مومنوں کو نیکی کے انعامات
مومنو کی ان نیکیوں پر جو اجر وثواب انہیں ملے گا ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ابدی نعمتیں ہمیشگی کی راحتیں باقی رہنے والی جنتیں جہاں قدم قدم پر خوشگوار پانی کے چشمے ابل رہے ہیں جہاں بلند وبالا خوبصورت مزین صاف ستھرے آرائش و زیبائش والے محلات اور مکانات ہیں۔حضور ﷺ فرماتے ہیں دو جنتیں تو صرف سونے کی ہیں ان کے برتن اور جو کچھ بھی وہاں ہے سب سونے ہی سونے کا ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں برتن بھی اور کل چیزیں بھی ان میں اور دیدارالٰہی میں کوئی حجاب بجز اس کبریائی کی چادر کے نہیں جو اللہ جل وعلا کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے۔ اور حدیث میں ہے کہ مومن کے لئے جنت میں ایک خیمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة التَّوْبَة 80
”جس طرح منافقین ایک الگ امت ہیں اسی طرح اہل ایمان بھی ایک الگ امت ہیں۔ اگرچہ ایمان کا ظاہری اقرار اور اسلام کی پیروی کا خارجی اظہار دونوں گروہوں میں مشترک ہے۔ لیکن دونوں کے مزاج، اخلاق، اطوار، عادات اور طرز عمل میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ جہاں زبان پر ایمان کا دعویٰ ہے، مگر دل سچے ایمان سے خالی ہیں وہاں زندگی کا سارا رنگ ڈھنگ ایسا ہے جو اپنی ایک ایک ادا سے دعوائے ایمان کی تکذیب کر رہا ہے۔ اوپر کے لیبل پر تو لکھا ہے کہ یہ مشک ہے مگر لیبل کے نیچے جو کچھ ہے وہ اپنے پورے وجود سے ثابت کر رہا ہے کہ یہ گوبر کے سوا کچھ نہیں۔ بخلاف اس کے جہاں ایمان اپنی اصل حقیقت کے ساتھ موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
خلاصہ تفسیر
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے (دینی) رفیق ہیں، نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحمت کرے گا) جسکی تفصیل وَعَدَ اللّٰهُ میں عنقریب آتی ہے) بلا شبہ اللہ تعالیٰ قادر (مطلق) ہے (جزائے تام دے سکتا ہے) حکمت والا ہے (جزائے مناسب دیتا ہے، اب اس رحمت کا بیان ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفیس مکانوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
مومنین اور مومنات کا کردار : منافقین اور منافقات کا کردار واضح کرنے کے بعد اب یہ مومنین اور مومنات کا کردار واضح کیا جا رہا ہے۔ ان کی بابت فرمایا تھا کہ ان کے مرد اور عورتیں سب ایک ہی چٹے کے بٹے ہیں، نفاق کی پرورش میں دونوں کی سرگرمیاں یکساں ہیں۔ ان کی بابت فرمایا کہ، وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ، یہ ایمان کے مقتضیات و مطالبات کی تعمیل و تکمیل میں ایک دوسرے کے ساتھی، دست وبازو اور ہمدرد و غم گسار ہیں۔ مومن بندے جب اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو مومنہ بندیاں ان کے پاؤں کی زنجیر اور گلے کا پھندا بننے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ سچے دل سے…
Read the full tafseer →72۔ 1 جو موتی اور یاقوت تیار کئے گئے ہوں گے۔ عدن کے کئی معنی کئے گئے ہیں۔ ایک معنی ہمیشگی کے ہیں۔
72۔ 2 حدیث میں بھی آتا ہے کہ جنت کی تمام نعمتوں کے بعد اہل جنت کو سب سے بڑی نعمت رضائے الٰہی کی صورت میں ملے گی (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
60: ان کے واقعات کے لیے دیکھئے سورة اعراف، آیات 59 اور 92 اور ان کے حواشی
Read the full tafseer →یہ لوگ ان جنات میں باعز طور پر رہیں گے۔ لیکن ان کے لیے ان اعلی رہائش گاہوں سے بھی بڑآ انعام اللہ کی رضا مندی ہے اور جنت اپنی تمام آسائشوں کے ساتھ اس بڑے انعام کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اور یہ خوشی یعنی رضائے الہی کی خوشی سب سے بڑی خوش ہے۔
اللہ کے ساتھ رابطے کا اعلی مقام انسان کو اس وقت ملتا ہے کہ جب وہ اللہ اپنی آنکھوں سے نظر آئے یعنی حالت شہود۔ اس مقام میں انسان دنیا کی کثافتوں ، اس کی پریشانیوں اور اس کی دلچسپیوں سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس مقام میں انسان کے دل کی گہرائیوں سے ایک روشنی نکلتی ہے۔ انسانی آنکھیں اس نور کو نہیں دیکھ سکتیں اور یہ نور ، نور الہی ہوتا ہے اور اس کا تعلق روح اللہ سے…
