At-Tawba 9:75

At-Tawba · from ayah 75

9:75

وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۟وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ عَاهَدَ اللّٰهَ لَئِنۡ اٰتٰٮنَا مِنۡ فَضۡلِهٖ لَـنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among them are those who made a covenant with Allah, [saying], "If He should give us from His bounty, we will surely spend in charity, and we will surely be among the righteous."

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:75

ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیک کاروں میں ہو جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان میں وه بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وه ہمیں اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ وخیرات کریں گے اور پکی طرح نیکو کاروں میں ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے، اور یقینا نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان (منافقوں) میں (بعض) وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے (دولت) عطا فرمائی تو ہم ضرور (اس کی ر اہ میں) خیرات کریں گے اور ہم ضرور نیکو کاروں میں سے ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ یقینا اگر اس نے ہمیں اپنے فضل سے کچھ عطا فرمایا تو ہم ضرور ہی صدقہ کریں گے اور ضرور ہی نیک لوگوں سے ہوجائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ ہمیں اپنی مہربانی سے (مال و دولت) عطا کرے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور نیک بندے بن جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے نوازا تو ہم خوب صدقہ کریں گے اور خوب نیکیاں کرنے والوں میں سے ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے عہد کیا اللہ سے کہ اگر اس نے نواز دیا ہم کو اپنے فضل سے، تو ہم خوب خیرات کریں گے، اور بڑے نیک بن جائیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان میں وہ بھی ہیں جو اللہ سے عہد کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں (مال عطا کردے تو ہم خوب (اس میں سے) تصدق کریں گے اور ہم خوب نیک نیک کام کیا کریں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے نواز دے گا تو ہم خوب صدقہ و خیرات کریں گے اور نیک بن جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنی مہربانی سے مال عطا کرے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکوکاروں میں سے ہوجائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Some of them made a covenant with Allah: "If Allah gives us out of His bounty, we will give alms and act righteously."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among them there are those who made a pledge with Allah: :If He gives us (wealth) out of His grace, then, surely we shall give alms and shall be among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani

And among them there are those who made a pledge with Allah: :If He gives us (wealth) out of His grace, then, surely we shall give alms and shall be among the righteous.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And of them are some who made a covenant with Allah (saying): "If He bestowed on us of His bounty, we will verily, give Sadaqah and will be certainly among the righteous."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of them is he who made a covenant with Allah (saying): If He give us of His bounty we will give alms and become of the righteous.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among them are those who made a covenant with Allah, [saying], "If He should give us from His bounty, we will surely spend in charity, and we will surely be among the righteous."

— Saheeh International

Some of them have promised God that if He will favor them, they will certainly spend for His cause and be righteous ones.

— Muhammad Sarwar

And there are those of them who made a covenant with Allah: If He give us out of His grace, we will certainly give alms and we will certainly be of the good.

— Muhammad Habib Shakir

And of them are some who covenanted With saying: if He giveth of His grace, we will surely give alms and we will surely become of the righteous.

— Abdul Majid Daryabadi

Amongst them are men who made a covenant with Allah, that if He bestowed on them of His bounty, they would give (largely) in charity, and be truly amongst those who are righteous.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–78

دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں لیکن جب اللہ نے اسے امیر اور خوشحال بنادیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لئے نفاق ڈال دیا۔ یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس نے حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے مالداری کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا تھوڑا مال جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔ اس نے پھر دوبارہ بھی درخواست کی تو آپ نے پھر سمجھایا کہ تو اپنا حال اللہ کے نبی جیسا رکھنا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 74–75

سورة التَّوْبَة 83 وہ بات کیا تھی جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ؟ اس کے متعلق کوئی یقینی معلومات ہم تک نہیں پہنچی ہیں۔ البتہ روایات میں متعدد ایسی کافرانہ باتوں کا ذکر آیا ہے جو اس زمانہ میں منافقین نے کی تھیں۔ مثلا ایک منافق کے متعلق مروی ہے کہ اس نے اپنے عزیزوں میں سے ایک مسلمان نوجوان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر واقعی وہ سب کچھ برحق ہے جو یہ شخص (یعنی نبی ﷺ پیش کرتا ہے تو ہم سب گدھوں سے بھی بدتر ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تبوک کے سفر میں ایک جگہ نبی ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی۔ مسلمان اس کو تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ اس پر منافقوں کے ایک گروہ نے اپنی مجلس میں بیٹھ کر خوب مذاق اڑایا اور آپس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

