At-Tawba 9:62

At-Tawba · from ayah 62

9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ ۚ— وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۟يَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰهِ لَـكُمۡ لِيُرۡضُوۡكُمۡ‌ۚ وَاللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَحَقُّ اَنۡ يُّرۡضُوۡهُ اِنۡ كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ‏

مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They swear by Allah to you [Muslims] to satisfy you. But Allah and His Messenger are more worthy for them to satisfy, if they should be believers.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:62

یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اس کے پیغمبر خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

محض تمہیں خوش کرنے کے لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں حاﻻنکہ اگر یہ ایمان دار ہوتے تو اللہ اور اس کا رسول رضامند کرنے کے زیاده مستحق تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(مسلمانو) یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں اس لیے کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اگر یہ واقعی مومن ہوں تو اللہ اور اس کے رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہارے سامنے اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ تمہیں راضی کرلیں اور اللہ و رسول کا حق زائد تھا کہ اسے راضی کرتے اگر ایمان رکھتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

مسلمانو! (یہ منافقین) تمہارے سامنے اللہ کی قَسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی رکھیں حالانکہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ حق دار ہے کہ اسے راضی کیا جائے اگر یہ لوگ ایمان والے ہوتے (تو یہ حقیقت جان لیتے اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو راضی کرتے، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے سے ہی اللہ راضی ہو جاتا ہے کیونکہ دونوں کی رضا ایک ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تمہارے لیے اللہ کی قسم کھاتے ہیں، تاکہ تمہیں خوش کریں، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق دار ہے کہ وہ اسے خوش کریں، اگر وہ مومن ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ (منافق) تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں خوش رکھیں۔ حالانکہ اگر وہ ایماندار ہوتے تو اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ انہیں راضی رکھیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ تمہارے آگے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ تمہیں مطمئن کریں، حالانکہ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ اس کو راضی کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ لوگ تمہارے لئے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں، حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس کے کہیں زیادہ حق دار ہیں کہ یہ انہیں راضی کریں اگر یہ ایماندار ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ تم کو خوش کرلیں۔ حالانکہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ مستحق ہیں کہ خوش اس کو کرلیں اگر (واقعی) یہ لوگ ایمان والے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے مسلمانو !) یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ انہیں راضی کریں اگر وہ واقعتا مؤمن ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنو ! یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں، حالانکہ اگر یہ دل سے مومن ہوتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو راضی کرنا بہت ضروری ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They swear by Allah to please you, while it is Allah and His Messenger whose pleasure they should seek if they truly believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(O believers,) they swear by Allah before you, so that they may please you, whereas Allah, as well as His Messenger, has greater right that they should please Him, if they are (true) believers.

— Muhammad Taqi Usmani

(O believers,) they swear by Allah before you, so that they may please you, whereas Allah, as well as His Messenger, has greater right that they should please Him, if they are (true) believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They swear by Allah to you (Muslims) in order to please you, but it is more fitting that they should please Allah and His Messenger, if they are believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They swear by Allah to you (Muslims) to please you, but Allah, with His messenger, hath more right that they should please Him if they are believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They swear by Allah to you [Muslims] to satisfy you. But Allah and His Messenger are more worthy for them to satisfy, if they should be believers.

— Saheeh International

They (hypocrites) swear by God in their effort to please you, but if they were true believers (they would know) that God and His Messenger deserve more to be pleased than anyone else.

— Muhammad Sarwar

They swear to you by Allah that they might please you and, Allah, as well as His Apostle, has a greater right that they should please Him, if they are believers.

— Muhammad Habib Shakir

They swear unto you by Allah that ye be pleased, whereas wortheir are Allah and His apostle that they should please Him, if they be believers indeed.

— Abdul Majid Daryabadi

To you they swear by Allah. In order to please you: But it is more fitting that they should please Allah and His Messenger, if they are Believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 62–63

نادان اور کوڑ مغز کون ؟ واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقل مند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد ﷺ کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے ؟ یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی نے سن لی اور اس نے کہا واللہ حضور ﷺ کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کوڑ مغز ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ جب یہ صحابی دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا کہ آپ نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے اس صحابی نے دعا کی کہ پروردگار تو سچے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 61–63

