نبی اکرم ﷺ سے گھبراتے بھی ہیں
آپس میں بیٹھ کر باتیں تو گانٹھ لیتے لیکن پھر خوف زدہ رہتے کہ کہیں اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو بذریعہ وحی الٰہی خبر نہ ہوجائے اور آیت میں ہے تیرے سامنے آ کر وہ دعائیں دیتے ہیں جو اللہ نے نہیں دیں پھر اپنے جی میں اکڑتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ ہمیں کوئی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم کی کافی سزا موجود ہے جو بدترین جگہ ہے۔ یہاں فرماتا ہے دینی باتوں اور مسلمانوں کی حالت پر دل کھول کر مذاق اڑالو۔ اللہ بھی وہ راز افشاء کر دے گا جو تمہارے دلوں میں ہے۔ یاد رکھو ایک دن رسوا اور ذلیل ہو کر رہو گے۔ چناچہ فرمان ہے کہ یہ بیمار دل لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے دلوں کی بدیاں…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 72
یہ لوگ نبی ﷺ کی رسالت پر سچا ایمان تو نہیں رکھتے تھے لیکن جو تجربات انہیں پچھلے آٹھ نو برس کے دوران میں ہوچکے تھے ان کی بنا پر انہیں اس بات کا یقین ہوچکا تھا کہ آپ کے پاس کوئی نہ کوئی فوق الفطری ذریعہ معلومات ضرور ہے جس سے آپ کو ان کے پوشیدہ رازوں تک کی خبر پہنچ جاتی ہے اور بسا اوقات قرآن میں (جسے وہ حضور ﷺ کی اپنی تصنیف سمجھتے تھے) آپ ان کے نفاق اور ان کی سازشوں کو بےنقاب کر کے رکھ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
(آیت) اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ، اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ حق تعالیٰ منافقین کی خفیہ سازشوں اور شرارتوں کو ظاہر فرما دیں گے، جس کا ایک واقعہ غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے جب کہ کچھ منافقین نے آپ کے قتل کی شازش کی تھی، حق تعالیٰ نے آپ کو اس پر بذریعہ جبرئیل مطلع کرکے اس راستہ سے ہٹا دیا جہاں یہ منافقین اس کام کے لئے جمع ہوئے تھے۔ (مظہری عن البغوی)
اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام مع ان کی ولدیت اور پورے نشان پتے کے رسول اللہ ﷺ کو بتلا دیئے تھے، مگر رحمۃ للعالمین نے ان کو لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا (مظہری)
Read the full tafseer →حَذِرَ یَحْذِرُ کے معنی خائف اور چوکنے ہونے کے ہیں۔ تنزل علیہم، تقرر علیہم، کے مفہوم میں ہے یعنی انہیں پڑھ کر سنا دی جائے۔
منافقین کو پردہ دری کا اندیشہ : منافقین نے مسلمانوں کے سامنے صفائی پیش کرنے کی جو مہم شروع کی تھی یہ اس کا پس منظر سامنے لایا جا رہا ہے کہ اب تک تو ان کے رویہ پر جو تنقید ہوئی تھی وہ اشارات کے انداز میں تھی کہ ان کا زیادہ فضیحتا نہ ہو اور یہ اصلاح کرنا چاہیں تو اصلاح کرلیں لیکن اس سورة میں ان کو لب و لہجہ بدلا ہوا جو نظر آیا ہے اور ان کی نج کی مجلسوں کے بعض اسرار جو زیر بحث آئے ہیں تو، يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
61۔ 1 یہاں سے پھر منافقین کا ذکر ہو رہا ہے نبی ﷺ کے خلاف ایک ہرزہ سرائی انہوں نے یہ کی کہ یہ کان کا کچا (ہلکا) ہے، مطلب ہے کہ یہ ہر ایک بات سن لیتا ہے (یہ گویا آپ ﷺ کے حلم و کرم اور عفو و صفع کی صفت سے ان کو دھوکہ ہوا) اللہ نے فرمایا کہ نہیں، ہمارا پیغمبر شر و فساد کی کوئی بات نہیں سنتا جو بھی سنتا ہے تمہارے لئے اس میں خیر اور بھلائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
57: منافقین میں اپنی نجی محفلوں میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، اور اگر کبھی کوئی پوچھتا تو کہتے کہ ہم تو یہ باتیں دل لگی میں کرتے، سچ مچ نہیں کرتے۔ آیات 64 تا 66 ان کے اس طرز عمل پر تبصرہ کر رہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔
ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں…
