At-Tawba 9:66

At-Tawba · from ayah 66

9:66

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ ؕ— اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآىِٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۟۠لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ كَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ‌ ؕ اِنۡ نَّـعۡفُ عَنۡ طَآئِفَةٍ مِّنۡكُمۡ نُـعَذِّبۡ طَآئِفَةً ۢ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا مُجۡرِمِيۡنَ

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Make no excuse; you have disbelieved after your belief. If We pardon one faction of you - We will punish another faction because they were criminals.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:66

اب عذرات نہ تراشو، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے، اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہوگئے، اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کر لیں تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کا اظہار کرنے کے بعد کفر کے مرتکب ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معافی دے بھی دیں تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے۔ کیونکہ وہ مجرم لوگ ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بہانے نہ بنا ؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اب) تم معذرت مت کرو، بیشک تم اپنے ایمان (کے اظہار) کے بعد کافر ہو گئے ہو، اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں (تب بھی) دوسرے گروہ کو عذاب دیں گے اس وجہ سے کہ وہ مجرم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بہانے مت بناؤ، بیشک تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کردیں تو ایک گروہ کو عذاب دیں گے، اس وجہ سے کہ یقینا وہ مجرم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بہانے نہ بناؤ۔ تم فی الواقع ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ اگر ہم تمہارے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیں تو دوسرے کو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ (فی الواقع) مجرم ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

باتیں نہ بناؤ، تم نے ایمان کے بعد کفر کیا ہے۔ اگر ہم تمہاری کسی جماعت سے درگزر بھی کرلیں تو دوسری کسی جماعت کو ضرور سزا دیں گے بوجہ اس کے کہ وہ مجرم ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بہانے مت بناؤ، بیشک تم لوگ (اے منافقو !) کفر کا ارتکاب کرچکے ہو اپنے ایمان کے بعد اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کردیں تو ہم ضرور عذاب دے کر رہیں گے دوسرے گروہ کو، کہ وہ قطعی مجرم ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

(اب) بہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے اپنے اظہار ایمان کے بعد۔ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کردیں تو ایک گروہ کو تو سزا دیں ہی گے اس لئے کہ وہ مجرم رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب بہانے مت بناؤ تم کفر کرچکے ہو اپنے ایمان کے بعد اگر ہم تمہاری ایک جماعت سے درگزر بھی کرلیں گے تو کسی دوسری جماعت کو عذاب بھی دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بہانے مت بنائو تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیونکہ وہ گناہ کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Now, make no excuses. The truth is, you have fallen into unbelief after having believed. Even if We were to forgive some of you, We will surely chastise others because they are guilty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Make no excuses. You became disbelievers (by mocking at Allah and His Messenger) after you had professed Faith. If We forgive some of you (who repent and believe), We shall punish others (who carry on their hypocrisy), because they were guilty.

— Muhammad Taqi Usmani

Make no excuses. You became disbelievers (by mocking at Allah and His Messenger) after you had professed Faith. If We forgive some of you (who repent and believe), We shall punish others (who carry on their hypocrisy), because they were guilty.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Make no excuse; you disbelieved after you had believed. If We pardon some of you, We will punish others among you because they were criminals.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Make no excuse. Ye have disbelieved after your (confession of) belief. If We forgive a party of you, a party of you We shall punish because they have been guilty.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Make no excuse; you have disbelieved after your belief. If We pardon one faction of you - We will punish another faction because they were criminals.

— Saheeh International

Make no excuses. You have certainly turned back to disbelief. If We forgive one group of you, We must punish the other for they are guilty.

— Muhammad Sarwar

Do not make excuses; you have denied indeed after you had believed; if We pardon a party of you, We will chastise (another) party because they are guilty.

— Muhammad Habib Shakir

Make no excuse. Of a surety ye are disbelieving after declaring your faith. If, party of you We shall Opardon, anot her party We shall torment for they have remained sinners.

— Abdul Majid Daryabadi

Make ye no excuses: ye have rejected Faith after ye had accepted it. If We pardon some of you, We will punish others amongst you, for that they are in sin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–66

مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے شکم دار شیخی باز اور بڑے فضول اور بزدل ہیں۔ حضور ﷺ کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ ہم تو یونہی وقت گزاری کے لئے ہنس رہے تھے آپ نے فرمایا ہاں تمہارے ہنسی کے لئے اللہ رسول اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو اگر کسی کو ہم معاف کردیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی دیں گے۔ اس وقت حضور ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا معذرت کرتا ساتھ ساتھ جا رہا تھا آپ اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 74 یعنی وہ کم عقل مسخرے تو معاف بھی کیے جاسکتے ہیں جو صرف اس لیے ایسی باتیں کرتے اور ان میں دلچسپی لیتے ہیں کہ ان کے نزدیک دنیا میں کوئی چیز سنجیدہ ہے ہی نہیں۔ لیکن جن لوگوں نے جان بوجھ کر یہ باتیں اس لیے کی ہیں کہ وہ رسول اور اس کے لائے ہوئے دین کو اپنے دعوائے ایمان کے باوجود ایک مضحکہ سمجھتے ہیں، اور جن کے اس تمسخر کا اصل مدعا یہ ہے کہ اہل ایمان کی ہمتیں پست ہوں اور وہ پوری قوت کے ساتھ جہاد کی تیاری نہ کرسکیں، ان کو تو ہرگز معاف نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ مسخرے نہیں بلکہ مجرم ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–66

(آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ، اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حق تعالیٰ منافقین کی خفیہ سازشوں اور شرارتوں کو ظاہر فرما دیں گے، جس کا ایک واقعہ غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے جب کہ کچھ منافقین نے آپ کے قتل کی شازش کی تھی، حق تعالیٰ نے آپ کو اس پر بذریعہ جبرئیل مطلع کرکے اس راستہ سے ہٹا دیا جہاں یہ منافقین اس کام کے لئے جمع ہوئے تھے۔ (مظہری عن البغوی) اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام مع ان کی ولدیت اور پورے نشان پتے کے رسول اللہ ﷺ کو بتلا دیئے تھے، مگر رحمۃ للعالمین نے ان کو لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات الٰہی کا استہزاء کفر ہے : لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ یعنی باتیں نہ بناؤ، تمہارا یہ عذر گناہ تمہارے گناہ سے بھی بدتر ہے۔ اگر کوئی گروہ اللہ اور اس کی آیات کو ہنسی دل لگی کا کھلونا بنا لے تو اس کے مجرم ہونے کے لیے اور کیا چاہے ؟ یہ تو صریحاً ایمان کے اظہار کے بعد کفر کا اعلان ہے۔ تم نے ایمان کا دعوی کیا تھا تو اس کا حق تو یہ تھا کہ اپنے عمل سے اس کا ثبوت فراہم کرتے لیکن اپنے عمل سے تم نے ثبوت فراہم کیا ہے کفر کا اس لیے کہ اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا استہزا کفر ہے۔ انعام آیت 70 کے تحت اس مسئلہ پر گفتگو ہوچکی ہے۔ منافقین کی بعض خطرناک ٹولیاں : اِنْ نَّعْفُ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 یعنی تم جو ایمان ظاہر کرتے رہے ہو۔ اللہ اور رسول کے استہزا کے بعد، اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ گئی۔ اول تو وہ بھی نفاق پر ہی مبنی تھا۔ تاہم اس کی بدولت ظاہری طور پر مسلمانوں میں تمہارا شمار ہوتا تھا اب اس کی بھی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ 66۔ 2 اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جنہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور انہوں نے توبہ کرلی اور مخلص مسلمان بن گئے۔ 66۔ 3 یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوئی اور کفر اور نفاق پر اڑے رہے اس لئے اس عذاب کی علت بھی بیان کردی گئی ہے کہ وہ مجرم تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

58: یعنی منافقوں میں سے جو لوگ نفاق سے توبہ کرلیں گے انہیں معاف کردیا جائے گا، اور جو توبہ نہیں کریں گے انہیں ضرور سزا ملے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 64–66

یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔ ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جھوٹے عذر تراشنے اور حیلے حوالوں سے کچھ فائدہ نہیں جن کو نفاق و استہزاء کی سزا ملنی ہے مل کر رہے گی۔ ہاں جو اب بھی صدق دل سے توبہ کر کے اپنے جرائم سے باز آجائیں گے، انہیں خدا معاف کر دے گا، یا جو پہلے ہی سے باوجود کفر و نفاق کے اس طرح کی فتنہ انگیزی اور استہزاء سے علیحدہ رہے ہیں، انہیں استہزاء و تمسخر کی سزا یہاں نہ ملے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 لاَ تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ ط اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآءِفَۃٍ مِّنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآءِفَۃًم بِاَنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ یعنی اب وہ وقت آرہا ہے کہ تمہیں تمہارے ان کرتوتوں کے سبب سزائیں بھی ملیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

79 اس گروہ سے وہ منافق مراد ہیں جنہوں نے اس طرح کی گفتگو میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اور وہ گروہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے جو بعد میں فی الواقع نفاق کی راہ کو چھوڑ کر حقیقی معنوں میں مسلمان بن گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