سورة التَّوْبَة 69 منافقین نبی ﷺ کو جن عیوب سے متہم کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ حضور ﷺ ہر شخص کی سن لیتے تھے اور ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا موقع دیا کرتے تھے۔ یہ خوبی ان کی نگاہ میں عیب تھی۔ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کانوں کے کچے ہیں، جس کا جی چاہتا ہے آپ ﷺ کے پاس پہنچ جاتا ہے جس طرح چاہتا ہے آپ ﷺ کے کان بھرتا ہے، اور آپ ﷺ اس کی بات مان لیتے ہیں۔ اس الزام کا چرچا زیادہ تر اس وجہ سے کیا جاتا تھا کہ سچے اہل ایمان ان منافقین کی سازشوں اور ان کی شرارتوں اور ان کی مخالفانہ گفتگوؤں کا حال نبی ﷺ تک پہنچا دیا کرتے تھے اور اس پر یہ لوگ سیخ پا ہو کر کہتے تھے کہ آپ ہم جیسے شرفا و معززین کے خلاف ہر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–63

خلاصہ تفسیر اور ان (منافقین) میں بعضے ایسے ہیں کہ نبی ﷺ کو ایذائیں پہنچاتے ہیں (یعنی آپ کی شان میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ سن کر آپ کو ایذاء ہو) اور (جب کوئی روکتا ہے تو) کہتے ہیں کہ آپ ہر بات کان دے کر سن لیتے ہیں (آپ کو جھوٹ بول کر دھوکہ دیدینا آسان ہے، اس لئے کچھ فکر نہیں) آپ (جواب میں) فرما دیجئے کہ (تم کو خود دھوکہ ہوا رسول اللہ ﷺ کا کسی بات کو سن لینا دو طور پر ہے، ایک تصدیق کے طور پر کہ دل سے بھی اس کو صحیح سمجھیں، دوسرا خوش خلقی اور کریم النفسی کے طور پر کہ باوجود یہ جان لینے کے کہ یہ بات محض غلط ہے شرافت نفس اور حسن خلق کی بناء پر اس کو ٹال دیں، اور کہنے والے پر داروگیر یا اس کی صریح…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عذر گناہ بدتر از گناہ : خطاب مسلمانوں سے ہے کہ، يَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ ۚ وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ ، منافقین اپنے ایمان کے بارے میں تم کو اطمینان دلانے کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں حالانکہ ان کے اندر اگر ایمان ہوتا تو تمہارے اطمینان سے زیادہ ان کو اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی فکر ہوتی۔ یہ بڑی ہی برمحل گرفت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حرکت جو یہ اپنے ایمان کو معتبر ثابت کرنے کے لیے کر رہے ہیں بجائے خود ان کی بےایمانی کی ایک واضح دلیل ہے، یہ اسی طرح کی گرفت ہے جس کی نہایت بلیغ مثال، الا فی الفتنۃ سقطوا، میں گزر چکی ہے۔ بسا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 61–64

61۔ 1 یہاں سے پھر منافقین کا ذکر ہو رہا ہے نبی ﷺ کے خلاف ایک ہرزہ سرائی انہوں نے یہ کی کہ یہ کان کا کچا (ہلکا) ہے، مطلب ہے کہ یہ ہر ایک بات سن لیتا ہے (یہ گویا آپ ﷺ کے حلم و کرم اور عفو و صفع کی صفت سے ان کو دھوکہ ہوا) اللہ نے فرمایا کہ نہیں، ہمارا پیغمبر شر و فساد کی کوئی بات نہیں سنتا جو بھی سنتا ہے تمہارے لئے اس میں خیر اور بھلائی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–63

55: یہ عربی زبان کے ایک محاورے کا لفظی ترجمہ ہے۔ عربی محاورے میں جب کوئی شخص ہر ایک کی بات سن کر اس پر یقین کرلیتا ہو، اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ تو ”نرا کان ہے“ یا ”سراپا کان ہے“۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اردو میں کہا جاتا ہے کہ ”وہ کچے کانوں کا ہے“۔ منافقین نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ گستاخانہ جملہ آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے بولا تھا، اور مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی ہماری سازش آنحضرت صلی اللہ علیہ پر کھل بھی گئی تو ہم باتیں بنا کر آپ کو راضی کرلیں گے۔ کیونکہ وہ ہر ایک کی بات کا یقین کرلیتے ہیں۔ 56: منافقین کے مذکورہ بالا جملے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ایک تو یہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھا کر تم کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور منافقین کا ہر دور میں یہی وطیرہ رہا ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ کہتے کچھ ین اور کرتے کچھ ہیں۔ سامنے ان کا رویہ اور ہوتا ہے اور پیٹھ پیچھے ان کا رویہ اور ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مومنین صادقین کے ساتھ آنکھیں بھی نہیں ملا سکتے۔ نہ ان کے ساتھ بات کرسکتے ہیں چناچہ پھر وہ قسموں کا سہارا لے کر چاپلوسی اور ذلت اختیار کرکے لوگوں کی رضامندی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ، اگر یہ سچے مومن ہیں تو اللہ و رسول اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ کیونکہ لوگوں کا مقام ہی کیا ہے ؟ لوگوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 حضرت شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ " کسی وقت حضرت ﷺ ان کی دغا بازی پکڑتے تو مسلمانوں کے روبرو قسمیں کھاتے کہ ہمارے دل میں بری نیت نہ تھی۔ تاکہ ان کو راضی کر کے اپنی طرف کرلیں۔ نہ سمجھے کہ یہ فریب بازی خدا اور رسول ﷺ کے ساتھ کام نہیں آتی۔ " اگر دعوائے ایمان میں واقعی سچے ہیں تو دوسروں کو چھوڑ کر خدا و رسول ﷺ کو راضی کرنے کی فکر کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 62–63

