بدکاروں کے ماضی سے عبرت حاصل کرو
ان بدکردار منافقوں کو وعظ سنایا جا رہا ہے کہ اپنے سے پہلے کے اپنے جیسوں کے حالات پر عبرت کی نظر ڈالو۔ دیکھو کہ نبیوں کی تکذیب کیا پھل لائی ؟ قوم نوح کا غرق ہونا اور سوا مسلمانوں کے کسی کا نہ بچنا یاد کرو۔ عادیوں کا ہود ؑ کے نہ ماننے کی وجہ سے ہوا کے جھونکوں سے تباہ ہونا یاد کرو، ثمودیوں کا حضرت صالح ؑ کے جھٹلانے اور اللہ کی نشانی اونٹنی کے کاٹ ڈالنے سے ایک جگر دوز کڑاکے کی آواز سے تباہ و بربار ہونا یاد کرو۔ ابراہیم ؑ کا دشمنوں کے ہاتھوں سے بچ جانا اور ان کے دشمنوں کا غارت ہونا، نمرود بن کنعان بن کوش جیسے بادشاہ کا مع اپنے لاؤ لشکر کے تباہ ہونا نہ بھولو۔ وہ سب…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 78
اشارہ ہے قوم لوط کی بستیوں کی طرف۔
سورة التَّوْبَة 79
“ یعنی ان کی تباہی و بربادی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی دشمنی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ انہیں تباہ کرے۔ بلکہ دراصل انہوں نے خود ہی اپنے لیے وہ طرز زندگی پسند کیا جو انہیں بربادی کی طرف لے جانے والا تھا۔ اللہ نے تو انہیں سوچنے سمجھنے اور سنبھلنے کا پورا موقع دیا، ان کی فہمائش کے لیے رسول بھیجے، رسولوں کے ذریعہ سے ان کو غلط روی کے برے نتائج سے آگاہ کیا اور انہیں کھول کھول کر نہایت واضح طریقے سے بتادیا کہ ان کے لیے فلاح کا راستہ کونسا ہے اور ہلاکت و بربادی کا کونسا۔ مگر جب انہوں نے اصلاح حال کے کسی موقع سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
آیت (69) كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ میں ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ خطاب منافقین کو ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں آچکا، اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ خطاب مسلمانوں کو ہے یعنی (اَنتُم كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ) مراد یہ ہے کہ تم لوگ بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح ہو جس طرح وہ لوگ دنیا کی لذائذ میں منہمک ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے اور طرح طرح کے معاصی اور بد اخلاقیوں میں مبتلا ہوگئے تم بھی ایسے ہی لوگ ہوں گے۔
اسی آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی وہی طریقے اختیار کرو گے جو تم سے پہلی امتیں کرچکی ہیں، ہاتھ در ہاتھ اور بالشت در بالشت یعنی ہوبہو ان کی نقل اتارو گے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 70: اسلامی معاشرہ کی تطہیر منافقین سے : اب تک منافقین اپنے دعائے ایمان کے سبب سے مسلمانوں کے ساتھ رلے ملے ہوئے تھے۔ یہ پہلی بار ان کی علامتیں بتا کر ان کو اہل ایمان سے چھانٹ کر الگ اور دنیا اور آخرت دونوں ہی اعتبار سے ان کو مسلمانوں کے بجائے کفار و مشرکین کا شریک وسہیم قرار دیا گیا ہے۔ یہ منافقین کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ اپنے کو مسلمانوں کے اندر گھسائے رکھنے کی کوشش نہ کریں۔ اور مسلمانوں کو بھی آگاہی ہے کہ وہ اس رنگ کی بھیڑوں کو اپنے گلے میں شامل نہ ہونے دیں۔ یہ گویا اسلامی معاشرہ کی غیر مطلوب عناصر سے تطہیر کی راہ میں پہلا قدم ہے اور یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح مسلمانوں نے کفار و…
Read the full tafseer →70۔ 1 یہاں ان چھ قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جن کا مسکن ملک شام رہا ہے۔ یہ بلاد عرب کے قریب ہے اور ان کی کچھ باتیں انہوں نے شاید آباواجداد سے سنی بھی ہوں قوم، نوح، جو طوفان میں غرق کردی گئی۔ قوم عاد جو قوت اور طاقت میں ممتاز ہونے کے باوجود، باد تند سے ہلاک کردی گئی۔ قوم ثمود جسے آسمانی چیخ سے ہلاک کیا گیا قوم ابراہیم، جس کے بادشاہ نمرود بن کنعان بن کوش کو مچھر سے مروا دیا گیا۔ اصحاب مدین (حضرت شعیب ؑ کی قوم) جنہیں چیخ زلزلہ اور بادلوں کے سائے کے عذاب سے ہلاک کردیا گیا اور اہل مؤتفکات سے مراد قوم لوط ہے جن کی بستی کا نام ' سدوم ' تھا اشفاک کے معنی ہیں انقلاب الٹ پلٹ دینا۔ ان پر آسمان سے پتھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
