Explained with ayahs 73–74
چار تلواریں ؟
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا۔ مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا۔ کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں فرماتا ہے (آیت فاذا انسلح الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین) حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو۔ دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں فرماتا ہے (قاتلوا الذین لایومنون الح،) جو اللہ پر قیامت کے دن ایمان نہیں لاتے اللہ رسول کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے۔ دین حق کو قبول نہیں کرتے ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
سورة التَّوْبَة 83
وہ بات کیا تھی جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ؟ اس کے متعلق کوئی یقینی معلومات ہم تک نہیں پہنچی ہیں۔ البتہ روایات میں متعدد ایسی کافرانہ باتوں کا ذکر آیا ہے جو اس زمانہ میں منافقین نے کی تھیں۔ مثلا ایک منافق کے متعلق مروی ہے کہ اس نے اپنے عزیزوں میں سے ایک مسلمان نوجوان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر واقعی وہ سب کچھ برحق ہے جو یہ شخص (یعنی نبی ﷺ پیش کرتا ہے تو ہم سب گدھوں سے بھی بدتر ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تبوک کے سفر میں ایک جگہ نبی ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی۔ مسلمان اس کو تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ اس پر منافقوں کے ایک گروہ نے اپنی مجلس میں بیٹھ کر خوب مذاق اڑایا اور آپس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
وہ لوگ قسمیں کھا جاتے ہیں کہ ہم نے فلانی بات (مثلاً یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کردیں) نہیں کہی حالانکہ یقناً انہوں نے کفر کی بات کہی تھی، (کیونکہ آپ کے قتل کے بارے میں گفتگو کرنے کا کفر ہونا ظاہر ہے) اور (وہ بات کہہ کر) اپنے اسلام (ظاہری) کے بعد (ظاہر میں بھی) کافر ہوگئے (گو اپنے ہی مجمع میں سہی جس کی خبر مسلمانوں کو بھی ہوگئی اور اس سے عام طور پر کفر کھل گیا) اور انہوں نے ایسی بات کا ارادہ کیا تھا جو ان کے ہاتھ نہ لگی (کہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنا مگر ناکام رہے اور یہ انہوں نے صرف اس بات کا بدلہ دیا ہے کہ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے رزق خداوندی سے مال دار کردیا (اس احسان کا بدلہ…
Read the full tafseer →منافقین کا جھوٹ اور کفرِ غلیظ : يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا۔ اوپر آیت 65 میں گزر چکا ہے کہ منافقین اپنی مجالس میں اللہ کا، اس کی آیات کا اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے لیکن جب ان سے پوچھ گچھ ہوتی تو اصل بات گول کر جاتے اور قسم کھا کر اطمینان دلاتے کہ ہم نے اس قسم کی کوئی بات نہیں کہی، ہم تو محض ہنسی دل لگی کر ہر ہے تھے۔ فرمایا کہ ان کی یہ قسمیں جھوٹی ہیں۔ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ ، یہ کفر کا کلمہ بکتے ہیں اور پوچھ گچھ ہوتی ہے تو مکر جاتے ہیں۔ اوپر والی آیت میں ان کو زمرہ کفار میں جو شامل کیا ہے یہ گویا اس کی دلیل بیان ہوئی ہے۔ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ ، یہ ان کے جرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
74۔ 1 مفسرین نے اس کی تفسیر میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں، جن میں منافقین نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہے جسے بعض مسلمانوں نے سن لیا اور انہوں نے آکر نبی ﷺ کو بتلایا، لیکن آپ کے استفسار پر مکر گئے بلکہ حلف تک اٹھا لیا کہ انہوں نے ایسی بات نہیں کی۔ جس پر یہ آیت اتری۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں رہ سکتا۔
74۔ 2 اس کی بابت بھی بعض واقعات نقل کئے گئے ہیں۔ مثلاً تبوک کی واپسی پر منافقین نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف ایک سازش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے کہ دس بارہ منافقین ایک گھاٹی میں آپ کے پیچھے لگ گئے جہاں رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
