Explained with ayahs 75–78
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں لیکن جب اللہ نے اسے امیر اور خوشحال بنادیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لئے نفاق ڈال دیا۔ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے مالداری کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا تھوڑا مال جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے پھر دوبارہ بھی درخواست کی تو آپ نے پھر سمجھایا کہ تو اپنا حال اللہ کے نبی جیسا رکھنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
سورة التَّوْبَة 86
اوپر کی آیت میں ان منافقین کی جس کافر نعمتی و محسن کشی پر ملامت کی گئی تھی اس کا ایک اور ثبوت خود انہی کی زندگیوں سے پیش کر کے یہاں واضح کیا گیا ہے کہ دراصل یہ لوگ عادی مجرم ہیں، ان کے ضابطہ اخلاقی میں شکر، اعتراف نعمت، اور پاس عہد جیسی خوبیوں کا کہیں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(آیت) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بد عملی اور بد عہدی کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں نفاق کو اور پختہ کردیا، کہ اب ان کو توبہ کی توفیق ہی نہ ہوگی۔
فائدہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال بد کی نحوست ایسی ہوتی ہے کہ توبہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے، نعوذ با للہ منہ
ابن جریر نے حضرت ابو امامہ کی تفصیلی روایت جو ابھی ذکر کی گئی ہے اس کے آخر میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ثعلبہ کے لئے یا ویح ثعلبہ تین مرتبہ فرمایا تو اس مجلس میں ثعلبہ کے کچھ عزیز و اقارب بھی موجود تھے، یہ سن کر ان میں سے ایک آدمی فورًا سفر کر کے ثعلبہ کے پاس پہونچا، اور اس کو ملامت کی اور بتلایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
5 7 تا 77: وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۔ اسلام کی بدولت مال دار بننے والوں کی کمزوری : یہ انہی اسلام کی بدولت مال دار بنے ہوئے کچھ لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جب یہ غریب تھے تو اس وقت تو ان کا حال یہ تھا کہ ہر جگہ یہ اپنے اس شوق اور اس تمنا کا اظہار کرتے پھرتے تھے کہ اگر ہمارے حالات بھی اللہ نے سدھار دیے تو ہم بھی خدا کی راہ میں خوب خرچ کریں گے اور دین کی بڑی بڑی خدمتیں کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کی تمنا پوری کردی اور دینے کا وقت آیاتو اس طرح منہ پھیر کر چل دیے ہیں گویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اس آیت کو بعض مفسرین نے ایک صحابی حضر ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں قرار دیا ہے لیکن سندا یہ صحیح نہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس میں بھی منافقین کا ایک اور کردار بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
66: حضرت ابو امامہ ؓ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص جس کا نام ثعبلہ بن حاطب تھا، آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور درخواست کی کہ آپ میرے لیے مال دار ہونے کی دعا فرمادیں۔ آپ نے شروع میں اسے سمجھایا کہ بہت مال دار ہونا مجھے اپنے لیے بھی پسند نہیں ہے۔ لیکن اس نے بار بار اصرار کیا، اور یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر میں مال دار ہوگیا تو ہر حق دار کو اس کا حق پہنچاؤں گا، آپ نے اس موقع پر حکیمانہ جملہ بھی ارشاد فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا تم شکر ادا کرسکو اس زیادہ مال سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کرسکو۔
اس پر بھی اس کا اصرار جاری رہا تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرما دی۔ چنانچہ وہ واقعی مال دار ہوگیا اور اس کے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔
منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی…
Read the full tafseer →6 یعنی خدا سے صریح وعدہ خلافی کرنے اور جھوٹ بولتے رہنے کی سزا میں ان کے بخل و اعراض کا اثر یہ ہوا کہ ہمیشہ کے لیے نفاق کی جڑ ان کے دلوں میں قائم ہوگئی جو قیامت تک نکلنے والی نہیں۔ اور یہ ہی " سنت اللہ " ہے کہ جب کوئی شخص اچھی یا بری خصلت خود اختیار کرلیتا ہے تو کثرت سے مزاولت و ممارست سے وہ دائمی بن جاتی ہے۔ بری خصلت کے اسی دوام و استحکام کو کبھی کبھی ختم و طبع (مہر لگانے) سے تعبیر کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
