ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے۔
خلاق سے مراد یہاں دین ہے۔ جیسے اگلے لوگ جھوٹ اور باطل میں کودتے پھاندتے رہے۔ ایسے ہی ان لوگوں نے بھی کیا۔ انکے یہ فاسد اعمال اکارت ہوگئے۔ نہ دنیا میں سود مند ہوئے نہ آخرت میں ثواب دلانے والے ہیں۔ یہی صریح نقصان ہے کہ عمل کیا اور ثواب نہ ملا۔ ابن عباس فرماتے ہیں جیسے آج کی رات کل کی رات سے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح اس امت میں بھی یہودیوں کی مشابہت آگئی میرا تو خیال ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم ان کی پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی گوہ جانور کے سوراخ میں داخل ہوا ہے تو تم بھی اس میں گھسو گے۔ حضور ﷺ کا…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 77
یہاں سے پھر ان کا غائبانہ ذکر شروع ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
آیت (69) كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ میں ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ خطاب منافقین کو ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں آچکا، اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ خطاب مسلمانوں کو ہے یعنی (اَنتُم كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ) مراد یہ ہے کہ تم لوگ بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح ہو جس طرح وہ لوگ دنیا کی لذائذ میں منہمک ہو کر آخرت کو بھلا بیٹھے اور طرح طرح کے معاصی اور بد اخلاقیوں میں مبتلا ہوگئے تم بھی ایسے ہی لوگ ہوں گے۔
اسی آیت کی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی وہی طریقے اختیار کرو گے جو تم سے پہلی امتیں کرچکی ہیں، ہاتھ در ہاتھ اور بالشت در بالشت یعنی ہوبہو ان کی نقل اتارو گے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 70: اسلامی معاشرہ کی تطہیر منافقین سے : اب تک منافقین اپنے دعائے ایمان کے سبب سے مسلمانوں کے ساتھ رلے ملے ہوئے تھے۔ یہ پہلی بار ان کی علامتیں بتا کر ان کو اہل ایمان سے چھانٹ کر الگ اور دنیا اور آخرت دونوں ہی اعتبار سے ان کو مسلمانوں کے بجائے کفار و مشرکین کا شریک وسہیم قرار دیا گیا ہے۔ یہ منافقین کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ اپنے کو مسلمانوں کے اندر گھسائے رکھنے کی کوشش نہ کریں۔ اور مسلمانوں کو بھی آگاہی ہے کہ وہ اس رنگ کی بھیڑوں کو اپنے گلے میں شامل نہ ہونے دیں۔ یہ گویا اسلامی معاشرہ کی غیر مطلوب عناصر سے تطہیر کی راہ میں پہلا قدم ہے اور یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح مسلمانوں نے کفار و…
Read the full tafseer →69۔ 1 یعنی تمہارا حال بھی اعمال اور انجام کے اعتبار سے امم ماضیہ کے کافروں جیسا ہی ہے۔ اب غائب کی بجائے، منافقین سے خطاب کیا جا رہا ہے۔
69۔ 2 خلاق کا دوسرا ترجمہ دنیاوی حصہ بھی کیا گیا ہے۔ یعنی تمہاری تقدیر میں دنیا کا جتنا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ برت لو، جس طرح تم سے پہلے لوگوں نے اپنا حصہ برتا اور پھر موت یا عذاب سے ہم کنار ہوگئے۔
69۔ 3 یعنی آیات الٰہی اور اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کے لئے۔ یا دوسرا مفہوم ہے دنیا کے اسباب اور لہو و لعب میں جس طرح وہ مگن رہے، تمہارا بھی یہی حال ہے۔ آیت میں پہلے لوگوں سے مراد اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں۔ جیسے ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا ' قسم ہے اس ذات کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
59: ہاتھوں کو بند رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کنجوس ہیں۔ جہاں خرچ کرنا چاہیے وہاں خرچ نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →منافقوں کا بےعمل ، منحرف اور گمراہ طبقہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت انوکھا نہیں رہا ہے۔ اسلام سے قبل بھی انسانی تاریخ میں اس کے نمونے موجود رہے ہیں اور ادوار سابقہ کے منافقین کا انجام بھی ان کے فسق و فجور کے مطابق ایسا ہی رہا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی فطرت میں کجی آجاتی ہے اور وہ صحیح راہ پر نہیں چلتے۔ اس سے قبل جو کافر اور منافق گزرے ہیں وہ حضور کے دور کے منافقین سے زیادہ مادار اور زیادہ افرادی قوت کے مالک تھے۔ لیکن یہ مالی اور افرادی وسائل انہیں نہ بچا سکے۔
