At-Tawba 9:59

At-Tawba · from ayah 59

9:59

وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۙ— وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَرَسُوْلُهٗۤ ۙ— اِنَّاۤ اِلَی اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ ۟۠وَلَوۡ اَنَّهُمۡ رَضُوۡا مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۙ وَقَالُوۡا حَسۡبُنَا اللّٰهُ سَيُؤۡتِيۡنَا اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ وَ رَسُوۡلُهٗۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوۡنَ

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

If only they had been satisfied with what Allah and His Messenger gave them and said, "Sufficient for us is Allah; Allah will give us of His bounty, and [so will] His Messenger; indeed, we are desirous toward Allah," [it would have been better for them].

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:59

کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسولؐ نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ "اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہ اپنے فضل سے ہمیں بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا، ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیں گے۔ اور ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اگر یہ لوگ اللہ اور رسول کے دیئے ہوئے پر خوش رہتے اور کہہ دیتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم تو اللہ کی ذات سے ہی توقع رکھنے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کچھ بھی انہیں اللہ اور اس کے سول نے دے دیا تھا، کیا اچھا ہوتا کہ یہ اس پر راضی رہتے، اور یہ کہتے کہ : اللہ ہمارے لیے کافی ہے، آئندہ اللہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا، اور اس کا رسول بھی۔ ہم تو اللہ ہی سے لو لگائے ہوئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول، ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ لوگ اس پر راضی ہو جاتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے عطا فرمایا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے۔ عنقریب ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید) عطا فرمائے گا۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں (اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کا واسطہ اور وسیلہ ہے، اس کا دینا بھی اللہ ہی کا دینا ہے۔ اگر یہ عقیدہ رکھتے اور طعنہ زنی نہ کرتے تو یہ بہتر ہوتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کاش کہ واقعی وہ اس پر راضی ہوجاتے جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے، جلد ہی اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں دیا تھا اور کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے فضل سے (بہت کچھ) دے گا اور اس کا رسول بھی۔ ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر وہ اس پر قانع رہتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دیا اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ ہی بس ہے، اللہ اپنے فضل سے ہمیں نوازے گا اور اس کا رسول بھی، ہم تو اللہ ہی کے تمنائی ہیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر یہ راضی ہوجاتے اس پر جو ان کو عطا فرمایا تھا اللہ نے اور اس کے رسول نے، اور کہتے کہ کافی ہے ہم کو اللہ، عنقریب ہی اللہ ہمیں (اور بہت کچھ) دے گا اپنے فضل سے اور اس کا رسول بھی، بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں (تو یہ خود انہی کے لئے بہتر ہوتا)

— مولانا اسحاق مدنی

کاش ! یہ اس پر راضی ہوتے جو کچھ انہیں اللہ اور اس کے رسول نے دیا تھا اور کہتے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اللہ ہم کو اپنے فضل سے اور اس کے رسول (بھی اور) دے دیں گے ہم تو اللہ ہی کی طرف راغب ہیں ! ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر وہ راضی رہتے اس پر جو کچھ دیا انہیں اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے اور وہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے عنقریب اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہمیں (پھر بھی) اپنے فضل سے نوازتے رہیں گے یقیناً ہم اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو اللہ اور اسکے رسول نے ان کو دیا تھا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے اللہ اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر اپنی مہربانی سے ہمیں پھر دے دینگے اور ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھتے ہیں (تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Would that they were content with what Allah and His Messenger gave them, and were to say: "Allah suffices for us, and Allah will give us out of His bounty and so will His Messenger. It is to Allah alone that we turn with hope."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Would that they were content with what Allah and His Messenger had given to them, and were to say, :Allah is sufficient for us; Allah and His Messenger will give us (more) out of His grace (when they so will). Indeed, we crave for (the pleasure of) Allah alone.

— Muhammad Taqi Usmani

Would that they were content with what Allah and His Messenger had given to them, and were to say, :Allah is sufficient for us; Allah and His Messenger will give us (more) out of His grace (when they so will). Indeed, we crave for (the pleasure of) Allah alone.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Would that they were content with what Allah and His Messenger gave them and had said: "Allah is sufficient for us. Allah will give us of His bounty, and so will His Messenger. We implore Allah (to enrich us)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(How much more seemly) had they been content with that which Allah and His messenger had given them and had said: Allah sufficeth us. Allah will give us of His bounty, and (also) His messenger. Unto Allah we are suppliants.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If only they had been satisfied with what Allah and His Messenger gave them and said, "Sufficient for us is Allah; Allah will give us of His bounty, and [so will] His Messenger; indeed, we are desirous toward Allah," [it would have been better for them].

— Saheeh International

Would that they had been pleased with what God and His Messenger had given them and had said, "God is All-Sufficient for us. God and His Messenger will soon do us more favors and we have hope in God's mercy."

