At-Tawba 9:61

At-Tawba · from ayah 61

9:61

وَمِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ ؕ— قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ؕ— وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۟وَمِنۡهُمُ الَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ النَّبِىَّ وَيَقُوۡلُوۡنَ هُوَ اُذُنٌ‌ ؕ قُلۡ اُذُنُ خَيۡرٍ لَّـكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَيُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَرَحۡمَةٌ لِّـلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ يُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ لَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among them are those who abuse the Prophet and say, "He is an ear." Say, "[It is] an ear of goodness for you that believes in Allah and believes the believers and [is] a mercy to those who believe among you." And those who abuse the Messenger of Allah - for them is a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:61

ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے کہو، "وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے، اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک سزا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لیے۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم (تیار) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان میں سے وه بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ وه کان تمہارے بھلے کے لئے ہے وه اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہی (منافقین) میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو دکھ پہنچاتے ہیں اور (ان کے بارے میں) یہ کہتے ہیں کہ : وہ تو سراپا کان ہیں۔ کہہ دو کہ : وہ کان ہیں اس چیز کے لیے جو تمہارے لیے بھلائی ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنوں کی بات کا یقین کرتے ہیں، اور تم میں سے جو (ظاہری طور پر) ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے وہ رحمت (کا معاملہ کرنے والے) ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں کوئی وہ ہیں کہ ان غیب کی خبریں دینے والے کو ستاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو کان ہیں، تم فرماؤ تمہارے بھلے کے لیے کا ن ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور مسلمانوں کی بات پر یقین کرتے ہیں اور جو تم میں مسلمان ہیں ان کے واسطے رحمت ہیں، اور جو رسول اللہ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان (منافقوں) میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں: وہ تو کان (کے کچے) ہیں۔ فرما دیجئے: تمہارے لئے بھلائی کے کان ہیں۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہلِ ایمان (کی باتوں) پر یقین کرتے ہیں اور تم میں سے جو ایمان لے آئے ہیں ان کے لئے رحمت ہیں، اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو (اپنی بدعقیدگی، بدگمانی اور بدزبانی کے ذریعے) اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ (تو) ایک کان ہے۔ کہہ دے تمہارے لیے بھلائی کا کان ہے، اللہ پر یقین رکھتا ہے اور مومنوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور ان کے لیے ایک رحمت ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان (منافقین) میں سے کچھ وہ ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ : وہ کانوں کا کچا ہے آپ ان سے کہئے : یہ کانوں کا کچا ہونا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ وہ اللہ پر اور مومنوں کی بات پر یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لئے رحمت ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں، ان کے لئے دردناک عذاب ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا پہنچاتے ہیں وہ اور کہتے ہیں وہ تو بس کان ہی کان ہیں۔ کہہ دو وہ سراپا گوش تمہاری بھلائی کے باب میں ہے۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔ اہل ایمان کی بات باور کرتا اور تم میں سے جو ایمان لائے ان کے لیے رحمت ہے اور جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچا رہے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ کے پیغمبر کو اور کہتے ہیں کہ یہ صاحب تو بس نرے کان ہیں، (ان سے) کہو کہ وہ کان ہیں خیر کے تمہارے لئے، ایمان رکھتے ہیں اللہ پر، اور اعتماد کرتے ہیں ایمانداروں پر اور وہ سراسر رحمت ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان (کی دولت) رکھتے ہیں تم میں سے، اور جو لوگ ایذاء پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول کو، ان کے لئے ایک بڑا ہی دردناک عذاب ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ وہ تمہارے حق میں خیر ہی کے باب میں کان دے کر سنتے ہیں۔ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور مومنین کا یقین رکھتے ہیں۔ اور ان پر مہربانی کرتے ہیں جو تم میں سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جو لوگ رسول اللہ کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذاب درد ناک ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو نرے کان ہیں آپ ﷺ کہیے کہ یہ کان تمہاری بہتری کے لیے ہیں وہ یقین رکھتے ہیں اللہ پر اور بات مان لیتے ہیں اہل ایمان کی اور جو تم میں سے واقعی مؤمن ہیں ان کے حق میں رحمت ہیں اور جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ کو ان کے لیے بڑا درد ناک عذاب ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو تکلیف دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص وہ کانوں کا کچا ہے۔ ان سے کہہ دو کہ وہ کانوں کا کچا ہونا ہی ہے تو تمہاری بھلائی کے لیے ہے وہ اللہ کا اور مومنوں کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے اور جو لوگ رسول اللہ کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And of them there are some who distress the Prophet, saying: "He is all ears." Tell them: "He listens for your good. He believes in Allah and trusts the believers, and is a mercy for those of you who believe. A painful punishment lies in store for those who cause distress to the Messenger of Allah."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among them (the hypocrites) there are those who hurt the Prophet and say, :He is just an ear (that is, he hears and believes everything). Say, :He gives ear to that which is good for you; he believes in Allah and trusts the believers and is a mercy for those of you who (pretend to) believe. And those who hurt the Messenger of Allah, for them there is a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

And among them (the hypocrites) there are those who hurt the Prophet and say, :He is just an ear (that is, he hears and believes everything). Say, :He gives ear to that which is good for you; he believes in Allah and trusts the believers and is a mercy for those of you who (pretend to) believe. And those who hurt the Messenger of Allah, for them there is a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among them are men who annoy the Prophet and say: "He is (lending his) ear (to every news)." Say: "He listens to what is best for you; he believes in Allah; has faith in the believers; and is a mercy to those of you who believe." But those who annoy Allah's Messenger, will have a painful torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of them are those who vex the Prophet and say: He is only a hearer. Say: A hearer of good for you, who believeth in Allah and is true to the believers, and a mercy for such of you as believe. Those who vex the messenger of Allah, for them there is a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among them are those who abuse the Prophet and say, "He is an ear." Say, "[It is] an ear of goodness for you that believes in Allah and believes the believers and [is] a mercy to those who believe among you." And those who abuse the Messenger of Allah - for them is a painful punishment.

