مسلمان ایک دوسرے کے دست وبازو ہیں
منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ایک دوسرے کا دست وبازو بنے رہتے ہیں صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لئے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے آپ نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستی اور سلوک میں مثل ایک جسم کی مانند ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بیداری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے۔ سب کو بھلائیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة التَّوْبَة 80
”جس طرح منافقین ایک الگ امت ہیں اسی طرح اہل ایمان بھی ایک الگ امت ہیں۔ اگرچہ ایمان کا ظاہری اقرار اور اسلام کی پیروی کا خارجی اظہار دونوں گروہوں میں مشترک ہے۔ لیکن دونوں کے مزاج، اخلاق، اطوار، عادات اور طرز عمل میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ جہاں زبان پر ایمان کا دعویٰ ہے، مگر دل سچے ایمان سے خالی ہیں وہاں زندگی کا سارا رنگ ڈھنگ ایسا ہے جو اپنی ایک ایک ادا سے دعوائے ایمان کی تکذیب کر رہا ہے۔ اوپر کے لیبل پر تو لکھا ہے کہ یہ مشک ہے مگر لیبل کے نیچے جو کچھ ہے وہ اپنے پورے وجود سے ثابت کر رہا ہے کہ یہ گوبر کے سوا کچھ نہیں۔ بخلاف اس کے جہاں ایمان اپنی اصل حقیقت کے ساتھ موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
خلاصہ تفسیر
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے (دینی) رفیق ہیں، نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ رحمت کرے گا) جسکی تفصیل وَعَدَ اللّٰهُ میں عنقریب آتی ہے) بلا شبہ اللہ تعالیٰ قادر (مطلق) ہے (جزائے تام دے سکتا ہے) حکمت والا ہے (جزائے مناسب دیتا ہے، اب اس رحمت کا بیان ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کے نیچے سے نہریں چلتی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور نفیس مکانوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
مومنین اور مومنات کا کردار : منافقین اور منافقات کا کردار واضح کرنے کے بعد اب یہ مومنین اور مومنات کا کردار واضح کیا جا رہا ہے۔ ان کی بابت فرمایا تھا کہ ان کے مرد اور عورتیں سب ایک ہی چٹے کے بٹے ہیں، نفاق کی پرورش میں دونوں کی سرگرمیاں یکساں ہیں۔ ان کی بابت فرمایا کہ، وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ، یہ ایمان کے مقتضیات و مطالبات کی تعمیل و تکمیل میں ایک دوسرے کے ساتھی، دست وبازو اور ہمدرد و غم گسار ہیں۔ مومن بندے جب اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو مومنہ بندیاں ان کے پاؤں کی زنجیر اور گلے کا پھندا بننے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ سچے دل سے…
Read the full tafseer →71۔ منافقین کی صفات مذمومہ کے مقابلے مومنین کی صفات محمودہ کا ذکر ہو رہا ہے پہلی صفت وہ ایک دوسرے کے دوست، معاون و غم خوار ہیں جس طرح حدیث میں ہے (المؤمن للمؤمن کالبنیان، یشد بعضہ بعضا) (صحیح بخاری) مومن مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کی مضبوطی کا ذریعہ ہے دوسری حدیث میں فرمایا : (مثل المؤمنین فی تو ادھم وتراحمھم کمثل الجسد الواحد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالحمی والسھر) (صحیح مسلم) مومنوں کی مثال، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے اور رحم کرنے میں ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تپ کا شکار ہوجاتا ہے اور بیدار رہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
60: ان کے واقعات کے لیے دیکھئے سورة اعراف، آیات 59 اور 92 اور ان کے حواشی
Read the full tafseer →اور کفار و منافقین کا محاذ بالمقابل کیا ہے ، اور اس کا انجام کیا ہوگا یہ مومنین و صادقین ہیں۔ ان کا مزاج منافقین اور کفار سے یکدم مختلف ہے۔ ان کا طرز عمل ان سے بالکل الٹ ہے۔ اور ان کا انجام بھی ان کے انجام سے بالکل مختلف ہے۔
