At-Tawba 9:60

At-Tawba · from ayah 60

9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰكِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِیْلِ ؕ— فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ ۟اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلۡفُقَرَآءِ وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡعٰمِلِيۡنَ عَلَيۡهَا وَالۡمُؤَلَّـفَةِ قُلُوۡبُهُمۡ وَفِى الرِّقَابِ وَالۡغٰرِمِيۡنَ وَفِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ فَرِيۡضَةً مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ

صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Zakah expenditures are only for the poor and for the needy and for those employed to collect [zakah] and for bringing hearts together [for Islam] and for freeing captives [or slaves] and for those in debt and for the cause of Allah and for the [stranded] traveler - an obligation [imposed] by Allah. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:60

یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور اُن لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرض داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

صدقات (یعنی زکوٰة وخیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے میں) اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کر دیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

صدقات تو دراصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں۔ اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز انہیں غلاموں کو آزاد کرنے میں اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

زکوٰة تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم و حکمت والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک صدقات (زکوٰۃ) محض غریبوں اور محتاجوں اور ان کی وصولی پر مقرر کئے گئے کارکنوں اور ایسے لوگوں کے لئے ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت پیدا کرنا مقصود ہو اور (مزید یہ کہ) انسانی گردنوں کو (غلامی کی زندگی سے) آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے بوجھ اتارنے میں اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں پر) اور مسافروں پر (زکوٰۃ کا خرچ کیا جانا حق ہے)۔ یہ (سب) اللہ کی طرف سے فرض کیا گیا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

صدقات تو دراصل فقیروں مسکینوں اور ان کارندوں کے لئے ہیں جو ان (کی وصولی) پر مقرر ہیں۔ نیز تالیف قلب غلام آزاد کرانے قرضداروں کے قرض اتارنے، اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنے کے لئے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

صدقات تو بس محتاجوں، مسکینوں، عاملین صدقات اور تالیف قلوب کے سزاواروں کے لیے ہیں اور اس لیے کہ یہ گردنوں کے چھڑانے، تاوان زوروں کے سنبھالنے، اللہ کی راہ اور مسافروں کی امداد میں خرچ کیے جائیں۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سوائے اس کے نہیں کہ یہ صدقات حق ہیں فقیروں، مسکینوں، اور ان کے کارکنوں کا، جو ان کے جمع کرنے پر مقرر ہیں، اور ان کے لئے کہ جن کی دلجوئی کرنی ہوتی ہے، اور گردنوں کے چھڑانے، اور قرضداروں کی مدد میں، اللہ کی راہ میں، اور مسافر نوازی میں، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ فریضہ کے طور پر، (اس کو ادا کرو) اور اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

صدقات (واجبہ) تو صرف غریبوں اور محتاجوں اور کارکنوں کا حق ہیں جو ان پر مقرر ہیں۔۔ نیز ان کا جن کی دل جوئی منظور ہے۔ اور (صدقات کو صرف کیا جائے) گردنوں (کے چھڑانے) میں۔ اور قرض داروں (کے قرضہ ادا کرنے) میں۔ اور اللہ کی راہ میں۔ اور مسافروں (کی امداد) ہیں فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

صدقات تو بس مفلسوں اور محتاجوں اور عاملین صدقات کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کی تالیف قلوب مطلوب ہو اور گردنوں کے چھڑانے میں اور جن پر تاوان پڑا ہو (ان کے لیے) اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں (کی امداد) میں۔ یہ اللہ کی طرف سے معین ہوگیا ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

صدقات زکوٰۃ (اور خیرات) تو مفلسوں، محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہو، غلاموں کے آزاد کرانے، قرض داروں کے قرض ادا کرنے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کی مدد میں بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The alms are meant only for the poor and the needy and those who are in charge thereof, those whose hearts are to be reconciled, and to free those in bondage, and to help those burdened with debt, and for expenditure in the Way of Allah and for the wayfarer. This is an obligation from Allah. Allah is All-Knowing, All-Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The Sadaqat (prescribed alms) are (meant) only to be given to the poor, the needy, to those employed to collect them, to those whose hearts are to be won, in the cause of the slaves and those encumbered with debt, in the way of Allah and to a wayfarer. This is an obligation prescribed by Allah. Allah is All-Knowing, Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

The Sadaqat (prescribed alms) are (meant) only to be given to the poor, the needy, to those employed to collect them, to those whose hearts are to be won, in the cause of the slaves and those encumbered with debt, in the way of Allah and to a wayfarer. This is an obligation prescribed by Allah. Allah is All-Knowing, Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As-Sadaqat (i.e., Zakah) are only for the Fuqara', and Al-Masakin and those employed to collect (the funds); and to attract the hearts of those who have been inclined (towards Islam); and to free the captives; and for those in debt; and for Allah's cause, and for Ibn As-Sabil; a duty imposed by Allah. And Allah is All-Knower, All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The alms are only for the poor and the needy, and those who collect them, and those whose hearts are to be reconciled, and to free the captives and the debtors, and for the cause of Allah, and (for) the wayfarer; a duty imposed by Allah. Allah is Knower, Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Zakah expenditures are only for the poor and for the needy and for those employed to collect [zakah] and for bringing hearts together [for Islam] and for freeing captives [or slaves] and for those in debt and for the cause of Allah and for the [stranded] traveler - an obligation [imposed] by Allah. And Allah is Knowing and Wise.

— Saheeh International

Welfare funds (zakat) are only for the poor, the destitute, the tax collectors, those whose hearts are inclined (towards Islam), the slaves, those who cannot pay their debts, for the cause of God, and for those who have become needy on a journey. Paying zakat is an obligation that God has decreed. God is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

Alms are only for the poor and the needy, and the officials (appointed) over them, and those whose hearts are made to incline (to truth) and the (ransoming of) captives and those in debts and in the way of Allah and the wayfarer; an ordinance from Allah; and Allah is knowing, Wise.

