُفْرِ عبداللہ بن ابی کے مکر جانے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو سچا قرار دیا اور اس منافق کے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا۔ وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلاَمِہِمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

92 منافقوں کا زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا :۔ یہ بھی کسی ایک شخص کی بات نہیں بلکہ منافقوں کی اکثریت ایسی ہی تھی کہ پہلے تو دعائیں مانگتے کہ ہم مال دار ہوجائیں پھر ہم اتنی اور اتنی خیرات کریں گے فلاں فلاں نیک کام کرینگے۔ اللہ کی شکر گزاری کریں گے۔ مگر جب ان پر اللہ اپنا فضل وکرم کرتا تو بخل کرنے لگتے اور یہ دعویٰ کرتے کہ یہ مال تو ہماری اپنی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے۔ حدیث میں منافق کی تین نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے اور ایک دوسری حدیث کے مطابق چوتھی علامت یہ ہے کہ جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔ حقیقت میں زکوٰۃ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

142 ۔ (یعنی ایمان ان کے دلوں سے مفقود تو پیشتر ہی سے تھا۔ فکر پر و اعمال ایمانی کی پہلے بھی نہ تھی، اب عمل بھی ترک کردیا۔ اے وھم قوم عادتھم الاعراض عن الطاعات فلاینکر منھم ھذا (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–80

آیت نمبر 73 تا 80 ترجمہ : اے نبی کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان وبرہان سے جہاد کیجئے، اور ان منافقوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور خفگی کے ذریعہ سختی سے پیش آئیے، (آخر کار) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور منافق اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گالی کی جو بات ہماری طرف سے آپ کو پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کہی، حالانکہ یقینا وہ کافرانہ بات انہوں نے کہی، اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے یعنی اسلام ظاہر کرنے کے بعد انہوں نے کفر ظاہر کیا، اور انہوں نے اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جو وہ نبی ﷺ کو قتل کے ارادہ سے تبوک سے لوٹتے وقت لیلة العقبہ میں کرنا چاہتے تھے اور وہ دس سے کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما اٰتٰھُم من فضلہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون۔ سو جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بہت سا مال دے دیا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے (زکوٰۃ نہ دی) اور اطاعت سے روگردانی کرنے لگے اور وہ تو (اطاعت سے) منہ موڑنے کے پہلے سے عادی ہیں۔ یعنی مال خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں ‘ حق اللہ ادا نہیں کرتے ‘ اللہ اور اس کے رسول کی طاعت سے منہ موڑ لیتے ہیں اور طاعت سے کترا جانا ان کی عادت ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 76–77

(76۔ 77) جب اللہ تعالیٰ نے ان کو شام والا مال دے دیا تو جو کچھ انہوں نے حقوق اللہ کی بجاآوری کا عہد کیا تھا اس میں بخل کرنے لگے تو اس وعدہ خلافی اور اس جھوٹ بولنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ان کے دلوں میں نفاق کو قائم کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–77

وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ : پہلے یہ لوگ فاقوں مرتے تھے اور ان کے شہر مدینہ جس کا نام ان دنوں یثرب تھا، اس کی بھی کوئی حیثیت نہ تھی، لیکن نبی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کا شہر پورے عرب کا مرکز بن گیا اور ان کی تجارت کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا اور جنگوں کی وجہ سے بہت سا مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ آیا، جس سے یہ لوگ مال دار ہوگئے۔ آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین اتنے احسان فراموش ہیں کہ اللہ اور رسول جن کی بدولت انھیں یہ خوش حالی نصیب ہوئی، انھی کے خلاف بگڑ کر یہ اپنے دلوں کا فساد ظاہر کر رہے ہیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد تو یہ کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنا فضل عطا کیا تو ہم صدقہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–78

آیت نمبر : 75۔ 78۔ اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ “۔ حضرت قتادہ (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ انصار میں سے ایک آدمی تھا اس نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے کوئی شے عطا فرمائی تو میں ضرور اس میں اس کا حق ادا کروں گا اور یقینا خیرات دوں گا، پس جب اللہ تعالیٰ نے اسے وہ عطا فرمایا تو اس نے وہ کیا جو تم پر بیان کیا گیا ہے، پس تم جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور تک پہنچا دیتا ہے، علی بن یزید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–78