قرآن کریم امم سابقہ کے منافقین کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو تم ان لوگوں ہی کے راستے پر تو چل رہے ہو۔ آخر…
Read the full tafseer →6 یعنی دنیاوی لذائذ کا جو حصہ ان کے لیے مقدر تھا، اس سے فائدہ اٹھا گئے اور آخری انجام کا خیال نہ کیا۔
7 یعنی تم بھی ان کی طرح آخری انجام کے تصور سے غافل ہو کر دنیا کی متاع فانی سے جتنا مقدر ہے حصہ پا رہے ہو اور ساری چال ڈھال انہی کی سی رکھتے ہو، تو سمجھ لو جو حشر ان کا ہوا وہ ہی تمہارا بھی ہوسکتا ہے ان کے پاس مال و اولاد اور جسمانی قوتیں تم سے زائد تھیں پھر انتقام الٰہی کی گرفت سے نہ بچ سکے تو تم کو کا ہے پر بھروسہ ہے جو خدائی سزا سے اس قدر بےفکر ہو بیٹھے ہو۔
1 یعنی کوئی دنیاوی و اخروی برکت و کرامت انہیں نصیب نہ ہوئی۔ باقی دنیاوی لذائذ کا جو حصہ بظاہر ملا وہ فی الحقیقت ان کے حق میں استدراج…
Read the full tafseer →آیت 69 کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْکُمْ قُوَّۃً وَّاَکْثَرَ اَمْوَالاً وَّاَوْلاَدًا ط
تم سے پہلے جو کافر قومیں گزری ہیں ‘ مثلا قوم عاد ‘ قوم ثمودوغیرہ وہ طاقت ‘ مال و دولت اور تعداد کے لحاظ سے تم سے بہت بڑھ کر تھیں۔
فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِہِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلاَقِکُمْ
یعنی تمہاری مدت مہلت ختم ہونے کو ہے ‘ اب تم لوگ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہو۔
کَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ بِخَلاَقِہِمْ وَخُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوْا ط
تم نے بھی اسی طرح کی روش اختیار کی جیسی انہوں نے اختیار کی تھی۔
Read the full tafseer →83 یعنی قوم عاد، ثمود، نوح، ابراہیم وغیرہ وغیرہ ایسی اقوام تھیں جن کی شان و شوکت تم لوگوں سے بڑھ کر تھی۔ انہوں نے تم سے بہت زیادہ عیش و عشرت سے زندگی بسر کی تھی۔ وہ لوگ طاقت کے لحاظ سے بھی تم سے مضبوط تر تھے اور مال اور اولاد کے لحاظ سے بھی تم سے بہت آگے تھے۔ وہ لوگ بھی دنیا میں مست ہو کر آیات کو بھول گئے تھے۔ اس کی نافرمانیوں پر اتر آئے اور اللہ کی آیات سے مذاق اور دل بہلاوے کرنے لگے تھے۔ اور آج تم بھی بعینہ وہی کچھ کر رہے ہو۔ اللہ کو بھول جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی نے دنیا میں کوئی اچھے کام کیے بھی ہوں تو آخرت میں وہ سب رائیگاں جائیں گے کیونکہ اعمال کی جزا تو صرف اس صورت میں ملتی…
Read the full tafseer →130 ۔ یعنی جیسا پرانی جاہلی مشرک قوموں کو اپنے جاہ و ثروت اور دنیوی ترقیوں پر ناز اور ناز بےجارہ چکا ہے اسی طرح تم بھی آج ظاہری دلفریبیوں اور مادی چمک دمک پر مٹے ہوئے ہو۔ خطاب منافقین ہی سے چل رہا ہے۔ (آیت) ” کالذین من قبلکم “۔ یہ تمثیل جس طرح کفر مشترک میں ہے اسی طرح جزائے کفر مشترک میں بھی ہے۔
131 ۔ (کہ دونوں جہانوں میں مسرت و راحت سے محروم ہوگئے) مطلب یہ ہوا کہ جب حبط اعمال اور سزائے شدید اخروی سے وہ قدیم قومیں بہ ای جاہ و شوکت نہ بچ سکیں تو تم ان سے کہیں کم ہو، تم کیسے بچ سکتے ہو۔ (آیت) ” خضتم کالذی خاضوا “۔ خوض کے معنی گھسنے یا دآنے کے ہیں۔ اور اس کا استعمال موقع ذم پر ہوتا ہے۔ الخوض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیت نمبر 67 تا 72