Read the full tafseer →5 منافقین اپنی مجلسوں میں اسلام و پیغمبر اسلام کی بدگوئی کرتے، مومنین صادقین پر آوازے کستے، مہمات دین کا مذاق اڑاتے، پھر جب خیال آتا کہ ممکن ہے یہ باتیں حضور ﷺ تک پہنچ جائیں، تو کہتے کیا مضائقہ ہے وہ تو کان ہی کان ہیں، ہم ان کے سامنے جو تاویل و تلمیع کردیں گے، سن کر اسے قبول کرلیں گے۔ مگر چونکہ بسا اوقات وحی الٰہی کے ذریعہ سے ان کے نفاق و بدباطنی کی قلعی کھلتی رہتی تھی، اس لیے یہ ڈر بھی لگا رہتا تھا کہ کوئی سورت قرآن میں ایسی نازل نہ ہوجائے جو ہمارے مخاطبات سریہ ونیات خفیہ کا پردہ فاش کر دے۔ اصل یہ ہے کہ منافقین کا قلب جبن و کمزوری سے کسی ایک طرف قائم نہ ہوتا تھا۔ ان کے دل ہر وقت دگدا میں…
Read the full tafseer →آیت 64 یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْہِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّءُہُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ ط
ان کے دلوں میں چونکہ چور ہے اس لیے انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں وحی کے ذریعے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک نہ کردیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
77 منافقوں کی رسوائی کیسے ؟ یعنی ایک رسوائی تو اس وقت ہوتی ہے جب ان کی کوئی سازش اور دغا بازی سب لوگوں کے سامنے آجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کو مزید جھوٹی باتیں بنا کر اور قسمیں کھا کر اپنی طرف سے مسلمانوں کو اپنی صفائی کی یقین دہانی کرانا پڑتی ہے اور یہ رسوائی اس رسوائی کے مقابلہ میں بہت ہلکی ہے جو انہیں قیامت کے دن سب کے سامنے اٹھانا پڑے گی۔ جب ان کی یہ سب شرارتیں کھل کر سامنے آجائیں گی اور معذرتوں کا بھی موقع نہ ہوگا پھر انہیں جہنم کا دائمی عذاب بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →123 ۔ مثلا یہی کہ جو باتیں اپنے جلسہ میں دین کے ساتھ استہزاء کی کرتے رہتے ہیں، مسلمانوں پر وہ ظاہر ہوجائیں ، (آیت) ” قولبھم “۔ ضمیر ظاہر ہے کہ منافقین کی جانب ہے۔ الضمیر فی قلوبھم لمفنافقین (کشاف) (آیت) ” علیھم سورة تنبءھم “۔ ضمیر دونوں جگہ مومنین کی جانب ہے۔ (آیت) ” یحذر المنفقون “۔ ایک ترکیب یہ بھی جائز سمجھی گئی ہے۔ کہ خبر امر کے معنی میں ہو اور مراد لیحذر المنافقون ہو۔ خبر بمعنی الامر اے لیحذر المنافقون (مدارک) قال الحسن و مجاھد کانوا یحذورن فحملاہ علی معنی الاخبار عنھم بانھم یحذورن وقال غیرھم صورتہ صورۃ الخبر ومعناہ الامر تقدیرہ لیحذر المنافقون (جصاص)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
یحلفون باللہ لکم لیُرْضوکم الخ اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے منافقوں کے پوشیدہ راز کو ظاہر فرما دیا کہ یہ لوگ خلوتوں میں آنحضرت ﷺ اور مومنوں پر زبان طعن دراز کرتے ہیں اور اس کی اطلاع آپ کو ہوجاتی ہے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹی قسمیں کھا کر انکار کردیتے ہیں، اس جھوٹی قسم سے ان کا منشا آپ کو اور مومنوں کو خوش کرنا ہوتا ہے حالانکہ ہونا یوں چاہیے تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی فکر کرتے اور نفاق چھوڑ کر مخلص ہوجاتے، کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے وہ ہمیشہ ہمیش دوزخ میں رہے گا۔
Read the full tafseer →یحذر المنفقون ان تنزل علیھم سورة تنبءھم بما فی قلوبھم منافق لوگ (طبعاً ) اس سے اندیشہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں پر کوئی سورت (مثلاً یہ آیت) نازل نہ ہوجائے جو ان کو ان منافقوں کے مافی الضمیر پر اطلاع دے دے۔
اوّل دونوں ضمیریں مؤمنوں کی طرف اور آخری فی قلوبھم کی ضمیر منافقوں کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منافقوں کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی عداوت اور حسد جو ہمارے دلوں میں ہے ‘ کہیں کسی آیت کے ذریعہ سے اس کا پردہ فاش نہ کردیا جائے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علیہم کی ضمیر بھی منافقوں کی طرف راجع ہو ‘ کیونکہ منافقوں کے بارے میں کسی آیت کا نزول ان کے خلاف پڑے گا اور جب اس آیت کی تلاوت کی جائے گی تو…