آیت 77 فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِہِمْ
اللہ سے وعدہ کر کے اس سے پھرجانے کی دنیا میں یہ نقدسزا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق پیدا فرما دیتے ہیں ‘ اور بدقسمتی سے یہی روگ آج مسلمانان پاکستان کے دلوں میں پیدا ہوچکا ہے۔ گویا پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی اس سزا کی مستحق ہوچکی ہے۔ مسلمانان برصغیر نے تحریک پاکستان کے دوران اللہ سے ایک وعدہ کیا تھا اور یہ وعدہ ایک نعرہ بن کر بچے بچے کی زبان پر آگیا تھا : پاکستان کا مطلب کیا ؟ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ! گویا دنیا کے نقشے پر یہ نیا ملک اسلام کے نام پر بنا ‘ اسلام کے لیے بنا۔ اس ضمن میں ہندوستان کے مسلمانوں نے تو ووٹ دے کر اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
93 ان آیات سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جو شخص اپنے دل کی خوشی کے بجائے زکوٰۃ کو تاوان سمجھ کر یا معاشرہ کے دباؤ کے تحت مجبور ہو کر بادل نخواستہ زکوٰۃ ادا کرے وہ منافق ہے اور دوسرے یہ کہ ایسے منافق کی زکوٰۃ قبول نہیں کی جائے گی اور اگر وہ ازخود ادا کر بھی دے تو اس کا آخرت میں اسے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ منافقوں کا قصور یہی نہیں ہوتا تھا کہ دعا کے وقت جو وہ انفاق فی سبیل اللہ کا وعدہ کرتے تھے وہ پورا نہ کرتے تھے بلکہ آپ کے محصل کے سامنے جھوٹ بول کر ٹال مٹول بھی کرتے رہتے تھے۔ جبکہ آج کل کے بعض نام نہاد مسلمانوں کا بھی یہی وطیرہ ہے۔
Read the full tafseer →143 ۔ (شروع ہی سے) ” یعنی نیت ایفاء کی اس وقت بھی نہ تھی، پس نفاق تو اس وقت بھی دل میں تھا جس کی فرع یہ کذب واخلاف ہے۔ پھر اس کذب واخلاف کے وقوع سے اور زیادہ مستحق غضب ہوئے اور اس زیادت غضب کا اثر یہ ہوا کہ وہ نفاق سابق اب دائم وغیرزائل ہوگیا کہ توبہ بھی نصیب نہ ہوگی، اسی حالت پر مر کر ابد الآباد جہنم میں رہنا نصیب ہوگا “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” فاعقبھم “۔ الخ یعنی چونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے گمراہی اختیار کرلی، اللہ بھی ان کے ارادہ کے خلاف ان کی گمراہی کو ہدایت سے نہ بدلے گا، اور انہوں بدستور اسی حال میں پڑا رہنے دے گا۔ قال الزجاج ان معناہ انھم لما ضلوا فی الماضی فھو تعالیٰ اضلھم عن الدین فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
آیت نمبر 73 تا 80
ترجمہ : اے نبی کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان وبرہان سے جہاد کیجئے، اور ان منافقوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور خفگی کے ذریعہ سختی سے پیش آئیے، (آخر کار) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور منافق اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گالی کی جو بات ہماری طرف سے آپ کو پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کہی، حالانکہ یقینا وہ کافرانہ بات انہوں نے کہی، اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے یعنی اسلام ظاہر کرنے کے بعد انہوں نے کفر ظاہر کیا، اور انہوں نے اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جو وہ نبی ﷺ کو قتل کے ارادہ سے تبوک سے لوٹتے وقت لیلة العقبہ میں کرنا چاہتے تھے اور وہ دس سے کچھ…
Read the full tafseer →فاعقبھم نفاقًا فی قلوبھم الی یوم یلقونہ سو اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں ان کے دلوں کے اندر نفاق قائم کردیا جو اللہ کے پاس جانے کے دن تک رہے گا۔
یعنی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے یا بخل نے ان کے دلوں میں بداعتقادی پیدا کردی۔ انہوں نے اللہ کے ادائے زکوٰۃ کے حکم کی تعمیل واجب نہ سمجھی اور وجوب زکوٰۃ کا انکار کردیا اور اس کو جزیہ کی طرح قرار دیا اور یہ بداعتقادی ان کے دلوں میں مرتے دم تک رہے گی ‘ یا قیامت کے دن تک رہے گی جبکہ کرتوت کی سزا ان کے سامنے آئے گی ‘ یا قبر میں (عذاب سامنے) آنے تک رہے گی۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ نے توبہ سے ان کو محروم کردیا ‘ ان کی موت نفاق پر ہوگی۔
بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