ترجمہ : منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی طرح کے ہیں، یعنی دین کے معاملہ میں ایک شی کے اجزاء کے مشابہ ہیں، برائی کا (یعنی) کفر و معاصی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی (یعنی) ایمان وطاعت سے روکتے ہیں اور طاعت میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے ہیں اللہ کو بھول گئے ہیں یعنی اس اطاعت کو ترک کردیا ہے، تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا ہے یعنی ان کو اپنے کرم سے محروم کردیا ہے، یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، وہی جزا وسزا کے اعتبار سے ان کے لئے ہے، اللہ نے ان پر لعنت کی ہے یعنی ان کو…
Read the full tafseer →کالذین من قبلکم ان لوگوں کی طرح جو ان سے پہلے گذر گئے۔ یعنی اے منافقو ! تم گزشتہ اقوام کے کافروں کی طرح ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم نے بھی وہی حرکتیں کیں جو تم سے پہلے کافروں نے کی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی تھی ‘ اسلئے ان پر اللہ کی لعنت پڑی اور تم نے بھی انہی کی طرح سرکشی کی ‘ اسلئے اللہ نے تم پر لعنت کی۔
کانوا اشد منکم قوۃً و اکثر اموالاً واولادًا وہ شدت قوت اور کثرت مال و اولاد میں تم سے بھی زیادہ تھے۔
اقوام گزشتہ کے کافروں کو منافقوں کے ساتھ جن چیزوں میں مشابہت تھی ‘ ان کا اظہار اس آیت میں کیا ہے اور دونوں کے حالات کی وجہ مماثلت بیان کی گئی ہے۔
فاستمتعوا بخلاقھم فاستمتعتم…
Read the full tafseer →(69) ان لوگوں کے عذاب کے طریقہ پر جو ان منافقین سے پہلے ہوچکے ہیں تو انہوں نے آخرت کو چھوڑ کر اپنے دنیاوی حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا تھا اور تم بھی باطل اور رسول اکرم ﷺ کی تکذیب میں ایسے ہی جاداخل ہوئے جیسا کہ وہ باطل اور انبیاء کرام کی تکذیب میں داخل ہوئے تھے ان کی سب نیکیاں تباہ ہوگئیں اور یہ بڑے ہی نقصان اور خسارے میں ہیں۔
Read the full tafseer →كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ : اس سے پہلے منافقین کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ ہو رہا تھا، اب مزید تنبیہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں براہ راست مخاطب فرمایا، یعنی تم بھی ان لوگوں کی طرح ہو اور تمہارے کرتوت بھی ان لوگوں جیسے ہیں جنھوں نے تم سے پہلے رسولوں کے ساتھ کفر کیا۔ اس فرق کے ساتھ کہ وہ قوت میں تم سے زیادہ سخت اور اموال و اولاد میں بہت زیادہ تھے۔ تمہاری ایک دوسرے سے مشابہت دو طرح سے ہے، دنیا میں انھوں نے اپنے لکھے ہوئے حصے سے فائدہ اٹھایا، تم نے بھی اپنے سے پہلے لوگوں کی طرح اپنے نصیب سے فائدہ اٹھایا اور انھوں نے اپنے انبیاء کا مذاق اڑایا اور ان کے متعلق فضول باتیں کیں، تم نے بھی یہی کام…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 69۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” کالذین من قبلکم “ زجاج نے کہا ہے : کاف محل نصب میں ہے، اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ جہنم کی آگ کا اسی طرح وعدہ کیا جیسے اس نے ان لوگوں سے وعدہ کیا جو ان سے پہلے گزرے، (ای وعد اللہ الکفار نار جھنم وعدا کما وعد الذین من قبلھم) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے تم نے برائی کا حکم دینے اور نیکی سے روکنے میں ان لوگوں کے افعال کی طرح افعال کیے جو تم سے پہلے گزرے ہیں، (فعلتم کا فعال الذین من قبلکم فی الامر بالمنکروالنھی عن المعروف) (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 78)
پس مضاف حذف کردیا گیا اور یہ بھی کہا گیا ہے : تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
منافقین کی سزا :
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن ابی حاتم نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ منافق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ شخص جو اسلام کی تعریف کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ عمل نہیں کرتا۔
2:۔ ابوالشیخ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ نفاق کی دو قسمیں ہیں وہ نفاق جس سے محمد ﷺ کو جھٹلایا جاتا ہے تو یہ کفر ہے اور ایک نفاق خطاوں اور گناہوں کا ہے اور یہ وہ ہے جس کی اپنے ساتھی کے لئے توقع رکھی جاسکتی ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یامرون بالمنکر “ سے مراد ہے جھٹلانا حالانکہ وہ برے کاموں کا انکار کرتا ہے۔ (آیت) ” وینھون عن المعروف “ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت اور جو…