62: منافقین کا یہ وطیرہ تھا کہ وہ اپنی مجلسوں میں کافرانہ باتیں کہتے رہتے تھے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا تو وہ صاف انکار کردیتے اور قسم کھالیتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، مثلاً ایک مرتبہ منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں ایک انتہائی گستاخانہ بات کہی تھی جسے نقل کرنا بھی مشکل ہے اور اس کے بعد کہا کہ جب ہم مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے باعزت لوگ ذلیلوں کو نکال باہر کریں گے، اس کا ذکر خود قرآن کریم نے سورة منافقون (28) میں فرمایا ہے، لیکن جب اس سے پوچھا گیا تو مکر گیا اور قسمیں کھانے لگا کہ میں نے یہ نہیں کہا تھا (روح المعانی بحوالہ ابن جریر ابن المنذر وغیرہ)۔
63:…
Read the full tafseer →یہ آیت منافقین کی عمومی حالت کو ریکارڈ کرتی ہے۔ ان کا عمومی موقف کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف رہتے تھے لیکن بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا ایک خاص سبب اور واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
قتادہ نے کہا ہے کہ یہ عبداللہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک جہنی اور انصاری کے درمیان جنگ ہوگئی اور جہنی نے انصاری پر غلبہ حاصل کرلیا۔ اس پر عبداللہ نے انصاریوں سے کہا کہ تم اپنے بھائی کی مدد نہیں کرتے ہو۔ خدا کی قسم ہماری اور محمد کی مثال اس طرح ہے جس طرح کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو خوب موٹا کرو تاکہ…
Read the full tafseer →2 منافقین پیچھے بیٹھ کر پیغمبر ﷺ کی اور دین اسلام کی اہانت کرتے، جیسا کہ سورة منافقون میں آئے گا، جب کوئی مسلمان حضور ﷺ تک ان کی باتیں پہنچا دیتا تو اس کی تکذیب کرتے اور قسمیں کھالیتے کہ ہم نے فلاں بات نہیں کی۔ حق تعالیٰ نے مسلمان راویوں کی تصدیق فرمائی کہ بیشک انہوں نے وہی باتیں زبان سے نکالی ہیں۔ اور دعوائے اسلام کے بعد مذہب اسلام اور پیغمبر اسلام کی نسبت وہ کلمات کہے ہیں جو صرف منکرین کی زبان سے نکل سکتے ہیں۔
3 غزوہ تبوک سے واپسی میں آنحضرت ﷺ لشکر سے علیحدہ ہو کر ایک پہاڑی راستہ کو تشریف لے جا رہے تھے۔ تقریباً بارہ منافقین نے چہرے چھپا کر رات کی تاریکی میں چاہا کہ آپ ﷺ پر ہاتھ چلائیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
آیت 74 یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ مَا قَالُوْا ط
یہ جس بات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اٹھائیسویں پارے کی سورة المنافقون میں آئے گی۔ بہر حال یہاں صرف اتنا جان لینا ضروری ہے کہ تبوک سے واپسی کے سفر پر عبداللہ بن ابی کے منہ سے کسی نوجوان مسلمان نے غلط بات سنی تو اس نے آکر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کردیا۔ آپ ﷺ نے طلب فرما کر باز پرس کی تو وہ صاف مکر گیا کہ اس نوجوان نے خواہ مخواہ فتنہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَۃَ الْکُفْرِ
عبداللہ بن ابی کے مکر جانے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو سچا قرار دیا اور اس منافق کے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا۔
وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلاَمِہِمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
89 توہین رسالت کلمہ کفر ہے :۔ وہ کفر کا کلمہ کیا تھا جو ان منافقوں نے بکا تھا ؟ قرآن نے یہاں اس کی تصریح نہیں کی۔ یہ اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہ تھا بلکہ ان لوگوں نے کئی موقعوں پر ایسے کفر کے کلمے کہے تھے جیسا کہ روایات میں مذکور ہے مگر ہم اسی واقعہ پر اکتفا کریں گے جو سورة منافقون میں اجمالاً اور بخاری میں ذرا تفصیل سے مذکور ہے۔ سیدنا زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ایک لڑائی میں (غزوہ بنی مصطلق سے واپسی پر جب مہاجرین اور انصار میں جھگڑا ہوگیا تو) میں نے عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا لوگو ! تم ایسے کرو کہ پیغمبر کے پاس جو لوگ (مہاجرین) جمع ہوگئے ہیں تم ان کو خرچ کے لیے کچھ نہ دو ۔ وہ خودبخود…
Read the full tafseer →138 ۔ تبوک سے واپسی کے موقع پر چند منافقوں نے حضور اکرم ﷺ سے متعلق سازش کی کہ فلاں گھاٹی سے آپ ﷺ شب میں گزریں گے سب مل کر آپ ﷺ پر ہاتھ چلائیں اور ہو سکے تو زندگی ہی کا خاتمہ کردیں چناچہ راستہ میں ایک جگہ چھپ کر اور اپنے چہروں کو چھپا کر بیٹھ گئے آپ ﷺ کے ہمراہ صحابیوں میں سے حضرت حذیفہ ؓ اور حضرت عمار ؓ تھے عمار ؓ کو تو ان لوگوں نے گھیر لیا، لیکن حذیفہ ؓ کی شجاعت کام آئی اور یہ بزدل منتشر ہوگئے۔ رات کے اندھیرے اور چہرے کے چھپے ہونے کے باعث پہچانے نہ گئے۔ حذیفہ ؓ نے جب رسول اللہ ﷺ تک خبر پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ بارہ آدمی فلاں اور فلاں تھے، ان لوگوں سے جب سوال کیا گیا تو وہ حلف کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