Read the full tafseer →(64) عبداللہ بن ابی (منافق) اور اس کے (منافق) ساتھی اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ مسلمانوں کے نبی کریم ﷺ پر کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے جس میں ان کے نفاق پر اطلاع دے دے، اے محمد ﷺ آپ ودیعتہ بن جذام، جدی بن قیس اور جہیر بن حمیر سے فرما دیجیے کہ اچھا تم رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں چھپاتے ہو۔
Read the full tafseer →يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ : اب منافقین کی مزید کمینی حرکتوں کا ذکر ہوتا ہے اور کافی آگے تک چلا جاتا ہے، اس بنا پر اس سورت کو ”الفاضحہ“ بھی کہتے ہیں، یعنی منافقوں کے راز کھولنے والی اور ان کو رسوا کرنے والی۔ منافقین بظاہر ایمان کے باوجود دل میں رسول اللہ ﷺ سے کفر رکھتے تھے، ان میں سے بعض رسول اللہ ﷺ کو سچا سمجھنے کے باوجود ضد اور تعصب کی وجہ سے دل میں آپ سے کفر رکھتے تھے، کچھ شک میں مبتلا تھے، اس لیے ایمان سے خالی تھے اور جو بالکل دل سے آپ کو جھوٹا سمجھتے تھے وہ بھی کئی دفعہ مشاہدہ کرچکے تھے کہ جوں ہی وہ ایسی کوئی بات یا حرکت کرتے تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کردیتا، اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 64۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یحذر المنفقون “ یہ خبر ہے اور امر نہیں ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ خبر ہے اس کی جو اس کے بعد قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ مخرج ما تحذرون “۔ ہے کیونکہ انہوں نے عناد کی وجہ سے کفر اختیار کیا اور سدی (رح) نے کہا ہے کہ منافقوں میں سے ایک نے کہا : میں تو پسند کرتا ہوں اگر مجھے آگے لایا جائے اور سو کوڑے مجھے مارے جائیں لیکن ہمارے بارے میں کوئی ایسی شے نازل نہ ہو جو ہمیں رسوا کر دے (2) (اسباب النزول، صفحہ 130)
تب یہ آیت نازل ہوئی، یحذر بمعنی یتحرز وہ بچتے ہیں، اور زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی ہے چاہیے کہ وہ ڈرے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یحذر المنفقون ان تنزل علیہم سورة تنبئہم بما فی قلوبہم “ یعنی وہ آپس کی باتیں کرتے ہیں پھر وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہمارے خلاف افشانہ کردے۔
2:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ یہ سورة فاضحہ کہلاتی تھی یعنی منافقین کو رسوا کرنے والی اور اس کو مشیرہ بھی کہا جاتا تھا اس نے ان کے عیوب ونقائض ظاہر کردیئے۔
3:۔ سعید بن منصور وابن منذر وابوالشیخ نے مسیب بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ جو آدمی سات گھروں میں کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرما دے گا اور جو آدمی سات…
Read the full tafseer →يَحْذَرُ [ ڈرتے ہیں ] الْمُنٰفِقُوْنَ [ منافق لوگ ] اَنْ [ کہ ] تُنَزَّلَ [ اتاری جائے ] عَلَيْهِمْ [ ان (مومنوں ) پر ] سُوْرَةٌ [ کوئی سورة ] تُنَبِّئُهُمْ [ جو خبر دے ان کو ] بِمَا [ اس کی جو ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭ [ ان (منافقوں ) کے دلوں میں ہے ] قُلِ [ آپ کہیے ] اسْتَهْزِءُوْا ۚ [ مذاق اڑالو ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] مُخْرِجٌ [ نکالنے والا ہے ] مَّا [ اس کو جس سے ] تَحْذَرُوْنَ [ تم لوگ ڈرتے ہو ]
(آیت ۔ 64) علیہم اور تنبئہم میں ھم کی ضمیریں مومنوں کے لیے ہیں جبکہ قلوبہم کی ضمیر منافقوں کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
منافقین کی مزید شرارتوں کا تذکرہ
