At-Tawba 9:65

At-Tawba · from ayah 65

9:65

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ؕ— قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰیٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ ۟وَلَئِنۡ سَاَلۡتَهُمۡ لَيَـقُوۡلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوۡضُ وَنَلۡعَبُ‌ؕ قُلۡ اَبِاللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ وَرَسُوۡلِهٖ كُنۡتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُوۡنَ

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if you ask them, they will surely say, "We were only conversing and playing." Say, "Is it Allah and His verses and His Messenger that you were mocking?"

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:65

اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے ان سے کہو، "کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اُس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے ره گئے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم ان سے پوچھو تو یہ یقینا یوں کہیں گے کہ : ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہو کہ : کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کر رہے تھے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر آپ ان سے دریافت کریں تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ ہم تو صرف (سفر کاٹنے کے لئے) بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ فرما دیجئے: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ مذاق کر رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور ہی کہیں گے ہم تو صرف شغل کی بات کر رہے تھے اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے تھے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر آپ ان سے پوچھیں (کہ کیا باتیں کر رہے تھے ؟) تو کہہ دیں گے : ہم تو صرف مذاق اور دل لگی کر رہے تھے آپ ان سے کہئے : کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی، اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔ ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم ان سے پوچھو گے تو جواب دیں گے کہ ہم تو محض سخن گستری اور جی بہلانے کی باتیں کر رہے تھے۔ ان سے پوچھو کہ کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مسخری کر رہے تھے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو یہ فورا کہہ دیں گے کہ " ہم تو یوں ہی گپ شپ اور دل لگی کر رہے تھے " کہو کیا تمہیں اللہ، اس کی آیتوں، اور اس کے رسول ہی سے دل لگی کرنا تھی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر آپ ان سے سوال کیجیے تو کہہ دیں گے کہ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کررہے تھے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اچھا تو تم استہزا کررہے تھے اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں گے تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے آپ ﷺ کہیے کیا تم اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزاء کر رہے تھے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر تم ان سے اس بارے میں دریافت کرو تو ضرور کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور ہنسی مذاق کرتے تھے کہو کہ کیا تم اللہ اس کے رسول اور اللہ کی آیتوں سے ہنسی مذاق کرتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Should you question them what they were talking about, they would certainly say: "We were merely jesting and being playful." Tell them: "Was it Allah and His revelation and His Messenger that you were mocking?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And if you ask them, they will say, :We were just chatting and having fun. Say, :Is it of Allah and His verses and His Messenger that you were making fun?

— Muhammad Taqi Usmani

And if you ask them, they will say, :We were just chatting and having fun. Say, :Is it of Allah and His verses and His Messenger that you were making fun?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If you ask them (about this), they declare: "We were only talking idly and joking." Say: "Was it at Allah, and His Ayat and His Messenger that you were mocking"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if thou ask them (O Muhammad) they will say: We did but talk and jest. Say: Was it at Allah and His revelations and His messenger that ye did scoff?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if you ask them, they will surely say, "We were only conversing and playing." Say, "Is it Allah and His verses and His Messenger that you were mocking?"

— Saheeh International

If you question them about their manners, they say, "We were only arguing for the sake of amusement." Ask them, "Were you mocking God, His revelations, and His Messenger?"

— Muhammad Sarwar

And if you should question them, they would certainly say: We were only idly discoursing and sporting. Say: Was it at Allah and His communications and His Apostle that you mocked?

— Muhammad Habib Shakir

Shouldst thou question them, they will surely say:: we were only plunging about and playing. Say thou: was it Allah and His signs and His apostle that ye have been mocking?

— Abdul Majid Daryabadi

If thou dost question them, they declare (with emphasis): "We were only talking idly and in play." Say: "Was it at Allah, and His Signs, and His Messenger, that ye were mocking?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–66

مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے شکم دار شیخی باز اور بڑے فضول اور بزدل ہیں۔ حضور ﷺ کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ ہم تو یونہی وقت گزاری کے لئے ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا ہاں تمہارے ہنسی کے لئے اللہ رسول اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو اگر کسی کو ہم معاف کردیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی دیں گے۔ اس وقت حضور ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا معذرت کرتا ساتھ ساتھ جا رہا تھا آپ اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 73 غزوہ تبوک کے زمانہ میں منافقین اکثر اپنی مجلسوں میں بیٹھ کر نبی ﷺ اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور اپنی تضحیک سے ان لوگوں کی ہمتیں پست کرنے کی کوشش کرتے تھے جنہیں وہ نیک تینی کے ساتھ آمادہ جہاد پاتے۔ چناچہ روایات میں ان لوگوں کے بہت سے اقوال منقول ہوئے ہیں۔ مثلا ایک محفل میں چند منافق بیٹھے گپ لڑا رہے تھے۔ ایک نے کہا ”اجی کیا رومیوں کو بھی تم نے کچھ عربوں کیطرح سمجھ رکھا ہے ؟ کل دیکھ لینا کہہ سب سورما جو لڑنے تشریف لائے ہیں رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں گے۔“ دوسرا بولا ”مزا ہو جو اوپر سے سو سو کوڑے بھی لگانے کا حکم ہوجائے ؟“ ایک اور منافق نے حضور کو جنگ کی سرگرم تیاریاں کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–66

(آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ، اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حق تعالیٰ منافقین کی خفیہ سازشوں اور شرارتوں کو ظاہر فرما دیں گے، جس کا ایک واقعہ غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے جب کہ کچھ منافقین نے آپ کے قتل کی شازش کی تھی، حق تعالیٰ نے آپ کو اس پر بذریعہ جبرئیل مطلع کرکے اس راستہ سے ہٹا دیا جہاں یہ منافقین اس کام کے لئے جمع ہوئے تھے۔ (مظہری عن البغوی) اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام مع ان کی ولدیت اور پورے نشان پتے کے رسول اللہ ﷺ کو بتلا دیئے تھے، مگر رحمۃ للعالمین نے ان کو لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

" خوض " کا مفہوم : خوض کے اصل معنی تو دریا وغیرہ میں گھسنے کے ہیں لیکن بات کے تعلق سے یہ آئے تو اس کا مفہوم بال کی کھال ادھیڑنا بھی ہوسکتا ہے اور ایک بات سے دوسری اور دوسری سے تیسری بات نکالتے ہوئے کہیں سے کہیں جا نکلنا بھی ہوسکتا ہے۔ ہم ترجمہ سخن گستری کا لفظ اختیار کیا ہے۔ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ، ایک اور عذر گناہ بد تر از گناہ : یہ منافقین کے ایک اور عذر گناہ بد تر از گناہ کی مثال پیش کی گئی ہے کہ اگر تم ان سے اس استہزا کی بابت دریافت کروگے جو وہ اپنی مجالس میں اللہ اور رسول کا کرتے ہیں تو جھٹ جواب دیں گے معاذ اللہ استہزا ؟ ہم تو بس کچھ ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے ! قرآن نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

65۔ 1 منافقین آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے، مومنین کا استہزا کرتے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہنے سے گریز نہ کرتے جس کی اطلاع کسی نہ کسی طریقے سے بعض مسلمانوں کو اور پھر رسول اللہ ﷺ کو ہوجاتی۔ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا تو صاف مکر جاتے اور کہتے کہ ہم تو یوں ہی ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہنسی مذاق کے لئے کیا تمہارے سامنے اللہ اور اس کی آیات و رسول ہی رہ گیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر مقصد تمہارا آپس میں ہنسی مذاق کا ہوتا تو اس میں اللہ، اس کی آیات و رسول درمیان میں کیوں آتے، یہ یقینا تمہارے اس خبث اور نفاق کا اظہار ہے جو آیات الٰہی اور ہمارے پیغمبر کے خلاف تمہارے دلوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–65

57: منافقین میں اپنی نجی محفلوں میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، اور اگر کبھی کوئی پوچھتا تو کہتے کہ ہم تو یہ باتیں دل لگی میں کرتے، سچ مچ نہیں کرتے۔ آیات 64 تا 66 ان کے اس طرز عمل پر تبصرہ کر رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 64–66

یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔ ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 " تبوک " میں جاتے ہوئے بعض منافقین نے ازراہ تمسخر کہا۔ اس شخص (محمد ﷺ کو دیکھو کہ شام کے محلات اور روم کے شہروں کو فتح کرلینے کا خواب دیکھتا ہے۔ انہوں نے رومیوں کی جنگ کو عربوں کی باہمی جنگ پر قیاس کر رکھا ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ کل ہم سب رومیوں کے سامنے رسیوں میں بندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ یہ ہمارے قراء (صحابہ ؓ پیٹو، جھوٹے اور نامردے کیا روم کی باقاعدہ فوجوں سے جنگ کریں گے " وغیرذالک من الہفوات۔ اس قسم کے مقولے جو مسلمانوں کو روم سے مرعوب وہیبت زدہ کرنے اور شکستہ خاطر بنانے کے لیے کہہ رہے تھے، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں نقل ہوئے۔ آپ ﷺ نے بلا کر باز پرس کی تو کہنے لگے کہ حضرت ! ہم کہیں سچ مچ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 65 وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ط رسول اللہ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ منافقین جو آئے دن آپ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں ‘ اگر آپ ﷺ اس کے بارے میں ان سے باز پرس کریں تو فوراً کہیں گے کہ ہماری گفتگو سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی ‘ ہم تو ویسے ہی ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔ قُلْ اَبِاللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَہْزِءُ ‘ وْنَ تو کیا اب ع بازی بازی با ریش با با ہم بازی ! کے مصداق اللہ ‘ اس کی آیات اور اس کا رسول ﷺ بھی تمہارے استہزاء اور تمسخر کا تختۂ مشق بنیں گے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