آیت نمبر 73 تا 80
ترجمہ : اے نبی کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان وبرہان سے جہاد کیجئے، اور ان منافقوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور خفگی کے ذریعہ سختی سے پیش آئیے، (آخر کار) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور منافق اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گالی کی جو بات ہماری طرف سے آپ کو پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کہی، حالانکہ یقینا وہ کافرانہ بات انہوں نے کہی، اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے یعنی اسلام ظاہر کرنے کے بعد انہوں نے کفر ظاہر کیا، اور انہوں نے اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جو وہ نبی ﷺ کو قتل کے ارادہ سے تبوک سے لوٹتے وقت لیلة العقبہ میں کرنا چاہتے تھے اور وہ دس سے کچھ…
Read the full tafseer →یحلفون باللہ ما قولوا وہ لوگ قسمیں کھا جاتے ہیں کہ ہم نے فلانی بات نہیں کہی، ابن ا بی حاتم نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت ان لوگوں میں سے تھا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوۂ تبوک کو نہیں گئے تھے۔ جلاس نے کہا تھا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو ہم گدھوں سے بدتر ہیں (کہ اس کی سچائی بھی نہیں سمجھتے ‘ یا یہ مطلب کہ ہم گدھوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں) حضرت عمیر بن سعد نے یہ اطلاع رسول اللہ ﷺ کو جا کر دے دی۔ حلاس قسم کھا گیا کہ میں نے تو یہ بات نہیں کی۔ اس پر یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ آیت کے نزول کے بعد حلاس نے سچے دل سے توبہ کرلی تھی اور اس کی توبہ اچھی ثابت ہوئی۔…
Read the full tafseer →(74) جلاس بن سوید نے اللہ کی قسم کھائی کہ میرے متعلق عامر بن قیس نے جو بات پہنچائی ہے وہ میں نے نہیں کہی حالانکہ یقیناً انھوں نے کفر کی بات کہی تھی کیوں کہ جس وقت رسول اکرم ﷺ کا ذکر مبارک کیا گیا تو منافقین نے عیب جوئی کی اور کہا کہ اللہ کی قسم محمد ﷺ جو کچھ ہمارے بھائیوں میں باتیں بیان کرتے ہیں اگر آپ ان میں سچے ہیں تو ہم گدھوں سے زیادہ بدتر ہیں۔
جلاس بن سوید کی اس بات کی عامر بن قیس نے رسول اکرم ﷺ کو اطلاع دی تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ میں نے کچھ نہیں کہا چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کی تکذیب کی کہ یقیناً اس نے کفر کی بات کہی ہے اور عیاذ باللہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو قتل کرنے اور…
Read the full tafseer →يَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ مَا قَالُوْا : منافقین اپنی نجی مجلسوں میں کفریہ باتیں کرتے، مگر پردہ چاک اور راز فاش ہونے پر جھوٹی قسمیں کھا کر مکر جاتے، جب گواہیوں سے بات ثابت ہوجاتی تو بہانہ بنا لیتے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی میں ایسی باتیں کر رہے تھے، آپ نے انھیں سنجیدہ لے لیا ہے اور اپنی قسموں کو بطور ڈھال استعمال کرتے۔ دیکھیے سورة نساء (62) اور توبہ (42، 56، 107)۔
وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ : وہ کفر کی بات کیا تھی جو ان منافقوں نے کہی تھی، قرآن مجید نے یہاں اس کی صراحت نہیں فرمائی، اس لیے کہ یہ کوئی ایک آدھ واقعہ نہیں تھا نہ ہی ایک آدھ شخص کی بات تھی، اکثر منافقین بلکہ سبھی کا یہی…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 74۔
اس آیت میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یحلفون باللہ ماقالوا “۔ روایت ہے کہ یہ آیت جلاس بن سوید بن صامت اور ودیعہ بن ثابت کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے ساتھ ملے اور انہوں نے کہا : قسم بخدا ! اگر محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ان بھائیوں کے خلاف سچے ہیں جو ہمارے سردار اور ہمارے اشراف ہیں تو ہم یقینا گدھوں سے برے ہیں، تو عامر بن قیس نے اسے کہا : ہاں ! قسم بخدا بلاشبہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سچے ہیں اور آپ کی تصدیق کی گئی ہے۔ اور بلاشبہ تو گدھے سے زیادہ برا اور شریر ہے، اور عامر نے اس کے بارے حضور نبی مکرم ﷺ کو اطلاع دی ہے۔…