60: ان کے واقعات کے لیے دیکھئے سورة اعراف، آیات 59 اور 92 اور ان کے حواشی
Read the full tafseer →اب منافقین کو چھوڑ کر روئے سخن عام ہوجاتا ہے۔ یہ عام خطاب تعجب کرتے ہوئے کیا جاتا ہے کہ عجیب ہیں یہ لوگ کہ سابقہ لوگوں کے انجام کو دیکھتے ہوئے اور جانتے ہوئے یہ لوگ اس راہ پر بدستور چلتے ہیں۔
یہ لوگ اس دنیا کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اس کو اپنی حالت کا اچھی طرح شعور نہی ہے۔ یہ لوگ ہلاکت کی راہ پر مسلسل چل رہ ہی اور کسی نصیحت کو پلے نہیں باندھتے۔
الم یاتھم نبا الذین من قبلہم " کیا ان لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی ؟ " جو اسی راہ پر چلے جس پر یہ چلتے ہیں۔ ذرا قوم نوح کی تاریخ کو پڑھیں کہ کس طرح انہیں طوفان نے گھیر لیا اور ہلاک کیے گئے اور یہ سخوت خوفناک ہلاکت تھی۔ قوم عاد جسے ایک شدید…
Read the full tafseer →2 قوم نوح طوفان سے " عاد " آندھی سے، " ثمود " صیحہ (چیخ) سے ہلاک ہوئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی حق تعالیٰ نے عجیب و غریب خارق عادت طریقہ سے تائید فرمائی جنہیں دیکھ کر ان کی قوم ذلیل و ناکام ہوئی، ان کا بادشاہ نمرود نہایت بدحالی کی موت مارا گیا۔ اصحاب مدین صیحہ (چیخ) رجفہ (زلزلہ) وغیرہ سے تباہ ہوئے۔ قوم لوط کی بستیاں الٹ دی گئیں اور اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ ان سب اقوام کا قصہ (بجز قوم ابراہیم کے) سورة اعراف میں گزر چکا۔
3 یعنی خدا کسی کو بلا وجہ اور بےموقع سزا نہیں دیتا۔ لوگ خود ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جن کے بعد عذاب الٰہی کا آنا ناگزیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
آیت 70 اَلَمْ یَاْتِہِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَلا وَقَوْمِ اِبْرٰہِیْمَ
یہ قرآن مجید کا واحد مقام ہے جہاں قوم ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ اس انداز میں آیا ہے کہ شاید آپ علیہ السلام کی قوم پر بھی عذاب آیا ہو ‘ لیکن واضح طور پر ایسے کسی عذاب کا ذکر پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →84 یہ سب اقوام ایسی ہیں جن کا اپنے اپنے وقتوں میں ڈنکا بجتا تھا۔ پھر جب انہوں نے اللہ کے رسول اور اس کی آیات کو جھٹلایا اور نافرمانی اور مخالفت کی راہ اختیار کی تو ان پر اللہ کی طرف سے ارضی یا سماوی عذاب آیا جس نے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ ایسی قوموں کے حالات کی تفصیل پہلے سورة اعراف میں بھی گزر چکی ہے اور آئندہ بھی متعدد مقامات پر مذکور ہوگی۔
الٹائی ہوئی بستیوں سے مراد سیدنا لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیاں ہیں۔ سیدنا جبریل نے بحکم الٰہی ان بستیوں کو اپنے پر کے اوپر اٹھایا اور بلندیوں پر لے جا کر انہیں اٹھا کر زمین پردے مارا تھا۔ پھر بھی اس قوم پر اللہ کا غضب کم نہ ہوا تو ان پر…
Read the full tafseer →132 ۔ (سو انہیں قدیم قوموں کی طرح یہ معاصر معاندین بھی اپنے ہاتھون کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں) (آیت) ” نبا الذین “۔ ان لوگوں کی خبر یعنی ان لوگوں کی ہلاکت و بربادی کی خبر۔ (آیت) ” اصحب مدین “۔ مراد قوم شعیب ہے۔ (آیت) ” المؤتفکت “۔ الٹی ہوئی بستیاں، یعنی قوم لوط کے اجڑے ہوئے، برباد شدہ شہر۔ (آیت) ” اتتھم رسلھم بالبینت “۔ یعنی ان قوموں کے پیغمبر تو کھلے کھلے نشانات لے کر آتے رہے۔ پر ان لوگوں کی طرف سے انکار بھی اسی شدت سے جاری رہا۔ (آیت) ” ماکان اللہ لیظلمھم “۔ خدائے اسلام دوسری قوموں کے دیوی دیوتاؤں کی طرح ظالم نہیں وہ حکیم بھی ہے اور عادل بھی۔ بلاوجہ وسبب کسی پر سختی کرنا اس کی شان عدل و حکمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیت نمبر 67 تا 72