78 منافقوں کی دل لگی کا موضوع ؟ غزوہ تبوک میں منافقین کی ایک جماعت بھی شامل تھی۔ جنہیں چار و ناچار ساتھ جانا پڑگیا تھا۔ مگر راستہ میں بھی انہیں شرارتیں ہی سوجھتی رہیں اور ایسی باتیں کرنے لگے جس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں۔ مثلاً ایک نے کہا : یہ مسلمان بھی عجیب غلط فہمی اور دیوانگی میں مبتلا ہیں جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ہم مکہ کے قریش پر غالب آگئے ہیں تو قیصر روم کا مقابلہ کرنے کے لیے چڑھ دوڑے ہیں حالانکہ روم وہ عظیم طاقت ہے جو کسریٰ کو بھی شکست دے چکا ہے اور اس وقت اس کا طوطی بول رہا ہے۔ دوسرا کہنے لگا میں تو سمجھتا ہوں کہ ہم سب جکڑ بند کر کے قید کردیئے جائیں گے اور شاید ان کے ہاتھوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

124 ۔ (اور کچھ واقعی برائی یا عیب چینی ہمیں تھوڑے ہی مقصود تھی) یہ عذر آج بھی کتنا چلا ہوا ہے۔ شعر وادب کے پردہ میں کون سی گستاخی اللہ اور اس کی شریعت اور اس کے فرشتوں اور حوروں کے ساتھ اٹھ رہی ہے۔ اور جواب ہر مرتبہ یہی ملتا ہے کہ یہ تو محض ادبی دلچسپیوں کے لئے تھا کہیں واقعی مذہب پر تعریض تھوڑے ہی مقصود تھی ! 125 ۔ یعنی بالفرض تمہاری غرض تھوڑی دیر کیلئے خوش طبعی ہی تھی جب بھی یہ تو سوچا ہوتا کہ استہزاء کن چیزوں سے کر رہے ہو ! اللہ سے ؟ اس کے احکام سے ؟ اس کے رسول سے ؟ یہ چیزیں محل استہزاء کسی صورت میں بھی ہوسکتی ہیں ؟ آج کے ادیب اور شاعر (ایک دو نہیں صدہا کی تعداد میں) ذرا ان پہلوؤں کو بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–66

شان نزول : لئن سَالتھم، تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور قتادہ سے اس آیت کا جو شان نزول مروی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی کبھی تو وہ آپ ﷺ کی شان میں خفیہ طور پر بدگوئی کرتے اور کبھی قرآن کے بارے میں نکتہ چینی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو فورا مکر جاتے اور قسمیں کھانے لگتے، اور کہہ دیتے کہ ہم تو آپس میں یوں ہی ہنسی مذاق کر کے ٹائم پاس کر رہے تھے، ان کے حال کو ظاہر کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ اِنْ یُّسعْفَ یاء کے ساتھ بصیغہ مجہول اور نون کے ساتھ بصیغہ معروف، اگر تم میں کی کوئی جماعت اس حرکت سے باز آجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل ابا اللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون۔ اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیتوں کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی کررہے تھے ؟ یعنی ان کے استہزاء پر ڈانٹنے اور حجت پوری کرنے کیلئے ان سے یہ بات کہو اور ان کی معذرتوں کا اعتبار نہ کرو۔ جس چیز کو انہوں نے موضوع استہزاء بنایا تھا (یعنی اللہ ‘ اللہ کی آیات ‘ اللہ کا رسول) اس پر حرف تقریر (یعنی ہمزہ استفہامی تقریری) کا داخل ہونا بتارہا ہے کہ گویا ان لوگوں کو اپنے استہزاء کرنے کا اعتراف ہے ‘ اسی وجہ سے بجائے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 65–66