Read the full tafseer →1:۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے کعب بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ جب قرآن نازل ہوا اور اس میں منافقین کا ذکر کیا گیا تو جلدی میں (منافق) نے کہا اللہ کی قسم اگر یہ آدمی سچے ہیں تو ہم گدھے سے بھی زیادہ برے ہیں عمیر بن سعد نے اس کو سن کیا اور کہا اللہ کی قسم اے جلاس کہ تو لوگوں میں زیادہ محبوب ہے میرے نزدیک اور میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ حسین اور پسندیدہ ہے اور اسے بڑھ کر عزیز ہے کہ تجھے کوئی ایسی چیز لاحق ہو جو ناپسندیدہ اور تکلیف دہ ہو تو نے ایسی بات کہی اگر میں اس کو کہوں تو یقینا تجھے رسوا کردے گی۔ اور اگر میں اس سے خاموش رہو ( یہ بات) مجھے ہلاک کردے گی۔ اور ان میں سے ایک مجھ پر زیادہ سخت…
Read the full tafseer →يَحْلِفُوْنَ [ وہ لوگ قسم کھاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] مَا قَالُوْا ۭ [ (کہ ) انھوں نے نہیں کہا ] وَ [حالانکہ ] لَقَدْ قَالُوْا [ یقینا وہ کہہ چکے ہیں ] كَلِمَةَ الْكُفْرِ [ کفر کی بات ] وَكَفَرُوْا [اور انھوں نے کفر کیا ] بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ [ اپنے اسلام کے بعد ] وَهَمُّوْا [ اور انہوں نے ارادہ کیا ] بِمَا [ اس (چیز) کا جو ] لَمْ يَنَالُوْا ۚ [ نہیں پہنچی (ان کو) ] وَمَا نَقَمُوْٓا [ اور انھیں برا نہیں لگا ] اِلَّآ [مگر ] اَنْ [(یہ ) کہ ] اَغْنٰىهُمُ [ غنی کیا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کے رسول نے ] مِنْ فَضْلِهٖ ۚ [ اپنے فضل سے ] فَاِنْ [ پس اگر ] يَّتُوْبُوْا […
Read the full tafseer →منافقوں کی مکاری اور جھوٹی قسمیں :
آگے بڑھنے سے پہلے آیت (یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ مَا قَالُوْا) کا سبب نزول جان لینا چاہئے۔ سبب نزول کے بارے میں مفسرین نے متعدد روایات لکھی ہیں۔ صاحب معالم التنزیل (ص 311 ج 2) نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص تمہارے پاس آنے والا ہے وہ تمہیں شیطانی آنکھوں سے دیکھے گا جب وہ آجائے تو تم اس سے بات نہ کرنا۔ ذرا سی دیر بھی نہ گزری تھی کہ نیلی آنکھوں والا ایک شخص آگیا اسے رسول اکرم ﷺ نے بلایا اور فرمایا، تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا کہتے ہیں۔ وہ فوراً گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا، اور وہ سب لوگ قسم کھا گئے کہ ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–84
تفصیل جرائم منافقین
قال اللہ تعالیٰ ۔ یحلفون باللہ ما قالو۔۔۔ الی۔۔۔ فاقعدوا مع الخالفین۔
(ربط): گزشتہ آیت میں منافقین سے جہاد کا حکم دیا تھا آئندہ آیات میں منافقین کے نفاق اور کفر کی چند باتیں ذکر کرتے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ منافقین کی یہ باتیں ایسی ہیں جن سے ان کا نفاق آشکارا اور ظاہر ہوچکا ہے اس لیے ان کے ساتھ شدت اور غلظت یعنی سختی کی شدید ضرورت ہے اور وہ اسی کے مستحق ہیں
نکوئی بابداں کردن چنانست کہ بد کردن بجائے نیک مرداں
ان کے ساتھ نرمی کا رویہ نہ رکھنا چاہئے اس لیے آئندہ آیات میں منافقین کے چند جرائم کا ذکر کرتے ہیں جو ان سے جہاد اور غلظت کو مقتضی ہیں اس سلسلہ میں حق تعالیٰ نے ان کا…
Read the full tafseer →69:“ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰه الخ ” اس آیت میں دو قصوں کی طرف اشارہ ہے۔ غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ نے خطبہ دیا اس میں آپ نے ان منافقین کا ذکر کیا جو جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے آپ نے ان کو رجس اور ناپاک فرمایا۔ یہ سن کر ایک منافق جلاس بن سوید کہنے لگا اگر محمد سچ کہتا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بد تر ہیں۔ یہ بات ایک مخلص مومن عمار بن قیس نے سن لی۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کردیا آپ نے جلاس کو بلا کر پوچھا تو اس نے قسم کھا کر انکار کردیا کہ اس نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَةَ الْکُفْرِ ” بعض نے لکھا ہے کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی کا قول ہے جو سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
ربط آیات :