آیت 62 یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ ج اس مہم کی تیاری کے دوران منافقین کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جھوٹے بہانے بنا کر رسول اللہ ﷺ سے رخصت لے لیتے ‘ اور پھر قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو بھی یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ ہم آپ کے مخلص ساتھی ہیں ‘ آپ لوگ ہم پر شک نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 منافقوں کی جب بھی کوئی سازش یا دغا بازی پکڑی جاتی تو فوراً اس سے مکر جاتے اور اپنے جھوٹے بیان پر قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو مطمئن اور راضی کرنے کی کوشش کیا کرتے۔ حالانکہ یہی بات ان کی منافقت کو مزید تقویت پہنچا دیتی تھی۔ اس کے بجائے اب بھی اگر وہ اللہ سے ڈر جاتے اور اپنی غلطیوں اور گناہوں کا اعتراف کر کے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی کوشش کرتے تو یہ فی الواقع ان کے اللہ پر یقین رکھنے کی دلیل بن سکتی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

120 ۔ اور اس طرح ہمارے انتقام وتعزیر سے اپنے جان ومال کو بچالے جائیں) لکم یعنی تم مسلمانوں کے سامنے، تمہیں سنا سنا کر۔ (آیت) ” یحلفون باللہ “۔ قسمیں اس امر پرکھاتے ہیں کہ ہم نے فلاں بات نہیں کی، یا فلاں الزام میں ہم بالکل بےقصور ہیں۔ 121 ۔ یعنی اگر یہ لوگ واقعی اہل ایمان ہیں تو انہیں جاننا چاہیے تھا کہ مومنین کی رضا جوئی پر اللہ اور اس کے رسول کی رضا جوئی کہیں مقدم ہے۔ (آیت) ” یرضوہ “ میں ضمیر رسول کی جانب بھی ہوسکتی ہے جو مرجع قریب ہے اور اللہ کی جانب بھی جو مرجع بعید ہے اور ایک ہی ضمیر سے دونوں کام نکالنے میں نکتہ بلاغت یہ ہے کہ رسول کی رضا اللہ کی رضا سے منضم ہے اور یہ کمال قرب و قبول رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 62–64