— Muhammad Habib Shakir

The compulsory alms are only for the poor and the needy and the agents employed therein and those whose hearts are to be conciliated and those in bondage and debtors and for expenditure in the way of Allah and for the wayfarer: an ordinance from Allah: and Allah is Knowing, Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Alms are for the poor and the needy, and those employed to administer the (funds); for those whose hearts have been (recently) reconciled (to Truth); for those in bondage and in debt; in the cause of Allah; and for the wayfarer: (thus is it) ordained by Allah, and Allah is full of knowledge and wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:60

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

زکوۃ اور صدقات کا مصرف نبی ﷺ نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے تحت ہے ؟ اوپر کی آیت میں ان جاہل منافقوں کا ذکر تھا جو ذات رسول ﷺ پر تقسیم صدقات میں اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ اب یہاں اس آیت میں بیان فرما دیا کہ تقسیم زکوٰۃ پیغمبر کی مرضی پر موقوف نہیں بلکہ ہمارے بتائے ہوئے مصارف میں ہی لگتی ہے۔ ہم نے خود اس کی تقسیم کردی ہے کسی اور کے سپرد نہیں کی ابو داؤد میں ہے زیاد بن حارث صدائی ؓ فرماتے ہیں میں نے سرکار نبوت میں حاضر ہو کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ایک شخص نے آن کر آپ سے سوال کیا کہ مجھے صدقے میں سے کچھ دلوائیے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نبی غیر نبی کسی کے حکم پر تقسیم زکوٰۃ کے بارے میں راضی نہیں ہوا یہاں تک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 61 فقیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اپنی معیشت کے لیے دوسرے کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ لفظ تمام حاجت مندوں کے لیے عام ہے خواہ وہ جسمانی نقص یا بڑھاپے کی وجہ سے مستقل طور پر محتاج اعانت ہوگئے ہوں، یا کسی عارضی سبب سے سردست مدد کے محتاج ہوں اور اگر انہیں سہارا مل جائے تو آگے چل کر خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہوں، مثلا یتیم بچے، بیوہ عورتیں، بےروزگار لوگ اور وہ لوگ جو قتی حوادث کے شکار ہوگئے ہوں۔ سورة التَّوْبَة 62 مَسکَنَت کے لفظ میں عاجزی، درماندگی، بےچارگی اور ذلت کے مفہومات شامل ہیں۔ اس اعتبار سے مساکین وہ لوگ ہیں جو عام حاجت مندوں کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہوں۔ نبی ﷺ نے اس لفظ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (فرض) صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا اور جو کارکن ان صدقات (کی تحصیل وصول کرنے) پر متعین ہیں اور جن کی دلجوئی کرنا (منظور) ہے اور غلاموں کی گردن چھڑانے میں (صرف کیا جائے) اور قرض داروں کے قرضہ (ادا کرنے) میں اور جہاد والوں کے سامان) میں اور مسافروں کی (امداد) میں یہ حکم اللہ کی طرف سے مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے بڑی حکمت والے ہیں۔ معارف و مسائل مصارف الصدقات اس سے پہلی آیتوں میں صدقات کے بارے میں رسول کریم کا ذکر تھا، جس میں منافقین نے آنحضرت ﷺ پر یہ الزام لگایا تھا آپ (معاذ اللہ) صدقات کی تقسیم میں انصاف نہیں کرتے، جس کو چاہتے ہیں جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

صدقات کے اصلی مستحقین : اب یہ صدقات کے مستحقین کی تفصیل بیان فرما دی گئی ہے تاکہ منافقین میں سے جو غیر مستحق محض حرص مال کے سبب سے صدقات میں حصہ بٹانا چاہتے تھے ان پر واضح ہوجائے کہ کون لوگ اس سے مال میں حق دار ہیں، کون نہیں۔ اس سے یہ لطیف اشارہ نکلتا ہے کہ یہ منافقین جو صدقات سے اپنی خواہش کے مطابق نہ پانے کے سبب سے آنحضرت ﷺ پر نکتہ چینی شروع کردیتے تھے۔ ان کی حیثیت زیادہ تر ناخواندہ مہمانوں کی تھی جو بغیر کسی استحقاق کے اس مال میں شریک بننا چاہتے تھے۔ صدقہ اور زکوۃ میں فرق : " صدقات " زکوۃ کی نسبت عام ہے۔ اس میں وہ تمام عطایا شامل ہیں جو بہ نیت اجر وثواب دیے جائیں۔ عام اس سے کہ وہ زکوۃ کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

60۔ 1 اس آیت میں اس طعن کا دروازہ بند کرنے کے لئے صدقات کے مستحق لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ صدقات سے مراد یہاں صدقات واجبہ یعنی زکٰوۃ ہے۔ آیت کا آغاز انما سے کیا گیا ہے جو قصر کے صیغوں میں سے ہے اور الصقات میں لام تعریف جنس کے لیے ہے یعنی صدقات کی یہ جنس (زکوٰۃ) ان آٹھ قمسوں میں مقصور ہے جن کا ذکر آیت میں ہے ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوٰۃ کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔ اہل علم کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ کیا ان آٹھوں مصارف پر تقسیم کرنا ضروری ہے ؟ امام شافعی کی رائے کی رو سے زکٰوۃ کی رقم آٹھوں مصارف پر خرچ کرنا ضروری ہے۔ یا ان میں سے جس مصرف یا مصارف پر امام یا زکوٰۃ ادا کرنے والا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