Read the full tafseer →كَالَّذِيْنَ [ انکی مانند جو ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم لوگوں سے پہلے تھے ] كَانُوْٓا [ وہ لوگ تھے ] اَشَدَّ [ زیادہ سخت ] مِنْكُمْ [ تم سے ] قُوَّةً [ بلحاظ قوت کے ] وَّاَكْثَرَ [اور زیادہ کثرت والے ] اَمْوَالًا [ بلحاظ مال کے ] وَّاَوْلَادًا ۭ [ اور اولاد کے ] فَاسْتَمْتَعُوْا [ تو انھوں نے فائدہ اٹھایا ] بِخَلَاقِهِمْ [ اپنے حصے سے ] فَاسْتَمْتَعْتُمْ [ پھر تم لوگوں نے فائدہ اٹھایا ] بِخَلَاقِكُمْ [ اپنے حصے سے ] كَمَا [ اس کی مانند جو ] اسْتَمْتَعَ [ فائدہ اٹھایا ] الَّذِيْنَ [ انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم سے پہلے تھے ] بِخَلَاقِهِمْ [ اپنے حصے سے ] وَخُضْتُمْ [ اور تم نے (بھی) بےپر کی…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) (الآیۃ) اس میں منافقوں سے خطاب ہے کہ تم لوگ انہیں لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے تھے۔ وہ لوگ تم سے بڑھ کر قوت اور طاقت والے اور تم سے زیادہ اموال اور اولاد والے تھے۔ وہ لوگ اپنے دنیاوی حصہ سے مستفید ہوئے اور تم بھی دنیاوی حصہ سے مستفید ہوئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگ اپنے حصہ سے مستفید ہوئے وہ لوگ بھی دنیا ہی میں لگے اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھا تم لوگ بھی انہیں کی راہ پر ہو۔ تم لوگ بھی باطل میں اور برائیوں میں اسی طرح گھس گئے جس طرح تم سے پہلے لوگ گھسے تھے۔ ان کا جو انجام ہوا تمہارا بھی یہی انجام ہوگا۔ پھر انجام بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (اُولٰٓءِکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
منافقین اور منافقات کا اعمال وصفات میں تشابہ اور تماثل مع بیان وعید وتہدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ المنفقون والمنفقت بعضھم من بعض۔۔ الی۔۔ ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔
(ربط) : گزشتہ آیات میں منافقین کے اعمال فاسدہ اور افعال خبیثہ کو بیان کیا اب یہ بیان فرماتے ہیں کہ تمام منافقین اور منافقات ان قبائح اور فضائح میں مرد اور عورت سب ایک دوسرے کے مماثل اور متشابہ ہیں اور اسلام کی عداوت میں سب ایک ہیں۔ مرد اور عورت سب کا ایک ہی مذہب ہے جو بری خصلتیں ان کے مردوں میں ہیں وہی ان کی عورتوں میں بھی ہیں جس طرح مرد خبیث ہیں اسی طرح عورتیں بھی خبیث ہیں۔ سب کے دل ملتے جلتے ہیں پھر ان منافقوں کو متنبہ کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
65:“ وَعَدَ اللّٰهُ الخ ” یہ منافقین اور کفار کے لیے تخویف اخروی ہے۔ “ کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ اي انتم ایھا الکفار کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِھِمْ ” جو دنیوی عیش و تلذذ ان کے لیے مقدر تھا اس سے انہوں نے فائدہ اٹھا یا اور جو تمہارے لیے مقدر تھا اس سے تم نے فائدہ اٹھایا۔ “ وَ خُضْتُمْ کَالَّذِيْ خَاضُوْا ” اور جس طرح وہ باطل شبہات اور لہو ولعب میں منہمک ہوگئے اسی طرح تم منہمک ہوئے۔ “ اُوْلٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ الخ ” دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال اکرت گئے اور ان پر وہ کسی اجر وثواب کے مستحق نہ ٹھہرے اور دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھایا۔ اے کفار ! بالکل اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے جہاد کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور ان کی خود غرضی ، بزدلی ، مفاد پرستی اور ان کے برے انجام کا ذکر فرمایا۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے اس عمل کا نتیجہ خطرناک صورت میں ظاہر ہوگا۔ فرمایا یہ لوگ دنیا میں سب کے سامنے ذلیل ورسوا ہوں گے اور آخرت کی سب سے بری نامرادی تو ان کے لیے لازمی ہے اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے بعض اوصاف بیان کیے ہیں کہ یہ لوگ کس قسم کے اخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔ پھر عبرت کے لیے پہلے لوگوں کا حال بھی بیان فرمایا ہے اور ان لوگوں کے انجام سے باخبر کر کے بات سمجھائی ہے کہ اگر تم بھی ان کے نقش…