یحلفون باللہ لکم لیُرْضوکم الخ اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے منافقوں کے پوشیدہ راز کو ظاہر فرما دیا کہ یہ لوگ خلوتوں میں آنحضرت ﷺ اور مومنوں پر زبان طعن دراز کرتے ہیں اور اس کی اطلاع آپ کو ہوجاتی ہے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹی قسمیں کھا کر انکار کردیتے ہیں، اس جھوٹی قسم سے ان کا منشا آپ کو اور مومنوں کو خوش کرنا ہوتا ہے حالانکہ ہونا یوں چاہیے تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنے کی فکر کرتے اور نفاق چھوڑ کر مخلص ہوجاتے، کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے وہ ہمیشہ ہمیش دوزخ میں رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یحلفون باللہ لکم لیرضوکم (اے مسلمانو ! ) وہ تم کو راضی کرنے کیلئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں (اور قسمیں کھا کھا کر عذر پیش کرتے ہیں) ۔ وا اللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مؤمنین۔ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو اس کو (طاعت اور خلوص قلبی کے ذریعہ سے) راضی کریں۔ یُرْضُوْہُکی ضمیر ان کی طرف راجع ہے ‘ کیونکہ جھوٹی قسمیں کھا کر اللہ کو راضی نہیں کیا جاسکتا بلکہ خلوص قلبی اور طاعت سے ہی اس کی رضامندی حاصل ہوسکتی ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اللہ اور رسول میں سے ہر ایک کی طرف ضمیر راجع ہے۔ چونکہ اللہ کی اور اس کے رسول کی رضامندی ایک ہی ہے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(62) یہ لوگ جہاد میں نہ شریک ہو کر پھر اپنی صفائی کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ آپ کو مطمئن کریں اگر یہ لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو راضی کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَحْلِفُوْنَ باللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ : منافقین جب الگ مجلسوں میں بیٹھتے یا کہیں اکیلے ہوتے تو مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ پر پھبتیاں کستے۔ مسلمانوں کو یا نبی ﷺ کو اگر کبھی ان کی اطلاع ہوجاتی تو وہ قسمیں کھا کھا کر مسلمانوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتے اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی پروا نہ کرتے۔ اس آیت میں منافقین کی اس حرکت کا ذکر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 62۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) روایت ہے کہ منافقین کی ایک قوم جمع ہوئی، ان میں جلاس بن سودی، ودیعہ ابن ثابت تھے اور ان میں انصار کا غلام بھی تھا جسے عامر بن قیس پکارا جاتا تھا، تو انہوں نے اسے بہت حقیر قرار دیا اور گفتگو کرتے ہیں انہوں نے کہا : اگر وہ حق ہے جو محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے ہیں تو یقینا ہم گدھوں سے زیادہ شریر ہیں، تو وہ غلام غضب ناک ہوگیا اور اس نے کہا : قسم بخدا بلاشبہ جو وہ کہتے ہیں وہ حق ہے اور تم گدھوں سے زیادہ شریر ہو، پھر اس نے اس کے قول کے بارے حضور حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو خبر دی تو انہوں نے قسم اٹھا دی کہ عامرجھو ٹا ہے تو عامر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ منافقین میں سے ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم کہ یہ لوگ (یعنی منافقین) البتہ ہمارے اختیار اور ہمارے اشراف ہیں اور جو محمد ﷺ فرماتے ہیں اگر وہ سچ ہے تو گدھوں نے بڑھ کر ان کے لئے برا ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے اس بات کو سن لیا تو اس نے کہا اللہ کی قسم جو کچھ محمد ﷺ فرماتے ہیں جو یقینا سچ ہے البتہ تو گدھے سے بھی زیادہ برا ہے وہ آدمی دوڑتا ہوا نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور ان کو یہ بات بتائی آپ نے کسی کو بھیج کر اس (منافق) کو بلوایا اور فرمایا تجھے کس بات نے آمادہ کیا تھا اس پر جو تو نے بات کہی۔ تو وہ لعنت کرنے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَحْلِفُوْنَ [ وہ لوگ قسم کھاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] لَكُمْ [ تم سے ] لِيُرْضُوْكُمْ ۚ [ تاکہ وہ راضی کریں تم کو ] وَ [ حالانکہ ] اللّٰهُ [ اللہ ] وَرَسُوْلُهٗٓ [ اور اس کا رسول ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ہیں ] اَنْ [ کہ ] يُّرْضُوْهُ [ وہ راضی کریں ان کو ] اِنْ [ اگر ] كَانُوْا [ وہ ہیں ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ] (آیت ۔ 62) ۔ ان یرضوہ میں ضمیر مفعولی واحدلا کر ظاہر کیا گیا ہے کہ اللہ کا حق اور اس کے رسول کا حق ایک ہی بات ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر منافقین کی ایک عادت بد کا تذکرہ فرمایا (یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ ) (وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں) منافقین کا یہ طریقہ تھا کہ طرح طرح کی باتیں کرتے اور اپنی باتوں سے منحرف ہوجاتے تھے۔ پھر چونکہ زیادہ تر واسطہ عامۃ المسلمین سے پڑتا تھا اس لیے انہیں راضی رکھنے کے لیے بار بار قسمیں کھا کر ان سے اپنا تعلق ظاہر کرتے تھے تاکہ یہ لوگ انہیں اپنے سے جدا نہ سمجھیں۔ پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ ) (اور اللہ اور اللہ کا رسول اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو راضی کیا جائے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–66

ذکر نوع دیگر از حرکات شنیعۂ منافقین قال اللہ تعالی۔ ومنھم الذین یؤذون النبی۔۔۔ الی۔۔۔ بانھم کانوا مجرمین۔ (ربط) ان آیات میں بھی منافقین کی جہالتوں اور خباثتوں کا اور ان کی حرکات شنیعہ کا ذکر ہے جو دور سے چلا آرہا ہے۔ درمیان میں تبعاً صدقات کا ذکر آگیا تھا۔ اب پھر منافقین کی قبائح اور فضائح کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کی خباثتوں کو بیان کرتے ہیں حق جل شانہ نے ان آیات میں منافقین کی جن قباحتوں کا ذکر کیا ان میں سے اول تو یہ ہے کہ وہ ادب سے کورے ہیں۔ آں حضرت ﷺ کی شان میں خلاف ادب اور تحقیر آمیز الفاظ زبان سے نکالتے ہیں مثلا یہ کہ آپ تو کانوں کے کچے ہیں جو سنتے ہیں اس کا یقین کرلیتے ہیں۔ دوم یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 62–63