ترجمہ : منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں، یعنی دین کے معاملہ میں ایک شی کے اجزاء کے مشابہ ہیں، برائی کا (یعنی) کفر و معاصی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی (یعنی) ایمان وطاعت سے روکتے ہیں اور طاعت میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں اللہ کو بھول گئے ہیں یعنی اس اطاعت کو ترک کردیا ہے، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا ہے یعنی ان کو اپنے کرم سے محروم کردیا ہے، یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی جزا وسزا کے اعتبار سے ان کے لئے ہے، اللہ نے ان پر لعنت کی ہے یعنی ان کو…
Read the full tafseer →الم یاتھم نبا الذین من قبلھم کیا ان کو اگلے کافروں کے حال کی اطلاع نہیں پہنچی جنہوں نے ہمارے پیغمبروں کی نافرمانی اور ہمارے احکام کی مخالفت کی تو ہم نے ان پر عذاب بھیجا اور تباہ کر ڈالا۔
ھِمْ کی ضمیر غائب منافقوں کی طرف راجع ہے۔ یہ خطاب سے غیبت کی طرف انتقال ہے (عبارت میں نیرنگی پیدا کرنے اور منافقوں کو ناقابل خطاب قرار دینے کی طرف یہ ایک لطیف اشارہ ہے) ۔
قوم نوحٍ یعنی نوح کی قوم کی جو پانی کے طوفان سے ہلاک کردی گئی۔
وعادٍ اور قوم عاد کی جو آندھی کے طوفان سے ہلاک کردی گئی۔
وثمود اور قوم ثمود کی جن کو زلزلہ سے تباہ کردیا۔
وقوم ابرٰھیم اور ابراہیم کی قوم کی جن سے اللہ نے اپنی نعمت چھین لی۔ ایک…
Read the full tafseer →(70) کیا ان لوگوں کو اپنے سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کی خبر نہیں کہ کس طرح ہم نے ان کو ہلاک کیا کہ حضرت نوح ؑ کی قوم کو پانی میں غرق کے ذریعے اور قوم ہود کو تیز آندھی کے ذریعے اور قوم صالح ؑ کو خوفناک چیخ سے اور قوم شعیب کو زلزلہ سے
اور وہ جھٹلانے والی الٹی ہوئی بستیاں یعنی لوط ؑ کی قوم کی بستیوں کو ہم نے الٹا کردیا اور ان پر پتھروں کی بارش کی، ان کے پاس ان کے پیغمبر اور امر ونواہی اور صاف صاف نشانیاں لے کر آئے تھے مگر ان لوگوں نے انکار کردیا اور ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے انکو ہلاک کردیا، اللہ تعالیٰ نے انکو ہلاک کرکے ان پر ظلم نہیں کیا مگر یہ لوگ خود ہی کفر اور انبیاء کرم (علیہما السلام)…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : ”وَالْمُؤْتَفِكٰتِ“ ”اِءْتَفَکَ یَأْتَفِکُ“ باب افتعال سے اسم فاعل ہے، الٹنے والیاں، یعنی لوط ؑ کی قوم کی بستیاں جن کا مرکز سدوم تھا، جنھیں ان کے اعمال بد کی وجہ سے زمین سے اٹھا کر الٹا گرا دیا گیا اور کھنگروں کی بارش برسائی گئی۔ ان چھ قوموں کا خصوصاً ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ عرب کے آس پاس عراق، شام اور یمن میں آباد تھیں۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس کے انبیاء کو جھٹلایا، اس لیے انھوں نے خود اپنے اوپر عذاب کو دعوت دی۔ سورة اعراف میں ان کے واقعات گزر چکے ہیں اور آگے سورة ہود میں مزید تفصیل آرہی ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 70۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الم یاتیھم نبا “۔ اس میں نباکا معنی خبر ہے، (کیا ان کے پاس خبر نہیں آئی) (آیت) ” الذین من قبلھم “ اور ہمزہ استفہام تقریر وتحذیر کے لیے ہے، یعنی کیا انہوں نے اس سے پہلے ہمارے کفار کو ہلاک کرنے بارے نہیں سنا۔ (آیت) ” قوم نوح وعاد وثمود “۔ الذین سے بدل ہے (آیت) ” وقوم ابرھیم “۔ یعنی نمرود بن کنعان اور اس کی قوم، (آیت) ” واصحب مدین “۔ اس میں مدین اس شہر کا نام ہے جس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) سکونت پذیر تھے، وہ سب بادل کے دن عذاب کے ساتھ ہلاک کردیئے گئے۔ (آیت) ” والمؤتفکت “۔ کہا گیا ہے : اس سے قوم لوط مراد لی جارہی ہے، (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
منافقین کی سزا :
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ منافق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ شخص جو اسلام کی تعریف کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ عمل نہیں کرتا۔