اس سورة کا موضوع ہی جہاد ہے لہٰذا اس کا تذکرہ ہو رہا ہے ، پہلے مشرکین اور کافرین کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا اور اہل کتاب کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے کا حکم ہوا۔ چونکہ جہاد سے گریز کرنے والے زیادہ تر منافقین ہی تھے اس لیے اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ منافقین کے برے اوصاف کا تذکرہ اور پھر ان کے برے انجام کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے اوصافِ جمیلہ اور ان کو حاصل ہونے والے انعامات کا ذکر بھی گذشتہ درس میں کردیا ہے۔
خطاب کی نوعیت :
آج کی آیات بھی سابقہ سلسلہ مضمون کے ساتھ مربوط ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” یایھا…
Read the full tafseer →يَحْلِفُوْنَ بِاللہِ مَا قَالُوْا 0 ۭ وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَۃَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِہِمْ وَہَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا 0 ۚ وَمَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰىہُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ 0 ۚ فَاِنْ يَّـتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّہُمْ 0 ۚ وَاِنْ يَّـتَوَلَّوْا يُعَذِّبْہُمُ اللہُ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 0 ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0 ۚ وَمَا لَہُمْ فِي الْاَرْضِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ 74
حلف
الحِلْف : العهد بين القوم، والمُحَالَفَة : المعاهدة، وجعلت للملازمة التي تکون بمعاهدة، وفلان حَلِفُ کرم، وحَلِيف کرم، والأحلاف جمع حلیف، قال الشاعر وهو زهير…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–78
ترکیب : ماقالو ! جواب قسم یحلفون قسم کے قائم مقام مانقموا کا مفعول ان اغناھم اللّٰہ ای وما کرھوا الا غنا اللہ ایاھم لئن شرط لنصدقن جواب۔
تفسیر : ان آیات میں ان گمراہان ازلی کے شجر حیات کو قطع و برید کردینے کا حکم دیتا ہے کہ جن میں کسی قسم کا مادہ اصلاح باقی نہیں رہا۔ فقال جاھد الکفار و المنافقین واغلظ علیہم کہ ان لوگوں سے جہاد کر اور ان پر نرمی نہ کر جیسا کہ آپ کی عادت حمیدہ ہر شخص سے نرمی اور لطف کی ہے۔ کفار سے جہاد تلوار سے اور منافقین سے زبان سے کرو۔ ” ابن عباس۔ “ کیونکہ منافقین بظاہر مسلمان تھے ان کے قتل نہ کرنے کی وجہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمائی تھی کہ عرب یہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو…
Read the full tafseer →یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ مَاقَالُوْاط وَلَقَدْ قَالُوْ کَلِمَۃَ الْکُفْرِ وَکَفَرُوْا بَعْدَاِسْلَامِھِمْ وَھَمُّوْا بِمَالَمْ یَنَالُوْاج وَمَانَقَمُوْٓااِلَّآ اَنْ اَغْنٰـھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ ج فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَکُ خَیْرًالَّھُمْ ج وَاِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیْمًا لا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ج وَمَا لَھُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَانَصِیْرٍ (التوبۃ : 74)
(یہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انھوں نے وہ بات نہیں کہی حالانکہ وہ کفر کی بات کہہ چکے اور اسلام کے اظہار کے بعد کفر کا ارتکاب کرچکے اور انھوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کی کذب بیانی، جھوٹی قسمیں اور احسان فراموشی۔
پہلے بھی عرض کیا ہے کہ منافق اپنی منافقت کی وجہ سے اخلاقی طور پر اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے اور اسے اپنی بات پر قرار اور اعتماد نہیں ہوتا۔ اس کے جھوٹے پن کی وجہ سے لوگ بھی اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنا اعتماد قائم کرنے کے لیے جھوٹی قسموں کا سہارا لیتا ہے۔ یہی صورت حال اللہ کے رسول کے دور میں منافقین کی تھی جب بھی ان کی منافقت کا پر دہ چاک ہوتا تو وہ اللہ کے عظیم اور پاک نام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر انھوں نے کئی بار ایسا کیا۔ جس کے لیے انھیں کہا گیا ہے تم تو وہ لوگ ہو کہ اسلام…