60:“ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ الخ ”“ لَکُمْ ” اور “ لِیُرْضُوْکُمْ ” میں ضمیر خطاب مؤمنین سے کنایہ ہے۔ منافقین، مومنین کے سامنے قسمیں کھا کھا کر اپنی براءت کتے اور ان کو خوش کرنے کی کوشش کرتے اللہ نے فرمایا اگر واقعی وہ مومن ہوتے تو ان کا فرض تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ایسا انہوں نے کیا نہیں تو صرف مسلمانوں کو خوش کرنے سے کیا حاصل۔ “ اَلَمْ یَعْلَمُوْا الخ ” یہ تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–66

ربطِ آیات : پہلے جہاد کی فرضیت اور اس کی ترغیب کا بیان تھا۔ پھر مانعاتِ جہاد کا ذکر اور جہاد و قتال سے متعلق بہت ضروری احکام صادر ہوئے پھر منافقین کی بدکرداری کا ذکر ہوا۔ ان کا پیچھے رہ جانا ، حیلے بہانے بنانا ، طعن وتشنیع کرنا ، خود غرضی اور مفاد پرستی میں مبتلا ہونا ، یہ سب اللہ نے بیان فرمایا مفاد پرستی ہی کے ضمن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ منافقین صدقات کے بارے میں اعتراض کرتے تھے ، اگر انہیں کچھ مل جاتا تو خوش ہوجاتے ورنہ اللہ کے رسول کی تقسیم پر اعتراض کرتے۔ اللہ نے ان کے ایسے اعتراجات کو جواب بھی دیا اور پھر زکوٰۃ وصدقات کے مصارف بھی بیان کیے کہ یہ مال فلاں فلاں مدات پر خرچ ہو سکتا ہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَحْلِفُوْنَ بِاللہِ لَكُمْ لِيُرْضُوْكُمْ۝ 0 ۚ وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْہُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝ 62 حلف الحِلْف : العهد بين القوم، والمُحَالَفَة : المعاهدة، وجعلت للملازمة التي تکون بمعاهدة، وفلان حَلِفُ کرم، وحَلِيف کرم، والأحلاف جمع حلیف، قال الشاعر وهو زهير : تدارکتما الأحلاف قد ثلّ عرشها أي : كاد يزول استقامة أمورها، وعرش الرجل : قوام أمره . والحَلِفُ أصله الیمین الذي يأخذ بعضهم من بعض بها العهد، ثمّ عبّر به عن کلّ يمين، قال اللہ تعالی: وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ [ القلم/ 10] ، أي : مکثار للحلف، وقال تعالی: يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ ما قالوا[ التوبة/ 74] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–62

ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔ تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ ج وَاللّٰہُ وَرَسُوْلـُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِِیْنَ (التوبۃ : 62) (وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ وہ تمہیں راضی کردیں حالانکہ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ اور اس کا رسول اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ اس کو راضی کریں۔ ) قسموں کی مہم ہم گزشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ منافقین امیر ہوں یا غریب مسلمان معاشرے میں رہنے پر مجبور تھے کیونکہ اسلام کے ایک غالب قوت بن جانے کے بعد جزیرہ عرب کی حدتک کوئی اسے چیلنج کرنے والا نہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر منافقین عرب میں رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے مسلمانوں کے سوا کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 62–63

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے کردار اور گفتار کا بیان جاری ہے۔ منافق محض اپنی چرب لسانی سے مومنوں کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا چاہیے تھا۔ اگر اللہ اور اس کا رسول راضی ہوجاتا ہے تو مومن خود بخود راضی ہوجاتے لیکن اے منافقو ! تمہاری حالت یہ ہے کہ جو کچھ بھی کر رہے ہو وہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ یاد رکھو تمہیں دنیا میں مہلت دی جا رہی ہے لیکن بالآخر تم نے ہمیشہ جہنم میں جلنا ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور تکلیف اور رسوائی نہیں ہوسکتی۔ منافق کو منافق اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دوہرے کردار اور گفتار کا مالک ہوتا ہے۔ منافقین جب نبی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے قسمیں کھانا ‘ حالانکہ اللہ اور رسول کو راضی کرنا چاہیے : آیت 62: یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ لِیُرْضُوْکُمْ (وہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو راضی کرلیں) اس میں مسلمانوں کو خطاب فرمایا۔ منافقین طعنہ زنی کرتے یا جہاد سے تخلف اختیار کرتے پھر معذرت کیلئے آجاتے اور پکی قسمیں اٹھاکر معذرتیں پیش کرتے اور مسلمانوں کو راضی کرتے اس میں انہیں فرمایا۔ وَاللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ (حالانکہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے مسلمان ہیں تو ان کو راضی کریں) یعنی اگر تم اپنے زعم و خیال کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

