At-Tawba 9:73

At-Tawba · from ayah 73

9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْهِمْ ؕ— وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ؕ— وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۟يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الۡـكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ

اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Prophet, fight against the disbelievers and the hypocrites and be harsh upon them. And their refuge is Hell, and wretched is the destination.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:73

اے نبیؐ، کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو، اور ان پر سخت ہو جاؤ ان کی اصلی جگہ دوزخ ہے، جو نہایت بدترین جگہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو، اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے نبی (معظم!) آپ کافروں اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ برا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بری لوٹ کر جانے کی جگہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! کافروں اور منافقوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جو بہت بری بازگشت ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان پر سخت بن جاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے پیغمبر ! جہاد کرو، کافروں، اور منافقوں سے اور سختی برتو ان سب کے ساتھ، اور ان سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ،

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی کافروں اور منافقوں پر جہاد کیجیے۔ اور ان پر سختی کیجیے۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور (وہ) بری جگہ ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ ! جہاد کیجئے کفار اور منافقین سے اور ان پر سختی کیجیے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے نبی ! کفار اور منافقین کا پوری طرح مقابلہ کرو اور ان سے سختی سے پیش آئو، آخرکار انکا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet! Strive against the unbelievers and the hypocrites, and be severe to them. Hell shall be their abode; what an evil destination!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O Prophet, carry out Jihad (struggle) against the disbelievers and hypocrites, and be strict with them. And their abode is Jahannam (Hell), and it is an evil terminus.

— Muhammad Taqi Usmani

O Prophet, carry out Jihad (struggle) against the disbelievers and hypocrites, and be strict with them. And their abode is Jahannam (Hell), and it is an evil terminus.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Prophet! Strive hard against the disbelievers and the hypocrites, and be harsh against them, their abode is Hell, -- and worst indeed is that destination.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Prophet! Strive against the disbelievers and the hypocrites! Be harsh with them. Their ultimate abode is hell, a hapless journey's end.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Prophet, fight against the disbelievers and the hypocrites and be harsh upon them. And their refuge is Hell, and wretched is the destination.

— Saheeh International

Prophet, fight the unbelievers and hypocrites vehemently for the cause of God. Their dwelling is hell, a terrible destination!

— Muhammad Sarwar

O Prophet! strive hard against the unbelievers and the hypocrites and be unyielding to them; and their abode is hell, and evil is the destination.

— Muhammad Habib Shakir

O Prophet! strive hard against the infidels and the hypocrites; and be severe unto them. And their resort is Hell--a hapless destination.

— Abdul Majid Daryabadi

O Prophet! strive hard against the unbelievers and the Hypocrites, and be firm against them. Their abode is Hell,- an evil refuge indeed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–74

چار تلواریں ؟ کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا۔ مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا۔ کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی۔ پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں فرماتا ہے (آیت فاذا انسلح الاشھر الحرم فاقتلو المشرکین) حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو۔ دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں فرماتا ہے (قاتلوا الذین لایومنون الح،) جو اللہ پر قیامت کے دن ایمان نہیں لاتے اللہ رسول کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے۔ دین حق کو قبول نہیں کرتے ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 81 یہاں سے وہ تیسری تقریر شروع ہوتی ہے جو غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی تھی۔ سورة التَّوْبَة 82 اس وقت تک منافقین کے ساتھ زیادہ تر درگزر کا معاملہ ہو رہا تھا، اور اسکے دو وجوہ تھے۔ ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کی طاقت ابھی اتنی مضبوط نہ ہوئی تھی کہ باہر کے دشمنوں سے لڑنے کے ساتھ ساتھ گھر کے دشمنوں سے بھی لڑائی مول لے لیتے۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے جو لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا تھے ان کو ایمان و یقین حاصل کرنے کے لیے کافی موقع دینا مقصود تھا۔ یہ دونوں وجوہ اب باقی نہیں رہے تھے۔ مسلمانوں کی طاقت اب تمام عرب کو اپنی گرفت میں لے چکی تھی اور عرب سے باہر کی طاقتوں سے کشمکش کا سلسلہ شروع ہو رہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ، اس آیت میں کفار اور منافقین دونوں سے جہاد اور ان کے معاملہ میں شدت اختیار کرنے کا حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے، ظاہری کفار سے جہاد کا معاملہ تو واضح ہے، لیکن منافقین سے جہاد کا مطلب خود رسول اللہ ﷺ کے تعامل سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے ساتھ جہاد سے مراد بزانی جہاد ہے کہ ان کو اسلام کی حقانیت سمجہنے کی طرف دعوت دیں تاکہ وہ اپنے دعوی اسلام میں مخلص ہوجائیں (قرطبی و مظہری) (آیت) وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ لفظ غلظ کے اصلی معنی یہ ہیں کہ مخاطب جس طرز عمل کا مستحق ہے اس میں کوئی رعایت اور نرمی نہ برتی جائے، یہ لفظ رافت کے مقابل استعمال ہوتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات 73 تا 80 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے پیغمبر ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی کہ یہ منافقین تمہاری کریم النفسی سے فائدہ اٹھا کر اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ اب ان کے بارے میں اپنا رویہ سخت کرو تاکہ درست ہونا ہو تو یہ درست ہوں ورنہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔ یہ اپنی مجلسوں میں کفریہ کلمات بکتے اور جھوٹی قسموں سے تم کو مطمئن کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے ارادے نہایت خطرناک تھے لیکن اللہ نے وہ پورے نہیں ہونے دئیے۔ اب ان کو مزید مہلت دینے کی گنجائش نہیں۔ اللہ اور رسول نے ان کو اپنے فضل سے جو نوازا تو یہ چیز ان کے لیے شکر گزاری اور ممنونیت کی بجائے شرارت اور اسلام دشمنی کا باعث بن گئی۔ یہ اظہار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