منافقوں کی شرارتیں جاری رہتی تھیں۔ ان میں سے جو لوگ غزوۂ تبوک کے لیے جانے والے مسلمانوں کے ساتھ سفر میں چلے گئے تھے (جن میں اہل نفاق کے لیے جاسوسی کرنے والے بھی تھے) انہوں نے طرح طرح سے تکلیفیں دیں اور برے منصوبے بنائے۔ منافقین کی عادت تھی کہ آپس میں مل کر اسلام اور داعی اسلام ﷺ اور اہل اسلام کے خلاف باتیں کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی انہیں یہ ڈر بھی لگا رہتا تھا کہ قرآن میں کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ہمارے دلوں کی باتوں کو کھول دے۔ ان کی نیتوں، باتوں اور ارادوں کو سورة توبہ میں بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ نے فرمایا کہ اس سورت کا ایک نام سورة الفاضحہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
ذکر نوع دیگر از حرکات شنیعۂ منافقین
قال اللہ تعالی۔ ومنھم الذین یؤذون النبی۔۔۔ الی۔۔۔ بانھم کانوا مجرمین۔
(ربط) ان آیات میں بھی منافقین کی جہالتوں اور خباثتوں کا اور ان کی حرکات شنیعہ کا ذکر ہے جو دور سے چلا آرہا ہے۔ درمیان میں تبعاً صدقات کا ذکر آگیا تھا۔ اب پھر منافقین کی قبائح اور فضائح کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی خباثتوں کو بیان کرتے ہیں حق جل شانہ نے ان آیات میں منافقین کی جن قباحتوں کا ذکر کیا ان میں سے اول تو یہ ہے کہ وہ ادب سے کورے ہیں۔ آں حضرت ﷺ کی شان میں خلاف ادب اور تحقیر آمیز الفاظ زبان سے نکالتے ہیں مثلا یہ کہ آپ تو کانوں کے کچے ہیں جو سنتے ہیں اس کا یقین کرلیتے ہیں۔ دوم یہ…
Read the full tafseer →61:“ یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ الخ ” ان منافقوں کو یہ خطرہ بھی رہتا ہے کہ مبادا ان کے بارے میں آیتیں نازل ہوجائیں اور ان کے دلی نفاق اور کفر وعناد کو ظاہر کر کے ان کو ذلیل ورسوا کردیں۔ “ قُلِ اسْتَھْزِءُوْ ” یہ امر تہدیدی ہے “ مخرج اي مظھر ” ، “ مَا تَحْذَرُوْنَ ” سے ان کا نفاق مراد ہے جس کے ظاہر ہوجانے کا ان کو ڈر تھا۔ یعنی اسلام اور پیغمبر اسلام کا تمسخر اڑا لو کہاں تک اڑاؤ گے آخر اللہ تعالیٰ تمہارے دلی کفر ونفاق اور عناد کو ظاہر کر ہی دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
ربطِ آیات :
پہلے جہاد کی فرضیت اور اس کی ترغیب کا بیان تھا۔ پھر مانعاتِ جہاد کا ذکر اور جہاد و قتال سے متعلق بہت ضروری احکام صادر ہوئے پھر منافقین کی بدکرداری کا ذکر ہوا۔ ان کا پیچھے رہ جانا ، حیلے بہانے بنانا ، طعن وتشنیع کرنا ، خود غرضی اور مفاد پرستی میں مبتلا ہونا ، یہ سب اللہ نے بیان فرمایا مفاد پرستی ہی کے ضمن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ منافقین صدقات کے بارے میں اعتراض کرتے تھے ، اگر انہیں کچھ مل جاتا تو خوش ہوجاتے ورنہ اللہ کے رسول کی تقسیم پر اعتراض کرتے۔ اللہ نے ان کے ایسے اعتراجات کو جواب بھی دیا اور پھر زکوٰۃ وصدقات کے مصارف بھی بیان کیے کہ یہ مال فلاں فلاں مدات پر خرچ ہو سکتا ہے…
Read the full tafseer →يَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْہِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّئُہُمْ بِمَا فِيْ قُلُوْبِہِمْ 0 ۭ قُلِ اسْتَہْزِءُوْا 0 ۚ اِنَّ اللہَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ 64
حذر
الحَذَر : احتراز من مخیف، يقال : حَذِرَ حَذَراً ، وحذرته، قال عزّ وجل : يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] ، وقرئ : وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَ 3» ، وقال تعالی: وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ
[ آل عمران/ 28] ، وقال عزّ وجل : خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] ، أي : ما فيه الحذر من السلاح وغیره، وقوله تعالی: هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] ، وقال تعالی:
إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–72