Read the full tafseer →5 یعنی تمام نعمائے دنیاوی و اخروی سے بڑھ کر حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے۔ جنت بھی اسی لیے مطلوب ہے کہ وہ رضائے الٰہی کا مقام ہے۔ حق تعالیٰ مومنین کو جنت میں ہر قسم کی جسمانی و روحانی نعمتیں اور مسرتیں عطا فرمائے گا۔ مگر سب سے بڑی نعمت محبوب حقیقی کی دائمی رضا ہوگی۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حق تعالیٰ اہل جنت کو پکارے گا۔ جنتی " لبیک " کہیں گے۔ دریافت فرمائے گا۔ " رَضَیْتُمْ " یعنی اب تم خوش ہوگئے۔ جواب دیں گے کہ پروردگار ! خوش نہ ہونے کی وجہ ؟ جبکہ آپ نے ہم پر انتہائی انعام فرمایا ہے۔ ارشاد ہوگا ہَلْ اُعْطِیْکُمْ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ " یعنی جو کچھ اب تک دیا گیا ہے کیا اس سے بڑھ کر ایک چیز لینا…
Read the full tafseer →آیت 72 وَعَدَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ط وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُط ذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ
جنت کی ساری نعمتیں اپنی جگہ ‘ مگر اہل جنت کے لیے سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ اللہ ان سے راضی ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →87 اللہ کی خوشنودی سے مراد ؟ جنت کی نعمتیں بےشمار، لاتعداد اور لازوال ہیں جن کا ذکر کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر آیا ہے اور صحیح احادیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے کے بعد پکارے گا جنتی لبیک کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا۔ اب تم خوش ہو ؟ وہ جواب دیں گے پروردگار ! کیا اب بھی ہم خوش نہ ہوں گے جب کہ تو نے یہاں ہمیں ہر طرح کی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں ان سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت نہ عطا کروں ؟ جنتی پوچھیں گے اے پروردگار ! ان نعمتوں سے افضل اور کیا چیز ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب میں تم پر اپنی رضا اور خوشنودی…
Read the full tafseer →135 ۔ (اور یہ اہل جنت کو تمام تر نصیب رہے گی) (آیت) ” رضوان من اللہ اکبر “۔ یعنی رضائے الہی ساری نعمتوں سے بڑھ کر ہے اور وہ تعمیل احکام سے ہر ایک کو حاصل ہوسکتی ہے۔ صوفیہ عارفین نے لکھا ہے کہ جنت میں دیدار الہی گو ایک عظیم الشان نعمت ہے، لیکن یہ لذت تو صرف عاشقوں اور دیدار کرنے والوں کے نقطہ خیال سے ہے، عاشق کے لئے بیشک دیدار محبوب سے بڑھ کر لذیذ نعمت اور کیا ہوسکتی ہے لیکن محبوب کی رضا تو اس سے بھی بڑھ کر لطیف ولذیذ ہے اور محبوب حقیقی کی رضا صرف تعمیل احکام اور ادائے فرائض میں ہے مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خود جنت میں جانے اور ہر قسم نعمت پانے کا سبب بھی تو یہی رضائے الہی ہے اور عاشقوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیت نمبر 67 تا 72
ترجمہ : منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں، یعنی دین کے معاملہ میں ایک شی کے اجزاء کے مشابہ ہیں، برائی کا (یعنی) کفر و معاصی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی (یعنی) ایمان وطاعت سے روکتے ہیں اور طاعت میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں اللہ کو بھول گئے ہیں یعنی اس اطاعت کو ترک کردیا ہے، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا ہے یعنی ان کو اپنے کرم سے محروم کردیا ہے، یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی جزا وسزا کے اعتبار سے ان کے لئے ہے، اللہ نے ان پر لعنت کی ہے یعنی ان کو…
Read the full tafseer →وعد اللہ المؤمنین والمؤمنت جنت تجری من تحتھا الانھر خٰلدین فیھا اللہ نے ایماندار مردوں اور عوروں سے ایسی جنتیں دینے کا وعدہ کرلیا ہے جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ‘ ان جنتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
ومسٰکن طیبۃ فی جنت عدن اور عدن کے باغوں میں ستھرے عمدہ مکان دینے کا (وعدہ کیا ہے) مکانوں کے طیب ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کے اندر زندگی پر لطف اور پاکیزہ ہوگی ‘ یا یہ کہ نفس مؤمن اس کو پسند کرے گا اور پاکیزہ سمجھے گا۔ عدن کا معنی ہے : قیام اور دوام۔ عَدَنَ بالْمَکَانِ کا معنی ہے : اس جگہ قیام کیا۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ عدن ایک جنت کا نام ہے ‘ کیونکہ ایک اور آیت آئی ہے جَنَّاتُ عَدْنِ انِ…