73۔ 1 اس آیت میں نبی کریم ﷺ کو کفار اور منافقین سے جہاد اور ان پر سختی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے نبی ﷺ کے بعد اس کے مخاطب آپ ﷺ کی امت ہے، کافروں کے ساتھ منافقین سے بھی جہاد کرنے کا حکم ہے، اس کی بابت اختلاف ہے۔ ایک رائے تو یہی ہے کہ اگر منافقین کا نفاق اور ان کی سازشیں بےنقاب ہوجائیں تو ان سے بھی اس طرح جہاد کیا جائے، جس طرح کافروں سے کیا جاتا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ منافقین سے جہاد یہ ہے کہ انہیں زبان سے وعظ و نصیحت کی جائے۔ یا وہ اخلاقی جرائم کا ارتکاب کریں تو ان پر حدود نافذ کی جائیں تیسری رائے یہ ہے کہ جہاد کا حکم کفار سے متعلق ہے اور سختی کرنے کا منافقین سے امام ابن کثیر فرماتے ہیں ان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

61: جہاد کے اصل معنی جدوجہد اور محنت و کوشش کے ہیں، دین کی حفاظت اور دفاع کے لئے یہ کوشش مسلح لڑائی کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے اور زبانی دعوت و تبلیغ اور بحث و مباحثہ کی صورت میں بھی، کھلے کافروں کے ساتھ یہاں جہاد کے پہلے معنی مراد ہیں، اور منافقین کے ساتھ جہاد کے دوسرے معنی مقصود ہیں ؛ چونکہ منافقین زبان سے اسلام لانے کا اظہار کرتے تھے، اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کی شرارتوں کے باوجود یہ حکم دیا کہ دنیا میں ان کے ساتھ مسلمانوں جیسا ہی معاملہ کیا جائے، اس لئے ان کے ساتھ جہاد کا مطلب زبانی جہاد ہے، اور ان پر سختی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اول تو گفتگو میں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے، دوسرے اگر ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

رسول اللہ ﷺ نے منافقین کے ساتھ بہت نرمی کا سلوک کیا۔ ایک عرصے تک آپ ان سے صرف نظر کرتے رہے اور چشم پوشی فرمائی۔ لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ خوش اخلاقی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ خداوند قدوس کی طرف سے اب حکم آ اجتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے رویے میں اب ذرا سنجیدگی پیدا کریں۔ اور اب ان کے ساتھ وہ سلوک اختیار کیا جائے جو کفار کے ساتھ ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب جہاد کا اطلاق دونوں پر کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سخت رویہ اختیار کیا جائے جس میں کوئی نرمی نہ ہو۔ تحریک اسلامی کو کئی مرحل درپیش ہوتے ہیں۔ بعض مواقع پر نرمی ضروری ہوتی ہے اور بعض حالات میں سکتی مفید ہوتی ہے۔ جب نرمی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 " جہاد " کے معنی ہیں کسی ناپسندیدہ چیز کے دفع کرنے میں انتہائی کوشش کرنا۔ یہ کوشش کبھی ہتھیار سے ہوتی ہے، کبھی زبان سے، کبھی قلم سے، کبھی کسی اور طریق سے، منافقین جو زبان سے اسلام کا اظہار کریں اور دل سے مسلمان نہ ہوں، ان کے مقابلہ میں جہاد بالسیف جمہور امت کے نزدیک مشروع نہیں، نہ عہد نبوت میں ایسا واقع ہوا۔ اسی لیے جہاد کا لفظ اس آیت میں عام رکھا گیا ہے یعنی تلوار سے، زبان سے، قلم سے، جس وقت جس کے مقابلہ میں جس طرح مصلحت ہو جہاد کیا جائے۔ بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ اگر منافقین کا نفاق بالکل عیاں ہوجائے تو ان پر بھی جہاد بالسیف کیا جاسکتا ہے بہرحال غزوہ تبوک نے چونکہ منافقین کا نفاق بہت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ ط یہ آیت بالکل انہی الفاظ کے ساتھ سورة التحریم میں بھی آئی ہے جو اٹھائیسویں پارے کی آخری سورت ہے۔ یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں جہاد بمعنی قتال استعمال نہیں ہوا۔ منافقین کے ساتھ آپ ﷺ نے کبھی جنگ نہیں کی۔ لہٰذا یہاں جہاد سے مراد قتال سے نچلے درجے کی جدوجہد دُوْنَ الْقِتَالِ ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ منافقین کی ریشہ دوانیوں کا توڑ کرنے کے لیے جہاد کریں ‘ ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ چناچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو اسی حوالے سے آپ ﷺ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