— Muhammad Sarwar

And if they were content with what Allah and His Apostle gave them, and had said: Allah is sufficient for us; Allah will soon give us (more) out of His grace and His Apostle too; surely to Allah do we make our petition.

— Muhammad Habib Shakir

Would that they were pleased with that which Allah and His apostle had given them, and were to say: sufficient unto us is Allah, anon Allah will give us out of His grace and so will His apostle, verily unto Allah we lean.

— Abdul Majid Daryabadi

If only they had been content with what Allah and His Messenger gave them, and had said, "Sufficient unto us is Allah! Allah and His Messenger will soon give us of His bounty: to Allah do we turn our hopes!" (that would have been the right course).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–59

مال ودولت کے حریص منافق بعض منافق آنحضرت ﷺ پر تہمت لگاتے کہ آپ مال زکوٰۃ صحیح تقسیم نہیں کرتے وغیرہ۔ اور اس سے ان کا ارادہ سوائے اپنے نفع کے حصول کے اور کچھ نہ تھا انہیں کچھ مل جائے تو راضی راضی ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ رہ جائیں تو بس ان کے نتھنے پھولے جاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے مال زکوٰۃ جب ادھر ادھر تقسیم کردیا تو انصار میں سے کسی نے ہانک لگائی کہ یہ عدل نہیں اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ ایک نو مسلم صحرائی حضور ﷺ کو سونا چاندی بانٹتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگا کہ گر اللہ نے تجھے عدل کا حکم دیا ہے تو تو عدل نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا تو تباہ ہو اگر میں بھی عادل نہیں تو زمین پر اور کون عادل ہوگا ؟ پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 58 یعنی مال غنیمت میں دے جو حصہ نبی ﷺ ان کو دیتے ہیں اس پر قانع رہتے، اور خدا کے فضل سے جو کچھ یہ خود کماتے ہیں اور خدا کے دیے ہوئے ذرائع آمدنی سے جو خوشحالی انہیں میسر ہے اس کو اپنے لیے کافی سمجھتے۔ سورة التَّوْبَة 59 یعنی زکوٰۃ کے علاوہ جو اموال حکومت کے خزانے میں آئیں گے ان سے حسب استحقاق ہم لوگوں کو اسی طرح استفادہ کا موقع حاصل رہے گا جس طرح اب تک رہا ہے۔ سورة التَّوْبَة 60 یعنی ہماری نظر دنیا اور اس کی متاع حقیر پر نہیں بلکہ اللہ اور اس کے فضل و کرم پر ہے۔ اسی کی خوشنودی ہم چاہتے ہیں۔ اسی سے امید رکھتے ہیں۔ جو کچھ وہ دے اس پر راضی ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–59

معارف و مسائل سابقہ آیات میں منافقین کی بداخلاقی اور بد اعمالی کا ذکر تھا، مذکورہ تمام آیات میں بھی یہی مضمون ہے(آیت) اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا، میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محنت میں انہماک انسان کیلئے اس دنیا ہی میں ایک عذاب و مصیبت بن جاتا ہے، اول مال دنیا کے حاصل کرنے کی تمناؤں اور پھر تدبیروں میں کیسی کیسی محنت، مشقت اور کوفت جسمانی اور روحانی اٹھانی پڑتی ہے، نہ دن کا چین نہ رات کی نیند، نہ اپنے تن بدن کی خبر، نہ اہل و عیال ہی میں دل بہلانے کی فرصت، پھر اگر ذرا سا نقصان ہوگیا یا کوئی بیماری…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

58۔ 59: غیر مال دار منافقین کا حال : اوپر کی آیات میں مالدار منافقین کا حال بیان ہوا تھا۔ اب یہ غیر مالدار منافقین کا حال بیان ہورہا ہے۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَآ اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ۔ کہ جس طرح ان کو خوف نے مسلمانوں کے ساتھ باندھ رکھا ہے اسی طرح ان کو طمع نے باندھ رکھا ہے۔ ان کا حال یہ ہے کہ اگر تم (خطاب پیغمبر سے ہے) ان کو صدقات کی مد سے خوب دیتے رہو۔ تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر ذرا کمی کرو تو روٹھ کر تمہاری عیب چینی شروع کردیتے ہیں کہ دوسروں کو تو فیاضی سے دیا جارہا ہے لیکن ان کو ان کے حق سے محروم کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 58–59