Read the full tafseer →آیت 74: شان نزول : رسول اللہ ﷺ نے دو ماہ تک تبوک میں قیام فرمایا۔ آپ پر قرآن مجید اترتا رہا۔ منافقین متخلفین کے سربستہ عقائد کو طشت ازبام کرتا رہا۔ ان میں سے جو ساتھ تھے وہ ان آیات کو سنتے رہے ان میں سے ایک جلاس بن سوید تھا۔ اس نے آیات کو سن کر کہا اللہ کی قسم ! اگر محمد ﷺ کی بات ہم پیچھے رہ جانے والے سرداروں کے متعلق درست ہے تو ہم گدھوں سے بھی زیادہ برے ہیں۔ اس پر عامر بن قیس انصاری ؓ نے جلاس کو کہا جی ہاں محمد ﷺ صادق المصدوق ہیں۔ اور تو گدھے سے بھی زیادہ بدتر ہے۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ نے جلاس کو بلایا۔ تو وہ جھوٹی قسم کھا گیا کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ اس پر عامر ؓ نے ہاتھ…
Read the full tafseer →آیت یحلفون باللہ کی تفسیر
74۔” یحلفون باللہ ماقالوا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حجرہ کے سائے میں تشریف فرما تھے تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا بیشک عنقریب تمہارے پاس ایک ایسا انسان آئے گا جو تمہاری طرف شیطان کی آنکھوں سے دیکھے گا ۔ جب وہ آئے تو تم اس سے کلام نہ کرنا ۔ تھوڑا وقت نہ گزرا تھا کہ ایک نیلی آنکھوں والا شخص آیا تو آپ (علیہ السلام) نے اس کو پکارا اور فرمایا کہ تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا بھلا کہتے ہو ؟ تو وہ آدمی گیا اور اپنے ساتھیوں کو بلایا اور ان سب نے قسمیں کھائیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
73۔ 74۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا حال اور ان کا عقبیٰ کا انجام پھر مومنوں کے اوصاف اور آخرت میں ان کے واسطے درجات عالیہ جو ہونگے ان کا بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ کفار اور منافقوں سے جہاد کرو اور یہ حکم دیا کہ اپنی عادت کے خلاف ان سے سختی سے برتاؤ کرو آپ کا شیوہ اور آپ کی پیدائش اگرچہ نرمی پر ہوئی اور آپ میں بردباری کی خصلت کامل طور پر تھی لیکن آیت میں گویا حکم ہے کہ اس عادت کو صرف مومنوں ہی کے ساتھ برتنا چاہئے کفار اور منافقوں کے ساتھ تو سختی ہی کرنی زیبا ہے پھر فرمایا کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے علمائے سلف وخلف کے منافقوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کرنے میں مختلف قول ہیں لیکن علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (یا یھا النبی جاھد الکفار و المنفقین) ” اے پیغمبر ! کافروں اور منفاقوں سے جہاد کریں “ بھرپور جہاد (واغلظ علیھم) ” اور ان پر سختی کریں۔ “ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالا دستی قبول کرتا ہے، تو اس کے خلاف دلیل وبرہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے…
Read the full tafseer →منافقین کا کردار
قول باری ہے یحلفون باللہ ما قالوا ، ولقد قالوا کلمۃ الکفر وکفروا بغیر اسلامھم ۔ یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کی حالانکہ انہوں نے ضروروہ کا ذانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے ۔ آیت میں کافر منافقین کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ کلمہ کفر سے ہر وہ کلمہ مراد ہے جس کے ذریعے اللہ کی نعمت کو جھٹلایا جائے اور اس کا انکار کیا جائے۔ یا ایسا کلمہ جو اپنی سنگینی میں اس کے درجے کو پہنچ ہو ۔ یہ لوگ حضور ﷺ کی نبوت اور اسلام کے متعلق زبان درازی کرتے تھے۔ ایک قول کے مطابق کلمہ کفر بکنے والا منافق جلاس بن سوید بن الصامت تھا۔ اس نے یہ بکواس کی…
Read the full tafseer →151 جھوٹی قسمیں کھانا منافقوں کا وطیرہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ایسے نہیں کہا حالانکہ انہوں نے یقینا کفر کی بات کہی اور انہوں نے کفر کیا اپنے اسلام کے بعد اور انہوں نے ٹھان لی تھی ایک ایسی بات کی جس کو یہ پا نہ سکے۔ جیسا کہ نیلگونی (بلی) آنکھوں والے ایک منافق نے حضور ﷺ کے پوچھنے پر جھوٹی قسم کھا کر کہا تھا۔ نیز جلاس بن سوید نے اپنی ایک کفریہ بات کا انکار کرتے ہوئے کہا تھا۔ اور جیسا کہ رئیس المنافقین ابن ابی بن سلول نے ایک موقع پر کہا تھا۔ مفسرین کرام نے ان مختلف واقعات کو اس آیت کریمہ کی شان نزول کے بیان میں ذکر فرمایا ہے مگر یہ سب ہی واقعات آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
منافقوں پر سختی اور جبر