Read the full tafseer →(72) مسلمان مردوں اور عورتوں سے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات کا وعدہ فرما رکھا ہے جن کے درختوں اور محلات کے نیچے شراب طہور پانی، شہد اور دودھ کی نہریں بہتی ہوں گی، جنت میں یہ حضرات ہمیشہ رہیں گے اور ان سے نفیس مکانوں یا یہ کہ خوبصورت یا پاک یا یہ کہ بلند مکانوں کا وعدہ کر رکھا ہے جو مشک اور ریحان کی خوشبوؤں سے معطر ہوں گے جو جنت کے درجات عالیہ میں ہوں گے اور ان کے پروردگار کی رضامندی ان سب سے بڑی چیز ہے یہ جزا اور بدلہ انکی بہت بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ : ”عَدْنٍ“ ہمیشہ رہنے کا مقام، ابوسعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(جنت میں) ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے اور تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمہارے لیے یہ (نعمت) ہے کہ تم خوش حال رہو گے کبھی تنگی میں مبتلا نہیں ہو گے، سو یہ ہے اس کا فرمان : (وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ) [ الأعراف : 43 ] ”انھیں آواز دی جائے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 72۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وعداللہ المؤمنین والمؤمنت جنت “۔ جنات سے مراد باغات ہیں۔ (آیت) ” تجری من تحتھا الانھر “۔ یعنی جنت کے درختوں اور کمروں کے نیچے ندیاں جاری ہوں گی، اور سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ وہ کھائیوں کے بغیر ہی منضبط اندازے اور مقدار کے مطابق بہہ رہی ہوں گی، (آیت) ” خلدین فیھا ومسکن طیبۃ “ یعنی ان میں زبرجد، مویتوں اور یاقوت کے محلات ہوں گے اور اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے مہک رہی ہوگی (آیت) ” فی جنت عدن “ مراد دار الاقامۃ ہے، کہا جاتا ہے : عدن بالمکان جب کوئی کسی جگہ مقیم ہوجائے، اور اسی سے معدن (کان) ہے۔ اور عطا خراسانی نے کہا ہے : (آیت) ” جنت عدن “۔ یہ جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
مسلمان بھلائی کا حکم کرتے ہیں :
1:۔ عبدالرزاق، ابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والموتفکات “ سے قوم لوط مراد ہے ان کی زمین کو ان کے ساتھ الٹ دیا گیا تھا۔ اور اس کے اوپر (کے حصے) کو نیچے کردیا گیا۔
2:۔ ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) والمومنون والمومنت بعضہم اولیاء بعض، یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان کی طرف اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی طرف بلاتے ہیں اور جو کام اللہ کی اطاعت میں سے ہو (اس کی طرف بلاتے ہیں) (آیت) ” وینھون عن المنکر “ یعنی شرک اور کفر سے روکتے ہیں نیکی…
Read the full tafseer →وَعَدَ [ وعدہ کیا ] اللّٰهُ [اللہ نے ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومن مردوں سے ] وَالْمُؤْمِنٰتِ [ اور مومن عورتوں سے ] جَنّٰتٍ [ ایسے باغات ] تَجْرِيْ [ بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے نیچے سے ] الْاَنْھٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا [ اس میں ] وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً [ اور پاکیزہ ٹھکانوں کا ] فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ۭ [ عدن کے باغات میں ] وَرِضْوَانٌ [اور رضا مندی ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ (کی طرف) سے ] اَكْبَرُ ۭ [ سب سے بڑی ہے ] ذٰلِكَ [ یہ ] هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ ہی عظیم کامیابی ہے ]
ع د ن : (ض، ن) عدنا ۔ کسی جگہ کو وطن بنانا ۔ عدن ۔ بہشت کے ایک مقام کا نام ۔…
Read the full tafseer →پھر اہل ایمان کی آخرت کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (منافقین سے نار جہنم کا وعدہ فرمایا اور اہل ایمان سے باغوں کا وعدہ فرمایا اور دونوں جماعتوڈ کے بارے میں خٰلِدِیْنَ فِیْھَا فرمایا کہ اپنی اپنی جزا اور سزا کے مقام میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے)
اہل ایمان کی نعمتوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے مزید فرمایا (وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ) یعنی ان حضرات کے لیے عمدہ مکان ہوں گے جن میں وہ رہیں گے۔ اور یہ ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہوں گے اولاً باغوں کا ذکر فرمایا جن کے نیچے نہریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