ثعلبہ بن حاطب کا واقعہ : 1:۔ حسن بن سفیان وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والعسکر نے الامثال من والطبرانی وابن منذرو الباوردی وابو نعیم نے معرفتہ الصحابہ میں وابن مردویہ اور بیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابوامامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ ثعلبہ بن حاطب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ مجھ کو مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا اے ثعلبہ تجھ پر افسوس ہے۔ تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میری طرح ہوجائے اگر میں چاہتا تو میرا رب ان پہاڑوں کو میرے ساتھ چلاتا تو یقینا چل پڑتے اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو مال عطا فرمائے اس ذات کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّآ [پھر جب ] اٰتٰىهُمْ [ اس نے دیا ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ [ اپنے فضل سے ] بَخِلُوْا [ تو انھوں نے بخل کیا ] بِهٖ [ اس کے ساتھ ] وَتَوَلَّوْا [ اور روگردانی کی ] وَّهُمْ [ اور وہ ] مُّعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والے (ہی) تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اسی کو فرمایا (فَلَمَّآ اٰتٰھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ ھُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) (پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے مال عطا فرما دیا تو کنجوسی اختیار کرلی اور اعراض کرتے ہوئے رو گردانی کر گئے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–84

تفصیل جرائم منافقین قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔ (ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 75–77

72:“ وَ مِنْھُمْ مَّنْ الخ ” اس آیت میں ثعلبہ بن حاطب نامی منافق کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس نےحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یارسول اللہ ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بہت سی دولت عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا۔ اے ثعلبہ وہ تھوڑا سا مال جس کے تم حقوق ادا کرسکو اس کثیر مال سے بہتر ہے جس کے حقوق ادا کرنے سے تم قاصر رہو۔ ثعلبہ نے اصرار کیا اور کہا مجھے اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا اگر اس نے مجھے دولت دی تو میں اس میں سے تمام حقوق واجبہ ادا کروں گا۔حضور ﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمائی۔ ثعلبہ نے چند بکریاں خرید لیں اللہ نے ان میں اس قدر برکت ڈالی اور وہ اس قدر بڑھیں کہ اسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–78

ربط آیات : جہاد کی فرضیت اور پھر جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی مذمت بیان کی گئی۔ پھر منافقین کے خصائل اور ان کے انجام کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد اہل ایمان کے اوصاف جمیلہ اور ان کی کامیابی کا بیان ہوا۔ اللہ نے کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ فرمایا ان کے عیوب کو ظاہر کیا جائے اور زبانی طور پر ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی جائے تا کہ یہ لوگ جماعت المسلمین سے الگ ہوجائیں یا تائب ہو کر سچے مسلمان بن جائیں۔ اگر منافقین کافروں کے ساتھ رل مل جائیں گے تو پھر کافروں کی طرح ان کے خلاف بھی جہاد بالسیف جائز ہوجائیگا گذشتہ آیات میں بھی بعض خاص منافقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّآ اٰتٰىہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَتَوَلَّوْا وَّہُمْ مُّعْرِضُوْنَ۝ 76 لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–78

ترکیب : ماقالو ! جواب قسم یحلفون قسم کے قائم مقام مانقموا کا مفعول ان اغناھم اللّٰہ ای وما کرھوا الا غنا اللہ ایاھم لئن شرط لنصدقن جواب۔ تفسیر : ان آیات میں ان گمراہان ازلی کے شجر حیات کو قطع و برید کردینے کا حکم دیتا ہے کہ جن میں کسی قسم کا مادہ اصلاح باقی نہیں رہا۔ فقال جاھد الکفار و المنافقین واغلظ علیہم کہ ان لوگوں سے جہاد کر اور ان پر نرمی نہ کر جیسا کہ آپ کی عادت حمیدہ ہر شخص سے نرمی اور لطف کی ہے۔ کفار سے جہاد تلوار سے اور منافقین سے زبان سے کرو۔ ” ابن عباس۔ “ کیونکہ منافقین بظاہر مسلمان تھے ان کے قتل نہ کرنے کی وجہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمائی تھی کہ عرب یہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–77

وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَاللّٰہَ لَئِنْ اٰتٰـناَ مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ فَلَمَّآ اٰتٰـھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَ تَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوْبِھِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَآ اَخْلَفُوْااللّٰہَ مَاوَعَدُوْہُ وَبِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ (التوبۃ : 75 تا 77) (اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور خوب نیکیاں کرنے والوں سے میں سے ہوجائیں گے۔ تو اللہ نے جب ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا تو وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–77