Read the full tafseer →كَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّۃً وَّاَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا 0 ۭ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِہِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَـمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِہِمْ وَخُضْتُمْ كَالَّذِيْ خَاضُوْا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ 0 ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ 69
شد
الشَّدُّ : العقد القويّ. يقال : شَدَدْتُ الشّيء :
قوّيت عقده، قال اللہ : وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] ،
( ش دد ) الشد
یہ شدد ت الشئی ( ن ) کا مصدر ہے جس کے معنی مضبوط گرہ لگانے کے ہیں ۔ قرآں میں ہے
: وَشَدَدْنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔
تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
اَلْمُنٰـفِقُوْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتُ بَعْضُھُمْ مِّنْم بَعْضٍم یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْکَرِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَیَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَھُمْط نَسُوْااللّٰہَ فَنَسِیَھُمْط اِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ وَعَدَاللّٰہُ الْمُنٰـفِقِیْنَ وَالْمُنٰـفِقٰتِ وَالْکُفَّارَنَارَجَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَاط ھِیَ حَسْبُھُمْ ج وَلَعَنَھُمُ اللّٰہُ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ لا کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَانُوْآ اَشَدَّمِنْکُمْ قُوَّۃً وَّاَکْثَرَ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًا ط فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِھِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِکُمْ کَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقین بھی پہلی قوموں کی طرح مغضوب ہیں جس طرح ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوئے اسی طرح منافقین کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوں گے۔ جس طرح ان پر دنیا میں اللہ کا غضب ہوا۔ منافقوں پر بھی اللہ کا غضب ہوگا۔
عربی زبان میں ” ک “ کا حرف تشبیہ اور مانند کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں منافقین کی مغضوب اور ملعون قوموں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو مال و اسباب، اولاد اور افرادی قوت کے لحاظ سے بڑے کشادہ ہاتھ اور طاقت ور تھے۔ لیکن جب ان پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسا تو ان کے مال واسباب اور اولاد انھیں کچھ فائدہ نہ دے سکے بلکہ وہ بھی ان کے ساتھ تباہی…
Read the full tafseer →اے منافقو ! تمہارا حال پہلوں جیسا ہے جو دنیا کے مزے لوٹ کر عذاب کا شکار بنے ‘ تم بھی بنو گے :
آیت 69: کَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْکُمْ قُوَّۃً وَّ اَکْثَرَاَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِھِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِکُمْ کَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ بِخَلَاقِھِمْ ۔ (تمہاری حالت ان لوگوں جیسی ہے جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں وہ طاقت کے اضافہ اور مال و اولاد کی کثرت میں تم سے بڑھ کر تھے پس انہوں نے اپنے حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا پس تم نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ حاصل کیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ حاصل کیا تھا) کاف…