مدح اہل ایمان مع بشارت غفران ورضوان
قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومن ات بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔
(ربط) قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومنت بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے فضائح اور قبائح اوصاف قبیحہ اور اعمال شنیعہ کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ سب کے سب ان قبائح اور فضائح میں ایکد وسرے کے مشابہ اور مماثل ہیں۔ اب بطور مقابلہ مومنین کے صفات خیر اور اعمال فاضلہ کو بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اطاعت شعار اور مخلص اور وفادار بندوں کا یہ حال ہے جو منافقوں کے حال کے برعکس ہے جس طرح منافقین اور منافقات رذائل میں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
67:“ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُوْمِنَاتُ الخ ” منافقین کے مقابلہ میں مومنین کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد ہیں۔ نیک کاموں کی ترغیب دیتے اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے، زکوۃ دیتے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ “ اُوْلٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰهُ ” تا “ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ربط آیات :
سورۃ انفال اور سورة توبہ کا مرکزی مضمون اسلام کا قانون صلح وجنگ ہے ان میں جہاد کی ضرورت اور فرضیت اور اس کے فوائد کا تذکرہ ہے اور ساتھ ساتھ جہاد کو ترک کرنے کا وبال اور خسارہ بھی بیان کیا گیا ہے ترک جہاد کی وجہ سے قوم پر ادبار اور زوال آتا ہے ، اللہ نے ان سب چیزوں کو بالوضاحت بیان کیا ہے۔ گذشتہ آیات میں اللہ نے جہاد سے پیچھے رہنے والے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور پھر ان کے اوصاف قبیحہ کا ذکر بھی فرمایا ان اوصاف کی وجہ سے منافقین کے انجام کا ذکر بھی کیا۔ گزشتہ درس میں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ منافق مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں ان کے اخلاق ، عادات اور خصائل ایک…
Read the full tafseer →وَعَدَ اللہُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَۃً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ 0 ۭ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ اَكْبَرُ 0 ۭ ذٰلِكَ ہُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 72 ۧ
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔
تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع…
Read the full tafseer →وَعَدَاللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍط وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکْبَرُ ط ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ع (التوبۃ : 72)
(مومن مردوں اور مومن عورتوں سے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے ایسے باغات کا جن کے نیچے ندیاں رواں ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور (وعدہ کیا ہے) پاکیزہ مکانات کا ابد کے باغوں میں اور اللہ کی خوشنودی ان سب سے بڑھ کر ہے یہی تو بڑی کامیابی ہے۔ )
عدن کا مفہوم
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین سے نار جہنم کا وعدہ فرمایا تھا تاکہ انھیں معلوم ہوجائے کہ اس سزا کے نافذ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ مومنوں کا انجام اور ان کا صلہ۔
مومن مرد اور عورتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سچا اور پکا وعدہ ہے کہ انھیں ایسی جنت میں داخل فرمائے گا جس میں آبشاریں اور نہریں جاری ہوں گی وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے صاف ستھرے اور بہترین محلات ہوں گے۔ ان نعمتوں کے ساتھ انھیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا ہمیشہ کے لیے سر ٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ یاد رکھیں کہ اللہ کی رضا تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بڑھ کر ہے یہی وہ عظیم کامیابی ہے۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ ﷺ ۔۔إِنَّ فِی الْجَنَّۃِ ماءَۃَ دَرَجَۃٍ أَعَدَّہَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِینَ فِی…