اگر منافقین ایک دوسرے کے دوست ہیں اور ایک ہی فطرت رکھتے ہیں اور ایک ہی مزاج رکھتے ہیں تو مومنین و مومنات بھی ایک ہی مزاج اور ایک ہی نظریات کے قائل ہیں اور ایک دوسرے کے محب اور دوست ہیں۔ لیکن منافقین باوجود ہم طبع اور ہم جنس ہونے کے مومنین اور مومنات کی طرح شیر و شکر نہیں ہیں کیونکہ دوست تو وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو بہادر ہوں ، جو ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے والے ہوں اور باہم…
Read the full tafseer →4 ابتدائے رکوع میں منافقین کے اوصاف بیان ہوئے تھے۔ یہاں بطور مقابلہ مومنین کی صفات ذکر کی گئیں۔ یعنی جبکہ منافقین لوگوں کو بھلائی سے روک کر برائی کی ترغیب دیتے ہیں۔ مومنین بدی کو چھڑا کر نیکی کی طرف آمادہ کرتے ہیں۔ منافقین کی مٹھی بند ہے مومنین کا ہاتھ کھلا ہوا ہے۔ وہ بخل کی وجہ سے خرچ کرنا نہیں جانتے، یہ اموال میں سے باقاعدہ حقوق ( زکوٰۃ وغیرہ) ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بالکل بھلا دیا۔ یہ پانچ وقت خدا کو یاد کرتے اور تمام معاملات میں خدا اور رسول کے احکام پر چلتے ہیں اسی لیے وہ مستحق لعنت ہوئے اور یہ رحمت خصوصی کے امیدوار ٹھہرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
آیت 70 اَلَمْ یَاْتِہِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَلا وَقَوْمِ اِبْرٰہِیْمَ
یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں قوم ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ اس انداز میں آیا ہے کہ شاید آپ علیہ السلام کی قوم پر بھی عذاب آیا ہو ‘ لیکن واضح طور پر ایسے کسی عذاب کا ذکر پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →86 منافق کے مقابلہ میں مومنوں کی زندگی :۔ اب منافقوں کے مقابلہ میں اس آیت میں سچے مومنوں کے خصائل کا ذکر کیا جا رہا ہے اور بتلایا جا رہا ہے کہ اگرچہ منافق بھی مسلمانوں میں شامل رہتے ہیں اور ان سے ملے جلے رہتے ہیں مگر ان دونوں طبقوں کے اخلاقی مزاج، عادات و خصائل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ منافق برے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور ان میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو مومن برے کاموں سے خود بھی بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی منع کرتے ہیں منافق اچھے کاموں پر خود بھی عمل پیرا نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی ان سے منع کرتے ہیں یا ایسے کاموں میں رکاوٹیں کھڑی کردیتے ہیں جبکہ مومن خود بھی بھلے کام کرتے، دوسروں کو ان کی…
Read the full tafseer →133 ۔ ابھی اوپر ذکر آچکا ہے کہ منافقین اور منافقات سب ایک گروہ ہیں۔ المنافقون والمنافقات بعضھم من بعض اب اس کے بالمقابل ارشاد ہورہا ہے کہ مومنین ومومنات بھی سب ایک گروہ ہیں ایک دوسرے کے دوست، رفیق، ہوا خواہ اور اس گروہ مومن کے صفات و خصوصیات ٹھیک اس کے برعکس بیان ہورہے ہیں جو ابھی گروہ منافق کے بیان ہوئے تھے (آیت) ” یطیعون اللہ ورسولہ “۔ رسول کی اطاعت آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد حضور ﷺ کی شریعت کی اطاعت ہے۔ (آیت) ” سیرحمھم اللہ “۔ س یہاں وعدہ کی تاکید کے لئے ہے۔ السین مفیدۃ وجود الرحمۃ لا محالۃ فھی تاکد الموعد (کشاف) لامحالۃ فان السین موکدۃ للوقوع (بیضاوی) والسین علی ما قال الزمخشری وتبعہ غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیت نمبر 67 تا 72
ترجمہ : منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں، یعنی دین کے معاملہ میں ایک شی کے اجزاء کے مشابہ ہیں، برائی کا (یعنی) کفر و معاصی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی (یعنی) ایمان وطاعت سے روکتے ہیں اور طاعت میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں اللہ کو بھول گئے ہیں یعنی اس اطاعت کو ترک کردیا ہے، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا ہے یعنی ان کو اپنے کرم سے محروم کردیا ہے، یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی جزا وسزا کے اعتبار سے ان کے لئے ہے، اللہ نے ان پر لعنت کی ہے یعنی ان کو…
Read the full tafseer →والمؤمنون والمؤمنت بعضھم اولیاء بعض اور ایماندار مرد و عورتیں آپس میں بعض بعض کے دوست ہیں۔ اللہ کی طاعت اور اللہ کے دین کو سربلند کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے۔