126 ۔ (اس لئے اب بات بنانے کی کوششیں سب بےکار ہیں) (آیت) ” بعد ایمانکم “۔ بعد اظہار ایمانکم کے معنی میں ہے ورنہ اصل ایمان ظاہر ہے کہ منافقوں میں سرے سے تھا ہی نہیں۔ اے بعد اظھارکم الایمان (کشاف) اے کفرتم بعد ایمانکم الذی اظھرتموہ (کبیر عن الحسن) دین کے ساتھ استہزاء فقہاء نے تصریح کردی ہے اگر قصدا ہے تو خواہ بداعتقادی سے نہ ہو جب بھی کفر ہے (آیت) ” قد کفرتم “۔ یعنی اس استہزاء کے بعد تمہارا کفر ظاہر ہی ہوگیا ورنہ موجود تو وہ پہلے ہی سے تھا۔ اے قد اظھرتم کفرکم باستھزاء کم (مدارک) قال الحسن المراد کفرتم بعد ایمانکم الذی اظھرتموہ وقال اخرون ظھرکفرکم للمومنین بعد ان کنتم عندھم مسلمین (کبیر) (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–66

شان نزول : لئن سَالتھم، تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور قتادہ سے اس آیت کا جو شان نزول مروی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی کبھی تو وہ آپ ﷺ کی شان میں خفیہ طور پر بدگوئی کرتے اور کبھی قرآن کے بارے میں نکتہ چینی کرتے اور جب ان سے کہا جاتا تو فورا مکر جاتے اور قسمیں کھانے لگتے، اور کہہ دیتے کہ ہم تو آپس میں یوں ہی ہنسی مذاق کر کے ٹائم پاس کر رہے تھے، ان کے حال کو ظاہر کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل فرمایا۔ اِنْ یُّسعْفَ یاء کے ساتھ بصیغہ مجہول اور نون کے ساتھ بصیغہ معروف، اگر تم میں کی کوئی جماعت اس حرکت سے باز آجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا تعتذروا تم (اب یہ بیہودہ) عذر نہ کرو ‘ یعنی جھوٹی معذرت کوشیاں نہ کرو ‘ تمہاری تمام معذرت کوشیوں کا جھوٹ ظاہر ہوچکا۔ قد کفرتم بعد ایمانکم تم اپنے کو مؤمن کہنے کے بعد کفر کرنے لگے۔ یعنی (دلوں میں کفر چھپا رکھنے کے باوجود کم از کم زبانوں سے تو) تم پہلے ایمان کا اظہار کرتے تھے ‘ اب رسول اللہ ﷺ پر طعن تشنیع کرنے کی وجہ سے تم علی الاعلان کافر ہوگئے اور تمہارا کفر ظاہر ہوگیا۔ ان نعف عن طآئفۃ منکم نعذب طآئفۃ بانھم کانوا مجرمین۔ اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں تاہم بعض کو تو ضرور سزا دیں گے ‘ اس وجہ سے کہ وہ (علم ازلی میں) مجرم تھے۔ یعنی اگر توبہ کرنے اور خلوص نیت رکھنے کی وجہ سے ہم تم میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 65–66

(65۔ 66) اے محمد ﷺ اگر استہزاء کے بارے میں آپ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو ویسے ہی سواروں کی باتیں کررہے تھے اور آپس میں ہنسی مذاق کررہے تھے۔ اے نبی کریم ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم اس استہزاء پر عذر مت کرو تم تو خود اپنے آپ کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے اگر ہم جہیر بن حمیر کو معاف کردیں کیوں کہ اس نے خود ان کے ساتھ استہزاء نہیں کیا بلکہ ہنسا ہے تو ودیعۃ بن جزام اور جدی بن قیس کو ضرور سزا دیں گے کیوں کہ وہ تو پکے مشرک ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ولئن سالتہم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک میں ایک شخص نے ایک دن ایک مجلس میں کہا کہ میں نے ان مہمانوں جیسا اور نہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ : بہانے مت بناؤ، صاف مانو کہ تم نے ایمان لا کر پھر صریح کفر کیا ہے۔ جو شخص دین کی باتوں میں ٹھٹھا کرے اگرچہ دل سے منکر نہ ہو تو وہ کافر ہوگیا، اگر یہ نہ بھی ہو تو تب بھی وہ منافق تو لازماً ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کی باتوں میں ظاہر و باطن کا باادب رہنا ضروری ہے۔ (موضح) اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَاۗىِٕفَةٍ مِّنْكُمْ : یعنی جس نے نفاق سے توبہ کرلی اور آئندہ مخلص ہو کر زندگی بسر کی، اسے تو ہم معاف کرتے ہیں مگر جو اپنے کفر پر قائم رہا اسے ضرور عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی دیکھیے منافقین کو بھی اخلاص اختیار کرنے پر معافی کا وعدہ اور اس کی ترغیب دی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 66۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم “۔ یہ زجر وتوبیخ کے انداز میں (نہی) ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے : تم وہ نہ کرو جو نفع بخش نہ ہوگا، پھر ان پر کفر اور گناہ سے معذرت (اور توبہ) نہ کرنے کا حکم لگا دیا، اس میں اعتذر بمعنی اعذر ہے ای صار ذا عذر یعنی وہ عذر والا ہوگیا، لبید نے کہا ہے : ومن یبک حولا حولا کاملا فقد اعتذر : اور الاعتذار کا معنی ہے : موجود شے کا اثر (نشان) مٹا دینا، کہا جاتا ہے : اعتذرت المنازل منزلیں مٹ گئیں (ختم ہوگئیں) اور الاعتذار کا معنی الدروس (مٹانا) ہے شاعر کا قول ہے : ام کنت تعرف آیات فقد جعلت اطلال الفک بالودکاء تعتذر : اور ابن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–66