2:۔ ابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نفاق کی دو قسمیں ہیں وہ نفاق جس سے محمد ﷺ کو جھٹلایا جاتا ہے تو یہ کفر ہے اور ایک نفاق خطاوں اور گناہوں کا ہے اور یہ وہ ہے جس کی اپنے ساتھی کے لئے توقع رکھی جاسکتی ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یامرون بالمنکر “ سے مراد ہے جھٹلانا حالانکہ وہ برے کاموں کا انکار کرتا ہے۔ (آیت) ” وینھون عن المعروف “ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت اور جو…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَاْتِهِمْ [ کیا نہیں پہنچی ان کو ] نَبَاُ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی خبر جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ ان سے پہلے تھے ] قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ ڏ [ ثمود اور عاد اور نوح کی قوم کی (خبر) ] وَقَوْمِ اِبْرٰهِيْمَ [ اور ابراہیم کی قوم کی (خبر) ] وَاَصْحٰبِ مَدْيَنَ [ اور مدین والوں کی (خبر) ] وَالْمُؤْتَفِكٰتِ ۭ [ اور الٹ جانے والی (بستیوں ) کی (خبر) ] اَتَتْهُمْ [ پہنچے انکے پاس ] رُسُلُهُمْ [ ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ ۚ [واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ) فَمَا كَانَ [ تو نہیں ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِيَظْلِمَهُمْ [ کہ وہ ظلم کرتا ان پر ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ…
Read the full tafseer →اقوام سابقہ کی بربادی سے عبرت لیں :
اس کے بعد پرانی قوموں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ قَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِکٰتِ ) کیا ان لوگوں کے پاس ان لوگوں کی خبریں نہیں آئیں جو ان سے پہلے تھے، کیا نوح (علیہ السلام) کی قوم کی بربادی کا حال اور عاد وثمود کی ہلاکت کے واقعات اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور مدین والوں کی ہلاکت کے قصے انہیں معلوم نہیں ہیں ؟ اور جو بستیاں برے کرتوتوں کی وجہ سے الٹ دی گئی تھی یعنی حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم جن بستیوں میں رہتی تھی کیا ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
منافقین اور منافقات کا اعمال وصفات میں تشابہ اور تماثل مع بیان وعید وتہدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ المنفقون والمنفقت بعضھم من بعض۔۔ الی۔۔ ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔
(ربط) : گزشتہ آیات میں منافقین کے اعمال فاسدہ اور افعال خبیثہ کو بیان کیا اب یہ بیان فرماتے ہیں کہ تمام منافقین اور منافقات ان قبائح اور فضائح میں مرد اور عورت سب ایک دوسرے کے مماثل اور متشابہ ہیں اور اسلام کی عداوت میں سب ایک ہیں۔ مرد اور عورت سب کا ایک ہی مذہب ہے جو بری خصلتیں ان کے مردوں میں ہیں وہی ان کی عورتوں میں بھی ہیں جس طرح مرد خبیث ہیں اسی طرح عورتیں بھی خبیث ہیں۔ سب کے دل ملتے جلتے ہیں پھر ان منافقوں کو متنبہ کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →66:“ اَلَمْ یَاتِھِمْ الخ ” یہ تخویف دنیوی ہے اس میں خطاب سے غیبت کی طرف التفات ہے اور ضمیر غائب سے کفار و منافقین مراد ہیں یعنی کفار و منافقین کو اقوامِ سابقہ کے حالات سے عبرت حاصل کرنا چاہئے کہ کس طرح ان کو ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ “ فَمَا کَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَھُمْ الخ ” یعنی اللہ نے ان کو ہلاک کر کے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ظالم تھے اور ضد و انکار کی وجہ سے انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے جہاد کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور ان کی خود غرضی ، بزدلی ، مفاد پرستی اور ان کے برے انجام کا ذکر فرمایا۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے اس عمل کا نتیجہ خطرناک صورت میں ظاہر ہوگا۔ فرمایا یہ لوگ دنیا میں سب کے سامنے ذلیل ورسوا ہوں گے اور آخرت کی سب سے بری نامرادی تو ان کے لیے لازمی ہے اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے بعض اوصاف بیان کیے ہیں کہ یہ لوگ کس قسم کے اخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔ پھر عبرت کے لیے پہلے لوگوں کا حال بھی بیان فرمایا ہے اور ان لوگوں کے انجام سے باخبر کر کے بات سمجھائی ہے کہ اگر تم بھی ان کے نقش…