58۔ 1 یہ ان کی ایک اور بہت بڑی کوتاہی کا بیان ہے کہ وہ نبی ﷺ کی ذات اچھی صفات کو ﷺ کو (نعوذ باللہ) صدقات و غنائم کی تقسیم میں غیر منصف باور کراتے، جس طرح ابن ذی الخویصرہ کے بارے میں آتا ہے کہ آپ ﷺ ایک مرتبہ تقسیم فرما رہے تھے کہ اس نے کہا ' انصاف سے کام لیجئے ' آپ ﷺ نے فرمایا، افسوس ہے تجھ پر، اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا ؟ (صحیح بخاری)۔ 58۔ 2 گویا اس الزام تراشی کا مقصد محض مالی مفادات کا حصول تھا کہ اس طرح ان سے ڈرتے ہوئے انہیں زیادہ حصہ دیا جائے، یا وہ مستحق ہوں یا نہ ہوں، انہیں حصہ ضرور دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 58–59

47: تفسیر ابن جریر میں کئی روایات اس قسم کی نقل کی گئی ہیں۔ جن میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صدقات تقسیم فرمائے تو کچھ منافقین نے آپ پر اعتراض کیا کہ یہ تقسیم (معاذ اللہ) انصاف کے مطابق نہیں ہے۔ وجہ یہ تھی کہ ان منافقوں کو ان کے مطلب کے مطابق نہیں دیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا الخ۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ " اللہ ہمارے لیے کافی ہے ، وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا ، ہم اللہ کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں۔ یہ ہے اسلام کی سوچ کا طریقہ اور یہ ہیں اسلام میں انداز گفتگو اور یہ ہیں اسلام میں آداب ایمان۔ یہ کہ انسان اللہ اور رسول اللہ کی تقسیم پر راضی ہو۔ وہ اللہ اور رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مھض دباؤ کی وجہ سے یا ماحول کے غلبہ کی وجہ سے بات مانے۔ اللہ پر بھروسہ کرنا ادب اسلامی ہے کیونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ خدا پیغمبر کے ہاتھ سے دلوائے اس پر آدمی راضی و قانع ہو اور صرف خدا پر توکل کرے اور سمجھے کہ وہ چاہے گا تو آئندہ اپنے فضل سے بہت کچھ مرحمت فرمائے گا۔ غرض دنیا کی متاع فانی کو نصب العین نہ بنائے۔ صرف خداوند رب العزت کے قرب و رضا کا طالب ہو اور جو ظاہری و باطنی دولت خدا اور رسول کی سرکار سے ملے اسی پر مسرور و مطمئن ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 وَلَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰٹہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗلا وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗٓلا اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ اگر ان لوگوں کی سوچ مثبت ہوتی اور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بارے میں اچھا گمان رکھتے تو ان کے لیے بہترہوتا۔ اب وہ مشہور آیت آرہی ہے جس میں زکوٰۃ کے مصارف بیان ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 یعنی منافقوں کے حق میں بہتر یہی تھا کہ رسول اللہ کی ذات پر اعتماد کرتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں پہلے ہی دے رکھا ہے اور اب جو رسول نے انہیں دیا ہے اس پر قناعت کرتے اور راضی ہوجاتے اور اگر انہیں بزعم خود کچھ کسر لگ گئی تھی تو آئندہ کے لیے اللہ کے فضل و کرم پر نگاہ رکھتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

107 ۔ (اور اسی سے سب امیدیں قائم کئے ہوئے ہیں) (آیت) ” ما اتھم اللہ ورسولہ “۔ یعنی جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے رسول کے ذریعہ سے دلوائے ہیں۔ (آیت) ” حسبنا اللہ “۔ یعنی جتنا ہمیں اللہ نے دلوادیا وہی ہمارے حق میں مناسب تھا۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل رضا کی علامت یہ ہے کہ جو کچھ بھی حق تعالیٰ کی طرف سے پیش آجائے اس پر شاداں رہے اور بلا سے بھی لذت حاصل کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 58–59