ترکیب : انہ جملہ قایم مقام دو مفعول یعلموا کے من شرطیہ موضع مبتداء میں فان جواب ان کا فتح مشہور ہے۔ یہ خبر ہے مبتداء محذوف کی اے فجزائوھم ان لھم نار الخ اسم ان لہ اس کی خبر ان تنزل موضع نصب میں ہے یحذر کا مفعول ہو کر باللّٰہ اور اس کے معطوفات مجرور ہیں۔ ب کے جو تستہزئون سے متعلق ہیں۔
تفسیر : ان آیات میں منافقین کے حالات ذکر کرکے ان پر تہدید و تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ کا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور یہ بات بھی کہ ان کے مرد و عورت یکساں ہیں۔ جیسے مرد خبیث بےدین ہیں اسی طرح عورتیں بھی جو کہ منافق اور بےدین ہیں۔ بری باتوں کی تعلیم کرنے والیاں ہیں ٗ بھلی باتوں سے منع…
Read the full tafseer →یَحْذَرُالْمُنٰـفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّئُھُمْ بِمَا فِیْ قُلُُوْبِھِمْط قُلِ اسْتَھْزِئُ وْاج اِنَّ اللّٰہَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ( التوبۃ : 64)
(منافقین ڈرتے ہیں کہ کہیں نازل نہ کردی جائے اہل ایمان پر کوئی ایسی صورت جو ان کو ان کے دلوں کے بھیدوں سے آگاہ کر دے۔ کہہ دیجیے ! مذاق اڑالو اللہ ظاہر کرکے رہے گا جس سے تم خوف زدہ ہو۔ )
اپنے کرتوتوں سے خوفزدہ
یہ عجیب بات ہے کہ منافقین اللہ کے رسول کی رسالت پر پوری طرح یکسو نہیں تھے انھیں یقین نہیں آتا تھا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن اس کے باوجود انھیں اس بات کا احساس ضرور تھا کہ بعض دفعہ ایسی باتیں آنحضرت ﷺ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ منافقوں کا اپنے دل ہی دل میں خوف زدہ رہنا۔
منافق دوغلا ہوتا ہے دو غلاشخص اخلاقی لحاظ سے اندر سے کھوکھلا اور ضمیر کا چور ہوتا ہے کیونکہ وہ مختلف لوگوں سے ایک ہی بات مختلف مفہوم اور مذموم مقاصد کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے اسے ہر وقت اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر لوگوں کو میری بات کی اصلیت کا پتہ چل گیا تو میں ہر طرف سے ذلیل اور لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوجاؤں گا۔ یہ خوف اسے ہر وقت بےچین رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں منافقین کی یہی حالت تھی وہ ہر وقت ڈرے اور سہمے رہتے تھے کہ نہ معلوم اللہ کے رسول پر کب وحی نازل ہوجائے جس میں ہماری سازشوں کو طشت ازبام…
Read the full tafseer →منافقین کو اپنے متعلق سورت اترنے کا خطرہ :
آیت 64: یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ (منافق اس سے اندیشہ کرتے ہیں) یہ خبر ہے جو امر کا معنی دیتی ہے ای لیحذر المنافقون۔ منافقین کو ڈرنا چاہیئے۔ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃٌ (کہ مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت اتار دی جائے) مکی و بصری قراء نے تُنْزِلَتخفیف سے پڑھا ہے۔ تُنَبِّئُھُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ (جو ان کو منافقین کے دل کی بات پر مطلع کر دے) کفر اور منافقت۔ نمبر 1۔ اس میں ضمیریں منافقین کی طرف لوٹتی ہیں جب سورت ان کے متعلق نازل ہوتی ہے تو گویا ان پر اترتی ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے قل استہزئُ وا۔ یہ استہزاء کرنے والے منافقین ہی تھے۔ نمبر 2۔ پہلی…
Read the full tafseer →64۔” یحذر المنفقون “ یعنی منافقین ڈرتے ہیں کہ ” ان تنزل علیھم “ یعنی مؤمنین پر ” سورة تنبھم بما فی قلوبھم “ یعنی جو حسد اور دشمنی منافقین کے دلوں میں ہے یہ باتیں وہ آپس میں کرتے تھے اور چھپاتے تھے اور اس رسوائی سے ڈرتے تھے کہ قرآن ان کی حالت نہ بیان کر دے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورت کا نام فاضحہ ( رسوا کرنے والی) مبشرہ اور مشیرہ ہے کیونکہ اس نے ان کی رسوائیاں پھیلائیں ۔ عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ستر منافقین کے نام بمع ولدیت قرآن میں اترے، پھر مؤمنین پر شفقت کرتے ہوئے ان کے ناموں کا ذکر منسوخ کردیا کیونکہ ان منافقین کی اولاد مؤمن تو کوئی ان کو عار نہ دلائے۔” قل…