Read the full tafseer →اَلَمْ يَاْتِہِمْ نَبَاُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ 0ۥۙ وَقَوْمِ اِبْرٰہِيْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكٰتِ 0 ۭ اَتَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ 0 ۚ فَمَا كَانَ اللہُ لِيَظْلِمَہُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ يَظْلِمُوْنَ 70
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔
تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع…
Read the full tafseer →اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاُالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ 5 لا وَقَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِکٰتِط اَتَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ج فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰـکِنْ کَانُوْآ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ (التوبۃ : 70)
(کیا نہیں آئی ان کے پاس ان لوگوں کی خبر جو ان سے پہلے گزرے (یعنی) قوم نوح، عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور الٹی ہوئی بستیاں آئے ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر تو اللہ ان کے اوپر ظلم کرنے والا نہیں بنا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔ )
کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ سے جن قوموں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کو پہلے اشارے کی زبان سے مغضوب قوموں کے حوالے سے وارننگ دی گئی اور اب دو ٹوک الفاظ میں ہلاک ہونے والی قوموں کا ذ کر ہوتا ہے۔
پہلی آیت میں عربی کے حرف ” ک کے ذریعے مغضوب قوموں کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اب منافقین کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں مغضوب اور ملعون قوموں کا ذکر کیا ہے تاکہ انھیں معلوم ہو کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طویل عمر اور عاد، ثمود، اہل مدین کے مال و اسباب اور ان کی افرادی قوت انھیں رب ذوالجلال کے عذاب سے نہیں بچا سکی تھی اور نہ ہی ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کو ان کی تہذیب و تمدن اور دنیوی ترقی اللہ کی گرفت سے محفوظ رکھ سکی حالانکہ ان…
Read the full tafseer →آیت 70: اَلَمْ یَاْ تِھِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ (کیا ان لوگوں کو ان کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے ہوئے ہیں جیسے قوم نوح) یہ الذین سے بدل ہے۔ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ ۔ وَقَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ (اور عاد اور ثمود اور ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم اور اہل مدین) اہل مدین یہ شعیب ( علیہ السلام) کی قوم تھی۔ وَالْمُؤْتَفِکٰتِ (اور الٹی ہوئی بستیاں) قوم لوط کے شہر ائتفاکھن ان کی حالت خیر کو شر سے پلٹ دیا۔ اَتَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ (کہ ان کے رسول ان کے پاس صاف نشانیاں لے کر آئے پس اللہ نے تو ان پر ظلم نہیں کیا)…