ومنھم مَنْ یَلمِزُکَ فی الصدقات، اس آیت کے شان نزول کا واقعہ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے اس طرح بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ کچھ مال لوگوں میں تقسیم فرما رہے تھے کہ بنی تمیم کا ایک شخص جس کا نام حرقوص تھا اور ذوالخویصرہ کے لقب سے مشہور تھا آپ کی خدمت میں آیا اور کہا تقسیم میں ذرا عدل و انصاف سے کام لیجئے، آپ نے فرمایا اگر میں ہی ناانصافی کروں گا تو انصاف کون کرے گا ؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اگر ارشاد ہو تو میں ابھی اس شخص کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا جانے دو اس کی نسل سے واجب القتل لوگ پیدا ہوں گے چناچہ اسی شخص کی نسل سے خارجی لوگ پیدا ہوئے، اگرچہ بعض مفسرین نے اس آیت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیؤتینا اللہ من فضلہ ورسولہ انا الی اللہ راغبون اور ان کیلئے بہتر ہوتا اگر وہ اس پر راضی رہتے جو کچھ ان کو اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ نے دیا تھا اور یوں کہتے کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے۔ آئندہ اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول ﷺ ہم کو دے دیں گے۔ ہم (تو وسلم اوّل ہی سے) اللہ ہی کی طرف راغب ہیں۔ یعنی اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو صدقات اور مال غنیمت میں سے دے دیا اگر وہ اس پر راضی رہتے (ا اللہ براہ راست کسی کو نہیں دیتا ‘ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں سے دلواتا اور تقسیم کراتا ہے) اللہ کا ذکر (دئیے ہوئے مال کی مقدار ‘ خواہ وہ کتنی ہی کم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(59) اور ان منافقین کے لیے بہتر ہوتا اگر یہ اسی پر راضی ہوجاتے جو کچھ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دلوادیا اور یہ کہتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا کافی ہے، آئندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور روزی خاص سے ہمیں غنی کردے گا اور اس کے رسول عطا یا دیں گے ہم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف راغب ہیں، اگر منافق یہ کہتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَـيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ : یعنی کاش ! وہ طعنہ زنی اور عیب جوئی کے بجائے اس طرح کہتے، کیونکہ ان کے حق میں یہی بہتر تھا اور یقیناً اللہ تعالیٰ بھی ان پر فضل کرتا مگر ان ناشکروں کو اتنی توفیق کہاں کہ اس قسم کا کلمۂ خیر کہہ سکیں، یہ تو جب بات کریں گے ایسی ہی کریں گے جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی برائی کا پہلو نکلتا ہو۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے زبردستی یہ بات نکالنے کی کوشش کی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رزق دیتا ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ بھی دیتے ہیں، حالانکہ ان آیات میں آپ کی زندگی میں غنیمت اور صدقات کی تقسیم کا ذکر ہو رہا ہے اور اگر شرک کی نجاست ذہن میں نہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ‘ لوکا جواب مخدوف ہے ‘ تقدیر کلام یہ ہے لکان خیرالھم تو وہ یقیناً ان کے لیے اچھا ہوتا۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 58–59

رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ انصاف فرمانے والے ہیں : 1:۔ بخاری و نسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ نبی کریم ﷺ کچھ تقسیم فرما رہے تھے۔ اچانک ان کے پاس ذوالخویصرہ التیمیمی آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ انصاف کیجئے آپ نے فرمایا افسوس ہے تجھ پر کون انصاف کرے گا جب میں بھی انصاف نہ کروں ؟ عمر بن خطاب نے فرمایا یا رسول اللہ مجھے اجازت دیجئے اس کے بارے میں اس کی گردن مار دوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس کے کئی ساتھی ہیں کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی نمازوں کو اور روزوں کے مقابلہ میں حقیر جانتا ہوگا۔ لیکن وہ دین سے اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ [ اور اگر ] اَنَّهُمْ [ یہ کہ وہ لوگ ] رَضُوْا [ راضی ہوتے ] مَآ [ اس سے جو ] اٰتٰىهُمُ [ دیا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] وَرَسُوْلُهٗ ۙ [ اور اس کے رسول نے ] وَقَالُوْا [ اور وہ کہتے ] حَسْبُنَا [ کافی ہے ہم کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] سَـيُؤْتِيْنَا [ دے گا ہم کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖ [ اپنے فضل سے ] وَرَسُوْلُهٗٓ ۙ [ اور اس کا رسول بھی ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ہی ] رٰغِبُوْنَ [ رغبت کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غور کرو رحمۃ للعالمین ﷺ نے طالب دنیا کو کیسی بد دعا دی منافقوں کا حال بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا (وَ لَوْ اَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ) (اور ان کے لیے بہتر تھا کہ جو کچھ اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے انہیں دیا اس پر راضی ہوتے اور یوں کہتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے عنقریب اللہ ہمیں اپنے فضل سے عطا فرمائے گا اور اس کا رسول دے گا۔ اور یوں بھی کہنا چاہئے تھا کہ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت کرنے والے ہیں) بات یہ ہے کہ مومن آدمی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اسی سے امیدیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–59

تقسیم صدقات وغنائم پر بعض منافقین کا طعن اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ ومنھم من یلمزک فی الصدقات۔۔۔ الی۔۔۔ انا الی اللہ راغبون (ربط) ان آیات میں تقسیم صدقات کے باے میں منافقین کے ایک طعن ک اذکر کرتے ہیں۔ جس کا منشاء صرف حرص اور طمع تھا۔ بعض منفاقین نے تقسیم صدقات کے بارے میں آپ پر ناانصافی کا الزام لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ لوگوں کا یہ طعن محض حرص اور طمع پر مبنی ہے کہ اگر ان لوگوں کو ان کی خواہش اور حص کے مطابق دیدیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتے اس لیے آئندہ آیات میں صدقات کے مصارف بیان فرمائیں گے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون صدقہ دینے کے قابل ہیں اور کون نہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 59–60