Read the full tafseer →64۔ اس آیت کے دو معنے مفسروں نے بیان کئے ہیں ایک تو یہ کہ منافق سورت نازل ہونے سے ڈرتے ہیں اور آپس میں کہتے پھرتے ہیں کہ کہیں اللہ پاک ہمارا راز فاش نہ کردے کوئی سورت ہماری فضیحت میں اتارے اور پھر باوجود اس ڈر کے اپنی مسخرا پن کی باتوں سے باز نہیں آتے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ منافقوں کو اس آیت میں اللہ پاک نے خطاب کر کے بیان فرمایا خدا سے ڈرو وہ کوئی سورت اتار کر تمہارا بھید نہ کھول دے تمہارے دلوں میں جو بات ہے اس کی اطلاع مومنوں کو کردے پھر فرمایا اللہ بغیر اطلاع دیئے نہ رہے گا وہ ضرور تمہارے راز مسلمانوں پر کھول دیگا تم سے جہاں تک ممکن ہو دین کی باتوں میں مسخراپن کئے جاؤ خدا تمہاری ان باتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت 61
(1) لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج وعمرہ پر زکوۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی (رح) نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، اور اء الغلیل 382/3) علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے، راقم کی کتاب ” زکوۃ، عشر اور صدقتہ الفطر “ ص 301، 401 مطبوعہ دار السلام (ص۔ ی)
یعنی یہ منافقین (الذین یوذون النبی) ” جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔ “ یعنی جو روی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
رضا الٰہی رضائے رسول ﷺ کی متضمن ہے
قول باری ہے واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مومنین اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں ایک قول کے مطابق یرضوہ میں ضمیر واحد مذکور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا رسول اللہ ﷺ کی رضا کو متضمن ہوتی ہے اس لیے کہ ہر وہ کام جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اس سے رسول بھی راضی ہوتا ہے۔ اس لیے دلالت حال کی بنا پر رسول کے لیے ضمیر کا ذکر ترک کردیا گیا ۔ ایک قول کے مطابق کنایہ کے اندر اللہ کا اسم کسی اور اسم کے ساتھ یک جا نہیں ہوتا ۔ تنہا ذکر باری میں اس کی عظمت کا پہلو موجود ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
130 اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کا نتیجہ دوزخ کی دائمی آگ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کو یہ اہم اور طے شدہ حقیقت معلوم نہیں کہ جو کوئی مخالفت کرے گا اللہ اور اس کے رسول کے تو اس کے لیے دوزخ کی وہ آگ تیار ہے جس میں اس کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ واضح رہے کہ لفظ " یُحَادِدُ " حد سے ماخوذ ہے جو کہ کنارہ، انتہاء اور سائیڈ (SIDE) کے معنیٰ میں آتا ہے۔ چونکہ دو متحارب و مقابل شخص آپس میں دو مختلف اور دو متضاد سائیڈوں پر کھڑے ہوتے ہیں اس لئے یہ لفظ دشمنی کے لئے بولا جاتا ہے۔ اور یہی حال " یشَاقِقُ " اور " یُعَادِی " وغیرہ جیسے الفاظ و کلمات کا ہے کہ یہ بھی " شق " اور " عدا وہ " سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–70
منافقوں کی دل لگی اور بہانے
تشریح : یہ منافقین جانتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ اللہ کے مقبول ترین پیغمبر ہیں ان کو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے حالات اور واقعات سے باخبر کردیتا ہے۔ پھر بھی اپنی منافقت، بدعہدی اور جھوٹ سے باز نہ آتے تھے۔ اور ہر وقت کسی نہ کسی طرح سازشوں میں لگے رہتے تھے۔ اللہ واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ تم باز آجاؤ تم کچھ بھی چھپا نہیں سکتے سب کچھ تمہارا کیا ہوا تمہارے سامنے آجائے گا۔ پھر نوید سنائی گئی کہ تم میں سے کچھ ایسے کم گناہ گار ہیں ان کو تو شاید اللہ معاف فرما دے مگر جو حد سے گزر چکے ہیں وہ ہرگز سزا سے بچ نہ پائیں گے۔ پھر ان تمام منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ عورتیں اور مرد سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