62۔” یحلفون باللہ لکم لیرضوکم “ قتادہ اور سدی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ منافقین کے کچھ لوگ جمع ہوئے ، ان میں جلاس بن سوید اور ودیعہ بن ثابت بھی تھے تو نبی کریم ﷺ کی شان میں نازیبا باتیں کرنے لگے اور کہنے لگے کہ اگر محمد ﷺ جو کہتے ہیں وہ سچ ہے تو ہم چھوٹے گدھے سے بھی برے ہیں اور ان کے پاس ایک انصاری لڑکے عامر بن قیس ؓ بھی بیٹھے تھے تو انہوں نے ان کی بھی تحقیر کی اور یہ باتیں بھی کہیں تو اس لڑکے کو غصہ آگیا اور کہا اللہ کی قسم ! محمد ﷺ جو کہتے ہیں وہ حق ہے اور تم کو چھوٹے گدھے سے بھی برے ہو۔ پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ (علیہ السلام) کو ساری بات بتائی تو آپ (علیہ السلام) نے ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 62–63

62۔ 63۔ اس آیت میں اللہ پاک نے منافقوں کے پوشیدہ راز کو کھول دیا کہ یہ لوگ خلوتوں میں آنحضرت ﷺ اور مومنوں پر طعن کی باتیں کرتے ہیں اور جب وہ خبر حضرت کو پہنچ جاتی ہے تو حاضر ہو کر خدا کی قسمیں کھا کر کہنے لگتے ہیں کہ یہ بات ہم نے نہیں کہی ہے اور اس جھوٹی قسم سے ان کا منشا یہ ہوتا ہے کہ حضرت اور مومنین ان سے راضی رہیں اس لئے فرمایا کہ اگر یہ لوگ خدا سے ڈر کر اور ایمان لاکر باتیں کرتے اور نفاق چھوڑ دیتے تو بیشک خدا اور اس کا رسول ان سے راضی ہوتا کیا انہیں یہ نہیں معلوم ہے کہ جو خدا اور رسول کی مخالفت کرتا ہے اس کا ٹھکانا ہمیشہ ہمیشہ کو دوزخ میں ہے جو رسوائی کی بات ہے تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–65

آیت 61 (1) لیکن ان کی بنیاد سنن ابی داؤد وغیرہ کی ایک روایت ہے جس کی رو سے حج وعمرہ پر زکوۃ کی رقم صرف کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ شیخ البانی (رح) نے اسے صحیح کہا ہے لیکن اس میں عمرہ کے ذکر کو شاذ قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو، اور اء الغلیل 382/3) علاوہ ازیں صحابہ میں سے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور ائمہ میں سے امام احمد و امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہم وغیرہ بھی اس کے قائل ہیں۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے، راقم کی کتاب ” زکوۃ، عشر اور صدقتہ الفطر “ ص 301، 401 مطبوعہ دار السلام (ص۔ ی) یعنی یہ منافقین (الذین یوذون النبی) ” جو نبی کو ایذا دیتے ہیں۔ “ یعنی جو روی اقوال اور عیب جوئی کے ذریعے سے نبی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 62–64

رضا الٰہی رضائے رسول ﷺ کی متضمن ہے قول باری ہے واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ ان کانوا مومنین اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسول اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں ایک قول کے مطابق یرضوہ میں ضمیر واحد مذکور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا رسول اللہ ﷺ کی رضا کو متضمن ہوتی ہے اس لیے کہ ہر وہ کام جس سے اللہ راضی ہوتا ہے اس سے رسول بھی راضی ہوتا ہے۔ اس لیے دلالت حال کی بنا پر رسول کے لیے ضمیر کا ذکر ترک کردیا گیا ۔ ایک قول کے مطابق کنایہ کے اندر اللہ کا اسم کسی اور اسم کے ساتھ یک جا نہیں ہوتا ۔ تنہا ذکر باری میں اس کی عظمت کا پہلو موجود ہوتا ہے۔ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 61–62

126{ ھُوَ اُذُنٌ } کا مطلب ؟ : یعنی یہ ایسے ہیں کہ جو سنا، مان لیا۔ پس ہماری یہ باتیں اگر ان کو پہنچ بھی گئیں تو ہم ان کے سامنے قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کردیں گے اور ان کو منوا لیں گے۔ یہ باتیں منافق لوگ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے بارے میں اپنی مجلسوں میں کیا کرتے تھے۔ اور وجہ اس کی یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ اپنے کریمانہ اخلاق کی بناء پر ان لوگوں کی بری باتوں سے درگزر فرما لیتے۔ کوئی گرفت نہ فرماتے۔ تو اس سے یہ بد باطن لوگ اس سے ایسے مطلب نکالتے اور اس کی طرح باتیں چھانٹتے اور اس طرح اپنی بدبختی میں اضافے کا سامان کرتے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان بدبختوں کا آنحضرت کے بارے میں کہنا تھا کہ " یہ صاحب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–63