88 منافقوں پر غزوہ تبوک تک سختی کیوں نہ کی گئی ؟۔ (1) آپ کی نرمی (2) داخلی انتشار ( 3) اغیار کے طعنے۔ یہ آیات غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئیں جبکہ منافقوں کو اپنی سازشوں اور اسلام دشمن سرگرمیوں میں نو سال گزر چکے تھے اب تک ان منافقوں سے جو نرم رویہ اختیار کیا جاتا رہا اس کی متعدد وجوہ تھیں۔ پہلی وجہ تو یہی تھی کہ آپ طبعاً نرم خو واقع ہوئے تھے۔ آپ کی طبیعت مجرم کو سرزنش کرنے یا سزا دینے کی بجائے اس سے درگزر کرنے اور اسے معاف کردینے کی طرف زیادہ مائل رہتی تھی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر آپ ان پر سختی کرتے تو مسلمانوں کے اندر داخلی فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا اور غزوہ تبوک سے پہلے پہلے مسلمانوں کی سلطنت اتنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

136 ۔ (ہر ایک کے حسب حال) لفظ جہاد، قتال کے مرادف نہیں، قتال اس کی صرف ایک فرد ہے، محققین نے تصریح کردی ہے کہ کافروں سے جہاد کی شکل ایک ہوگی، اور منافقوں سے جہاد کی شکل دوسری۔ (آیت) ” جاھد الکفار “۔ کافروں کے مقابلہ میں جہاد جنگ و قتال سے ہوگا۔ امر بالجھاد مع الکفار بالسیف (قرطبی عن ابن عباس ؓ دلت الدلائل المنفصلۃ علی ان المجاھدۃ مع الکفار یجب ان تکون بالسیف (کبیر) (آیت) ” والمنفقین “۔ منافقوں کے مقابلہ میں جہاد قول ولفظ اور عملی برتاؤ سے ہوگا۔ امر بالجھاد مع المنافقین باللسان وشدۃ الزجر والتغلیظ (قرطبی۔ عن ابن عباس) باقامۃ الحدود علیھم وباللسان (قرطبی عن الحسن وقتادۃ) باظھار الحجۃ تارۃ وبترک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 73–80