آیات 60 تا 66
اسرار و معارف
رب جلیل نے صدقات واجبہ کی تقسیم فرما کر واضح فرمادیا کہ یہ محض اندازہ سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اللہ کریم نے کچھ خاص درجہ کے مسلمانوں کا حق مقرر فرمادیا ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ زکوۃ کی تقسیم رب جلیل نے کسی نبی کے اختیار میں بھی نہیں دی بلکہ خود فرمائی ہے علاوہ ازیں صدقہ نافلہ مومن دکافرپہ عام ہے اور اس کی تقسیم پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی صوابدید پر ہے حتی کہ صدقہ فطر تک کافر کو بھی دیا جاسکتا ہے کہ اسلام انسانیت کی بہتری کا علمبردار ہے اور عالم اسباب میں مال کی تقسیم ہی انسانیت کی آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے کچھ لوگوں کو مال زیادہ عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 1 اور تم رسوا ہو کر رہو گے۔ اس بنا پر سورة کا نام سورة الفا ضحہ ہے۔ یعنی منافقین کے راز کھو لنے والی اور ان کو رسو کرنے والی۔ نیز اس سورة کو سو رہ حافرہ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس سورة نے منافقین کے سینے کی باتوں کو کھود کر رکھ دیا ہے اور ان کے راز ہائے سربستہ کی قلعی کھول دی ہے۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →(9:64) یحذر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ حذر مصدر (باب سمع) وہ ڈرتا ہے۔ آیہ ہذا میں جمع مذکر غائب کے لئے آیا ہے۔ وہ ڈرتے ہیں۔ تنبئہم۔ مضارع واحد مؤنث غائب اس کا فاعل سورة ہے وہ ان کو آگاہ کردے وہ ان کو مطلع کر دے۔ بنی ینبی تبنیہ (باب تفعیل) سے۔ نبأ مادہ۔
علیہم۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب ہم۔ تنبئہم میں ضمیر ہم کا مرجع المؤمنین محذوف ہے اور فی قلوبھم میں ضمیر ھم المنفقین کے لئے ہے۔ یعنی منافق لوگوں کو ڈر ہے کہ کہیں مؤمنین پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی سورة نازل نہ ہوجائے کہ ان کے دل کی حالت (منافقت) مومنین پر ظاہر ہوجائے۔ یا ان ہر سہ ضمیر کا مرجع منافقین ہیں۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ منافق خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–66
لغات القرآن آیت نمبر 64 تا 66
یحذر (ڈرتا ہے) تنبی (مطلع کر دے) استھزء وا (مذاق اڑا لو) مخرج (نکالنے والا) نخوض (ہم دل لگی کر رہے ہیں) نلعب (ہم کھیل کر رہے ہیں) لاتعتذروا (تم معذرت نہ کرو) ان نعف (اگر ہم معاف کردیں)
تشریح : آیت نمبر 64 تا 66
ان آیات میں مسلسل منافقین کی بدکرداریوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے اسی میں یہ بھی تھا کہ منافین اپنی نجی محفلوں میں بیٹھ کر اللہ کے رسول ﷺ اور اہل ایمان لوگوں کا مذاق اڑانے، طعن وطنز کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے ۔ وہ اہل ایمان جو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہوتے ان کی ہر طرح ہمت شکنی کیا کرتے تھے۔ اگر کبھی یہ بات کوئی مومن سن لیتا اور پوچھتا…
Read the full tafseer →دین محمدی کے ساتھ ہنسی مسخراپن کرنے سے کافر ہوجاتا ہے
منافقوں کو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خطاب کرکے بیان فرمایا :'' خدا سے ڈرو وہ کوئی سورت اتار کر تمہارا بھید نہ کھول دے، تمہارے دلوں میں جو بات ہے اس کی اطلاع مومنوں کو کردے '' پھر فرمایا :'' اللہ بغیر اطلاع دیئے نہ رہے گا وہ ضرور تمہارے راز مسلمانوں پر کھول دے گا۔ تم جہاں تک ممکن ہو دین کی باتوں میں مسخراپن کئے جاؤ۔ خدا تمہاری ان باتوں کو ضرور ظاہر کرکے رہے گا جس کا تمہیں ڈر لگا ہوا ہے۔ خواہ خدا کوئی سورة نازل کرکے بتا دے گا یا بذریعہ جبرئیل (علیہ السلام) اپنے رسول کو خبر کردے گا، اور وہ مومنوں سے اس کو کہ دیں گے '' علماء اسلام کا اتفاق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