Read the full tafseer →ان سے ہمیشہ کی جنت کا وعدہ :
آیت 72: وَعَدَ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاََنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً (اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغات کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور شاندار مکانوں کا) جن میں زندگی خوب گزرے گی۔ حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں موتیوں کے محلات، یا قوت احمر اور زبر جد کے بنگلے۔ فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍٍ (جو کہ ان ہمیشگی کے باغوں میں ہوں گے) عدن یہ نام ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : جَنّٰتِ عَدْنِ اڑلَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ (مریم : 61)
نکتہ : الذی…
Read the full tafseer →72۔” وعد اللہ المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھر خلدین فیھا و مساکین طیبۃ “ پاکیزہ رہائش گاہیں ۔ فی جنات عدن “ یعنی ہمیشگی کے باغات کہا جاتا ہے ” عدن بالمکان “ جب وہ اس میں رہائش پذیر ہو ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ جنت کا وسط ہیں ۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک محل ہے جس کو عدن کہا جاتا ہے اس کے ارد گرد ستو ن ہیں اس کے پانچ ہزار دروازے ہیں ، اس میں صرف نبی یا صدیق یا شہید داخل ہوں گے اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ سونے کا محل ہے اس میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل حکمران داخل ہوں گے۔ عطاء بن سائب (رح) فرماتے ہیں کہ عدن جنت میں ایک نہر ہے اس کے دونوں کناروں پر…
Read the full tafseer →72۔ اللہ پاک نے مومنوں کے اوصاف بیان کر کے عقبیٰ میں ان کے واسطے جو جزائے خیر مقرر کی ہے اس کا ذکر فرمایا کہ ہم نے مومنوں سے اس بات کا وعدہ کرلیا ہے کہ انہیں آخرت میں جنت کے اندر داخل کریں گے وہ مومن خواہ مرد ہوں خواہ عورت ہوں اور جنت بھی ایسی ہوگی جس میں نہریں جاری ہیں اور بہت اچھے اچھے مکان اس میں بنے ہوئے ہیں اگرچہ دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کی تفصیل میں بہت سی صحیح حدیثیں آئی ہیں لیکن صحیح بخاری ومسلم میں انس ؓ بن مالک کی حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کی جو تفصیل مجھ کو معلوم ہے اگر وہ تفصیل لوگو کو معلوم ہوجاوے تو وہ روتے روتے تھک جاویں اور ان کا ہنسی کی بات پر ہنسنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت 71
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں، تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں، چناچہ فرمایا : (والمومنون والمومنت) ” اہل ایمان مرد اور عورتیں “ (بعضھم اولیآء بعض) ” ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ “ یعنی محبت، موالات، منوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والیو مددگار ہیں۔ (یامرون بالمعروف) ” وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں “ (المعروف) ہر ایسے کام کے لئے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
قول باری ہے المنافقوں المنافقات بعضھم من بعض منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کی نسبت بعض کی طرف اس بنا پر کی ہے کہ نفاق پر ان سب کا اجتما ع اور ایکا ہے۔ اس لیے نفاق کا رویہ اختیار کرنے ، بھلائی سے روکنے اور برائی کا حکم دینے میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرنے کی بنا پر یہ سب ہم رنگ اور ہم شکل ہیں ۔ جس طرح منجملہ مشابہت کی بناء پر ایک چیز کے بعض حصے کو ایک چیز کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے۔
قول باری ہے ویقبضون ایدیھم اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں ۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روکے رکھتے ہیں ۔ قتادہ کا…