48: فقیر اور مسکین ملتے جلتے لفظ ہیں۔ لغت کے اعتبار سے بعض لوگوں نے دونوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ اور فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ ہو، مگر ضرورت سے کم ہو۔ اور بعض حضرات نے فرق اس کے برعکس بیان کیا ہے۔ لیکن زکوٰۃ کے حکم میں دونوں برابر ہیں۔ اور حکم یہ ہے کہ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا بنیادی ضرورت سے زیادہ سامان موجود نہ ہو، اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ تفصیل کے لیے فقہ کی کتابیں دیکھی جائیں۔ 49: اسلامی حکومت کا ایک اہم کام یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے اموال ظاہرہ کی زکوٰۃ جمع کر کے مستحقین میں تقسیم کرے۔ اس غرض کے لیے جو اہل کار مقرر کیے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اللہ اور رسول اللہ کی بارگاہ کے لائق آداب کے بیان کے بعد یعنی ، مکمل اطاعت ، مکمل اطاعت ، مکمل تسلیم و رضا اور مکمل سپردگی کے بیان کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ کرتے ہیں وہ خود اپنی مرضی سے نہیں کرتے۔ وہ امر اللہ سے ہر کام کرتے ہیں۔ اللہ کے احکام بابت تقسیم صدقات یہ ہیں اور رسول ان احکام کی پیروی کرتے ہیں اور یہ احکام رب العالمین کی طرف سے ہیں یعنی صدقات اور زکوۃ ایک فریضہ ہے جو اغنیاء سے لیا جاتا ہے اور یہ بھی فرض ہے کہ اسے فقراء میں تقسیم کیا جائے۔ اس کی تقسیم چند قسم کے لوگوں کے درمیان کی جانی ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر اسے تقسیم کرے۔ یہاں تک کہ رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 چونکہ تقسیم صدقات کے معاملہ میں پیغمبر پر طعن کیا گیا تھا، اس لیے متنبہ فرماتے ہیں کہ صدقات کی تقسیم کا طریقہ خدا کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اس نے صدقات وغیرہ کے مصارف معتین فرما کر فہرست نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ آپ ﷺ اسی کے موافق تقسیم کرتے ہیں اور کریں گے کسی کی خواہش کے تابع نہیں ہوسکتے۔ حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ " خدا نے صدقات (زکوٰۃ) کی تقسیم کو نبی یا غیر نبی کسی کی مرضی پر نہیں چھوڑا۔ بلکہ بذات خود اس کے مصارف متعین کردیے ہیں۔ جو آٹھ ہیں۔ " فقراء " (جن کے پاس کچھ نہ ہو) " مساکین " (جن کو بقدر حاجت میسر نہ ہو) " عاملین " (جو اسلامی حکومت کی طرف سے تحصیل صدقات وغیرہ کے کاموں پر مامور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 60 اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَا صدقات سے مراد یہاں زکوٰۃ ہے۔ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَامیں محکمہ زکوٰۃ کے چھوٹے بڑے تمام ملازمین شامل ہیں جو زکوٰۃ اکٹھی کرنے ‘ اس کا حساب رکھنے اور اسے مستحقین میں تقسیم کرنے یا اس محکمہ میں کسی بھی حیثیت میں مامور ہیں ‘ ان سب ملازمین کی تنخواہیں اسی زکوٰۃ میں سے دی جائیں گی۔ وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ جب دین کی تحریک اور دعوت چل رہی ہو تو معاشرے کے بعض صاحب حیثیت افراد کی تالیف قلوب کے لیے زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے تاکہ ایسے لوگوں کو کچھ دے دلا کر ان کی مخالفت کا زور کم کیا جاسکے۔ فقہاء کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

65 یہاں صدقات سے مراد صرف فرضی صدقہ یا زکوٰۃ ہے جیسا کہ بعد کے الفاظ فریضۃ من اللہ سے واضح ہوتا ہے۔ صدقات کی تقسیم پر بھی منافقوں کو اعتراض ہوا تھا تو اس کی تقسیم کی مدات اللہ تعالیٰ نے خود ہی مقرر فرما دیں تاکہ ان کی تقسیم میں اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے یا کم سے کم رہ جائے۔ اور یہ کل آٹھ مدات ہیں جو درج ذیل ہیں۔ 66 زکوٰۃ کے حقدار مسکین اور فقیر میں فرق :۔ فقیر اور مسکین کی تعریف اور ان میں فرق سے متعلق علماء کے کئی اقوال ہیں۔ اس سلسلہ میں درج ذیل حدیث قول فیصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : مسکین وہ نہیں جو ایک یا دو لقموں کے لیے لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