— Saheeh International

Some of them speak ill of the Prophet, saying, "He listens to everything and believes what he hears." (Muhammad), tell them, "He only listens to what is good for you, believes in God, and has trust in the believers. He is a mercy for the believers among you. Those who speak ill of the Messenger of God will face a painful punishment."

— Muhammad Sarwar

And there are some of them who molest the Prophet and say: He is one who believes every thing that he hears; say: A hearer of good for you (who) believes in Allah and believes the faithful and a mercy for those of you who believe; and (as for) those who molest the Apostle of Allah, they shall have a painful punishment.

— Muhammad Habib Shakir

And of them are some who vex the prophet and say: he is all ears Say thou: he is all ears unto good for you, believing in Allah and giving credence to the believers and a mercy unto those of you who believe. And those who vex the apostle of Allah, unto them shall be a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

Among them are men who molest the Prophet and say, "He is (all) ear." Say, "He listens to what is best for you: he believes in Allah, has faith in the Believers, and is a Mercy to those of you who believe." But those who molest the Messenger will have a grievous penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

نکتہ چین منافقوں کا مقصد منافقوں کی ایک جماعت بڑی موذی ہے اپنے باتوں سے اللہ کے رسول ﷺ کو دکھ پہنچاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ نبی تو کانوں کا بڑا ہی کچا ہے جس سے جو سنا مان لیا جب ہم اس کے پاس جائیں گے اور قسمیں کھائیں گے وہ ہماری بات کا یقین کرلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بہتر کانوں والا بہترین سننے والا ہے وہ صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے وہ اللہ کی باتیں مانتا ہے، اور باایمان لوگوں کی سچائی بھی جانتا ہے وہ مومنوں کے لئے رحمت ہے اور بےایمانوں کے لئے اللہ کی حجت ہے رسول کے ستانے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–63

سورة التَّوْبَة 69 منافقین نبی ﷺ کو جن عیوب سے متہم کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ حضور ﷺ ہر شخص کی سن لیتے تھے اور ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا کرتے تھے۔ یہ خوبی ان کی نگاہ میں عیب تھی۔ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کانوں کے کچے ہیں، جس کا جی چاہتا ہے آپ ﷺ کے پاس پہنچ جاتا ہے جس طرح چاہتا ہے آپ ﷺ کے کان بھرتا ہے، اور آپ ﷺ اس کی بات مان لیتے ہیں۔ اس الزام کا چرچا زیادہ تر اس وجہ سے کیا جاتا تھا کہ سچے اہل ایمان ان منافقین کی سازشوں اور ان کی شرارتوں اور ان کی مخالفانہ گفتگوؤں کا حال نبی ﷺ تک پہنچا دیا کرتے تھے اور اس پر یہ لوگ سیخ پا ہو کر کہتے تھے کہ آپ ہم جیسے شرفا و معززین کے خلاف ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–63

خلاصہ تفسیر اور ان (منافقین) میں بعضے ایسے ہیں کہ نبی ﷺ کو ایذائیں پہنچاتے ہیں (یعنی آپ کی شان میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ سن کر آپ کو ایذاء ہو) اور (جب کوئی روکتا ہے تو) کہتے ہیں کہ آپ ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں (آپ کو جھوٹ بول کر دھوکہ دیدینا آسان ہے، اس لئے کچھ فکر نہیں) آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ (تم کو خود دھوکہ ہوا رسول اللہ ﷺ کا کسی بات کو سن لینا دو طور پر ہے، ایک تصدیق کے طور پر کہ دل سے بھی اس کو صحیح سمجھیں، دوسرا خوش خلقی اور کریم النفسی کے طور پر کہ باوجود یہ جان لینے کے کہ یہ بات محض غلط ہے شرافت نفس اور حسن خلق کی بناء پر اس کو ٹال دیں، اور کہنے والے پر داروگیر یا اس کی صریح…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات 61۔ 72 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے انہی منافقین کی بعض شرارتوں اور ایذا رسانیوں کا ذکر اور ان کو تہدید و وعید ہے۔ پھر منافقین و منافقات اور مومنین و مومنات دونوں کے کردار وصفات کا تقابل کیا ہے تاکہ ایمان و نفاق دونوں واضح ہو کر ہر شخص کے سامنے آجائیں۔ یہ تقابل حقائق کو نمایاں کرنے بھی سب سے زیادہ مددگار ہوتا ہے اور اس سے مقصد اصلاح کو بھی بڑی مدد ملتی ہے اگر اس سے صحیح فائدہ اٹھایا جائے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔ اُذُنٌ کا مفہوم : وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ۔ اذن کے معنی کان کے ہیں۔ جب یہ کسی شخص کے لیے بطور استعارہ استعمال کیا جائے تو اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 61–64

61۔ 1 یہاں سے پھر منافقین کا ذکر ہو رہا ہے نبی ﷺ کے خلاف ایک ہرزہ سرائی انہوں نے یہ کی کہ یہ کان کا کچا (ہلکا) ہے، مطلب ہے کہ یہ ہر ایک بات سن لیتا ہے (یہ گویا آپ ﷺ کے حلم و کرم اور عفو و صفع کی صفت سے ان کو دھوکہ ہوا) اللہ نے فرمایا کہ نہیں، ہمارا پیغمبر شر و فساد کی کوئی بات نہیں سنتا جو بھی سنتا ہے تمہارے لئے اس میں خیر اور بھلائی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–63