منافقانہ حرکت اور جھوٹ : 1:۔ ابو نعیم نے حلیہ میں شریح بن عبید (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابو درداء ؓ سے کہا اے قراء کی جماعت کیا بات ہے ؟ تم ہم سے زیادہ بزدل ہو اور زیادہ بخیل ہو جب تم سے سوال کیا جاتا ہے اور بڑے بڑے لقمے بناتے ہو جب تم کھاتے ہو ابو درداء ؓ نے اس سے اعراض کیا اور اس کو کچھ بھی جواب نہ دیا اور عمر بن خطاب ؓ کو اس کی خبر دے دی تو حضرت عمر ؓ اس آدمی کو پاس گئے جس نے یہ بات کہی تھی اس کو اس کے کپڑے سے پکڑا اور اس کا گلا گھونٹتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے اس آدمی نے کہا کہ ہم کو محض ہنسی اور خوش طبعی کررہے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی طرف وحی فرمائی (آیت) ” ولئن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا تَعْتَذِرُوْا [ بہانے مت تراشو ] قَدْ كَفَرْتُمْ [ تم لوگ کفر کرچکے ہو ] بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ ۭ [ اپنے ایمان کے بعد ] اِنْ [ اگر ] نَّعْفُ [ ہم درگزر کریں ] عَنْ طَاۗىِٕفَةٍ [ کسی جماعت سے ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] نُعَذِّبْ [ تو ہم عذاب دیں گے ] طَاۗىِٕفَةًۢ [ کسی جماعت کو ] بِاَنَّهُمْ [ بسبب اس کے کہ وہ لوگ ] كَانُوْا [ تھے ] مُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 64–66

منافقین کی مزید شرارتوں کا تذکرہ منافقوں کی شرارتیں جاری رہتی تھیں۔ ان میں سے جو لوگ غزوۂ تبوک کے لیے جانے والے مسلمانوں کے ساتھ سفر میں چلے گئے تھے (جن میں اہل نفاق کے لیے جاسوسی کرنے والے بھی تھے) انہوں نے طرح طرح سے تکلیفیں دیں اور برے منصوبے بنائے۔ منافقین کی عادت تھی کہ آپس میں مل کر اسلام اور داعی اسلام ﷺ اور اہل اسلام کے خلاف باتیں کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی انہیں یہ ڈر بھی لگا رہتا تھا کہ قرآن میں کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ہمارے دلوں کی باتوں کو کھول دے۔ ان کی نیتوں، باتوں اور ارادوں کو سورة توبہ میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ اس سورت کا ایک نام سورة الفاضحہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–66

ذکر نوع دیگر از حرکات شنیعۂ منافقین قال اللہ تعالی۔ ومنھم الذین یؤذون النبی۔۔۔ الی۔۔۔ بانھم کانوا مجرمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی منافقین کی جہالتوں اور خباثتوں کا اور ان کی حرکات شنیعہ کا ذکر ہے جو دور سے چلا آرہا ہے۔ درمیان میں تبعاً صدقات کا ذکر آگیا تھا۔ اب پھر منافقین کی قبائح اور فضائح کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی خباثتوں کو بیان کرتے ہیں حق جل شانہ نے ان آیات میں منافقین کی جن قباحتوں کا ذکر کیا ان میں سے اول تو یہ ہے کہ وہ ادب سے کورے ہیں۔ آں حضرت ﷺ کی شان میں خلاف ادب اور تحقیر آمیز الفاظ زبان سے نکالتے ہیں مثلا یہ کہ آپ تو کانوں کے کچے ہیں جو سنتے ہیں اس کا یقین کرلیتے ہیں۔ دوم یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