57: یہ پوری آیت حیز شرط میں ہے اور جواب شرط محذوف ہے “ اي لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ” یعنی جو کچھ اللہ کے رسول نے مال غنیمت سے ان کو دیا تھا اگر وہ اس پر قانع ہوجاتے اور کہتے ہمیں مال کی ضرورت نہیں۔ ہمیں اللہ کافی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے مالدار کردے گا۔ اور اللہ کا رسول ﷺ آئندہ کسی موقع پر ہمیں صدقات سے یا غنائم سے دے کر ہماری یہ کمی پوری کر دے گا اور ہمیں مال و دولت کی پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی رضا چاہئے اور بس تو یہ چیز ان کے حق میں دنیا اور آخرت میں بہتر ہوتی۔ “ مَا اٰتٰھُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ ” میں رسول کے دینے سے مال غنیمت میں سے دینا مراد ہے۔ (کما فی المظہری ج 4 ص 230 والمدارک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 55–59

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے منافقین کا رد فرمایا کہ وہ جہاد میں شریک ہونے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے لیے حیلے بہانے بناتے ہیں اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ منافقین جو مال خرچ کرتے ہیں وہ اس لیے قبول نہیں ہوتا کہ ان میں توحید و رسالت کے متعلق کفر پایا جاتا ہے اور وہ نماز بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے۔ نیز یہ کہ ان کی طرف سے خرچ بادل نخواستہ ہوتا ہے اور وہ اس معاملہ میں دل سے راضی نہیں ہوتے۔ بعض منافقین عذرلنگ پیش کرتے تھے اور اس بنا پر جہاد میں شمولیت سے رخصت چاہتے تھے کہ شوریدہ مزاج ہونے کی وجہ سے انہیں فتنے میں پڑجانے کا احتمال تھا البتہ انہوں نے مالی تعاون کی پیش کش کی جسے اللہ نے مسترد کردیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ اَنَّہُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰىہُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ۝ 0 ۙ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللہُ سَـيُؤْتِيْنَا اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗٓ۝ 0 ۙ اِنَّآ اِلَى اللہِ رٰغِبُوْنَ۝ 59 ۧ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 55–62

ترکیب : تزھق منصوب ہے معطوف ہے یعذب پر ان مقدر ہے لویجدون شرط لولوا جواب منہم خبر مقدم ہے من یلمزک کی اذا مفاجات کے لئے ظرف زماں یہکی جگہ جواب شرط میں واقع ہے۔ ھم مبتدا ویسخطون خبر اور یہ اذا کا عامل ہے للفقراء الصدقات کی خبر والمساکین ومابعدھا اس پر معطوف اذن خبر ہے مبتداء محذوف کی ھو ویقرء بالاضافۃ والتنوین۔ تفسیر : ان کے قبائح اور دار آخرت سے محرومی کا ذکر فرما کر ان کے مال و اولاد کا انجام کار ذکر کرتا ہے کہ جس پر بیشتر دنیا داروں کو ناز و افتخار ہوتا ہے کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے مال و اولاد کو دیکھ کر تعجب و حیرت نہ کر۔ یہ ان کے لئے دنیا میں باعث عذاب ہوگا یا بایں معنی کہ اس کی محبت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّلْمِزُکَ فِی الصَّدَقٰتِ ج فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْھَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْھَآ اِذَا ھُمْ یَسْخَطُوْنَ وَلَوْاَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ اٰتٰـھُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ لا وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗٓ لا اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ ع ( التوبۃ : 58 تا 59) (ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر طعن کرتے ہیں صدقات کے بارے میں اگر انھیں دے دیا جائے ان سے تو خوش ہوجاتے ہیں اور اگر انھیں نہ دیا جائے ان سے تو برہم ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ اس پر قانع رہتے جو ان کو اللہ اور اس کے رسول نے دیا ہے اور کہتے کہ ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–59