55: یہ عربی زبان کے ایک محاورے کا لفظی ترجمہ ہے۔ عربی محاورے میں جب کوئی شخص ہر ایک کی بات سن کر اس پر یقین کرلیتا ہو، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تو ”نرا کان ہے“ یا ”سراپا کان ہے“۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اردو میں کہا جاتا ہے کہ ”وہ کچے کانوں کا ہے“۔ منافقین نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ گستاخانہ جملہ آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بولا تھا، اور مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی ہماری سازش آنحضرت صلی اللہ علیہ پر کھل بھی گئی تو ہم باتیں بنا کر آپ کو راضی کرلیں گے۔ کیونکہ وہ ہر ایک کی بات کا یقین کرلیتے ہیں۔ 56: منافقین کے مذکورہ بالا جملے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ایک تو یہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

زکوۃ و صدقات کے اصول وضع کرنے کے بعد ، اور ان کے مصارف کی نشاندہی کے بعد اب سیاق کلام پھر منافقین کے اعمال و افعال کی طرف مڑ جاتا ہے اور یہاں آیت صدقات کو اس لیے لایا گیا کہ جو لوگ تقسیم صدقات کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ پر نکتہ چینی کرتے تھے ان کے موقف کی کمزوری واضح ہوجائے۔ وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ: " ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ " یہ رسول اللہ کے بارے میں سوٗ ادب ، ایک صرح گستاخی ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ گستاخی صدقات کے معاملے کے علاوہ ہے۔ یہ دیکھتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 منافقین آپس میں بیٹھ کر اسلام کے متعلق بد گوئی کرتے۔ جب کوئی کہتا کہ ہماری یہ باتیں پیغمبر ﷺ تک پہنچ جائیں گی تو کہتے کیا پروا ہے۔ ان کے سامنے ہم جھوٹی تاویلیں کر کے اپنی برأت کا یقین دلا دیں گے۔ کیونکہ وہ تو کان ہی کان ہیں جو سنتے ہیں فوراً تسلیم کرلیتے ہیں۔ ان کو باتوں میں لے کر آنا کچھ مشکل نہیں۔ بات یہ تھی کہ حضرت اپنے حیاء و وقار اور کریم النفسی سے جھوٹے کا جھوٹ پہچانتے، تب بھی نہ پکڑتے۔ خلق عظیم کی بناء پر مسامحت اور تغافل برتتے۔ وہ بیوقوف جانتے کہ آپ نے سمجھا ہی نہیں۔ حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اگر وہ کان ہی ہیں تو تمہارے بھلے کے واسطے ہیں۔ نبی کی یہ خوبی تمہارے حق میں بہتر ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 وَمِنْہُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ہُوَ اُذُنٌ ط یہ تو نرے کان ہی کان ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں اور ہم جو بھی جھوٹا سچا بہانہ بناتے ہیں اسے مان لیتے ہیں ‘ گویا بالکل ہی بےبصیرت ہیں معاذ اللہ ! وہ ایسی باتیں کر کے رسول اللہ ﷺ کی توہین کرتے تھے اور آپ ﷺ کو اذیت پہنچاتے تھے۔ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّکُمْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یہاں پر یُؤْمِنُ کے ساتھ ب اور ل کے استعمال سے معنی کا واضح فرق ملاحظہ ہو۔ آمَنَ ‘ یُؤْمِنُ ’ ب ‘ کے ساتھ ایمان لانے اور ’ ل ‘ کے ساتھ بات ماننے اور یقین کرلینے کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی ہمارے رسول ﷺ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

74 منافقوں کا آپ کو لائی لگ کہنا اور اس کا جواب :۔ منافقوں کو رسول اللہ سے یہ شکایت تھی کہ آپ ہر شخص کی بات سن لیتے ہیں اور پھر اسے درست بھی سمجھ لیتے ہیں۔ دراصل ان کی خواہش یہ تھی کہ آپ ان مسلمانوں کی باتوں پر اعتماد نہ کیا کریں جو ہم جیسے معزز لوگوں کی خبریں یعنی ہماری سازشوں اور شرارتوں کے حالات سے آپ کو مطلع کرتے رہتے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی کا ایسا ہونا دراصل تمہارے ہی حق میں بہتر ہے۔ تم ان کے سامنے اپنے ایمان کے جھوٹے دعوے کرتے، مسلمانوں کے ہمدرد ہونے پر جھوٹی قسمیں کھاتے اور جہاد سے فرار کے لیے جھوٹے بہانے بناتے ہو۔ مگر وہ صبر سے کام لیتا ہے۔ اگر وہ اسی وقت ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114 ۔ (اور اس لئے انہیں دھوکے میں لے آنا ان کے سامنے بات بنا جانا کوئی بڑی بات نہیں) منھم ضمیر ظاہر ہے کہ منافقین کی طرف سے۔ (آیت) ” یقولون “۔ یعنی یہ منافقین آپس میں ایسی باتیں کہتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” اذن “۔ کہتے ہیں ایسے شخص کو جو کان ہی کان ہو اور اپنی ساگدتی سے جو بات بھی سنے اس کا یقین کرلے۔ الاذن الرجل الذی یصدق ویقبل قول کل واحد (کشاف) اے یقبل کل ما قیل لہ (ابن قتیبہ) (آیت) ” یؤذون النبی “۔ یعنی ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے لئے باعث اذیت ہیں۔ 115 ۔ قرآن مجید نے منافقین ہی کے لفظ کو ان پر دہرا کر اسے ایک بالکل دوسرے پہلو سے پیش کردیا ہے۔ اذن خیر کے درمیان کی اضافت فی کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَ مِنْھُمْ ای المنافقین الذین یؤذونَ النبیَّ ، یہ بھی منافقوں کی ہر زہ سرائی اور بیہودہ بکواس کا ذکر ہے جس کا مقصد آنحضرت ﷺ کو تکلیف پہنچانا ہے، جو باتیں منافقین آپ ﷺ کے بارے میں کہا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ محمد ﷺ تو کان کے کچے ہیں یعنی جو سنتے ہیں اس کو سچ مان لیتے ہیں اس پر غور نہیں کرتے اگر کوئی مسلمان ان کی باتیں جا کر کہہ دیتا ہے تو اس کو سچ مان لیتے ہیں اور جب ہم قسم کھا کر اس کا انکار کردیتے ہیں ہماری بات کو سچ مان لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ تم انہیں (کان کا کچا) کہتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ انہیں جھوٹ اور سچ کی تمیز نہیں ہے، ایسا نہیں ہے انہیں جھوٹ اور سچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