Read the full tafseer →تفسیر 70۔” الم یاتھم “ یعنی منافقین ” نبا خیر الذین من قبلھم “ جب انہوں نے ہمارے رسولوں کی مخالفت اور ہماری مخالفت کی کیسے ہم نے ان کو عذاب دیا اور ان کو ہلاک کردیا۔ پھر فرمایا کہ ” قوم نوح “ طوفان کے ذریعے ہلاک کیے گئے ” وعاد “ ہوا کے ذریعے ہلاک کیے گئے ۔ ” وثمود “ زلزلہ کے ذریعے ” وقوم ابراہیم “ نعمت کو سلب کرنے اور نمرود کو ہلاک کرنے کے ساتھ ۔ ” واصحاب مدین “ یعنی شعیب (علیہ السلام) کی قوم سائبان کے دن کے عذاب سے ہلاک کی گئی ۔” والمؤتفکات “ پلٹی ہوئی بستی ہم نے جس کا نچلا حصہ اوپر کردیا اور یہ لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ان کی بستیاں تھیں ۔ ” اتنھم رسلھم بالبینات “ انہوں نے ان کی تکذیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
69۔ 70۔ اوپر کی آیتوں میں بہت دور سے آنحضرت کے وقت کے جن منافقوں کا ذکر آرہا ہے اب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے پہلے لوگوں کا حال ان منافقوں کو یاد دلایا اول تو مبہم طور پر یہ فرمایا کہ ان منافقوں کا حال رسول اور کلام الہی سے ٹھٹھا کرنے اور نافرمانی میں پہلے لوگوں کا سا ہے اور باوجود اس کے کہ پہلے لوگ جسمانی قول اور درازی عمر اور کثرت مال واولاد میں ان سے بڑھ کر تھے لیکن سوا چند روزہ شرارت کرلینے کے نہ دنیا میں ان کو کچھ ثمرہ ملا کس واسطے کہ اللہ کے رسول آخر کو غالب رہے اور رسولوں کے مخالف لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہو کر پامال اور ہلاکت ہوگئے اور عقبیٰ میں جو کچھ ایسے لوگوں کا انجام…
Read the full tafseer →آیت 70
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے، اے منافقو ! تمہارا حال تم جیسے ان منافقین کی مانندہ جنہوں نے تم سے پہلے نفاق اور کفر کا ارتکاب کیا۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور، تم سے زیادہ دولت مند اور تم سے زیادہ اولاد والے تھے۔ ان کے لئے جو حظوظ دنیا (دنیوی منافع اور حصے) مقدر کئے گئے تھے انہوں نے ان سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے تقویٰ سے روگردانی کی۔ انبیائے کرام کے ساتھ نہایت حقارت اور استخفاف کے ساتھ پیش آئے اور اپنے اور انبیائے کرام کے معاملہ میں ان کا خوب تمسخر اڑایا۔ تم نے بھی دنیا کی لذتوں سے، جو تمہارے لئے مقدر کی گئی تھیں، خوب فائدہ اٹھایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
قول باری ہے المنافقوں المنافقات بعضھم من بعض منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کی نسبت بعض کی طرف اس بنا پر کی ہے کہ نفاق پر ان سب کا اجتما ع اور ایکا ہے۔ اس لیے نفاق کا رویہ اختیار کرنے ، بھلائی سے روکنے اور برائی کا حکم دینے میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرنے کی بنا پر یہ سب ہم رنگ اور ہم شکل ہیں ۔ جس طرح منجملہ مشابہت کی بناء پر ایک چیز کے بعض حصے کو ایک چیز کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے۔
قول باری ہے ویقبضون ایدیھم اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں ۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روکے رکھتے ہیں ۔ قتادہ کا…
Read the full tafseer →145 پیغام حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس آیت کریمہ میں قوم نوح وعاد اور قوم ثمود وابراہیم وغیرہ مختلف قوموں کا حوالہ دے کر ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کے پاس ان کے رسول کھلے نشانیاں لے کر آئے مگر انہوں نے نہ مانا اور آخر کار وہ قومیں اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ ان پر کوئی ظلم کرتا مگر وہ لوگ اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کر رہے تھے۔ سو اس سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ نور حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ہوتا ہے۔ اور اب نور حق و ہدایت کا منبع ومصدر صرف قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
منافقوں کی دل لگی اور بہانے