یامرون بالمعروف وہ نیکی ‘ یعنی ایمان وطاعت کا حکم دیتے ہیں۔
وینھون عن المنکر اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔ یعنی شرک ‘ نفاق ‘ رسول اللہ کی نافرمانی اور خواہشات نفس کے اتباع سے منع کرتے ہیں۔
ویقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکوۃ ویطیعون اللہ ورسولہ اور نماز پابندی سے پوری شرائط کے ساتھ پڑھتے اور زکوٰۃ ادا کرتے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے تمام احکام پر چلتے ہیں۔
اولئک سیرحمھم اللہ یہ ہی ہیں جن پر اللہ…
Read the full tafseer →(71) اور تصدیق کرنے والے مسلمان مرد اور عورتیں ظاہر و باطن کے اعتبار سے ایک دوسرے کے دینی رفیق ہیں، توحید اور پیروی رسول اکرم ﷺ کی تعلیم دیتے اور کفر وشرک اور رسول اکرم ﷺ کی مخالفت سے روکتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیں گے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی حکومت وسلطنت میں قادر مطلق ہے اور اپنے احکامات اور فیصلوں میں زبردست حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ : منافق مردوں اور منافق عورتوں کی بد عادات ذکر کرنے کے بعد اب اہل ایمان مردوں اور اہل ایمان عورتوں کے خصال حمیدہ کا ذکر ہے کہ وہ سب ایک دوسرے کے اولیاء، یعنی دوست، محبت رکھنے والے اور مدد کرنے والے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص صاحب ایمان نہیں ہوسکتا، حتیٰ کہ وہ اپنے (مسلم) بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب من الإیمان أن یحب لأخیہ : 13، عن أنس ] نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مومنوں کی مثال آپس کی محبت، ایک دوسرے پر رحم اور شفقت میں ایک جسم…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 71۔
اس آیت میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” بعضھم اولیآء بعض “۔ یعنی باہم مودت، محبت اور ایک دوسرے پر مہربان ہونے میں ان کے دل متحد ہیں اور اللہ نے منافقین کے بارے میں فرمایا ہے : (آیت) ” بعضھم من بعض “۔ (توبہ : 67) کیونکہ ان کے دلوں میں اختلاف تھا لیکن وہ حکم میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یامرون بالمعروف “۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت، اس کی توحید اور وہ تمام امور جوان کے تابع ہیں ان کا حکم کرتے ہیں (آیت) ” وینھون عن المنکر “۔ اور وہ بتوں کی عبادت اور وہ تمام امور جو ان کے تابع ہیں ان سے روکتے ہیں علامہ طبری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
مسلمان بھلائی کا حکم کرتے ہیں :
1:۔ عبدالرزاق، ابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والموتفکات “ سے قوم لوط مراد ہے ان کی زمین کو ان کے ساتھ الٹ دیا گیا تھا۔ اور اس کے اوپر (کے حصے) کو نیچے کردیا گیا۔
2:۔ ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) والمومنون والمومنت بعضہم اولیاء بعض، یامرون بالمعروف وینھون عن المنکر “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان کی طرف اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی طرف بلاتے ہیں اور جو کام اللہ کی اطاعت میں سے ہو (اس کی طرف بلاتے ہیں) (آیت) ” وینھون عن المنکر “ یعنی شرک اور کفر سے روکتے ہیں نیکی…
Read the full tafseer →وَالْمُؤْمِنُوْنَ [ اور مومن مرد ] وَالْمُؤْمِنٰتُ [ اور مومن عورتیں ] بَعْضُهُمْ [ ان کے بعض ] اَوْلِيَاۗءُ [ کارساز ہیں ] بَعْضٍ ۘ [ بعض کے ] يَاْمُرُوْنَ [ ترغیب دیتے ہیں ] بِالْمَعْرُوْفِ [ بھلائی کی ] وَيَنْهَوْنَ [ اور منع کرتے ہیں ] عَنِ الْمُنْكَرِ [ برائی سے ] وَيُقِيْمُوْنَ [ اور قائم رکھتے ہیں ] الصَّلٰوةَ [ نماز کو ] وَيُؤْتُوْنَ [ اور پہنچاتے ہیں ] الزَّكٰوةَ [زکوۃ کو ] وَيُطِيْعُوْنَ [ اور اطاعت کرتے ہیں ] اللّٰهَ [اللہ کی ] وَرَسُوْلَهٗ ۭ [ اور اس کے رسول کی ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] سَيَرْحَمُهُمُ [ رحم کرے گا جن پر ] اللّٰهُ ۭ [اللہ ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک ] عَزِيْزٌ…