(بقیہ حاشیہ سابقہ آیت) ایک شبہ : رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ حضرت عمر کو عطا فرمایا تھا ‘ وہ تو کام کی اجرت تھی ‘ فقر کی وجہ سے نہیں عطا فرمایا تھا ‘ اسی لئے فرمایا تھا کہ اس کو لے لو ‘ اس سے تمول حاصل کرو اور خیرات کرو۔ عمل کی اجرت کا ثبوت مسلم کی اس روایت سے ہوتا ہے جس میں ابو حمید ساعدی نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھے صدقہ (زکوٰۃ) کے کام پر مامور کیا۔ کام تمام کرنے کے بعد جب میں نے رقم زکوٰۃ ادا کردی تو آپ نے اجرت عمل مجھے دینے کا حکم دیا۔ میں نے عرض کیا : (امیر المؤمنین ! ) میں نے تو اللہ کے واسطے کام کیا ہے ‘ میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے (اس سے لے لوں گا) فرمایا : جو کچھ تم کو دیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(61) اور ان منافقین میں سے جذام بن خالد، ایاس بن قیس، سماک بن یزید، عبید بن مالک طعن وتشنیع سے نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور بعض بعض سے کہتے ہیں کہ ہمارے متعلق ہر ایک بات سن لیتے ہیں اور جو بات ہم آپ سے کہتے ہیں اس کی آپ تصدیق کرلیتے ہیں، ہم نے تو آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی۔ اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ جو بات تمہارے حق میں بھلی ہو، اسی کو سنتا ہوں اور اسی کی تصدیق کرتا ہوں، جھوٹ بات کی تصدیق نہیں کرتا یا یہ کہ خوش خلقی کی وجہ سے میرا تمہاری باتوں کو سن لینا بھی تمہارے حق میں بہتر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ ارشاد خداوندی کی تصدیق کرلیتے ہیں، ہم نے تو آپ کے بارے میں کوئی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ : زمخشری نے فرمایا ”اُذُنٌ“ (کان) وہ آدمی ہے جو ہر ایک کی بات سن کر اسے سچا سمجھے۔ سنتے چلے جانے کی وجہ سے اس آدمی کا نام ہی کان رکھ دیا، جیسے جاسوس کا کام آنکھ سے تعلق رکھتا ہے، اس کا نام ہی ”عین“ (آنکھ) رکھ دیا گیا۔ ان منافقین کا مطلب یہ تھا کہ آپ کان کے کچے ہیں، ہر ایک کی بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتے ہیں۔ دیکھیے یہ آپ پر کتنا تکلیف دہ تبصرہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے والوں کے لیے سورة احزاب (57) میں دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت اور رسوا کن عذاب کا ذکر ہے اور یہاں ان کے لیے عذاب الیم بیان فرمایا۔ قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ : یعنی ہاں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اور اس نے کہا : اللہ تعالیٰ تیری لیے اس میں برکت عطا فرمائے، فرمایا : پھر وہ اندھے کے پاس آیا اور اس سے پوچھا : کون سی شے تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ اس نے کہا : یہ کہ اللہ تعالیٰ میری نظر مجھے واپس لوٹا دے کہ میں اس کے ساتھ لوگوں کو دیکھ سکوں، فرمایا۔ پس اس نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بصارت اسے واپس لوٹا دی، پھر اس نے پوچھا : کون سا مال تیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : بکریاں پس اسے بچے جننے والی بکری عطا کردی گئی پس ان دونوں (گائے اور اونٹنی) اور اس بکری نے بچوں کو جنم دیا، فرمایا پس اس کے لیے اونٹوں کی ایک وادی ہوگئی اور دوسری کے لیے گائیوں کی وادی ہوگی اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن اسحاق وابن منذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبیل بن حرث رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا اور آپ کے پاس ؓ عنہبیٹھ کر آپ کی باتیں سنتا تھا۔ پھر آپ کی بات کو منافقین کی طرف پہنچاتا تھا اور وہی آدمی ہے کہ اس نے ان منافقین سے کہا کہ محمد ﷺ کو جو بھی کوئی بات کہہ دے تو اس کی تصدیق کرلیتے ہیں (یعنی سچ مان لیتے ہیں) اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ومنہم الذین یوذون النبی ویقولون ھو اذن “ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ منافقین میں سے کچھ لوگ اکٹھے ہوئے ان میں جلاس بن سوید بن صامت جحش بن حمیر ودیعہ بن ثابت تھے انہوں نے ارادہ کیا کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يُؤْذُوْنَ [ ایذا پہنچاتے ہیں ] النَّبِيَّ [ ان نبی کو ] وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ کہتے ہیں ] هُوَ [ وہ ] اُذُنٌ ۭ [ ایک کان ہیں ] قُلْ [ آپ کہیے ] اُذُنُ خَيْرٍ [ خیرکا کان ہے ] لَّكُمْ [ تمہارے لیے ] يُؤْمِنُ [ وہ ایمان رکھتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَيُؤْمِنُ [ اور وہ بات مانتے ہیں ] لِلْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کی ] وَرَحْمَةٌ [ اور رحمت ہیں ] لِّلَّذِيْنَ [ ان کے لیے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مِنْكُمْ ۭ [ تم میں سے ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يُؤْذُوْنَ [ ایذا پہنچاتے ہیں ] رَسُوْلَ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول کو ] لَهُمْ [ ان کے لیے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منافقین نبی اکرم ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اور مؤمنین کو راضی کرنے کے لیے قسمیں کھاتے ہیں منافقین چونکہ دل سے مؤمن نہیں تھے اس لیے رسول اللہ ﷺ کے حق میں نازیبا کلمات بھی کہتے رہتے تھے۔ سامنے آتے تو قسمیں کھا کر کہتے کہ ہم مسلمان ہیں۔ آیت بالا ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو پیچھے بد گوئی کرتے تھے جب ان سے کہا جاتا تھا کہ یہ تو تکلیف دینے والی باتیں ہیں رسول اللہ ﷺ کو پہنچ جائیں گی تو ان کو تکلیف ہوگی تو اس پر ان میں سے بعض لوگوں نے یوں جواب دیا کہ کوئی بات نہیں ہے ان کو راضی کرنا اور سمجھانا آسان ہے وہ تو بس ” کان “ ہیں۔ یعنی جو کہو سن لیتے ہیں اور باور کرلیتے ہیں اگر کوئی ہماری بات پہنچے گی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–66