Read the full tafseer →148 اہل ایمان کے لیے عظیم الشان جنتوں کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے وعدہ فرما رکھا ہے ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں سے ایسی عظیم الشان جنتوں کا جن کے نیچے سے بہہ رہی ہونگی طرح طرح کی نہریں جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا۔ سبحان اللہ کیا کہنے حضرت ِحق ۔ جل مجدہ ۔ کے اس کرم بےنہایت اور رحمت بےغایت کے کہ وہ جنتیں ایسی عظیم الشان اور وہاں کی وہ نہریں ایسی بےنظیر و بےمثال کہ اس جہاں میں ان کا تصور کرنا بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ اور اس پر مزید عنایت اور کرم بالائے کرم یہ کہ ان دائمی اور ابدی نعمتوں بھری جنتوں میں رہنا بھی ہمیشہ ہمیش کے لئے نصیب ہوگا ۔ فَیَا لَہُ مِنْ کَرَمٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
مؤمنوں کی تعریف اور ان کا انعام
تشریح : ان آیات میں مومن مرد اور مومن عورت کی صفات بتائی گئی ہیں جو کہ ویسے تو بیشمار ہیں مگر یہاں ان کو جمع کرکے پانچ صفات میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں ان میں باہمی محبت اور خلوص ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ نیک فطرت ہوتے ہیں نیک کام کرتے ہیں نیک کاموں کا حکم دیتے ہیں، برے کام سے بچتے ہیں اور برا کام کرنے سے منع بھی کرتے ہیں۔ تیسری نماز قائم کرتے ہیں چوتھی زکوٰۃ دیتے ہیں۔ پانچویں اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلتے ہیں۔ ان پانچ خوبیوں میں مومن کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ مومن اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیات 67 تا 72
اسرار و معارف
انسان مزاجاجل کر رہنے والا ہے اور مدنی الطبع ہے مگر اس میل کا سب سے مضبوط سبب بھی سوچ اور مزاج کی یک رنگی ہے لہٰذا منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اس لئے کہ سب برائی پھیلا تے ہیں اور نیکی کے کاموں کو فضول شمار کرکے ان سے روکتے ہیں اور گویا جہاد اور بقائے دین یا غلبہ اسلام کے لئے تو ان لوگوں نے اپنے ہاتھ کس کر باندھ لئے ہیں اور ان کے دل میں ذرہ برابر اللہ کی یاد نہیں ۔ یہ لوگ اللہ کو بھول ہی چکے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ کے ہاں بھی ان کا حال یہ ہے جیسے انھیں بالکل بھلادیا گیا ہو۔ اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ نافرمان ہیں اور بدکر داری کی…
Read the full tafseer →ف 1 جنات یعنی ہمیشہ رہنے کا مقام۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت کے ایک مخصوص حصہ کا نام ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنت عدن میں لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔ ( ابن کثیر)2 جیسا کہ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جنت والوں سے فرمائے گا : اے جنت والو ! کیا تم خوش ہوگئے وہ عرض کریں گے۔ اے ہمارے پروردگار ہم خوش کیوں نہ ہو تو نے ہمیں وہ کچھ عنایت فرمایا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہیں ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر ایک اور نعمت نہ دوں َ ؟ وہ عرض کریں گے۔ اب اس سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے…
Read the full tafseer →(9:72) جنت عدن۔ عدن مصدر اس کا فعل ابواب نصر۔ ضرب سے آتا ہے۔ اس کے معنی ہیں رہنا۔ بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ جنت عدن کے معنی ہوئے رہنے بسنے کے باغات یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں اور بعض صفت ۔ جو لوگ علم کہتے ہیں وہ اس کو جنت میں ایک خاص مقام کا نام دیتے ہیں اور اس آیہ شریفہ کو پیش کرتے ہیں۔ جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب (19:61) ہمیشگی کی جنتیں جن کا وعدہ رحمن نے اپنے بندوں سے درپردہ کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔
اور جو لوگ عدن کو علم نہیں بلکہ جنت کی صفت بیان کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ عدن کے معنی اصل میں استقرار اور ثبات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 72
یطیعون (اطاعت کرتے ہیں) سیرحم (بہت جلد وہ رحم کرے گا) مسکن طیبۃ (پاکیزہ مکانات) اکبر (زیادہ بڑا، زیادہ بڑھ کر) الفوز العظیم (بڑی کامیابی)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 72