Read the full tafseer →69۔” کالذین من قبلکم “ یعنی تم نے اللہ کے حکم سے پھرنے میں وہی کام کیا جو تم سے پہلوں نے کیا تو تم پر ان کی طرح لعنت کی گئی ۔ ” کانوا اشد منکم قوۃ “ یکڑ اور روکن میں ” و اکثر اموالا واولاد فاستمعتوا بخلاقھم “ یعنی ان کے شہوات کی پیروی کر کے اپنے دنیا کے حصہ کے ساتھ نفع اٹھا لیا اور اس کو آخرت کا بدلہ سمجھ کر راضی ہوگئے۔” فاستمعتم بخلاقکم “ اے کفار اور منافقین ” کما استمتع الذین من قبلکم بخلاقھم “ اور تم ان کا راستہ چلو ہو۔” وخضتم “ باطل میں اور اللہ پر جھوٹ بولنے میں اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے اور مؤمنین سے استہزاء کرنے میں۔ ” کالذی خاضوا “ یعنی جیسے وہ گھسے اور بعض نے کہا ہے کالذی یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
69۔ 70۔ اوپر کی آیتوں میں بہت دور سے آنحضرت کے وقت کے جن منافقوں کا ذکر آرہا ہے اب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے پہلے لوگوں کا حال ان منافقوں کو یاد دلایا اول تو مبہم طور پر یہ فرمایا کہ ان منافقوں کا حال رسول اور کلام الہی سے ٹھٹھا کرنے اور نافرمانی میں پہلے لوگوں کا سا ہے اور باوجود اس کے کہ پہلے لوگ جسمانی قول اور درازی عمر اور کثرت مال واولاد میں ان سے بڑھ کر تھے لیکن سوا چند روزہ شرارت کرلینے کے نہ دنیا میں ان کو کچھ ثمرہ ملا کس واسطے کہ اللہ کے رسول آخر کو غالب رہے اور رسولوں کے مخالف لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہو کر پامال اور ہلاکت ہوگئے اور عقبیٰ میں جو کچھ ایسے لوگوں کا انجام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68
(آیت) ” منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں۔ “ کیونکہ نفاق ان میں قدر مشترک ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے باہم دوست ہیں۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان موالات کا رشتہ منقطع ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کا عمومی وصف بیان فرمایا جس سے ان کا چھوٹا اور بڑا کوئی بھی باہر نہیں۔ (یامرون بالمنکر) ” وہ بری بات کا حکم دیتے ہیں “ اور وہ ہے کفر، فسق اور معصیت (وینھون عن المعروف) ” اور معروف سے روکتے ہیں “ معروف سے مراد ایمان، اخلاق فاضلہ، اعمال صالحہ اور آداب حسنہ ہیں۔ (ویقبضون ایدیھم) ” اور بند رکھتے ہیں اپنے ہاتھوں کو “ صدقہ اور بھلائی کے راستوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
قول باری ہے المنافقوں المنافقات بعضھم من بعض منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کی نسبت بعض کی طرف اس بنا پر کی ہے کہ نفاق پر ان سب کا اجتما ع اور ایکا ہے۔ اس لیے نفاق کا رویہ اختیار کرنے ، بھلائی سے روکنے اور برائی کا حکم دینے میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کرنے کی بنا پر یہ سب ہم رنگ اور ہم شکل ہیں ۔ جس طرح منجملہ مشابہت کی بناء پر ایک چیز کے بعض حصے کو ایک چیز کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے۔
قول باری ہے ویقبضون ایدیھم اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں ۔ حسن اور مجاہد سے مروی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روکے رکھتے ہیں ۔ قتادہ کا…
Read the full tafseer →142 ایمان کے بغیر دنیاوی مال و متاع کی کوئی حیثیت نہیں : سو ان سے فرمایا گیا کہ تم بھی انہی لوگوں کی طرح ہو جو گزر چکے ہیں تم سے پہلے۔ سو تم سے پہلے کی منکر قومیں مال و اولاد وغیرہ میں تم سے کہیں بڑھ کر تھیں ۔ پس یہ چیزیں نہ تو متاع فخر و غرورہوسکتی ہیں اور نہ ہی دلیل حق و صداقت۔ اور نہ ہی یہ کسی کو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بچا سکتی ہیں۔ سو محض ان کی بناء پر حق سے منہ موڑنا پرلے درجے کی حماقت اور بڑا ہی ہولناک خسارہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِِ-ِِ پس اصل چیز دین و ایمان کی دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے اور جس کے نتیجے میں مومن کے لیے ہر حالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