ذکر نوع دیگر از حرکات شنیعۂ منافقین قال اللہ تعالی۔ ومنھم الذین یؤذون النبی۔۔۔ الی۔۔۔ بانھم کانوا مجرمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی منافقین کی جہالتوں اور خباثتوں کا اور ان کی حرکات شنیعہ کا ذکر ہے جو دور سے چلا آرہا ہے۔ درمیان میں تبعاً صدقات کا ذکر آگیا تھا۔ اب پھر منافقین کی قبائح اور فضائح کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی خباثتوں کو بیان کرتے ہیں حق جل شانہ نے ان آیات میں منافقین کی جن قباحتوں کا ذکر کیا ان میں سے اول تو یہ ہے کہ وہ ادب سے کورے ہیں۔ آں حضرت ﷺ کی شان میں خلاف ادب اور تحقیر آمیز الفاظ زبان سے نکالتے ہیں مثلا یہ کہ آپ تو کانوں کے کچے ہیں جو سنتے ہیں اس کا یقین کرلیتے ہیں۔ دوم یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59:“ وَ مِنْھُمُ الَّذِیْنَ الخ ” یہ منافقین کی ایک شرارت کا ذکر ہے کہ وہ رسول خدا ﷺ کو بد زبانی اور طعن وتشنیع سے ایذاء دیتے تھے۔ “ ھُوَ اُذُنٌ ” یہ منافقوں کا قول ہے یعنی یہ نبی تو کان ہے جس طرح کان ہر بات سنتا ہے اسی طرح یہ ہر سنی سنائی بات کو مان لیتا ہے۔ “ قُلْ اُذُنُ خَیْرٌ لَّکُمْ ” اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ اس کے جواب میں فرما دیں کہ اللہ کا پیغمبر تو صرف سچی باتوں کو مانتا ہے۔ یعنی صرف اللہ اور مؤمنوں کی باتوں کو۔ اور پیغمبر ایمان والوں کے لیے رحمت ہے جو شخص ایمان کا اظہار کرتا ہے وہ اس کا ایمان قبول کرلیتا ہے۔ اور رحمت و شفقت کی وجہ سے اس کے پوشیدہ راز نہیں کھولتا۔ یا مخلص مومنین…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–66

ربطِ آیات : پہلے جہاد کی فرضیت اور اس کی ترغیب کا بیان تھا۔ پھر مانعاتِ جہاد کا ذکر اور جہاد و قتال سے متعلق بہت ضروری احکام صادر ہوئے پھر منافقین کی بدکرداری کا ذکر ہوا۔ ان کا پیچھے رہ جانا ، حیلے بہانے بنانا ، طعن وتشنیع کرنا ، خود غرضی اور مفاد پرستی میں مبتلا ہونا ، یہ سب اللہ نے بیان فرمایا مفاد پرستی ہی کے ضمن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ منافقین صدقات کے بارے میں اعتراض کرتے تھے ، اگر انہیں کچھ مل جاتا تو خوش ہوجاتے ورنہ اللہ کے رسول کی تقسیم پر اعتراض کرتے۔ اللہ نے ان کے ایسے اعتراجات کو جواب بھی دیا اور پھر زکوٰۃ وصدقات کے مصارف بھی بیان کیے کہ یہ مال فلاں فلاں مدات پر خرچ ہو سکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِنْہُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ ہُوَاُذُنٌ۝ 0 ۭ قُلْ اُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللہِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَرَحْمَۃٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ۝ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ 61 أذي الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ( ا ذ ی ) الاذیٰ ۔ ہرا س ضرر کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو پہنچتا ہے وہ ضرر جسمانی ہو یا نفسانی یا اس کے متعلقات سے ہو اور پھر وہ ضرر دینوی ہو یا اخروی چناچہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–62

ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔ تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنْھُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَاُذُنٌ ط قُلْ اُذُنُ خَیْرٍلَّکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَرَحْمَۃٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ ط وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (التوبۃ : 61) (اور انہی میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں وہ کانوں کا کچا ہے۔ کہہ دیجیے ! وہ سراپا گوش تمہاری بھلائی کے باب میں ہے وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مومنوں کی بات پر یقین کرتا ہے اور وہ رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے اور جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کی ہر زہ سرائی کا ایک اور انداز۔ منافقین اپنی سازشوں اور شرارتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑے رکھتے تھے بالخصوص رسول محترم ﷺ کی ذات اطہر کے بارے میں یا وہ گوئی کرنے کے لیے نئے سے نیا اور اوچھے سے اوچھا انداز اختیار کرتے تاکہ رسول معظم ﷺ کسی بات میں ان کو سرزنش نہ کرسکیں۔ اگر کوئی مسلمان منافقین کی یا وہ گوئی اور خباثتوں سے نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کرتا تو منافق آپ ﷺ کے استفسار کرنے سے پہلے ہی پروپیگنڈہ شروع کردیتے کہ یہ نبی ﷺ معاملہ فہمی سے عاری اور کانوں کا کچا ہے ان کے رد عمل میں رب ذوالجلال نے آپ ﷺ کو جواب دینے کے لیے فرمایا کہ ان سے فرما دیجیے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پیغمبر ﷺ کو یہ کہہ کر ایذا دینے والے کہ یہ ” کان “ ہے : آیت 61: وَمِنْھُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ ھُوَ اُذُنٌ (اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو نبی کو ایذائیں پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں آپ تو ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں) الاذنؔ سے مراد ایسا آدمی جو ہر سنی سنائی بات کی تصدیق کر دے۔ اور ہر ایک کی بات کو قبول کرلے اور اس ظاہری عضو کو بولتے ہیں جو سننے کا آلہ ہے۔ گویا کہ یہ آدمی صرف کان ہی کان ہے۔ دراصل اس سے آپ کو تکلیف دینا مقصود تھا۔ اس سے وہ آپکی مذمت کرنا چاہتے تھے کہ آپ عقل و قلب کے اعتبار سے فرزانہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کا وہ مطلب بیان فرمایا جس میں آپکی مدح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 61۔” ومنھم الذین یوذون النبی ویقولون ھو اذن “ یہ آیت منافقین کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نبی کریم ﷺ کو تکلیف دیتے تھے اور نا مناسب باتیں کرتے تھے۔ ان میں سے بعض کہتے کہ ایسا کام نہ کرو کیونکہ ہمیں خوف کہ ان تک تمہاری باتیں پہنچ گئیں تو ہم پر کوئی مصیبت آجائے گی تو جلاس بن سوید کہنے لگا ہم جو چاہیں گے کہیں گے پھر ان کے پاس جا کر انکار کردیں گے اور قسمیں اٹھائیں گے تو وہ ہماری بات کی تصدیق کردیں گے کیونکہ محمد ﷺ اذن ہیں ۔ جب کوئی شخص جو کچھ اس کو کہا جائے اس کو سن لے اور قبول کرلے تو اس کو کہا جاتا ہے ” فلان اذن سامعہ ‘ ‘ اور بعض نے کہا اذن بمعنی کان والے ہیں یعنی ذواذن ۔ اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

61۔ اس آیت میں بھی منافقون کی یہ فضیحت بیان کی گئی ہے کہ بعضے منافق ایسے جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانے میں اور طرح طرح کی طعن تشنیع کی باتیں کرتے ہیں دلی نفاقق کی راہ سے آپ کا نام کان رکھ چھوڑا ہے جس سے ان منافقوں کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان شخص ان منافقوں کی کچھ باتیں آ کر حضرت سے بیان کردیتا ہے وہ اسے سچ جان لیتے ہیں اور جب یہ لوگ آپ کے سامنے حاضر ہو کر قسمیں کھا کر اس کے خلاف بیان کرتے ہیں تو انہیں سچا جانتے ہیں اللہ پاک نے اس کا یہ جواب دیا کہ انہیں تم کان کہتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ انہیں سچ اور جھوٹ کی تمیز نہیں ہے یہ تو جھوٹے اور سچے کو خوب پہچانتے ہیں مگر تمہاری طرف سے جو تغافل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–65

آیت 61 (1) لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج وعمرہ پر زکوۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی (رح) نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، اور اء الغلیل 382/3) علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے، راقم کی کتاب ” زکوۃ، عشر اور صدقتہ الفطر “ ص 301، 401 مطبوعہ دار السلام (ص۔ ی) یعنی یہ منافقین (الذین یوذون النبی) ” جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔ “ یعنی جو روی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) اپنے باپ بیٹے اور بیوی کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ابو بکر جصاص کہتے ہیں کہ ان اقوال کی روشنی میں فقہاء کا اس پر اتفاق ثابت ہوگیا کہ والد، ولد اور زوجہ کو زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ اس پر حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی دلالت کرتا ہے صانت ومالک لابیک تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے) نیز ارشاد ہوا (ان اطیب ما اکل الرجال من کسبہ وان ولدہ من کسبہ۔ اور انسان کا بیٹا بھی اس کی کمائی ہے) جب ایک شخص کا مال اس کے باپ کی طرف منسوب و مضاف ہو اور اس کی یہ صفت بیان کی جائے کہ وہ بھی اس کی کمائی ہے تو اس صورت میں اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو زکوٰۃ دے گا تو اس پر اس کی ملکیت باقی رہے گی اس لئے کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 61–62