گزشتہ آیات میں منافقون کی علامات بیان کی گئی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ ان کا انجام کیا ہے ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی پہچان کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہے ؟ یہ درحقیقت ایک تقابلی موازنہ ہے تاکہ منافقین اور مومنین کا فرق واضح طور سے سامنے آجائے۔
1) منافقین کا آپس میں وقتی مفادات پر اشتراک اور تعاون تو ضرور ہے لیکن وہ ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں اسی لئے فرمایا گیا ”…
Read the full tafseer →مسلمانوں کے جنت میں جانے کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اوصاف بیان کر کے عقبیٰ میں ان کے واسطے جو جزائے خیر مقرر کی ہے اس کا ذکر فرمایا کہ ہم نے مومنوں سے اس بات کا وعدہ کرلیا ہے کہ انہیں آخرت میں جنت کے اندر داخل کریں گے۔ وہ مومن خواہ مرد ہوں یا عورت ہوں اور جنت بھی ایسی ہوگی جن میں موتی اور یاقوت سرخ اور زبرجد کے محل، جن کے نیچے خوشگوار نہریں، شہد دودھ اور شراب کی بہتی ہوں گی۔ غرض کہ وہ وہ نعمتیں پیدا کی ہیں جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں، نہ ان کا خیال کسی دل میں آسکتا ہے۔ جنت میں ایک بہت بلند مقام ہے اور عرش سے بہت نزدیک ہے یہ آنحضرت ﷺ کا مسکن ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :''…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
[44] مراد ہیں قوم لوط کی بستیاں جو زیر و زبر کر ڈالی گئی تھیں۔
Read the full tafseer →مومن کا ذوق معرفت :
(ف 1) (آیت) ” ورضوان من اللہ اکبر “۔ سے غرض یہ ہے کہ جنت کا حصول مقصود اصلی نہیں ، اس لئے نصب العین اللہ کی رضا و محبت کا احساس ہے ، اس لئے بلند روحانیت کے لوگ سرف بہشت پر قانع نہیں بلکہ انکی روح توحید میں ارتقاء کامل کی طالب ہے وہ محبوب کی مسرت چاہتے ہیں لذائذ کا درجہ ثانوی ہے ، اصل لذت یہ ہے کہ فراز محبت وعشق پر تمکن واصل ہو ۔
Read the full tafseer →72 اور اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغات کا وعدہ کررکھا ہے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور ان سے اللہ نے نفیس اور عمدہ مکانوں کا بھی وعدہ کررکھا ہے یہ مکان انہی دائمی باغات میں ہوں گے اور ان سب نعمتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضامندی ان سب نعمتوں سے بڑی ہے اور ان سب مذکورہ نعمتوں کا حصول بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔ اوپر منافق مرد اور عورتوں کا ذکر تھا اور ان کو ان کے انجام سے خوف دلایا تھا۔ آگے مومن مرد اور عورتوں کا ذکر فرمایا اور ان کو بشارت دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 2۔ اوپر منافقین کے قبائح وفضائح مذکور تھے آگے زیادہ کشف مضمون کے لیے الاشیاء تعرف کے لیے مومنین کے بعض مدائح کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →مومن مردوں اور عروتوں کا اصل ٹھکانا ” جَنّٰتِ عَدْنٍ 1ؕ“ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے :
96: فرمایا جس طرح کفارو منافقین کے لئے دوزخ ایسی جگہ ہے جہاں سے ان کا نکلنا محال ہے اسی طرح ” جَنّٰتِ عَدْنٍ 1ؕ “ وہ جگہ ہے جہاں مومن مرد اور عورتوں کو رکھا جائے گا۔ ” عَدْنٍ 1ؕ “ وہی چیز ہے جس کو حاصل کرنے کے بعد پھر کبھی اس سے جدائی نہ ہو ہماری زبان میں کان کو معدن کہتے ہیں کیونکہ کی دھات کے نکلنے کی وہ جگہ قرار پاتی ہے اور جوں جوں نکالتے جاؤ وہاں سے وہ چیز نکلتی ہی جائے گی۔ اس نسبت سے اس کو ” جَنّٰتِ عَدْنٍ 1ؕ“ کہا گیا یعنی ایسی جنت جس سے وہ کبھی بھی نکالے نہیں جائیں گے اور پھر اس جنت عدن اور جنت فردوس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
In the last verse (73): جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (carry out Jihad against the disbelievers and hypocrites and be strict with them), the Holy Prophet ﷺ has been commanded to wage Jihad against disbelievers and hypocrites both and to be strict in their case. The need to fight against belligerent disbelievers is self-evident. But, the meaning of carrying out Jihad against the hypocrites is explained by the very conduct of the Holy Prophet ﷺ . It proves that Jihad against them signifies vocal Jihad through which they should be induced to understand the veracity…
Read the full tafseer →