Read the full tafseer →مؤمنین کی خاص صفات، اور ان کے لیے رحمت اور جنت کا وعدہ
منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں وعیدیں بیان فرمانے اور ان کو پہلی امتوں کے واقعات یاد دلانے کے بعد مومنین کی صفات بیان فرمائیں۔ اولا تو یوں فرمایا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں اولیاء ہیں یعنی ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ دینی کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں پھر فرمایا (یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) کہ یہ لوگ بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں، بر عکس منافقین کے کہ وہ برائیوں کا حکم کرتے ہیں اور بھلائیوں سے روکتے ہیں پھر مزید صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا (وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
مدح اہل ایمان مع بشارت غفران ورضوان
قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومن ات بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔
(ربط) قال اللہ تعالیٰ ۔ وال مومن ون وال مومنت بعضھم اولیاء بعض۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک ھو الفوز العظیم۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے فضائح اور قبائح اوصاف قبیحہ اور اعمال شنیعہ کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہ سب کے سب ان قبائح اور فضائح میں ایکد وسرے کے مشابہ اور مماثل ہیں۔ اب بطور مقابلہ مومنین کے صفات خیر اور اعمال فاضلہ کو بیان کرتے ہیں کہ ہمارے اطاعت شعار اور مخلص اور وفادار بندوں کا یہ حال ہے جو منافقوں کے حال کے برعکس ہے جس طرح منافقین اور منافقات رذائل میں ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
67:“ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُوْمِنَاتُ الخ ” منافقین کے مقابلہ میں مومنین کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ہمدرد ہیں۔ نیک کاموں کی ترغیب دیتے اور برے کاموں سے منع کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے، زکوۃ دیتے، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ “ اُوْلٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰهُ ” تا “ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ” مومنین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ربط آیات :
سورۃ انفال اور سورة توبہ کا مرکزی مضمون اسلام کا قانون صلح وجنگ ہے ان میں جہاد کی ضرورت اور فرضیت اور اس کے فوائد کا تذکرہ ہے اور ساتھ ساتھ جہاد کو ترک کرنے کا وبال اور خسارہ بھی بیان کیا گیا ہے ترک جہاد کی وجہ سے قوم پر ادبار اور زوال آتا ہے ، اللہ نے ان سب چیزوں کو بالوضاحت بیان کیا ہے۔ گذشتہ آیات میں اللہ نے جہاد سے پیچھے رہنے والے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور پھر ان کے اوصاف قبیحہ کا ذکر بھی فرمایا ان اوصاف کی وجہ سے منافقین کے انجام کا ذکر بھی کیا۔ گزشتہ درس میں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ منافق مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں ان کے اخلاق ، عادات اور خصائل ایک…
Read the full tafseer →وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ 0 ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَيُطِيْعُوْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَيَرْحَمُہُمُ اللہُ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 71
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔
تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع…
Read the full tafseer →وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍم یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِوَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗط اُولٰٓئِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (التوبۃ : 71)
(اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں یہ بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا، بیشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔ )
قرآن کریم کا اسلوب
قرآن کریم کا اسلوب یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے بعد مومنین کا تذکرہ۔ ان کے اوصاف اور اجر وثواب کا بیان۔
پہلے پانچ پاروں کی تفسیر کے دوران دو تین مرتبہ عرض کیا ہے کہ قرآن مجید کا مستقل اسلوب ہے کہ وہ جنت اور جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ ذکر کرتا ہے تاکہ قاری تلاوت قرآن کرتے ہوئے ایک لمحہ میں فیصلہ کرسکے کہ اس نے دونوں میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید کا یہ بھی طرز بیان ہے کہ وہ کفار اور منافقین کے بعد اکثر مقامات پر مومنوں کے اوصاف کا تذکرہ کرتا ہے تاکہ قرآن مجید پڑھنے والا موقعہ پر فیصلہ کرپائے کہ مجھے کون سا کردار اختیار کرنا چاہیے۔ اسی اصول کے پیش نظر منافقوں کے بعد مخلص مسلمانوں کا ذکر کیا جا…
Read the full tafseer →مومن مردوں ‘ عورتوں پر اللہ کی رحمتیں ہوں گی :
آیت 71: وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ (اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں) تنا صرو تراحم میں یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ (وہ نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں) اطاعت و ایمان کے ذریعہ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ (اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں) شرک اور معصیات وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَیُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ط اُولٰپکَ سَیَرْ حَمُھُمُ اللّٰہُ (اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا کہنا مانتے ہیں ان لوگوں پر ضرور اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →71۔” والمومنون والمومنات بعضھم اولیاء بعض “ دین میں اور کلمہ اور مدد و نصرت ایک ہونے میں ۔ ” یامرون بالمعروف “ ایمان ، طاقت اور خیر کا ” وینھون عن المنکر “ شرک اور معصیت اور اس کام سے جو شریعت میں معروف نہ ہو۔
Read the full tafseer →71۔ اللہ پاک نے منافقوں کے برے اوصاف بیان کر کے ان کے مقابلہ میں یہ ایماندار لوگوں کے اوصاف بیان فرمائے مختصر طور پر اس مقابلہ کا فائدہ اوپر کی آیت کی تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے ایمانداروں کے اوصاف میں سے پہلا وصف یہ بیان کیا کہ مومن آپس میں ایک دوسرے کے مددگار غمخوار رنج وغم میں ساتھ دینے والے ہیں جب ایک مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو دوسرا بےچین ہوجاتا ہے جس طرح دیوار کی حالت ہوتی ہے کہ ایک اینٹ کو دوسری اینٹ سے مضبوطی اور قیام ہوتا ہے اسب طرح سب مومن باہم ملے جلے ہیں ایک کو ایک سے تقویت ہے صحیح بخاری ومسلم میں نعمان بن ؓ بشیر سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومنوں کی آپس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت 71
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ منافقین آپس میں ایک ہی ہیں، تو یہ بھی واضح فرما دیا کہ اہل ایمان بھی ایک دوسرے کے والی اور مددگار ہیں اور ان کو ایسے اوصاف سے متصف کیا ہے جو منافقین کے اوصاف کی ضد ہیں، چناچہ فرمایا : (والمومنون والمومنت) ” اہل ایمان مرد اور عورتیں “ (بعضھم اولیآء بعض) ” ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ “ یعنی محبت، موالات، منوب ہونے اور مدد کرنے میں باہم والیو مددگار ہیں۔ (یامرون بالمعروف) ” وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں “ (المعروف) ہر ایسے کام کے لئے ایک جامع نام ہے جس کی بھلائی مسلم ہو، مثلاً عقائد حسنہ، اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ وغیرہ اور نیکی کے اس حکم میں سب سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
قول باری ہے المنافقوں المنافقات بعضھم من بعض منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کی نسبت بعض کی طرف اس بنا پر کی ہے کہ نفاق پر ان سب کا اجتما ع اور ایکا ہے۔ اس لیے نفاق کا رویہ اختیار کرنے ، بھلائی سے روکنے اور برائی کا حکم دینے میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرنے کی بنا پر یہ سب ہم رنگ اور ہم شکل ہیں ۔ جس طرح منجملہ مشابہت کی بناء پر ایک چیز کے بعض حصے کو ایک چیز کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے۔