126{ ھُوَ اُذُنٌ } کا مطلب ؟ : یعنی یہ ایسے ہیں کہ جو سنا، مان لیا۔ پس ہماری یہ باتیں اگر ان کو پہنچ بھی گئیں تو ہم ان کے سامنے قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کردیں گے اور ان کو منوا لیں گے۔ یہ باتیں منافق لوگ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے بارے میں اپنی مجلسوں میں کیا کرتے تھے۔ اور وجہ اس کی یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ اپنے کریمانہ اخلاق کی بناء پر ان لوگوں کی بری باتوں سے درگزر فرما لیتے۔ کوئی گرفت نہ فرماتے۔ تو اس سے یہ بد باطن لوگ اس سے ایسے مطلب نکالتے اور اس کی طرح باتیں چھانٹتے اور اس طرح اپنی بدبختی میں اضافے کا سامان کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان بدبختوں کا آنحضرت کے بارے میں کہنا تھا کہ " یہ صاحب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–63

منافقین کا توہین رسالت کا مرتکب ہونا اور ان کا جواب تشریح : ان آیات میں منافقوں کی بدخصلت، بدنیتی اور بداخلاقی کا ذکر کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ ( آپ پر میری جان بھی قربان) کی صفات، بلند کرداری، حسن سیرت اور عفو و درگزر کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہاں منافقین اور کہاں رسول اللہ ﷺ ؟ اس لیے منافقین کے انجام کا ذکر عَذَابٌ اَلِیْمٌ اور جہنم کی بڑھکتی ہوئی آگ سے کیا گیا ہے۔ اپنے برے اعمال کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ٹھکانا ملے گا۔ اگلی آیات بھی انہی کے بارے میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–66

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف رب جلیل نے صدقات واجبہ کی تقسیم فرما کر واضح فرمادیا کہ یہ محض اندازہ سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اللہ کریم نے کچھ خاص درجہ کے مسلمانوں کا حق مقرر فرمادیا ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ زکوۃ کی تقسیم رب جلیل نے کسی نبی کے اختیار میں بھی نہیں دی بلکہ خود فرمائی ہے علاوہ ازیں صدقہ نافلہ مومن دکافرپہ عام ہے اور اس کی تقسیم پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی صوابدید پر ہے حتی کہ صدقہ فطر تک کافر کو بھی دیا جاسکتا ہے کہ اسلام انسانیت کی بہتری کا علمبردار ہے اور عالم اسباب میں مال کی تقسیم ہی انسانیت کی آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے کچھ لوگوں کو مال زیادہ عطا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ غلاموں کی آزادی حاصل کرنے میں۔ دی جائے۔ 6 ۔ غارمین سے مراد وہ قرضدار ہیں جو اپنے مال سے پوراقرض ادا کریں تو فیقر ہوجائیں۔ صرف جہاد اور غزوہ ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مجاہد کی زکوٰۃ سے مدد لی جاسکتی ہے۔ ( ابو داؤؤد) ابن السبیل ( مسافر) یعنی اگر اثنائے سرف کیسی حادثہ سے اس کا مال تباہ ہوگیا ہو اور گھر سے سفر خرچ منگوانے کی کوئی صورت نہ وہ تو مال زکوٰۃ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ زکو ٰۃ کے ان تمام مصارف میں زکوٰۃ صرف کان واجب نہیں ہے بلکہ حسب اور آنحضرت ﷺ نے اس کی اجا زت دی ہے۔ ( کتاب اللسوالا بی عبید بروایت حضرت معاذ)4 یعنی کان کا کچا ہے۔ ہر ایک کی بات سن کر اس پر اعتبار کرلیتا ہے ( از کبیر)5…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:61) یؤذون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ایذاء (افعال) مصدر۔ ایذا دیتے ہیں دکھ دیتے ہیں۔ اذن۔ اذن۔ کان۔ مجازا اس شخص کو کہتے ہیں جو کان لگا کر سنے اور سن کر مانے کانوں کو کچا۔ ھواذن۔ مبالغہ کا مفہوم پیدا کرنے کے لئے تمام وجود کو جسم کا ایک حصہ کا نام دیدیا گیا ہے۔ گویا کہ وہ اتنا سنتا ہے کہ صرف کان ہی کان ہے۔ جیسے جاسوس کے لئے عین کا لفظ استعمال کرتے ہیں انگریزی میں محاورہ ہے۔ یعنی وہ اس قدر انہماک سے سن رہا تھا گویا اس کے جسم کا ایک ایک حصہ کان کا کام دے رہا ہے اذن خیر لکم۔ اس کی تقدیر یوں بھی ہوسکتی ہے اذن ذی خیر لکم تمہارے ساتھ بھلائی کرنے والے کا کان۔ یا اس کا مطلب یوں بھی ہوسکتا ہے ھو اذن فی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–62