(65۔ 66) اے محمد ﷺ اگر استہزاء کے بارے میں آپ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو ویسے ہی سواروں کی باتیں کررہے تھے اور آپس میں ہنسی مذاق کررہے تھے۔ اے نبی کریم ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم اس استہزاء پر عذر مت کرو تم تو خود اپنے آپ کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے اگر ہم جہیر بن حمیر کو معاف کردیں کیوں کہ اس نے خود ان کے ساتھ استہزاء نہیں کیا بلکہ ہنسا ہے تو ودیعۃ بن جزام اور جدی بن قیس کو ضرور سزا دیں گے کیوں کہ وہ تو پکے مشرک ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ولئن سالتہم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک میں ایک شخص نے ایک دن ایک مجلس میں کہا کہ میں نے ان مہمانوں جیسا اور نہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ : منافق آپس میں گپیں لگاتے ہوئے اللہ، اس کے رسول اور آیات الٰہی کا مذاق اڑاتے۔ رسول اللہ ﷺ کو کسی ذریعے سے یا وحی الٰہی سے اطلاع ہوتی اور آپ پوچھتے تو وہ کہتے ہم تو یوں ہی راستہ کاٹنے کے لیے شغل کی باتیں اور دل لگی کر رہے تھے۔ فرمایا ان سے کہیے کہ تمہارے آپس کے شغل اور دل لگی کا اللہ اور اس کے رسول اور اس کی آیات کے ساتھ مذاق سے کیا تعلق اور کیا دل لگی کے لیے تمہیں یہی ملے ہیں ؟ وہ لوگ بار بار معذرت کرتے، مگر رسول اللہ ﷺ یہی فرماتے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 65۔ مسئلہ نمبر : (1) یہ آیت غزوہ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی، علامہ طبری وغیرہ نے حضرت قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے : اس اثنا میں کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ غزوہ تبوک کی طرف چل رہے تھے آپ کے آگے منافقوں کی ایک جماعت بھی چل رہی تھی تو انہوں نے کہا : تم دیکھو، یہ شام کے محلات فتح کرتا ہے اور بنی الاصفر کے قلعے لیتا ہے ! تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس پر مطلع کردیا جو ان کے دلوں میں تھا اور جس کے بارے وہ بات کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اس جماعت کو میرے لیے روک لو “ پھر آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا :” تم نے اس طرح کہا ہے “۔ تو انہوں نے قسمیں اٹھا دیں : ہم تو صرف دل لگی اور خوش…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–66

منافقانہ حرکت اور جھوٹ : 1:۔ ابو نعیم نے حلیہ میں شریح بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابو درداء ؓ سے کہا اے قراء کی جماعت کیا بات ہے ؟ تم ہم سے زیادہ بزدل ہو اور زیادہ بخیل ہو جب تم سے سوال کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے لقمے بناتے ہو جب تم کھاتے ہو ابو درداء ؓ نے اس سے اعراض کیا اور اس کو کچھ بھی جواب نہ دیا اور عمر بن خطاب ؓ کو اس کی خبر دے دی تو حضرت عمر ؓ اس آدمی کو پاس گئے جس نے یہ بات کہی تھی اس کو اس کے کپڑے سے پکڑا اور اس کا گلا گھونٹتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے اس آدمی نے کہا کہ ہم کو محض ہنسی اور خوش طبعی کررہے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی طرف وحی فرمائی (آیت) ” ولئن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَىِٕنْ [ اور بیشک اگر ] سَاَلْتَهُمْ [ آپ پوچھیں ان سے ] لَيَقُوْلُنَّ [ تو یہ لازما کہیں گے ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں ] كُنَّا نَخُوْضُ [ ہم تو بس گپ شپ کرتے تھے ] وَنَلْعَبُ ۭ [ اور کھیلتے تھے ] قُلْ [ آپ کہیے ] اَ [ کیا ] بِاللّٰهِ [ اللہ سے ] وَاٰيٰتِهٖ [ اور اسکی آیات ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اسکے رسول سے ] كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وْنَ [ تم لوگ استھزا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 64–66

منافقین کی مزید شرارتوں کا تذکرہ منافقوں کی شرارتیں جاری رہتی تھیں۔ ان میں سے جو لوگ غزوۂ تبوک کے لیے جانے والے مسلمانوں کے ساتھ سفر میں چلے گئے تھے (جن میں اہل نفاق کے لیے جاسوسی کرنے والے بھی تھے) انہوں نے طرح طرح سے تکلیفیں دیں اور برے منصوبے بنائے۔ منافقین کی عادت تھی کہ آپس میں مل کر اسلام اور داعی اسلام ﷺ اور اہل اسلام کے خلاف باتیں کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی انہیں یہ ڈر بھی لگا رہتا تھا کہ قرآن میں کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ہمارے دلوں کی باتوں کو کھول دے۔ ان کی نیتوں، باتوں اور ارادوں کو سورة توبہ میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ اس سورت کا ایک نام سورة الفاضحہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–66