108 ۔ یعنی صدقات کی آمدنی انہی مدوں میں خرچ ہونی چاہیے۔ (آیت) ’ ’ انما “۔ کلمہ حصر کا ہے۔ یعنی صرف انہیں مدوں میں، کسی اور مد میں نہیں۔ (آیت) ” الصدقت “۔ صدقۃ سے یہاں مراد صدقہ واجب ہے یعنی زکوٰۃ (آیت) ’ ’ للفقرآء والمسکین “۔ دونوں لفظوں کی تعبیر و تفسیر میں متعدد اقوال نقل ہوئے ہیں۔ محققین نے یہ معنی لئے ہیں کہ فقیر وہ نادار ہے جو سوال نہ کرے اور مسکین وہ نادار ہے جو سوال کرے۔ اور ابن عباس ؓ صحابی اور حسن بصری اور جابر بن زید اور مجاہد اور زہری تابعین سے بھی یہی منقول ہے۔ قال الزھری الفقیر الذی لایسئل والمسکین الذی یسئل وروی ابن سماعۃ عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ فی حد الفقیر والمسکین مثل ھذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 60 تا 66 ترجمہ : صدقات (واجبہ) (مثلاً ) زکوٰة فرض صرف ان فقراء کے لئے ہیں جو اتنی مقدار بھی نہ پائیں جو اپنی حاجت میں صرف کر سکیں (یعنی ان کے پاس مال بالکل نہ ہو) اور مساکین کے لئے ہے جو بقدر کفایت مال نہ پائیں، اور صدقات کے کارکنوں کے لئے اور صدقات (زکوٰة) وصول کرنے والوں کے لئے ہے، اور (مستحقین) پر تقسیم کرنے والوں کے لئے ہے، اور کاتبین کے لئے ہے اور (ارباب اموال کو) جمع کرنے والوں کے لئے ہے، اور ان لوگوں کے لئے ہے جن کی تالیف قلب مقصود ہے تاکہ وہ اسلام لے آئیں یا اپنے اسلام پر ثابت قدم رہیں، یا ان کے امثال اسلام لے آئیں یا مسلمانوں کا دفاع کریں، یہ (چار) قسمیں ہیں پہلی اور آخری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما الصدقت للفقرا والمسکین صدقات تو صرف غریبوں کیلئے ہیں اور مسکینوں کیلئے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ آیت سابق میں نکتہ چینی کرنے سے مراد ہے تقسیم زکوٰۃ پر نکتہ چینی کرنی ‘ مال غنیمت کی تقسیم پر نکتہ چینی مراد نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : آیت کی مراد صرف یہ ہے کہ مصرف صدقات فقط غریب لوگ ہیں ‘ غنی لوگ مستحق نہیں ہیں۔ یعنی فقیر اس کو کہتے ہیں جو غنی نہ ہو ‘ خواہ اس کے پاس مال بالکل نہ ہو ‘ نادار ہو یا کچھ مال ہو (مگر اتنا نہ ہو کہ غنی ہوجائے) گویا لفظ فقیر ‘ مسکین اور دوسرے اصناف مستحقین سے عام ہے۔ اکثر حنفیہ قائل ہیں کہ فقیر وہ ہے جس کے پاس نصاب زکوٰۃ نہ ہو ‘ نصاب سے کم مال ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(60) اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کے مستحقین کے متعلق میں فرماتے ہیں کہ وہ اصحاب صفہ اور ان محتاجوں کا حق ہے جو کہ سوال کرتے ہیں اور جو کارکن ان صدقات کی وصولی پر متعین ہیں اور عطیہ سے جن کی دل جوئی کرنا ضروری ہے، جیسا کہ حضرت ابوسفیان اور ان کے ساتھی جو کہ تقریبا پندرہ حضرات ہیں اور مکاتب غلاموں کی گردن چھڑانا اور اطاعت خداوندی میں قرض داروں کے جو قرضے ہیں ان کے چھڑانے میں اور جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں میں اور مسافروں کی امداد میں جو کہ راہ گزر ہوں یا کسی کے پاس مہمان ہو کر اترگئے ہوں خرچ کیا جائے گا ان لوگوں کے لیے یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جاننے والے اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ : منافقین کا طعن دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود صدقات کے حق دار بیان فرما دیے، تاکہ سب لوگ جان لیں کہ صدقات کی تقسیم کا رسول اللہ ﷺ کو بھی اختیار نہیں، لہٰذا آپ ﷺ پر طعن بےسود ہے۔ یہاں صدقات سے مراد فرض صدقات، یعنی زکوٰۃ و عشر ہیں، کیونکہ حکومت کی طرف سے وصولی کے لیے عاملین فرض زکوٰۃ ہی کے لیے بھیجے جاتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ کوئی ان کے پاس نفل صدقہ بھی جمع کروا دے۔ صدقہ کو صدقہ اس لیے کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے مال خرچ کرنے والا عملی طور پر اپنے ایمان کے صدق کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ لفظ عام طور پر نفلی خرچ پر بولا جاتا ہے، مگر کبھی فرض پر بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تیس مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : انما الصدقت للفقرآء اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بعض کی نسبت بعض لوگوں کو وا فرمال عطا فرمایا ہے اور یہ اس کی جانب سے ان پر بہت بڑا انعام اور احسان ہے اور ان پر بطور شکرانہ ایک خاص حصہ نکالنا لازم کردیا ہے کہ وہ وہ حصہ اس کو ادا کریں جس کے پاس مال نہیں ہے۔ اور یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے نیا بت ہے اس بارے میں جس کی ضمانت اس نے اپنے اس قول میں دی ہے : وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا (ہود :6) ( اور نہیں کوئی جاندار زمین میں مگر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اس کارزق) (2) مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : للفقرآء یہ مصارف صدقات اور محل کی وضاحت ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

آیت کا شان نزول : 1:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے (غنیمت کا مال) مانگا اور آپ (اس وقت) مال تقسیم فرما رہے تھے۔ آپ نے اس سے اعراض فرمایا اور تقسیم فرماتے رہے اس نے کہا کیا آپ بکریاں چرانے والوں کو بھی دیں گے ـ؟ اللہ کی قسم آپ نے انصاف نہیں کیا آپ نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر کون انصاف کرے گا اگر میں انصاف نہ کروں ؟ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) انما الصدقت للفقرآء “ (الآیۃ) 2:۔ ابو داود اور والبغوی نے اپنی معجم میں والطبرانی والدارقطنی اور آپ نے اس کو ضعیف کہا زیادبن حارث صدائی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الصَّدَقٰتُ [ صدقات ] لِلْفُقَرَاۗءِ [ فقیروں کے لیے ہیں ] وَالْمَسٰكِيْنِ [ اور مسکینوں کے لیے ہیں ] وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا [ اور اس پر کام کرنے والوں کے لیے ہیں ] وَالْمُؤَلَّفَةِ [ اور جوڑا ہوا ہونے کے لیے ہیں ] قُلُوْبُهُمْ [ ان کے دلوں کو ] وَفِي الرِّقَابِ [ اور گردنوں (کو چھڑانے ) میں ] وَالْغٰرِمِيْنَ [ اور تاوان میں پھنسنے والوں کے لیے ہیں ] وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اور اللہ کی راہ میں ( خرچ ) کے لیے ہیں ] وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭ [ اور مسافروں کے لیے ہیں ] فَرِيْضَةً [ فرض ہوتے ہوئے ] مِّنَ اللّٰهِ ۭ [ اللہ (کی طرف ) سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