تشریح : یہ منافقین جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے مقبول ترین پیغمبر ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حالات اور واقعات سے باخبر کردیتا ہے۔ پھر بھی اپنی منافقت، بدعہدی اور جھوٹ سے باز نہ آتے تھے۔ اور ہر وقت کسی نہ کسی طرح سازشوں میں لگے رہتے تھے۔ اللہ واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ تم باز آجاؤ تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتے سب کچھ تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آجائے گا۔ پھر نوید سنائی گئی کہ تم میں سے کچھ ایسے کم گناہ گار ہیں ان کو تو شاید اللہ معاف فرما دے مگر جو حد سے گزر چکے ہیں وہ ہرگز سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ پھر ان تمام منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ عورتیں اور مرد سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیات 67 تا 72
اسرار و معارف
انسان مزاجاجل کر رہنے والا ہے اور مدنی الطبع ہے مگر اس میل کا سب سے مضبوط سبب بھی سوچ اور مزاج کی یک رنگی ہے لہٰذا منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اس لئے کہ سب برائی پھیلا تے ہیں اور نیکی کے کاموں کو فضول شمار کرکے ان سے روکتے ہیں اور گویا جہاد اور بقائے دین یا غلبہ اسلام کے لئے تو ان لوگوں نے اپنے ہاتھ کس کر باندھ لئے ہیں اور ان کے دل میں ذرہ برابر اللہ کی یاد نہیں ۔ یہ لوگ اللہ کو بھول ہی چکے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ کے ہاں بھی ان کا حال یہ ہے جیسے انھیں بالکل بھلادیا گیا ہو۔ اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ نافرمان ہیں اور بدکر داری کی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی جن کی بستیاں اللہ کے عذاب سے الٹ گئیں ،۔ مراد لوط ( علیہ السلام) کی قوم ہے جس کا صدر مقام سدرم شہر تھا۔ ( از قرطبی)4 انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس کے ابنیا ( علیہ السلام) کو جھٹلا یا۔ اس لیے انہوں نے خود اپنے عذاب کو دعوت دی۔ سورة اعراف میں ان قوموں کو وقعات گزر چکے ہیں۔ اور آگے سورة ہود میں مزید تفصیل آرہی ہے۔
Read the full tafseer →(9:70) نبأ۔ خبر۔ اطلاع۔ ثمود۔ بوجہ معرفہ و عجر غیرمنصرف ہے اور اسی طرح ابراہیم بھی غیر منصرف ہے۔
اصحب مدین۔ اہل مدین۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم۔
والمر تفکت۔ اسم فاعل جمع مؤنث مجرور المؤتفکۃ واحد ایتفاک (افتعال) مصدر افک مادہ۔ الٹی ہوئی۔ منقلب۔ مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیاں ہیں جو بحیرہ مردار کے ساحل پر آباد تھیں۔ اور جن کے تخت گاہ سندوم شہر یا سدوم تھی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا حکم نہ ماننے اور ظلم و لواطت سے باز نہ آنے کی وجہ سے اللہ نے ان کو زمین کا تختہ الٹ دیا اور اوپر سے کنکریلے پتھروں کی بارش کردی۔
اتتھم رسلہم بالبینت کے بعد فکذبوھم فاہلکوا محذوف ہے۔ ان سب کے پاس ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 70
یامرون (وہ حکم دیتے ہیں، سکھاتے ہیں) المنکر (بری بات) ینھون (وہ روکتے ہیں) المعروف (نیکیوں سے) نیکیاں یقضون (وہ روکتے ہیں) ایدیھم اپنے ہاتھوں کو نسو اللہ (انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ) نسیھم (اس نے ان کو بھلا دیا) عذاب مقیم (ہمیشہ کا عذاب) اشد (زیادہ شدید) استمتعوا (انہوں نے فائدہ حاصل کیا) استمتعتم (تم نے فائدہ اٹھا لیا) خلاق (حصہ) خصتم (تم گھسے) کالذی (جیسا کہ وہ) الم یات (کیا نہیں آئی) نبا (خبر، اطلاع) الموتفکت (الٹی ہوئی بستیاں)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 70
منافقین کی تمام بری حرکات کا مسلسل ذکر کیا جا رہا ہے آیت نمبر 67 سے آیت نمبر 72 تک اس بات کو تفصیل سے مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
پچھلی نافرمان قوم کی حالت جتلاکر ہدایت : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے پہلے لوگوں کا حال ان منافقوں کو یاد دلایا۔ اول تو مبہم طور پر یہ فرمایا کہ ان منافقوں کا حال رسول اور کلام الہی سے ٹھٹھا کرنے اور نافرمانی میں پہلے لوگوں کا سا ہے، اور باوجود اس کے کہ پہلے لوگ جسمانی قوت اور درازی عمر اور کثرت مال و اولاد میں ان سے بڑھ کر تھے لیکن سوا چند روزہ شرارت کرلینے کے دنیا میں ان کو کچھ ثمرہ نہ ملا اور اللہ کے رسول آخر کو غالب رہے، اور رسولوں کے مخالف لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہوکر پامال اور ہلاک ہوگئے۔ اور عقبیٰ میں جو کچھ ایسے لوگوں انجام ہوگا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ علاوہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