دوسری آیت وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ ، بھی ایک خاص واقعہ سے متعلق ہے، جو ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، طبرانی اور بیہقی نے حضرت ابو امامہ باہلی کی روایت سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص ثعلبہ ابن حاطب انصاری نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ درخواست کی کہ آپ دعاء کریں کہ میں مالدار ہوجاؤ ں، آپ نے فرمایا کہ کیا تم کو میرا طریقہ پسند نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں چاہتا تو مدینہ کے پہاڑ سونا بن کر میرے ساتھ پھرا کرتے، مگر مجھے ایسی مال داری پسند نہیں، یہ شخص چلا گیا، مگر دوبارہ پھر آیا اور پھر یہی درخواست اس معاہدہ کے ساتھ پیش کی کہ اگر مجھے مال مل گیا تو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 75–77

5 7 تا 77: وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۔ اسلام کی بدولت مال دار بننے والوں کی کمزوری : یہ انہی اسلام کی بدولت مال دار بنے ہوئے کچھ لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جب یہ غریب تھے تو اس وقت تو ان کا حال یہ تھا کہ ہر جگہ یہ اپنے اس شوق اور اس تمنا کا اظہار کرتے پھرتے تھے کہ اگر ہمارے حالات بھی اللہ نے سدھار دیے تو ہم بھی خدا کی راہ میں خوب خرچ کریں گے اور دین کی بڑی بڑی خدمتیں کر کے صالحین میں اپنا نام روشن کریں گے لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کی تمنا پوری کردی اور دینے کا وقت آیاتو اس طرح منہ پھیر کر چل دیے ہیں گویا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 74–75

74۔ 1 مفسرین نے اس کی تفسیر میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں، جن میں منافقین نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جسے بعض مسلمانوں نے سن لیا اور انہوں نے آکر نبی ﷺ کو بتلایا، لیکن آپ کے استفسار پر مکر گئے بلکہ حلف تک اٹھا لیا کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کی۔ جس پر یہ آیت اتری۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔ 74۔ 2 اس کی بابت بھی بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً تبوک کی واپسی پر منافقین نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف ایک سازش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے کہ دس بارہ منافقین ایک گھاٹی میں آپ کے پیچھے لگ گئے جہاں رسول…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–75

62: منافقین کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ اپنی مجلسوں میں کافرانہ باتیں کہتے رہتے تھے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ صاف انکار کردیتے اور قسم کھالیتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، مثلاً ایک مرتبہ منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں ایک انتہائی گستاخانہ بات کہی تھی جسے نقل کرنا بھی مشکل ہے اور اس کے بعد کہا کہ جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے باعزت لوگ ذلیلوں کو نکال باہر کریں گے، اس کا ذکر خود قرآن کریم نے سورة منافقون (28) میں فرمایا ہے، لیکن جب اس سے پوچھا گیا تو مکر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا (روح المعانی بحوالہ ابن جریر ابن المنذر وغیرہ)۔ 63:…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 75–77

سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔ منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 75–76

5 ایک شخص ثعلبہ بن حاطب انصاری نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ میرے حق میں دولت مند ہوجانے کی دعا فرما دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ ثعلبہ ! تھوڑی چیز جس پر تو خدا کا شکر ادا کرے، اس بہت چیز سے اچھی ہے جس کے حقوق ادا نہ کرسکے۔ اس نے پھر وہی درخواست کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے ثعلبہ ! کیا تجھے پسند نہیں کہ میرے نقش قدم پر چلے۔ آپ ﷺ کے انکار پر اس کا اصرار بڑھتا رہا۔ اس نے وعدہ کیا کہ اگر خدا مجھ کو مال دے گا، میں پوری طرح حقوق ادا کروں گا۔ آخر حضور ﷺ نے دعا فرمائی، اس کی بکریوں میں اس قدر برکت ہوئی کہ مدینہ سے باہر ایک گاؤں میں رہنے کی ضرورت پڑی اور اتنا پھیلاوا ہوا کہ ان میں مشغول ہو کر رفتہ رفتہ جمعہ و جماعات…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 74–76