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ دنیا میں ذلیل ہونے کے باوجود مال کے بارے میں منافق کی حرص و ہوس کا حال۔ مدینہ کے منافقین چاروں طرف سے مایوس اور ہر سہارے سے بےسہارا ہونے کے باوجود دنیا کے مال میں اس قدر حریص تھے کہ جب بھی اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کے حکم اور اس کی حکمت کے مطابق مال غنیمت تقسیم فرمایا اور اس میں منافقوں کو مخلصین کے مقابلے میں کم حصہ دیا تو وہ اللہ کے رسول کی امانت و دیانت پر یقین رکھنے کے باوجود ہرزہ سرائی پر اتر آتے اور دیانت و امانت کے پیکر رسول کریم ﷺ کو الزام دیتے کہ یہ نبی غنائم کی تقسیم میں عدل و انصاف کا خیال نہیں رکھتا۔ حالانکہ ظالم کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتے تھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ان کو تقسیم رسول دل سے پسند کرنی چاہیے : آیت 59: وَلَوْاَنَّھُمْ رَضُوْا مَآ ٰاتٰہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَرَسُوْلُہٗ اِنَّآ اِلَی اللّٰہِ رٰغِبُوْنَ (اور اگر وہ اس پر راضی رہتے جو کچھ ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا تو ان کے لئے بہتر ہوتا اور یوں کہتے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اور آئندہ اللہ اپنے فضل سے ہم کو اور دیگا اور اس کے رسول دینگے ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں) لَو،ؔ کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ولو انہم رضوا لکان خیرًا لہم۔ مطلب یہ ہے اگر وہ اس مال غنیمت پر راضی ہوجاتے جو اللہ کے رسول نے ان کو دیا اور دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 59۔” ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان کے لیے جو تقسیم کردیں اس پر قناعت کریں ۔ ’ وقالوا حسبنا اللہ “ ہمیں اللہ کافی ہے۔ ” سیوتینا اللہ من ضلہ ورسولہ “ جن کے ہم محتاج ہیں ۔ ” انا الی اللہ رغبون “ اس بات میں کہ وہ ہم پر اپنے فضل سے وسعت کرے اور ہمیں صدقہ وغیرہ کے ذریعے لوگوں کے اموال سے غنی کر دے اور ’ ’ لو “ کا جواب محذوف ہے ، یعنی ان کے لیے بہتر ہوتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–59

58۔ 59۔ اس آیت کی شان نزول وہی قصہ ہے جس کا ذکر صحیحین میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے ایک شخص نے کہا آپ کچھ مال لوگوں کو تقسیم میں ذرا انصاف فرمائیے آپ نے فرمایا میں ہی ناانصافی کر ونگا تو پھر انصاف کون کرے گا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا حضرت ارشاد ہو تو ابھی میں اس شخص کی گردن ماردوں آپ نے فرمایا جانے دو اس کی نسل میں سے واجب القتل لوگ پیدا ہوں گے چناچہ پھر ویسا ہی ہوا اسی قبیلہ اور اسی شخص کی نسل میں خارجی لوگ پیدا ہوئے اگرچہ بعضے مفسروں نے اور شان نزول بھی اس آیت کی بیان کی ہے مگر ان کے مطلب یہ ہے کہ دوسرے قصوں پر بھی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے ورنہ صحیح شان نزول کا یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–59

آیت 58 یعنی ان منافقین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو صدقات کی تقسیم میں آپ کی عیب جوئی اور اس بارے میں آپ پر تنقید کرتے ہیں اور ان کی تنقید اور نکتہ چینی کسی صحیح مقصد کی خاطر اور کسی راجح رائے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ انہیں بھی کچھ عطا کیا جائے۔ (فان اعطوا منھا رضوا وان لم یعطوا منھآ اذاھم یسخطون) ” پس اگر اس میں سے ان کو دیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر نہ دیا جائے ان کو تو جب ہی وہ ناخشو ہوجاتے ہیں۔ “ حالانکہ بندے کے لئے مناسب نہیں کہ اس کی رضا اور ناراضی، دنیاوی خواہش نفس اور کسی فاسد غرض کے تابع ہو، بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس کی خواہشات اپنے رب کی رضا کے تابع ہوں جیسا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ولو انھم رضوا مااتاھم اللہ ورسولہ وقالوا حسبنا اللہ سیوتینا اللہ من فضلہ ورسولہ۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ ” اللہ ہمارے لئے کافی ہے وہ اپن فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی) اس کا جوب محذوف ہے ۔ فقرہ اس طروح مقدر ہوگا۔ ولو انھم رضوا مااتاھم اللہ ورسولہ لکان خیرا لھم واعود علیھم (اگر یہ لوگ اس پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور رسول نے انہیں دیا تھا تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا یا یہ ان کے لئے زیادہ فائدہ مند ہوتا) ایسے مقام پر جواب کو محذوف کردینا زیادہ بلیغ ہوتا ہے اس لئے کہ خبر میں اتنی تاکید ہوتی ہے کہ جواب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 57–59

119 منافقوں کی گھٹن اور ان کے باطن کی کیفیت کا ذکر : سو ان لوگوں کے باطن کی گھٹن کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کو کوئی پناہ گاہ مل جائے یا کوئی غار یا کہیں گھس بیٹھنے کی کوئی جگہ ہی میسر آجائے تو یہ سرپٹ اس کی طرف دوڑ پڑیں۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے درمیان یہ لوگ کس قدر گھٹن اور تنگی کی زندگی گزارتے ہیں اور اسلام کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ان کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہے اور ان کو ذہنی طور پر کس قدر کوفت و کرب میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔ یہ بھی قرآن حکیم کا ایک عظیم معجزہ ہے کہ اس نے ان کے باطن کی کیفیت کو اس طرح واضح و آشکارا کردیا۔ اور یہ اسی ذات اقدس و اعلیٰ کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–59