(76۔ 77) جب اللہ تعالیٰ نے ان کو شام والا مال دے دیا تو جو کچھ انہوں نے حقوق اللہ کی بجاآوری کا عہد کیا تھا اس میں بخل کرنے لگے تو اس وعدہ خلافی اور اس جھوٹ بولنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ان کے دلوں میں نفاق کو قائم کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ : پہلے یہ لوگ فاقوں مرتے تھے اور ان کے شہر مدینہ جس کا نام ان دنوں یثرب تھا، اس کی بھی کوئی حیثیت نہ تھی، لیکن نبی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کا شہر پورے عرب کا مرکز بن گیا اور ان کی تجارت کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا اور جنگوں کی وجہ سے بہت سا مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ آیا، جس سے یہ لوگ مال دار ہوگئے۔ آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین اتنے احسان فراموش ہیں کہ اللہ اور رسول جن کی بدولت انھیں یہ خوش حالی نصیب ہوئی، انھی کے خلاف بگڑ کر یہ اپنے دلوں کا فساد ظاہر کر رہے ہیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد تو یہ کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنا فضل عطا کیا تو ہم صدقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
آیت نمبر : 75۔ 78۔
اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ “۔ حضرت قتادہ (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ انصار میں سے ایک آدمی تھا اس نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے کوئی شے عطا فرمائی تو میں ضرور اس میں اس کا حق ادا کروں گا اور یقینا خیرات دوں گا، پس جب اللہ تعالیٰ نے اسے وہ عطا فرمایا تو اس نے وہ کیا جو تم پر بیان کیا گیا ہے، پس تم جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور تک پہنچا دیتا ہے، علی بن یزید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
ثعلبہ بن حاطب کا واقعہ :
1:۔ حسن بن سفیان وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والعسکر نے الامثال من والطبرانی وابن منذرو الباوردی وابو نعیم نے معرفتہ الصحابہ میں وابن مردویہ اور بیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابوامامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ ثعلبہ بن حاطب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ مجھ کو مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا اے ثعلبہ تجھ پر افسوس ہے۔ تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میری طرح ہوجائے اگر میں چاہتا تو میرا رب ان پہاڑوں کو میرے ساتھ چلاتا تو یقینا چل پڑتے اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو مال عطا فرمائے اس ذات کی…
Read the full tafseer →فَاَعْقَبَهُمْ [ تو اس نے بدلے میں دیا ان کو ] نِفَاقًا [ ایک نفاق ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں میں ] اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ [ اس سے ملنے کے دن تک ] بِمَآ [ بسبب اس کے جو ] اَخْلَفُوا [انھوں نے خلاف کیا ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] مَا [ اسکے جو ] وَعَدُوْهُ [ انھوں نے وعدہ کیا ] وَبِمَا [اور بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ [ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے ]
(آیت ۔ 77) الی یوم نہیں آیا ہے بلکہ الی یوم آیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ یوم مضاف ہے اور یلقونہ پورا جملہ فعلیہ مضاف الیہ ہے ۔ یہ عربی کی مخصوص ترکیب ہے جو اردو میں مستعمل نہیں ہے۔ اس لیے یلقون کا ترجمہ مضارع کے طور پر کرنے کے بجائے مصدر…
Read the full tafseer →(فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰہَ مَا وَعَدُوْہُ وَ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ ) (سو اللہ نے اپنی ملاقات کے دن تک ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی کی اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–84
تفصیل جرائم منافقین
قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔
(ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں
نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں
ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