منافقین کا توہین رسالت کا مرتکب ہونا اور ان کا جواب تشریح : ان آیات میں منافقوں کی بدخصلت، بدنیتی اور بداخلاقی کا ذکر کیا گیا ہے اور آنحضرت ﷺ ( آپ پر میری جان بھی قربان) کی صفات، بلند کرداری، حسن سیرت اور عفو و درگزر کا ذکر کیا گیا ہے۔ کہاں منافقین اور کہاں رسول اللہ ﷺ ؟ اس لیے منافقین کے انجام کا ذکر عَذَابٌ اَلِیْمٌ اور جہنم کی بڑھکتی ہوئی آگ سے کیا گیا ہے۔ اپنے برے اعمال کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ٹھکانا ملے گا۔ اگلی آیات بھی انہی کے بارے میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–66

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف رب جلیل نے صدقات واجبہ کی تقسیم فرما کر واضح فرمادیا کہ یہ محض اندازہ سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اللہ کریم نے کچھ خاص درجہ کے مسلمانوں کا حق مقرر فرمادیا ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ زکوۃ کی تقسیم رب جلیل نے کسی نبی کے اختیار میں بھی نہیں دی بلکہ خود فرمائی ہے علاوہ ازیں صدقہ نافلہ مومن دکافرپہ عام ہے اور اس کی تقسیم پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی صوابدید پر ہے حتی کہ صدقہ فطر تک کافر کو بھی دیا جاسکتا ہے کہ اسلام انسانیت کی بہتری کا علمبردار ہے اور عالم اسباب میں مال کی تقسیم ہی انسانیت کی آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے کچھ لوگوں کو مال زیادہ عطا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 منافقین اپنی خلوتوں اور تنہا ئیوں میں مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ پر پھتبیاں کستے۔ یا نبی ﷺ کو اگر ان کی اطلاع ہوجاتی ہے وہ قسمیں کھاکھا کر مسلمانوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتے اور اللہ و رسول کی پروا نہ کرتے۔ منافقین کی اسی حرکت کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:62) لیرضوکم۔ یرضوا۔ ارضی یرضی ارضاء (افعال) سے مضارع جمع مذکر غائب۔ اصل میں یرضیون تھا۔ ی پر ضمہ ثقیل ہونے کی بنا پر ماقبل کو دیا۔ پھر ی اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگئی۔ نون اعرابی بوجہ عمل لام گرگیا یرضوا رہ گیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ تاکہ تمہیں وہ راضی کرلیں۔ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ۔ یرضوہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب لائی گئی ہے۔ حالانکہ اس کے مرجع دو ہیں اللہ اور اس کا رسول۔ اور قاعدہ کے مطابق ضمیر تثنیہ کی ہونی چاہیے تھی۔ واحد کی ضمیر اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی رضا ایک ہی ہے۔ یا کلام تقدیر یوں ہے واللہ احق ان یرضوہ ورسولہ کذلک۔ یعنی اللہ زیادہ حق دار ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–62

لغات القرآن آیت نمبر 60 مکسی ن (مکسین) ، محتاج العملین (کام کرنے والے) المولفۃ (مائل کرنا) الرقاب (رقبۃ) گردنیں الغرمین (الغارم) جرمانہ بھرنے والے تشریح : آیت نمبر 60 دین اسلام ہر مومن کو ایک غیرت ایمانی عطا کرتا ہے اور اس کو ہر اس جگہ سے دور کردیتا ہے کہ جہاں اس کی غیرت متاثر ہو سکتی ہے یا اس کو اپنی حاجت کے لئے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے یہ ذمہ داری حکومت اسلامی کی رکھی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حالات پر نظر رکھے جو اپنی غیرت کی وجہ سے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرسکتے۔ اس مقصد کے لئے زکوۃ و صدقات کے نظام کو قائم فرمایا گیا ہے تاکہ آج وہ شخص جو اپنی سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 62–63

منافقوں کا جھوٹ اور فریب شان نزول : منافقین اپنی مجلسوں میں آنحضرت ﷺ پر طعن کیا کرتے تھے اور مسلمانوں کے پاس آکر اس سے مکر جاتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر اپنی بریت ثابت کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا گیا کہ مسلمانوں کو راضی کرنے کے لئے قسمیں کھانے سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا تھا۔ اگر ایمان رکھتے تھے تو ایسی حرکتیں کیوں کیں جو خدا اور رسول کی ناراضگی کا سبب ہوں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا ہمیشہ ہمیشہ کو دوزخ میں رہے گا۔ جو سخت رسوائی کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–64