آیت 74 یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ مَا قَالُوْا ط یہ جس بات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اٹھائیسویں پارے کی سورة المنافقون میں آئے گی۔ بہر حال یہاں صرف اتنا جان لینا ضروری ہے کہ تبوک سے واپسی کے سفر پر عبداللہ بن ابی کے منہ سے کسی نوجوان مسلمان نے غلط بات سنی تو اس نے آکر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کردیا۔ آپ ﷺ نے طلب فرما کر باز پرس کی تو وہ صاف مکر گیا کہ اس نوجوان نے خواہ مخواہ فتنہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَۃَ الْکُفْرِ عبداللہ بن ابی کے مکر جانے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو سچا قرار دیا اور اس منافق کے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا۔ وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلاَمِہِمْ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–75

89 توہین رسالت کلمہ کفر ہے :۔ وہ کفر کا کلمہ کیا تھا جو ان منافقوں نے بکا تھا ؟ قرآن نے یہاں اس کی تصریح نہیں کی۔ یہ اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہ تھا بلکہ ان لوگوں نے کئی موقعوں پر ایسے کفر کے کلمے کہے تھے جیسا کہ روایات میں مذکور ہے مگر ہم اسی واقعہ پر اکتفا کریں گے جو سورة منافقون میں اجمالاً اور بخاری میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے۔ سیدنا زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ایک لڑائی میں (غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر جب مہاجرین اور انصار میں جھگڑا ہوگیا تو) میں نے عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا لوگو ! تم ایسے کرو کہ پیغمبر کے پاس جو لوگ (مہاجرین) جمع ہوگئے ہیں تم ان کو خرچ کے لیے کچھ نہ دو ۔ وہ خودبخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

141 ۔ (اسی مال و دولت کے ذریعہ سے) شان نزول کی روایتوں میں یہ اں ایک، خاص شخص ثعلبہ بن حاطب کا نام لیا گیا ہے لیکن روایات شان نزول کا حاصل صرف اس قدر ہوتا ہے کہ آیت کا سبب نزول وہ مخصوص واقعہ تھا یہ مقصود ہرگز نہیں ہوتا کہ آیت کا حکم یا آیت صرف اس شخص یا واقعہ تک محدود ہے۔ فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ نذر ماننے والے پر اس کا ادا کرنا واجب ہے۔ فیہ الدلالۃ علی ان من نذر نذرا فیہ قربۃ لزمہ الوفاء بہ (جصاص)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–80

آیت نمبر 73 تا 80 ترجمہ : اے نبی کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان وبرہان سے جہاد کیجئے، اور ان منافقوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور خفگی کے ذریعہ سختی سے پیش آئیے، (آخر کار) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور منافق اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گالی کی جو بات ہماری طرف سے آپ کو پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کہی، حالانکہ یقینا وہ کافرانہ بات انہوں نے کہی، اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے یعنی اسلام ظاہر کرنے کے بعد انہوں نے کفر ظاہر کیا، اور انہوں نے اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جو وہ نبی ﷺ کو قتل کے ارادہ سے تبوک سے لوٹتے وقت لیلة العقبہ میں کرنا چاہتے تھے اور وہ دس سے کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومنھم من عھد اللہ لئن اتٰنا من فضلہ لنصدقن ولنکونن من الصلحین۔ اور ان میں سے بعض آدمی ایسا بھی ہے جس نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ ہم کو اپنے فضل سے عطا فرما دے گا تو ہم ضرور صدقہ دیں گے اور یقیناً صالحین (نیکوکار لوگوں) میں سے ہوں گے۔ ابن جریر اور ابن مردویہ نے عوفی کی سند سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ منافقوں میں سے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ اگر اللہ ہم کو دے گا تو ہم زکوٰۃ دیں گے اور اہل صلاح کے سے کام کریں گے۔ مراد یہ ہے کہ صلۃ الرحم (کنبہ پروری) کریں گے ‘ زکوٰۃ ادا کریں گے اور ان کی راہ میں جو خرچ کرنا واجب یا مستحب ہوگا ‘ وہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(75) منافقین میں سے ثعلبہ بن حاطب بن ابی بلتعہ نے قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے شام کا مال ہمیں دے دیا تو اس مال سے حقوق اللہ کی بجا آوری کریں گے اور صلہ رحمی کریں گے اور خوب نیک کام کریں گے۔ شان نزول : (آیت) ”ومنہم من عہد اللہ“۔ (الخ) طبرانی ؒ ، ابن مردویہ ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ اور بیہقی ؒ نے دلائل میں ضعیف سند کے ساتھ ابوامامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب نے کہا یارسول اللہ ؓ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو مال دے، آپ نے فرمایا ثعلبہ دور ہوتھوڑا مال جس کا شکر ادا کیا جائے وہ اس زیادہ مال سے بہتر ہے کہ جس کے شکر کی طاقت نہ رکھے وہ کہنے لگا اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–77

وَمِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ : پہلے یہ لوگ فاقوں مرتے تھے اور ان کے شہر مدینہ جس کا نام ان دنوں یثرب تھا، اس کی بھی کوئی حیثیت نہ تھی، لیکن نبی ﷺ کی تشریف آوری کے بعد ان کا شہر پورے عرب کا مرکز بن گیا اور ان کی تجارت کا دائرہ بھی وسیع ہوگیا اور جنگوں کی وجہ سے بہت سا مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ آیا، جس سے یہ لوگ مال دار ہوگئے۔ آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ منافقین اتنے احسان فراموش ہیں کہ اللہ اور رسول جن کی بدولت انھیں یہ خوش حالی نصیب ہوئی، انھی کے خلاف بگڑ کر یہ اپنے دلوں کا فساد ظاہر کر رہے ہیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد تو یہ کیا تھا کہ اگر اس نے ہمیں اپنا فضل عطا کیا تو ہم صدقہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 75–78

آیت نمبر : 75۔ 78۔ اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ “۔ حضرت قتادہ (رح) نے بیان کیا ہے کہ یہ انصار میں سے ایک آدمی تھا اس نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے کوئی شے عطا فرمائی تو میں ضرور اس میں اس کا حق ادا کروں گا اور یقینا خیرات دوں گا، پس جب اللہ تعالیٰ نے اسے وہ عطا فرمایا تو اس نے وہ کیا جو تم پر بیان کیا گیا ہے، پس تم جھوٹ سے بچو، کیونکہ وہ فجور تک پہنچا دیتا ہے، علی بن یزید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی : اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–78

ثعلبہ بن حاطب کا واقعہ : 1:۔ حسن بن سفیان وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والعسکر نے الامثال من والطبرانی وابن منذرو الباوردی وابو نعیم نے معرفتہ الصحابہ میں وابن مردویہ اور بیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابوامامہ باہلی ؓ سے روایت کیا کہ ثعلبہ بن حاطب ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ مجھ کو مال عطا فرمائے آپ نے فرمایا اے ثعلبہ تجھ پر افسوس ہے۔ تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو میری طرح ہوجائے اگر میں چاہتا تو میرا رب ان پہاڑوں کو میرے ساتھ چلاتا تو یقینا چل پڑتے اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھ کو مال عطا فرمائے اس ذات کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے ] عٰهَدَ [معاہدہ کیا ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] لَىِٕنْ [ (کی ) بیشک اگر ] اٰتٰىنَا [ اس نے دیا ہم کو ] مِنْ فَضْلِهٖ [ اپنے فضل سے ] لَنَصَّدَّقَنَّ [ تم ہم لازما صدقہ خیرات کریں گے ] وَلَنَكُوْنَنَّ [ اور ہم لازما ہوجائیں گے ] مِنَ الصّٰلِحِيْنَ [ صالح لوگوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آیت بالا کے سبب نزول سے متعلق صاحب معالم التنزیل (ص 312 ج 2) نے اور حافظ ابن کثیر (ص 374 ج 2) نے ایک واقعہ لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ ثعلبہ بن حاطب ایک شخص تھا اس نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ سے دعا فرمائیے مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے زیادہ مال سے بہتر ہے جس کی تجھے برداشت نہ ہو۔ اس نے پھر اسی دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عطا فرمائے۔ آپ نے اس کے لیے دعا فرما دی اس نے بکریاں پالنا شروع کردیا ان میں بہت زیادہ ترقی ہوئی تو وہ مدینہ منورہ سے باہر کسی وادی میں چلا گیا۔ صرف ظہر اور عصر کی نماز میں حاضر ہوتا تھا پھر وہ وقت آیا کہ اسے مدینہ منورہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 74–84

تفصیل جرائم منافقین قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔ (ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 75–77