لغات القرآن آیت نمبر 60 مکسی ن (مکسین) ، محتاج العملین (کام کرنے والے) المولفۃ (مائل کرنا) الرقاب (رقبۃ) گردنیں الغرمین (الغارم) جرمانہ بھرنے والے تشریح : آیت نمبر 60 دین اسلام ہر مومن کو ایک غیرت ایمانی عطا کرتا ہے اور اس کو ہر اس جگہ سے دور کردیتا ہے کہ جہاں اس کی غیرت متاثر ہو سکتی ہے یا اس کو اپنی حاجت کے لئے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے یہ ذمہ داری حکومت اسلامی کی رکھی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حالات پر نظر رکھے جو اپنی غیرت کی وجہ سے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرسکتے۔ اس مقصد کے لئے زکوۃ و صدقات کے نظام کو قائم فرمایا گیا ہے تاکہ آج وہ شخص جو اپنی سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : منافقین اپنے جلسوں میں آنحضرت ﷺ کی شان میں ناشائستہ باتیں بکا کرتے تھے۔ ان میں سے بعضوں نے کہا کہ اگر حضور ﷺ جو خبر ہوگئی تو ہمارے حق میں اچھا نہ ہوگا۔ جلاس بن سوید منافق نے کہا : ہم جو چاہیں کہیں آنحضرت ﷺ کے سامنے مکر جائیں گے اور قسم کھالیں گے۔ وہ تو کان ہیں ان سے جو کہ دیا جائے سن کر مان لیتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ فرمایا کہ تم انہیں کان کہتے ہو وہ تو جھوٹے اور سچے کو خوب پہچانتے ہیں۔ یہ محض تمہاری پردہ پوشی کے خیال سے کرتے ہیں۔ جو ایماندار ہیں ان کی باتوں کو قبول کرتے ہیں اور جو منافق ہیں ان کی باتوں کو اگرچہ دل سے نہیں مانتے لیکن یہ اللہ کے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–64

[39] یعنی جو کچھ کسی نے کہا یقین کرلیا۔ [40] یعنی اگر وہ سننے والا بھی ہے تو خیر و صلاح کا سننے والا ہے شر و فساد کا نہیں۔ وہ صرف انہی باتوں پر توجہ کرتا ہے جن میں امت کی بھلائی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–62

(ف 2) انبیاء (علیہم السلام) جہاں انتہاء درجہ کے زیرک ودانا ہوتے ہیں وہاں عفو و کرم کا مادہ بھی ان میں اسی تناسب سے موجود ہوتا ہے وہ حالات کو جانتے ہیں ، مگر بوجہ مرحمت کے اکثر غلطیوں سے درگزر کرتے ہیں ، حضور ﷺ کو منافقین آ کر طرح طرح کے عذر سناتے ، آپ قبول فرما لیتے ، اس پر وہ اپنی مجلسوں میں کہتے رسول کیا ہے نراکان ہے ، سن لیتا ہے ، جانتا نہیں کہ ہم اسے دھوکا دے رہے ہیں ، کم بختو ! اس میں تو تمہارا ہی بھلا ہے رسول تو سراپا رحمت وعفو ہے ، جسے تم سادگی پر محمول کرتے ہو ، وہ چشم پوشی اور ستاری ہے ، یہ تنبیہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوئی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

61 اور ان منافقوں میں سے بعضے لوگ وہ ہیں جو نبی کو ایذائیں پہنچاتے اور تکلیف دیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ یہ شخص تو محض کان ہے اور محض کان رکھتا ہے آپ کہہ دیجئے وہ محض کان رکھتا ہے اور صرف کان رکھتا ہے تو تمہارے بھلے کو وہ نبی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے اور مخلص مسلمانوں کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو لوگ اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں ان کے ساتھ مہربانی کا برتائو کرتا ہے اور جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذاء پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ کہتے ہیں بعض منافقین نے آپ کو غائبانہ برا کہادوسرے منافق نے روکا کہ ایسا نہ کہو کبھی کوئی آپ سے جاکر کہہ دے اور وہ ہم پر ناراض ہوں براکہنے والے نے کہا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 4۔ فقیر کے معنی ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ مسکین کے معنی ہیں جس کے پاس نصاب سے کم ہو۔ 5۔ اسلام اور قدرنصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ کا مالک و قابض نہ ہوناسب میں شرط ہے بجز عاملین ومحصلین زکوة کے جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں کہ ان کو باوجود غنی ہونے کے بھی اس زکوة میں سے بطور اجرت کے دیناجائز ہے باقی اصناف میں قید مذکور شرط ہے۔ 6۔ مولفة القلوب کو جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زکوة دی جاتی تھی گو وہ مسلمان نہ ہوں۔ مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو یا محض ان کے شروفتنہ سے بچنے کے لیے اور یا مسلمان ہوں مگر غریب نہ ہوں محض ان کو اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لیے صحابہ کے وقت میں اجماع ہوگیا ان کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رسول اللہ ﷺ کو ” ہُوَ اُذُنٌ 1ؕ “ کہنے والوں کی اصل مراد کیا تھی ؟ 83: جس چیز کو ہماری زبان میں ” کان کا کچا “ کہتے ہیں اس چیز کو عربی زبان میں ” ہُوَ اُذُنٌ 1ؕ “ کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہ جو شخص ہر ایک کی بات سن لے اسے ” رجل اذن “ کہتے ہیں ( جوہری امام لغۃ) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جو ہر ایک کی بات سنے بھی اور اسے مان بھی لے اسے ” رجل اذن “ کہا جاتا ہے۔ (قرطبی) منافقین اکثر یہ کرتے تھے کہ اپنی نجی محفلوں میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق جو جی میں آتا کہہ دیتے پھر اگر کوئی ان سے کہتا کہ تمہاری باتوں کا علم اگر رسول اللہ ﷺ کو ہوگیا تو تمہاری بڑی فضیحت ہوگی تو وہ بےجھجھک کہہ دیتے کہ میاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The present verses, like the previous ones, chastise hypocrites for their absurd objections, hostility to the Holy Prophet ﷺ and their feigned professions of Faith on false oaths. The first verse (61) mentions the painful comment made by the hypocrites against the Holy Prophet ﷺ . They thought, since he hears and believes everything, they had nothing to worry about. In the event, their conspiracy was exposed, they would simply tell him on oath that they had nothing to do with it. Allah Almighty corrected them by saying that His Messenger preferred silence against baseless…

Read the full tafseer →