قول باری ہے ویقبضون ایدیھم اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں ۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روکے رکھتے ہیں ۔ قتادہ کا…
Read the full tafseer →146 مومن آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں۔ یعنی ظاہری اسباب و وسائل کے درجے میں نہ کہ مافوق الاسباب طور پر۔ کہ یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کی شان و صفت ہے۔ پس اہل بدعت کا اس طرح کی آیات کریمہ سے اپنے شرکیہ عقائد کے لئے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔ کیونکہ ماتحت الاسباب مدد کرنا اور چیز ہے اور مافوق الاسباب مدد بالکل دوسری چیز۔ اور دونوں کے درمیان بڑا فرق اور بون بعید ہے۔ اور ان دونوں کو ایک برابر سمجھنا جہالت اور خرد باختگی ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِِ-ِ بہرکیف اہل ایمان کی صفات کے بیان کے سلسلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
مؤمنوں کی تعریف اور ان کا انعام
تشریح : ان آیات میں مومن مرد اور مومن عورت کی صفات بتائی گئی ہیں جو کہ ویسے تو بیشمار ہیں مگر یہاں ان کو جمع کرکے پانچ صفات میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں ان میں باہمی محبت اور خلوص ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ نیک فطرت ہوتے ہیں نیک کام کرتے ہیں نیک کاموں کا حکم دیتے ہیں، برے کام سے بچتے ہیں اور برا کام کرنے سے منع بھی کرتے ہیں۔ تیسری نماز قائم کرتے ہیں چوتھی زکوٰۃ دیتے ہیں۔ پانچویں اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلتے ہیں۔ ان پانچ خوبیوں میں مومن کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ مومن اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیات 67 تا 72
اسرار و معارف
انسان مزاجاجل کر رہنے والا ہے اور مدنی الطبع ہے مگر اس میل کا سب سے مضبوط سبب بھی سوچ اور مزاج کی یک رنگی ہے لہٰذا منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اس لئے کہ سب برائی پھیلا تے ہیں اور نیکی کے کاموں کو فضول شمار کرکے ان سے روکتے ہیں اور گویا جہاد اور بقائے دین یا غلبہ اسلام کے لئے تو ان لوگوں نے اپنے ہاتھ کس کر باندھ لئے ہیں اور ان کے دل میں ذرہ برابر اللہ کی یاد نہیں ۔ یہ لوگ اللہ کو بھول ہی چکے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ کے ہاں بھی ان کا حال یہ ہے جیسے انھیں بالکل بھلادیا گیا ہو۔ اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ نافرمان ہیں اور بدکر داری کی…
Read the full tafseer →ف 5 جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ل المومن اللمئو من کا لنبیان یشد بعضہ بعضا۔ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کے مانند ہے جس کی بعض اینٹیں بعض کو سہارا دیتی ہیں۔ دوسری حدیث میں ہے : مثل المئو منین فی توادھم وتر جھم کمثل الجسدالواحد اذا اشتر کی عنہ عضوتد اعی ٰ لہ سائر الجسد باالحمنیٰ والسھر۔ آپس کی محبت، ہمدردی اور شفقت میں مسلمانوں کی مثال جسم کی ہے جس کے اگر ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو بقیہ سارے اعضا بخار اور بےچینی کی صورت میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →(9:71) سیرحمہم اللہ میں س تاکید اور مبالغہ کے لئے آیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ضرور ان پر اپنی رحمت فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 72
یطیعون (اطاعت کرتے ہیں) سیرحم (بہت جلد وہ رحم کرے گا) مسکن طیبۃ (پاکیزہ مکانات) اکبر (زیادہ بڑا، زیادہ بڑھ کر) الفوز العظیم (بڑی کامیابی)
تشریح : آیت نمبر 71 تا 72