منافقوں کے فتنوں سے بچنے کی تدابیر تشریح : ان آیات میں پہلے تو ان منافقین کا غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونا باعث رحمت بتایا گیا ہے کیونکہ یہ لوگ اگر ساتھ چلے جاتے تو ان کا مقصد نہ تو جہاد کرنا ہوتا اور نہ ہی یہ مخلص ہوتے، اس لیے اگر یہ چلے جاتے تو صرف غلط سلط افواہوں سے مجاہدین میں بددلی، نااتفاقی اور کمزوری ہی پیدا کرنے کا کام انہوں نے کرنا تھا اور اس طرح فوج کو کمزور کرنے کا مقصد حاصل کرتے کیونکہ اگرچہ مسلمان ہوتے تو انسان ہی ہیں بعض ان کی باتوں میں آکر گھبرا بھی سکتے تھے اور ان کو اپنے خفیہ راز لاعلمی میں بتا دیتے اس لیے اچھا ہوا یہ جہاد میں ساتھ نہ گئے۔ یہ لوگ پہلے بھی اس قسم کا فساد پھیلا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59 اللہ نے آپ کو معاف تو کردیا مگر آپ ﷺ نے انھیں جہاد سے رہ جانے کی اجازت ہی کیوں دی ؟ اگر آپ ایسانہ کرتے تو بھی یہ جہاد میں شامل ہونے سے تو رہے ہاں سب لوگوں پہ ان کی اصلیت کھل جاتی اور نفاق واضح ہوجاتا ۔ رشتہ قلبی کے انداز یہاں اگر چہ بات ایک مشورے کے انداز میں ارشاد ہے کہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو ان کے پاس بہانہ نہ ہوتا مگر نبی اکرم ﷺ کے قلب اطہر کو جو تعلق ذات باری سے تھا وہ اس قدربات بھی برداشت نہ کرپاتا ۔ لہٰذ اسوالیہ انداز میں بات ارشاد فرمانے سے پہلے فرمایا عفا اللہ عنک اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا کوئی نارزضگی یا خفگی کی بات نہیں مگر آپ نے ایسا کیوں کیا یہ معافی گناہ کی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 تو ان کے حق میں بہترہو تا۔ اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرتا، مگر ان ناشکروں کا اتنی توفیق کہا جو اس قسم کا کلمہ خیر زبان سے نکال سکیں۔ یہ تو جب بات کریں گے ایسی ہی کریں گے جس میں اللہ و رسول ﷺ کی برائی ہی کا پہلو نکلتا ہو۔ ( وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:59) ولوانھم رضوا ما اتہم اللہ ورسولہ۔ جواب لو محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے ولو انھم رضوا ما اتھم اللہ ورسولہ لکان خیرا لہم۔ راغبون۔ راغب کی جمع رغبت کرنے والے۔ رغب فیہ ورغب الیہ کے معنی ہیں کسی چیز پر رغبت اور حرص کرنا۔ اور اگر عن کے ساتھ آئے تو بےرغبتی کرنا اور انحراف کرنا کے معنی میں ہوتا ہے۔ مثلاً ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم (2:130) اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے انحراف کرے۔ سیؤتینا اللہ ورسولہ۔ اللہ اپنے فضل سے ہمیں عطا فرمائے گا (اور اس کا رسول بھی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 59 یلمز (طعنے دیتا ہے) اعطوا (دیا گیا) رضوا (خوش ہوگئے) یسخطون (وہ ناراض ہوتے ہیں) حسبنا اللہ (ہمیں اللہ کافی ہے) سیوتینا (جلد ہی ہمیں دے گا) رعبون (رغبت کرنے والے، مائل ہونے والے) تشریح : آیت نمبر 58 تا 59 ہر دور میں اللہ کے دشمنوں کا طریقفہ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے دلی بغض و عدات اور دشمنی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں جس سے عام لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا ہوجائے اور جو بھی مرکزی شخصیت ہو اس پر ایسے الزامات لگا دیئے جائیں جس سے تحریک اور اس کے کام چلانے والے بدنام ہوجائیں اور آپس میں پھوٹ پڑجائے۔ نبی کریم ﷺ سے منافقفین کو ایک خاص بغض تھا اس لئے اس موقع کی تلاش میں رہتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–59