63:“ لَاتَعْتَذِرُوْا الخ ” یہ تہدید و توبیخ ہے۔ یعنی اے منافقین غلط عذر اور جھوٹے بہانے مت کرو۔ تم نے اظہار ایمان کے بعد استہزاء اور تمسخر سے اپنا کفر ظاہر کردیا ہے اگر ہم ایک جماعت کو توبہ کی وجہ سے معاف کردینگے تو دوسری جماعت کو ضرور عذاب دینگے کیونکہ وہ مجرم ہیں اور انہوں نے اپنے جرم سے توبہ نہیں کی۔ ان تمسخر کرنے والے منافقوں میں جنہوں نے توبہ کرلی اور مخلصانہ ایمان لے آئے ان کو معاف کردیا گیا جیسا کہ مخشی بن حمیر نے صدق دل سے ایمان قبول کرلیا اور نفاق سے تائب ہوگیا۔ اللہ نے اس کو جنگ یمامہ میں شرکت کی توفیق دی اور شہادت نصیب فرمائی اور جنہوں نے توبہ نہیں کی وہ مبتلائے عذاب ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–66

ربطِ آیات : پہلے جہاد کی فرضیت اور اس کی ترغیب کا بیان تھا۔ پھر مانعاتِ جہاد کا ذکر اور جہاد و قتال سے متعلق بہت ضروری احکام صادر ہوئے پھر منافقین کی بدکرداری کا ذکر ہوا۔ ان کا پیچھے رہ جانا ، حیلے بہانے بنانا ، طعن وتشنیع کرنا ، خود غرضی اور مفاد پرستی میں مبتلا ہونا ، یہ سب اللہ نے بیان فرمایا مفاد پرستی ہی کے ضمن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ منافقین صدقات کے بارے میں اعتراض کرتے تھے ، اگر انہیں کچھ مل جاتا تو خوش ہوجاتے ورنہ اللہ کے رسول کی تقسیم پر اعتراض کرتے۔ اللہ نے ان کے ایسے اعتراجات کو جواب بھی دیا اور پھر زکوٰۃ وصدقات کے مصارف بھی بیان کیے کہ یہ مال فلاں فلاں مدات پر خرچ ہو سکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ۝ 0 ۭ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَاۗىِٕفَۃٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَاۗىِٕفَۃًۢ بِاَنَّہُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ۝ 66 ۧ عذر العُذْرُ : تحرّي الإنسان ما يمحو به ذنوبه . ويقال : عُذْرٌ وعُذُرٌ ، وذلک علی ثلاثة أضرب : إمّا أن يقول : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، فيذكر ما يخرجه عن کو نه مذنبا، أو يقول : فعلت ولا أعود، ونحو ذلک من المقال . وهذا الثالث هو التّوبة، فكلّ توبة عُذْرٌ ولیس کلُّ عُذْرٍ توبةً ، واعْتذَرْتُ إليه : أتيت بِعُذْرٍ ، وعَذَرْتُهُ : قَبِلْتُ عُذْرَهُ. قال تعالی: يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–72

ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔ تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْط اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَۃٍ مِّنْکُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَۃً م بِاَنَّھُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ع (التوبۃ : 66 ) (اب بہانے مت بنائو تم نے ایمان کے بعد کفر کیا ہے اگر ہم درگزر بھی کرلیں تم میں سے ایک گروہ سے تو دوسرے گروہ کو ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہی اصلی مجرم تھے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں بتایا گیا تھا کہ اگر آپ ان سے ان کی حرکتوں کے بارے میں پوچھیں تو وہ مختلف حیلے بہانے کرنے لگتے اور سخن سازی سے کام لیتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں صاف صاف فرمایا کہ اب تم بہانوں سے کام مت لو اور اپنی باتوں کی تاویل مت کرو۔ تم نے اللہ اور اسکے رسول اور اس کی آیات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 64–66

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقوں کا اپنے دل ہی دل میں خوف زدہ رہنا۔ منافق دوغلا ہوتا ہے دو غلاشخص اخلاقی لحاظ سے اندر سے کھوکھلا اور ضمیر کا چور ہوتا ہے کیونکہ وہ مختلف لوگوں سے ایک ہی بات مختلف مفہوم اور مذموم مقاصد کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے اسے ہر وقت اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر لوگوں کو میری بات کی اصلیت کا پتہ چل گیا تو میں ہر طرف سے ذلیل اور لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوجاؤں گا۔ یہ خوف اسے ہر وقت بےچین رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقین کی یہی حالت تھی وہ ہر وقت ڈرے اور سہمے رہتے تھے کہ نہ معلوم اللہ کے رسول پر کب وحی نازل ہوجائے جس میں ہماری سازشوں کو طشت ازبام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جھوٹے بہانے نہ بنائو تم تو کافر ہوگئے ہو توبہ کرو : آیت 66: لَا تَعْتَذِرُوْا (تم اب بہانے مت کرو) اپنے جھوٹے اعذار میں مشغول مت رہو یہ تمہار امنافقت والا راز ظاہر ہونے کے بعد قطعاً فائدہ مند نہ ہونگے۔ قَدْ کَفَرْتُمْ (تم تو کفر کرنے لگے) تم نے تو اپنے استہزاء سے چھپا ہوا کفر ظاہر کردیا۔ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ (اپنے ایمان کے بعد) ایمان کے ظاہر کرنے کے بعد اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآپفَۃٍ مِّنْکُمْ (اگر ہم تم میں سے بعض کو چھوڑ بھی دیں) ان کی توبہ اور نفاق کے بعد مخلصانہ ایمان لانے سے نُعَذِّبْ طَآپفَۃً بِاَنَّھُمْ کَانُوْامُجْرِمِیْنَ (تو ہم دوسرے گروہ کو تو سزا دیں گے اس سبب سے کہ وہ مجرم تھے) نفاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