[39] یعنی جو کچھ کسی نے کہا یقین کرلیا۔ [40] یعنی اگر وہ سننے والا بھی ہے تو خیر و صلاح کا سننے والا ہے شر و فساد کا نہیں۔ وہ صرف انہی باتوں پر توجہ کرتا ہے جن میں امت کی بھلائی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 61–62

(ف 2) انبیاء (علیہم السلام) جہاں انتہاء درجہ کے زیرک ودانا ہوتے ہیں وہاں عفو و کرم کا مادہ بھی ان میں اسی تناسب سے موجود ہوتا ہے وہ حالات کو جانتے ہیں ، مگر بوجہ مرحمت کے اکثر غلطیوں سے درگزر کرتے ہیں ، حضور ﷺ کو منافقین آ کر طرح طرح کے عذر سناتے ، آپ قبول فرما لیتے ، اس پر وہ اپنی مجلسوں میں کہتے رسول کیا ہے نراکان ہے ، سن لیتا ہے ، جانتا نہیں کہ ہم اسے دھوکا دے رہے ہیں ، کم بختو ! اس میں تو تمہارا ہی بھلا ہے رسول تو سراپا رحمت وعفو ہے ، جسے تم سادگی پر محمول کرتے ہو ، وہ چشم پوشی اور ستاری ہے ، یہ تنبیہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوئی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

62 یہ منافق تم مسلمانوں کے روبرو خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش اور راضی کرلیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کو راضی کیا جائے اگر یہ واقعی سچے مسلمان ہیں تو ان کو راضی کریں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کسی وقت حضرت ان کی دغا بازی پکڑتے تو مسلمانوں کے روبرو قسمیں کھاتے کہ ہمارے دل میں بری نیت نہ تھی تا ان کو راضی کرکے اپنی طرف کریں نہ جانا کہ یہ فریب بازی خدا تعالیٰ اور رسول ﷺ کے ساتھ کام نہیں آتی۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 4۔ فقیر کے معنی ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ مسکین کے معنی ہیں جس کے پاس نصاب سے کم ہو۔ 5۔ اسلام اور قدرنصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ کا مالک و قابض نہ ہوناسب میں شرط ہے بجز عاملین ومحصلین زکوة کے جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں کہ ان کو باوجود غنی ہونے کے بھی اس زکوة میں سے بطور اجرت کے دیناجائز ہے باقی اصناف میں قید مذکور شرط ہے۔ 6۔ مولفة القلوب کو جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زکوة دی جاتی تھی گو وہ مسلمان نہ ہوں۔ مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو یا محض ان کے شروفتنہ سے بچنے کے لیے اور یا مسلمان ہوں مگر غریب نہ ہوں محض ان کو اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لیے صحابہ کے وقت میں اجماع ہوگیا ان کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منافقین کے بارے میں سچے مومنوں کے لئے ایک خاص ہدایتت : 86: اپنے آپ کو زیادہ سمجھدار سمجھنے والے کتنے نادان ہیں کہ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور اپنی معصومیت اور صاف گوئی کو ثابت کرنے کے لئے آسمان و زمین کے کس طرح قلابے ملاتے ہیں لیکن کیا ایسی باتوں سے اللہ اور اس کا رسول خوش ہوجائے گا ؟ کسے ممکن ہے ” یُّرْضُوْهُ “ اس لئے کہ اللہ کی ناراضی رسول اللہ ﷺ کی ناراضی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو خوش کرنے یا ان کے خوش ہونے سے کیا ہوتا ہے جبکہ اللہ اور اس کا رسول ناراض ہو لہٰذا اگر یہ لوگ سمجھدار ہوتے تو اس بات کی فکر کرتے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو۔ فرمایا غور کرو کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

Announced in verse 64: إِنَّ اللَّـهَ مُخْرِ‌جٌ مَّا تَحْذَرُ‌ونَ (Allah is surely to bring out what you are afraid of) is the news that Allah will expose their conspiracy and mischief. One such event came to pass while returning from the battle of Tabuk when some hypocrites had conspired to kill the Messenger of Allah. Allah Almighty informed him about the plan through angel Jibra'il (علیہ السلام) helping him to bypass the spot where the hypocrites were sitting in ambush. (Mazhari with reference to al-Baghawi) And Sayyidna ` Ibn ` Abbas ؓ says that Allah Ta` ala had in-formed the Holy…

Read the full tafseer →