72:“ وَ مِنْھُمْ مَّنْ الخ ” اس آیت میں ثعلبہ بن حاطب نامی منافق کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس نےحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یارسول اللہ ! دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بہت سی دولت عطا فرمائے۔ آپ نے فرمایا۔ اے ثعلبہ وہ تھوڑا سا مال جس کے تم حقوق ادا کرسکو اس کثیر مال سے بہتر ہے جس کے حقوق ادا کرنے سے تم قاصر رہو۔ ثعلبہ نے اصرار کیا اور کہا مجھے اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا اگر اس نے مجھے دولت دی تو میں اس میں سے تمام حقوق واجبہ ادا کروں گا۔حضور ﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمائی۔ ثعلبہ نے چند بکریاں خرید لیں اللہ نے ان میں اس قدر برکت ڈالی اور وہ اس قدر بڑھیں کہ اسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–78

ربط آیات : جہاد کی فرضیت اور پھر جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی مذمت بیان کی گئی۔ پھر منافقین کے خصائل اور ان کے انجام کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد اہل ایمان کے اوصاف جمیلہ اور ان کی کامیابی کا بیان ہوا۔ اللہ نے کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ فرمایا ان کے عیوب کو ظاہر کیا جائے اور زبانی طور پر ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی جائے تا کہ یہ لوگ جماعت المسلمین سے الگ ہوجائیں یا تائب ہو کر سچے مسلمان بن جائیں۔ اگر منافقین کافروں کے ساتھ رل مل جائیں گے تو پھر کافروں کی طرح ان کے خلاف بھی جہاد بالسیف جائز ہوجائیگا گذشتہ آیات میں بھی بعض خاص منافقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْہُمْ مَّنْ عٰہَدَ اللہَ لَىِٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ۝ 75 عهد العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً. قال : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] ، أي : أوفوا بحفظ الأيمان، قال : لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ [ البقرة/ 124] ( ع ھ د ) العھد ( ض ) کے معنی ہیں کسی چیز کی پیہم نگہہ داشت اور خبر گیری کرنا اس بنا پر اس پختہ وعدہ کو بھی عھد کہاجاتا ہے جس کی نگہداشت ضروری ہو ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كانَ مَسْؤُلًا[ الإسراء/ 34] اور عہد کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–78

ترکیب : ماقالو ! جواب قسم یحلفون قسم کے قائم مقام مانقموا کا مفعول ان اغناھم اللّٰہ ای وما کرھوا الا غنا اللہ ایاھم لئن شرط لنصدقن جواب۔ تفسیر : ان آیات میں ان گمراہان ازلی کے شجر حیات کو قطع و برید کردینے کا حکم دیتا ہے کہ جن میں کسی قسم کا مادہ اصلاح باقی نہیں رہا۔ فقال جاھد الکفار و المنافقین واغلظ علیہم کہ ان لوگوں سے جہاد کر اور ان پر نرمی نہ کر جیسا کہ آپ کی عادت حمیدہ ہر شخص سے نرمی اور لطف کی ہے۔ کفار سے جہاد تلوار سے اور منافقین سے زبان سے کرو۔ ” ابن عباس۔ “ کیونکہ منافقین بظاہر مسلمان تھے ان کے قتل نہ کرنے کی وجہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمائی تھی کہ عرب یہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–77

وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَاللّٰہَ لَئِنْ اٰتٰـناَ مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ فَلَمَّآ اٰتٰـھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَ تَوَلَّوْا وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِی قُلُوْبِھِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَآ اَخْلَفُوْااللّٰہَ مَاوَعَدُوْہُ وَبِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ (التوبۃ : 75 تا 77) (اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جنھوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے ہمیں اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور خوب نیکیاں کرنے والوں سے میں سے ہوجائیں گے۔ تو اللہ نے جب ان کو اپنے فضل میں سے عطا فرمایا تو وہ اس میں بخیل بن بیٹھے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–77

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین کا صدقہ کرنے کے بارے میں فکر و عمل۔ عام طور پر انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی عسر اور تنگدستی کی حالت میں ہوتا ہے تو اپنے رب کی بار گاہ میں بار بار التجا کرتا ہے کہ اگر مجھے تو نگری عطا کردی جائے تو میں شکر ادا کرتے ہوئے تیری راہ میں بےدریغ خرچ کروں گا۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوجائے تو پھر انسان کو کئی قسم کی سوچیں لاحق ہوجاتی ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بجائے یہ کہہ کر اپنی ضروریات بڑھاتا چلا جاتا ہے کہ اگر فلاں کام مکمل ہونے کے بعد میں ضرور رب کی راہ میں خرچ کروں گا۔ بالآخر وہ بخل کی زنجیر میں اس طرح جکڑا جاتا ہے کہ جس سے نکلنا اس کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 75: وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَ اللّٰہُ (اور ان میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرتے ہیں) روایت میں ہے کہ ثعلبہ بن حاطب نے کہا یارسول اللہ ! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال عنایت فرما دے۔ آپ ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ اے ثعلبہ ! قلیل مال جس کا شکریہ ادا کیا جائے وہ اس کثیر سے بہت بہتر ہے جس کے شکریہ کی طاقت نہ ہو۔ اس نے درخواست کا اعادہ کیا اور کہا جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ مال دے دیا تو میں ہر حق والے کو اس کا حق دونگا۔ آپ نے دعا فرما دی۔ اس نے بکریاں خریدیں وہ اس طرح بڑھیں جیسے کیڑے بڑھتے ہیں یہاں تک کہ مدینہ میں اس کی اپنی جگہ تنگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