تشریح : ان آیات میں بڑی اہم ہدایات دی جا رہی ہیں وہ یہ ہیں پورے نو سال منافقین کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی مہلت دی گئی جس کی وجہ بیرونی دشمنوں سے نمٹنا بھی تھا۔ لیکن جب مسلمان مضبوط ہوگئے تو پھر حکم ہوا کہ اب مسلم آبادی کو مشرکین و منافقین کی ملاوٹ سے پاک کیا جائے تاکہ اندرونی دشمن کی سازشوں اور شرارتوں سے ریاست کو محفوظ کیا جائے یہ بیرونی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، اس لیے ان سے باقاعدہ اور ہر طرح سے نمٹا جائے ان کو خوب اچھی طرح ہر مسلم شہری یہ احساس دلا دے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں ان کو ہر طرح ذلیل و خوار اور بےکار مخلوق ثابت کرکے ان کا اچھی طرح قلع قمع کیا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–80
آیات 73 تا 80
اسرار و معارف
جہاد کا حکم
ان آیات مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست کفا ر اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا جارہا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان امیریا مسلمان حکومت کبھی بھی فریضہ جہاد سے غافل نہ ہو سکیں کہ جب خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے تو اور کون مستثنے ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے جنگ کی جگہ جہاد کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں کفار جنگ کریں گے تو مقابلہ میں لڑنا جہاد ہے ۔ جہاں مسلمان کم ہوں اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس جگہ زبانی اور عملی تبلیغ جہاد ہوگا۔
بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اسلام نے تو لڑائی کا حکم دے دیا اب مسلمان کہاں کہاں لڑتے پھریں گے پھر جہاں تعداد میں کم یا…
Read the full tafseer →ف 5 اس آیت میں کن منافقین کا ذکر ہے اور وہ کلمہ کفر کیا ہے جس کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ فرمایا ہے۔ اس بارے میں مفسرین (رح) کے کئی اقوال ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سبھی منافقین کا حال تھا کہ وہ کفر کی باتیں کرتے رہتے تھے اور جب ان سے دریافت کیا جاتا تو قسمیں کھاکھا کر انکار کردیتے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت جلاس بن سوید اور ودیعہ بن ثابت کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ اس طرح کہ جب غزوہ تبوک کے مقعہ پر کثرت سے منافقین کے متعلق قرآن اترنا شروع ہوا تو یہ دونوں کہنے لگے اگر محمد ﷺ ہمارے بھائیوں کے بارے میں جو ہمارے سردار ہیں سچ بات کہتے ہیں تو ہم گدھو سے بدتر ہیں۔ اس پر ایک سچے مسلمان عامر بن قیس یا زید…
Read the full tafseer →(9:74) ما قالوا میں ما نافیہ ہے انہوں نے نہیں کہا۔ ھموا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ ہم مصدر۔ اباب نصر۔ انہوں نے ارادہ کرلیا۔ انہوں نے قصد کیا۔
لم ینالوا۔ نفی جحد بلم۔ ینالوا نیل سے۔ مضارع مجزوم جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ باب سمع۔ انہوں نے نہ پایا۔ وہ نا پاسکے۔
ھموا بمالم ینالوا۔ انہوں نے ایسی باتوں کا ارادہ کیا جسے وہ ھاصل نہ کرسکے۔ (اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوسکے)
آیہ ہذا میں وہ کیا بات تھی جو انہوں نے کہی۔ لیکن پھر قسم کھا کھا کر کہا کہ انہوں نے نہیں کہی یا وہ کونسا ارادہ تھا جو انہوں نے کیا لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ اس میں صریحاً معلومات میسر نہیں۔ مگر منافقوں کے متعلق ایک نہیں متعدد ایسی باتیں منسوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
لغات القرآن آیت نمبر 74 تا 78
ھموا (ارادہ کیا) لم ینالوا (ان کو نہیں ملا) مانقموا (انہوں نے بدلہ نہیں لیا) اغنی (بےنیاز کردیا) خیر (زیادہ بہتر) لئن اثنا (البتہ اگر ہمیں دیا) لنصدقن (البتہ ہم صدقہ کریں گے) لنکوتن (البتہ ہم ضرور ہوں گے) بخلوا (انہوں نے کنجوسی کی) اعقب (نتیجہ یہ ہوا) یوم یلقونہ (جس دن اس سے ملیں گے) اخلقوا (انہوں نے خلاف کیا) الم یغلموا (کیا وہ نہیں جانتے) سر (بھید، چھپی ہوئی چیز) نجوی (سرگوشی، کان میں چپکے چپکے باتیں کرنا غلام الغیوب (غیبوں کا جاننے والا)
تشریح :- آیت نمبر 74 تا 78
منافقین کس حد تک جھوٹے ہیں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اللہ سے وعدہ خلافی کرتے ہیں اس کی گواہی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
کافروں اور منافقوں کے ساتھ سختی کا حکم