زکوٰۃ کے مصارف کا بیان صدقات سے یہاں زکوٰۃ مفروضہ مراد ہے اور اس کو جمع اس لیے لایا گیا کہ زکوٰۃ متعدد اموال پر واجب ہوتی ہے۔ چاندی، سونا، مال تجارت، اونٹ، گائے بکریاں، ان سب پر زکوٰۃ فرض ہے۔ بشرطیکہ نصاب پورا ہو۔ آیت شریفہ میں زکوٰۃ کے مستحقین کے آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں۔ اور لفظ اِنَّمَا سے آیت کو شروع فرمایا ہے جو حصر پر دلالت کرتا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ مستحق زکوٰۃ ان لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جن کا ذکر اس آیت میں فرمایا۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے مال زکوٰۃ میں سے عطا فرمانے کا سوال کیا، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے اموال کے بارے میں نبی یا غیر نبی کسی کا فیصلہ بھی منظور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

بیان مصارف صدقات قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ انما الصدقات للفقراء۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔ (ربط) منافقین حرص اور طمع کی بناء پر یہ چاہتے تھے کہ ہم جس وقت آپ سے جتنا مانگیں اتنا ہی مال آپ ہم کو دے دیا کریں۔ اسی لیے وہ آپ کی عادلانہ تقسیم پر طعن کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی جس میں صدقات کے مصارف بیان فرمائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ صدقہ دینے کے قابل نہیں اور یہ بتلا دیا کہ اللہ کے نبی کی تقسیم حکم خداوندی کے مطابق ہے جس میں ذرہ برابر خیانت کا احتمال نہیں کیونکہ زکوٰۃ اور صدقات نبی پر اور اس کے اہل و عیال پر اور اس کے خاندان پر بکہ اس کے آزاد کردہ غلاموں پر بھی حرام ہے۔ ایسی حالت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 59–60

57: یہ پوری آیت حیز شرط میں ہے اور جواب شرط محذوف ہے “ اي لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ” یعنی جو کچھ اللہ کے رسول نے مال غنیمت سے ان کو دیا تھا اگر وہ اس پر قانع ہوجاتے اور کہتے ہمیں مال کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اللہ کافی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے مالدار کردے گا۔ اور اللہ کا رسول ﷺ آئندہ کسی موقع پر ہمیں صدقات سے یا غنائم سے دے کر ہماری یہ کمی پوری کر دے گا اور ہمیں مال و دولت کی پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی رضا چاہئے اور بس تو یہ چیز ان کے حق میں دنیا اور آخرت میں بہتر ہوتی۔ “ مَا اٰتٰھُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ ” میں رسول کے دینے سے مال غنیمت میں سے دینا مراد ہے۔ (کما فی المظہری ج 4 ص 230 والمدارک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : اس سے پہلے جہاد میں عدم شرکت کی وجہ سے منافقین کی مذمت بیان ہوچکی ہے نیز یہ بھی واضح فرمادیا گیا ہے کہ منافقین جو مال اللہ کے نام پر خرچ کرتے ہیں وہ اس بنا پر قابل قبول نہیں کہ وہ توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ اپنی خوشی خاطر سے یہ کام کرتے ہیں بلکہ ان کا انفاق بادل نخواستہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک شبہ کا ازالہ بھی کیا گیا کہ اگر منافقین اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنے ہی برے ہیں تو پھر پروردگار نے انہیں مال و دولت اور اولاد کی فروانی کیوں عطا کر رکھی ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ دنیا کا مال ان کے حق میں بہتر نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لیے باعث عذاب ہے جس کا وبال آخرت میں بہت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝ 0 ۭ فَرِيْضَۃً مِّنَ اللہِ۝ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۝ 60 صدقه والصَّدَقَةُ : ما يخرجه الإنسان من ماله علی وجه القربة کالزّكاة، لکن الصدّقة في الأصل تقال للمتطوّع به، والزّكاة للواجب، وقد يسمّى الواجب صدقة إذا تحرّى صاحبها الصّدق في فعله . قال : خُذْ مِنْ أَمْوالِهِمْ صَدَقَةً [ التوبة/ 103] ، وقال :إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ [ التوبة/ 60 ( ص دق) الصدقۃ ( خیرات ) ہر وہ چیز جو انسان اپنے مال سے قرب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–62

ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔ تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَ الْمَسَاکِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَ فِی الرَّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَ فِی سَبِیْلِ للّٰہِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِط وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ ( التوبۃ : 60) (یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلب مطلوب ہو۔ نیز یہ گردنوں کے چھڑانے اور قرضہ داروں کی مدد کرنے میں اور راہ خدا میں اور مسافر نوازی میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے۔ ) گزشتہ آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا اعتراض اور ان کی عادت بیان کرنے کے بعد زکوٰۃ کے مستحق حضرات کی فہرست کا بیان۔ منافقین بلاا ستحقاق اپنے آپ کو صدقہ و خیرات کا مستحق سمجھتے اور نہ ملنے پر رسول معظم ﷺ کی دیانت و امانت پر ہرزہ سرائی کرتے تھے۔ ان کے الزام کی شدید ترین الفاظ میں تردید کرنے کے بعد مناسب سمجھا گیا کہ صدقات کے مستحقین کی فہرست جاری کردی جائے تاکہ صدقہ کرنے والوں کی رہنمائی اور غیر مستحقین ہمیشہ کے لیے صدقات سے مایوس ہوجائیں۔ قرآن مجید میں زکوٰۃ کے لیے بھی صدقے کا لفظ استعمال ہوا ہے یہاں تمام اہل علم نے صدقات سے مراد زکوٰۃ کا مال لیا ہے جس کے آٹھ مصارف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مواقع صدقات کی تفصیل : آیت 60: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنِ (صدقات تو صرف حق ہے غریبوں کا اور محتاجوں کا) اللہ تعالیٰ نے جنس صدقات کو ان محدود اقسام پر خرچ کرنے کا حکم فرمایا کہ یہ افراد اس کے ساتھ خاص ہیں۔ ان کو چھوڑکر کسی اور کی طرف نہ جائیں گے گویا اس طرح فرمایا۔ انماھی لہم لا لغیرھم۔ یہ انہی کے لئے ہیں نہ کہ اوروں کیلئے۔ جیسا کہا جاتا ہے انما الخلافۃ لقریش اس سے مراد ان سے تجاوز نہ کرے گی اور نہ غیر کو ملے گی۔ البتہ یہ احتمال ہے کہ تمام اصناف میں خرچ کیا جائے یا بعض اصناف میں خرچ کردینا کافی ہے۔ جیسا کہ احناف کا قول ہے۔ حضرت حذیفہ۔ ابن عباس و غیرہما صحابہ ؓ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