66 ۔” لا تعتدروا ا قد کفر تم بعد ایمانکم “ اگر یہ اعتراض ہو کہ وہ تو پہلے سے ہی مومن نہ تھے۔ پھر ان کو یہ کیسے کہا کہا ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو ؟ تو جواب یہ ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کو ظاہر کرنے کے بعد کفر کو ظاہر کیا ہے ” ان نعف عن طائفۃ منکم ‘ ‘ یہاں طائفہ سے ایک شخص مراد ہے۔” نعذب طائفۃ بانھم کانوا مجرمین “ استہزاء کی وجہ سے اور عاصم نے ( نعف) نون اور اس کے زبر اور فاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ (نعذب) نون کے ساتھ اور دال کی زیر پر ( طائفہ) کے زبر اور دیگر حضرات نے (یعف) یاء اور اس کے پیش اور فاء کے زبر کے ساتھ ( تعذب) تاء اور ذال کے زبر کے ساتھ ( صائفۃ) مرفع نائب فاعل ہونے کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–66

65۔ 66۔ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ سے جو شان نزول ان آیات کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی کبھی تو وہ آنحضرت کی شان میں خفیہ طور پر بدگوئی کرتے رہے اور کبھی قرآن شریف کی شان میں کچھ کچھ کہتے تھے اور جب ان سے دریافت کیا جاتا تو صاف مکر جاتے اور کہتے تھے کہ ہم تو اور آپس کی باتیں کر رہے تھے ان کا حال ظاہر ہوجانے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں تفسیر ابن مردو یہ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ کی جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافق لوگ تبوک کے سفر میں لشکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–67

آیت 66 اس سورة کریمہ کو (الفاضحۃ) ” رسوا کرنے والی سورت “ کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے، کیونکہ اس نے منافقین کے بھید کھولے ہیں اور ان کے رازوں پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” ان میں سے بعض “ ” ان میں سے بعض “ کہہ کر ان کے اوصاف بیان کئے ہیں۔ لیکن متعین طور پر اشخصا کے نام نہیں لئے، اس کے دو فائدے ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ ” ستار “ ہے وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ (2) مذمت کا رخ ان تمام منافقین کی طرف ہے جو ان صفات سے متصف ہیں جس میں وہ بھی آگئے جو (بلاواسطہ) مخاطب تھے اور ان کے علاوہ قیامت تک آنے والے منافقین بھی اس میں شامل ہیں۔ اس اعتبار سے اوصاف کا تذکرہ زیادہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 65–66

کلمہ کفر مذاق میں بھی نہیں کہنا چاہیے قول باری ہے ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب اگر تم ان سے پوچھیو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے تو جھٹ کہہ دیں گے ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے تا قول باری ان نعف عن طائفۃ منکم نعذب طائفۃ بانھم کانوا مجرمین اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر بھی دیا تو دوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے ۔ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ اکراہ اور جبر کی صورت کے سوا کلمہ کفر کے اظہار کے لحاظ سے دل لگی کے طور پر اور سنجیدگی کے ساتھ اس کلمے کو زبان پر لانے والوں کا حکم یکساں ہے۔ اس لیے کہ ان منافقین نے یہ کہا تھا کہ انہوں نے ہنسی مذاق اور دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

135 ارتکاب کفر کا جرم سب سے سنگین اور ہولناک جرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ تم لوگ بہانے مت بناؤ (اے منافقو) کہ بلاشبہ تم ارتکاب کرچکے ہو کفر کا اپنے ایمان کے بعد۔ پس تم لوگوں کا یہ جواب " عذر گناہ بدتر از گناہ " کا مصداق ہے۔ اس لئے تمہارا کوئی عذر و بہانہ اب قابل قبول نہیں۔ اس لیے تمہیں اب ایسے حیلے بہانے کرنے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تم لوگ کفر کے اس سب سے بڑے جرم کا ارتکاب کرچکے ہو جسکے بعد نہ کسی تاویل کا کوئی فائدہ و اعتبار ہے اور نہ کوئی عذر و معذرت قابل قبول۔ سو اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے استہزا و مذاق ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِِ جَلَّ وَعَلَا ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 64–70