منافقوں کی دل لگی اور بہانے
تشریح : یہ منافقین جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے مقبول ترین پیغمبر ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حالات اور واقعات سے باخبر کردیتا ہے۔ پھر بھی اپنی منافقت، بدعہدی اور جھوٹ سے باز نہ آتے تھے۔ اور ہر وقت کسی نہ کسی طرح سازشوں میں لگے رہتے تھے۔ اللہ واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ تم باز آجاؤ تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتے سب کچھ تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آجائے گا۔ پھر نوید سنائی گئی کہ تم میں سے کچھ ایسے کم گناہ گار ہیں ان کو تو شاید اللہ معاف فرما دے مگر جو حد سے گزر چکے ہیں وہ ہرگز سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ پھر ان تمام منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ عورتیں اور مرد سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–72
آیات 67 تا 72
اسرار و معارف
انسان مزاجاجل کر رہنے والا ہے اور مدنی الطبع ہے مگر اس میل کا سب سے مضبوط سبب بھی سوچ اور مزاج کی یک رنگی ہے لہٰذا منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اس لئے کہ سب برائی پھیلا تے ہیں اور نیکی کے کاموں کو فضول شمار کرکے ان سے روکتے ہیں اور گویا جہاد اور بقائے دین یا غلبہ اسلام کے لئے تو ان لوگوں نے اپنے ہاتھ کس کر باندھ لئے ہیں اور ان کے دل میں ذرہ برابر اللہ کی یاد نہیں ۔ یہ لوگ اللہ کو بھول ہی چکے ہیں جس کے نتیجے میں اللہ کے ہاں بھی ان کا حال یہ ہے جیسے انھیں بالکل بھلادیا گیا ہو۔ اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ نافرمان ہیں اور بدکر داری کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 1 یا تمہارے کر توت بھی ان لوگوں جیسے ہیں۔ اعمال کے ضائع ہونے اور آخرت میں خائب و خاسر ہونے میں ان سے تشبیہ دی گئی ہے ( کبیر)6 یعنی جیسے انہوں نے اپنے انبیا ( علیہ السلام) اور دن کا مذاق اڑا رہے ہو۔
Read the full tafseer →(9:69) کالذین من قبلکم۔ میں ک محل رفع میں ہے بمعنی تم بھی اپنے سے پہلے آدمیوں کی طرح ہو۔ یا ک محل نصب میں ہے بمعنی تم نے بھی وہی کام کیا جو تم سے پہلوں نے کیا تھا۔ ای انتم کالذین من قبلکم۔ تم بھی اپنے سے پہلوں کی طرح ہو۔
کانوا اشد منکم۔ اشد شدۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ کانوا کے عمل سے منسوب ہے (اسی وجہ سے اکثر منصوب ہے) تم سے زیادہ طاقے ور تھے اور امل و اولاد کی کثرت میں بھی تم سے بڑھ کر تھے۔
فاستمتعوا۔ انہوں نے فائدہ اٹھایا۔ استمتاع (استفعال) سے۔ مال و متاع سے فائدہ اٹھانا۔ کام میں لانا۔ برتنا۔ متع مادہ
خلاقہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا حصہ۔
فاستمتعتم بخلاقکم کما استمتع الذین من قبلکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 70
یامرون (وہ حکم دیتے ہیں، سکھاتے ہیں) المنکر (بری بات) ینھون (وہ روکتے ہیں) المعروف (نیکیوں سے) نیکیاں یقضون (وہ روکتے ہیں) ایدیھم اپنے ہاتھوں کو نسو اللہ (انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ) نسیھم (اس نے ان کو بھلا دیا) عذاب مقیم (ہمیشہ کا عذاب) اشد (زیادہ شدید) استمتعوا (انہوں نے فائدہ حاصل کیا) استمتعتم (تم نے فائدہ اٹھا لیا) خلاق (حصہ) خصتم (تم گھسے) کالذی (جیسا کہ وہ) الم یات (کیا نہیں آئی) نبا (خبر، اطلاع) الموتفکت (الٹی ہوئی بستیاں)
تشریح : آیت نمبر 67 تا 70
منافقین کی تمام بری حرکات کا مسلسل ذکر کیا جا رہا ہے آیت نمبر 67 سے آیت نمبر 72 تک اس بات کو تفصیل سے مقابلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