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کا صدقہ کرنے کے بارے میں فکر و عمل۔ عام طور پر انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی عسر اور تنگدستی کی حالت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کی بار گاہ میں بار بار التجا کرتا ہے کہ اگر مجھے تو نگری عطا کردی جائے تو میں شکر ادا کرتے ہوئے تیری راہ میں بےدریغ خرچ کروں گا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوجائے تو پھر انسان کو کئی قسم کی سوچیں لاحق ہوجاتی ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنی ضروریات بڑھاتا چلا جاتا ہے کہ اگر فلاں کام مکمل ہونے کے بعد میں ضرور رب کی راہ میں خرچ کروں گا۔ بالآخر وہ بخل کی زنجیر میں اس طرح جکڑا جاتا ہے کہ جس سے نکلنا اس کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مال ملا تو بخل کرنے لگے : آیت 76: فَلَمَّآ ٰاتٰھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ (پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دے دیا) اللہ تعالیٰ نے ان کو دے دیا اور انہوں نے اپنی تمنا پالی۔ بَخِلُوْا بِہٖ (تو وہ اس میں بخل کرنے لگے) انہوں نے اللہ تعالیٰ کا حق روک لیا اور وعدہ وفائی نہ کی۔ وَتَوَلَّوْا (اور روگردانی کرنے لگے) اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ (اور وہ تو روگردانی کے عادی ہیں) اعراض پر انکا اصرار قائم رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

ثعلبہ کے بارے میں آیت کا نزول تفسیر :۔” ومنھم من عاھد اللہ لئن اتنا من فضلہ۔۔۔۔۔۔۔ وبما کانوا یکذبون “ اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس ثعلبہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے کوئی بیٹھا تھا۔ اس نے یہ بات سنی تو ثعلبہ کے پاس گیا اور کہا ” ویحک یا لعلبۃ “ تیرا ناس ہوا اے ثعلبہ ! اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں یہ آیت نازل کی ہے تو ثعلبہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ آپ (علیہ السلام) اس کا صدقہ قبول کرلیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع کردیا ہے تو وہ اپنے سر میں مٹی ڈالنے لگا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تیرا اپنا عمل ہے میں نے تجھے حکم دیا تھا تو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–78

75۔ 78۔ اللہ پاک نے ان آیتوں میں فرمایا کہ بعضے منافق ایسے بھی ہیں جو قول وقرار کر کے پھرجاتے ہیں اپنا عہد و پیمان پورا نہیں کرتے ہیں ان کے دلوں میں مرتے دم تک منافق اپنے کا اثر رہے گا مطلب یہ ہے کہ مرتے دم تک ایسے لوگوں کو توبہ کی توفیق نہ ہوگی طبرانی ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابوامامہ ؓ اور عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب انصاری تھا اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ میرے واسطے دعا کریں کہ میں مالدار ہوجاؤں آپ نے فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا شکر بندے سے ادا ہو سکے وہی بہتر ہے اور اگر خدا نے زیادہ دولت دی انسان غفلت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–80

آیت 75 ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا (لئن اتنا من فضلہ) ” اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔ ‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے (لنصدقن ولنکونن من الصلحین) ” تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکو کاروں میں سے ہوجائیں گے۔ “ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔ (فلما اتھم من فضلہ) ” پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے ” تو انہوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ (بخلوا بہ) ” بخل کیا ساتھ اس کے “ (وتولوا) اور اطاعت سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری فلما اتاھم من فضلہ بخلوا بہ میں منافقین کو سختی سے بھڑکا گیا ہے کہ انہوں نے جس چیز کی نذر مانی تھی اسے بعینہٖ وہ پورا نہ کرسکے۔ یہ بات ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو کسی معین چیز کی نذر ماننے کی صورت میں قسم کا کفارہ لازم کردیتے ہیں اور جس چیز کی نذر مانی ہے بعینہٖ اس چیز کی ادائیگی کے ایجاب کو باطل قرار دیتے ہیں ۔ یہ قول باری نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کردینے کے جواز پر بھی دلالت کرتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں شخص آ جائے تو مجھ پر اللہ کے لیے صدقہ یا روزہ ہے۔ یہ اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ جو نذر ملکیت کی طرف نسبت کر کے مانی جائے اس کا ایجاب ملکیت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

155 ایک سبق آموز اور عبرتناک قصے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے شخص نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں نواز دیا تو ہم خوب خیرات کریں گے اور بڑے نیک بن جائیں گے اپنے مال کو نیک کاموں میں صرف کر کے۔ کہ اس طرح ہم خوب ثواب کمائیں گے۔ روایات کے مطابق یہ آیات کریمہ ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئیں۔ عام روایات میں اسی کا ذکر ہے۔ جبکہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ انصاری صحابی نہیں بلکہ یہ اسی نام کا کوئی اور شخص تھا (حاشیہ صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جو بھی ہو ثعلبہ نامی اس شخص نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! میرے حق میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–79