[39] یعنی جو کچھ کسی نے کہا یقین کرلیا۔
[40] یعنی اگر وہ سننے والا بھی ہے تو خیر و صلاح کا سننے والا ہے شر و فساد کا نہیں۔ وہ صرف انہی باتوں پر توجہ کرتا ہے جن میں امت کی بھلائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
(ف 2) یعنی یہ سورة توبہ منافقین کے نفاق کو کو واشگاف کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے ، اسلئے اب انہیں خوف پیدا ہوگیا ہے اور کہتے ہیں ہم تو بہ سبیل مزاح یہ سب کچھ کہہ رہے تھے ، ورنہ ہمارے دل میں حضور ﷺ کی عزت ایسی ہی موجود ہے کہ جیسی مسلمانوں کے دل میں ، اللہ کے نزدیک یہ عذر صحیح نہیں کیونکہ دین کے باب میں استہزاء جائز نہیں ۔
حل لغات :
نخوض ونلعب : خوض عام طور پر بری باتوں پر غور اور فکر کرنے کو کہتے ہیں ۔
Read the full tafseer →64 منافق اس بات کا اندیشہ کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نہ نازل ہوجائے جو ان کو ان منافقین کے مانی الضمیر سے آگاہ کردے اور جو کچھ ان منافقوں کے دل میں ہے اس سے مسلمانوں کو باخبر کردے آپ کہہ دیجئے کہ اچھا تم استہزا اور مذاق اڑاتے رہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو ظاہر کرکے رہے گا۔ معلوم ہوگیا کہ خفیہ طور پر دین حق کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–65
ف 4۔ فقیر کے معنی ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ مسکین کے معنی ہیں جس کے پاس نصاب سے کم ہو۔
5۔ اسلام اور قدرنصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ کا مالک و قابض نہ ہوناسب میں شرط ہے بجز عاملین ومحصلین زکوة کے جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں کہ ان کو باوجود غنی ہونے کے بھی اس زکوة میں سے بطور اجرت کے دیناجائز ہے باقی اصناف میں قید مذکور شرط ہے۔
6۔ مولفة القلوب کو جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زکوة دی جاتی تھی گو وہ مسلمان نہ ہوں۔ مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو یا محض ان کے شروفتنہ سے بچنے کے لیے اور یا مسلمان ہوں مگر غریب نہ ہوں محض ان کو اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لیے صحابہ کے وقت میں اجماع ہوگیا ان کی…
Read the full tafseer →منافقین کو جس بات کا کھٹکا تھا وہ ہو کر رہی :
88: فرمایا منافقوں کو پردہ دری کا اندیشہ رہتا تھا اور وہ بات ہو کر رہی ، ان کو خوف تھا تو صرف اس بات کا کہ کہیں ان کے نفاق کو ظاہر نہ کردیا جائے۔ فرمایا : بلاشبہ جس بات کا تم کو اندیشہ تھا وہ ہو کر رہی اور ہم نے اپنے رسول ﷺ کو تمہارے کاموں کی اطلاع دے دی اور ان میں سے بعض کے نام تک بتلا دیئے اور ان کے انداز گفتگو سے بھی مطلع فرمایا۔
چنانچہ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ فرمائے گا (جو وہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں) اور (اے پیغمبر اسلام ! ) اگر ہم چاہیں تو آپ کو وہ لوگ دکھلا دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
Announced in verse 64: إِنَّ اللَّـهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ (Allah is surely to bring out what you are afraid of) is the news that Allah will expose their conspiracy and mischief. One such event came to pass while returning from the battle of Tabuk when some hypocrites had conspired to kill the Messenger of Allah. Allah Almighty informed him about the plan through angel Jibra'il (علیہ السلام) helping him to bypass the spot where the hypocrites were sitting in ambush. (Mazhari with reference to al-Baghawi)
And Sayyidna ` Ibn ` Abbas ؓ says that Allah Ta` ala had in-formed the Holy…
Read the full tafseer →