72:“ وَ مِنْھُمْ مَّنْ الخ ” اس آیت میں ثعلبہ بن حاطب نامی منافق کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس نےحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یارسول اللہ ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بہت سی دولت عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا۔ اے ثعلبہ وہ تھوڑا سا مال جس کے تم حقوق ادا کرسکو اس کثیر مال سے بہتر ہے جس کے حقوق ادا کرنے سے تم قاصر رہو۔ ثعلبہ نے اصرار کیا اور کہا مجھے اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا اگر اس نے مجھے دولت دی تو میں اس میں سے تمام حقوق واجبہ ادا کروں گا۔حضور ﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمائی۔ ثعلبہ نے چند بکریاں خرید لیں اللہ نے ان میں اس قدر برکت ڈالی اور وہ اس قدر بڑھیں کہ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
ربط آیات :
جہاد کی فرضیت اور پھر جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی مذمت بیان کی گئی۔ پھر منافقین کے خصائل اور ان کے انجام کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد اہل ایمان کے اوصاف جمیلہ اور ان کی کامیابی کا بیان ہوا۔ اللہ نے کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ فرمایا ان کے عیوب کو ظاہر کیا جائے اور زبانی طور پر ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی جائے تا کہ یہ لوگ جماعت المسلمین سے الگ ہوجائیں یا تائب ہو کر سچے مسلمان بن جائیں۔ اگر منافقین کافروں کے ساتھ رل مل جائیں گے تو پھر کافروں کی طرح ان کے خلاف بھی جہاد بالسیف جائز ہوجائیگا گذشتہ آیات میں بھی بعض خاص منافقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔…
Read the full tafseer →فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِہِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَہٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللہَ مَا وَعَدُوْہُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ 77
عقب
العَقِبُ : مؤخّر الرّجل، وقیل : عَقْبٌ ، وجمعه : أعقاب، وروي : «ويل للأعقاب من النّار» واستعیر العَقِبُ للولد وولد الولد . قال تعالی: وَجَعَلَها كَلِمَةً باقِيَةً فِي عَقِبِهِ [ الزخرف/ 28] ، وعَقِبِ الشّهر، من قولهم : جاء في عقب الشّهر، أي : آخره، وجاء في عَقِبِه : إذا بقیت منه بقيّة، ورجع علی عَقِبِه : إذا انثنی راجعا، وانقلب علی عقبيه، نحو رجع علی حافرته ونحو : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وقولهم : رجع عوده علی بدئه قال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
ترکیب : ماقالو ! جواب قسم یحلفون قسم کے قائم مقام مانقموا کا مفعول ان اغناھم اللّٰہ ای وما کرھوا الا غنا اللہ ایاھم لئن شرط لنصدقن جواب۔
تفسیر : ان آیات میں ان گمراہان ازلی کے شجر حیات کو قطع و برید کردینے کا حکم دیتا ہے کہ جن میں کسی قسم کا مادہ اصلاح باقی نہیں رہا۔ فقال جاھد الکفار و المنافقین واغلظ علیہم کہ ان لوگوں سے جہاد کر اور ان پر نرمی نہ کر جیسا کہ آپ کی عادت حمیدہ ہر شخص سے نرمی اور لطف کی ہے۔ کفار سے جہاد تلوار سے اور منافقین سے زبان سے کرو۔ ” ابن عباس۔ “ کیونکہ منافقین بظاہر مسلمان تھے ان کے قتل نہ کرنے کی وجہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمائی تھی کہ عرب یہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَاللّٰہَ لَئِنْ اٰتٰـناَ مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ فَلَمَّآ اٰتٰـھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَ تَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوْبِھِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَآ اَخْلَفُوْااللّٰہَ مَاوَعَدُوْہُ وَبِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ
(التوبۃ : 75 تا 77)
(اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور خوب نیکیاں کرنے والوں سے میں سے ہوجائیں گے۔ تو اللہ نے جب ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا تو وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کا صدقہ کرنے کے بارے میں فکر و عمل۔
عام طور پر انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی عسر اور تنگدستی کی حالت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کی بار گاہ میں بار بار التجا کرتا ہے کہ اگر مجھے تو نگری عطا کردی جائے تو میں شکر ادا کرتے ہوئے تیری راہ میں بےدریغ خرچ کروں گا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوجائے تو پھر انسان کو کئی قسم کی سوچیں لاحق ہوجاتی ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنی ضروریات بڑھاتا چلا جاتا ہے کہ اگر فلاں کام مکمل ہونے کے بعد میں ضرور رب کی راہ میں خرچ کروں گا۔ بالآخر وہ بخل کی زنجیر میں اس طرح جکڑا جاتا ہے کہ جس سے نکلنا اس کے لیے…