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ کفار اور منافقوں سے جہاد کرو اور یہ حکم دیا کہ اپنی عادت کے خلاف ان سے سختی سے برتاؤ کرو۔ آپ کی عادت حمیدہ نرمی اور لطف کی ہے، آپ میں بردباری کی خصلت کامل طور پر تھی لیکن آیت میں گویا حکم ہے کہ اس عادت کو صرف مومنوں ہی کے ساتھ برتنا چاہئے کفار اور منافقوں کے ساتھ تو سختی ہی کرنی زیبا ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تلوار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا ہے منافقوں سے زبان کے ساتھ کہ ان سے نرمی کا برتاؤ چھوڑ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے اطوار بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
[46] منافقین اپنی مجلس میں نبی ﷺ کا مذاق اڑایا کرتے اور جب پکڑے جاتے تو کہتے کہ ہم نے کچھ
نہیں کہا۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
[47] اشارہ ہے اس سازش کی طرف جو تبوک سے واپسی کے موقع پر منافقوں نے نبی ﷺ کو قتل کرنے کے لئے کی تھی۔
[48] یہ ایک لطیف طنز منافقوں کی کمینہ فطرت پر ہے۔ فرمایا کہ ہمارے نبی پر ان منافقین کا سارا غصہ اس کے اس '' قصور '' کی پاداش میں ہے جس کی بدولت وہ مالدار ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(ف 3) کلمہ اکبر سے مراد عام باتیں ہیں جو کفر و دوستی پر مبنی تھیں منافقین کو چونکہ اصالتا اسلام سے محبت نہ تھی ، اس لئے وہ شرارتا جو چاہتے کہتے رہتے ، الہذ جب ان سے باز پرسی کی جاتی تو صاف مکر جاتے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ ان کی عداوت ودشمنی محض حاسدانہ جذبات کے تابع ہے انہیں دکھ یہ ہے ، کہ مسلمان اللہ اور رسول کی مہربانی سے کیوں دولتمند ہوگئے ہیں ۔
حل لغات :
ھموا : ھم سے مشتق ہے ، بمعنی قصدہ ۔
وما نقموا : نقمہ ۔ برا سمجھنا ، نقمت الشیء اذا انکوبہ “۔
Read the full tafseer →74 یہ منافق خدا کی قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ ہم نے فلاں بات نہیں کہی حالانکہ انہوں نے یقیناً کلمۂ کفر کہا ہے اور اپنے اسلام کو ظاہر کرنے کے بعدوہ کفر کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے ایک ایسی بات کا بھی قصد کیا تھا جسے اتفاقاً وہ حاصل نہ کرسکے اور وہ بات ان کے ہاتھ نہ لگ سکی اور انہوں نے یہ منتقمانہ سلوک محض اس لئے اختیار کیا اور صرف اس بات کا بدلہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول ﷺ نے اپنے فضل و مہربانی سے ان کو دولت مند کردیا پس اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ توبہ سے روگردانی کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دردناک سزا دے گا اور روئے زمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
ف 2۔ ثعلبہ بن ابی حاطب نامی ایک شخص نے آپ سے کثرت مال کی دعا کرائی آپ نے سمجھایا کہ مصلحت نہیں اس نے کہ میں نیک کاموں میں صرف کیا کروں گا غرض آپ کی دعا سے وہ مال دار ہوگیا جب زکوة کا وقت آیا تو کہنے لگا کہ اس میں اور جزیہ میں کیا فرق ہے اور زکوة نہ دی اس پر اگلی آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
منافقین نے مخالفت رسول ﷺ میں وہ کونسا کام ہے جو نہیں کیا ؟
99: اوپر آیت 65 اور حاشیہ 89 میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ منافقین اپنی مجالس میں اللہ ، اس کے رسول اور آیات قرآنی کا مذاق اڑاتے تھے لیکن جب ان سے اس سلسلہ میں پوچھ گچھ ہوتی تو صاف انکار کردیتے ہیں اور اگر بہت مجبور ہوتے تو دوہرے مفہوم کی بات کرتے جس کو ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ فلاں آدمی ذو معنی باتیں کرتا ہے اور پنجابی میں کہتے ہیں ” دوگلا “ ہے اور زیادہ ضرورت محسوس کرتے تو فوراً قسمیں کھانے لگتے تاکہ سامعین کو یقین آجائے یا ان کی بات سن کر کم از کم خاموش ہوجائیں اور کبھی کہہ دیتے کہ ہاں ! ہم نے تو ایسے ہی مذاقاً کہا تھا وہ بات کوئی ہم نے…
Read the full tafseer →Commentary
In the first verse: يَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ (They swear by Allah -74), the text reverts to the hypocrites who keep uttering words of infidelity in their gatherings but, should Muslims come to know about that, they would promptly declare on oath that they had nothing to do with it. Giving the background in which this verse was revealed, Al-Baghawi reports that the Holy Prophet ﷺ gave an address on the occasion of the battle of Tabuk. He talked about the sorry state of affairs the hypocrites were in and warned them of their sad end. Also present there was Jullas, a hypocrite. When he…
Read the full tafseer →