آیت نمبر 73 تا 80 ترجمہ : اے نبی کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان وبرہان سے جہاد کیجئے، اور ان منافقوں کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ اور خفگی کے ذریعہ سختی سے پیش آئیے، (آخر کار) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے اور منافق اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ گالی کی جو بات ہماری طرف سے آپ کو پہنچی ہے وہ ہم نے نہیں کہی، حالانکہ یقینا وہ کافرانہ بات انہوں نے کہی، اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے یعنی اسلام ظاہر کرنے کے بعد انہوں نے کفر ظاہر کیا، اور انہوں نے اس سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جو وہ نبی ﷺ کو قتل کے ارادہ سے تبوک سے لوٹتے وقت لیلة العقبہ میں کرنا چاہتے تھے اور وہ دس سے کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا النبی جاھد الکفار اے نبی ! کافروں سے جہاد کرو ‘ یعنی تلوار سے۔ والمنفقین اور منافقوں سے (بھی) جہاد کرو۔ حضرت ابن عباس اور ضحاک نے فرمایا : یعنی زبان سے منافقوں سے جہاد کرو۔ ان سے کلام میں نرمی نہ کرو ‘ درشتی کرو۔ حسن اور قتادہ نے کہا : یعنی ان پر شرعی حدود قائم کرو۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اگر ہاتھ سے ہو سکے تو ہاتھ سے جہاد کرے۔ ہاتھ سے ممکن نہ ہو تو زبان سے جہاد کرے۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے جہاد کرے۔ حضرت ابن مسعود نے یہ بھی فرمایا کہ منافق سے ملاقات ترش روئی کے ساتھ کی جائے (یعنی خوش اخلاقی کا سلوک اس سے نہ کیا جائے) ۔ واغلظ علیھم وما وٰھم جھنم وبئس المصیر۔ اور ان پر سختی کیجئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) کافروں سے تلوار کے ساتھ اور منافقین سے زبان کے ساتھ جہاد کیجیے اور ان دونوں جماعتوں پر قول وعمل کے ساتھ سختی کیجیے ان کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں یہ جائیں گے وہ بہت بری جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ : مدینہ آنے پر رسول اللہ ﷺ طویل مدت تک منافقین سے نرمی برتتے رہے اور ان کی سازشوں اور کمینگیوں سے درگزر فرماتے رہے، مگر اس حسن سلوک سے اصلاح کے بجائے ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی، اس لیے جب یہ سورت اتری جو قرآن کی سب سے آخر میں اترنے والی سورتوں میں سے ہے تو حکم ہوا کہ اب نرمی اور درگزر کے بجائے سختی اور بندوبست کا وقت آگیا ہے، اس لیے اب تک آپ جو نرمی اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے رہے اسے ختم کیجیے اور ان کے ہر قصور پر سختی سے گرفت کیجیے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ منافقین صریح کفر کا اظہار کریں اور اس پر قائم رہیں تو کفار کی طرح ان سے بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 73۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی جاھد الکفار “۔ یہ خطاب حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو ہے اور اس میں آپ کے بعد آپ کی امت داخل ہے، کہا گیا ہے : مراد یہ ہے کہ مومنین کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیجئے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ کفار کے ساتھ تلوار سے جہاد کرنے کرنے اور منافقین کے ساتھ جہاد کیجئے اپنے ہاتھ سے اور اگر طاقت نہ رکھیں تو پھر اپنی زبان سے اور اگر اس کی استطاعت نہ رکھیں تو پھر ان سے انتہائی ترش روئی اور سختی سے پیش آؤ اور حسن نے کہا ہے : منافقین سے جہاد کرو ان پر حدود قائم کرنے کے ساتھ اور زبان کے ساتھ، اور اسے حضرت قتادہ (رح)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے اپن سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیہم “ یعنی تلوار کے ذریعہ جہاد کیجئے۔” المنافقین “ اور (منافقین کے ساتھ) زبان سے (جہاد کیجئے) ” واغلظ علیہم “ یعنی ان سے نرمی ختم کردیجئے (یعنی سختی کیجئے) 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی الدنیا نے کتاب الامر بالعروف میں وابن منذر وابن ابی حاتم نے وابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جاھد الکفار والمنفقین “ یعنی اپنے ہاتھ سے جہاد کیجئے اگر نہ ہوسکے تو اپنی زبان سے جہاد کیجئے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنے دل سے (برا مانئے) اور ان سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ [اے نبی ] جَاهِدِ [آپ کشمکش کریں ] الْكُفَّارَ [ کافروں سے ] وَالْمُنٰفِقِيْنَ [ اور منافقوں سے ] وَاغْلُظْ [ اور آپ سخت ہوں ] عَلَيْهِمْ ۭ [ ان پر ] وَمَاْوٰىهُمْ [ اور ان کا ٹھکانہ ] جَهَنَّمُ ۭ [ جہنم ہے ] وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ [لوٹنے کا ٹھکانہ ] نوٹ :1 ۔ آیت ۔ 73 میں کفار اور منافقین سے جہاد اور اس میں شدت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کفار سے جہاد کا معاملہ تو واضح ہے، جبکہ منافقین سے جہاد کا مطلب رسول اللہ ﷺ کے عمل سے یہ ثابت ہوا کہ ان کے ساتھ جہاد سے مراد زبانی جہاد ہے، کہ ان کو اسلام کے سمجھنے کی دعوت دیں تاکہ وہ اپنے دعوی اسلام میں مخلص ہوجائیں ۔ واغلظ علیہم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے اور ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کرنے کا حکم عام کافروں سے اور منافقوں سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیفیں پہنچتی رہتی تھی۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف منصوبے بناتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اولاً صبر اور درگزر کا حکم فرمایا تھا پھر جہاد کی اجازت دے دی جیسا کہ سورة حج میں (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) فرمایا۔ پھر کفار سے جہاد اور قتال کرنے کا حکم فرما دیا جو اس سورت میں مذکور ہے۔ اوپر جن آیات کا ترجمہ لکھا گیا ان میں پہلی آیت میں کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لفظ جہاد ہر طرح کی کوششوں کو شامل ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–73

مدح اہل ایمان مع بشارت غفران ورضوان قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومن ات بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔ (ربط) قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومنت بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے فضائح اور قبائح اوصاف قبیحہ اور اعمال شنیعہ کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ سب کے سب ان قبائح اور فضائح میں ایکد وسرے کے مشابہ اور مماثل ہیں۔ اب بطور مقابلہ مومنین کے صفات خیر اور اعمال فاضلہ کو بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اطاعت شعار اور مخلص اور وفادار بندوں کا یہ حال ہے جو منافقوں کے حال کے برعکس ہے جس طرح منافقین اور منافقات رذائل میں ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