پچھلی نافرمان قوم کی حالت جتلاکر ہدایت : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے پہلے لوگوں کا حال ان منافقوں کو یاد دلایا۔ اول تو مبہم طور پر یہ فرمایا کہ ان منافقوں کا حال رسول اور کلام الہی سے ٹھٹھا کرنے اور نافرمانی میں پہلے لوگوں کا سا ہے، اور باوجود اس کے کہ پہلے لوگ جسمانی قوت اور درازی عمر اور کثرت مال و اولاد میں ان سے بڑھ کر تھے لیکن سوا چند روزہ شرارت کرلینے کے دنیا میں ان کو کچھ ثمرہ نہ ملا اور اللہ کے رسول آخر کو غالب رہے، اور رسولوں کے مخالف لوگ عذاب الہی میں گرفتار ہوکر پامال اور ہلاک ہوگئے۔ اور عقبیٰ میں جو کچھ ایسے لوگوں انجام ہوگا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ علاوہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
[43] اصل الفاظ ہیں (بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ 67) 9 ۔ التوبہ :67) جن کا لفظی ترجمہ ہے کہ بعض ان کے بعض میں سے ہیں۔ یعنی سب کا ایک ہی حال ہے۔
Read the full tafseer →نفاق کا انجام تباہی ہے ۔ :
(ف 1) ان آیات میں منافقین کو بتایا ہے کہ نفاق کے بادل مطلع حق وصادق پر زیادہ دیر تک چھائے نہیں رہیں گے ، جب آفتاب پوری حرارت سے چمکے کگا تو یہ بادل چھٹ جائیں گے ، ان سے پہلے بھی بدباطن لوگوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت کی ہے مگر نتیجہ کیا ہوا ، کہ ان کا تمام غرور مٹ گیا ، مال و دولت کی فراوانی اور اعوان وانصار کی کثرت انہیں عذاب الہی سے نہ بچا سکی اسی طرح تمہارا حشر ہونے والا ہے ۔
حل لغات :
المؤتفکت : الٹی ہوئی بستیاں ، مادہ افک ۔ بمعنی تغیر وتحول اور لوٹنے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →69 اے منافقو ! تمہاری حالت بھی انہی لوگوں کی طرح ہے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں کہ وہ تم سے بہت زور آور اور مال و اولاد میں تم سے کہیں زیادہ تھے پھر وہ اپنے دنیوی حصے کا خوب فائدہ اٹھاگئے سو تم نے بھی اپنے دنیوی حصے سے اسی طرح فائدہ اٹھایا جیسا کہ تم سے پہلوں نے اپنے دنیوی حصے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور تم بھی بری باتوں میں اسی طرح گھسے جس طرح بری باتوں میں وہ پہلے لوگ گھسے تھے ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں نیست و نابود اور ضائع ہوگئے اور وہی لوگ بڑے نقصان اور ٹوٹے میں ہیں۔
خلاصہ ! یہ ہے کہ تم سے پہلے لوگ طاقت وقوت میں اور مال و اولاد کی کثرت میں تم سے زیادہ تھے پھر دنیوی عیش سے جو…
Read the full tafseer →ف 1۔ کیونکہ دنیا میں ان اعمال پر بشارت ثواب نہیں اور آخرت میں ثواب نہیں۔
Read the full tafseer →منافقوں سے خطاب کہ تمہارا یہ حال کوئی نئی بات نہیں تمہارے پیشوا بھی ایسے ہی تھے :
93: منافقین کو اب براہ راست مخاطب فرما کر تنبیہہ کی جارہی ہے کہ جو مالو اولاد اور اقتدار تم کو دیا گیا اور جن چیزوں پر تم فیفتہ ہو کر یہ چلتر کر رہے ہو اس سے تم کو یہ غزہ نہ ہو کہ اللہ کے ہاں تم مقبول ہوگئے ہو۔ ہرگز نہیں بلکہ اللہ کے ہاں تم بلاشبہ مبغوض ہوا اس لئے کہ اللہ کی مقبولیت اور مبغوضیت کا یہ نشان مطلق نہیں۔ اس لئے کہ تم سے پہلے بھی جو قومیں گزری ہیں ان کو تم سے بھی زیادہ اللہ نے دے رکھا تھا لیکن کیا ہوا ؟ ان کے لئے اس دنیا سے جتنا فائدہ اٹھانا مقصود تھا جب انہوں نے اتنا فائدہ حاصل کرلیا تو ان کی صفیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
Let us now consider the statement: كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ (You are) like those before you' in verse 69. According to one exegetical explanation, this is addressed to hypocrites while according to the other explanation, the address is to Muslims. The addition of ` you are' in parenthesis points out in this direction. Thus, it means that ` you too are like people before you. They went for worldly enjoyments and forgot all about the life to come. The result was that they sank into all sorts of sins. So shall you be.
Explaining this verse, Sayyidna Abu Hurairah ؓ عنہ narrates a Hadith in…
Read the full tafseer →