صدقات کے مصارف کا بیان 60۔” انما الصدقت للفقراء والمسکین “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صدقات کے مستحقین بیان کیے ہیں اور ان کی آٹھ قسمیں بیان کی ہیں ۔ زیاد بن حارث صدائی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی تو ایک شخص آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں آیا اور کہا مجھے صدقات میں سے کچھ دیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صدقات میں نہ اللہ اپنے نبی کے فیصلہ پر راضی ہیں اور نہ کسی اور کے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ کیا اور ان کی آٹھ قسموں پر مقرر کردیا ہے اگر تو ان قسموں میں سے کسی قسم پر ہے تو میں تجھے تیرا حق دے دوں گا ۔ ” للفقراء المسکین “ صدقہ کی اقسام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

60۔ زیاد بن حارث حضرت ﷺ کے پاس بیعت کی غرض سے گئے تھے اس وقت ایک شخص نے آکر کہا کہ یارسول اللہ ﷺ صدقے میں سے مجھے بھی کچھ دیجئے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صدقات میں کسی نبی کا حکم پسند نہیں کیا ہے بلکہ اس نے آپ ہی آٹھ قسم کے مصرف صدقہ کے بتلائے ہیں اگر تم ان آٹھوں میں سے ایک بھی ہو تو صدقہ کے مستحق ہو گے ورنہ نہیں علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ جو آٹھ قسم کے آدمی اللہ پاک نے بیان کئے ہیں ان میں ہر ایک کو صدقہ تقسیم کیا جائے یا جو ان میں سے میسر آئے اسے دے دیا جائے زیاد بن حارث ؓ کی اوپر کی حدیث کے موافق امام شافعی (رح) اور ایک جماعت اس کے قائل ہیں کہ ان آٹھوں پر صدقہ تقسیم کرنا چاہئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 60 پھر اللہ تعالیٰ نے صدقات واجبہ کی تقسیم کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : (انما الصدقت) ’ دصدقات و خیرات “ یعنی زکوۃ واجب۔۔۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مستحب صدقات ہر ایک شخص کو دیئے جاسکتے ہیں، ان صدقات کو خرچ کرنے کے لئے کسی کو مختص نہیں کیا گیا۔ جب کہ صدقات واجبہ صرف ان لوگوں پر خرچ کئے جائیں جن کا قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صدقات کے مصرف کو صرف انہی لوگوں میں محدود رکھا ہے۔ ان کی آٹھ اصناف ہیں۔ (1، 2) فقراء و مساکین، اس مقام پر یہ دو لاگ اقسام ہیں جن میں تفاوت ہے، فقیر مسکین سے زیادہ ضرورت مند ہوتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان اصناف کے ذکر کی ابتداء…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

فقیر اور مسکین کسے کہتے ہیں ؟ قول باری ہے (انما الصدقات للفقراء والمساکین۔ یہ صدقات تو دراصل فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں) تا آخر آیت۔ زہری کا قول ہے کہ فقیر وہ ہوتا ہے جو سوال کرے اور مسکین وہ ہوتا ہے جو سوال نہ کرے۔ ابن سماعہ نے امام ابو یوسف سے اور انہوں نے امام ابو حنیف سے فقیر اور مسکین کی شرعی تعریف میں اسی طرح کی روایت کی ہے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مسکین کی حالت زیادہ کمزور ہوتی ہے اور فقیر کی بہ نسبت اس پر فقرو تنگدستی کا زیادہ دبائو ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حسن، جابر بن زید، زہری اور مجاہد سے مروی ہے کہ فقیر اسے کہتے ہیں جو خود داری کی بنا پر دست سوال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

125 زکوٰۃ اللہ کا مقرر فرمودہ فریضہ ہے : جس میں نہ کسی نبی کا کوئی اختیار ہے نہ کسی اور کا۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے خود اپنی زبان صدق ترجمان سے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ چناچہ سنن ابوداؤد وغیرہ میں حضرت زیاد بن حارث۔ ؓ ۔ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا " اَعْطِنِیْ مِنَ الصَّدَقَۃِ " " صدقہ سے مجھے بھی کچھ دیجئے "۔ تو آپ ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ صدقات کے بارے میں اللہ پاک نے نہ نبی کو کوئی اختیار دیا ہے اور نہ کسی اور کو بلکہ ان کیلئے تمام مصارف خود ہی متعین فرما دئیے ہیں اور ان کو آٹھ حصوں پر تقسیم فرما دیا ہے۔ سو اگر تم ان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