68:“ یَا ایُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدْ الخ ” اس آیت میں کفار اور منافقین سے جہاد بالحجة والدلیل مراد ہے یعنی دلائل وبراہین سے ان کے شبہات، اعتراضات اور مطاعن کا جواب دو ۔ حضرت شیخ قدس سرہٗ نے فرمایا۔ منافقین اطراف مدینہ کے ساتھ جہاد بالسیف کرو اور جو منافقین مدینہ منورہ میں ہیں ان سے جہاد باللسان یعنی دلائل سے جہاد کرو تاکہ لوگ الزام نہ لگائیں کہ یہ پیغمبر مسلمانوں کو مروا رہا ہے۔ “ قال ابن عباس امر بالجھاد مع الکفار بالسیف و مع المنافقین باللسان و شدة الزجر والتغلیظ ” (قرطبی ج 8 ص 204) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 73–74

ربط آیات : اس سورة کا موضوع ہی جہاد ہے لہٰذا اس کا تذکرہ ہو رہا ہے ، پہلے مشرکین اور کافرین کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا اور اہل کتاب کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے کا حکم ہوا۔ چونکہ جہاد سے گریز کرنے والے زیادہ تر منافقین ہی تھے اس لیے اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ منافقین کے برے اوصاف کا تذکرہ اور پھر ان کے برے انجام کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے اوصافِ جمیلہ اور ان کو حاصل ہونے والے انعامات کا ذکر بھی گذشتہ درس میں کردیا ہے۔ خطاب کی نوعیت : آج کی آیات بھی سابقہ سلسلہ مضمون کے ساتھ مربوط ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” یایھا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ جَاہِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْہِمْ۝ 0 ۭ وَمَاْوٰىہُمْ جَہَنَّمُ۝ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۝ 73 نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 73–78

ترکیب : ماقالو ! جواب قسم یحلفون قسم کے قائم مقام مانقموا کا مفعول ان اغناھم اللّٰہ ای وما کرھوا الا غنا اللہ ایاھم لئن شرط لنصدقن جواب۔ تفسیر : ان آیات میں ان گمراہان ازلی کے شجر حیات کو قطع و برید کردینے کا حکم دیتا ہے کہ جن میں کسی قسم کا مادہ اصلاح باقی نہیں رہا۔ فقال جاھد الکفار و المنافقین واغلظ علیہم کہ ان لوگوں سے جہاد کر اور ان پر نرمی نہ کر جیسا کہ آپ کی عادت حمیدہ ہر شخص سے نرمی اور لطف کی ہے۔ کفار سے جہاد تلوار سے اور منافقین سے زبان سے کرو۔ ” ابن عباس۔ “ کیونکہ منافقین بظاہر مسلمان تھے ان کے قتل نہ کرنے کی وجہ آنحضرت ﷺ نے یہ فرمائی تھی کہ عرب یہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰـٓاَیُّھَاالنَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰـفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْط وَمَاْ وٰھُمْ جَھَنَّمُط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ( التوبۃ : 73) (اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کیجیے اور ان پر سخت ہوجائیے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت براٹھکانہ ہے۔ ) منافقین کے بارے میں سخت ہوجانے کا حکم پیشِ نظر آیات کے نزول تک منافقین مسلمانوں میں گھلے ملے رہتے تھے۔ ان کی بعض عادتیں اور بعض اقدامات مسلمانوں کو کھٹکتے بھی تھے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی کریم النفسی اور درگزر کے باعث مسلمان ان سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھتے تھے۔ وہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں بھی حاضر ہوتے بعض دفعہ غزوات میں شرکت بھی کرتے، ان سے کسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کو انتباہ کرنے کے بعد مومنوں کے اوصاف اور ان کے انعامات کا ذکر فرمایا۔ درمیان میں آٹھ آیات چھوڑ کر ایک سو دس آیات تک مسلسل منافقین کے کردار اور انجام کا ذکر ہوگا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد نبی محترم ﷺ کو منافقین کے ساتھ واسطہ پڑا آپ آٹھ سال مسلسل انھیں سمجھاتے اور معاف کرتے رہے۔ اس کے باوجود یہ باز نہ آئے یہاں تک کہ آپ تبوک سے کامیاب واپس آئے۔ لیکن ان بدفطرت لوگوں نے تبوک کے سفر میں بھی اپنی سازشیں جاری رکھیں۔ اس کے باوجود آپ درگزر سے کام لیتے رہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ لہٰذا منافقین سے سختی اختیار کیجیے۔ یہاں منافقین پر سختی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار و منافقین سے سخت رویہ اختیار کریں : آیت 73: یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ (اے نبی جہاد کریں کفار سے) تلوار سے وَالْمُنٰفِقِیْنَ (اور منافقین سے) دلیل سے وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ (اور ان پر سختی کریں) ان دونوں جہادوں میں اور ان سے مت ڈرو۔ مسئلہ : ہر وہ شخص جس کے عقیدہ میں خرابی ہو اس کا یہی حکم ہے کہ دلیل سے اس کے ساتھ جہاد کیا جائے گا اور اس کے معاملے میں حتی الامکان سختی برتی جائے گی۔ وَمَاْوٰٹھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے) جہنم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 73۔” یایھا النبی جاھد الکفار “ تلوار اور قتل کے ساتھ ” والمنفقین “ منافقین سے جہاد کے طریقے میں اختلاف ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اپنے ہاتھ کے ساتھ اگر طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کے ساتھ اور اگر طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ساتھ اور فرماتے ہیں کہ منافقین کو سخت چہرے کے ساتھ ملو ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زبان کے ساتھ اور نرمی چھوڑ کر اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ سخت گفتگو کر کے اور حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ان پر حدود قائم کر کے۔” واغلظ علیھم وما وھم “ آخرت میں ’ ’ جھنم وبئس المصیر “ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت نے عفو و در گزر کی تمام آیات کو منسوخ کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 73–74