منافقوں کا زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا تشریح : ان آیات میں بھی منافقین مشرکین اور کفا رکی بدعہدی شرارتوں خباثتوں اور نالائقیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کی مغفرت نہ ہونے اور ان کے دلوں کی ہمیشہ کے لیے منافقت میں ڈوبے رہنے اور بالآخر روز قیامت ان کی سزا اور بدترین عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب اسی لیے کہ وہ ہر دفعہ ہر موقع پر بدعہدی کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے اور اللہ و رسول ﷺ سے کفر کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–80

آیات 73 تا 80 اسرار و معارف جہاد کا حکم ان آیات مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست کفا ر اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا جارہا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان امیریا مسلمان حکومت کبھی بھی فریضہ جہاد سے غافل نہ ہو سکیں کہ جب خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے تو اور کون مستثنے ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے جنگ کی جگہ جہاد کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں کفار جنگ کریں گے تو مقابلہ میں لڑنا جہاد ہے ۔ جہاں مسلمان کم ہوں اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس جگہ زبانی اور عملی تبلیغ جہاد ہوگا۔ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اسلام نے تو لڑائی کا حکم دے دیا اب مسلمان کہاں کہاں لڑتے پھریں گے پھر جہاں تعداد میں کم یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 75–77

ف 1 حضرت ابو امامہ ؓ باہلی سے روایت ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے کہ میں مالدار ہوجاؤں۔ نبی ﷺ نے اسے بہتیرا سمجھا یا کہ اے ثعلبہ ! تھوڑا سامال جس پر تم اللہ کا شکر ادا کرو زیادہ مال سے بہتر ہے جس پر تم اس کا شکر ادا نہ کرو مگر وہ نہ مانا اور بار بار دعا کی درخواست کرتا رہا۔ آخر نبی ﷺ نے اس کے لیے دیا فرمائی اور وہ شخص اتنا مالدار ہوگیا کہ اس کی بھیڑیں مدینہ میں نہ سماتی تھیں اور اسے مدینہ چھوڑ کر باہر سکونت اختیار کرنی پڑی۔ پہلے وہ باقاعدہر نماز میں شریک ہوتا تھا مگر آہستہ آہستہ اس نے نمازوں میں شریک ہونا چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ جمعہ اور نماز…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:76) معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ رخ گردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ اگر اعراض کے بعد عن آئے تو رخ پھیر لینے اور منہ موڑنے کے۔ اور اجتناب کرنے کے معنی ہوتے ہیں۔ فاعرض عنہم وعظہم (4:63) تم ان سے اعراض برتو۔ اور نصیحت کرتے رہو۔ یا ومن اعرض عن ذکری (20:124) اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا۔ اور بغیر عن بھی کثرت استعمال کی وجہ سے منہ موڑنے کے معنی میں آتا ہے ۔ مثلاً فاعرضوا فارسلنا علیہم (34:16) تو انہوں نے شکر گزاری سے منہ موڑ لیا پس ہم نے چھوڑ دیا ان پر ۔۔ اور اگر اعراض کے بعد علی آئے تو سامنے رکھنا۔ پیش کرنا کے معنی دیتا ہے۔ مثلاً ثم عرضہم علی الملئکۃ (2:31) پھر اس نے ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 74–78

لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 78 ھموا (ارادہ کیا) لم ینالوا (ان کو نہیں ملا) مانقموا (انہوں نے بدلہ نہیں لیا) اغنی (بےنیاز کردیا) خیر (زیادہ بہتر) لئن اثنا (البتہ اگر ہمیں دیا) لنصدقن (البتہ ہم صدقہ کریں گے) لنکوتن (البتہ ہم ضرور ہوں گے) بخلوا (انہوں نے کنجوسی کی) اعقب (نتیجہ یہ ہوا) یوم یلقونہ (جس دن اس سے ملیں گے) اخلقوا (انہوں نے خلاف کیا) الم یغلموا (کیا وہ نہیں جانتے) سر (بھید، چھپی ہوئی چیز) نجوی (سرگوشی، کان میں چپکے چپکے باتیں کرنا غلام الغیوب (غیبوں کا جاننے والا) تشریح :- آیت نمبر 74 تا 78 منافقین کس حد تک جھوٹے ہیں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اللہ سے وعدہ خلافی کرتے ہیں اس کی گواہی میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–78