زکوٰۃ کے مصارف تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ منافقین صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ میں سے زیادہ سے زیادہ کی خواہش کرتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا ہے اور صاف صاف اصول بتا دیے ہیں کہ صدقات و زکوٰۃ کس طرح تقسیم کی جانی چاہیے ؟ رب العالمین انسانوں کی تمام مشکلات، پریشانیوں، دقتوں اور مجبوریوں کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اس کی حکمت و دانائی بےمثال ہے اسی لیے اپنے بندوں کی سہولت اور آسانی کا خیال کرتے ہوئے بہترین اصول نازل فرمائے ہیں تاکہ ان کی مدد ہوجائے۔ زکوٰۃ ایک مالی عبادت ہے جو امیروں کو مشکلات اور بےراہروی سے بچانے کے لیے عائد کی گئی ہے اور غریبوں کی مدد کے لیے ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 60–66

آیات 60 تا 66 اسرار و معارف رب جلیل نے صدقات واجبہ کی تقسیم فرما کر واضح فرمادیا کہ یہ محض اندازہ سے تقسیم نہیں ہوتے بلکہ اللہ کریم نے کچھ خاص درجہ کے مسلمانوں کا حق مقرر فرمادیا ہے ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ زکوۃ کی تقسیم رب جلیل نے کسی نبی کے اختیار میں بھی نہیں دی بلکہ خود فرمائی ہے علاوہ ازیں صدقہ نافلہ مومن دکافرپہ عام ہے اور اس کی تقسیم پہ کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا بلکہ دینے والے کی صوابدید پر ہے حتی کہ صدقہ فطر تک کافر کو بھی دیا جاسکتا ہے کہ اسلام انسانیت کی بہتری کا علمبردار ہے اور عالم اسباب میں مال کی تقسیم ہی انسانیت کی آزمائش کا بہت بڑا ذریعہ ہے کچھ لوگوں کو مال زیادہ عطا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 منافقین کا طعن دور طعن دور کرنے کے لیے معارف صدقات بیان فرما دیئے کہ تقسیم صدقات میں پیغمبر کو اختیار نہیں ہے لہذا پیغمبر پر طعن نے سود ہے۔ اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کئے ہیں اور وہ بھی کمہ انما کے ساتھ جو حٖصر کے معنی دیتا ہے یعنی اصناف ثانیہ ( آٹھ قسم کے لوگوں) کو علاوہ اور کسی کو زکواۃ دینا جائز نہیں ہے۔۔ اس حصر کی اس سے بھی تائید ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ایک شخص نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تو ان آٹھ قسموں میں سے ہے تو تیرا حق بنتا ہے ورنہ نہیں۔ اور فرمایا : غنی اور تندرست توانا کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے۔ ( ابن کثیر) 1 ۔ فقیر اور مسکن 2 ۔ دونوں کے معنی حاجتمند کے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:60) والعاملین علیہا۔ یعنی صدقہ اور زکوٰۃ کا مال و صول کرنے والا عملہ۔ اہل کار ھا ضمیر کا مرجع الصدقت ہے۔ والمؤلفۃ قلوبھم جن کی تالیف قلوب مقصود ہو۔ الف یالف (ضرب ہم آہنگی کے ساتھ جمع ہونا۔ محاورہ ہے الفت بینھم۔ میں نے ان میں ہم آہنگی پیدا کردی۔ اسی سے الفت (محبت) ہے۔ اسی سے مؤلف ہے جو مختلف اجزاء کو یک جا جمع کردے۔ یہاں المؤلفۃ قلوبھم سے مراد ایسے اشخاص ہیں جن کے دلوں میں اسلام کی الفت و محبت و رغبت پیدا کرنا مقصود ہو۔ اس کی تین صورتیں تھیں :۔ (1) کفار کے رئیسوں کو اس غرض سے دینا کہ وہ خود بھی غریب مسلمانوں کو اذیت نہ دیں اور دوسروں کو بھی اذیت دینے سے روکیں۔ (2) کفار کو اسلام کی رغبت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 60–62

لغات القرآن آیت نمبر 60 مکسی ن (مکسین) ، محتاج العملین (کام کرنے والے) المولفۃ (مائل کرنا) الرقاب (رقبۃ) گردنیں الغرمین (الغارم) جرمانہ بھرنے والے تشریح : آیت نمبر 60 دین اسلام ہر مومن کو ایک غیرت ایمانی عطا کرتا ہے اور اس کو ہر اس جگہ سے دور کردیتا ہے کہ جہاں اس کی غیرت متاثر ہو سکتی ہے یا اس کو اپنی حاجت کے لئے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس لئے یہ ذمہ داری حکومت اسلامی کی رکھی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حالات پر نظر رکھے جو اپنی غیرت کی وجہ سے کسی کے سامنے دست سوال دراز نہیں کرسکتے۔ اس مقصد کے لئے زکوۃ و صدقات کے نظام کو قائم فرمایا گیا ہے تاکہ آج وہ شخص جو اپنی سی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