73۔ 74۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کا حال اور ان کا عقبیٰ کا انجام پھر مومنوں کے اوصاف اور آخرت میں ان کے واسطے درجات عالیہ جو ہونگے ان کا بیان فرما کر آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ کفار اور منافقوں سے جہاد کرو اور یہ حکم دیا کہ اپنی عادت کے خلاف ان سے سختی سے برتاؤ کرو آپ کا شیوہ اور آپ کی پیدائش اگرچہ نرمی پر ہوئی اور آپ میں بردباری کی خصلت کامل طور پر تھی لیکن آیت میں گویا حکم ہے کہ اس عادت کو صرف مومنوں ہی کے ساتھ برتنا چاہئے کفار اور منافقوں کے ساتھ تو سختی ہی کرنی زیبا ہے پھر فرمایا کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے علمائے سلف وخلف کے منافقوں سے تلوار کے ساتھ جہاد کرنے میں مختلف قول ہیں لیکن علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–74

آیت 73 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (یا یھا النبی جاھد الکفار و المنفقین) ” اے پیغمبر ! کافروں اور منفاقوں سے جہاد کریں “ بھرپور جہاد (واغلظ علیھم) ” اور ان پر سختی کریں۔ “ جہاں حالات سختی کا تقاضا کریں وہاں سختی کیجیے۔ اس جہاد میں تلوار کا جہاد اور حجت و دلیل کا جہاد سب شامل ہیں۔ پس جو جنگ کرتا ہے اس کے خلاف ہاتھ، زبان اور شمشیر و سناں کے ذریعے سے جہاد کیا جائے اور جو کوئی ذمی بن کر یا معاہدہ کے ذریعے سے اسلام کی بالا دستی قبول کرتا ہے، تو اس کے خلاف دلیل وبرہان کے ذریعے سے جہاد کیا جائے۔ اس کے سامنے اسلام کے محسن اور کفر و شرک کی برائیاں واضح کی جائیں۔ پس یہ تو وہ رویہ ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

جہاد النبی ؐ کے مفاہیم قول باری ہے یایھا النبی جاھد الکفار والمنافقین واغلط علیھم اے نبی ؐ ! کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئو ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق مفہوم ہے ۔ ہاتھ سے ان کا مقابلہ کرو ۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان اور دل سے انکا مقابلہ کرو اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ان کے سامنے تیوری چڑھائے رکھو۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ کافروں کا تلوار کے ساتھ مقابلہ کرو اور منافقین کا زبان کے ساتھ ۔ حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ کافروں کا تلوار کے ساتھ مقابلہ کرو اور منافقین کا ان پر حدود قائم کر کے مقابلہ کرو جن لوگوں پر حدود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

150 کفار اور منافقین دونوں سے جہاد کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جہاد کرو تم ان کافروں اور منافقوں سے اور سختی برتو ان سب کے ساتھ ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ مگر یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ کھلے کفار سے جہاد تو توپ و تفنگ اور سیف وسنان وغیرہ وغیرہ سامان حرب و ضرب سے جہاد کرو اور چھپے کافروں یعنی منافقوں سے زبان وبیان اور تغلیظ کلام وغیرہ سے۔ نیز ان سے بھی سیف وسنان سے جہاد کرو جب کہ وہ اپنے کفر و نفاق کو ظاہر کردیں۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف کفار و منافقین سے جہاد کرنا مامور و مطلوب ہے کہ جرم کفر میں یہ دونوں ہی گروہ شریک وسہیم ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–74