[44] مراد ہیں قوم لوط کی بستیاں جو زیر و زبر کر ڈالی گئی تھیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ نے سرکشی اور تمرد کی وجہ سے ہلاک کردیا نوح (علیہ السلام) نے ہرچند قوم کو طویل مدت تک سمجھایا مگر انہوں نے غرق ہونے کی ٹھان لی ، اور باز نہ آئے اسی طرح عاد وثمود کی قومیں نافرمانی وعصیان کی وجہ سے پکڑی گئیں ، ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نہایت متمدن تھی ، وہ بھی عتاب سے نہ بچی حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم بھی اپنی بدعنوانیوں کی وجہ سے غارت ہوئی غرض یہ ہے کہ ثبات و استقلال کا قانون صرف ان لوگوں کے لئے ہے ، جو اطاعت شعار ہوں ، نافرمانوں کے لئے بجز تباہی وہلاکت کے اور کوئی چارہ نہیں ، پھر ان منافقین کو کیا ہوگیا ہے ، کہ…
Read the full tafseer →70 کیا ان لوگوں کو ان کے احوال اور ان لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں جوان سے پہلے ہو گزرے ہیں جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم اور عاد اور ثمود اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اور مدین کے رہنے والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے ان سب کے پاس ان کے پیغمبر صاف اور واضح دلائل لے کر آئے اور انہوں نے ان دلائل کو حق نہ کہا اور برباد ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ کی تو یہ شان نہ تھی اور وہ تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا کرتے تھے۔ ان قوموں کا تذکرہ فرمایا جن کو کفار عرب خود جانتے تھے اور ان کی بربادی کے قصے عام و خاص کی زبان زد تھے الٹی ہوئی بستیاں فرمایا لوط کی قوم کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 2۔ اوپر منافقین کے قبائح وفضائح مذکور تھے آگے زیادہ کشف مضمون کے لیے الاشیاء تعرف کے لیے مومنین کے بعض مدائح کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →منافقوں کے آنے والے گروہ نے جانے والے گروہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کی :
94: یہ آیت گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کر رہی ہے کیونکہ اس میں چند گزشتہ قوموں کا نام لے کر ان کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے ان تمام اقوام کی سرگزشتیں سورة الاعراف میں گزر چکیں اور آئندہ اس جلد میں سورة ہود کی تفسیر میں دوبارہ آئیں گی اور ہم نے ان کی پوری سرگزشتوں اور ان کے نتائج کو سورة ہود میں ذکر کیا ہے۔ یہ وہی قومیں ہیں جن کی عظمت و سطوت کی داستانیں اور پھر ان کی تباہی و بربادی کے قصے خود ان کے ہاں بچے ، بچے کی زبان پر جاری تھے۔ اصحاب مدین کے متعلق ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں کہ اس سے ہر جگہ مراد قوم شعیب ہے اور الٹائی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
Commentary
Previous verses mentioned hypocrites - their conspiracies, hostilities, and the punishment waiting for them. The characteristic style of the Qur'an required that true believers should also be mentioned at this place giving a view of their life style, rewards and ranks. The verses cited above do just that.
It is interesting that the text, while making a comparison between hypocrites and true believers on this occasion, has this to say: بَعْضُهُم مِّن بَعْضٍ (they are all alike - 67). However, what it has to say about true believers is: بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (the believers…
Read the full tafseer →