کافروں اور منافقوں کی وعدہ خلافی اور دیگر صفات شان نزول : اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافقوں کی وعدہ خلافی کا ذکر فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حطب انصاری تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے اس عہد پر دعا کرائی تھی کہ اللہ مجھ کو مال دے گا تو میں خیرات دوں گا اور نیکی کروں گا۔ جب آنحضرت ﷺ کی دعا سے اس کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں ہوگئیں کہ مدینہ کے جنگل میں نہ سماسکیں تو دور لے گیا، جمعہ وجماعت ترک کردی۔ پھر جو آنحضرت ﷺ کی طرف سے دو شخص زکوٰۃ لینے گئے تو نہ دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی پھر تھوڑے دنوں کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس زکوٰۃ لے کر آیا آپ نے قبول نہ کی، اور آنحضرت ﷺ کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–78

[46] منافقین اپنی مجلس میں نبی ﷺ کا مذاق اڑایا کرتے اور جب پکڑے جاتے تو کہتے کہ ہم نے کچھ نہیں کہا۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ [47] اشارہ ہے اس سازش کی طرف جو تبوک سے واپسی کے موقع پر منافقوں نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے کی تھی۔ [48] یہ ایک لطیف طنز منافقوں کی کمینہ فطرت پر ہے۔ فرمایا کہ ہمارے نبی پر ان منافقین کا سارا غصہ اس کے اس '' قصور '' کی پاداش میں ہے جس کی بدولت وہ مالدار ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–78

ثعلبہ اور نفس انسانی : (ف 1) اس ضمن میں ثعلبہ کا قصہ مشہور ہے وہ خاصا مسلمان تھا ، نمازیں پڑھتا مسجد میں حاضر رہتا ، حضور ﷺ نے اس کی خواہش کی بنا پر دعاء کی اور وہ دولتمند ہوگیا ، مدینے سے باہر ڈیرے ڈال دیئے ، مسجد کی حاضری کم ہوگئی ، نماز کی پابندی جاتی رہی ، جمعہ جنازہ میں بھی شرکت سے محروم ہوگیا ، اور آخر تمام پابندیوں سے بےنیاز ہوگیا ، اور اصل بات یہ ہے کہ ہر انسانی نفسیات کی تشریح ہے نفاق کی تفصیل میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے ، وہ عام انسانوں کی نفسی کمزوریاں ہیں مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے خطرات قلب سے آگاہی حاصل ہو ، اور ہم معنوں میں اللہ کے فرمانبردار ثابت ہوں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

76 پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے مال عطا کیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور بخیل بن گئے اور روگرداں ہوکر اپنے عہد سے پھرگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–77

ف 2۔ ثعلبہ بن ابی حاطب نامی ایک شخص نے آپ سے کثرت مال کی دعا کرائی آپ نے سمجھایا کہ مصلحت نہیں اس نے کہ میں نیک کاموں میں صرف کیا کروں گا غرض آپ کی دعا سے وہ مال دار ہوگیا جب زکوة کا وقت آیا تو کہنے لگا کہ اس میں اور جزیہ میں کیا فرق ہے اور زکوة نہ دی اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب مال مل گیا تو وہ آنکھیں پھیر گئے اور لگے کنجوسی کرنے : 102: اوپر ہم نے حاتم طائی ہونے کی بجائے ثعلبہ ہونے کا ذکر کیا تھا اس لحاظ سے ایک واقعہ سنانا ضروری خیال کیا گیا ہے۔ روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب بنی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے مالدار کردے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے ثعلبہ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ تم میری طرح ہو ؟ اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے کے بن جاتے لیکن اس نے پھر وہی عرض کی اور کہنے لگا اگر مجھے دولت مل گئی تو میں یقیناً ہر حق دار کا حق ادا کروں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے ثعلبہ ! تھوڑا مال جس کا تم شکر اد کرسکو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–77

Verse 77: فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ (So Allah, in turn, put hypocrisy in their hearts) points out to its cause which lies in their lying and pledge breaking. As a consequence, Allah made the hypocrisy of their hearts become deep and firm. Now, they would just not have the ability to make Taubah itself. A serious note of warning From here we learn that there are occasions when the curse of evil deeds assumes alarming proportions, so much so that one is deprived of the very ability (taufiq) of making Taubah. May Allah protect us from this misfortune! Let us now go back to the…

Read the full tafseer →