گستاخ اور بےادب رسول فرقہ کا آغاز شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور ﷺ کچھ مال لوگوں کو تقسیم فرماتے تھے کہ بنی تمیم کے قبیلہ میں سے ایک شخص جس کا نام حرقوص تھا اور ذو الخویصرہ کے لقب سے وہ شخص مشہور تھا۔ حضور ﷺ سے کہا :'' تقسیم میں ذرا انصاف فرمایئے ''۔ آپ نے فرمایا :'' میں ہی ناانصافی کراوں گا تو پھر انصاف کون کرے گا '' حضرت عمر ؓ نے عرض کیا :'' حضرت ارشاد ہو تو ابھی میں اس شخص کی گردن مار دوں '' آپ نے فرمایا :'' جانے دو اس کی نسل میں سے واجب القتل لوگ لوگ پیدا ہوں گے '' چناچہ ویسا ہی ہوا اور اسی قبیلہ اور اس شخص کی نسل میں خارجی لوگ پیدا ہوئے اور لڑائی میں خارجی فرقہ کے لوگ یہاں تک قتل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 55–59

[31] مطلب یہ ہے کہ کفار و منافقین کے مال و اولاد ان کے لئے نعمت نہیں عذاب ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں انہماک ان کے لئے ایک مستقل عذاب اور مصیبت بن جاتا ہے کیونکہ اول تو مال و دولت جمع کرنے میں بیحد کوفت اٹھاتے ہیں پھر ذرا سا نقصان یا صدمہ پہنچ گیا تو جس قدر محبت ان چیزوں سے ہے اسی قدر غم ہوتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات دماغی توازن برقرار نہیں رہتا۔ پھر جب موت ان محبوب چیزوں سے جدا کرتی ہے اس وقت کے صدمے اور حسرت کا تو اندازہ مشکل ہے۔ غرض دنیا کے عاشق اور حریص کو کسی وقت بھی چین و آرام میسر نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 58–59

(ف 1) منافقین کے مصائب میں ایک بڑا عیب یہ بھی ہے کہ غلط تنقید کرتے ہیں اگر انہیں صدقات وغیرہ میں کچھ نہ ملے تو بات بات پر اعتراض ہے اور اگر کچھ مل جائے تو پھر خوش ہیں ، گویا ان کی زندگی کا مقصد محض حب نفس ہے ، غور فرمائیے ، قومی اداروں میں انجمنوں میں اور ہماری اسلامی ودینی جمیتوں کیا بالکل یہی کیفیت نہیں ؟ جہاں طعم وغرض ہو ، پردہ داری ہے بددیانتی ہے اور جہاں ایثار کرنا پڑے تنقدات کا طوار ہے اور عدل و انصاف کے نام پر قوم کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے حالانکہ غرض محض انتقام کی آگ کو بھڑکانا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

59 اور ان کے حق میں کیا اچھا ہوتا اگر اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے جوان کو دیا تھا اس پر وہ لوگ راضی رہتے اور اس کی نسبت یوں کہتے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کافی ہے اور جو کچھ اس نے ہم کو دیا ہے وہ کافی ہے اللہ تعالیٰ آئندہ ہم کو اپنے فضل و کرم سے اور بہت کچھ دے گا اور اس کے رسول ﷺ بھی ہم پر عنایت فرمائیں گے بلاشبہ ہم تو اللہ ہی پر توقع رکھنے والے ہیں اور ہم اللہ ہی کی طرف راغب ہیں۔ قبیلۂ نبی تمیم کے ایک شخص پر یہ آیت نازل ہوئی اس منافق کا نام حرقوص اور اس کا لقب ذوا نحویصرہ تھا۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 58–59

ف 3۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل منشاء ان کے اعتراض اور حرف گیری کا محض حرص دنیا اور خود غرضی ہے پس ایسے اعتراض کا باطل ہونا ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ ان کو دیا گیا تھا اگر اس پر راضی ہوجاتے تو یہ بات ان کے حق میں مفید ہوتی : 81: زیر نظر آیت میں لفظ لَوْ کا جواب محذوف ہے اور یہ عربی زبان میں عام ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے کہ : وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا ۔۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا تھا اگر وہ اس پر خوش ہوجاتے تو یہ بات ان کے حق میں اچھی ہوتی اور وقت آنے پر ان کو مزید بھی ملتا لیکن وہی بات کہ وہ ایسا اس وقت کرتے جب ایمان کی دولت بھی ان کو نصیب ہوتی وہ تو لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہوئے تھے اور ان کا مطلب بھی فقط وہ انعام حاصل کرنا تھا جو شہیدوں کے لئے رکھا گیا ہے۔ جب انکو وہ نہ ملا تو ہو جز بز ہوگئے اور ایسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–60

Commentary Recipients of Sadaqat Objection raised by some hypocrites against the Holy Prophet s, and the answer to that, was given in verses previous to this. It will be recalled that the hypocrites had blamed the Holy Prophet ﷺ that he (God forbid) does not observe justice while disbursing Sadaqat and gives whatever he wishes to whomsoever he chooses. In the present verse, by listing the recipients of Sadaqat categorywise, Allah Ta` ala has removed their misunderstanding and told them that He has himself determined as to who should receive Sadaqat. The Holy Prophet ﷺ only complies with the…

Read the full tafseer →