Read the full tafseer →پھر جب مال سے نفاق دل میں گھر گیا :
آیت 77: فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق قائم کردیا) بخل نے ان کے دلوں میں نفاق کو پختہ کردیا کیونکہ نفاق کا وقتی سبب یہی بنا۔ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ (جو اللہ تعالیٰ کے پاس جانے کے دن تک رہے گا) اپنے فعل کی سزا پائیں گے وہ دن قیامت کا ہے۔ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰہَ مَا وَعَدُوْہُ وَبِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ (اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنے وعدہ میں خلاف ورزی کی اور اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے) اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو صدقہ، صلاح کا وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی تو…
Read the full tafseer →تفسیر 77۔” فاعقبھم “ ان کے پیچھے لایا نفاقاً فی قلوبھم “ یعنی ان کے معاملہ کا انجام نفاق کردیا ۔ کہا جاتا ہے اعقب فلہ تاندامۃ جب اس کے کام کا انجام یہ ہو اور بعض نے کہا ہے انکا انجام ان کے دلوں کا نفاف کردیا ۔ عاقبۃ اور اعقبۃ ایک معنی میں ہیں ” الی یوم یلقونہ “ یعنی قیامت تک ان پر توبہ حرام کردی ۔ ” بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ وبما کانوا یکذبون “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے خلاف ورزی کرے اور جب امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
75۔ 78۔ اللہ پاک نے ان آیتوں میں فرمایا کہ بعضے منافق ایسے بھی ہیں جو قول وقرار کر کے پھرجاتے ہیں اپنا عہد و پیمان پورا نہیں کرتے ہیں ان کے دلوں میں مرتے دم تک منافق اپنے کا اثر رہے گا مطلب یہ ہے کہ مرتے دم تک ایسے لوگوں کو توبہ کی توفیق نہ ہوگی طبرانی ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابوامامہ ؓ اور عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب انصاری تھا اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ میرے واسطے دعا کریں کہ میں مالدار ہوجاؤں آپ نے فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا شکر بندے سے ادا ہو سکے وہی بہتر ہے اور اگر خدا نے زیادہ دولت دی انسان غفلت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–80
آیت 75
ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا (لئن اتنا من فضلہ) ” اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔ ‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے (لنصدقن ولنکونن من الصلحین) ” تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکو کاروں میں سے ہوجائیں گے۔ “ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔ (فلما اتھم من فضلہ) ” پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے ” تو انہوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ (بخلوا بہ) ” بخل کیا ساتھ اس کے “ (وتولوا) اور اطاعت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
قول باری ہے فاعقبھم نفاقاً فی قلوبھم نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھادیا حسن کا قول ہے کہ اپنی نذر میں کنجوسی کرنے اور اسے پورا نہ کرنے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھادیا ۔ مجاہد کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے نتیجے میں انہیں توبہ کرنے سے محروم کردیا جس طرح ابلیس کو توبہ سے محروم کردیا گیا ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس بات پر دلالت قائم کردی گئی ہے کہ وہ کبھی بھی توبہ نہیں کرے گا ۔ اس میں اس کی سیہ کاریوں پر اسکی مذمت کی گئی ہے۔ قول باری ہے الی یوم یلقونہ اس دن تک کے لیے جب خدا کے سامنے ان کی پیشی ہوگی ۔ ایک قول کے مطابق اس دن وہ اپنے بخل کی سزا پالیں گے۔…
Read the full tafseer →156 برا عمل برے انجام کا باعث۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے نتیجے میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق کو بٹھا دیا۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ برا عمل برے انجام کا باعث بنتا ہے۔ اور برائی کی نقد سزا کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ اس سے انسان نیکی اور بھلائی سے محروم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ نیکی اور بھلائی کی ایک فوری اور نقد جزا یہ بھی ہے کہ اس سے انسان کو مزید نیکی اور بھلائی کا موقع ملتا ہے۔ روایات میں وارد ہے " اِنَّ مِنْ جَزَائِ الْحَسَنَۃِ الْحَسَنَۃ بَعْْدَہَا وَاِنَّ مِنْ جَزَائِ السَّیَّئَۃِ السَّیَّئَۃُ بَعْدَہَا " اور اسی لئے کہا جاتا ہے کہ گناہ کفر و نفاق کا ذریعہ اور راستہ ہیں " المعاصی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