ذکر نوع دیگر از حرکات شنیعۂ منافقین قال اللہ تعالی۔ ومنھم الذین یؤذون النبی۔۔۔ الی۔۔۔ بانھم کانوا مجرمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی منافقین کی جہالتوں اور خباثتوں کا اور ان کی حرکات شنیعہ کا ذکر ہے جو دور سے چلا آرہا ہے۔ درمیان میں تبعاً صدقات کا ذکر آگیا تھا۔ اب پھر منافقین کی قبائح اور فضائح کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی خباثتوں کو بیان کرتے ہیں حق جل شانہ نے ان آیات میں منافقین کی جن قباحتوں کا ذکر کیا ان میں سے اول تو یہ ہے کہ وہ ادب سے کورے ہیں۔ آں حضرت ﷺ کی شان میں خلاف ادب اور تحقیر آمیز الفاظ زبان سے نکالتے ہیں مثلا یہ کہ آپ تو کانوں کے کچے ہیں جو سنتے ہیں اس کا یقین کرلیتے ہیں۔ دوم یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

62:“ وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ الخ ” اس میں ان منافقین کا ذکر ہے جو ازروئے نفاق غزوہ تبوک میں شریک ہوئے مگر دوران سفر میں بھی شرارت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا راستے میں کچھ منافقینحضور ﷺ کے آگے آگے جا رہے تھے آپس میں کہہ رہے تھے کہ یہ شخص (حضور (علیہ السلام) کی طرف اشارہ تھا) ملک شام کے محلات اور روم کے قلعے فتح کرنیکے خواب دیکھ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی سے اس گفتگو کی آپ کو اطلاع دیدی آپ نے ان کو روک کر فرمایا تم یہ باتیں کر رہے تھے تو صاف مکر گئے اور کہنے لگے نہیں یا نبی اللہ ہم تو محض دل لگی کی خاطر ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے۔ ان کا یہ جواب صریح جھوٹ تھا اس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–66

ربطِ آیات : پہلے جہاد کی فرضیت اور اس کی ترغیب کا بیان تھا۔ پھر مانعاتِ جہاد کا ذکر اور جہاد و قتال سے متعلق بہت ضروری احکام صادر ہوئے پھر منافقین کی بدکرداری کا ذکر ہوا۔ ان کا پیچھے رہ جانا ، حیلے بہانے بنانا ، طعن وتشنیع کرنا ، خود غرضی اور مفاد پرستی میں مبتلا ہونا ، یہ سب اللہ نے بیان فرمایا مفاد پرستی ہی کے ضمن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ منافقین صدقات کے بارے میں اعتراض کرتے تھے ، اگر انہیں کچھ مل جاتا تو خوش ہوجاتے ورنہ اللہ کے رسول کی تقسیم پر اعتراض کرتے۔ اللہ نے ان کے ایسے اعتراجات کو جواب بھی دیا اور پھر زکوٰۃ وصدقات کے مصارف بھی بیان کیے کہ یہ مال فلاں فلاں مدات پر خرچ ہو سکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ۝ 0 ۭ قُلْ اَبِاللہِ وَاٰيٰتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ كُنْتُمْ تَسْتَہْزِءُوْنَ۝ 65 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–72

ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔ تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُط قُلْ اَبِاللّٰہِ وَاٰیٰـتِہٖ وَرَسُوْلِہٖ کُنْتُمْ تَسْتَھْزِئُ وْنَ (التوبۃ : 65) (اگر آپ ان سے پوچھیں تو جواب دیں گے کہ ہم تو صرف دل لگی اور خوش طبعی کررہے تھے۔ کہہ دیجیے ! کیا تم اللہ اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مسخری کررہے تھے ؟ ) ” نخوض “ خوض سے ہے جس کا اصل معنی تو ہے ” دریا میں اتر جانا “ یعنی پانی میں گھس جانا۔ لیکن جب اس کا تعلق گفتگو سے ہو تو پھر اس کا معنی ہوتا ہے بات سے بات نکالتے چلے جانا اور بات کا بتنگڑ بنادینا۔ معلوم ہوتا ہے منافقین اپنی نجی مجلسوں میں اللہ کی ذات، رسول اللہ ﷺ کی ذات اور قرآن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–66