گزشتہ آیات میں منافقون کی علامات بیان کی گئی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ ان کا انجام کیا ہے ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی پہچان کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہے ؟ یہ درحقیقت ایک تقابلی موازنہ ہے تاکہ منافقین اور مومنین کا فرق واضح طور سے سامنے آجائے۔
1) منافقین کا آپس میں وقتی مفادات پر اشتراک اور تعاون تو ضرور ہے لیکن وہ ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں اسی لئے فرمایا گیا ”…
Read the full tafseer →مومنوں کے اوصاف
اللہ تعالیٰ نے اوپر منافقوں کے برے اوصاف بیان کرکے ان کے مقابلہ میں یہ ایماندار لوگوں کے اوصاف بیان فرمائے کہ مومن آپس میں ایک دوسرے کے مددگار، غمخوار، رنج وغم میں ساتھ دینے والے ہیں جیسے اعضاء آپس میں ایک دوسرے کے غمخوار اور مددگار ہیں۔ جب ایک عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے عضو کو بھی اس کا اثر پہنچتا ہے۔ نیک خصلت اچھی باتوں کو ختیار کرتے ہیں اور بری باتوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ یہ صفت مومنوں کے اندر ہے۔ یہ لوگ ناجائز باتوں سے بچتے ہیں اور حکم شرعی کے موافق جو کرنے کی باتیں ہیں ان کو چستی سے بجالاتے ہیں، دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرتے ہیں۔ پھر یہ تعریف بیان کی کہ نماز، روزہ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
[44] مراد ہیں قوم لوط کی بستیاں جو زیر و زبر کر ڈالی گئی تھیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی وہ لوگ جنہوں نے اخلاص کے ساتھ اسلام کو قبول کرلیا ہے ان کی مشاغل پاک ہیں وہ ایک دوسرے کے ممدومعاون ہیں ، نمازیں پڑھتے ہیں اور ملی ضروریات سے آگاہ رہیں ان کی زندگی کا مقصد اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہے اس لئے رحمت و عفو کے سزاوار ہیں ۔
Read the full tafseer →71 اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں جو بھلے کامو کا حکم دیتے ہیں اور نیک باتوں کو سکھاتے ہیں اور برائی کی باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اورا للہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مانتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ ضرور رحم فرمائے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 2۔ اوپر منافقین کے قبائح وفضائح مذکور تھے آگے زیادہ کشف مضمون کے لیے الاشیاء تعرف کے لیے مومنین کے بعض مدائح کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →مومن مرد اور عورتیں جو کچھ کرتے ہیں وہ اللہ کی خوشنودی کے لئے ہی کرتے ہیں :
95: زیر نظر آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ منافق ، مخالف اور کافر جن کے مقابلہ میں مومن و مسلم اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگار و معاون نام رکھنے والے صرف ناموں ہی کا فرق رکھتے ہیں یا ان میں فی الحقیقت کوئی خط امتیاز بھی موجود ہے جس سے ان کی شناخت ہوتی ہے فرمایا ان دونوں گروہوں میں واضح اور بین فرق موجود ہے۔ فرمایا جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا اور اسلام کو اپنا دین ، رسول اللہ ﷺ کو اپنا ہادی و رہنما اور پیر و مرشد تسلیم کیا ان میں ان میں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا واضح فرق موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ جو خوش نصیب مرد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
Commentary
Previous verses mentioned hypocrites - their conspiracies, hostilities, and the punishment waiting for them. The characteristic style of the Qur'an required that true believers should also be mentioned at this place giving a view of their life style, rewards and ranks. The verses cited above do just that.
It is interesting that the text, while making a comparison between hypocrites and true believers on this occasion, has this to say: بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ (they are all alike - 67). However, what it has to say about true believers is: بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (the believers…
Read the full tafseer →