ثعلبہ بن حاطب کا مال کیلئے آپ ﷺ سے دعا کروانا اور قبولیت دعا کا اثر تفسیر 75۔” ومنھم من عھد اللہ لئن اثنا من فضلہ لنصدقین “ ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ ثعلبہ بن حاطب انصاری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مال دے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے ثعلبہ تھوڑا مال جس کا تو شکر کرے اس زیادہ سے بہتر ہے جس کی تو طاقت نہ رکھتا ہو ۔ پھر وہ اس کے بعد آیا اور کہا اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے مال دے تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھا کیا تیرے لیے رسول اللہ ﷺ کے طرز میں اچھا طریقہ نہیں ہے ؟ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–78

75۔ 78۔ اللہ پاک نے ان آیتوں میں فرمایا کہ بعضے منافق ایسے بھی ہیں جو قول وقرار کر کے پھرجاتے ہیں اپنا عہد و پیمان پورا نہیں کرتے ہیں ان کے دلوں میں مرتے دم تک منافق اپنے کا اثر رہے گا مطلب یہ ہے کہ مرتے دم تک ایسے لوگوں کو توبہ کی توفیق نہ ہوگی طبرانی ابن ابی حاتم اور ابن جریر میں ابوامامہ ؓ اور عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب انصاری تھا اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ آپ میرے واسطے دعا کریں کہ میں مالدار ہوجاؤں آپ نے فرمایا کہ تھوڑا مال جس کا شکر بندے سے ادا ہو سکے وہی بہتر ہے اور اگر خدا نے زیادہ دولت دی انسان غفلت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–80

آیت 75 ان منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا (لئن اتنا من فضلہ) ” اگر وہ اپنے فضل سے ہمیں عطا کرے گا۔ ‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا عطا کر کے اس میں کشادگی پیدا کرے (لنصدقن ولنکونن من الصلحین) ” تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم نیکو کاروں میں سے ہوجائیں گے۔ “ پس ہم صلہ رحمی کریں گے، مہمان کی مہمان نوازی کریں گے، راہ حق میں لوگوں کی مدد کریں گے اور اچھے اور نیک عمل کریں گے۔ (فلما اتھم من فضلہ) ” پس جب دیا ان کو اپنے فضل سے ” تو انہوں نے اس وعدے کو پورا نہ کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا بلکہ (بخلوا بہ) ” بخل کیا ساتھ اس کے “ (وتولوا) اور اطاعت سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

نذر کو پورا کرنا لازم ہے قول باری ہے ومنھم من عاھد اللہ لئن اتا نا من فضلہ لنصد قن ولنکونن من الصالحین ۔ فلما اتاھم من فضلہ بخلوا بہ وتولوا وھم معرضون ۔ ان میں بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے ۔ مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کردیا تو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پرواہ تک نہیں ہے۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ جو شخص تقرب الٰہی اور نیکی کے کام کی نذر مانے اس پر اسے پورا کرنا لازم ہوگا۔ اس لیے کہ عہد کے معنی نذر اور ایجاب کے ہیں ۔ مثلاً یہ کہے اگر اللہ تعالیٰ مجھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

155 ایک سبق آموز اور عبرتناک قصے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے شخص نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں نواز دیا تو ہم خوب خیرات کریں گے اور بڑے نیک بن جائیں گے اپنے مال کو نیک کاموں میں صرف کر کے۔ کہ اس طرح ہم خوب ثواب کمائیں گے۔ روایات کے مطابق یہ آیات کریمہ ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئیں۔ عام روایات میں اسی کا ذکر ہے۔ جبکہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ انصاری صحابی نہیں بلکہ یہ اسی نام کا کوئی اور شخص تھا (حاشیہ صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جو بھی ہو ثعلبہ نامی اس شخص نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! میرے حق میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 75–79