زکوٰۃ کے جو لوگ مستحق ہیں ان کا مفصل ذکر جب منافقین نے تقسیم صدقات میں آنحضرت ﷺ پر طعن کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ صدقات کے مستحق صرف یہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں انہیں پر صدقات فرض کئے جائے گے ان کے سوا اور کوئی مستحق نہیں اور رسول کریم ﷺ پر اور آپ کی اولاد پر صدقات حرام ہیں۔ یہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے تو طعن کرنے والوں اعتراض کا کیا موقع ہے۔ صدقہ سے اس آیت میں زکوٰۃ مراد ہے۔ مسئلہ : فقیر، وہ ہے جس کے پاس ادنیٰ چیز ہو اور جب تک اس کے پاس ایک وقت کے لئے کچھ ہو اس کا سوال حلال نہیں۔ 2 ۔ مسکین : وہ ہے جو اپنی ضرورت کے موافق روزی نہیں حاصل کرسکتا اور کوئی اسے محتاج سمجھ کردیتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[32] یہاں صدقہ سے مراد صدقہ واجب ہے یعنی زکوٰۃ۔ [33] فقیر وہ ہے جس کے پاس ضروریات زندگی کے لئے کچھ نہ ہو اور مسکین وہ ہے جس کی احتیاج اس آخری درجے تک تو نہیں پہنچی مگر پہنچ جائے گی اگر اس کی خبرگیری نہ کی جائے۔ [34] یعنی وہ غیر مسلم جن کے مسلمان ہوجانے کی امید ہو یا ان کے شر سے بچنا مقصود ہو، یا پھر ایسے نومسلم جو اگرچہ غریب نہ ہوں لیکن اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لئے مالی امداد دی جائے۔ [35] یعنی غلاموں کے آزاد کرنے میں کسی غلام کو اس کے آقا نے کہہ دیا ہو کہ تو اتنا روپیہ دے دے تو آزاد ہے تو اس غلام کو زکوٰۃ دی جائے تاکہ اپنے آقا کو دے کر آزاد ہوجائے۔ [36] یعنی وہ قرضدار جو بغیر کسی گناہ کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

صدقات کے مصرف : (ف 1) اس آیت میں صدقات وتبرعات ملیہ کا مصرف بتایا ہے ، غور فرمائیے کہ اس نظم کے ساتھ صدقات کو ادا کیا جائے ، تو مسلمان ہمیشہ کے لئے چندوں سے بےنیازہو جائیں اور ان کی قوم دنیا کے لئے نمونہ ثابت ہو ، صدقات کو حسب ذلیل صورتوں میں خرچ کرنا چاہئے ۔ 1۔ فقراء کے لئے ، یعنی وہ لوگ جو محتاج ہیں انہیں بھیک مانگنے سے روکا جائے ، اور انکی باقاعدہ مالی امداد کی جائے ۔ 2۔ ان مساکین کو دیا جائے ، جو اپنے مصارف کو پورا نہیں کرسکتے یعنی عام مسلمانوں کی اقصادی حالت سنواری جائے ، مسکین کے لغوی معنی ہیں ، اس شخص کے جو کشاکش حیات میں زیادہ کامیابی کے ساتھ حصہ نہ لے سکے اور ایک جگہ پڑا رہے ، یعنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

60 سوائے اس کے نہیں کہ صدقات مفروضہ تو فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں جو صدقات کے کام پر مامور ہیں اور ان کے لئے ہیں جن کی دلجوئی منظور ہو اور نیز غلاموں کی گردنیں چھڑانے اور قرض داروں کی امداد کرنے میں اور جہاد فی سبیل اللہ کی ضرورتوں میں اور مسافروں کی اعانت میں یہ صدقات صرف کرنے کے لئے ہیں یہ حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے مقرر کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یہ آٹھ مصارف بتائے زکوٰۃ کے ان میں مولفت قلوب اجماعاً ختم ہوگئے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ان لوگوں کو بھی زکوٰۃ دی جاتی تھی خواہ اس توقع پر کہ شاید مسلمان ہوجائیں یا ان کی شرارتوں سے غریب مسلمان محفوظ رہیں یا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–65

ف 4۔ فقیر کے معنی ہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ مسکین کے معنی ہیں جس کے پاس نصاب سے کم ہو۔ 5۔ اسلام اور قدرنصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ کا مالک و قابض نہ ہوناسب میں شرط ہے بجز عاملین ومحصلین زکوة کے جو سلطان اسلام کی طرف سے مقرر ہوں کہ ان کو باوجود غنی ہونے کے بھی اس زکوة میں سے بطور اجرت کے دیناجائز ہے باقی اصناف میں قید مذکور شرط ہے۔ 6۔ مولفة القلوب کو جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں زکوة دی جاتی تھی گو وہ مسلمان نہ ہوں۔ مگر ان کے مسلمان ہونے کی امید ہو یا محض ان کے شروفتنہ سے بچنے کے لیے اور یا مسلمان ہوں مگر غریب نہ ہوں محض ان کو اسلام سے محبت پیدا کرنے کے لیے صحابہ کے وقت میں اجماع ہوگیا ان کی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زکوٰۃ و صدقات کے مستحقین کی فہرست جو قرآن کریم نے مقرر فرمادی : 82: زیر نظر آیت نمبر ساٹھ (60) مصارف زکوٰۃ کے باب میں اصل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بعض مہمات واضح ہوجائیں۔ 1۔ ہم نے ترجمہ میں ” فقر “ اور ” منافقین “ کے لئے دوسرے الفاظ اختیار نہیں کئے کیونکہ عربی میں ” فقر “ اور ” مسکنت “ سے مقصود احتیاج کی دو مختلف حالتیں ہیں اور ضروری ہے کہ ان کی لغوی نوعیت بجنسہ قائم رکھی جائے۔ فقیر اور مسکین دونوں سے مقصود ایسے لوگ ہیں جو محتاج ہوں لیکن فقر عام ہے اور مسکنت کی حالت خاص ہے۔ فقیر اسے کہیں گے جس کے لئے ضروریات زندگی کے لئے کچھ بھی نہیں لیکن مسکین وہ ہے جس کی احتیاج ابھی اس آخری درجہ تک تو نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–60

Commentary Recipients of Sadaqat Objection raised by some hypocrites against the Holy Prophet s, and the answer to that, was given in verses previous to this. It will be recalled that the hypocrites had blamed the Holy Prophet ﷺ that he (God forbid) does not observe justice while disbursing Sadaqat and gives whatever he wishes to whomsoever he chooses. In the present verse, by listing the recipients of Sadaqat categorywise, Allah Ta` ala has removed their misunderstanding and told them that He has himself determined as to who should receive Sadaqat. The Holy Prophet ﷺ only complies with the…

Read the full tafseer →