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقوں کا اپنے دل ہی دل میں خوف زدہ رہنا۔ منافق دوغلا ہوتا ہے دو غلاشخص اخلاقی لحاظ سے اندر سے کھوکھلا اور ضمیر کا چور ہوتا ہے کیونکہ وہ مختلف لوگوں سے ایک ہی بات مختلف مفہوم اور مذموم مقاصد کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے اسے ہر وقت اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر لوگوں کو میری بات کی اصلیت کا پتہ چل گیا تو میں ہر طرف سے ذلیل اور لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوجاؤں گا۔ یہ خوف اسے ہر وقت بےچین رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقین کی یہی حالت تھی وہ ہر وقت ڈرے اور سہمے رہتے تھے کہ نہ معلوم اللہ کے رسول پر کب وحی نازل ہوجائے جس میں ہماری سازشوں کو طشت ازبام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

استہزاء پر استفسار اور خوش طبعی کا بہانہ کردیا : آیت 65: وَلَپنْ سَاَلْتَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ (اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو ضرور کہہ دیں گے ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کر رہے تھے) رسول اللہ ﷺ غزوئہ تبوک کی طرف تشریف لے جارہے تھے۔ منافقین کی ایک جماعت آپ سے آگے آگے چل رہی تھی۔ وہ آپس میں کہنے لگے اس شخص کو دیکھو شام کے قلعے اور محلات فتح کرنا چاہتا ہے یہ بعید، بہت بعید ہے کہ یہ امید پوری ہو۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو مطلع کردیا آپ نے فرمایا احبسوا علی الرکب ان سواروں کو روک کر میرے پاس لائو۔ جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا تم نے یہ، یہ بات کی ہے۔ اس پر کہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65 اس آیت کا نزول تین منافقین کے متعلق ہوا کلبی ، مقاتل اور قتادہ رحمہم اللہ نے آیت کا سبب نزول یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے سفر میں تھے تو آپ کے آگے تین منافق چل رہے تھے ، دو قرآن اور رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے اور تیسرا ہنس رہا تھا، بعض نے کہا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ محمد ﷺ کا خیال ہے کہ وہ روم پر غالب آجائیں گے اور انکے شہر فتح کرلیں گے ، کتنی عجیب بات ہے۔ اور بعض نے کہاوہ یہ کہتے جا رہے تھے کہ محمد ﷺ کا خیال ہے کہ ہمارے ان ساتھیوں کے بارے میں جو مدینہ میں ہیں قرآن نازل ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر اپنے نبی ﷺ کو مطلع کردیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا تم اپنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–66

65۔ 66۔ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی کبھی تو وہ آنحضرت کی شان میں خفیہ طور پر بدگوئی کرتے رہے اور کبھی قرآن شریف کی شان میں کچھ کچھ کہتے تھے اور جب ان سے دریافت کیا جاتا تو صاف مکر جاتے اور کہتے تھے کہ ہم تو اور آپس کی باتیں کر رہے تھے ان کا حال ظاہر ہوجانے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں تفسیر ابن مردو یہ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ کی جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافق لوگ تبوک کے سفر میں لشکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–65

آیت 61 (1) لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج وعمرہ پر زکوۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی (رح) نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، اور اء الغلیل 382/3) علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے، راقم کی کتاب ” زکوۃ، عشر اور صدقتہ الفطر “ ص 301، 401 مطبوعہ دار السلام (ص۔ ی) یعنی یہ منافقین (الذین یوذون النبی) ” جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔ “ یعنی جو روی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–66

کلمہ کفر مذاق میں بھی نہیں کہنا چاہیے قول باری ہے ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب اگر تم ان سے پوچھیو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے تا قول باری ان نعف عن طائفۃ منکم نعذب طائفۃ بانھم کانوا مجرمین اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے ۔ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ اکراہ اور جبر کی صورت کے سوا کلمہ کفر کے اظہار کے لحاظ سے دل لگی کے طور پر اور سنجیدگی کے ساتھ اس کلمے کو زبان پر لانے والوں کا حکم یکساں ہے۔ اس لیے کہ ان منافقین نے یہ کہا تھا کہ انہوں نے ہنسی مذاق اور دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

133 منافقوں کے نفاق کا ایک اور مظہر : کہ یہ لوگ اللہ، اس کے رسول اور اس کی آیتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چناچہ سفر تبوک کے دوران منافقین کی ایک جماعت نے حضرت رسالت مآب۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین حق کے بارے میں اسی طرح کی کچھ بےہودہ اور گستاخانہ باتیں کیں۔ پھر اطلاع ملنے پر جب آنحضرت ﷺ نے ان سے اس بارے دریافت فرمایا تو انہوں نے جواب میں کہا نہیں جناب ! ہم تو یونہی سفر کاٹنے کے لئے دل لگی اور گپ شپ کر رہے تھے اور بس۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس سے ان لوگوں کی منافقت کے اس قصے کو آشکارا کرکے ان کی ہمیشہ کی رسوائی کا سامان کردیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 64–70