منافقوں کا زکوٰۃ کو تاوان سمجھنا تشریح : ان آیات میں بھی منافقین مشرکین اور کفا رکی بدعہدی شرارتوں خباثتوں اور نالائقیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر ان کی مغفرت نہ ہونے اور ان کے دلوں کی ہمیشہ کے لیے منافقت میں ڈوبے رہنے اور بالآخر روز قیامت ان کی سزا اور بدترین عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب اسی لیے کہ وہ ہر دفعہ ہر موقع پر بدعہدی کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ مذاق کرتے اور اللہ و رسول ﷺ سے کفر کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–80

آیات 73 تا 80 اسرار و معارف جہاد کا حکم ان آیات مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست کفا ر اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا جارہا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان امیریا مسلمان حکومت کبھی بھی فریضہ جہاد سے غافل نہ ہو سکیں کہ جب خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے تو اور کون مستثنے ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے جنگ کی جگہ جہاد کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں کفار جنگ کریں گے تو مقابلہ میں لڑنا جہاد ہے ۔ جہاں مسلمان کم ہوں اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس جگہ زبانی اور عملی تبلیغ جہاد ہوگا۔ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اسلام نے تو لڑائی کا حکم دے دیا اب مسلمان کہاں کہاں لڑتے پھریں گے پھر جہاں تعداد میں کم یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 75–77

ف 1 حضرت ابو امامہ ؓ باہلی سے روایت ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حاطب نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے کہ میں مالدار ہوجاؤں۔ نبی ﷺ نے اسے بہتیرا سمجھا یا کہ اے ثعلبہ ! تھوڑا سامال جس پر تم اللہ کا شکر ادا کرو زیادہ مال سے بہتر ہے جس پر تم اس کا شکر ادا نہ کرو مگر وہ نہ مانا اور بار بار دعا کی درخواست کرتا رہا۔ آخر نبی ﷺ نے اس کے لیے دیا فرمائی اور وہ شخص اتنا مالدار ہوگیا کہ اس کی بھیڑیں مدینہ میں نہ سماتی تھیں اور اسے مدینہ چھوڑ کر باہر سکونت اختیار کرنی پڑی۔ پہلے وہ باقاعدہر نماز میں شریک ہوتا تھا مگر آہستہ آہستہ اس نے نمازوں میں شریک ہونا چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ جمعہ اور نماز…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:75) عھد اللہ۔ اس نے اللہ سے وعدہ کیا۔ لنصدقن۔ مضارع جمع متکلم۔ با لام تاکید و نون ثقیلہ ۔ یا لام تعلیل کا ہے اور نون ثقیلہ تاکید کے لئے۔ تو ہم ضرور ہی خیرات دیدیں گے۔ صدقہ ادا کردیں گے۔ اصل میں نتصدقن تھا۔ ت کو صاد میں مدغم کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 74–78

لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 78 ھموا (ارادہ کیا) لم ینالوا (ان کو نہیں ملا) مانقموا (انہوں نے بدلہ نہیں لیا) اغنی (بےنیاز کردیا) خیر (زیادہ بہتر) لئن اثنا (البتہ اگر ہمیں دیا) لنصدقن (البتہ ہم صدقہ کریں گے) لنکوتن (البتہ ہم ضرور ہوں گے) بخلوا (انہوں نے کنجوسی کی) اعقب (نتیجہ یہ ہوا) یوم یلقونہ (جس دن اس سے ملیں گے) اخلقوا (انہوں نے خلاف کیا) الم یغلموا (کیا وہ نہیں جانتے) سر (بھید، چھپی ہوئی چیز) نجوی (سرگوشی، کان میں چپکے چپکے باتیں کرنا غلام الغیوب (غیبوں کا جاننے والا) تشریح :- آیت نمبر 74 تا 78 منافقین کس حد تک جھوٹے ہیں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اللہ سے وعدہ خلافی کرتے ہیں اس کی گواہی میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–78