منافقوں پر سختی اور جبر تشریح : ان آیات میں بڑی اہم ہدایات دی جا رہی ہیں وہ یہ ہیں پورے نو سال منافقین کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی مہلت دی گئی جس کی وجہ بیرونی دشمنوں سے نمٹنا بھی تھا۔ لیکن جب مسلمان مضبوط ہوگئے تو پھر حکم ہوا کہ اب مسلم آبادی کو مشرکین و منافقین کی ملاوٹ سے پاک کیا جائے تاکہ اندرونی دشمن کی سازشوں اور شرارتوں سے ریاست کو محفوظ کیا جائے یہ بیرونی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، اس لیے ان سے باقاعدہ اور ہر طرح سے نمٹا جائے ان کو خوب اچھی طرح ہر مسلم شہری یہ احساس دلا دے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں ان کو ہر طرح ذلیل و خوار اور بےکار مخلوق ثابت کرکے ان کا اچھی طرح قلع قمع کیا جائے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 73–80

آیات 73 تا 80 اسرار و معارف جہاد کا حکم ان آیات مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو براہ راست کفا ر اور منافقین سے جہاد کا حکم دیا جارہا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان امیریا مسلمان حکومت کبھی بھی فریضہ جہاد سے غافل نہ ہو سکیں کہ جب خود رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے تو اور کون مستثنے ہوسکتا ہے ۔ اسلام نے جنگ کی جگہ جہاد کا حکم دیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جہاں کفار جنگ کریں گے تو مقابلہ میں لڑنا جہاد ہے ۔ جہاں مسلمان کم ہوں اور لڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو اس جگہ زبانی اور عملی تبلیغ جہاد ہوگا۔ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اسلام نے تو لڑائی کا حکم دے دیا اب مسلمان کہاں کہاں لڑتے پھریں گے پھر جہاں تعداد میں کم یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 کافروں سے تلوار کے ذریعہ اور منا فقوں سے انہیں نصحیت اور لعنت وملالت کر کے، ( شوکانی)4 یعی اب تک جو آپ ﷺ ان سے نرمی اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے رہے ہیں۔ اسے ختم کیجئے اور ان کے ہر قصور پر سختی سے گرفت کیجئے اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب منافقین بر ملا نفاق کا اظہار کریں تو کفار کی طرح ان کے ساتھ بھی جہاد باسیف کیا جائے ابن جریر طبری (رح) نے اسی کو ترجیح دی ہے مگر بعض صحابہ ؓ نے کہا ہے کہ ان پر سختی کی جائے اور زبان سے طعن و ملامت کیا جائے تلوا سے مقاتلہ نہ کیا جائے ہاں ان پر حدعد الہیٰ ضرور قائم کی جائیں، حافظ ابن کثیر (رح) مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ان اقوال میں اختلاف نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:73) جاھد۔ تو جہاد کر۔ تو لڑائی کر۔ امر واحد مذکر حاضر۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) سے۔ محاورہ ہاتھ اور زبان دونوں سے ہوتا ہے (اس آیۃ سے لے کر وہ تقریر شروع ہوتی ہے جو غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی تھی) ۔ اغلظ علیہم۔ ان پر سختی کر۔ غلظۃ سے (باب نصر، کرم) بمعنی گاڑھا پن ۔ موٹاپا۔ رقۃ کی ضد ہے۔ ولیجدوا فیکم غلظۃ (8:123) چاہیے کہ وہ تم میں سختی محسوس کریں۔ سختی بمعنی سخت مزاجی۔ اور فاستغلظ فاستوی علی سوقہ (48:29) پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 73 جاھد (جہاد کیجیے) اغلط (سختی کیجیے) ماوی ٹھکانا بئس المصیر (بدترین ٹھکانا) تشریح : آیت نمبر 73 مومنین اور منافقین کی تمام علامتیں اور پہچان بتانے کے بعد نبی کریم ﷺ کو باضابطہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان کفار اور منافقین کے خلاف ایسی کوششیں کی جائیں جس سے وہ اس بات کا بخوبی اندازہ کرلیں کہ اسلام کوئی ایسا نرم چارہ نہیں ہے کہ جس کا دل چاہے وہ اس کو اپنے حق میں استعمال کرلے بلکہ پانی قوت و طاقت سے ان پر سختی کا اظہار کردیجیے۔ اس حکم کی اہمیت میں کلام نہیں ہے لیکن یہاں قتال کا نہیں بلکہ جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جہاد کیا ہے ؟ جہاد درحقیقت ایک تحریک ہے جس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 73–74