منافقوں کی دل لگی اور بہانے تشریح : یہ منافقین جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے مقبول ترین پیغمبر ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حالات اور واقعات سے باخبر کردیتا ہے۔ پھر بھی اپنی منافقت، بدعہدی اور جھوٹ سے باز نہ آتے تھے۔ اور ہر وقت کسی نہ کسی طرح سازشوں میں لگے رہتے تھے۔ اللہ واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ تم باز آجاؤ تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتے سب کچھ تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آجائے گا۔ پھر نوید سنائی گئی کہ تم میں سے کچھ ایسے کم گناہ گار ہیں ان کو تو شاید اللہ معاف فرما دے مگر جو حد سے گزر چکے ہیں وہ ہرگز سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ پھر ان تمام منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ عورتیں اور مرد سب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–66

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف رب جلیل نے صدقات واجبہ کی تقسیم فرما کر واضح فرمادیا کہ یہ محض اندازہ سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اللہ کریم نے کچھ خاص درجہ کے مسلمانوں کا حق مقرر فرمادیا ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ زکوۃ کی تقسیم رب جلیل نے کسی نبی کے اختیار میں بھی نہیں دی بلکہ خود فرمائی ہے علاوہ ازیں صدقہ نافلہ مومن دکافرپہ عام ہے اور اس کی تقسیم پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی صوابدید پر ہے حتی کہ صدقہ فطر تک کافر کو بھی دیا جاسکتا ہے کہ اسلام انسانیت کی بہتری کا علمبردار ہے اور عالم اسباب میں مال کی تقسیم ہی انسانیت کی آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے کچھ لوگوں کو مال زیادہ عطا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 تبوک جاتے ہوئے کچھ منافقین بھی مسلمانوں کے ساتھ ہو لئے تھے لیکن راستے میں موقع بےموقعہ اللہ و رسول پر پھبتیاں کستے رہتے تھے، ایک موقع پر ان میں سے یک شخص کہنے لگا، اس شخص کہنے لگا۔ اس شخص کو دیکھو ( یعنی نبی ﷺ شام کے رومی قلعے فتح کرنا چاہتا ہے۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ دوسرا بو لا کیا رومیوں کو بھی اس نے عربوں کی طرح کمزور سمجھ رکھا ہے۔ ؟ نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قسم کی باتوں سے مطلع فرمادیا ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے انہیں بلا بھیجا اور ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم نے اس قسم کی باتیں کی ہیں َ ؟ وہ کہنے لگے۔ ہم تو یو نہی راستہ کا ٹنے کے کے گپ بازی اور اسنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے، امام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:65) نحوض۔ مضارع جمع متکلم خوض مصدر۔ (باب نصر) ہم تو شغلا کہہ رہے تھے۔ خوض کے اصل معنی ہیں گھسنا۔ قرآن میں اس کا استعمال قابل ذم کام کو مشغلہ بنانے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے ہے غور وخوض۔ یعنی کسی معاملہ کی تہ تک پہنچنے اور اس کے اندر گھس کر حقیقت معلوم کرنا۔ نلعب۔ مضارع جمع متکلم لعب مصدر۔ (باب سمع) ہم خوش طبعی اور دل لگی کر رہے تھے۔ کنتم تستھزؤن۔ تم ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–66

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 66 یحذر (ڈرتا ہے) تنبی (مطلع کر دے) استھزء وا (مذاق اڑا لو) مخرج (نکالنے والا) نخوض (ہم دل لگی کر رہے ہیں) نلعب (ہم کھیل کر رہے ہیں) لاتعتذروا (تم معذرت نہ کرو) ان نعف (اگر ہم معاف کردیں) تشریح : آیت نمبر 64 تا 66 ان آیات میں مسلسل منافقین کی بدکرداریوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اسی میں یہ بھی تھا کہ منافین اپنی نجی محفلوں میں بیٹھ کر اللہ کے رسول ﷺ اور اہل ایمان لوگوں کا مذاق اڑانے، طعن وطنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے ۔ وہ اہل ایمان جو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہوتے ان کی ہر طرح ہمت شکنی کیا کرتے تھے۔ اگر کبھی یہ بات کوئی مومن سن لیتا اور پوچھتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–66

شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی جنگ تبوک میں آنحضرت ﷺ جا رہے تھے اور منافقین کا ایک رسالہ آگے تھا۔ کہنے لگا :'' دیکھو تو سہی محمد ﷺ شام کے قلعے اور محل فتح کرنے جاتے ہیں یہ تو ضعیف اور ردی حالت ہے، اور یہ عالی خیالات اور بلند ارادے بھلا اس بےسروسامانی سے کامیابی کب آسکتی ہے '' اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم (ﷺ) کو اس سے مطلع کیا آپ نے ان سے پوچھا :'' تم نے ایسا برا کلمہ زبان سے نکالا '' انہوں نے جواب دیا :'' یا رسول اللہ آپ کا اور آپ کے اصحاب کا کچھ بھی ذکر نہ تھا ہم تو یونہی باتیں چیتیں ہنسی مذاق کرتے تھے تاکہ راستہ قطع ہوجائے اور تکان نہ معلوم ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[41] غزوہ تبوک کے زمانے میں منافق اپنی مجلسوں میں نبی ﷺ کا مذاق اڑایا کرتے، مثلاً کہتے کہ دیکھو یہ لوگ روم و شام کے قلعے فتح کرنے چلے ہیں، انہوں نے رومیوں کی جنگ کو عربوں کی باہمی جنگ پر قیاس کر رکھا ہے۔ کل دیکھ لینا یہ سب رومیوں کے سامنے رسیوں سے بندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ یہاں منافقوں کی اسی قسم کی بدگوئیوں کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–66

(ف 2) یعنی یہ سورة توبہ منافقین کے نفاق کو کو واشگاف کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے ، اسلئے اب انہیں خوف پیدا ہوگیا ہے اور کہتے ہیں ہم تو بہ سبیل مزاح یہ سب کچھ کہہ رہے تھے ، ورنہ ہمارے دل میں حضور ﷺ کی عزت ایسی ہی موجود ہے کہ جیسی مسلمانوں کے دل میں ، اللہ کے نزدیک یہ عذر صحیح نہیں کیونکہ دین کے باب میں استہزاء جائز نہیں ۔ حل لغات : نخوض ونلعب : خوض عام طور پر بری باتوں پر غور اور فکر کرنے کو کہتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

65 اور اگر آپ ان سے اس استہزاء پر باز پرس کریں اور ان سے جواب طلب کریں تو یہ کہہ دیں گے ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کررہے تھے آپ کہہ دیجئے کیا اللہ کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی کرتے تھے۔ یا تو کسی خفیہ مجلس کا واقعہ ہے یا تبوک کے سفر میں جو منافقوں نے رخنہ اندازی کی غرض سے سازش کی تھی اس کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 4۔ فقیر کے معنی ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ مسکین کے معنی ہیں جس کے پاس نصاب سے کم ہو۔ 5۔ اسلام اور قدرنصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ کا مالک و قابض نہ ہوناسب میں شرط ہے بجز عاملین ومحصلین زکوة کے جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں کہ ان کو باوجود غنی ہونے کے بھی اس زکوة میں سے بطور اجرت کے دیناجائز ہے باقی اصناف میں قید مذکور شرط ہے۔ 6۔ مولفة القلوب کو جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زکوة دی جاتی تھی گو وہ مسلمان نہ ہوں۔ مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو یا محض ان کے شروفتنہ سے بچنے کے لیے اور یا مسلمان ہوں مگر غریب نہ ہوں محض ان کو اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لیے صحابہ کے وقت میں اجماع ہوگیا ان کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر آپ ﷺ ان سے پوچھ لیں تو کہیں گے کہ ہم تو ایسے ہی مذاق کر رہے تھے : 89: ” نَخُوْضُ “ کے متعلق ہم قبل ازیں عرض کرچکے ہیں کہ یہ بات سے بات نکالتے اور بال کی کھال ادھیڑنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے یہ گویا ان کا عذر گناہ بد تراز گناہ ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھ لیں کہ تم ایسی باتیں کر رہے تھے ؟ تو جھٹ جواب دیں گے معاذ اللہ ! استہزاء استغفر اللہ ؟ ہم تو ایسے ہی ہنسی اور مذاق کی باتیں کر رہے تھے ! بس ان کا یہ کہنا تھا کہ قرآن نے ان کو یہیں سے پکڑ لیا کہ اچھا ! تم کو مذاق اور ٹھٹھہ کے لئے اللہ اور اس کا رسول ہی نظر آیا۔ یہی بات اس موقع پر ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی تیاری کے لئے ارشاد فرمایا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

Commentary The first verse begins with a profile of the hypocrites. One of the expressions used there: يَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ (and they withhold their hands) has been explained in Tafsir al-Qurtubi as abandonment of Jihad and non-compliance of obligatory rights and duties. Then, the sentence that follows: نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ literally means ` they forgot Allah, so He forgot them.' But, Allah Ta` ala is free of forgetfulness. So, the sense at this place is: ` those people had abandoned the commandments of Allah, as if they had forgotten it, therefore, Allah too abandoned their…

Read the full tafseer →