منافقوں کا زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا
تشریح : ان آیات میں بھی منافقین مشرکین اور کفا رکی بدعہدی شرارتوں خباثتوں اور نالائقیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کی مغفرت نہ ہونے اور ان کے دلوں کی ہمیشہ کے لیے منافقت میں ڈوبے رہنے اور بالآخر روز قیامت ان کی سزا اور بدترین عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب اسی لیے کہ وہ ہر دفعہ ہر موقع پر بدعہدی کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے اور اللہ و رسول ﷺ سے کفر کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
آیات 73 تا 80
اسرار و معارف
جہاد کا حکم
ان آیات مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست کفا ر اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا جارہا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان امیریا مسلمان حکومت کبھی بھی فریضہ جہاد سے غافل نہ ہو سکیں کہ جب خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے تو اور کون مستثنے ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے جنگ کی جگہ جہاد کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں کفار جنگ کریں گے تو مقابلہ میں لڑنا جہاد ہے ۔ جہاں مسلمان کم ہوں اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس جگہ زبانی اور عملی تبلیغ جہاد ہوگا۔
بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اسلام نے تو لڑائی کا حکم دے دیا اب مسلمان کہاں کہاں لڑتے پھریں گے پھر جہاں تعداد میں کم یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
ف 1 حضرت ابو امامہ ؓ باہلی سے روایت ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے کہ میں مالدار ہوجاؤں۔ نبی ﷺ نے اسے بہتیرا سمجھا یا کہ اے ثعلبہ ! تھوڑا سامال جس پر تم اللہ کا شکر ادا کرو زیادہ مال سے بہتر ہے جس پر تم اس کا شکر ادا نہ کرو مگر وہ نہ مانا اور بار بار دعا کی درخواست کرتا رہا۔ آخر نبی ﷺ نے اس کے لیے دیا فرمائی اور وہ شخص اتنا مالدار ہوگیا کہ اس کی بھیڑیں مدینہ میں نہ سماتی تھیں اور اسے مدینہ چھوڑ کر باہر سکونت اختیار کرنی پڑی۔ پہلے وہ باقاعدہر نماز میں شریک ہوتا تھا مگر آہستہ آہستہ اس نے نمازوں میں شریک ہونا چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ جمعہ اور نماز…
Read the full tafseer →(9:77) فاعقبھم۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اعقب یعقب اعقاب (افعال) سے جس کے معنی ہیں اثر چھوڑنا۔ وارث بنانا۔ اعقبھم۔ اس نے ان کو وارث بنادیا۔ اس نے ان میں یہ اثر چھوڑا۔
فاعقبھم میں ضمیر فاعل البخل کے لئے ہے ۔ یعنی ان کے بخل نے ان میں ہمیشہ کے لئے نفاق پیدا کردیا۔ اور وہ منافق ہوگئے۔ یا ضمیر فاعل اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں نفاق جما دیا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل (بخل) کی عاقبت نفاق کی شکل میں ان کے دلوں میں راسخ کردی اور وہ ہمیشہ کے لئے منافق بن گئے۔
یلقونہ۔ وہ اس سے ملاقات کریں گے۔ وہ اس کی پیشی میں جائیں گے۔ الی یوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 78
ھموا (ارادہ کیا) لم ینالوا (ان کو نہیں ملا) مانقموا (انہوں نے بدلہ نہیں لیا) اغنی (بےنیاز کردیا) خیر (زیادہ بہتر) لئن اثنا (البتہ اگر ہمیں دیا) لنصدقن (البتہ ہم صدقہ کریں گے) لنکوتن (البتہ ہم ضرور ہوں گے) بخلوا (انہوں نے کنجوسی کی) اعقب (نتیجہ یہ ہوا) یوم یلقونہ (جس دن اس سے ملیں گے) اخلقوا (انہوں نے خلاف کیا) الم یغلموا (کیا وہ نہیں جانتے) سر (بھید، چھپی ہوئی چیز) نجوی (سرگوشی، کان میں چپکے چپکے باتیں کرنا غلام الغیوب (غیبوں کا جاننے والا)
تشریح :- آیت نمبر 74 تا 78
منافقین کس حد تک جھوٹے ہیں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اللہ سے وعدہ خلافی کرتے ہیں اس کی گواہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
کافروں اور منافقوں کی وعدہ خلافی اور دیگر صفات