کافروں اور منافقوں کے ساتھ سختی کا حکم ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ کفار اور منافقوں سے جہاد کرو اور یہ حکم دیا کہ اپنی عادت کے خلاف ان سے سختی سے برتاؤ کرو۔ آپ کی عادت حمیدہ نرمی اور لطف کی ہے، آپ میں بردباری کی خصلت کامل طور پر تھی لیکن آیت میں گویا حکم ہے کہ اس عادت کو صرف مومنوں ہی کے ساتھ برتنا چاہئے کفار اور منافقوں کے ساتھ تو سختی ہی کرنی زیبا ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تلوار کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا ہے منافقوں سے زبان کے ساتھ کہ ان سے نرمی کا برتاؤ چھوڑ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے اطوار بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[45] جہاد کے معنی ہیں کسی ناپسندیدہ چیز کے دفع کرنے میں انتہائی کوشش کرنا۔ یہ کوشش کبھی عطیات سے ہوتی ہے، کبھی زبان سے، کبھی قلم سے، کبھی کسی اور طریق سے۔ منافقین جو زبان سے اسلام کا اظہار کریں اور دل سے مسلمان نہ ہوں ان کے مقابلے میں تلوار سے جہاد جمہور علماء کے نزدیک جائز نہیں، نہ عہد نبوت میں ایسا ہوا اس لئے اس آیت میں ان کی نسبت ذرا سخت رویہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ تبوک کے موقع پر جب منافقین نے کھلم کھلا عناد اور دشمنی کا انداز اختیار کیا تو رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان کے معاملے میں سختی اختیار کیجئے۔ یہ شریر خوش اخلاقی اور نرمی سے ماننے والے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) جہاد و غلظت کے معنی یہ نہیں کہ ہر دو فریقین سے جہاد بالسیف ہی ہو بلکہ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کفار سے جہاد کے معنی یہ ہیں کہ ان کے ساتھ تیغ وسنان کا استعمال کیا جائے اور منافقین سے جہاد یہ ہے کہ انہیں ذلیل کیا جائے اسلامی مجالس میں رسوا کیا جائے ، اور اللہ کی حجت کو پورا کیا جائے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

73 اے نبی کفار کے ساتھ اور منافقین کے ساتھ جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور ان سے سخت رویہ اختیار کیجئے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ کفار سے تلوار کے ساتھ جہاد کیا جائے اور منافقین کے ساتھ بجائے تلوار کے زبان سے یا قلم سے جہاد کیا جائے اور ان سے نرمی کا برتائو چھوڑ دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اگلی آیت کے متعلق یہ قصہ ہے کہ تبوک سے واپسی پر چند منافقین نے کہ ان کی تعداد بارہ تک منقول ہے ایک شب صلاح کی کہ فلاں گھاٹی میں آپ کی سواری گزرے گی سب مل کر آپ کو دھکیل دیں پھر قتل کردیں غرض سب اپنا منہ لپیٹ کر جمع ہو کر دفعتا اس موقع پر آپ ہنچے مگر آپ نے دیکھ کر ڈانٹا اور حضرت حذیفہ و حضرت عمار ساتھ تھے انہوں نے ہٹایا مگر پہچانے نہیں گئے آپ کو وحی سے معلوم ہوا آپ نے مزل پر پہنچ کر ان کو بلاکر پوچھا کہ تم نے ایسا ایسا مشورہ کیا تھا وہ سب قسمیں کھانے لگے کہ نہ مشورہ ہوا نہ ارادہ ہوا ان میں سے بعض کے ساتھ آپ نے خاص طور پر مالی اعانت بھی فرمائی تھی جیسے جلاس۔ اس قصہ میں یہ آیت نازل ہوئی اور…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے کی دوبارہ تاکید : 97: یہ آیت اور اس طرح کی دوسری آیات ہم کو بتاتی ہیں کہ جہاد صرف اور صرف جنگ لڑنے ہی کا نا نہیں ہے بلکہجَاہِدِ جہد سے ہے جس کے معنی زور لگانا اور کوشش کرنے کے ہیں اور جہاد معنی جنگ کو بھی اس لئے جہاد کہا جاتا ہے کہ دشمن کی طاقت کو کچلنے کے لئے زور لگایا جاتا ہے۔ امام راغب (رح) کہتے ہیں کہ جہاد تین طرح پر ہے۔ دشمن ظاہری سے جہاد ، شیطان سے جہاد اور اپنے نفس سے جہاد اور جَاہِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ 1ؕ اور جَاہِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وغیرہ تینوں قسم کا جہاد شامل ہے اور نبی کریم ﷺ کا بھی ارشاد گرامی ہے کہ : جَاہِدُوْا اھواء…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 72–73

In the last verse (73): جَاهِدِ الْكُفَّارَ‌ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (carry out Jihad against the disbelievers and hypocrites and be strict with them), the Holy Prophet ﷺ has been commanded to wage Jihad against disbelievers and hypocrites both and to be strict in their case. The need to fight against belligerent disbelievers is self-evident. But, the meaning of carrying out Jihad against the hypocrites is explained by the very conduct of the Holy Prophet ﷺ . It proves that Jihad against them signifies vocal Jihad through which they should be induced to understand the veracity…

Read the full tafseer →