منافقوں کی دل لگی اور بہانے تشریح : یہ منافقین جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے مقبول ترین پیغمبر ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حالات اور واقعات سے باخبر کردیتا ہے۔ پھر بھی اپنی منافقت، بدعہدی اور جھوٹ سے باز نہ آتے تھے۔ اور ہر وقت کسی نہ کسی طرح سازشوں میں لگے رہتے تھے۔ اللہ واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ تم باز آجاؤ تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتے سب کچھ تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آجائے گا۔ پھر نوید سنائی گئی کہ تم میں سے کچھ ایسے کم گناہ گار ہیں ان کو تو شاید اللہ معاف فرما دے مگر جو حد سے گزر چکے ہیں وہ ہرگز سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ پھر ان تمام منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ عورتیں اور مرد سب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–66

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف رب جلیل نے صدقات واجبہ کی تقسیم فرما کر واضح فرمادیا کہ یہ محض اندازہ سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اللہ کریم نے کچھ خاص درجہ کے مسلمانوں کا حق مقرر فرمادیا ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ زکوۃ کی تقسیم رب جلیل نے کسی نبی کے اختیار میں بھی نہیں دی بلکہ خود فرمائی ہے علاوہ ازیں صدقہ نافلہ مومن دکافرپہ عام ہے اور اس کی تقسیم پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی صوابدید پر ہے حتی کہ صدقہ فطر تک کافر کو بھی دیا جاسکتا ہے کہ اسلام انسانیت کی بہتری کا علمبردار ہے اور عالم اسباب میں مال کی تقسیم ہی انسانیت کی آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے کچھ لوگوں کو مال زیادہ عطا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اظہار ایمان کے بعد ہم نے صریح کفر کیا۔ کبیر) جو شخص دین کی باتوں میں ٹھٹجا کرے اگرچہ دل سے منکر نہ ہو تو وہ کافر ہوگیا۔ اگر یہ نہ بھی ہو تب بھی وہ منا فق تو لازما ہے۔ اصل یہ ہے کہ دین کی باتوں میں ظاہر و باطن کا با ادب رہنا ضروی ہے۔ ( از مو ضح)5 یعنی جس نے نفاق سے توبہ کرلی ہے اور آئندہ مخلص ہو کر زندگی بسر کرے گا۔ اسے تو ہم معاف کرتے ہیں۔ مگر جو اپنے کفر پر مصر رہے اسے ضرور عذاب ہوگا۔ مروی ہے کہ مخشی بن حمیر نے توبہ کے بعد اپنا نام عبد الرحمن رکھ لیا اور دعا کی کہ اے اللہ مجھے شہادت کی موت نصیب ہو چناچہ یمامہ کے دن شہید ہوگیا ( معالم، کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:66) لاتعتذروا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ اعتذار (افتعال) مصدر۔ تم بہانے مت بناؤ۔ تم عذر نہ کرو۔ طائفۃ۔ یہاں طائفہ سے ہر دو جگہ گروہ مراد ہوسکتا ہے۔ یعنی تم میں سے ایک گروہ کو ہم معاف بھی کردیں ۔ تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے۔ اس صورت میں پہلے گروہ سے مراد طبقہ لیا جاسکتا ہے جو اپنے قول کی اہمیت اور گہرائی کو سمجھے بغیر کم فہم عقل انسانوں کی طرح جو ہر بات کو سطحی طور پر ہی لیتے ہیں اور سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اگر ایسا گروہ استہزاء کا مرتکب ہو تو توبہ کرنے پر ایسے گروہ کو معاف کیا جاسکتا ہے لیکن جو جان بوجھ کر اور اپنے قول کے نتائج سے باخبر ہوتے ہوئے بھی ایسا کرتے ہیں اور پھر توبہ بھی نہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–66

لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 66 یحذر (ڈرتا ہے) تنبی (مطلع کر دے) استھزء وا (مذاق اڑا لو) مخرج (نکالنے والا) نخوض (ہم دل لگی کر رہے ہیں) نلعب (ہم کھیل کر رہے ہیں) لاتعتذروا (تم معذرت نہ کرو) ان نعف (اگر ہم معاف کردیں) تشریح : آیت نمبر 64 تا 66 ان آیات میں مسلسل منافقین کی بدکرداریوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اسی میں یہ بھی تھا کہ منافین اپنی نجی محفلوں میں بیٹھ کر اللہ کے رسول ﷺ اور اہل ایمان لوگوں کا مذاق اڑانے، طعن وطنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے ۔ وہ اہل ایمان جو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہوتے ان کی ہر طرح ہمت شکنی کیا کرتے تھے۔ اگر کبھی یہ بات کوئی مومن سن لیتا اور پوچھتا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–66

شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک جماعت منافقین کی تھی جنگ تبوک میں آنحضرت ﷺ جا رہے تھے اور منافقین کا ایک رسالہ آگے تھا۔ کہنے لگا :'' دیکھو تو سہی محمد ﷺ شام کے قلعے اور محل فتح کرنے جاتے ہیں یہ تو ضعیف اور ردی حالت ہے، اور یہ عالی خیالات اور بلند ارادے بھلا اس بےسروسامانی سے کامیابی کب آسکتی ہے '' اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم (ﷺ) کو اس سے مطلع کیا آپ نے ان سے پوچھا :'' تم نے ایسا برا کلمہ زبان سے نکالا '' انہوں نے جواب دیا :'' یا رسول اللہ آپ کا اور آپ کے اصحاب کا کچھ بھی ذکر نہ تھا ہم تو یونہی باتیں چیتیں ہنسی مذاق کرتے تھے تاکہ راستہ قطع ہوجائے اور تکان نہ معلوم ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[42] یعنی اگر ہم نے تمہارے ایک گروہ سے اس دنیا میں درگزر بھی کرلیا اور اس کے معاملے کو آخرت پر اٹھا رکھا تو دوسرا گروہ لازماً اسی دنیا میں ہمارے عذاب سے دوچار ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–66

(ف 2) یعنی یہ سورة توبہ منافقین کے نفاق کو کو واشگاف کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے ، اسلئے اب انہیں خوف پیدا ہوگیا ہے اور کہتے ہیں ہم تو بہ سبیل مزاح یہ سب کچھ کہہ رہے تھے ، ورنہ ہمارے دل میں حضور ﷺ کی عزت ایسی ہی موجود ہے کہ جیسی مسلمانوں کے دل میں ، اللہ کے نزدیک یہ عذر صحیح نہیں کیونکہ دین کے باب میں استہزاء جائز نہیں ۔ حل لغات : نخوض ونلعب : خوض عام طور پر بری باتوں پر غور اور فکر کرنے کو کہتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

66 اب تم بےکار عذر نہ کرو اور بےہودہ باتیں نہ بنائو تم نے یقیناً اپنے کو مومن کہہ کر اور مومن ظاہرکرکے کفر کیا ہے۔ اس لئے اگر ہم تم سے کسی گروہ کو معاف بھی کردیں اور درگزر بھی کردیں تو بھی ایک جماعت کو ہم ضرور سزا دیں گے کیونکہ وہ مجرم تھی۔ یعنی جرم کا وقوع تو ہوچکا اب جن لوگوں کے متعلق یہ معلوم ہوجائے گا کہ وہ مستقبل میں واقعی سچے مسلمان رہیں گے ان کو معاف کردیا جائے لیکن جو لوگ علم ازلی میں مجرم ہیں اور مجرم ہی رہیں گے ان کو ہم ضرور سزا دیں گے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو کوئی دین کی باتوں میں ٹھٹھا کرے اگرچہ دل سے منکرنہ ہو وہ کافر ہوا نہیں تو منافق البتہ ہوادین کی بات میں ظاہر و باطن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ دین کے ساتھ قصدا استہزاء خواہ بداعتقادی سے ہو یا بدو بداعتقادی کے ہو کفر ہے اور استہزاء باللہ وآیاتہ و رسولہ باہم تینوں متلازم ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آج عذر پیش نہ کرو بلکہ سن لو کہ آیات الٰہی کا تمسخر کھلا کفر ہے : 90: ان سے کہا جا رہا ہے کہ باتیں نہ بناؤ ۔ تمہارا یہ عذر گناہ تمہارے گناہ سے بھی بدتر ہے اگر کوئی گروہ اللہ کا 1 اس کے رسول اور اس کی آیات کو ہنسی مذاق اور دل لگی کا کھلونا بنالے تو اس کے مجرم ہونے کے لئے اور کیا کچھ چاہئے ؟ یہی تو وہ چیز ہے جو ایمان کے اظہار کے بعد کھلے کفر کا اعلان ہے۔ تم نے ایمان کا دعویٰ کیا تھا تو اس کا حق تو یہ تھا کہ تم اپنے عمل سے اس کا ثبوت فراہم کرتے لیکن عمل سے جو تم نے ثبوت پیش کیا ہے وہ سراسر کفر ہے اس لئے کہ اللہ کے رسول اور اس کی آیات کا مذاق اور ٹھٹھہ کھلا ہوا کفر ہے اس کی مزید تشریح دیکھنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–67

Commentary The first verse begins with a profile of the hypocrites. One of the expressions used there: يَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ (and they withhold their hands) has been explained in Tafsir al-Qurtubi as abandonment of Jihad and non-compliance of obligatory rights and duties. Then, the sentence that follows: نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ literally means ` they forgot Allah, so He forgot them.' But, Allah Ta` ala is free of forgetfulness. So, the sense at this place is: ` those people had abandoned the commandments of Allah, as if they had forgotten it, therefore, Allah too abandoned their…

Read the full tafseer →