شان نزول : اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافقوں کی وعدہ خلافی کا ذکر فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حطب انصاری تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے اس عہد پر دعا کرائی تھی کہ اللہ مجھ کو مال دے گا تو میں خیرات دوں گا اور نیکی کروں گا۔ جب آنحضرت ﷺ کی دعا سے اس کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں ہوگئیں کہ مدینہ کے جنگل میں نہ سماسکیں تو دور لے گیا، جمعہ وجماعت ترک کردی۔ پھر جو آنحضرت ﷺ کی طرف سے دو شخص زکوٰۃ لینے گئے تو نہ دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی پھر تھوڑے دنوں کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس زکوٰۃ لے کر آیا آپ نے قبول نہ کی، اور آنحضرت ﷺ کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
[46] منافقین اپنی مجلس میں نبی ﷺ کا مذاق اڑایا کرتے اور جب پکڑے جاتے تو کہتے کہ ہم نے کچھ
نہیں کہا۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
[47] اشارہ ہے اس سازش کی طرف جو تبوک سے واپسی کے موقع پر منافقوں نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے کی تھی۔
[48] یہ ایک لطیف طنز منافقوں کی کمینہ فطرت پر ہے۔ فرمایا کہ ہمارے نبی پر ان منافقین کا سارا غصہ اس کے اس '' قصور '' کی پاداش میں ہے جس کی بدولت وہ مالدار ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ثعلبہ اور نفس انسانی :
(ف 1) اس ضمن میں ثعلبہ کا قصہ مشہور ہے وہ خاصا مسلمان تھا ، نمازیں پڑھتا مسجد میں حاضر رہتا ، حضور ﷺ نے اس کی خواہش کی بنا پر دعاء کی اور وہ دولتمند ہوگیا ، مدینے سے باہر ڈیرے ڈال دیئے ، مسجد کی حاضری کم ہوگئی ، نماز کی پابندی جاتی رہی ، جمعہ جنازہ میں بھی شرکت سے محروم ہوگیا ، اور آخر تمام پابندیوں سے بےنیاز ہوگیا ، اور اصل بات یہ ہے کہ ہر انسانی نفسیات کی تشریح ہے نفاق کی تفصیل میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے ، وہ عام انسانوں کی نفسی کمزوریاں ہیں مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے خطرات قلب سے آگاہی حاصل ہو ، اور ہم معنوں میں اللہ کے فرمانبردار ثابت ہوں ۔
Read the full tafseer →77 پھر ان کی اس حرکت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس فعل کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں نفاق قائم کردیا جس دن وہ اس سے ملاقات کریں گے اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے خلاف کیا اور نیز اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔ یعنی مرتے دم تک یا قیامت تک ان کے نفاق پر مہرکردی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
ف 2۔ ثعلبہ بن ابی حاطب نامی ایک شخص نے آپ سے کثرت مال کی دعا کرائی آپ نے سمجھایا کہ مصلحت نہیں اس نے کہ میں نیک کاموں میں صرف کیا کروں گا غرض آپ کی دعا سے وہ مال دار ہوگیا جب زکوة کا وقت آیا تو کہنے لگا کہ اس میں اور جزیہ میں کیا فرق ہے اور زکوة نہ دی اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →اس کا نتیجہ کیا ہوا یہی کہ ان کے دلوں میں نفاق پختہ ہوگیا :
103: وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب سے کئے ہوتے وعدوں کی اس طرح خلاف ورزی کی اور برابر جھوٹ بولتے رہے اللہ نے ان کے اس عمل کی پاداش میں ان کے دلوں کے اندر نفاق کی ایسی جڑیں جما دیں جو سرطان کے پھوڑے کی طرح ان کے سارے جسم و دماغ پر چھا گئیں اور ان کو کبھی راہ ہدایت کی توفیق نہ ہوئی اور اس طرح اپنے نفاق پر جمے رہے اور یہ جڑیں اس وقت اکھڑیں گی جب جزائے اعمالل کا مرحلہ سر پر آکھڑا ہوگا مطلب یہ کہ ان کا گوشت و پوست اسی نفاق میں پرورش پاتا رہا اور ان کے دل و دماغ اس نفاق سے غذا حاصل کرتے رہے اس لئے ان کی اصلاح تو درکنار ان کی نسل کی اصلاح بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
Verse 77: فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ (So Allah, in turn, put hypocrisy in their hearts) points out to its cause which lies in their lying and pledge breaking. As a consequence, Allah made the hypocrisy of their hearts become deep and firm. Now, they would just not have the ability to make Taubah itself.
A serious note of warning
From here we learn that there are occasions when the curse of evil deeds assumes alarming proportions, so much so that one is deprived of the very ability (taufiq) of making Taubah. May Allah protect us from this misfortune!
Let us now go back to the…
Read the full tafseer →