کافروں اور منافقوں کی وعدہ خلافی اور دیگر صفات شان نزول : اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منافقوں کی وعدہ خلافی کا ذکر فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثعلبہ بن حطب انصاری تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے اس عہد پر دعا کرائی تھی کہ اللہ مجھ کو مال دے گا تو میں خیرات دوں گا اور نیکی کروں گا۔ جب آنحضرت ﷺ کی دعا سے اس کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں ہوگئیں کہ مدینہ کے جنگل میں نہ سماسکیں تو دور لے گیا، جمعہ وجماعت ترک کردی۔ پھر جو آنحضرت ﷺ کی طرف سے دو شخص زکوٰۃ لینے گئے تو نہ دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی پھر تھوڑے دنوں کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس زکوٰۃ لے کر آیا آپ نے قبول نہ کی، اور آنحضرت ﷺ کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–78

[46] منافقین اپنی مجلس میں نبی ﷺ کا مذاق اڑایا کرتے اور جب پکڑے جاتے تو کہتے کہ ہم نے کچھ نہیں کہا۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ [47] اشارہ ہے اس سازش کی طرف جو تبوک سے واپسی کے موقع پر منافقوں نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے کی تھی۔ [48] یہ ایک لطیف طنز منافقوں کی کمینہ فطرت پر ہے۔ فرمایا کہ ہمارے نبی پر ان منافقین کا سارا غصہ اس کے اس '' قصور '' کی پاداش میں ہے جس کی بدولت وہ مالدار ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 74–75

(ف 3) کلمہ اکبر سے مراد عام باتیں ہیں جو کفر و دوستی پر مبنی تھیں منافقین کو چونکہ اصالتا اسلام سے محبت نہ تھی ، اس لئے وہ شرارتا جو چاہتے کہتے رہتے ، الہذ جب ان سے باز پرسی کی جاتی تو صاف مکر جاتے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ ان کی عداوت ودشمنی محض حاسدانہ جذبات کے تابع ہے انہیں دکھ یہ ہے ، کہ مسلمان اللہ اور رسول کی مہربانی سے کیوں دولتمند ہوگئے ہیں ۔ حل لغات : ھموا : ھم سے مشتق ہے ، بمعنی قصدہ ۔ وما نقموا : نقمہ ۔ برا سمجھنا ، نقمت الشیء اذا انکوبہ “۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

75 اور ان منافقوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر اللہ ہم کو اپنے فضل سے مال و دولت عطا کرے گا تو ہم اس میں خوب خیرات کریں گے اور ضرور ہم اس کے نیک بندوں میں سے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–77

ف 2۔ ثعلبہ بن ابی حاطب نامی ایک شخص نے آپ سے کثرت مال کی دعا کرائی آپ نے سمجھایا کہ مصلحت نہیں اس نے کہ میں نیک کاموں میں صرف کیا کروں گا غرض آپ کی دعا سے وہ مال دار ہوگیا جب زکوة کا وقت آیا تو کہنے لگا کہ اس میں اور جزیہ میں کیا فرق ہے اور زکوة نہ دی اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 74–75

منافقین نے مخالفت رسول ﷺ میں وہ کونسا کام ہے جو نہیں کیا ؟ 99: اوپر آیت 65 اور حاشیہ 89 میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ منافقین اپنی مجالس میں اللہ ، اس کے رسول اور آیات قرآنی کا مذاق اڑاتے تھے لیکن جب ان سے اس سلسلہ میں پوچھ گچھ ہوتی تو صاف انکار کردیتے ہیں اور اگر بہت مجبور ہوتے تو دوہرے مفہوم کی بات کرتے جس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ فلاں آدمی ذو معنی باتیں کرتا ہے اور پنجابی میں کہتے ہیں ” دوگلا “ ہے اور زیادہ ضرورت محسوس کرتے تو فوراً قسمیں کھانے لگتے تاکہ سامعین کو یقین آجائے یا ان کی بات سن کر کم از کم خاموش ہوجائیں اور کبھی کہہ دیتے کہ ہاں ! ہم نے تو ایسے ہی مذاقاً کہا تھا وہ بات کوئی ہم نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The second verse: وَمِنْهُم مَّنْ عَاهَدَ اللَّـهَ (And among them there are those who made a pledge with Allah - 75) is also connected with a particular event which has been reported by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Ibn Marduwayh, Al-Tabarani and Al-Baihaqi on the authority of a narration from Sayyidna Abu Umamah Bahili ؓ . According to this report, a person called Tha'labah ibn Hatib al-Ansari presented himself before the Holy Prophet ﷺ and requested him to pray that he becomes rich. He said, ` Is it that you do not like my way? By the Being that holds my life in his His hands, if I had wished,…

Read the full tafseer →